Baaghi TV

Tag: واپڈا

  • واپڈا کے آٹھ منصوبے مکمل ہونے سے بجلی پیداواری صلاحیت دگنا ہو جائیگی

    واپڈا کے آٹھ منصوبے مکمل ہونے سے بجلی پیداواری صلاحیت دگنا ہو جائیگی

    واپڈاکے آٹھ زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تقریباً9.7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کیری اوور کیپسٹی 30دِن سے بڑھ کر 45 دِن ہو جائے گی۔علاوہ ازیں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بھی 9 ہزار میگاواٹ اضافہ ہوگا اور واپڈا پن بجلی کی پیداواری صلاحیت دوگنا ہو کر 18ہزار میگاواٹ سے زائدہو جائے گی۔

    یہ بات واپڈاہاؤس کا دورہ کرنے والے پاکستان ایئر فورس ایئر وار کالج کراچی کے وفد کو بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ وفد کی سربراہی وائس پریزیڈنٹ پی اے ایف ایئر وار کالج کموڈور راجہ عمران اصغرکر رہے تھے۔ وفد میں پاکستان کی مسلح افواج اوردوست ممالک بشمول بحرین، بنگلا دیش، مصر، انڈونیشیا،ایران،اردن، ملائشیا، نائیجیریا، سری لنکا، ساؤتھ افریقہ، سعودی عرب، یمن اور زمبابوے کی افواج کے آفیسرز شامل تھے۔ ممبر پاور واپڈا جمیل اختر، واپڈا کے جنرل منیجرز اور دیگر سینئر آفیسرز بھی موجود تھے۔

    سیکرٹری واپڈا فخرالزماں علی چیمہ نے مہمانوں کاخیرمقدم کیا جبکہ ایڈوائزر (ہائیڈرالوجی اینڈ واٹر مینجمنٹ) شاہد حمید نے وفد کو واپڈا کے فرائض،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش مشکلات ا ورامکانات اور ملک کی واٹر سکیورٹی کے لئے واپڈا کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ واپڈا ملک کی واٹر فوڈ اور انرجی سکیورٹی کے لئے پانی اور پن بجلی کے شعبے میں متعدد بڑے منصوبے تعمیر کر رہا ہے جو 2024سے 2029 تک مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔ ان منصوبوں میں دیا مر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ، کرم تنگی ڈیم کا پہلا مرحلہ، نائے گاج ڈیم،کچھی کنال توسیعی منصوبہ، تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ اور گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم، (کے فور) پراجیکٹ شامل ہیں۔

    ملک میں پانی کی دستیابی کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی جو کہ 1951ء میں 5650 کیوسک میٹر فی کس تھی، اب 908کیوسک میٹر فی کس ہو چکی ہے۔ پاکستان اپنے دریاؤں کے سالانہ بہاؤ کا صرف 10 فیصد پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اِس کے برعکس دنیا بھر میں پانی ذخیرہ کرنے کی شرح 40 فیصد ہے تاہم واپڈا کے زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں پانی اور پن بجلی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

    پی اے ایف ایئر وار کالج کے وفد نے ملک کی پانی اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے ضمن میں واپڈا کے کردار کی تعریف کی۔ اُنہوں معلوماتی اور مفید بریفنگ کا اہتمام کرنے پر واپڈا کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں سوال اور جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں شرکاء نے ملک میں پانی اور پن بجلی سے متعلق سوالات کئے۔ دورے کے اختتام پر سووینیئر کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

     رانا عظیم بجلی چوری میں ملوث نکلے،

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

  • خیبرپختونخوا ؛ بجلی چوری  میں ہوشربا اضافہ

    خیبرپختونخوا ؛ بجلی چوری میں ہوشربا اضافہ

    خیبرپختونخوا میں بجلی چوری میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آٰیا ہے جبکہ سال 23-2022 میں خیبرپختونخوا میں 137 ارب بجلی چوری اور نقصانات کی نظر ہوگئے ہیں جبکہ صوبے کے 7 اضلاع میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 75 فیصد سے زائد رہی ہے اور خیبرپختونخوا کو مالی سال 23-2022 کے دوران 439 ارب کی بجلی فراہم کی گئی تاہم پاور ڈویژن کے مطابق خیبرپختونخوا سے مالی سال 23-2022 کے دوران 302 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں ، صوبے میں بجلی چوری اور نقصانات کی مد میں 137 ارب حاصل ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں‌پاور ڈویژن کے مطابق کرم ایجنسی میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 98 فیصد رہا جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 94 فیصد ہے اور اس کے ساتھ ہی اورکزئی ایجنسی میں بھی بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 94 فیصد ہے تاہم ٹانک میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 82 فیصد ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان
    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    واضح رہے کہ کرک میں 78 فیصد اور بنوں میں 63 فیصد بجلی چوری اور نقصانات ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 65 فیصد، ہنگو میں 58 فیصد بجلی چوری اور نقصانات ہیں، چارسدہ میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 59 فیصد ہے، شانگلہ میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 66 فیصد ہے تاہم پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ چترال میں ریکوریز ایک ارب جبکہ نقصانات اور بجلی چوری 2 ارب کی ہے، باجوڑ میں 3 ارب کی بجلی چوری کی گئی جبکہ ایک ارب کی ریکوری رہی ہے، خیبر ایجنسی میں 12 ارب کی بجلی چوری ہوئی ہے تاہم خیبر ایجنسی میں نقصانات اور بجلی چوری کی شرح 52 فیصد ہے۔

  • پن بجلی کا پیداواری ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ

    پن بجلی کا پیداواری ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پن بجلی کا پیداواری ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی: نیپرا کے مطابق پن بجلی کا اوسط پیداواری ٹیرف 3 روپے 85 پیسے سے بڑھا کر 4 روپے 96 پیسے فی یونٹ مقرر کر دیا گیا ہے نیپرا نے واپڈا کی درخواست پر ٹیرف بڑھانےکی منظوری 2022-23 کیلئے دی اور ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوا دیا۔

    اس کے علاوہ نیپرا نے واپڈا کے پن بجلی اسٹیشنز کا کیپسٹی ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے نیپرا کی جانب سے سی پی پی اے کو ٹیسٹ کرانے کے احکامات جاری کردیئےگئےہیں نیپرا کے مطابق تمام پن بجلی اسٹیشنز کے کیپسٹی ٹیسٹ کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات کی گئی ہے واپڈا پانی کی پیمائش کیلئے واٹر فلو میٹر نصب کرے۔

    سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی

    دوسری جانب حکومت نے بجلی چوروں کے خلاف کارروائی شروع کردی سیکرٹری توانائی ک کہنا تھا کہ بجلی چوروں کیخلاف آج سے کریک ڈاؤن شروع ہوگیا ہے، کریک ڈاؤن میں تمام چیف سیکرٹریز اور آئی جی پولیس کا تعاون ہے، ہمیں معلوم ہے چوروں کے خلاف یہ مہم آسان نہیں لیکن ناکامی کی کوئی کنجائش نہیں ہے فیلڈ فارمیشن کو ہدایت کی ہے کہ بجلی چوروں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کریں۔

    واضح رہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے یہ کریک ڈاؤن نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر کی ہدایت پر کیا جارہا ہے،گزشتہ روز نگران وزیر توانائی محمد علی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جب تک بجلی چوری ختم نہیں ہوتی اور لوگ بل ادا نہیں کرتے اس وقت تک عوام کو سستی بجلی نہیں ملے گی۔

    ڈیرہ غازیخان: تعلیمی بورڈ نےانٹرمیڈیٹ پارٹ 2، دوسرے سالانہ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    پریس کانفرنس میں وزیر توانائی محمد علی نے کہا تھا کہ اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان ڈسکوز میں 79 ارب یونٹس بجلی کا نقصان ہوتا ہے، صرف ان 5 ڈسکوز میں 100 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، ان پانچ ڈسکوز میں سے 3044 ارب کی بلنگ ہوتی ہے اور 100 ارب کا نقصان ہوتا ہے۔

  • ملازمین کو فری یونٹس کی سہولت ختم کرنےکی مخالفت

    ملازمین کو فری یونٹس کی سہولت ختم کرنےکی مخالفت

    اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلمپنٹ اتھارٹی (واپڈا) اور وزارت آبی وسائل نے بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو فری یونٹس کی سہولت ختم کرنےکی مخالفت کر دی۔

    باغی ٹی وی:بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں،عوام کی جانب سے مختلف محکموں کو دی جانے والی فری بجلی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہےدوسری جانب نگران حکومت نے بجلی صارفین کو ریلیف پہنچانے کے لیے آئی ایم ایف کو بھی پلان پیش کر دیا ہے اور ذرائع کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ حکومت کی جانب سے 400 تک یونٹس استعمال کرنے والوں کو ریلیف پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نگران وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف حکام سے بجلی کے بلوں میں ریلیف کی درخواست کی ہے اور بجلی کے بلوں کی ادائیگیوں میں سہولت دینے کی تجویز آئی ایم ایف کے حوالے کی ہے جس میں ہرصارف کو بجلی کے بل قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے، اگر آئی ایم ایف نے رضامندی ظاہرکی تو 2 ماہ کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

    ایف بی آر نے پی آئی اے کے 13 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے

    ذرائع کے مطابق اگست اور ستمبر کے بل اقساط میں لینے کے لیے وزارت خزانہ تحریری گارنٹی دے گی اور بنیادی ٹیرف میں7 روپے کا اضافہ واپس لے کرمرحلہ وارکرنے پر غور کیا جارہا ہے یعنی بجلی کے بنیادی یونٹ مرحلہ وار بڑھائے جائیں اس کے علاوہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے بھی ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب واپڈا اور وزارت آبی وسائل نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ملازمین کو فری یونٹس کی سہولت ختم کرنے کی مخالفت کر دی ہے-

    شمالی وزیرستان کےنوجوان نے امریکا میں "کری ایٹو ایوارڈ "جیت لیا

    ذرائع کے مطابق واپڈا اور وزارت آبی وسائل کا مؤقف ہے کہ فری یونٹس کی سہولت ختم کرنے سے کوئی بچت نہیں ہو گی نیپرا نے فری یونٹس کی بجائے یوٹیلیٹی الاؤنس دینے کی تجویز دی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے بجلی کے فری یونٹس کی سہولت ختم کرنے کی تجویز سامنے رکھی ہےوفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور ڈویژن کے حکام نے تجویز دی ہے کہ ملازمین کو ماہانہ تنخواہ میں فری یونٹس کے برابر رقم دی جائے۔

    ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں ایک لاکھ 89 ہزار 171 ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کو فری یونٹس دیئے جا رہے ہیں، ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کو ماہانہ 3 کروڑ 47 لاکھ 58 ہزار 825 فری یونٹس دیئے جا رہے ہیں۔

    یوکرین اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی ڈیل پر شدید تشویش ہے،امریکا

  • واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کے لیے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: وزارت پاور کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ وفاقی کابینہ کو آئندہ اجلاس میں سمری بھیجی جائے گی جس میں فری یونٹ ختم کرکے انہیں تنخواہ میں کچھ اضافی رقم فراہم کی جائے گی201 ملین کی بجلی چوری ہوتی ہے، آزاد کشمیر (اے جے) سے بل نہیں آتا، اے جے کے حکومت بل لیتی ہے وفاق کو نہیں دیتی کوئٹہ کے 29 ہزار ٹیوب ویل بل ادا نہیں کرتے جبکہ 35 ملین صارفین 40 لاکھ ایر کنڈیشنر استعمال کرتے ہیں۔

    بجلی بلوں کے خلاف مظاہرے،کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری

    دوسری جانب بجلی بلوں کے خلاف مظاہروں پر پاور ڈویژن نے جوابی حکمت عملی بنا لی، پاور ڈویژن نے کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری کردیا گیا، ملک بھر میں بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں سے مربوط کوارڈینیشن کیلئے پاور ڈویژن میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا،کنٹرول روم میں تعینات افسرن تقسیم کار کمپنیوں اور متعلقہ صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹری سے امن و امان کی صورتحال بگڑنے پر رابطہ کرے گا کنٹرول روم میں تعینات افسران عوامی رد عمل کے نتیجے میں بجلی دفاتر کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی مرتب کرکے اعلیٰ حکام کو پیش کریں گے۔

    مانسہرہ میں بس کھائی میں گرنے سے 2 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم مرکزی کنٹرول روم آج 25 اگست سے 31 اگست تک قائم کیا گیا ہے، مرکزی کنٹرول روم میں روزانہ پاور ڈویژن کا ایک جوائنٹ سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور سیکشن افسران شفٹوں میں 24 گھنٹے کام کریں گے، اس حوالے سے پاور ڈویژن نے آفس آرڈر جاری کردیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی نہیں تھی،پرویز خٹک

  • پاکستان واپڈا ٹیم ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی چیمپین

    پاکستان واپڈا ٹیم ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی چیمپین

    پاکستان واپڈا ٹیم ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی چیمپین بن گئی

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر انتظام ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے زیر اہتمام دوسرا ماڑی پیٹرولیم آزدی کپ ہاکی ٹورنامنٹ 2023ء لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ہاکی اسٹیڈیم ایوب پارک میں کھیلا جارہا تھا پاکستان واپڈا کی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔پاکستان واپڈا نے 2 کے مقابلے میں 3 گول سے ماڑی پیٹرولیم کو شکست دیکر دوسرے ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ کی ٹرافی اپنے نام کرلی۔مہمان خصوصی چیئرمین فوجی گروپ آف کمپنیز اینڈ ایم ڈی فوجی فاؤنڈیشن وقار احمد ملک ( ستارہ امتیاز) نے فائنل میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔تفصیلات کے مطابق دوسرا ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل میزبان ماڑی پیٹرولیم اور پاکستان واپڈا کی ٹیموں کی مابین کھیلا گیا ۔ پاکستان واپڈا اور ماڑی پاکستان واپڈا کی جانب سے عمر بھٹہ، توثیق ارشد اور سلمان رزاق نے ایک گول سکور کر کے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ماڑی پیٹرولیم کی جانب سے سفیان خان اور ارباز احمد نے ایک ایک گول سکور کیا۔اس میچ میں ایمپائرنگ کے فرائض یاسر خورشید انٹرنیشنل اور امیر حمزہ نے ادا کئے ان کے ساتھ اسد عباس اور عرفان طاہر ریزرو ایمپائر تھے۔ ٹیکنیکل آفیسر مرتضیٰ بھٹی کے ساتھ آصف بیگ، حمزہ طفیل، گلفام کھوکھر، اختر علی اور رفیق الرحمن نے ججز کی زمہ داریاں بخوبی ادا کیں۔

    فائنل میچ کے اختتام پر مہمان خصوصی چیئرمین فوجی گروپ آف کمپنیز وقار احمد ملک ( ستارۂ امتیاز ) نے ونر ٹیم پاکستان واپڈا کو ٹرافی اور بیس لاکھ روپے نقد انعام دیا جبکہ ماڑی پیٹرولیم ٹیم کو رنرز اپ ٹرافی کے ساتھ پندرہ لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
    مہمان خصوصی چیئرمین فوجی گروپ آف کمپنیز وقار احمد ملک ستارۂ امتیاز نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی کھیل ہاکی کی ترقی اور چوبارہ عروج کے حصول کے لئے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی کارپوریٹ اداروں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان ہاکی کو دنیا بھر میں پھر سے وہی عروج حاصل ہو سکے ۔

    اپنے مختصر خطاب میں ایم ڈی ماڑی پیٹرولیم فہیم حیدر نے ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے بارے میں اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ماڑی پیٹرولیم کمپنی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ساتھ مل کر قومی کھیل ہاکی کی ترقی و ترویج میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

    اس موقع پر سیکریٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن سید حیدر حسین، سیدہ شہلا رضا، ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اولمپیئن ناصر علی ، اولمپیئن شہناز شیخ ، اولمپیئن نعیم اختر، اولمپیئن سعید خان ، اولمپیئن رحیم خان، اولمپیئن دانش کلیم، رانا شفیق انٹرنیشنل، ٹورنامنٹ آرگنائزنگ سیکرٹری کرنل محمد یامین، اسسٹنٹ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر میجر طارق ورک، اسسٹنٹ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر راجہ شجاع اقبال، ایمپائرز مینیجر ذوالفقار حسین ، اسسٹنٹ ایمپائرز مینیجر کامران شاہ ، اسسٹنٹ ایمپائرز مینیجر مبارک علی ، ایونٹ میڈیا کوآرڈینیٹر ذوالفقار بیگ ، اسسٹنٹ میڈیا کوآرڈینیٹر محمد حفیظ ،حاجی نعیم اور ان کی ٹیم کے ساتھ شائقین ہاکی کی کثیر تعداد اسٹیڈیم میں موجود تھی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • چارسدہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں غیر قانون  کنکشن سے بجلی چوری کرنے کا انکشاف

    چارسدہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں غیر قانون کنکشن سے بجلی چوری کرنے کا انکشاف

    چارسدہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں غیر قانونی کنکشن کے زریعے یعنی بجلی چوری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق ہسپتال میں لگی پول سے غیر قانونی طریقے سے بجلی کنکشن اور بوگس میٹر جوڑ کر بجلی حاصل کی جا رہی تھی،ذرائع کے مطابق ان میں ہسپتال کی ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف ملوث ہے۔ جنہوں نے اپنے دفاتر میں بجلی کے غیر قانونی کنکشنز دئے ہوئے تھے،واپڈا اہلکاروں کی جانب سے تمام غیر قانونی کنکشنز کاٹ دئے گئے،

  • مردان،ایک طرف شدید لوڈ شیدنگ،دوسری جانب کنڈا کلچر کا راج

    مردان،ایک طرف شدید لوڈ شیدنگ،دوسری جانب کنڈا کلچر کا راج

    ضلع مردان میں غیر اعلانیہ اور بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا،جبکہ دوسری طرف کنڈا کلچر بھی عروج پر ہے، ضلع مردان میں ایک طرف اگر عوام بد ترین لودشیڈنگ کا شکار ہے تو دوسری جانب مردان میں غیر قانونی کنڈا کلچر بھی زور و شور سے جاری ہے ،باغی ٹی وی کے مطابق ضلع مردان کے مختلف علاقے جس میں غیر قانونی طور پر بجلی حاصل کی جا رہی ہے ان میں سکندری کورونہ،پار ہوتی،پوردل آباد، سر فہرست ہے،یہاں کےکچھ لوگ گرمی سے بچاؤ کے لئے ائیر کنڈیشنز کا ستعمال کرتے ہے ،تاہم زیادہ بلز ادا کرنے سے بچنے کے لئے ان شہریوں کے گھروں میں کنڈوں کے زریعے بجلی جا رہی ہے،جسکی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،کیونکہ واپڈا کی جانب سے ان علاقوں میں بجلی کی وولتیج کم دینے سے آئے روز ٹرانسفر مر کے خراب ہونے کے شکایات سامنے آتے ہے، یہاں کے عوام کا گلہ ہے کہ ہم بھاری بل ادا تو کرتے ہے لیکن کنڈے کے زریعے بجلی چوری کرنے والوں کی وجہ سے یہ لوگ ایک طرف بھاری بل ادا تو کر رہے ہے لیکن دوسری جانب بجلی بھی نہ ہونے کے برابر ہے،اس وقت شمسی روڈ اور گردانواح میں صبح سے تاحال بجلی غائب ہے جسکی وجہ سےعوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مساجد اور گھروں میں پانی ناپید ہے ،،عوام گرمی سے بے حال ہے ،مردان کے عوام نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے،عمل درامد نہ ہونے کے صورت میں عوام کا سڑکوں پہ نکل آنے اور شدید احتجاج کی دھمکی دی ہے،

  • دیامر بھاشا ڈیم کے لیے دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا فیصلہ

    دیامر بھاشا ڈیم کے لیے دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا فیصلہ

    دیامر بھاشا ڈیم کیلئے دریائے سندھ کا رخ نومبر میں موڑ دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین واپڈا سجاد غنی کو دیامربھاشا ڈیم پروجیکٹ کے دورے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈیم کیلئے دریائے سندھ کا رخ نومبر میں موڑ دیا جائے گا اور دریائے سندھ کا رُخ موڑنا اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے جس کے بعد دریائے سندھ ڈائی ورژن کے بعد اپنے قدرتی راستے سے جاملے گا دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کی 13 سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

    پشاورمیں پہلی باربچوں کابھی بغیرسینہ چاک کیےدل کا کامیاب آپریشن

    پراجیکٹ حکام کا کہنا تھا کہ دیا مر بھاشا ڈیم میں 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا، ڈیم سے 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی جب کہ 4 ہزار 320 میگا واٹ کا داسو پروجیکٹ 2 مراحل میں مکمل کیا جائے گا –


    دیا مر بھاشا خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے درمیان دریائے سندھ پر ہےاس کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نے 1998 میں رکھا تھااس کا کچھ حصہ خیبر پختوںخوا کے علاقے کوہستان میں جبکہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں آتا ہے اور اسی وجہ سے اسے دیامربھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔

    محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،ہڑتال 8ویں روز …

    واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔

    اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔

    اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی جبکہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں، بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جبکہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹررقبےپرپھیلا ہوگاجبکہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹر کچر کی تعمیر ہو گئی۔

    واپڈا کی رپورٹ کے مطابق ڈیم کی تعمیر سے 30 دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ 22 ہزار لگایا گیا ہے متاثر ہوں گے جبکہ 500 ایکڑ زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ زیرِ آب آئے گا ان نقصانات کی تلافی اور متاثرہ آبادی کی آباد کاری کے لیے نو مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

  • ہائی و لو وولٹیج،لوگوں کی اشیاء خراب،واپڈا بے خبر

    ہائی و لو وولٹیج،لوگوں کی اشیاء خراب،واپڈا بے خبر

    قصور
    سب ڈویژن لیسکو راجہ جنگ میں عرصہ دراز سے ہائی و لو وولٹیج کا مسئلہ،لوگوں کی الیکٹرانکس و الیکٹرک اشیاء خراب،محکمہ واپڈا کے لوگ خواب خرگوش میں

    تفصیلات کے مطابق لیسکو قصور کی سب ڈویژن راجہ جنگ کے گاؤں اوراڑہ نو،اوراڑہ کلاں،میر محمد ،ستوکی و دیگر دیہات میں عرصہ دراز سے بجلی وولٹیج ہائی و لو رہتے ہیں
    اچانک وولٹیج بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو کبھی بہت زیادہ لو ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی الیکٹرانکس و الیکٹرک اشیاء خراب ہوتی ہیں
    اس بابت سب ڈویژن راجہ جنگ کے ذمہ داران کو مطلع بھی کیا گیا ہے تاہم کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے صارفین سخت پریشان ہیں اور حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وولٹیج پرابلم جلد ٹھیک کی جائے اور غفلت کے ذمہ دار ملازمین و افسران کے خلاف کاروائی کی جائے