Baaghi TV

Tag: وزارت خزانہ

  • بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا-

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا،یوں ایک ہی سال میں ہر شہری پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا تخمینہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات بلند شرحِ سود اور زرِ مبادلہ کی قدر میں تبدیلی تھیں، گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (FRDL) کے تحت وفاقی حکومت پابند ہے کہ مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرے۔

    ملائیشین مذہبی امور کے وزیر کے ہم جنس پرستی کے بیان نے شدید تنازع کھڑا کر دیا

    رپورٹ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، حالانکہ قانون کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ حد 3.5 فیصد مقرر ہے۔ اس طرح حکومت نے قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیامجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا۔ اسی عرصے میں حکومت نے نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی، اور نئی گاڑیاں و فرنیچر خریدے، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں وفاقی اخراجات کا بجٹ 18.9 کھرب روپے رکھا گیا تھا، جن میں سے 17.2 کھرب روپے موجودہ اخراجات پر مشتمل تھےوفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیےٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو 13 کھرب روپے کے مقررہ ہدف کا 90.5 فیصد بنتی ہیں، تاہم نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    دوسری جانب ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 1.4 کھرب روپے رہے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے سود کی ادائیگیوں پر 8.8 کھرب روپے خرچ کیے گئے۔

  • پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے، حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی، پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے-

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 4 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، حالانکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا حکومت جلد مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی علاوہ ازیں مختلف آپشنز پر بھی غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈ کے ساتھ ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا عندیہ ہیں۔

    ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔

    آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دینا انصاف کے قتلِ عام کی بدترین مثال ہے،ٌخالد مسعود سندھو

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے روپے پر فوری دباؤ نہیں ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور سروسز کی برآمدات بڑھ رہی ہیں، جبکہ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہےقومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے، اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً 2 درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔

    ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔

  • سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری ،جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا؟

    سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری ،جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا؟

    اسلام آباد:وفاقی وزارت خزانہ نے سال 2025 کے دوران قومی معیشت کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی-

    وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا مالی نظم و ضبط کے باعث رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی سرپلس حاصل ہوا جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسرا سرپلس ہے جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    رپٔورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے جبکہ مالی سال24-2023 میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی، اسی طرح قرضوں میں بھی کمی دیکھی گئی اور مالی سال 25-2024 میں قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد رہا جو مالی سال 23-2022 میں 75 فیصد تھا۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ قرضوں کی اوسط مدت 4.5 سال تک بڑھ گئی جبکہ قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی کے نتیجے میں تقریباً 3.5 کھرب روپے یا 12.4 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی اسی دوران پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کر کے اسے جون 2024 کے 22 فیصد سے کم کر 10.5 فیصد کر دیا گیا اور معاشی استحکام کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر بھی مضبوط ہوئے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق درآمدی ادائیگیوں کے لیے کور بہتر ہو کر 2.6 ماہ تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.7 ماہ تھا، ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور مالی سال 2025 میں یہ 38 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ ہے جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ میں ترسیلات زر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

    کرنٹ اکاؤنٹ بھی بہتری کی جانب گامزن رہا اور مالی سال 25-2024 میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف میں رہنے کا امکان ہے اور ابتدائی پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا۔

    نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا اور مالی سال 25-2024 میں یہ 1.1 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس میں ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کا نمایاں حصہ رہاپاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی شان دار کارکردگی دکھائی اور 2025 میں ڈالر کے حساب سے 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کر کے عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

    رواں مالی سال میں معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور گزشتہ ڈیڑھ برس میں 4 لاکھ 50 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ مالی سال 25-2024 میں 9 آئی پی اوز متعارف کروائے گئے اور 26-2025 میں مزید 16 آئی پی اوز متوقع ہیں۔

    وزارت خزانہ کی دسمبر کی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فیصد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے۔

    وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کاروباری اور عوامی اعتماد میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، صارفین کا اعتماد 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور آئندہ 6 ماہ کے لیے معاشی امکانات کو کئی برسوں میں سب سے مضبوط قرار دیا جا رہا ہے بڑے کاروباری رہنماؤں میں معاشی ترقی کے حوالے سے امید 83 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک پرکشش منزل سمجھا جا رہا ہے۔

    رواں برس فن ٹیک اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی، پالیسی سپورٹ اور بڑھتی سرمایہ کاری نے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر نمایاں کر دیا ہے رواں مالی سال پہلے 5 ماہ میں برآمدات 3.2 فیصد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، صنعتی گروتھ سے پاکستان کی معیشت کا مستقبل مثبت نظر آرہا ہے، ٹیکسٹائل، گاڑیوں، سیمنٹ اور فوڈ پروسسنگ کی صنعتوں میں بہتری ہوئی اور مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام مضبوط ہوا۔

  • بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    وزارت خزانہ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، سیلاب کی صورتحال کے باعث معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے،سیلاب کے باعث فوڈ سپلائیز متاثر ہوسکتی ہیں، وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت اور مستحکم دکھائی دے رہے ہیں،مانیٹری پالیسی نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے، جون میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    ہاتھیوں اور مگرمچھوں سمیت سیکڑوں بڑے جانوروں پر مشتمل اننت امبانی کا زو اسکینڈل بے نقاب

    وزارت خزانہ کے مطابق مانیٹری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر شرح سود کو برقرار رکھا ہے، اقتصادی رپورٹ میں کہا گیا کہ اپریل 2025 سے بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی دکھائی دے رہی ہےمضبوط بیرونی اور مالیاتی دباؤ کے باعث معاشی شرح نمو میں اضافے کی توقع ہے، امریکہ کے ساتھ تجارتی ڈیل کے باعث پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا، تجارتی پارٹنرز سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینج 1 لاکھ 50 ہزار کی سطح سے تجاوز کر چکی ہے۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • وفاقی ترقیاتی بجٹ جاری کرنے کی حکمت عملی تیار

    وفاقی ترقیاتی بجٹ جاری کرنے کی حکمت عملی تیار

    وزارت خزانہ نے وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مرحلہ وار اجراء کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ حکمت عملی کے تحت رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی فنڈز چار سہ ماہیوں میں مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

    ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں 15 فیصد ترقیاتی بجٹ جاری کیا جائے گا دوسری سہ ماہی میں 20 فیصد،تیسری سہ ماہی میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جائیں گے.اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک سے ترقیاتی فنڈز براہِ راست جاری نہیں کیے جائیں گے.تمام وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کا پری آڈٹ بھی کیا جائے گا

    وزارت خزانہ نے یہ حکمت عملی تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو ارسال کر دی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت اور شفاف عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 24 گھنٹوں میں 108 فلسطینی شہید

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں، نوٹیفکیشن جاری

    ایران پر نئی امریکی پابندیاں، بینکنگ نیٹ ورک اور غیر ملکی کمپنیاں شامل

    ایران پر نئی امریکی پابندیاں، بینکنگ نیٹ ورک اور غیر ملکی کمپنیاں شامل

  • وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے گریڈ 1 سے 22 تک کے سرکاری ملازمین اور افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تنخواہوں میں یہ اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو گا، اور اس کا اطلاق جاری بنیادی تنخواہ پر کیا جائے گا۔علاوہ ازیں، گریڈ 1 سے 22 تک کے تمام ملازمین اور افسران کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس بھی دیا جائے گا، جس کے لیے علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق یہ الاؤنس ان ملازمین کو دیا جائے گا جو 30 جون 2022 کو سرکاری ملازمت میں موجود تھے اور ان کی بنیادی تنخواہ اسی تاریخ کی بنیاد پر ہو گی۔وہ ملازمین جو یکم جولائی 2022 یا اس کے بعد بھرتی ہوئے، انہیں 2017 کے بنیادی پے اسکیل کے مطابق الاؤنس دیا جائے گا۔ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس کا اطلاق بھی یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔

    یاد رہے کہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین پاکستان کی روشنی میں مساوی حقوق کے اصول پر عمل درآمد کرتے ہوئے، اہل سرکاری ملازمین کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

  • پیٹرول ایک روپیہ مہنگا، نئی قیمت 253.63 روپے فی لیٹر مقرر

    پیٹرول ایک روپیہ مہنگا، نئی قیمت 253.63 روپے فی لیٹر مقرر

    وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جب کہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔نئے اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی 253.63 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پرانی قیمت 254.64 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گا .وزارت خزانہ کے مطابق یہ قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہیں۔

    الیسٹر کک کی پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف، ایرن ہالینڈ نے پاکستانی پاسپورٹ مانگ لیا

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی

    حماس کا جنگ بندی معاہدے پرجواب ، غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ

  • پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز

    پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز

    وزارت خزانہ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات کا آغاز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسیڈر جیمیسن گریئر کے درمیان ٹیلی فون/ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوا۔دونوں فریقین نے تعمیری ماحول میں باہمی تجارتی محصولات کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا۔آئندہ چند ہفتوں میں تکنیکی سطح پر تفصیلی مذاکرات پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق دونوں فریقین نے مذاکرات کو جلد از جلد اور کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے کئی ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان پر 29 فیصد جوابی ٹیرف عائد ہونے کا امکان تھا، جس سے پاکستان کی برآمدات کو 1.4 ارب ڈالر کا ممکنہ نقصان متوقع تھا۔

    صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر کئی ممالک نے امریکا سے رجوع کیا، جس کے بعد امریکی صدر نے ٹیرف کا نفاذ 90 دنوں کے لیے معطل کر دیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان ریلویز کی 11 ماہ میں 83 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن

    سوراب حملہ، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی شدید مذمت، شہید کو خراج عقیدت

    ملک بھر میں ٹریفک حادثات، خاتون سمیت 9 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

  • وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات  جاری

    وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری

    وزارت خزانہ کے ترجمان کے مطابق وفاقی بجٹ 2025-2024 کی پیشی کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے، اور اب یہ بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سے قبل بجٹ 2 جون کو پیش کیے جانے کا امکان تھا۔ترجمان کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد بجٹ کی تیاری کو مکمل اور جامع بنانا ہے، تاکہ تمام مالی امور کو بہتر انداز میں حتمی شکل دی جا سکے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج یہ مذاکرات مکمل ہو سکتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں صنعتوں پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی تجاویز پر بھی پیشرفت کا امکان ہے، جبکہ نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں ممکنہ اضافے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق ورکنگ بھی فائنل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور صنعتی شعبے پر ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

    زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے نئے فریم ورک پر بھی مذاکرات میں غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صوبوں کی آمدن میں اضافہ کرنے سے متعلق پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ وفد نے وزیراعظم، صدر اور نائب وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ اسلام آباد میں معاشی ٹیم کے ساتھ مذاکرات گزشتہ پانچ روز سے جاری ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات ماہ جون تک جاری رہ سکتے ہیں۔

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ٹیکس چوری قطعاً قابل قبول نہیں،وزیراعظم سے چیمبر آف کامرس کے صدور سے ملاقات

  • وزیرِ خزانہ سےعالمی بینک کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ خزانہ سےعالمی بینک کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی-

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان آج وزارتِ خزانہ میں ملاقات ہوئی، عالمی بنک کے وفد کی قیادت بنک کی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز اینا بیئر ڈے کر رہی تھیں۔

    بیان کے مطابق ملاقات کا مقصد دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا، عالمی بینک کی مالی امداد کے منصوبوں کا جائزہ لینا، اور حال ہی میں ورلڈ بینک کے اشتراک سے شروع کیے گئے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) پر عمل درآمد میں تیزی لانا تھا۔

    بات چیت میں خاص طور پر سی پی ایف میں شامل ترجیحی شعبوں بالخصوص ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت اور آبادی کے نظم و نسق جیسے اہم موضوعات پر بات ہوئی۔دونوں فریقین نے پاکستان میں پائیدار ترقی اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے سی پی ایف کی اہیمت اور کردار پر اتفاق کیا۔

    اینا بیئرڈے نے مشکل لیکن ضروری معاشی اصلاحات کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے حکومتِ پاکستان کے مسلسل عزم کو سراہا، اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے حکومتی کوششوں کی تعریف کی۔

    وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے سی پی ایف کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو معاشی منصوبہ بندی کا مرکزی جزو قرار دیا۔

    انہوں نے سی پی ایف پر عمل درآمد کے لیے وزارت خزانہ اور دیگر تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیر خزانہ نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے سی پی ایف پر موثر عمل درآمد کے لیے جامع فریم ورک کی تیاری اور سارے عمل کو مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کی درخواست کی۔

    بیئرڈے نے سی پی ایف کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی بینک کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اورمعاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام، توانائی، اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں بنک کے تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے پاکستان کے انسا نی وسائل کو مضبوط کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کی بھی حمایت کی۔

    ملاقات کے آخر میں دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آنے والے مہینوں میں سی پی ایف کے مؤثر نفاذ انداز اور پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے مضبوط شراکت داری پر مبنی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔