Baaghi TV

Tag: وزارت خزانہ

  • وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے گریڈ 1 سے 22 تک کے سرکاری ملازمین اور افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تنخواہوں میں یہ اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو گا، اور اس کا اطلاق جاری بنیادی تنخواہ پر کیا جائے گا۔علاوہ ازیں، گریڈ 1 سے 22 تک کے تمام ملازمین اور افسران کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس بھی دیا جائے گا، جس کے لیے علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق یہ الاؤنس ان ملازمین کو دیا جائے گا جو 30 جون 2022 کو سرکاری ملازمت میں موجود تھے اور ان کی بنیادی تنخواہ اسی تاریخ کی بنیاد پر ہو گی۔وہ ملازمین جو یکم جولائی 2022 یا اس کے بعد بھرتی ہوئے، انہیں 2017 کے بنیادی پے اسکیل کے مطابق الاؤنس دیا جائے گا۔ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس کا اطلاق بھی یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔

    یاد رہے کہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین پاکستان کی روشنی میں مساوی حقوق کے اصول پر عمل درآمد کرتے ہوئے، اہل سرکاری ملازمین کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

  • پیٹرول ایک روپیہ مہنگا، نئی قیمت 253.63 روپے فی لیٹر مقرر

    پیٹرول ایک روپیہ مہنگا، نئی قیمت 253.63 روپے فی لیٹر مقرر

    وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جب کہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔نئے اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی 253.63 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پرانی قیمت 254.64 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گا .وزارت خزانہ کے مطابق یہ قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہیں۔

    الیسٹر کک کی پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف، ایرن ہالینڈ نے پاکستانی پاسپورٹ مانگ لیا

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی

    حماس کا جنگ بندی معاہدے پرجواب ، غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ

  • پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز

    پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز

    وزارت خزانہ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات کا آغاز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسیڈر جیمیسن گریئر کے درمیان ٹیلی فون/ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوا۔دونوں فریقین نے تعمیری ماحول میں باہمی تجارتی محصولات کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا۔آئندہ چند ہفتوں میں تکنیکی سطح پر تفصیلی مذاکرات پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق دونوں فریقین نے مذاکرات کو جلد از جلد اور کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے کئی ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان پر 29 فیصد جوابی ٹیرف عائد ہونے کا امکان تھا، جس سے پاکستان کی برآمدات کو 1.4 ارب ڈالر کا ممکنہ نقصان متوقع تھا۔

    صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر کئی ممالک نے امریکا سے رجوع کیا، جس کے بعد امریکی صدر نے ٹیرف کا نفاذ 90 دنوں کے لیے معطل کر دیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان ریلویز کی 11 ماہ میں 83 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن

    سوراب حملہ، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی شدید مذمت، شہید کو خراج عقیدت

    ملک بھر میں ٹریفک حادثات، خاتون سمیت 9 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

  • وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات  جاری

    وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری

    وزارت خزانہ کے ترجمان کے مطابق وفاقی بجٹ 2025-2024 کی پیشی کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے، اور اب یہ بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سے قبل بجٹ 2 جون کو پیش کیے جانے کا امکان تھا۔ترجمان کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد بجٹ کی تیاری کو مکمل اور جامع بنانا ہے، تاکہ تمام مالی امور کو بہتر انداز میں حتمی شکل دی جا سکے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج یہ مذاکرات مکمل ہو سکتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں صنعتوں پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی تجاویز پر بھی پیشرفت کا امکان ہے، جبکہ نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں ممکنہ اضافے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق ورکنگ بھی فائنل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور صنعتی شعبے پر ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

    زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے نئے فریم ورک پر بھی مذاکرات میں غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صوبوں کی آمدن میں اضافہ کرنے سے متعلق پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ وفد نے وزیراعظم، صدر اور نائب وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ اسلام آباد میں معاشی ٹیم کے ساتھ مذاکرات گزشتہ پانچ روز سے جاری ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات ماہ جون تک جاری رہ سکتے ہیں۔

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ٹیکس چوری قطعاً قابل قبول نہیں،وزیراعظم سے چیمبر آف کامرس کے صدور سے ملاقات

  • وزیرِ خزانہ سےعالمی بینک کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ خزانہ سےعالمی بینک کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی-

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان آج وزارتِ خزانہ میں ملاقات ہوئی، عالمی بنک کے وفد کی قیادت بنک کی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز اینا بیئر ڈے کر رہی تھیں۔

    بیان کے مطابق ملاقات کا مقصد دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا، عالمی بینک کی مالی امداد کے منصوبوں کا جائزہ لینا، اور حال ہی میں ورلڈ بینک کے اشتراک سے شروع کیے گئے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) پر عمل درآمد میں تیزی لانا تھا۔

    بات چیت میں خاص طور پر سی پی ایف میں شامل ترجیحی شعبوں بالخصوص ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت اور آبادی کے نظم و نسق جیسے اہم موضوعات پر بات ہوئی۔دونوں فریقین نے پاکستان میں پائیدار ترقی اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے سی پی ایف کی اہیمت اور کردار پر اتفاق کیا۔

    اینا بیئرڈے نے مشکل لیکن ضروری معاشی اصلاحات کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے حکومتِ پاکستان کے مسلسل عزم کو سراہا، اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے حکومتی کوششوں کی تعریف کی۔

    وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے سی پی ایف کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو معاشی منصوبہ بندی کا مرکزی جزو قرار دیا۔

    انہوں نے سی پی ایف پر عمل درآمد کے لیے وزارت خزانہ اور دیگر تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیر خزانہ نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے سی پی ایف پر موثر عمل درآمد کے لیے جامع فریم ورک کی تیاری اور سارے عمل کو مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کی درخواست کی۔

    بیئرڈے نے سی پی ایف کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی بینک کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اورمعاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام، توانائی، اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں بنک کے تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے پاکستان کے انسا نی وسائل کو مضبوط کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کی بھی حمایت کی۔

    ملاقات کے آخر میں دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آنے والے مہینوں میں سی پی ایف کے مؤثر نفاذ انداز اور پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے مضبوط شراکت داری پر مبنی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

  • وفاقی حکومت کی آمدن 5887ارب، اخراجات 8200ارب سے زائد

    وفاقی حکومت کی آمدن 5887ارب، اخراجات 8200ارب سے زائد

    وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 5887 ارب روپے جبکہ اخراجات 8200 ارب سے تجاوز کرگئے۔موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے اخراجات و آمدن کی تفصیلات جاری کردی گئی۔

    وفاقی حکومت کی خالص آمدن 5887 ارب روپے جبکہ اخراجات 8200 ارب سے تجاوز کر گئے۔ پہلے 6 ماہ میں 2313 ارب روپے بجٹ خسارہ ہوا.رپورٹ کے مطابق قرضوں پر سود کی مد میں 5141 ارب روپے خرچ کیئے گئے، وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر صرف 164 ارب روپے خرچ کیئے گئے، 6 ماہ میں دفاع پر 466 ارب روپے خرچ کیئے گئے۔زیرجائزہ عرصے کے دوران ایف بی آر کو ٹیکس ریونیو میں 384 ارب شارٹ فال کا سامنا ہوا، 600 ارب ہدف کے مقابلے 5625 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔ تاجر دوست اسکیم کے تحت 23.4 ارب ٹیکس جمع کرنے کا ہدف بھی پورا نہ ہوا، جولائی تا دسمبر نان ٹیکس ریونیو 3602 ارب روپے رہا۔

    رپورٹ کے مطابق 6 ماہ میں مجموعی آمدن سے صوبوں کو 3339 ارب روپے حصہ دیا گیا، خسارہ پورا کرنے کیلئے 2313 ارب روپے کے قرضے لیئے گئے۔دوسری جانب پاکستان نے موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں آئی ایم ایف کی بڑی شرائط پوری کردیں۔ 2900 ارب روپے ہدف کے مقابلے پرائمری 3 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ چاروں صوبوں نے 750 ارب ہدف کے مقابلے 776 ارب سرپلس بجٹ دیا، صوبوں نے 376 ارب ریونیو ہدف کے مقابلے 442 ارب ٹیکس جمع کیا، زرعی آمدن پر ٹیکس پر عمل درآمد سے ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 549 ارب سے زیادہ وصول کیئے گئے۔ آئی ایم ایف وفد کا آئندہ ماہ دورہ پاکستان متوقع ہے، حکومت کی رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ 7 ارب ڈالر کے بیل آٹ پیکج کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کیلئے مذاکرات ہوں گے۔

    ایم کیو ایم میں کوئی اختلاف نہیں،مصطفیٰ کمال

    نئی دہلی کی وزیراعلیٰ بھی مستعفی ہو گئیں

    سعودی عرب میں 21 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن گرفتار

    انجری ،حارث رؤف جنوبی افریقا کیخلاف اہم میچ سے باہر

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے تک کا اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔نوٹی فکیشن کے مطابق حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپےفی لیٹر مہنگاکردیا ہے۔اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 257 روپے 13 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگیا، اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 267روپے 95پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے ہوگا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے مسلسل دوسری بار 15 دسمبر کو پیٹرول 3 روپے 47 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 63 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا تھا، اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 256 روپے 13 پیسے اور فی لیٹرل ڈیزل 260 روپے 95 پیسے میں دستیاب تھا۔حکومت نے یکم جنوری سے 15 جنوری تک کے لیے نئے سال کے آغاز پر بھی پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت 252 روپے66 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 2 روپے 96 پیسے بڑھا کر 258 روپے 34 پیسے مقرر کر دی گئی تھی۔

  • حکومت کا  اضافی قرضوں پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا اضافی قرضوں پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومت کا 71 ہزار ارب سے زائد قرض اتارنے کا پلان سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی قرضوں پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے حکومت بیک وقت قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت پیدا کرے گی اور زیادہ سے زیادہ رعایتی بیرونی فنانسنگ کو متحرک کیا جائے گاعالمی قرضوں سے جاری کثیر الجہتی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے گا، بچت بڑھانے کے لیے قومی بچت اسکیموں میں بہتری لائی جائے گی۔

    وزارت خزانہ کےمطابق بانڈز کے اجرا کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں موجودگی بڑھائی جائے گی، عالمی مارکیٹوں میں پانڈا، یورو بانڈز اور بین الاقوامی اسکوک جاری کیے جائیں گے،ری فنانسنگ اور شرح سود کے خطرات کو کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے، اداروں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے گا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق قرض اتارنے کے پلان میں مالی خساروں کو کم کرنا بھی شامل ہے، مالی خسارے کم ہو جانے سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا، استحکام کے نتیجے میں اضافی قرضوں پر ملک کا انحصار کم ہوگا علاوہ ازیں سرمایہ کاری میں وسعت، ڈومیسٹک ڈیبٹ کیپیٹل مارکیٹ کو فعال کیا جائے گا، ملکی وغیرملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطے بڑھائے جائیں گے آئندہ چند سالوں میں نان بینک سیکٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جس میں پنشن فنڈز، انشورنس اور ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کا قیام بھی شامل ہے جبکہ آئندہ چند سالوں میں شریعہ کمپلائنٹ قرض مارکیٹ کے قیام کو فروغ دیا جائے گا،مقامی اور بیرونی قرضوں کے پورٹ فولیو کا میچورٹی پروفائل بڑھایا جائے گا جبکہ میڈیم ٹرم ڈیبٹ مینجمنٹ اسٹریٹجی کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

  • وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے مابین آئندہ وفاقی بجٹ کیلیے اہداف طے

    وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے مابین آئندہ وفاقی بجٹ کیلیے اہداف طے

    آئی ایم ایف مشن اور وزارت خزانہ حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے جس میں آئندہ بجٹ کے لئے اہداف طے کر لئے گئے ہیں

    آئی ایم ایف حکام وزارت خزانہ پہنچے،جہاں پاکستانی حکام نے انکا استقبال کیا،آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے مابین وزارت خزانہ میں تعارفی سیشن ہوا جس میں پاکستان کی طرف سے وزیرخزانہ، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اورگورنراسٹیٹ بینک موجود تھے، مذاکرات میں وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے اہم اہداف طے کیے گئے ،فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے گی،میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف نے بیرونی ادائیگیاں بلا تاخیر اور بروقت ادا کرنے پر اتفاق کیا ،یہ بھی طے کیا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس ریفنڈ ادائیگیاں بروقت کرنے کا پابند ہوگا ، زرمبادلہ ذخائربہتر بنانے اور ادائیگیوں کیلئے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بانڈز جاری کیے جائیں گے، درآمدات پرپابندی نہیں ہوگی اورانٹرنیشنل ٹرانزیکشنز کیلئے بھی پابندی عائد نہیں کی جائےگی، اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کی معلومات آئی ایم ایف کو بھیجی جائیں گی، آئی ایم ایف، ایف بی آر، شماریات بیورو اور مارکیٹ بیسڈایکسچینج ریٹ کی معلومات لےگا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات تقریباً دو ہفتے تک جاری رہیں گے، پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر سے زائد کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کی امید ہے.پاکستان اور ائی ایم ایف کے درمیان یہ 24 واں پروگرام ہے

    پیچیدہ سیاسی صورتحال اور سماجی تناؤ،پالیسی اصلاحات کا نفاذ متاثرکرسکتا ہے،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف سے بڑے اور طویل المیعاد پروگرام کے لیے مذاکرات ہوں گے،وزیرِ خزانہ

    طویل مدتی قرض پروگرام،آئی ایم ایف معاون ٹیم پہنچی پاکستان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا مشہود احمد کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف سے پروگرام حاصل کرنا ضروری ہے،معیشت کا ہر شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے،ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہے، سعودی عرب سے بھاری سرمایہ کاری آرہی ہے،چین سے بھی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری آرہی ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ڈی آئی ایم ایف کو دورہ پاکستان کی دعوت

    پاکستان کی معیشت مستحکم ہونے میں وقت لے گا، ایم ڈی آئی ایم ایف

    اپریل 2024 کے آخر تک پاکستان کے کیس پر غور کیا جائے گا،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف کا سی پی پیز کیلئے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی کی قیمت کے برابر اضافے کا مطالبہ

    سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت پاکستان کو 3بلین ڈالر کی ادائیگی کی جائیگی،آئی ایم ایف

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 8 ا رب ڈالر کا نیا قرض پروگرام ملنے کی امید

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے

    معیشت کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف
    آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے اور پاکستان کی سپورٹ جاری رکھیں گے،سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی میدان میں چیلنجز ہوئے اور معاشی استحکام بھی سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہوا ہے،معیشت کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف جو تجاویز دے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،

  • وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ جاری

    وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2024 میں مہنگائی 25 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ نے ماہانہ اقتصادی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملکی معیشت کی بتدریج بحالی کا عمل جاری ہے، نومبرمیں پی ایس ایکس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور زرعی شعبہ کی کارکردگی مثبت دکھائی دے رہی ہے،سٹاک مارکیٹ کی گزشتہ پانچ ماہ کی سرگرمیوں کے معیشت پر مثبت اترات مرتب ہوئے-

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گندم کی کاشت ہدف کے مطابق ہوئی، ربیع سیزن کے پیداواری اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں، پنجاب میں گندم کے پیداواری رقبے میں 2 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں8.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، ٹریکٹروں کی پیداوار میں 60.7 فیصد اورسیل میں 98.2 فیصد اضافہ ہوا، یوریا کھاد کی کھپت میں 5.6 فیصد اور ڈی اے پی میں 42 فیصد اضافہ ہوا۔

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر یکم جنوری سے جرمانوں کی نئی شرح لاگو

    اقتصادی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 3.6 فیصد اضافہ ہوا، جولائی سے اکتوبرتک اخراجات میں 35 فیصد اضافہ ہوا، اس دوران جاری اخراجات میں 44 فیصد اضافہ ہوا جولائی سے اکتوبر تک سود ادائیگیوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا، دسمبر میں مہنگائی 28.5 فیصد اور جنوری 2024 میں مہنگائی 25 فیصد تک رہنے کی توقع ہے-

    رپورٹ کے مطابق جولائی سے نومبر تک برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ جولائی سے نومبر تک درآمدات 16 فیصد کم ہوئیں، اس دوران جاری کھاتوں کاخسارہ 64.5 فیصد کم ہوا، جولائی سےاکتوبرتک بجٹ خسارےمیں31.9 فیصد کمی ہوئی-

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں اسی عرصہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر تھا، چینی سرمایہ کاری کی وجہ سے براہ راست سرمایہ کاری میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا، جولائی تا نومبر سرمایہ کاری 656.1ملین ڈالر رہی، پالیسی ریٹ کو گزشتہ سطح 22 فیصد تک برقرار رکھا گیا، صارفین کیلئےاشیاٗ کی خریدوفرخت کا انڈیکس نومبر میں 3.1 فیصد رہا-