Baaghi TV

Tag: وزارت خزانہ

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کی رقم میں 5000 روپے کا اضافے کا فیصلہ

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں 5000 روپے کا اضافے کا فیصلہ

    حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی رقم جنوری 2027 سے 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کر دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان پروگرام میں شامل ہوں گے، جس سے مجموعی طور پر مستفید گھرانوں کی تعداد 1 کروڑ 2 لاکھ تک پہنچ جائے گی آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر حکومت نے اپنی مالی پوزیشن کے مطابق صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بجٹ سے پسماندہ طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کریں۔

    ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوں گی، جبکہ گزشتہ ماہ تقریباً ساڑھے 3 ارب روپے اضافی لیوی اکٹھی کی گئی ملک بھر میں پٹرول کی کھپت تقریباً 24 فیصد بڑھ گئی کسانوں کو تحفظ دینے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کھاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نہیں لگائی جائے گی۔

    بی آئی ایس پی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جنوری 2027 سے پروگرام کے تحت ہر خاندان کو 19,500 روپے دیے جائیں گے، جبکہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان شامل کیے جائیں گے حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے گھرانوں کی تعداد بڑھتی رہے گی یہ اقدام پسماندہ طبقے کی مالی مدد اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

  • سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اسمارٹ لاک ڈاؤن سے منسوب ایک مبینہ جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے جس حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سے صوبوں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت شروع کر د ی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ تمام صوبوں اور وفاقی اکائیوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا وزارت خزانہ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے تاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے فیصلے کے بعد کاروباری، تجارتی، صنعتی اور سر وس سیکٹر پر اس کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران شادی بیاہ اور دیگر تقریبات محدود کر دی جائیں گی جبکہ قومی شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے بند کی جا سکتی ہیں تاکہ لاک ڈاؤن کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں، لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مدت اور شیڈول تمام متعلقہ اکائیوں کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا اور ا س کے بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش مبینہ جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں توانائی اور ایندھن کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں دو روزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، لاک ڈاؤن ہر ہفتے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے سے اتوار کی رات 12 بجے تک نافذ کیا جائے گا، جبکہ شادی بیاہ سمیت تمام کمرشل سرگرمیاں معطل رکھنے کی سفارش شامل کی گئی تھی اس کے علاوہ جعلی نوٹیفکیشن میں کاروباری مراکز، دفاتر اور دیگر غیر ضروری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی ہدایات شامل کی گئی تھیں، ابتدائی طور پر اسمارٹ لاک ڈا ؤن کے نفاذ کا آغاز 4 اپریل سے کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

  • کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی  کٹوتی

    کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی کٹوتی

    اسلام آباد:وفاقی حکومت نےکفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سے 100 ارب روپے کی بڑی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس کٹوتی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق پی ایس ڈی پی میں شامل تمام ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں 10 فیصد کمی کی جائے گی، اس اقدام سے مجموعی حجم ایک ہزار ارب سے گھٹ گیا ہےاب رواں مالی سال کے لیے مختص وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم کم ہو کر 900 ارب روپے رہ گیا ہے،یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس وقت جاری کفایت شعاری مہم اور مالیاتی استحکام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت عالمی مارکیٹ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے عوام کو ریلیف دینے کی خاطر 72 ارب روپے کی بھار ی سبسڈی پہلے ہی دے چکی ہےوزیراعظم نے اپنے حالیہ خطاب میں بھی واضح کیا تھا کہ عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کا بوجھ منتقل کرنے کے بجائے تر قیاتی بجٹ میں کمی کی جائے گی، حکومت اسی حکمت عملی کے تحت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھے ہوئے ہے۔

  • بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا-

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا،یوں ایک ہی سال میں ہر شہری پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا تخمینہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات بلند شرحِ سود اور زرِ مبادلہ کی قدر میں تبدیلی تھیں، گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (FRDL) کے تحت وفاقی حکومت پابند ہے کہ مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرے۔

    ملائیشین مذہبی امور کے وزیر کے ہم جنس پرستی کے بیان نے شدید تنازع کھڑا کر دیا

    رپورٹ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، حالانکہ قانون کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ حد 3.5 فیصد مقرر ہے۔ اس طرح حکومت نے قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیامجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا۔ اسی عرصے میں حکومت نے نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی، اور نئی گاڑیاں و فرنیچر خریدے، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں وفاقی اخراجات کا بجٹ 18.9 کھرب روپے رکھا گیا تھا، جن میں سے 17.2 کھرب روپے موجودہ اخراجات پر مشتمل تھےوفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیےٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو 13 کھرب روپے کے مقررہ ہدف کا 90.5 فیصد بنتی ہیں، تاہم نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    دوسری جانب ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 1.4 کھرب روپے رہے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے سود کی ادائیگیوں پر 8.8 کھرب روپے خرچ کیے گئے۔

  • پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے، حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی، پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے-

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 4 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، حالانکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا حکومت جلد مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی علاوہ ازیں مختلف آپشنز پر بھی غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈ کے ساتھ ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا عندیہ ہیں۔

    ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔

    آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دینا انصاف کے قتلِ عام کی بدترین مثال ہے،ٌخالد مسعود سندھو

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے روپے پر فوری دباؤ نہیں ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور سروسز کی برآمدات بڑھ رہی ہیں، جبکہ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہےقومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے، اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً 2 درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔

    ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔

  • سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری ،جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا؟

    سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری ،جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا؟

    اسلام آباد:وفاقی وزارت خزانہ نے سال 2025 کے دوران قومی معیشت کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی-

    وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا مالی نظم و ضبط کے باعث رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی سرپلس حاصل ہوا جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسرا سرپلس ہے جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    رپٔورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے جبکہ مالی سال24-2023 میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی، اسی طرح قرضوں میں بھی کمی دیکھی گئی اور مالی سال 25-2024 میں قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد رہا جو مالی سال 23-2022 میں 75 فیصد تھا۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ قرضوں کی اوسط مدت 4.5 سال تک بڑھ گئی جبکہ قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی کے نتیجے میں تقریباً 3.5 کھرب روپے یا 12.4 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی اسی دوران پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کر کے اسے جون 2024 کے 22 فیصد سے کم کر 10.5 فیصد کر دیا گیا اور معاشی استحکام کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر بھی مضبوط ہوئے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق درآمدی ادائیگیوں کے لیے کور بہتر ہو کر 2.6 ماہ تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.7 ماہ تھا، ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور مالی سال 2025 میں یہ 38 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ ہے جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ میں ترسیلات زر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

    کرنٹ اکاؤنٹ بھی بہتری کی جانب گامزن رہا اور مالی سال 25-2024 میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف میں رہنے کا امکان ہے اور ابتدائی پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا۔

    نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا اور مالی سال 25-2024 میں یہ 1.1 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس میں ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کا نمایاں حصہ رہاپاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی شان دار کارکردگی دکھائی اور 2025 میں ڈالر کے حساب سے 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کر کے عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

    رواں مالی سال میں معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور گزشتہ ڈیڑھ برس میں 4 لاکھ 50 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ مالی سال 25-2024 میں 9 آئی پی اوز متعارف کروائے گئے اور 26-2025 میں مزید 16 آئی پی اوز متوقع ہیں۔

    وزارت خزانہ کی دسمبر کی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فیصد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے۔

    وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کاروباری اور عوامی اعتماد میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، صارفین کا اعتماد 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور آئندہ 6 ماہ کے لیے معاشی امکانات کو کئی برسوں میں سب سے مضبوط قرار دیا جا رہا ہے بڑے کاروباری رہنماؤں میں معاشی ترقی کے حوالے سے امید 83 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک پرکشش منزل سمجھا جا رہا ہے۔

    رواں برس فن ٹیک اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی، پالیسی سپورٹ اور بڑھتی سرمایہ کاری نے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر نمایاں کر دیا ہے رواں مالی سال پہلے 5 ماہ میں برآمدات 3.2 فیصد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، صنعتی گروتھ سے پاکستان کی معیشت کا مستقبل مثبت نظر آرہا ہے، ٹیکسٹائل، گاڑیوں، سیمنٹ اور فوڈ پروسسنگ کی صنعتوں میں بہتری ہوئی اور مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام مضبوط ہوا۔

  • بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    وزارت خزانہ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، سیلاب کی صورتحال کے باعث معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے،سیلاب کے باعث فوڈ سپلائیز متاثر ہوسکتی ہیں، وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت اور مستحکم دکھائی دے رہے ہیں،مانیٹری پالیسی نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے، جون میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    ہاتھیوں اور مگرمچھوں سمیت سیکڑوں بڑے جانوروں پر مشتمل اننت امبانی کا زو اسکینڈل بے نقاب

    وزارت خزانہ کے مطابق مانیٹری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر شرح سود کو برقرار رکھا ہے، اقتصادی رپورٹ میں کہا گیا کہ اپریل 2025 سے بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی دکھائی دے رہی ہےمضبوط بیرونی اور مالیاتی دباؤ کے باعث معاشی شرح نمو میں اضافے کی توقع ہے، امریکہ کے ساتھ تجارتی ڈیل کے باعث پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا، تجارتی پارٹنرز سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینج 1 لاکھ 50 ہزار کی سطح سے تجاوز کر چکی ہے۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • وفاقی ترقیاتی بجٹ جاری کرنے کی حکمت عملی تیار

    وفاقی ترقیاتی بجٹ جاری کرنے کی حکمت عملی تیار

    وزارت خزانہ نے وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مرحلہ وار اجراء کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ حکمت عملی کے تحت رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی فنڈز چار سہ ماہیوں میں مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

    ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں 15 فیصد ترقیاتی بجٹ جاری کیا جائے گا دوسری سہ ماہی میں 20 فیصد،تیسری سہ ماہی میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جائیں گے.اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک سے ترقیاتی فنڈز براہِ راست جاری نہیں کیے جائیں گے.تمام وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کا پری آڈٹ بھی کیا جائے گا

    وزارت خزانہ نے یہ حکمت عملی تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو ارسال کر دی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت اور شفاف عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 24 گھنٹوں میں 108 فلسطینی شہید

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں، نوٹیفکیشن جاری

    ایران پر نئی امریکی پابندیاں، بینکنگ نیٹ ورک اور غیر ملکی کمپنیاں شامل

    ایران پر نئی امریکی پابندیاں، بینکنگ نیٹ ورک اور غیر ملکی کمپنیاں شامل

  • وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے گریڈ 1 سے 22 تک کے سرکاری ملازمین اور افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تنخواہوں میں یہ اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو گا، اور اس کا اطلاق جاری بنیادی تنخواہ پر کیا جائے گا۔علاوہ ازیں، گریڈ 1 سے 22 تک کے تمام ملازمین اور افسران کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس بھی دیا جائے گا، جس کے لیے علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق یہ الاؤنس ان ملازمین کو دیا جائے گا جو 30 جون 2022 کو سرکاری ملازمت میں موجود تھے اور ان کی بنیادی تنخواہ اسی تاریخ کی بنیاد پر ہو گی۔وہ ملازمین جو یکم جولائی 2022 یا اس کے بعد بھرتی ہوئے، انہیں 2017 کے بنیادی پے اسکیل کے مطابق الاؤنس دیا جائے گا۔ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس کا اطلاق بھی یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔

    یاد رہے کہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین پاکستان کی روشنی میں مساوی حقوق کے اصول پر عمل درآمد کرتے ہوئے، اہل سرکاری ملازمین کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

  • پیٹرول ایک روپیہ مہنگا، نئی قیمت 253.63 روپے فی لیٹر مقرر

    پیٹرول ایک روپیہ مہنگا، نئی قیمت 253.63 روپے فی لیٹر مقرر

    وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جب کہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔نئے اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی 253.63 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پرانی قیمت 254.64 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گا .وزارت خزانہ کے مطابق یہ قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہیں۔

    الیسٹر کک کی پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف، ایرن ہالینڈ نے پاکستانی پاسپورٹ مانگ لیا

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی

    حماس کا جنگ بندی معاہدے پرجواب ، غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ