آج ملک بھر میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔
آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے، مظفر آباد میں صبح نو اور دس بجے کے درمیان سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی،آج پورے ملک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا، آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔
گزشتہ سات دہائیوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ صرف حالیہ 34 برسوں میں 96 ہزار سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے، 7 ہزار سے زیادہ افراد دورانِ حراست شہید ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد بچے شفقتِ پدری سے محروم کر دیے گئے 05 اگست 2019 کے بعد بھارتی مظالم میں مزید اضافہ ہوا، گزشتہ پانچ برسوں میں 966 کشمیری شہید، 25 ہزار سے زائد گرفتار اور ہزاروں کو عقوبت خانوں میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جنوری 2025 میں بھی ریاستی جبر کا سلسلہ نہ رکا اور مزید بے گناہ کشمیریوں کی جانیں لے لی گئیں۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی آج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف مظفر آباد جائیں گے یوم یکجہتی کشمیر پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن کشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے، دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ناگزیر ہےوزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے، کشمیری بھائیوں کی بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے من مانی سیاسی نظربندیاں بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں، 5اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی کا سلسلہ شروع کیا، ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھااقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور وکالت کی، پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر افواجِ پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل، نیول چیف اور ایئر چیف نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت جاری رکھیں گی۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بیان میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی جیسے اقدامات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔
افواجِ پاکستان نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا رہے ہیں مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہےمسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس تناظر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔
افواجِ پاکستان نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، کشمیری عوام کی جدوجہد کو جائز حق سمجھتے ہوئے افواجِ پاکستان ان کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی رہیں گی۔