Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات

    آستانہ: وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں، کئی برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، آپ کے تجربےسے مزید فائدہ اٹھا کر تجارت کو بڑھانا چاہتے ہیں، دونوں ملکوں کی باہمی تجارت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے، پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو مستقبل میں مزید بڑھانا چاہتا ہے، آج وہ وقت ہے کہ ہم تجارت کو بڑھا کر تعلقات کو مزید مستحکم کریں،پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کسی اور ملک کی وجہ سے متاثرنہیں ہوں گے،

    دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ،روسی صدر
    روسی صدر نے وزیراعظم پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے دوبارہ مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے، دو سال پہلے ہم شنگھائی تعاون تنظیم کے ہی اجلاس کے موقع پر سمر قند میں ملے تھے؛ ہم نے دو طرفہ امور کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی تھی ،پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے ،توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو بڑھا سکتے ہیں ،غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے .

    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچے،آستانہ کے نور سلطان نذر بائیوف بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قازقستان کے وزیرِاعظم اولہاز بیکٹونوف، قازقستان کے نائب وزیرِاعظم علی بیک بیکایوف، آستانہ شہر کے میئر زہینس قاسم بیک، قازقستان میں تعینات پاکستان کے سفیر نعمان بشیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔وزیرِاعظم 3 اور 4 جولائی 2024 کو آستانہ، قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس (CHS) اور ایس سی او پلس SCO Plus کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔وزیرِاعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کی کونسل کے اجلاس میں وزیرِاعظم اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے نقطہِ نظر پیش کریں گے۔ وزیرِاعظم ایس سی او پلس سمٹ سے بھی خطاب کریں گے.وزیرِاعظم اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔ وزیرِاعظم ایس سی او خطے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔وزیرِاعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔آج پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی بات چیت کا دور کا دور ہو گا جس میں وزیرِاعظم کی شرکت بھی متوقع ہے۔وزیرِاعظم آج شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکائیوف کی جانب سے دیئے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف سے تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین کی ملاقات
    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین کی ملاقات ہوئی ہے،تاجکستان کی مجلس اولیٰ (تاجک پارلیمنٹ) کی مجلسی نموینداگون (ایوانِ زیریں) کے چیئرمین جناب محمد طائر زاکر زادہ نے آج دوشنبہ میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر تعاون کے حوالے اطمینان کا اظہار کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کے لیے پہلے سے قائم پارلیمانی فرینڈشپ گروپس اور باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ دونوں ممالک کی عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے اراکینِ پارلیمنٹ کی مسلسل بات چیت اور روابط کی اہمیت پر زور دیا۔وزیرِاعظم نے جمہوریہ تاجکستان کے آئین کی 30 ویں سالگرہ پر چیئرمین کو مبارکباد بھی دی۔ وزیراعظم تاجکستان کے صدر عزت مآب امام علی رحمٰن کی دعوت پر تاجکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہیں۔

  • وزیرِ اعظم   کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ کیا ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مون سون کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی،وزیرِ اعظم نے مون سون کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم کر دی.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے تمام صوبائی حکومتوں و متعلقہ اداروں کی مون سون کے حوالے سے معاونت کرے. ہنگامی صورتحال میں متوقع طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. کسانوں اور دریاؤں و ندی نالوں کے گردونواح کے لوگوں کو روزانہ کی بنیادوں پر میڈیا و دیگر ذرائع سے پیشگی اطلاعات دی جائیں.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مون سون کی پیش گوئی اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں این ڈی ایم کی جانب سے مون سون کی اب تک کی پیش گوئی اور متوقع خطرے سے دوچار علاقوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. جس میں بتایا گیا کہ جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں چاروں صوبوں میں مون سون کی شدید بارشیں متوقع ہیں،رواں برس مون سون بارشوں کا سلسلہ پاکستان میں جنوب مشرق سے ہوتا ہوا شمال کی جانب بڑھے گا. جولائی کے پہلے ہفتے میں پوٹھوہار اور پنجاب کے مشرقی حصے میں بارشیں متوقع ہیں. جولائی کے دوسرے ہفتے میں راولپنڈی، سرگودھا، گجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں موسلادھار جبکہ بہاولپور، ملتان، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں کہیں کہیں بارشوں کا امکان ہے. اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ستلج، چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال متوقع ہے.ان دریاؤں کے گرد و نواح میں آبادیوں کو نہ صرف پیشگی اطلاعات اور نقل مکانی کیلئے تیاریاں مکمل ہیں بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی جا چکی ہے. سندھ میں جولائی کے دوسرے اور چوتھے ہفتے میں کراچی، میر پور خاص، نواب شاہ، سکھر و حیدرآباد میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں. تھر پارکر، بدین ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں اگست کے تیسرے ہفتے بھی مون سون بارشوں کی توقع ہے. خیبر پختونخوا میں جولائی میں ہزارہ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ اگست کے تیسرے ہفتے تک متحرک رہنے کا امکان ہے.بلوچستان میں جولائی کے دوسرے، چوتھے اور اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ساحلی و سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. اگست کے تیسرے ہفتے میں لسبیلہ، ارماڑہ، خضدار، بارکھان، سبی اور ژوب میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا امکان ہے.گلگت بلتستان میں جولائی میں جزوی بارشیں جبکہ اگست کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر بارشوں کی توقع ہے جس میں سکردو، ہنزہ، چلاس اور غزر میں بارشوں کا امکان ہے. آزاد کمشیر میں جولائی کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر موسلادھار بارشوں اور لینڈ سلائیدنگ کا خطرہ ہے.

    اجلاس کو ستلج اور چناب کے کناروں پر آبادیوں کے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ پورے ملک میں کشتیوں، خیموں، نکاسی آب کیلئے پمپس، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھا گیا ہے.مون سون کے حوالے سے تیاری رواں برس جنوری جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشقیں مارچ سے جاری ہیں. ریسکیو اداروں، پی ڈی ایم ایز، افواج پاکستان کے دستوں اور این ڈی ایم اے مسلسل متوقع طور پر متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ پر ہیں.مون سون الرٹ اور موسم کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پیشگی اطلاعات کیلئے این ڈی ایم اے نے ایک موبائل ایپ متعارف کرائی ہے جو لوگوں کے استعمال میں ہے. مون سون میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی مون سون کنٹنجینسی پلان مرتب کرکے متعلقہ اداروں و صوبائی حکومتوں کو بھیجا جا چکا ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کو قومی نشریات کا حصہ بنایا جائے.کسانوں کو باقاعدگی کے ساتھ موسم کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے. کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کسانوں کی بھرپور معاونت کی جائے.

    اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹیرز نے اپنے صوبوں میں مون سون اور اس حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل پر بریفنگ دی. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، رانا تنویر حسین، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز ویڈیو لنگ کی ذریعے شریک تھے.

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،وزیراعظم

    آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وسط ایشیائی ممالک بالخصوص آذربائیجان کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری کے شعبے میں تعلقات کے فروغ کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزیرِ اعظم کو پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارت کے حجم، استعداد اور تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو اقتصادی تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرنے کی ہدایت کر دی،دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور آزربائجان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر بات چیت ہو رہی ہے۔آزربائجان کیساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کی وسیع استعداد موجود ہے۔

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نےآذربائیجان کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون و تجارتی شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کیلئے سمندر تک اقتصادی راہداری کا قدرتی راستہ فراہم کرتا ہے۔ آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارت کی استعداد اور موجودہ تجارت کو بڑھانے کیلئے جامع لائحہ عمل بنا کر پیش کیا جائے۔ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو دہائیوں پر محیط ہیں۔حکومت کی کاروبار و سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے۔

    اجلاس میں نائب وزر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، عبدالعلیم خان، سردار اویس خان لغاری، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • ہمیں متبادل توانائی  پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    ہمیں متبادل توانائی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متبادل توانائی کے ذرائع خصوصاً شمسی توانائی کی ترویج پرتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے-

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت پیٹرولیم ڈویژن کے امور پر اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک ، وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس کو پیٹرولیم اور گیس کے شعبوں کے حوالے سے پیشرفت اور تجاویز پر بریفنگ دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ کاربن فٹ پرنٹ کافی کم ہونے کے باوجود پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے پانچواں سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، متبادل توانائی پر مبنی مصنوعات کے فروغ کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات پر قابو پانے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ٹائیٹ گیس کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا، تیل اور گیس پائپ لائنز سے چوری کے انسداد کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کی جائے گی-

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ الیکٹرک بائیکس، گاڑیوں اور بجلی پر چلنے والی گھریلو مصنوعات کے حوالے سے پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے، پیٹرولیم سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے تجاویز پر کام کیا جائے گا، پیٹرول اور گیس کی تلاش کے عمل کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جائے گا، پیٹرولیم اور گیس کے شعبے میں مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، مقامی سطح پر تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافے کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے، بائیو فیولز کے فروغ کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    ممکنہ سیلاب کا خدشہ: مریم نواز کا پنجاب بھر میں ندی نالوں کی صفائی …

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں متبادل توانائی کے ذرائع خصوصاً شمسی توانائی کی ترویج پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، تھر کول پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وزیراعظم نے تھر کول کی گیسیفیکیشن کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تھر کول کی ملک کے دوسرے علاقوں تک رسائی کے لیے ریلوے لائن کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا منشیات سے پاک پنجاب کا عزم

  • وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی توسیع کر دی ہے،دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی قابلِ تجدید شمسی توانائی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے،معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے ہیں،اللہ کے فضل وکرم سے ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے،چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے،اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا،عام آدمی کے معاشی تحفظ اور اُسے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے

    عزم استحکام کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات، گٹھ جوڑ اور انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے،وزیراعظم
    کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے وژن عزم استحکام کے حوالے سے گردش کررہی غلط فہمیوں اورقیاس آرائیوں کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا۔اور کہا کہ عزم استحکام ایک کثیر جہتی، مختلف سیکورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے، اس مقصد کے لیے کسی نئے و منظم مسلح آپریشن کی بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا،بڑے پیمانے پر مسلح آپریشن جس کے نتیجے میں نقل مکانی کی ضرورت ہو،وژن عزم استحکام کے تحت ایسے کسی آپریشن کی شروعات محض غلط فہمی ہےعزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پر تشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے

    پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی،کابینہ کو بریفنگ
    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ بجٹ 2024-25بحث کے دوران وزراء پارلیمان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں .اجلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں. پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی. وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی.

    ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت
    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت دے دی۔ یہ خصوصی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کی سفارش پر وزارت مذہبی امور، حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اسلامی امور، دعوت و رہنمائی سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی حکومت نے ریاستی اور سرحدی علاقوں کی ڈویژن کی سفارش پر اور سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بہاولپور کے امیر(مرحوم) کی غیر منقولہ جائیداد کے لیے قائم عمل درآمد کمیٹی کی مدت میں مارچ 2025 تک توسیع دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (FAB)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    چینی کی قیمت پر نظر رکھنے کے لئے کابینہ کمیٹی بنانے کی ہدایت
    وفاقی کابینہ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی برآمد کے فیصلے کے بارے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اس حوالے سے شوگر ایڈوائزی بورڈ و متعلقہ اداروں نے آئندہ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے کی کھپت اور اضافی چینی کے ذخائر کا تخمینہ لگا کر باقی ماندہ میں سے قلیل مقدار میں چینی کی برآمد کی منظوری دی ہے. وزیرِ اعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو چینی کی قیمت پر نظر رکھے گی اور اگر چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا اندیشہ ہوا تو اسکی مزید برآمد کو روک دیا جائے گا.

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کی تیار کی گئی قومی اقتصادی کونسل (NEC) کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2022-23 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز(Cabinet Committee on Legislative Cases)کے11جون 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارےCabinet Committee on State Own ed Enterprises (CCoSOEs) کے20 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام، وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ اعلان کردہ وژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جارہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں نوگو ایریاز میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان کارروائیوں کےلیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ضرورت تھی، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی پاکستان میں منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے، بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہےجہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام پاکستان میں پائیدارامن واستحکام کےلیے ایک کثیر جہتی وژن ہے، عزم پاکستان مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے جس کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کےنفاذ میں نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے، قومی ایکشن پلان سیاسی میدان میں قومی اتفاق رائے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردوں کی باقیات، سہولت کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، عزم استحکام سے ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے گا، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے، تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ اس موضوع پر غیر ضروری بحث کو بھی ختم کرنا چاہیے۔

    سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے نہیں پاکستان کیلئے سٹینڈ لیں، وزیر دفاع
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کا موازنہ ضرب عضب ،راہ نجات اور ردالفساد سے کیا جارہا ہے لیکن ان آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی مگر مقاصد ایک ہی تھے اور یہ آپریشن بھی دہشتگردوں کے خلاف ہے جس کا آغاز کیا جائے گا، تین جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں، ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں، اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ضرور دور کریں گے، آپریشن پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، آپریشن کے سیاسی عزائم نہیں، مقصد دہشت گردی کی لہر ختم کرنا ہے، آپریشن کا فوکس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو گا

    تحریک انصاف دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا، صوبوں کو مالی مدد کرنا ہو گی، عدلیہ نے قومی سلامتی کی کوشش میں سپورٹ نہ کیا تو آپریشن مؤثر نہیں رہے گا، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا تھا وزیرِ اعظم کے کہنے پر قدم اٹھا رہے ہیں، ماضی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس وقت اور آج کل صورتِ حال میں بہت فرق ہے، فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا، فاٹا کے علاقے نوگو ایریاز بن چکے تھے، آج ایسی صورتحال نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں بی ایل اے رات کے وقت کارروائی کرتے ہیں، سوات میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی تھی،پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی، اس اقدام سے تباہی آئی، امن نہیں آیا، امن پارہ پارہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کے حوالہ سے بیورو کریسی اور میڈیا کی حمایت کی بھی اشد ضرورت ہوگی، پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے، ہم نے دونوں جنگیں امریکی تحفظات کے لیے لڑیں، ردالفساد اور ضرب عضب کے بعد امن قائم ہوا تھا.

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،وزیراعظم

    ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاست کی عملداری کو پوری قوت اور بغیر کسی استثنیٰ کے نافذ کرنا ہم سب کی ذمہ ذاری ہے۔ ایک نرم ریاست کبھی بھی بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتی۔ دہشتگردی میں مبتلا ایک غیر مستحکم ریاست میں مضبوط معیشت کا تصور ممکن نہیں

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو وسائل دیے گئے ہیں اسلئے توقع ہے صوبے دہشتگردی کے خلاف بھرپور حصہ ڈالیں اور مل کر اس ناسور کا خاتمہ کرینگے ، دہشتگردی کیخلاف کامیابی کیلئے سیاسی اور مذہبی طبقے کو کردار ادا کرنا ہوگا، سیکیورٹی کو ریاست کے صرف ایک ادارے پر چھوڑنا فاش غلطی ہوگی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم کو شامل کرنے کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، افواج دہشتگردی کیخلاف جو جنگ کر رہی ہے اس کے اخراجات وفاق اٹھاتا ہے، دہشتگردی کیخلاف فوج کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھیں گے، یقینی بنائیں گے کہ غلط معلومات اور جھوٹ سچائی کو نہ چھپا سکے، پاکستان کے دشمنوں نے سوشل اسپیس کو زہر آلود کر رکھا ہے، اظہاررائے کا غلط استعمال اور آئین کی دھجیاں اڑانے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہوسکتا، ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ غریب آدمی کو اپنی روزی روٹی کی فکر ہے، روزگار کی فکر ہے، مکمل نظام کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.

    کرم میں آئی ای ڈی دھماکے میں پاک فوج کے 5جوان شہید

     پاک فوج کے کیپٹن سمیت 7 جوان شہید 

    سیکورٹی فورسز کے تین آپریشن،23 دہشتگرد جہنم واصل،5 جوان شہید

    ژوب،ایک ماہ میں 29 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی ایم این اے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کی۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران، دونوں فریقین نے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے، موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے لیے موسمیاتی فنانس، زرعی بیمہ، شہری سیلاب سے نمٹنے سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    یو این ڈی پی-پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین نے بھی وزیر اعظم کی معاون کو موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ نئے عالمی مالیاتی طریقہ کار کا مقصد پہلے سے طے شدہ مالیات کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں تحفظ کے خلا کو ختم کرنا ہے۔اس اقدام کی تفصیلات بتاتے ہوئے، انہوں نے وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید مشیر کو آگاہ کیا کہ ولنر یبل ٹونٹی گروپ (Vulnerable Twenty Group (V20)) نے گروپ آف سیون (G7) اور دیگر معاون ممالک کے ساتھ مل کر ماحولیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کا آغاز کیا تاکہ مزید سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
    ”بنیادی طور پر، موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ پہلے سے ترتیب دیا گیا جو ٹرگر پر مبنی مالی وسائل ہے اور آفات کے مد مقابل فوری طور پر دستیاب فنڈ ہے جو کہ معیشت، کاروبار کے لیے انتہائی موثر اور تیز ترین طریقہ ہے۔ یہ بات یو این ڈی پی کی پاکستان میں ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کے دوران واضح کی۔

    یو این ڈی پی پاکستان کی سینئر عہدیدار نے وزیراعظم کی معاون کو آگاہ کیا کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ممالک کو موسمیاتی خطرات اور اثرات کو مزید سمجھنے کے لیے جامع مدد فراہم کرنا اور تحفظ کے خلا کو پورا کرنے کے لیے جدید حل اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے حل کرنا اس اقدام کا ایک بہت بڑا مقصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا ایک اور اہم مقصد پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو گرانٹ پر مبنی مالی اور تکنیکی امداد کی فراہمی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور موافقت کی کوششوں سے منسلک کمزور کمیونٹیز کے مالی تحفظ کے لیے حل نکالنا اوراس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔دریں اثنا، یو این ڈی پی-پاکستان کی نمائندہ نے بھی وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم کو ملک کی موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے اقدام کے ذریعے فراہم کردہ مالی اور تکنیکی مدد تک رسائی کے لیے ان کی تنظیم کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    رومینہ خورشید نے یو این ڈی پی – پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور تعریف کی کہ ان کی فراخدلانہ پیشکش کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کی وزارت کے ذریعے موسمیاتی خطرات سے دوچار شعبوں، بالخصوص زراعت، شہری سیلاب اور آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ابتدائی انتباہ کے لیے پاکستان کی معاونت کی جا رہی ہے۔رومینہ خورشید عالم نے یو این ڈی پی – پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین کو بتایا کہ ”میں کسی بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گی جس سے ہمیں لوگوں کی زندگیوں اور معاش اور سماجی و اقتصادی شعبوں خصوصاً زراعت، پانی، توانائی، صحت، تعلیم کو موسمیاتی موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے”۔وزیر اعظم کی معاون نے کہا کہ وسیع تر مالی تحفظ، تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی پالیسی کے تحت فراہم کردہ ردعمل پاکستان میں خطرات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نقصانات کا مؤثر جواب دینے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران، پی ایم کی کوآرڈینیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ پچھلی دہائی کے دوران، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جو کہ انسانی بقا اور ماحولیاتی نظام کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    وزیر اعظم کی معاون نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ طوفان، خشک سالی اور سیلاب نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی مسلسل اور زیادہ شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سست آغاز کے اثرات کے ساتھ یہ انتہائی موسمی واقعات تمام ممالک، بالخصوص سب سے زیادہ کمزور ممالک اور کمیونٹیز کے لیے کی پائیدار ترقی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔وزیراعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی کارروائی اورتبدیلیوں سے موافقت کے لیے سرمایہ کاری کے باوجود، آب و ہوا سے متعلق نقصانات کے بقایا خطرات اب بھی برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں مزید تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا، ”جب آب و ہوا سے متعلق کوئی آفت آتی ہے، تو بہترین نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جو سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے لیے انتہائی موثر اور تیز رفتار طریقے سے فوری مالیات فراہم کرتے ہیں۔”

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • سیلاب سے پاکستان کا جو نقصان ہوا اس کا ازالہ آئندہ سالوں میں بھی نہ ہوسکا،وزیراعظم

    سیلاب سے پاکستان کا جو نقصان ہوا اس کا ازالہ آئندہ سالوں میں بھی نہ ہوسکا،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز درپیش ہیں، 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کے پراجیکٹ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے بدترین سیلاب کا سامنا کیا لیکن ہم نے صوبوں اور وفاق کی مشترکہ کاوشوں سے متاثرین کی بحالی کویقینی بنایا سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی سندھ اور خیبرپختونخوا میں آئی، سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سیلاب سے پاکستان کا جو نقصان ہوا اس کا ازالہ آئندہ سالوں میں بھی نہ ہوسکا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وفاق نےسیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 100ارب روپے خرچ کیےملک میں 2022 کے بدترین سیلاب سے نمٹنے کے لیے صوبوں اور وفاق نے مل کر بھرپور کردار ادا کیا، سیلاب میں این ڈی ایم اے کے ساتھ دیگر اداروں نے بھی کام کیا این ڈی ایم اے نے سیلاب کی صورتحال کے دوران بہت اہم کردار ادا کیا، این ڈی ایم اے کو جو وسائل درکار ہوں گے وہ فراہم کریں گے اور جو آلات درکار ہیں، اس کے لیے صوبوں سے مل کر پلان ترتیب دیں۔

    بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر جنیوا میں ڈونرز کانفرنس ہوئی، ہم نے جنیوا میں کانفرنس میں بھرپور آواز اٹھائی، این ڈی ایم اے کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نظام قابل تعریف ہے، این ڈی ایم اے کا وضع کردہ نظام دیگر شعبوں کے لیے بھی رول ماڈل ہے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وسیع پیمانے پر کام کررہے ہیں، پاکستان میں آئی ٹی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، این ڈی ایم اے نے آئی ٹی کا استعمال کیا جو قابل تعریف ہے، آئی ٹی کے شعبے کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی، آئی ٹی شعبے کو فروغ دینے کے لیے 80 ارب روپے کا بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے۔

    ثانیہ مرزا اور بھارتی کرکٹر محمد شامی جلد شادی کرنے والے ہیں،بھارتی میڈیا

  • وزیراعظم  کی   وزیراعلیٰ پنجاب اور ٹیم کو شاباش

    وزیراعظم کی وزیراعلیٰ پنجاب اور ٹیم کو شاباش

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عید کے 3 دن بہترین صفائی اورعوامی خدمت پر وزیراعلیٰ پنجاب ،مریم نواز اورٹیم کو شاباش دی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ ’ویل ڈن پنجاب‘، ’ویل ڈن مریم نواز‘ شدید گرمی میں عملے نے جس محنت سے کام کیا، قابل تعریف ہے، آپ کو سلام پیش کرتا ہوں ڈرون کے استعمال سے لاہور نہر میں گندگی پھینکنے میں 80 فیصد کمی قابل ستائش ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھاکہ عرق ریزی کے ساتھ عرق گلاب کا استعمال یہ روایت جاری رہنی چاہیے انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ عوامی خدمت کا یہ معیار نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سے اسپین کے سفیر کی ملاقات

     

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے تین روزہ خصوصی صفائی مہم میں شامل عملے کے لیے ایک ماہ کی تنخواہ بطور انعام دینے کا اعلان کیا ،وزیر اعلی پنجاب نےعید صفائی مہم کی تمام ٹیم کو پیغام دیا کہ "شاباش ٹیم پنجاب، شاباش”، آپ نے عوام کی مثالی خدمت کرکے ستھرا پنجاب کی نئی تاریخ لکھ دی،شدید گرمی میں جس طرح آپ نے عوام کی خدمت کی، وہ قابل تعریف اور قابل فخر ہے،

    پاکستان میں مون سون کا آغاز 27جون سے 4جولائی کے درمیان ہونے کی پیشگوئی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صفائی مہم میں شریک تمام میونسپل اداروں، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں، ضلعی انتظامیہ، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور عملے کو خراج تحسین پیش کیا، وزیر بلدیات ذیشان رفیق اور سیکرٹری وزارت بلدیات محمد شکیل کے کام کو بھی سراہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ عید کے تین دن میں ستھرا پنجاب کی مہم نے ہر روز عوامی خدمت کا ایک نیا ریکارڈ بنایا، عیدالاضحٰی پر 72 گھنٹے میں مسلسل صفائی، عرق گلاب ملے پانی سے سڑکوں، گلیوں اور راستوں کی دھلائی کر کے سرکاری مشینری نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا،آپ کے ٹیم ورک نے عوامی خدمت اور یہ ممکن ہے کی سنہری اور قابل فخر مثال قائم کر دی-

    ذہنی معذور لڑکی سے رشتہ دار کی مبینہ زیادتی