Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ کو ہو گا، شیڈول جاری

    وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ کو ہو گا، شیڈول جاری

    قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کا انتخاب اتوار 3 مارچ کو ہو گا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیراعظم کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب اتوار 3 مارچ کو ہوگا،وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی 2 مارچ کو دن 2 بجے تک وصول کیے جائیں گے اور پھر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 3 بجے تک ہوگی، وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے شعبہ قانون سازی سے لیےجاسکتے ہیں،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تائید کنندگان کا موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے.

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی 3 مارچ کو کسی بھی کارروائی کو چھوڑ کر اپنے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی، رائے دہی سے قبل اسپیکر امیدواران کے نام پڑھ کر سنائے گا،ایک ہی امیدوار ہونے کی صورت میں اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار وزیراعظم منتخب ہوگا،دو امیدوار ہونے کے صورت میں رائے دہی کرائی جائے گی، اگر کوئی امیدوار مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو دوبارہ رائے شماری ہو گی، رائے دہی سے قبل پانچ منٹ تک اسمبلی ہال کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی،گھنٹیاں بجانے کے بعد قومی اسمبلی ایوان کے دروازے مقفل کر دیے جائیں گے، رائے شماری کے عمل کے بعد سیکریٹری تقسیمی فہرست جمع کروائے گا، گنتی کے بعد دو منٹ کے لئے مزید گھنٹیاں بجائی جائیں گی، گھنٹیاں بجنے کے بعد سپیکر نتائج کا اعلان کرے گا،

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، سنی اتحاد کونسل نے عمر ایوب کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے،جے یو آئی وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی،پیپلز پارٹی شہباز شریف کی حمایت کرے گی ، استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ بھی ن لیگ کی حمایت کریں گی

    قبل ازیں آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا،حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری، عمر ایوب، شیر افضل مروت، علی محمد خان، شہر یار آفریدی،حمزہ شہباز،خواجہ آصف، ایاز صادق و دیگر نے شرکت کی.

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

    دوسری جانب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما ایم کیو ایم کے آفس پہنچ گئے،اس دوران میڈیا سے گفتگو میں ن لیگی رہنما سردار ایاز صادق نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیرِ اعظم کے ووٹ کی یقین دہانی کرائی ہے، صدر اور سینیٹ کے چیئرمین کے ووٹ سے متعلق انہیں منانے پھر آئیں گے،ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے، جمہوریت کے ثمرات عوام کو بھی ملنے چاہئیں، عوام کے حقوق کے لیے آئین کا استعمال کیا جائے،جب تک عوام شریک نہ ہوں جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی

    دوسری جانب ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات کے حل تک وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگ ابھی صرف ایم کیو ایم کو ایک وزارت دینا چاہتی ہے، ایم کیو ایم چار وزارتوں کا مطالبہ کررہی ہے، ن لیگ کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلے کا حل نکال لیں گے، ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت جاری ہے،

  • شیریں مزاری کا 2022 میں مبینہ اغوا،سیکرٹری کابینہ عدالت طلب

    شیریں مزاری کا 2022 میں مبینہ اغوا،سیکرٹری کابینہ عدالت طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے 22 مئی 2022 کو مبینہ اغواء کے خلاف کیس میں سیکریٹری کابینہ کو کل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کے 22 مئی 2022 کو مبینہ اغواء کے خلاف کیس کی سماعت کی،جسٹس محسن اختر کیانی نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ پہلے فیکٹ فائنڈنگ ہوئی ہوگی نا کہ خاتون اغواء ہوئی یا کیا ہوا؟ رپورٹ کہاں ہے؟ کسی نے رپورٹ تو دیکھی نہیں کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے کیا کیا، عدالت میں رپورٹ لائی نہیں گئی اور سیدھی کابینہ کے سامنے رکھ دی گئی، سیکریٹری کابینہ کو کل بلا لیں کہ رپورٹ کے ساتھ آ جائیں،کل وزیراعظم کو بھی بلایا ہوا ہے سیکریٹری کابینہ بھی آ جائیں، وزیراعظم کی موجودگی میں یہیں پر رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ سے کام تو ہوتا نہیں یہیں بٹھا کر کام کروائیں گے، بار بار عدالتی حکم کے باوجود فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں.

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،شہباز شریف

    پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،شہباز شریف

    نامزد وزیراعظم شہبازشریف سے بلوچستان سے نومنتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے

    مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل نے وفد کی قیادت کی ، این اے 263 سے جمال شاہ کاکڑ، این اے 252 سے سردار یعقوب خان ناصر بھی وفد میں شامل تھے ،این اے 257 اور پی بی 22 سے جیتنے والے جام کمال ، نواب چنگیز خان مری بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ،میاں خان مندرانی، پی بی 4 سے سردارعبدالرحمن کھیتران اور راحیلہ درانی وفد کا حصہ تھے ،پی بی 14 سے محمد خان لہڑی ، پی بی 15 سے میر سلیم احمد کھوسہ ، پی بی 3 سے میر شعیب نوشیروانی بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ،پی بی 30سے آزاد جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے میر عاصم کرد گیلو ، پی بی 41 سے ولی محمد، پی بی 51 سے کیپٹن (ر) عبدالخالق، پی بی 27 سے برکت علی رند بھی ملاقات میں شریک تھے

    شہبازشریف نے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور پارٹی رہنماﺅں کے جذبے کو سراہا اور کہا کہ آپ سب کی کاوشوں کی بدولت پاکستان میں سیاسی استحکام کی صورت پیدا ہورہی ہے،پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کے لئے ہم سب مل کر خلوص دل سے کام کریں گے، سیاسی مفادات نہیں، پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،

    اس موقع پر بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ،بلوچستان سے رہنماﺅں نے اپنے سیاسی رابطوں کے حوالے سے پارٹی صدر کو آگاہ کیا ، اس موقع پر خواجہ محمد آصف، رانا ثناءاللہ ، سینیٹر اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، سینیٹراعظم نذیر تارڑبھی ملاقات میں موجود تھے

    قومی اسمبلی اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا،شہباز شریف

    پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا،شہباز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ افہام و تفہیم اور باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب نے ملکر اسے سنوارنا ہے،ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا میری اولین ترجیح ہے، خدمت، دیانت اور محنت کی روایت کو آگے بڑھائیں گے، ملک کسی صورت انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا، ملک کو ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے شب و روز کاوشیں کی جائیں گی، ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے سب کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا،پوری تندہی، محنت اور ایمانداری سے عوام کی خدمت کریں گے،قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی قائدانہ قیادت میں ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی، جس کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ ملکر حکومت بنا رہی ہیں، شہباز شریف کو بطور وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • یونیفارم کی عزت کو بحال کرانے کی ضرورت ، عدالت کے بلوچ طلبا کیس میں ریمارکس

    یونیفارم کی عزت کو بحال کرانے کی ضرورت ، عدالت کے بلوچ طلبا کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلباء کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت پر نگران وزیراعظم انوارالحق پیش نہ ہوئے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،ٹارنی جنرل منصور عثمان عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کے شہریوں کو ریکور کرنے کے لیے 2 سال لگے، ان کے خلاف لڑائی جھگڑے، نارکوٹکس سمیت کسی قسم کا کوئی کیس نہیں،مسنگ پرسنز کے اور بھی حساس کیسز سنتے ہیں، چوبیس ماہ میں ابھی تک تمام بچوں کو ریکور نہیں کرسکے، لاپتہ 12 طلباء ابھی بازیاب نہیں ہوئے؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میری معلومات کے مطابق 8 طلباء ابھی بازیاب نہیں ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزراء، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کدھر ہیں؟ دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں آئے؟

    سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ آفتاب درانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نگراں وزیراعظم سے پوچھ لیں،ان کو اس لیے بلایا تھا کہ وہ جوابدہ ہیں، یہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، یا آپ ان افراد کے خلاف کرمنل کیسز کی تفصیل بتائیں، یا پھر ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں کے ذمہ دار ہیں، یا پھر یہ لوگ خود بھاگ گئے یا کسی تیسرے نے انہیں اغوا کرلیا، اس صورت میں پھر ریاستی اداروں کی ناکامی ہے،ہر ماہ کی تاریخ ملا کر 24 تاریخیں ہوچکی ہیں، جو شہری بازیاب ہوئے ان کے خلاف کوئی کیس ریکارڈ پر نہیں، ان لاپتہ بچوں کی مائیں بہنیں ہوں گی وہ ڈھونڈ رہی ہوں گی، اسلام آباد ایف 6 میں سے بغیر ایف آئی آر ایک شہری کو اٹھا لے گئے، تین حکومتیں لاپتہ بلوچ اسٹوڈنٹس کی بازیابی کا کچھ نہیں کرسکیں، ابھی نگراں حکومت ہے، اس سے پہلے 16 ماہ کی حکومت تھی، اس سے پچھلی حکومت بھی مسنگ پرسنز کے ایشو پر کچھ نہ کرسکی، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی سرکاری ملازم ہیں، یہ سب افسران جوابدہ ہیں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، تینوں اداروں کے سربراہوں کی کمیٹی بنا کر ان سے رپورٹ مانگ لیتے ہیں، ہم کیوں وزیراعظم کو بلائیں؟ جن پر الزام ہے انہی ادارے کے لوگوں پر مشتمل کمیٹی بنا دیتے ہیں

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ نئی حکومت آئے گی، انہیں پالیسی بنانے کا وقت دے دیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ کیا کہیں گے کہ کیا جبری گمشدگیاں ہونی چاہئیں؟ کچھ اداروں کو جو استثنیٰ ملا ہوا ہے وہ نہیں ملنا چاہیے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ایم پی او آرڈرز کا غلط استعمال کرتے رہے، اب عدالتی فیصلے کے بعد وہ توہین عدالت کیس کا سامنا کر رہے ہیں، یونیفارم کی عزت کو بحال کرانے کی ضرورت ہے،آئی جی کو بتا دیں اسلام آباد میں کوئی اغوا ہوا تو ایف آئی آر ان کے خلاف ہوگی، ساری دنیا دیکھ رہی ہے، یہاں تمام ممالک کے سفارتخانے ہیں، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ کیسے دارالحکومت میں رہتے ہیں؟ وزیراعظم ہوتے تو دیکھتے کہ یہاں کس طرح کام ہو رہے ہیں

    عدالت میں شیر افضل مروت ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرے گھر پر رات دو بجےچھاپا مارا گیا ، چھاپا مارنے والوں نے ماسک پہن رکھے تھے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایم این اے اور وکیل ہیں، ان کے ساتھ اسلام آباد میں یہ ہو رہا ہے، یہ لکی مروت نہیں، اسلام آباد کی بات کر رہے ہیں اگر یہاں ایک رکن اسمبلی کےساتھ ایسا ہو رہا ہے تو بلوچستان میں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ آئین کی بات کریں تو اب سب ہنستے ہیں، کوئی سیاسی حکومت ہو یا نئی حکومت آنے والی ہو، جواب کمیٹی نے دینا ہے، ہم آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے ڈی جیز پر مشتمل کمیٹی بنا دیتے ہیں

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اتحادی جماعتوں کی جانب سے واضح حمایت ملنے کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کر دیا

    نواز شریف جو چوتھی بار وزیراعظم بننے آئے تھے انکا خواب ادھورا رہ گیا، نواز شریف اتحادی وزیراعظم ہوں گے، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے نوازشریف نے وزیراعلی پنجاب کے عہدے کےلئے مریم نوازکو نامزد کردیا ہے

    پاکستان کو "نواز”دو، ن لیگ کا ووٹر سے دھوکہ، نواز کی بجائے "شہباز” دے دیا
    نواز شریف لندن سے واپس آئے تو اس وقت سے کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم بننے کے لئے آئے، مسلم لیگ ن نے نواز شریف وزیراعظم کے نام پر انتخابی مہم چلائی،منشور میں پاکستان کو نواز دو کا نعرہ لگایا، تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد نواز شریف نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیاالبتہ نواز شریف کا چہرہ اس روز "بجھا بجھا” سا تھا، اس خطاب کے بعد نواز شریف ابھی تک دوبارہ نظر نہیں آئے، آزاد امیدوار جو ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں ان سے شہباز شریف اور مریم نواز ملاقاتیں کر رہے ہیں، اتحادی جماعتوں سے رابطے شہباز شریف کر رہے ہیں تا ہم نواز شریف منظر سے غائب ہو چکے ہیں،این اے 15 سے نواز شریف الیکشن ہار چکے ہیں تو وہیں این اے 130 میں انکی کامیابی کا نوٹفکیشن آج جاری ہو چکا ہے، الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں واضح اکثریت چاہئے، تاہم نتائج آنے پر نہ واضح اکثریت ملی اور نہ ہی نواز شریف کو جیت ، لاہور سے ن لیگ سیٹیں ہار گئی، خواجہ سلمان رفیق ہار گئے،روحیل اصغر ہار گئے،ایسے میں نواز شریف انتخابات کے بعد شدید پریشان ہیں، یہ بھی امکان ہے کہ نواز شریف حکومت بننے کے بعد دوبارہ لندن چلے جائیں ،کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف بن رہے تو نواز شریف کا کسی قسم کا کوئی کردار حکومت میں نہیں رہے گا ، صدر آصف زرداری کو بنانا ن لیگ کی مجبوری بن جائے گا کیونکہ وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ لے رہے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کیلیے مریم نواز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو امید ہے کہ نمبر گیم کی برتری حاصل کر کے وہ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں اور پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے.

    واضح رہے کہ سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے،اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

  • تین پریس کانفرنسیں، منظر نامہ واضح،ن لیگ کا وزیراعظم

    تین پریس کانفرنسیں، منظر نامہ واضح،ن لیگ کا وزیراعظم

    عام انتخابات، کو ن بنے گا وزیراعظم، آج تین سیاسی جماعتوں کی پریس کانفرنسوں سے منظر نامہ واضح ہو گیا ، مسلم لیگ ن حکومت بنائے گی تو وہیں تحریک انصاف اپوزیشن میں بیٹھے گی

    سابق وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد امیدواروں کو حکومت بنانے کی دعوت دی اور ساتھ کہا کہ اگر وہ نہیں بنا سکتے تو ہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے، تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے، اسکے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میدان میں آئے، بلاول نے سیاسی چھکا مارا اور وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے، بلاول کا کہنا تھا کہ ہمیں اس فیصلے سے نقصان ہو گا لیکن ہم نے ملک کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا، ملک میں استحکام چاہئے، بلاول پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی سیٹوں پر حیران نظر آئے اور ساتھ پیغام بھی دیا کہ کراچی میں امن اور ترقی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، تحریک انصاف بارے بلاول کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا،

    bilawal

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے، کوئی بھی جماعت نہ تو اکثریت حاصل نہ کر سکی، نہ ہی اس پوزیشن میں دو پارٹیاں ملکر حکومت بنا لیں، اگر آزاد امیدوار اور پیپلز پارٹی مل جاتے تو حکومت بن سکتی تھی تاہم تحریک انصاف نے ہٹ دھرمی دکھائی اور میں نہ مانوں والی کی بات پر قائم رکھی، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی حمایت کا فیصلہ کر لیا،اب وزیراعظم مسلم لیگ ن کا ہو گا، ایم کیو ایم بھی مسلم لیگ ن کی حمایت کرے گی اور کابینہ میں بھی شامل ہو گی، جمعیت علماء اسلام کا ابھی تک کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ سکا

    پنجاب میں ن لیگ حکومت بنائے گی تو سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنائے گی، بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ حکومت بنائے تو وہیں ن لیگ بھی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جے یو آئی جس پارٹی کا ساتھ دے گی اسکی حکومت بلوچستان میں بن جائے گی،خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار حکومت بنائیں گے،

    وزیراعظم ن لیگ کا ہو گا، لیکن ہو گا کون؟ نواز شریف یا شہباز شریف؟اس حوالہ سے قوی امکان ہے کہ وزیراعظم شہبا ز شریف ہوں گے،الیکشن سے ایک د ن قبل شہباز شریف نے کہا تھاکہ اگر سادہ اکثریت ملی تو نواز شریف وزیراعظم ہوں گے او ر سادہ اکثریت نہ ملی تو پھر پارٹی مشاورت کرے گی،اب ن لیگ نے فیصلہ کرنا ہے کہ وزیراعظم کا امیدوار کون ہو گا،

    پنجاب میں مریم نواز وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہیں، قوی امکان ہے کہ وہی وزیراعلیٰ نامزد ہوں گی، مریم نواز قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ دیں گی جس پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہوں گے،سندھ میں سابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور فریال تالپور کا نام سامنے آ رہا ہے،خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے، بلوچستان میں کون وزیراعلیٰ آتا ہے اس بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ،پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کانام وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آ سکتا ہے.

    تحریک انصاف کے آزاد امیدوار اس وقت قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ ہیں،تحریک انصاف ہٹ دھرمی نہ دکھاتی تو پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنا سکتی تھی اور مستقبل میں کیسز ختم کروا سکتی تھی تا ہم تحریک انصاف نے غلط فیصلہ کیا اور ایسے لگ رہا کہ آنیوالے دنوں میں اب تحریک انصاف کے خلاف مزید کریک ڈاؤن ہوں گے اور مزید سختیاں آنیوالی ہیں، عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس اور نومئی کے مقدمات کا فیصلہ آنا بھی باقی ہے.

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    عام انتخابات 2024 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 93 نشستیں لے کر سب سے آگے ہیں جب کہ مسلم لیگ ن 75 اور پیپلز پارٹی نے اب تک 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17، دیگر آزاد امیدوار 8، مسلم لیگ (ق) 3، جمعیت علمائے اسلام 4، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2، 2 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشل عوامی پارٹی پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں ایک ایک نشست آئی۔

  • لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیر اعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھی اس کام میں ملوث ہیں انکو پھانسی ہونی چاہیے، عام طور پر ایک بار پھانسی ہوتی ہے ان کیسسز میں ملوث افراد کو دو دفعہ پھانسی ہونی چاہیے،ابھی نگران وزیراعظم کو طلب کرتا ہوں اور پھر منتخب وزیراعظم کو بھی طلب کرونگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں اس کیس میں مزید وقت درکار ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تو میری مہربانی ہے کہ میں دونوں ڈی جیز کو نہیں بلا رہا،عدالت نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو پیر کے روز صبح طلب کرلیا

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ بلاول یا شہباز، سیاسی جماعتیں متحرک،اجلاس طلب

    کون بنے گا وزیراعظم؟ بلاول یا شہباز، سیاسی جماعتیں متحرک،اجلاس طلب

    عام انتخابات، کون بنے گا وزیراعظم؟ کس کی بنے گی حکومت، جوڑ توڑ ، رابطے جاری، پانچ دن گزر گئے سیاسی جماعتیں کسی فیصلے پر متفق نہ ہو سکیں،ن لیگ حکومت بنانے کے لئے مسلسل سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے،پیپلز پارٹی کا آج دوسرے دن بھی اجلاس ہو گا وہیں جے یو آئی کا اجلاس بھی آج ہو گا

    اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، ایم کیو ایم رہنما بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اسلام آباد میں موجود ہے، ، نواز شریف بھی آج مریم نواز کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے،مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت بھی اسلام آباد پہنچیں گے،چوہدری شجاعت حسین کی اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات ہو گی،پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کے ساتھ ملاقاتوں کا امکان ہے،ملاقاتوں میں حکومت سازی اور اتحاد بنانے سے متعلق امور پر بات چیت ہوگی

    ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان رابطہ ہوا ہے،دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کے مابین آج شام مشاورت کا امکان ہے،رابطے میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے حوالے سے گفتگو کی گئی،ایم کیو ایم پاکستان کا وفد آج شام مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرے گا،ملاقات میں پاور شئیرنگ فارمولے، کراچی کے امور پر بات ہو گی،

    گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شراکت اقتدار سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوا جس کے بعد اجلاس آج سہ پہر تین بجے پھرہو گا،اسلام آباد میں اجلاس کے بعد شیری رحمان نے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے، پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے رابطہ کمیٹی بنائے گی جس کے ناموں کا اعلان آج کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق چاروں صوبوں میں تحفظات ہیں، اجلاس میں بہت سی تجاویز آئیں، آج حتمی فیصلہ کریں گے

    ن لیگ کی کوشش ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلاول وزیراعظم بنیں تا ہم ایک دوسر ے سے اتحاد کئے بغیر وزیراعظم کوئی بھی نہیں بن سکتا شہباز شریف نے الیکشن سے ایک روز قبل کہا تھا کہ کہ اگر سادہ اکثریت نہ ملی تو نواز شریف وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہوں گے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ ن لیگی وفد بلاول ہاؤس گیا جس میں شہباز شریف، ملک احمد خان و دیگر شامل تھے، وفد نے آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات کی، آصف زرداری نے ن لیگی وفد سے کہا کہ ہماری شرط ہے کہ بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے، وفاق میں وزارتیں دی جائیں ،پنجاب آپ رکھ لیں، اگر ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پنجاب او ر بلوچستان کی وزارت اعلیٰ ہمیں دے دیں، ہم آپ کے وزیراعظم کوووٹ دے دیں گے،اب دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا، دونوں کے اعلامیہ میں فرق تھا، ن لیگ نے کہا ساتھ چلنے کو تیار ہیں ،پیپلز پارٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کریں گے پھر بتائیں گے،

    سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کا امکان زیادہ ہے، تحریک انصاف کے مزید ارکان اپنی وفاداریاں تبدیل نہیں کریں گے، حلقے کے عوام لوٹوں کا جینا دوبھر کردیں گے، فیصل واوڈا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جو آزاد اراکین عدالت میں جا رہے ہیں ان میں سے سات آٹھ سیٹیں واپس مل جائیں گی باقی کچھ نہیں ہو گا.

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا نام وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر سامنے آ رہا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت ہے، تو مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گی، تاہم گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے اجلاس میں یہ باز گشت سنائی دی کہ مریم نوازممکنہ طور پر وزیر خارجہ بننا چاہ رہی ہیں، پیپلز پارٹی اجلاس میں یہ تجویز بھی آئی کہ تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے، یہ تجویز ندیم افضل چن نے پیش کی جس کی کسی نے مخالفت نہیں کی، پیپلز پارٹی کا اجلاس آج پھر دوبارہ ہو گا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں.

    حالیہ عام انتخابات پر جمعیت علمائے اسلام ف کے تحفظات،جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء ونظماء کا اہم اجلاس آج ہوگا،جے یو آئی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا،اجلاس کی صدرات جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے۔اجلاس میں قومی انتخابات کا تفصیلی جائزہ لیا جائےگا،اسمبلیوں میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے سے متعلق فیصلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے،جے یو آئی ایف اجلاس میں حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھنے پر بھی غور کرے گی،اجلاس میں صوبائی جماعتیں انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں گی

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    پنجاب میں ن لیگ کی ہی حکومت بنے گی، احسن اقبال
    سینئر ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کریں گے،ان شاء اللّٰہ تعالیٰ 2024 سے 2029 کا سفر پاکستان میں ترقی کا سفر ہو گا، نوجوانوں کو بہترین ہنر دیں گے اور ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے، مسلم لیگ ن کو پنجاب میں بھرپور مینڈیٹ حاصل ہوا ہے، اپنی حکومت قائم کریں گے

    بدقسمتی سے ملک میں کسی کو بھی واضح مینڈیٹ نہیں ملا،مصدق ملک
    مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک کا کہنا ہے کہ ہماری توقعات سے بہت کم نشستیں ملیں، سروے بتا رہے تھے 85 اور 100 کے قریب نشستیں ہوں گی،بدقسمتی سے ملک میں کسی کو بھی واضح مینڈیٹ نہیں ملا، خواہش اور کوشش تھی کسی ایک پارٹی کو واضح مینڈیٹ ملے، ہمیں مینڈیٹ نہیں ملا ہمیں بھی بہت افسوس ہے،سوچنا چاہیے ہم میں کس وجہ سے خوش فہمی ہوئی، جتنے سروے ہو رہے تھے ان سے ہماری نشستیں کم آئیں،سینیٹ میں الیکشن ہوا تو ہم سے نشان لے لیا گیا تھا، ہمیں کہا گیا کسی اور پارٹی کو جوائن کر لیں لیکن کوئی نہیں گیا، پی ٹی آئی کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں شکست کا اعتراف کرنا چاہیے، ہم پہلا قدم اٹھا چکے ہیں، حکومت میں تھے تو شہباز شریف نے میثاق جمہوریت کے لیے کہا تھا،پی ٹی آئی حکومت کے وقت بلاول نے بھی کہا تھا قدم اٹھاؤ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس وقت بانی پی ٹی آئی نے کہا مر جاؤں گا بات نہیں کروں گا.

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ جوڑتوڑ میں تیزی، اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز

    کون بنے گا وزیراعظم؟ جوڑتوڑ میں تیزی، اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز

    کون بنے گا وزیراعظم؟ کس کی بنے گی حکومت، جوڑ توڑ ، رابطے جاری، ن لیگ حکومت بنانے کے لئے مسلسل سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے،شہباز شریف کی گزشتہ شب بلاول ہاؤس میں آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات ہوئی تو آج مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ٹیلی فون کیا ہے۔

    حکومت سازی،نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کو طیارہ بھیجنے کی پیشکش،مولانا کی معذرت
    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومت سازی سے متعلق تبادلہ خیال ہوا،نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت سازی کے لئے مشاورت میں شرکت کی دعوت دی اور لاہور آنے کے لئے خصوصی طیارہ بھیجنے کی پیشکش کی، تاہم مولانا فضل الرحمان نے انتہائی نرمی کے ساتھ مشاورت میں شرکت سے معذرت کر لی،
    اس سے قبل شہباز شریف دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر چکے تھے تا ہم مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا تھا ، جے یو آئی نے آج انتخابی نتائج پر اپنا اجلاس طلب کر رکھا ہے، سندھ میں جے یو آئی انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تو وہیں بلوچستان کے بارے بھی جے یو آئی کا کہنا ہے کہ ہم سے سیٹیں چھین لی گئی ہیں

    وفاق میں 3 سال مسلم لیگ ن اور 2 سال کیلئے پیپلز پارٹی،حکومت سازی پر اتفاق
    مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی پر بڑی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے ہو گیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکز میں حکومت سازی کے لیے دو نکاتی فارمولے پر اتفاق کیا گیا ہے،مرکز میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا پہلے تین سال کے لیے وزیراعظم ہو گا،آخری دو سال کے لیے دوسری جماعت اپنا وزیراعظم لائے گی،پیپلز پارٹی نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے لیے مریم نواز کی حمایت کی یقین دہانی کرا دی،مرکز میں تین سال اور دو سال کا فارمولہ طے پا گیا،حتمی فیصلے دونوں بڑی جماعتوں کی مرکزی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں لیے جائیں گے.حکومت سازی کا فارمولہ طے پا جانے کے بعد آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو ن لیگ مخالف بیانات سے روک دیا، آصف زرداری نے ہدایت کی کہ حکومت سازی سے قبل ن لیگ پر تنقید نہ کی جائے، ، ن لیگ سے متعلق شائستگی کا مظاہرہ کیا جائے،

    ن لیگ کی کوشش ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلاول وزیراعظم بنیں تا ہم ایک دوسر ے سے اتحاد کئے بغیر وزیراعظم کوئی بھی نہیں بن سکتا شہباز شریف نے الیکشن سے ایک روز قبل کہا تھا کہ کہ اگر سادہ اکثریت نہ ملی تو نواز شریف وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہوں گے،

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے انتخابی نتائج سامنے آئے ، جس کے مطابق وفاق میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں، اسی لئے ن لیگ نے رابطے شروع کئے،الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر قومی اسمبلی کے 264 حلقوں کے نتائج جاری کئے ہیں،قومی اسمبلی میں آزاد امیدوار سب سے آگے ہیں، 101 سیٹیں آزاد امیدوار لے اڑے جن میں سے 93 تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ہیں، ن لیگ کے پاس 75 اراکین ہیں،پیپلز پارٹی نے 54 نشستیں جیت لیں، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17 نشستوں پر کامیاب ہوئی،مسلم لیگ ق اور جے یو آئی تین تین نشستوں پر کامیاب ہوگئی جبکہ استحکام پاکستان پارٹی نے دو اور مجلس وحدت المسلین، مسلم لیگ ضیاء اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایک ایک نشست جیت لی ہے۔

    نواز شریف اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان، چودھری شجاعت سے ملیں گے
    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی آج اسلام آباد روانگی متوقع ہے، مریم نواز بھی نواز شریف کے ہمراہ اسلام آباد جائیں گی،نواز شریف اسلام آباد میں چوہدری شجاعت سے ملاقات کریں گے, آئندہ حکومت بنانے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی،نواز شریف ملاقات میں چوہدری شجاعت کو اعتماد میں لیں گے,نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان بھی ملاقات متوقع ہے،اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے بڑے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے,پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی آج اسلام آباد میں ہوگا, پیپلز پارٹی کے قائدین مسلم لیگ ن کی تجاویز کے حوالے سے سی آئی سی ممبران سے رائے لیں گے,

    مسلم لیگ ن نے مرکز و پنجاب میں حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں،صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف آج آزاد اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے،17 کے قریب کامیاب آزاد امیدواران شہباز شریف سے ملاقات کریں گے،آذاد امیدواران ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کی حمایت کا اعلان کریں گے،گزشتہ روز مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات بھی کی، لاہور سے جیتنے والے ایک آزاد امیدوار ن لیگ میں کل شامل ہوئے،

    ن لیگ کو وزیراعظم کا ووٹ دیکر اپوزیشن میں بیٹھ سکتے ہیں، فیصل کریم کنڈی
    دوسری جانب پیپلز پارٹی جنہوں نے وزارت عظمیٰ ن لیگ سے مانگی ہے، کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ہم ن لیگ کو وزیراعظم کا ووٹ دے کر بھی اپوزیشن میں بیٹھ سکتے ہیں، گزشتہ روز ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ملاقات میں بات چیت ہوئی، عددی برتری تو آزاد امیدواروں کو بھی حاصل ہے،بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار ہیں، سی ای سی کے سامنے تجاویز رکھی جائیں گی، فیصلہ سی ای سی میں ہو گا، اگر پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو وزیراعظم نہیں بنتے تو پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو آتی ہے تو میرے خیال میں اچھے طریقے سے نہیں چل سکتے، ہم ن لیگ کی پنجاب میں حمایت کرتے ہیں تو ن لیگ بلوچستان میں ہماری حمایت کرے.

    ایم کیو ایم پاکستان کا وفد آئندہ کی حکمت عملی کے لئے اسلام آباد روانہ ہو گیا،متحدہ قومی موومنٹ کا وفد خالد مقبول کی سربراہی میں اسلام آباد پہنچے گا،ایم کیو ایم وفد میں خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفٰی کمال شامل ہیں،ایم کیو ایم کا وفد اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرے گا،ایم کیو ایم کا وفد مسلم لیگ ن کی سفارش پر بھی لیگی رہنماؤں سے ملاقات کریگا

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    سندھ میں پی پی کا تیر چل گیا،نتائج مکمل،پیپلز پارٹی84 سیٹیں لے اڑی

    آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    قومی وصوبائی855 میں سے 831 نتائج،آزاد 335 سیٹیں،ن لیگ 216 لے اڑی

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    تخت لاہور،لطیف کھوسہ، میاں اظہر ،وسیم قادر کی جیت،شہباز،حمزہ،مریم،ایازصادق کی بھی جیت

    پنجاب،عمران نذیر،سلمان رفیق،میاں اسلم اقبال،بلال یاسین جیت گئے، رانا مشہود کو شکست

    انتخابی نتائج،آزاد امیدوار وں کا پلڑا تاحال بھاری، ن لیگ دوسرے نمبرپر

    تحریک انصاف کیلیے اچھی خبر، مخصوص نشستوں کا حصول آسان ہو گیا

    آزاد امیدوار ابھی تک آگے،مگر نواز شریف کو حکومت بنانے کی جلدی

    مانسہرہ سے نواز شریف جیت چکے ہیں،اسحاق ڈار کا دعویٰ