Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • کابینہ میں اضافہ۔ شاہ اویس نورانی بھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی مقرر

    کابینہ میں اضافہ۔ شاہ اویس نورانی بھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی مقرر

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد مزید تین معاونین خصوصی کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شاہ اویس نورانی، ڈاکٹرجہانزیب خان اور ظفرالدین محمود وزیراعظم کے معاونین خصوصی ہوں گے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ تینوں معاونین خصوصی کا درجہ وزیرمملکت کے برابر ہوگا۔

    اس سے پہلے 8 جون کو بھی وزیراعظم شہباز شریف نے جنید انوار چودھری، سینیٹر حافظ عبدالکریم، شیخ فیاض الدین اور رومینہ خورشید کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا تھا ۔

    طارق فاطمی، محمد صادق، سید فہد حسین اور شزہ فاطمہ کو پہلے ہی معاون خصوصی مقرر کیا جا چکاہے۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ ارکان کی تعداد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مزید تین معاونین خصوصی مقرر کردیے جس کے بعد کابینہ کی تعداد 55 ہوگئی ہے۔ عمران خان کی کابینہ کی تعداد 52 تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے تین نئے معاون خصوصی تعینات کر دیئے۔وزیراعظم نے اویس نورانی ،محمد جہانزیب خان اور ظفرالدین محمود کو معاون خصوصی تعینات کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں معاونین خصوصی کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کے 4 مشیر ،6 وزیر مملکت اور 34 وفاقی وزیر ہیں۔ اس طرح کابینہ کی تعداد 55 ہوگئی ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ معاونین خصوصی، مشیر ، وزرائے مملکت اور وفاقی وزرا کی کل تعداد 52 تھی جس پر جب موجودہ حکمران اپوزیشن میں تھے تو تنقید کرتے تھے لیکن اپنی حکومت آنے پر اب کابینہ 55 رکنی کرلی ہے۔

  • بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں،وزیر اعظم

    بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بیرون ملک پاکستانیوں کو اظہار تشکر اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کی مکمل حمایت اور سرپرستی کر رہی ہے۔

    عامر لیاقت کی خالی نشست پرضمنی انتخابات کے شیڈول پر عملدرآمد شروع


    انہوں نے کہا کہ ایک دن میں 57 ملین ڈالر پاکستان بھجوا کر اوورسیز پاکستانیوں نے نیا ریکارڈ قائم کیا اور ایک دن میں سب سے زیادہ 57 ملین ڈالر اسٹیٹ بینک کو موصول ہوئے ہیں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع کرائی جانے والی رقوم کا حجم 4.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے ایک دن میں ریکارڈ رقوم بھجوانے پر بیرون ملک پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    دریائے جہلم میں طغیانی،سیلاب سے متعلق الرٹ جاری

    شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی ہمیشہ ملکی معیشت کی مضبوطی اور بہتری میں کردارادا کرتے ہیں موجودہ معاشی مشکلات کے بھنور سے نکل کر آپ کی امیدوں اور توقعات پر پورا اتریں گے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے حکومت متعدد اقدامات کر رہی ہے۔

    بھارت میں گستاخانہ بیانات: پاکستان نےمعاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا


    دوسری جانب اسٹیٹ بینک پاکستان نے کہا کہ آج روشن ڈیجیل اکاؤنٹ میں ایک اور تاریخی دن ہے، جس میں $57mn ڈپازٹ جمع ہوئے، جو کہ روزانہ کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس نمایاں اضافے کے ساتھ، RDA میں کل ڈپازٹس $4.5bn سے تجاوز کر گئے ہیں-


    علاوہ ازیں ٹوئٹ میں واضح کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے کچھ افواہیں سنی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ SBP کے ذخائرختم ہو گئے ہیں یا قابل استعمال نہیں ہیں، کہ اسٹیٹ بینک نے درآمدی ادائیگیاں روک دی ہیں، اور یہ کہ بینکوں کے پاس امریکی ڈالر ختم ہو چکے ہیں۔


    ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ 10 جون 2022 تک، ایس بی پی کے مائع غیر ملکی ذخائر $8.99 بلین تھے۔ ان میں سونے کے ذخائر شامل نہیں ہیں، اور یہ تمام مقاصد کے لیے مکمل طور پر قابل استعمال ہیں۔


    واضح کیا گیا ہے کہ ایس بی پی نے درآمدی ادائیگیاں نہیں روکی ہیں اور کمرشل بینکوں کے پاس ان ادائیگیوں کو انجام دینے کے لیے کافی $لیکویڈیٹی ہے۔ درحقیقت، اس ماہ کے دوران اب تک تقریباً 4.7 بلین امریکی ڈالر کی درآمدی ادائیگیاں انٹربینک مارکیٹ کے ذریعے کی جا چکی ہیں۔

  • ضرورت پڑی تو مزید مشکل فیصلےکریں گے، وزیراعظم

    ضرورت پڑی تو مزید مشکل فیصلےکریں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے موجودہ حالات کسی چیلنج سے کم نہیں ، اتحادیوں سےمل کر ملک کو مشکلات سےنکالیں گے، ضرورت پڑی تو مزید مشکل فیصلےکرنا پڑے تو کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں، اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ہے، پہلا بجٹ ہے جب امیروں پر ٹیکس اور غریبوں کو ریلیف دیا گیا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا اگلا دور آج اور کل رات کو ہوگا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امید ہے آئی ایم ایف سے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، جلد معاشی بحران پر قابو پالیں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سیاسی بنیادوں پر تقرر و تبادلوں کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ ہم کچھ عرصے کےلیے آئے ہیں ہمیں کام کرنا چاہیے،ہمیں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔

    کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہمیں بڑا معاشی چیلنج ملا، گزشتہ حکومت نے پٹرول کی قیمت کم کرکے آنے والی حکومت کےلیے جال بچھایا، دنیا میں معاشی صورت حال گمبھیر ہے، قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجبوراً پٹرول کی قیمتیں بڑھانا پڑیں، 7 کروڑ لوگوں کو ریلیف فراہم کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، انہیں 2 ہزار روپے مہینہ دیا جارہا ہے، امید ہے ٹیکس کی ادائیگی میں امیر طبقہ اس مشکل وقت میں قوم کا ساتھ دےگا، مشکل فیصلے مزید بھی کرنے پڑے تو کریں گے، بجٹ میں امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے ساڑھے 3 سال عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہ کیا، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی کی، مشکلات ہیں لیکن ہم سب مل کر محنت کریں گے اور پاکستان کو مشکل سے نکالیں گے۔

    علاوہ ازیں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے وزیراعظم نے کابینہ کو اعتماد میں لیا وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیرمملکت حنا ربانی کھر نے کابینہ کو بریفنگ دی،حکومت ملک کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے بھرپور کوشش کررہی ہے،امید ہے پاکستان کا گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں جانے کا راستہ کلیئر ہوجائے گا، کابینہ میں کسانوں کے لیے یوریا کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی بات ہوئی کابینہ نے ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کی نظر ثانی کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،دنیا میں تمام سپلائی چین یوکرین وار کی وجہ سے بحران کا شکار ہے، پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک کو مشکلات کا سامنا ہے، کابینہ نے جی ایس پی پلس معاہدے کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا،جی ایس پی پلس پاکستان اور ای یوکے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے اہم ہے،

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی،آرمی چیف کی نگرانی میں ایک سیل بنایا گیا تھا، وفاقی کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی کاوشوں کو سراہا گیا،

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ غریب کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے.

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ہے ۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلا بجٹ ہے جب امیروں پر ٹیکس اور غریبوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا اگلا دور آج اور کل رات کو ہوگا،مذاکرات میں پیش رفت ہو گی ۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے آج ہوئے اجلاس میں کابینہ نے سکوک بانڈز جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔ سکوک بانڈز سے مقامی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو گا۔

  • تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات
    یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی دن تھا جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قومی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے صدر کو وزیراعظم کا مشورہ بھی واپس کر دیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ کروں تو حتمی فیصلہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے اسے جمہوریت اور عدلیہ کی فتح قرار دیا کیونکہ عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کیا اور نظریہ کو دفن کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سب نے دیکھا کہ اپوزیشن حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور بعد میں نے اسمبلی کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔

    اب پی ٹی آئی کے حامی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاس کیا آپشن رہ گئے ہیں، اپوزیشن کے اقدام کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے ہے۔ تاہم، شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ تنقید کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی اب بھی اسمبلی میں نمبر گیم کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ اب تک متحدہ اپوزیشن عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیت منا رہی ہے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا اور اسے حکومت کی تبدیلی قرار دیا گیا۔کئی سیاسی تجزیہ کار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لیٹر گیٹ کا معاملہ حقیقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ذمہ دار عہدے سے کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کی تردید نہیں کی۔لہٰذا، ایک بات یقینی ہے ایک خاص قسم کی سازش تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بہت سے مواقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو لیٹر گیٹ کے معاملے پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر کے دوران کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی اور اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی غیر ملکی سازش کی تصدیق ہوئی تو وہ پریمیئر شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ لیٹر گیٹ سکینڈل پر تشویش ہے۔ میں اسے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا سیاسی سٹنٹ کہوں گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی جمہوریت میں اپنی سیاسی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کیوں اور کیسے ناکام رہی؟

    میرے خیال میں پہلے تو یہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہوا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بزدار حکومت سویلین بیوروکریسی کو تبدیل کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں نے اسے سیاسی پختگی کا فقدان اور حکومتی امور چلانے میں تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری قرار دیا۔دوسرا، یہ مہنگائی، ناقص گورننس، اصلاحات کا فقدان، عمران خان کی اشتعال انگیز سیاست، اور بہت سے سماجی مسائل تھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزارت دفاع میں اہم تقرریوں کے معاملات تھے جنہیں کسی نہ کسی طرح حکومت نے غلط طریقے سے سنبھالا تھا۔ اسی طرح خراب معاشی حالات بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے کمزور ہونے کی ایک وجہ تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ان کو سیاسی الزامات قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔

    فی الحال، پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کھو بیٹھی اور متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھال لیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سیاسی صورتحال کی وجہ سے بدل رہی ہے، بین الاقوامی کرنسی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بیرونی ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام کے منتظر ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو کئی علاقائی مسائل پر سفارتی طور پر شامل کر سکیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی اور آئندہ جو کچھ ہے وہ آنے والی حکومت کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔

    قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بنائی گئی حکومت تقریباً دس چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے لیے حکومتی امور کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔۔مسائل کی بات کی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو حل کرنا ہوگا۔ گورننس سے مہنگائی تک، امن و امان سے لے کر دہشت گردی تک، معاشی بحران سے آئی ایم ایف تک، اور بہت کچھ۔ کاش نئے وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’بھکاری سلیکٹرز نہیں ہو سکتے‘ آخر میں ایک اور بات جو سیاسی نظام کے لیے طنزیہ ہے وہ یہ کہ ایک شخص جو عدالتوں سے ضمانت پر رہا اور جس کے کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جیسا کہ لیڈر اپنی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پاکستان میں ایک فرد ہونے کے ناطے ہر ایک کو اپنے ضمیر پر نظر ثانی کرنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا لیڈر کون ہوگا اور کوئی بھی قوم بین الاقوامی میدان میں اپنی عزت کیسے پیدا کرتی ہے۔

  • وزیراعظم کا آرمی چیف اور وفاقی وزراء کو فون،فاٹف میں پاکستان کی کوششوں پر مبارکباد دی

    وزیراعظم کا آرمی چیف اور وفاقی وزراء کو فون،فاٹف میں پاکستان کی کوششوں پر مبارکباد دی

    وزیراعظم شہباز شریف کا فاٹف کی شرائط مکمل ہونے پر پاکستان کی کامیابی پر تمام متعلقہ عہدیداروں کو فرداً فرداً ٹیلی فون کیا اور پاکستان کی اہم کامیابی پر مبارک دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا وزیراعظم نے فاٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کانام نکلنے کے عمل پر کوششوں کو سراہا ، وزیراعظم شہباز شریف کا بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ٹیلی فون کیا اور انہیں فاٹف کی گرے لسٹ سے متعلق شرائط مکمل ہونے کے اعلان پر مبارک دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ‘کور سیل’ کے قیام کے آرمی چیف کے فیصلے کو بھی سراہا،وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘کور سیل’ میں شامل سول اور ملٹری قیادت اور ٹیم کو شاباش دیتا ہوں، پاکستان کی جیت کے لئے کام کرنے والے ٹیم کے ہر فرد پر قوم کو فخر ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر کو بھی ٹیلیفون کیا ،وزیر اعظم نے وزیر خزانہ، وزیر مملکت خارجہ اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور شاباش دی.

    قبل ازیں بھی وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو فاٹف کی شرائط پوری ہونے اور وائٹ لسٹ میں پاکستان کی واپسی کی راہ ہموار ہونے کی مبارک باد دی ہے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ‘ٹیم پاکستان’ کو مبارک ہو جس نے پاکستان کے لئے کامیاب کاوش کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکلوانے کی قومی کاوش کرنے والی تمام سول اور ملٹری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی مبارک دیتا ہوں، ان کی قیادت میں ٹیم کو یہ اہم کامیابی ملی ، عسکری قیادت کو فاٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے کے عمل پر مبارک، پاکستان کو حاصل ہونے والی اس بڑی کامیابی پر آپ کی کاوشوں کو سراہتا ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جی ایچ کیو میں آرمی چیف کے قائم کردہ ‘کورسیل’ نے پاکستان کی اس اہم کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ،اکتوبر میں فائف ٹیم کے دورے کے بعد پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل جائے گا گرے لسٹ سے پاکستان کا نکلنا نیک شگون ہے، آنے والے وقت میں پاکستان کو مزید کامیابیاں ملیں گی، ان شاءاللہ جس ٹیم ورک اور جذبے سے گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے کی کوشش ہوئی، یہی قومی کاوش معیشت کی بحالی کے لئے بھی کر رہے ہیں قوم کو مایوسی، ناامیدی اور معاشی ابتری سے نکال کر تعمیر، ترقی اور خوشحالی کی طرف واپس لے کر آئیں گے، ان شاءاللہ

    خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تمام شرائط مکمل کرلی ہیں، پاکستان نے 34 آئٹمز پر مبنی اپنے دو ایکشن پلان مکمل کر لیے ہیں، پاکستان کا دورہ کر کے شرائط کی تکمیل کی تصدیق کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر ڈاکٹر مارکس نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا، اسلام آباد نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔ ٹیم جلد دورہ کرے گی۔

    ایف اے ٹی ایف کا چار روزہ اجلاس منگل کو جرمنی کے شہر برلن میں شروع ہوا، ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین مکمل اجلاس میں شرکت کی، مبصرین میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس شامل تھے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے برلن میں ہونے والے اجلاس کے اختتام کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران صدر ایف اے ٹی ایف ڈاکٹر مارکس نے بتایا کہ پاکستان نے دیئے گئے اہداف مکمل حاصل کر لیے ہیں۔ یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھا ہو گا، گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے تمام پوری شرائط پوری کر دی ہیں، ایف اے ٹی ایف کا وفد کورونا کی صورتحال دیکھ کر جلد پاکستان کا دورہ کرے گا، ہماری ٹیم دورہ کے دوران تمام اقدامات کا جائزہ لے گی، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکال پرعملدرآمد کر لیا۔ بھی و

  • کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی کابینہ نے لاپتہ افرادکے معاملے پر وزرا کی کمیٹی تشکیل دی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے گزشتہ آرڈر میں کیا لکھا تھا وہ ذرا پڑھ کر بتائیں،آرڈر میں لکھا تھا کہ لاپتہ افرادکو بازیاب کر کے پیش کیا جائے، وہ کہاں ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ تحقیقاتی ادارے اپنی کوشش کر رہی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کو کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں، بتائیں عملدرآمد کیا ہوا ہے؟ وفاقی حکومت کا ایکشن کدھر ہے ؟عدالت آئی واش نہیں مانے گی ،اب بھی روزانہ لوگ اٹھائے جا رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، وفاقی حکومت ، پرویز مشرف اور بعد کے تمام وزرائے اعظم کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا تھا،وہ نوٹسز اور بیان حلفی کدھر ہیں؟ یہ اہم ترین معاملہ ہے اور اس میں ریاست کا یہ رویہ ہے،کیا وفاقی حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کی میٹنگز ہوئی ہیں؟ حکم دیا تھا کہ حکم پر عمل نہیں ہوتا تو موجودہ اور سابقہ وزرائے داخلہ پیش ہوں،وزرائے داخلہ کدھر ہیں؟ کیا یہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟ کیا یہ اچھا لگے گا کہ یہ عدالت چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے؟ تمام حکومتیں آئین اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئی کوششیں نہیں کی جا رہیں، حکم دیا تھا کہ لاپتہ افراد کی کی مشکلات عوام تک پہنچانے کیلئے اقدامات کیے جائیں،وفاقی حکومت نے پیمرا کو ڈائریکشن جاری کی ہے؟ نمائندہ وزارت اطلاعات نے عدالت میں کہا کہ براہ راست پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کو لکھ دیا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل کریں،عدالت نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کتنے پروگرامز ہوئے ہیں؟اس عدالت کے ساتھ گیم نہ کھیلیں، کس چیز کی گھبراہٹ ہے؟ وفاقی کابینہ نے کمیٹی بنائی گو کہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کوئی اقدام تو اٹھایا گیا،یہ عدالت ان جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائے؟ یا تو یہ بتا دیں کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے،یہ جتنے کیسز ہیں ان میں کسی ایک کا بھی بتا دیں کہ اسے کس نے اٹھایا ہے؟

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر دفاع کو نوٹس جاری کرنا چاہیے؟ جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کس کے ماتحت ہے؟ یا تو وزیراعظم کہہ دیں کہ وہ بے بس ہیں،اگر وزیراعظم بے بس نہیں تو آئین انہیں ذمہ دار ٹھہراتا ہے وزیراعظم کو پھرعدالت میں یہ کہہ دینا چاہیے تاکہ کورٹ کسی کے خلاف کارروائی کرے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئندہ سماعت تک وقت دے اٹارنی جنرل خود عدالت کی معاونت کرینگے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو جو اس عدالت کے آرڈر کے ساتھ کیا اس کے بعد تو کچھ کہنا بنتا ہی نہیں، اختلاف نہیں کہ لوگ خود چلے جاتے ہیں لیکن ریاست کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، اس ملک میں ماورائے عدالت قتل کیے جاتے رہے ہیں، پولیس کیا کرتی رہی ہے،عدالت نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان کب تک وطن واپس آجائیں گے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ممکنہ طور پر 10 دن میں وطن واپسی ہوجائے گی،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل 25 مئی کے عدالتی آرڈر پر عمل درآمد سے متعلق مطمئن نہیں کر سکے،لاپتہ افراد سے متعلق کابینہ کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا ،وفاقی حکومت بادی النظر میں عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کر کے ناکام رہی عدالت پرظاہر ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کا معاملہ سیریس نہیں لیا،وزرات داخلہ 25 مئی کے اس عدالت کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے، کیس میں مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا فریقین آئندہ سماعت تک دلائل دیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • وزیراعظم سےسیالکوٹ کےصنعتکاروں کی ملاقات،مسائل کے حل کی یقین دہانی

    وزیراعظم سےسیالکوٹ کےصنعتکاروں کی ملاقات،مسائل کے حل کی یقین دہانی

    وزیر اعظم شہباز شریف سے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے وفد کی وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات۔

    وزیر اعظم نے تمام وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ سیالکوٹ کی کاروبار برادری اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، تاکہ سیالکوٹ کی موجودہ 2.5 ارب ڈالر کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس سلسلے میں تمام وسائل کو بطریق احسن بروۓ کار لانے کی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے حکام کو ہدایات جاری کیں کہ سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کے لیے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے سیکٹر سپیسیفک کونسلز کے قیام، سیالکوٹ انڈسٹریل زون اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنایا جاۓ تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک سے برآمدی شعبے کے لیے درکار خام مال کا زیادہ سے زیادہ حصہ ملکی سطح پر تیار کر کے قیمتی زر مبادلہ بچایا جا سکے۔

    مزید برآں انہوں نے کراچی، لاہور اور سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں میں ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے وزارت ریلوے و ہوابازی کے حکام کو سیالکوٹ کے برآمدکنندگان کو خصوصی کارگو ٹرینز کی فراہمی اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے لیے غیر ملکی کمرشل فلائٹس کی تعداد بڑھانے کے لیے باہمی مشاورت سے قابل عمل پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین کی بحالی پر کام کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    انہوں نے چیف سیکریٹری پنجاب کو سیالکوٹ کی شاہراہوں، خصوصا سیالکوٹ-پسرور روڈ اور دیگر انفراسٹرکچر کے منصوبےبشمول فلائی اوور اور انڈر پاس کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری پنجاب کو جدید فنی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کرنے کے لیے سیالکوٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کے قیام اور سیالکوٹ میں سیف سٹی پراجیکٹ جلد شروع کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

    ملاقات میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اعلی سرکاری حکام کی شرکت۔

    چیف سیکرٹری پنجاب اور گورنر سٹیٹ بینک نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

  • وزیراعظم کا خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم

    وزیراعظم کا خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم

    وزیراعظم کا خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم

    وزیراعظم شہباز شریف نے رشکئی میں اقتصادی زون کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی خصوصی اقتصادی زون کا یہ میرا پہلا دورہ ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر ترقیاتی کام جاری ہے،رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر چینی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،چینی کمپنیاں پاکستانی کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی سے متعلق معاونت کررہی ہیں خوشی ہے پاکستان اورچین ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم ظاہر کیا،اور کہا کہ چھوٹے صوبوں میں اقتصادی زون کی تکمیل ہماری ترجیح ہے،پاکستان اور چین نے ماضی میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا آگے بھی بہترین کام کریں گے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے آج رشکئی خصوصی اقتصادی زون (SEZ)کا دورہ کیا اور اس حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی جناب احسن اقبال ,وفاقی وزیر مواصلات جناب اسد محمد , وفاقی وزیر براے اوور سیز پاکستانیز جناب ساجد توری, وزیراعظم کے مشیر جناب امیر مقام, پاکستان میں چینی سفارتخانے کی ناظم الامور چینی کمپنی کے نمائندوں اوراعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی . اجلاس کو رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر جاری کام کے حوالے سے بریفنگ دی گیئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون 1000ایکڑ پر محیط ہے.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ رشکئی SEZ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منجمنٹ کمپنی KPEZDMC اور CRBC (ایک سرکاری چینی انٹرپرائز) کےتعاون سے SPV یعنی رشکئی اسپیشل اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ آپریشنز کمپنی کے ذریعے بنایا جا رہا ہے- اس کمپنی میں KPEZDMC کے 9% اور CRBC کے 91% شیرز ہیں . جو اس نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔ چینی کمپنی اس SEZ کے آپریشنز کی ذمہ دار ہیں۔ رشکئی SEZ میں لائٹ انجینئرنگ، آٹو موٹیو، کنسٹرکشن اور فوڈ پروسیسنگ اور برامدات کو مد نظر رکھتے ہوئے شعبوں کو ہدف بنایا ہے، جس میں مقامی لوگوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرنے اور اقتصادی سرگرمیاں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔
    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ رشکئی SEZمیں پانی کی پائپ لائن بچھانےجبکہ گیس پائپ لائن بچھانےکا کام اور سول ورکس کے تکمیل کے مراحل میں ہیں اجلاس کو مزید بریف کیا گیا کہ رشکئی SEZمیں 2 صنعتی یونٹس تعمیر کا کام جاری ہے جب کہ چند مزیدصنعتی یونٹس کی تعمیر کا آغاز بھی جلد کر دیا جائے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لاینز لمیٹڈ نے زون تک گیس کی فراہمی یقینی بنا دی ہے جبکہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی زون تک بجلی کی فراہمی کے لیے گرڈ اسٹیشن بنا رہی ہے .

    وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ رشکئیSEZ میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے دی گیئں ٹائم لاینز پر سختی سے عمل کیا جائے. وزیراعظم نے مزید ہدایت جاری کی کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی اداروں میں جہاں جہاں ہم آہنگی کی کمی اور مشکلات ہیں انھیں جلد از جلد دور کیا جائے مزید براں نے مزید ہدایت کی کہ چینی کمپنی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے تا کہ خصوصی اقتصادی زون پر کام کی رفتار تیز تر کی جا سکے . وزیراعظم نےکہا کہ ہم سب نے مل کر صنعتی ترقی اور ریونیو بڑھانے کے لیے کام کرنا ہے تاکہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکے. وزیر اعظم نےچینی کمپنیز کو سرمایاکاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کی کمپنیز ایک دوسرے کا تجربات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبوں میں اقتصادی زونز کی تعمیر ہماری ترجیح ہے. وزیر اعظم نےرشکئی SEZ سائٹ کا دورہ بھی کیا اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا.

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورمیں آج منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی
    شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا وزیراعظم شہبازشریف ، وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سمیت تمام ملزمان کی ضمانتیں منظورکر لی گئیں عدالت نے شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں کی توثیق کردی عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 10،10 لاکھ روپےکے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی عدالت نے شریک ملزمان کو 2،2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے تمام ملزمان کو 7روز میں مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی

    وزیراعظم شہباز شریف اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں پیش ہو گئے-عدالت نے شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر کی حاضری لگانے کا حکم دیا ،عدالت نے کہا کہ ملک مقصود کی خبرمیڈیا پر چل رہی ہے وہ فوت ہو گیا ہے، ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ابھی تک ملک مقصود کی وفات کی تصدیق نہیں ہوئی، ہم نے تصدیق کے لیے انٹر پول کو لکھا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ہم پھرملک مقصود کواشتہاری کیسے قرار دیں گے؟ ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ہمیں آفیشل طور پر تصدیق نہیں ہوئی کہ ملک مقصود مر چکا ہے،

    دوران سماعت وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آ گئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرا حق میں اپنی ضمانت سے متعلق عدالت کو حقائق بتاوں،ایف آئی اے کا وہی کیس ہے جو نیب نے بنا رکھا ہے ،میرے اوپر آشیانہ اور رمضان شوگر مل کیس بنائے گئے ، جج نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ ان میں آپکا کوئی شیئر نہیں ہے ؟شہباز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا کوئی شئیر نہیں ہے،آشیانہ کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا میرے کیسز میں لاہور ہائیکورٹ مفصل فیصلہ دے چکی ہے نیب والے میرے خلاف سپریم کورٹ گئے اور نعیم بخاری پیش ہوئے جب نیب عقوبت خانے میں تھادو مرتبہ ایف آئی اے نے تحقیقات کیں،میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ وکلا کی مشاورت کے بعد جواب دوں گا ،میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ زبانی میں جواب نہیں دوں گا ،عدالت میں جب ضمانت کا معاملہ گیا تو 4 ججز نے میرے حق میں فیصلہ دیا،4ججز نے کہا کہ کرپشن منی لانڈرنگ اور بے نامی اثاثوں کے کوئی شواہد نہیں ملے،میرے لیے عزت کی اور کیا بات ہو گی کہ میرٹ پر بری ہوا،پراسیکیوشن نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کا کیس نہیں ہے جب میں اپوزیشن میں تھا تو نیب اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ گیا ہی نہیں اس عدالت میں کیس ٹرانسفر ہونے سے پہلے درجنوں بار پیش ہوا،آپ سے پہلے جج نے سختی کی کہ چالان مکمل کیوں نہیں کرتے یہ 99 اعشاریہ 99 فیصد وہی الزمات ہیں جو نیب نے لگائے میں تنخواہ نہیں لیتا، سی ای او نہیں ہوں، شئیر ہولڈر نہیں ہوں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت میں مزید کہا کہ بطور وزیراعظم پاکستان بھی کچھ گزارشات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں مشتاق چینی والے معاملے پر عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،پنجاب اور سندھ میں گنے کا ریٹ مختلف ہوتا ہے جو حقائق عدالت میں بیان کروں گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا گنے کی قیمت سندھ میں یکایک کم کر دی گئی قیمت کم کرنے سے پنجاب میں کہرام مچ گیا کہ سندھ میں قیمت کم ہو گئی ہے پنجاب شوگر ملز نے مطالبہ کیا کہ سبسڈی دی جائے، میرے خاندان کی بھی ملیں ہیں میں نے کہا کہ آپ ہر بار کماتے ہیں اس بار نقصان کر لیں،میرے وکیل نے ضمانت کے حوالے سے تمام دلائل دے دیئے ہیں میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس ثابت نہیں ہوا ،عزت ہی انسان کا خاصہ ہوتا ہے ،اللہ نے وزارت عظمٰی کی ذمہ داری دی ،اللہ سے دعا ہے یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھاؤ کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،کیس میں درجنوں پیشیاں بھگتیاں ہیں ، ایک سال تک چالان پیش نہیں کیا گیا ،چالان پیش اس لیے نہیں کیا گیا کہ کہ کسی طرح مجھے گرفتار کر لیں میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ہے ،میں شئیر ہولڈر نہیں ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عدالت سے روانہ ہو گئے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کے دوران ملزمان کا رویہ مثبت رہا،شہباز شریف کا ڈائریکٹ رمضان شوگر مل سے کوئی تعلق نہیں، شہباز شریف ڈائریکٹر ہیں نہ ہی سی ای او ہیں، شہباز شریف کے ذاتی اکاونٹ میں 4 مشکوک ٹرانزیکشن ہوئی ،رمضان شوگر مل میں حمزہ شہباز اس وقت ایم این اے تھے اور سی ای او تھے، حمزہ شہباز نے سالانہ آڈٹ رپورٹ میں دستخط کیے ہوئے ہیں،ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ کسی قانون کے تحت سی ای ہونا کوئی جرم تو نہیں ہے،

    عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو اب عدالت نے سنا دیا ہے، عدالت نے ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    شریف فیملی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیش ہونے والا پراسکیوٹرعدالت میں بیہوش