Baaghi TV

Tag: وفاقی بجٹ

  • وفاقی بجٹ میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص

    وفاقی بجٹ میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص

    وفاقی بجٹ 2025-26 میں کراچی کے اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق کراچی بلک واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 8 ارب 20 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں تاکہ شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔کراچی کے صنعتی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انڈسٹریل ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

    وفاقی بجٹ میں طویل عرصے سے تاخیر کے شکار کے-4 منصوبے کے لیے بھی 9 ارب 40 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ شہر کو طویل مدتی بنیادوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔حکومتی مؤقف کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے کراچی کے شہریوں کو ریلیف ملے گا اور ملکی معیشت کو تقویت حاصل ہوگی۔

    کراچی، پانی کے ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے 4 افراد جاں بحق

    درآمدی سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد

    آسٹریا کے شہر گراز کے اسکول میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک

    تعمیراتی شعبے اور کم لاگت گھروں کے لیے ریلیف، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم

    آئی ٹی ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

  • وفاقی بجٹ 2025-26 میں سپریم کورٹ کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص

    وفاقی بجٹ 2025-26 میں سپریم کورٹ کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص

    مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں سپریم کورٹ کے اخراجات کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران کیا۔

    عدالت عظمیٰ کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز پر 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔ افسران کی تنخواہوں کے لیے 54 کروڑ اور دیگر عملے کے لیے 91 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اثاثہ جات کی خریداری پر 42 کروڑ اور ترقیاتی کاموں کے لیے 45 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ملنے والے فوائد کی مد میں 23 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ گرانٹس، سبسڈیز اور قرضہ جات کی معافی کے لیے 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے آپریٹنگ اخراجات کے لیے 1 ارب 3 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

    کوئی منی بجٹ نہیں آیا، نہ ہی اضافی ٹیکس لگایا گیا، وزیر خزانہ کا اعلان

    آئی ٹی ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

    850 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد

    تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کا اعلان

    صحت کے 21 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 14.3 ارب روپے کی رقم مختص

  • وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کردیا

    وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کردیا

    وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری دے دی –

    وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے،وزیر اعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں،وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری دے دی وفاقی کابینہ نےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی منظوری دی-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کردیا، وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 10فیصد کردیا،کابینہ نے پینشنرز کی پینشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی، بجٹ دستاویز کو پولیس کی سخت سکیورٹی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں پہنچادیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں اجلاس میں بجٹ دستاویزات اور مالیاتی بل کی منظوری دی جائے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن کے اضافے کی حتمی منظوری کابینہ دے گی،وزیر خزانہ اورنگزیب بجٹ کے اہم خدوخال سے کابینہ کو آگاہ کریں گے، کابینہ اجلاس کے فوری بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں چھ فیصد اضافے کی تجویز منظور کر لی گئی۔

    واضح رہے کہ اگلے مالی سال کے لیے تقریبا 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں تقریبا 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گےنئے بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے ہوں گے، جبکہ اگلے سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 6 ہزار 501 ارب روپے بنتا ہے تمام شعبوں میں ٹیکس استثنا ختم کرنے کی بھی تجویز ہے جبکہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو وصولی کا ہدف 5 ہزار 167 ارب روپے تجویز کیے جانے کا امکان ہے،نان ٹیکس ریونیو ملا کر 19 ہزار 298 ارب روپے مقرر کرنے کا ہدف ہے۔

  • تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    اسلام آباد: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی دستاویز منظرعام پر آگئی ہیں، وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے –

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جس میں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 16 ہزار 286 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے اور تمام سیلر ی سلیب پر 2.5 فیصد ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے جب کہ گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیے جانے کی بھی تجویز ہے،وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم لیوی 78روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے، پیٹرولیم مصنوعات صرف ڈیجیٹل ادائیگی سے خریدی جاسکیں گی جب کہ نقد پیٹرولیم مصنوعات خریدنے پر 2 روپے فی لیٹر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2869 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،وفاقی ترقیات بجٹ میں سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 682 ارب سے زائد فنڈز جب کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے لیے 35 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 226 ارب 98 کروڑ روپے سے زیادہ ملیں گے، پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 90 ارب 22 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے جب کہ آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 133 ارب 42 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70 ارب 38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ صوبوں اور اسپیشل ایریاز کے لیے 253 ارب 23 کروڑ روپے، انضمام شدہ اضلاع کے لیے 65 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے جانے کی تجویز ہے جب کہ صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 105 ارب 78 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جائیں گے۔

    دستاویزات کے مطابق آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 82 ارب روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 11 ارب 55 کروڑ روپے جب کہ فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 18 ارب 58 کروڑ سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔

  • وفاقی بجٹ ،سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص

    وفاقی بجٹ ،سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص

    آئندہ مالی سال 26-2025ء کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، جس کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دفاعی بجٹ کے لیے 2550 ارب روپے جبکہ حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنشنز کی مد میں 1055 ارب روپے، سبسڈیز کے لیے 1186 ارب روپے اور گرانٹس کے لیے 1928 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

    مزید برآں، ترقیاتی بجٹ کے لیے صرف ایک ہزار روپے مختص کیے جانے کی تجویز سامنے آئی ہے، جو ایک علامتی رقم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14131 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

    وفاقی گراس ریونیو کا مجموعی ہدف 19298 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو محاصل کی مد میں 8206 ارب روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے بعد نیٹ فیڈرل ریونیو 11072 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی تفصیلات پر بحث کی جائے گی۔

    بااثر افراد کی مزدور کی بیوی سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان گرفتار

    چین اور امریکا کے درمیان لندن میں تجارتی مذاکرات کا نیا دور شروع

    عیدالاضحیٰ پر 69 لاکھ 77 ہزار جانور قربان، فروخت اور قیمتوں میں کمی

    بلاول بھٹو زرداری کا سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور پاک بھارت جامع مذاکرات پر زور

  • اسپیکر قومی اسمبلی نے  وفاقی بجٹ  کیلئے شیڈول کی منظوری دے دی

    اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ کیلئے شیڈول کی منظوری دے دی

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 26-2025 کے لیے قومی اسمبلی کے شیڈول کی منظوری دے دی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق وفاقی بجٹ 26-2025 قومی اسمبلی میں کل پیش کیا جائے گا، 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا جبکہ 13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد کے مطابق بحث کے لیے وقت دیا جائے گا، وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون تک جاری ہے گی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وفاقی بجٹ 26-2025 پر بحث 21 جون کو سمیٹی جائے گی، 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا، 23 جون کو قومی اسمبلی میں 26-2025 کے مختص کردہ ضروری اخراجات پر بحث ہوگی،24 اور 25 جون کو ڈیمانڈز، گرانٹس، کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی، 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی، 27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔

    واضح رہے کہ رواں مالی سال 25-2024 کا قومی اقتصادی سروے آج جاری کیا جائے گا۔

    ٹرمپ سے تنازع، ایلون مسک کو ایک دن میں 27 ارب ڈالر کا نقصان

    مودی سرکار اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے بھارتی عوام کو مسلسل گمراہ کرنے میں مصروف

    پُرانے فاٹا اور قبائلی علاقوں میں غیر ریاستی عناصر کی جانب مسلح کواڈ کاپٹر کا عام استعمال

  • وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات  جاری

    وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری

    وزارت خزانہ کے ترجمان کے مطابق وفاقی بجٹ 2025-2024 کی پیشی کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے، اور اب یہ بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سے قبل بجٹ 2 جون کو پیش کیے جانے کا امکان تھا۔ترجمان کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد بجٹ کی تیاری کو مکمل اور جامع بنانا ہے، تاکہ تمام مالی امور کو بہتر انداز میں حتمی شکل دی جا سکے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج یہ مذاکرات مکمل ہو سکتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں صنعتوں پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی تجاویز پر بھی پیشرفت کا امکان ہے، جبکہ نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں ممکنہ اضافے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق ورکنگ بھی فائنل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور صنعتی شعبے پر ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

    زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے نئے فریم ورک پر بھی مذاکرات میں غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صوبوں کی آمدن میں اضافہ کرنے سے متعلق پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ وفد نے وزیراعظم، صدر اور نائب وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ اسلام آباد میں معاشی ٹیم کے ساتھ مذاکرات گزشتہ پانچ روز سے جاری ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات ماہ جون تک جاری رہ سکتے ہیں۔

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ٹیکس چوری قطعاً قابل قبول نہیں،وزیراعظم سے چیمبر آف کامرس کے صدور سے ملاقات

  • وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی میں مزید کمی اور صنعتوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اونگزیب کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ بحث کے دوران مثبت تجاویز دیں، جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، حکومت نے بجٹ نکات پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے، جس میں زراعت، تعلیم، اور صحت حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں،زراعت تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کے لیے اہم ہیں خیراتی ہسپتال کو سیلز ٹیکس سے استثنا پر غور کررہے ہیں جو دکاندار ایف بی آر کی تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہیں بنتے ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی،ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھارہے ہیں وقت آگیا ہے تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہ بننے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،قیمتوں میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا جائے گا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کے لیے پیش رفت کررہی ہے اور کوشش ہے کہ اگلا پروگرام پاکستان کے لیے آخری پروگرام ہو، مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہوگا،وفاقی بجٹ کا مقصد مالی خسارے کو کم کرنا ہے، بجٹ میں ان تجاویز کو اہمیت دی گئی ہے جس کے تحت حکومت وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی حکومت کےحجم کو کم کرنے اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنے کے اقدامات فوری طور پر کیے جائیں گے،وزیراعظم کی ہدایت پر رواں مالی سال کی طرح اگلے مالی سال میں بھی سرکاری اداروں میں سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی جاری رہے گی،وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مالی استحکام کی کوششیں جاری رکھے گی، حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر ملک کے مجموعی مالی وسائل میں اضافے کی خواہش مند ہے، اس سلسلے میں وفاقی اخراجات کی شیئرنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، وفاقی حکومت کے بجٹ میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں قومی نوعیت کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں، تمام ورائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں بات چیت کو آگے بڑھایا۔

    حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ مسلح افواج ہر وقت قوم و ملک کی حفاظت اور دفاع کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے، ہمیں اپنی افواج کی کارکردگی اور قربانیوں پر فخر ہے، نیشنل سکیورٹی اہم ترین ترجیح ہے، تمام تر مالی مشکلات کے باوجود حکومت ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے اس میں کسی بھی رکاوٹ کو آڑے نہیں آنے دے گی،ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات پر زور دیا ہے، جس کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے اور اس میں سرفہرست سی پیک فیز ٹو پر عمل درآمد کروانا ہے۔ حکومت چینی ماہرین کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حکومت جامع منصوبے کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سازشی عناصر کا قلعہ قمع کیا جا سکے جو پاک چین تعلقات کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں، وزیراعظم اور ایس آئی ایف سی کی بدولت سعودی عرب، امارات اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آئیں گی،مہنگائی میں مزید کمی لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت نے پہلے ہی کئی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم اور افرط زر 38 سے کم ہوکر 11.8 تک آ چکی ہے۔ حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ مہنگائی کم سے کم ہو اور عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔ کچھ ارکان نے صنعتی شعبے کو سہولیات فراہمی پر بھی زور دیا، اس سلسلے میں وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیرف میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ پالیسی ریٹ اور بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتی شعبے کو مدد ملے گی، بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ 81 فی صد وسائل ایسے ہی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ معیشت کو بروقت فائدہ حاصل ہو سکے، حکومتی ترجیحات میں سے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی ہے، جسے فروغ دینے کے اقدامات کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ 1500 ارب میں سے 350 ارب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے مختص کیے گئے ہیں،میں ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے، اس کے لیے ہم سب کو ہرممکن تعاون جاری رکھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر واپس دلوا سکیں

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • مولانا فضل الرحمان جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،رانا ثناء اللہ

    مولانا فضل الرحمان جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،رانا ثناء اللہ

    وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مکمل تجاویز کے ساتھ بجٹ فائنل ہوگا

    نماز عید کی ادائیگی کے بعد فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بجٹ تجویز ہوتاہے پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے، پارلیمنٹ تیس جون سے پہلے بجٹ پاس کرے گی،وزیراعظم ایک مہینے بعد دوبارہ قوم سے خطاب کریں گے، وعدے کے مطابق حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائےگی،مسلم لیگ ن نے جب بھی ملک کو اٹھانے کی کوشش کی سازش کر کے ملک کو دوبارہ بحرانوں سے دوچار کیا گیا ۔ اب پاکستان کسی ایسی سازش کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں اور ٹیکسز کے نفاذ کے معاملے میں وزیر خزانہ اور ٹیم نے کوشش کی کہ اثرات کم سے کم ہوں، گزشتہ 16 ماہ میں آئی ایم ایف کی شرائط زیادہ سخت تھیں، ملکی بحران کی ذمہ داری ان پر جنہوں نے اچھے چلتے ملک کو 2017 میں بحران سے دوچار کیا۔

    رانا ثناءاللہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کےدوست ممالک کی مددسےآئی ایم ایف کی شرائط میں کچھ نرمی ملی ہے، مولانا فضل الرحمٰن جمہوری اور امن پسند لیڈر ہیں، جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے ہیں، انتشاری ٹولے سے اگر ان کا رابطہ ہوتاہے تو انتشاری ٹولہ کا ایجنڈا غالب نہیں آسکے گا، مولانا کی مصالحت کے اثرات انتشاری ٹولے پر پڑیں گے، الیکشن کے نتائج کو تمام جماعتوں نے قبول کیا ہے،شور شرابہ کرنے والوں نے وزیر اعظم اسپیکر اور وزراء اعلی کے انتخابات کا حصہ بنے ہیں، آئین اور قانون کے مطابق موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے گی، حکومت کو سائز اور اخراجات میں کمی کرنے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے اعتراضات درست ہیں، یہ نہیں بالکل مشاورت نہیں ہوئی اس میں کمی رہ گئی ہے، بجٹ ابھی فائنل نہیں ہوا ابھی تجاویز لے رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی مشاورت اور تجاویز اور ان کی تسلی کے بعد بجٹ منظور ہوگا۔

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • نیسلے  منافع بخش کمپنی ،خود ٹیکس ادا کر سکتی ،شیری رحمان کی بچوں کے دودھ پر ٹیکس کی مخالفت

    نیسلے منافع بخش کمپنی ،خود ٹیکس ادا کر سکتی ،شیری رحمان کی بچوں کے دودھ پر ٹیکس کی مخالفت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا،اجلاس کی صدارت سلیم مانڈوی والا نے کی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مقامی طور پر تیار بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز پر غور کیا گیا،نمائندہ انڈسٹری شیخ وقار احمد نے اجلاس میں کہا کہ سیلز ٹیکس بتدریج بڑھایا جائے، سیلز ٹیکس سے بچوں کے دودھ کی قیمت میں بہت اضافہ ہو جائےگا،اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ نے کہا کہ دودھ کی کمپنیوں نے 2 برس کے دوران اپنی مصنوعات کی قیمتیں متعدد بار بڑھائیں، دودھ کی کمپنیوں نے صارفین پر مزید بوجھ بڑھایا مگر حکومت کو کچھ دینے کو تیار نہیں، حیران کن ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈسٹری بیوٹرز بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں، درآمدی دودھ مقامی دودھ سے دگنی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، آئندہ مالی سال سے زیرو ریٹنگ مکمل ختم کردی گئی ہے، آئندہ مالی سال سے پروسیسنگ اور پیکڈ آٹا، دال، چاول، چینی اور مسالوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اگر ہم 18 فیصد سیلز ٹیکس چھوڑ دیں تو کمپنی بھی اپنی قیمت 18 فیصد کم کرے۔اجلاس میں محسن عزیز کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس تو صارف دیتا ہے کمپنی نہیں، میرے خیال میں ٹیکس لیا جائے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیسلے ایک منافع بخش کمپنی ہے جو خود ٹیکس ادا کر سکتی ہے، صارفین پر ٹیکس کا بوجھ نا ڈلا جائے، ہمیں ہر چیز مارکیٹ پر نہیں چھوڑنی چاہئے،بچوں کے فارمولہ دودھ پر نیسلے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے،فارمولہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کر کے سیلز ٹیکس کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں،مینوفیکچرر کو نئے ٹیکس کا کچھ حصہ ادا کرنا چاہیے اور ان بچوں کے دودھ پر زیادہ منافع نہیں کمانا چاہیے، پاکستان میں 40 فیصد بچے نشوونما رکنے کا شکار ہیں،بچوں کی خوراک کے اس اہم ذریعے پر زیادہ ٹیکس نا لگایا جائے، پاکستان میں ایک بڑی تعداد بچوں کی غذائیت کو پورا کرنے کیلئے ان کو فارمولہ دودھ پلاتی ہیں،

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ