Baaghi TV

Tag: وفاقی بجٹ

  • کسانوں نے بجٹ  27-2026 کو مسترد کر دیا

    کسانوں نے بجٹ 27-2026 کو مسترد کر دیا

    کسانوں اور مختلف زرعی تنظیموں کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کو اس لیے یکسر مسترد کیا گیا ہے کیونکہ اس میں زرعی شعبے کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا۔

    کسان تنظیموں نےحکومتی بجٹ کی مخالفت میں تحفظات کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کھادوں پر سبسڈی کا فقدان ہے یوریا اور ڈی اے پی (DAP) کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی کسانوں کے مطابق پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے کھادوں اور زرعی اسپرے پر سبسڈی کا اعلان ہونا چاہیے تھا، زرعی مشینری اور آلات پر ٹیکسز برقرار ہیں جس سے کاشتکاروں کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے بجلی کے بلوں اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کسانوں پر بوجھ بڑھا ہے-

    دوسری جانب زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے دکاندار اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پہلے کسان بڑی تعداد میں ان سے اسپرے اور کھاد خریدتے تھے، تاہم قیمتیں آسمان کو چھونے کےباعث اب کاروبارشدید متاثر ہو چکا ہےاور فروخت میں نمایاں کمی آ گئی ہے ڈیلرز کے مطابق کسانوں کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے-

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملکی بقا اور زرعی خودکفالت کے لیے ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،اگر زرعی شعبے کے لیے خصوصی سبسڈی کا اعلان نہ کیا گیا تو زرعی پیداوار میں شدید کمی ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔

  • وفاقی بجٹ  2026–27: 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    وفاقی بجٹ 2026–27: 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2026–27 کے بجٹ میں 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے-

    سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے 10 جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2.5 ارب روپے اور 10 نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 24.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے نئے منصوبوں کے لیے مختص رقم میں 21.3 ارب روپے غیر ملکی فنڈنگ اور 3.2 ارب روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔

    بزنس ریکارڈ کے مطابق نئے منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کے پروگرام کے تحت بلوچستان میں ریزیلینس امپروومنٹ اینڈ لائیولی ہُڈ ڈائیور سفیکیشن کے لیے 21 ارب روپے یعنی مکمل طور پر غیر ملکی فنڈنگمختص کرنے کی تجویز ہے حکومت نے ملک کے 20 غریب ترین اضلاع کی ترقی کے لیے رائزنگ ٹوگیدر پروجیکٹ کے لیے 1 ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جو 50:50 کی لاگت شیئرنگ بنیاد پر ہوگا۔

    اسی طرح غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی کے خاتمے کے لیے نیشنل ملٹی سیکٹرل نیوٹریشن پروگرام کے لیے 30 کروڑ روپے، نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈویلپمنٹ کے قیام کے لیے 40 کروڑ روپے، وزیرِاعظم انوویشن سپورٹ اور اسٹارٹ اپ گرانٹس پروگرام کے لیے 40 کروڑ روپے، اور سوشل سیکٹر ایکسیلیر یٹر (ایچ این ای وائی جی–نیشنل پرائرٹی انیشیٹوز) کے لیے 94 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار روپے اور سی پیک سیکرٹریٹ کے لیے 30 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    جاری ترقیاتی منصوبوں میں وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 40 کروڑ روپے، ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن پروجیکٹ کے لیے 50 کروڑ روپے، وزارت کے آئی ٹی انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے 40 کروڑ روپے اور نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن اینڈ 5 ایز یونٹ (این ای ٹی یو) کے نظرثانی شدہ منصوبے کے لیے 35 کروڑ روپے سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔

  • وفاقی  بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بجٹ جمعہ12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026.27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

  • وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور کررہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،بجٹ کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، جبکہ حکومت مختلف آپشنز پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بجٹ سے متعلق کئی اہم امور ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے ، بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف معاملات پر مشاورت جاری ہے اور ابھی کئی چیزوں کو حتمی شکل دینا باقی ہے وقت بہت کم ہے جبکہ محرم الحرام بھی قریب آ رہا ہے، اس لیے موجودہ شیڈول کے مطابق تمام امور کو مکمل کرنا ایک چیلنج ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی بعض تبدیلیاں اور ایڈجسٹمنٹس کا عمل جاری رہتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر تاریخوں میں ردوبدل ہوگا یا نہیں، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے شہباز شریف کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں باہمی مفاہمت موجود ہے آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نسبتاً چھو ٹے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرے گی،سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس کے بعد سندھ اور پھر خیبر پختونخوا کا نمبر آئے گا، جبکہ پنجاب کے لیے سب سے کم ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں-

    انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، سندھ کو 195 ارب روپے ملیں گے، خیبر پختونخوا کے لیے 98 ارب روپے جبکہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے سندھ میں سکھر حیدرآباد موٹروے منصو بے پر رواں سال کام شروع کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ کراچی کے اہم آبی منصوبے کےفور کے لیے بھی وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں فنڈز فراہم کرے گی۔

  • بجٹ میں متعدد اشیاء پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان

    بجٹ میں متعدد اشیاء پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس مراعات اور رعایتی سیلز ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کیے جانے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں رعایتی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کیا جا سکتا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے نےذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات میں اضافے کے لیے نئی مالیاتی اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے اسی سلسلے میں آٹھویں شیڈول کے تحت حاصل مختلف ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہےدرآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو حاصل ٹیکس مراعات برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ بھی بجٹ میں متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق زرعی شعبے کے حوالے سے ٹریکٹرز اور ڈی اے پی کھاد پر دی گئی ٹیکس رعایتوں کو کم یا مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں اسی طرح پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہےادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کا امکان ہے، جبکہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز کو حاصل موجودہ ٹیکس سہولت واپس لیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہےاس کے علاوہ اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خور و نوش پر دی گئی ٹیکس رعایتیں کم یا ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ترجیحی ٹیکس مراعات کے بجائے یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے یہ اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس استثنیٰ اور رعایتوں میں کمی کی پالیسی کا حصہ ہو سکتے ہیں، اگر مجوزہ اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا تو متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پالیسی اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس مراعات کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانےکا امکان ہےقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔

  • وفاقی بجٹ میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص

    وفاقی بجٹ میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص

    وفاقی بجٹ 2025-26 میں کراچی کے اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق کراچی بلک واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 8 ارب 20 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں تاکہ شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔کراچی کے صنعتی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انڈسٹریل ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

    وفاقی بجٹ میں طویل عرصے سے تاخیر کے شکار کے-4 منصوبے کے لیے بھی 9 ارب 40 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ شہر کو طویل مدتی بنیادوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔حکومتی مؤقف کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے کراچی کے شہریوں کو ریلیف ملے گا اور ملکی معیشت کو تقویت حاصل ہوگی۔

    کراچی، پانی کے ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے 4 افراد جاں بحق

    درآمدی سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد

    آسٹریا کے شہر گراز کے اسکول میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک

    تعمیراتی شعبے اور کم لاگت گھروں کے لیے ریلیف، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم

    آئی ٹی ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

  • وفاقی بجٹ 2025-26 میں سپریم کورٹ کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص

    وفاقی بجٹ 2025-26 میں سپریم کورٹ کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص

    مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں سپریم کورٹ کے اخراجات کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران کیا۔

    عدالت عظمیٰ کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز پر 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔ افسران کی تنخواہوں کے لیے 54 کروڑ اور دیگر عملے کے لیے 91 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اثاثہ جات کی خریداری پر 42 کروڑ اور ترقیاتی کاموں کے لیے 45 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ملنے والے فوائد کی مد میں 23 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ گرانٹس، سبسڈیز اور قرضہ جات کی معافی کے لیے 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے آپریٹنگ اخراجات کے لیے 1 ارب 3 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

    کوئی منی بجٹ نہیں آیا، نہ ہی اضافی ٹیکس لگایا گیا، وزیر خزانہ کا اعلان

    آئی ٹی ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

    850 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد

    تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کا اعلان

    صحت کے 21 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 14.3 ارب روپے کی رقم مختص

  • وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کردیا

    وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کردیا

    وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری دے دی –

    وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے،وزیر اعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں،وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری دے دی وفاقی کابینہ نےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی منظوری دی-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کردیا، وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 10فیصد کردیا،کابینہ نے پینشنرز کی پینشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی، بجٹ دستاویز کو پولیس کی سخت سکیورٹی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں پہنچادیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں اجلاس میں بجٹ دستاویزات اور مالیاتی بل کی منظوری دی جائے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن کے اضافے کی حتمی منظوری کابینہ دے گی،وزیر خزانہ اورنگزیب بجٹ کے اہم خدوخال سے کابینہ کو آگاہ کریں گے، کابینہ اجلاس کے فوری بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں چھ فیصد اضافے کی تجویز منظور کر لی گئی۔

    واضح رہے کہ اگلے مالی سال کے لیے تقریبا 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں تقریبا 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گےنئے بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے ہوں گے، جبکہ اگلے سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 6 ہزار 501 ارب روپے بنتا ہے تمام شعبوں میں ٹیکس استثنا ختم کرنے کی بھی تجویز ہے جبکہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو وصولی کا ہدف 5 ہزار 167 ارب روپے تجویز کیے جانے کا امکان ہے،نان ٹیکس ریونیو ملا کر 19 ہزار 298 ارب روپے مقرر کرنے کا ہدف ہے۔

  • تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    اسلام آباد: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی دستاویز منظرعام پر آگئی ہیں، وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے –

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جس میں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 16 ہزار 286 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے اور تمام سیلر ی سلیب پر 2.5 فیصد ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے جب کہ گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیے جانے کی بھی تجویز ہے،وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم لیوی 78روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے، پیٹرولیم مصنوعات صرف ڈیجیٹل ادائیگی سے خریدی جاسکیں گی جب کہ نقد پیٹرولیم مصنوعات خریدنے پر 2 روپے فی لیٹر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2869 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،وفاقی ترقیات بجٹ میں سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 682 ارب سے زائد فنڈز جب کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے لیے 35 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 226 ارب 98 کروڑ روپے سے زیادہ ملیں گے، پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 90 ارب 22 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے جب کہ آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 133 ارب 42 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70 ارب 38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ صوبوں اور اسپیشل ایریاز کے لیے 253 ارب 23 کروڑ روپے، انضمام شدہ اضلاع کے لیے 65 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے جانے کی تجویز ہے جب کہ صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 105 ارب 78 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جائیں گے۔

    دستاویزات کے مطابق آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 82 ارب روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 11 ارب 55 کروڑ روپے جب کہ فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 18 ارب 58 کروڑ سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔