Baaghi TV

Tag: وفاقی بجٹ

  • وفاقی بجٹ ،سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص

    وفاقی بجٹ ،سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص

    آئندہ مالی سال 26-2025ء کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، جس کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دفاعی بجٹ کے لیے 2550 ارب روپے جبکہ حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنشنز کی مد میں 1055 ارب روپے، سبسڈیز کے لیے 1186 ارب روپے اور گرانٹس کے لیے 1928 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

    مزید برآں، ترقیاتی بجٹ کے لیے صرف ایک ہزار روپے مختص کیے جانے کی تجویز سامنے آئی ہے، جو ایک علامتی رقم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14131 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

    وفاقی گراس ریونیو کا مجموعی ہدف 19298 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو محاصل کی مد میں 8206 ارب روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے بعد نیٹ فیڈرل ریونیو 11072 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی تفصیلات پر بحث کی جائے گی۔

    بااثر افراد کی مزدور کی بیوی سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان گرفتار

    چین اور امریکا کے درمیان لندن میں تجارتی مذاکرات کا نیا دور شروع

    عیدالاضحیٰ پر 69 لاکھ 77 ہزار جانور قربان، فروخت اور قیمتوں میں کمی

    بلاول بھٹو زرداری کا سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور پاک بھارت جامع مذاکرات پر زور

  • اسپیکر قومی اسمبلی نے  وفاقی بجٹ  کیلئے شیڈول کی منظوری دے دی

    اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ کیلئے شیڈول کی منظوری دے دی

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 26-2025 کے لیے قومی اسمبلی کے شیڈول کی منظوری دے دی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق وفاقی بجٹ 26-2025 قومی اسمبلی میں کل پیش کیا جائے گا، 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا جبکہ 13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد کے مطابق بحث کے لیے وقت دیا جائے گا، وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون تک جاری ہے گی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وفاقی بجٹ 26-2025 پر بحث 21 جون کو سمیٹی جائے گی، 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا، 23 جون کو قومی اسمبلی میں 26-2025 کے مختص کردہ ضروری اخراجات پر بحث ہوگی،24 اور 25 جون کو ڈیمانڈز، گرانٹس، کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی، 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی، 27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔

    واضح رہے کہ رواں مالی سال 25-2024 کا قومی اقتصادی سروے آج جاری کیا جائے گا۔

    ٹرمپ سے تنازع، ایلون مسک کو ایک دن میں 27 ارب ڈالر کا نقصان

    مودی سرکار اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے بھارتی عوام کو مسلسل گمراہ کرنے میں مصروف

    پُرانے فاٹا اور قبائلی علاقوں میں غیر ریاستی عناصر کی جانب مسلح کواڈ کاپٹر کا عام استعمال

  • وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات  جاری

    وفاقی بجٹ اب 10 جون کو پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری

    وزارت خزانہ کے ترجمان کے مطابق وفاقی بجٹ 2025-2024 کی پیشی کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے، اور اب یہ بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سے قبل بجٹ 2 جون کو پیش کیے جانے کا امکان تھا۔ترجمان کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد بجٹ کی تیاری کو مکمل اور جامع بنانا ہے، تاکہ تمام مالی امور کو بہتر انداز میں حتمی شکل دی جا سکے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج یہ مذاکرات مکمل ہو سکتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں صنعتوں پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی تجاویز پر بھی پیشرفت کا امکان ہے، جبکہ نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں ممکنہ اضافے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق ورکنگ بھی فائنل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور صنعتی شعبے پر ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

    زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے نئے فریم ورک پر بھی مذاکرات میں غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صوبوں کی آمدن میں اضافہ کرنے سے متعلق پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ وفد نے وزیراعظم، صدر اور نائب وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ اسلام آباد میں معاشی ٹیم کے ساتھ مذاکرات گزشتہ پانچ روز سے جاری ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات ماہ جون تک جاری رہ سکتے ہیں۔

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ٹیکس چوری قطعاً قابل قبول نہیں،وزیراعظم سے چیمبر آف کامرس کے صدور سے ملاقات

  • وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی میں مزید کمی اور صنعتوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اونگزیب کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ بحث کے دوران مثبت تجاویز دیں، جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، حکومت نے بجٹ نکات پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے، جس میں زراعت، تعلیم، اور صحت حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں،زراعت تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کے لیے اہم ہیں خیراتی ہسپتال کو سیلز ٹیکس سے استثنا پر غور کررہے ہیں جو دکاندار ایف بی آر کی تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہیں بنتے ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی،ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھارہے ہیں وقت آگیا ہے تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہ بننے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،قیمتوں میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا جائے گا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کے لیے پیش رفت کررہی ہے اور کوشش ہے کہ اگلا پروگرام پاکستان کے لیے آخری پروگرام ہو، مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہوگا،وفاقی بجٹ کا مقصد مالی خسارے کو کم کرنا ہے، بجٹ میں ان تجاویز کو اہمیت دی گئی ہے جس کے تحت حکومت وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی حکومت کےحجم کو کم کرنے اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنے کے اقدامات فوری طور پر کیے جائیں گے،وزیراعظم کی ہدایت پر رواں مالی سال کی طرح اگلے مالی سال میں بھی سرکاری اداروں میں سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی جاری رہے گی،وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مالی استحکام کی کوششیں جاری رکھے گی، حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر ملک کے مجموعی مالی وسائل میں اضافے کی خواہش مند ہے، اس سلسلے میں وفاقی اخراجات کی شیئرنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، وفاقی حکومت کے بجٹ میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں قومی نوعیت کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں، تمام ورائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں بات چیت کو آگے بڑھایا۔

    حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ مسلح افواج ہر وقت قوم و ملک کی حفاظت اور دفاع کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے، ہمیں اپنی افواج کی کارکردگی اور قربانیوں پر فخر ہے، نیشنل سکیورٹی اہم ترین ترجیح ہے، تمام تر مالی مشکلات کے باوجود حکومت ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے اس میں کسی بھی رکاوٹ کو آڑے نہیں آنے دے گی،ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات پر زور دیا ہے، جس کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے اور اس میں سرفہرست سی پیک فیز ٹو پر عمل درآمد کروانا ہے۔ حکومت چینی ماہرین کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حکومت جامع منصوبے کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سازشی عناصر کا قلعہ قمع کیا جا سکے جو پاک چین تعلقات کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں، وزیراعظم اور ایس آئی ایف سی کی بدولت سعودی عرب، امارات اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آئیں گی،مہنگائی میں مزید کمی لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت نے پہلے ہی کئی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم اور افرط زر 38 سے کم ہوکر 11.8 تک آ چکی ہے۔ حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ مہنگائی کم سے کم ہو اور عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔ کچھ ارکان نے صنعتی شعبے کو سہولیات فراہمی پر بھی زور دیا، اس سلسلے میں وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیرف میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ پالیسی ریٹ اور بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتی شعبے کو مدد ملے گی، بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ 81 فی صد وسائل ایسے ہی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ معیشت کو بروقت فائدہ حاصل ہو سکے، حکومتی ترجیحات میں سے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی ہے، جسے فروغ دینے کے اقدامات کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ 1500 ارب میں سے 350 ارب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے مختص کیے گئے ہیں،میں ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے، اس کے لیے ہم سب کو ہرممکن تعاون جاری رکھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر واپس دلوا سکیں

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • مولانا فضل الرحمان جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،رانا ثناء اللہ

    مولانا فضل الرحمان جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،رانا ثناء اللہ

    وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مکمل تجاویز کے ساتھ بجٹ فائنل ہوگا

    نماز عید کی ادائیگی کے بعد فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بجٹ تجویز ہوتاہے پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے، پارلیمنٹ تیس جون سے پہلے بجٹ پاس کرے گی،وزیراعظم ایک مہینے بعد دوبارہ قوم سے خطاب کریں گے، وعدے کے مطابق حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائےگی،مسلم لیگ ن نے جب بھی ملک کو اٹھانے کی کوشش کی سازش کر کے ملک کو دوبارہ بحرانوں سے دوچار کیا گیا ۔ اب پاکستان کسی ایسی سازش کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں اور ٹیکسز کے نفاذ کے معاملے میں وزیر خزانہ اور ٹیم نے کوشش کی کہ اثرات کم سے کم ہوں، گزشتہ 16 ماہ میں آئی ایم ایف کی شرائط زیادہ سخت تھیں، ملکی بحران کی ذمہ داری ان پر جنہوں نے اچھے چلتے ملک کو 2017 میں بحران سے دوچار کیا۔

    رانا ثناءاللہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کےدوست ممالک کی مددسےآئی ایم ایف کی شرائط میں کچھ نرمی ملی ہے، مولانا فضل الرحمٰن جمہوری اور امن پسند لیڈر ہیں، جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے ہیں، انتشاری ٹولے سے اگر ان کا رابطہ ہوتاہے تو انتشاری ٹولہ کا ایجنڈا غالب نہیں آسکے گا، مولانا کی مصالحت کے اثرات انتشاری ٹولے پر پڑیں گے، الیکشن کے نتائج کو تمام جماعتوں نے قبول کیا ہے،شور شرابہ کرنے والوں نے وزیر اعظم اسپیکر اور وزراء اعلی کے انتخابات کا حصہ بنے ہیں، آئین اور قانون کے مطابق موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے گی، حکومت کو سائز اور اخراجات میں کمی کرنے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے اعتراضات درست ہیں، یہ نہیں بالکل مشاورت نہیں ہوئی اس میں کمی رہ گئی ہے، بجٹ ابھی فائنل نہیں ہوا ابھی تجاویز لے رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی مشاورت اور تجاویز اور ان کی تسلی کے بعد بجٹ منظور ہوگا۔

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • نیسلے  منافع بخش کمپنی ،خود ٹیکس ادا کر سکتی ،شیری رحمان کی بچوں کے دودھ پر ٹیکس کی مخالفت

    نیسلے منافع بخش کمپنی ،خود ٹیکس ادا کر سکتی ،شیری رحمان کی بچوں کے دودھ پر ٹیکس کی مخالفت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا،اجلاس کی صدارت سلیم مانڈوی والا نے کی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مقامی طور پر تیار بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز پر غور کیا گیا،نمائندہ انڈسٹری شیخ وقار احمد نے اجلاس میں کہا کہ سیلز ٹیکس بتدریج بڑھایا جائے، سیلز ٹیکس سے بچوں کے دودھ کی قیمت میں بہت اضافہ ہو جائےگا،اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ نے کہا کہ دودھ کی کمپنیوں نے 2 برس کے دوران اپنی مصنوعات کی قیمتیں متعدد بار بڑھائیں، دودھ کی کمپنیوں نے صارفین پر مزید بوجھ بڑھایا مگر حکومت کو کچھ دینے کو تیار نہیں، حیران کن ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈسٹری بیوٹرز بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں، درآمدی دودھ مقامی دودھ سے دگنی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، آئندہ مالی سال سے زیرو ریٹنگ مکمل ختم کردی گئی ہے، آئندہ مالی سال سے پروسیسنگ اور پیکڈ آٹا، دال، چاول، چینی اور مسالوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اگر ہم 18 فیصد سیلز ٹیکس چھوڑ دیں تو کمپنی بھی اپنی قیمت 18 فیصد کم کرے۔اجلاس میں محسن عزیز کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس تو صارف دیتا ہے کمپنی نہیں، میرے خیال میں ٹیکس لیا جائے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیسلے ایک منافع بخش کمپنی ہے جو خود ٹیکس ادا کر سکتی ہے، صارفین پر ٹیکس کا بوجھ نا ڈلا جائے، ہمیں ہر چیز مارکیٹ پر نہیں چھوڑنی چاہئے،بچوں کے فارمولہ دودھ پر نیسلے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے،فارمولہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کر کے سیلز ٹیکس کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں،مینوفیکچرر کو نئے ٹیکس کا کچھ حصہ ادا کرنا چاہیے اور ان بچوں کے دودھ پر زیادہ منافع نہیں کمانا چاہیے، پاکستان میں 40 فیصد بچے نشوونما رکنے کا شکار ہیں،بچوں کی خوراک کے اس اہم ذریعے پر زیادہ ٹیکس نا لگایا جائے، پاکستان میں ایک بڑی تعداد بچوں کی غذائیت کو پورا کرنے کیلئے ان کو فارمولہ دودھ پلاتی ہیں،

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 13 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہے،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے،نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے،جولائی میں تمام ٹیکسوں کا اطلاق کیا جائے گا، تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہئیے تھا،این ٹی این نمبر ہو گا تو بیرون ملک سفر ہو سکے گا،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا، 10 فیصد ٹیکس ٹوجی ڈپی کی شرح ناقابل برداشت ہے،تقریباََ 31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں،ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے،

    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس،پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں کا احتجاج
    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس، صحافیوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل احتجاج کیا،صحافیوں نے کھڑے ہو کر ظالمانہ ٹیکسز کیخلاف اپنا ٹوکن احتجاج ریکارڈ کروایا،صحافیوں کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھتیں، البتہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں۔دوران پریس کانفرنس سینیئر صحافی ثنا اللہ خان نے سوال کیا کہ آپ نے وزیراعظم ہاؤس، نیشنل اسمبلی، سینیٹ کا بجٹ بڑھا دیا، میڈیا میں لوگوں کو کیش تنخواہیں ملتی ہیں کیا ایف بی آر نے آج تک پوچھا؟ آپ باتیں کرتے ہیں سسٹم ٹھیک ہی نہیں کرنا چاہتے، اپنے اخراجات کم نہیں کرنا چاہتے، لوگوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں،

    اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،علی پرویز ملک
    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ جو راستہ شہباز شریف نے اختیار کیا وہ مشکل اور کٹھن ضرور ہے، حکومت کو کچھ وقت دیں، مقدس گائے وہ ہوتی ہے جو سسٹم سے باہر نکل کر آمدنی پیدا کررہی ہو اور ٹیکس نہ دے رہی ہو پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے جاتی، شہباز شریف 100 گنا ریلیف دینا چاہتے تھے، جب خسارہ بڑھتا ہے تو اس کے لیے آپ نوٹ چھاپیں یا قرض لے کر اگلی نسلوں پر بوجھ ڈالیں، تنخواہ دار طبقے میں امیر طبقہ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہا تھا،نان فائلرز کو وقت دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، ڈیجیٹائزیشن کے بعد نان فائلرز سے ٹیکس بھی لیا جائے گا اور پوچھا بھی جائے گا،مڈل کلاس پر ہم نے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا، ایک لاکھ روپے تنخواہ والے پر سب سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے ،جو بھی پاکستان کی خدمت کے لئے آگے آتے ہیں، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسکے خلوص،نیت پر شک کریں، ہمیں دل کو وسیع کر کے مسائل پر بات کرنی ہو گی، اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،مزدور کی پہلے32 ہزار تنخواہ تھی اب 37 ہزار ہوجائیگی،پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں،ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے پر 1200 روپت تک کا بوجھ بڑھاہے،

    وفاقی بجٹ، وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 روپے مختص
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 ارب روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لئے 5936 اور نئے منصوبوں کے لئے 14,315 ملین روپے مختص کر دیے،وفاقی حکومت نے آئندہ مالی بجٹ میں وزیراعظم ڈائرایکٹو کے تحت جموں کشمیر کے 16سو طلباء کے لئے 250 ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 میں پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کے لئے 3200ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وزیراعظم یوتھ سکل پروگرام کے لئے 4000ہزار ملین روپے مختص کر دیے

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی 141 جاری اور 19 نئی اسکیموں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 60,000 ملین روپے رکھے ہیں، بجٹ دستاویز کے مطابق جاری سکیموں کے لیے تقریباً 41,871.792 ملین روپے اور نئی سکیموں کے لیے 18,128.208 ملین روپے رکھے گئے ہیں،جاری سکیموں میں افغان طلباء کو علامہ محمد اقبال کے 3000 وظائف کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے اکیڈمک بلاک کی تعمیر کیلئے450 ملین روپے ، باچا خان یونیورسٹی، چارسدہ کی ترقی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کی ترقی کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے کیمپس کے قیام کے لیے 400 ملین روپے، کامیاب جوان اسپورٹس اکیڈمیز (ہائی پرفارمنس اینڈ ریسورس سینٹرز) اور یوتھ اولمپکس – ایچ ای سی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،بلتستان سکردو یونیورسٹی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں،فلبرائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام HEC-USAID (فیز-III) کے لیے 759 ملین روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے،ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی اوورسیز اسکالرشپس کیلئے3890 ملین روپے ، پاک-امریکہ نالج کوریڈور (فیز-I) کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے لیے 3000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئی اسکیموں میں وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام آف پاکستان نے وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 6000 ملین جبکہ نظر ثانی شدہ پروگرام کیلئے 10000 ملین روپے رکھے ہیں،اسی طرح وزیراعظم کے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے لیے 30 ملین روپے، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور انوویشن سینٹر کے قیام کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے کے حوالے سے بریفنگ میں کہا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں تھا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ سب سے اہم معاشی کامیابی ہے،دو طرفہ عالمی اور کثیر الجہتی شراکت داری سے بھی مثبت شرح نمو ممکن ہوا،پاکستان میں رواں مالی سال ترقی کی شرح 2.38 فیصد رہی،عالمی سطح پر توانائی اور کھانے پینے کی اشیا ءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا،
    حکومتی اصلاحاتی پالیسی سے بتدریج اقتصادی بحالی ہو رہی ہے، زرعی شعبے میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے بھی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا،زراعت کے شعبے میں گزشتہ 19 سال کے دوران سب سے زیادہ ترقی ہوئی،
    مالی سال 2024 کے دوران مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 94.8 فیصد کمی ہوئی،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا،معاشی اصلاحات کے نتیجے میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ بھی رک گیا،جون 2023 کے بعد روپے کی قدر میں 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا،زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،جولائی تا اپریل تجارتی خسارے میں 21.6 فیصد کمی ہوئی،سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی درست سمت کی طرف پیش قدمی ہے،حکومت مہنگائی کی شرح مزید کم کرنے کیلئے انتظامی،ریلیف اور پالیسی سطح پر اقدامات کر رہی ہے،

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب میں پرائیویٹ سیکٹر میں تھا تب میں کہتا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے ،اگر ہم آئی ایم ایف کے پا س نہ جاتے تو صوتحال مختلف ہوتی ، میں شروع سے ہی کہتا آیا ہوں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے، آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،جی ڈی پی گروتھ میں بڑی صنعتوں کی گرؤتھ اچھی نہ رہی، مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 50 کروڑ ڈالر تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ،رواں مالی سال ریونیو کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کل شرح سود کی کمی ہوئی ،ہمارے پاس 9 ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں ،گزشتہ چند ماہ میں معاشی استحکام نظر آرہا ہے ،زراعت اور آئی ٹی کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ، سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ،اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا مراحلہ بھی آگے بڑھا ہے، اسلام آباد ائیرپورٹ کے بعد لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی طرف بڑھیں گے ،پی آئی اے کی نجکاری کیلئے 6 پارٹیز پری کولیفائی ہوچکی ہیں،

    اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق حکومت کو اقتصادی،صنعتی ترقی، مہنگائی میں کمی اور بجلی کی پیداواری صلاحیت سمیت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا،شرح سود 22 فیصد تک بڑھانے کے باوجود مہنگائی کم کرنےکا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔

    مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ
    اقتصادی سروے 23-24،مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ کیا گیا
    دوران زچگی بچوں کی اموات کی شرح میں کمی آئی،ملک بھر میں رجسٹرد ڈاکٹروں کی تعداد 2لاکھ 99 ہزار،113 تک پہنچ گئی۔رجسٹرد دانتوں کے ڈاکٹرز 36 ہراز32،نرسز کی تعداد1 لاکھ 27 ہزار 855 ہو گئی،دائیاں 46 ہزار 110، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 24 ہزار 22 ہو گئی۔2023 میں خوراک کی فراہمی کی شرح میں بہتری آئی،گذشتہ سال کے مقابلے میں شرح ساڑھے چار فیصد بہتر رہی۔

    بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ
    دوسری جانب نئے مالی سال کے بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 2 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.4 فیصد اور بڑی صنعتوں کی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے، خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد اور جی ڈی پی میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 14.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال افراط زر کا اوسط ہدف 12 فیصد مقرر کیا گیا ہے،نئے مالی سال کے لیے وفاق اور صوبے ملکر ترقیاتی منصوبوں پر 3792 ارب روپے خرچ کریں گے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 1012 ارب روپے زیادہ ہے، وفاقی پی ایس ڈی پی 550 ارب اضافے کے ساتھ 1500 ارب روپے جب کہ چاروں صوبوں کا سالانہ ترقیاتی پلان 462 ارب روپے اضافے سے2095 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،صوبہ سندھ ترقیاتی منصوبوں پر سب سے زیادہ 764 ارب روپے خرچ کرے گا، پنجاب نے 700 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 351 ارب جب کہ بلوچستان نے 281 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جس کے پیش نظر چینی، گھی، چائے کی پتی اور میک اپ کا سامان مہنگا ہونے کا امکان ہے،، چینی پر سیلز ٹیکس 18 سے بڑھ کر19 فیصد ہونے سے چینی کے فی کلو نرخ میں 5 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے گھی 5 سے 7 روپے، صابن 2 سے 5 روپے اور شیمپو 15 سے 20 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

  • وفاقی بجٹ،سگریٹ مزید مہنگا ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ،سگریٹ مزید مہنگا ہونے کا امکان

    سگریٹ نوش ہو جائیں خبردار،آئندہ وفاقی بجٹ میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے

    وزارت صحت ذرائع کے مطابق سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے پر سفارشات مرتب ہو رہی ہیں،وزارت صحت کو سگریٹ پر ٹیکسز کی سفارشات ملی ہیں، سگرٹ پیکٹ پر ایف ای ڈی میں 15 سے 19 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، ٹوبیکو کنٹرول سیل نے سگریٹ مہنگا کرنے کی سفارشات تیار کی ہیں،وزارت صحت سفارشات کا جائزہ لے کر رواں ہفتے سگریٹ پر مزید ٹیکس کے حوالہ سے سفارشات وزارت خزانہ کو بھجوائے گی

    مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ
    پاکستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کے باعث ہر سال پاکستان کے جی ڈی پی میں کافی زیادہ معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صحت کی لاگت کے یہ بڑھتے ہوئے بوجھ سے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات، بیماری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے پیداوری کے نقصانات کے ساتھ ساتھ دیگر بالواسطہ معاشی اثرات شامل ہیں۔ تمباکو کے استعمال کو روکنے سے پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو ممکنہ طور پر کم کر سکتا ہے اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ غیر قانونی سگریٹ کے اضافے سے ٹیکس چوری ہوتا ہے، یہ کہنے میں عار نہیں کہ اب سگریٹ والے اسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں، نسٹ ریسرچ رپورٹ کے مطابق سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ 310ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،جعلی سگریٹ بنانے والے اپنا برانڈ نام بھی تبدیل کرسکتے ہیں،جعلی سگریٹوں کا کاروبار کرنے والے سارے کے سارے پی ٹی آئی میں ہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا جعلی سگریٹوں کا کاروبار کرنے والوں کو پکڑیں،ان سے 300 ارب وصول کریں،وفاق کو بھی دیں اپنا بھی گزارہ وغیرہ کریں

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں،بلاول

    گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ یاروں کا یار ہے، اس وقت ہماری سیاسی یاری مسلم لیگ نواز کے ساتھ ہے،

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست گالم گلوچ اور کرداری کشی پر مبنی نہیں شہباز شریف ن لیگ کا نہیں زیادہ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بچپن سے جانتا ہوں،باقیوں کےلئے یہ ڈار صاحب لیکن میرے لئے ڈار انکل ہیں، زرداری یاروں کے یار ہیں اور اس وقت ن لیگ ہمارا یار ہے، گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں، وہ دن رات محنت کر رہے ہیں، اس طرح لگن سے کام کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے ہاتھ مضبوط کریں،سیلاب متاثرین کے فنڈز کے اجرا کی یقین دہانی پر وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام
    بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوانوں کے لئے کھل کر بات کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں قابل تجدید ذرائع توانائی کی جانب بڑھنا ہو گا، عالمی طور پر ہم موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے دعوے کرتے ہیں مگر بجٹ دستاویزات میں اس کے برعکس لکھا جاتا تھا،ہمیں اپنی منصوبہ بندی قابل تجدید ذرائع توانائی کے ارد گرد مرتب کرنا ہوگی،ہمیں عالمی طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، سابق وزیر اعظم کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو دھچکا لگا، پاپولسٹ سیاست کے خاتمے کے لئے کام کیا جا رہا ہے ،امریکہ میں بھی ایک پاپولسٹ سیاستدان موجود ہے، اس امریکی سیاستدان نے اداروں، پارلیمان پر حملہ کیا، اس امریکی سیاستدان کے سماجی رابطے کے اکاونٹ معطل کر دئے گئے، ہمارے ہاں پاپولسٹ سیاستدان نے اپنے سپیکر کے ذریعے اپنا آئین تڑوایا،کوئی ایسا ملک نہیں جو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اجازت دے،امریکہ میں پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی طرف داخل ہونے پر کیا ہو گا؟ جو ردعمل آیا ہے وہ بہت قدرتی ہے،آپ شہداء کی یادگاروں پر حملہ کریں تو ہم جذباتی ہوں گے، کل تک آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والے آج انسانی حقوق کا رونا رو رہے ہیں،سیاسی انتقام کی حمایت نہیں کریں گے لیکن ہم بے وقوف نہیں ہیں،سابق وزیراعظم سویلینز کو ملٹری کورٹس کا نشانہ بناتے تھے، اگر فوجی تنصیبات اور یادگار شہداء پر حملہ آور ہوں گے تو قانون حرکت میں آئے گا، پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،جمہوریت تب مستحکم ہو گی جب سیاسی جماعتیں جمہوری انداز میں کام کریں گی،

    بلاول کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری سیاستدان تیس سال سے ایسی سیاست کر رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے ہمیں یقینی بنانا ہے کہ اس بند گلی میں پورا سیاسی نظام نا دھکیل دیا جائے،ہمیں سیاسی ، معاشی لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھنا ہے، سیاسی نظریات اتحادیوں کے درمیان مختلف ہو سکتے ہیں،میثاق جمہوریت کی روح کو ہم نے سیاسی استحکام کے لئے قائم رکھنا ہے،

    کسی بھی ملک کے کسی بھی بیان کی وجہ سے پاکستان کوئی کاروائی نہیں کرے گا،بلاول
    وزیر خارجہ بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ بیان سامنے آیا ہے، پاکستان کے لئے ضروری ہے ہم دنیا کی سیاست سے دور رہیں،ہمیں اپنے ملک کی اندرونی صورتحال پر کام کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کل بھی اپنے بل بوتے پر کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہے، کسی بھی ملک کے کسی بھی بیان کی وجہ سے پاکستان کوئی کاروائی نہیں کرے گا، پاکستان دنیا میں سب سے ذیادہ متاثر ہوا ہے،بڑی قوتوں کو دہشت گردی پر سیاست نہیں کرنی چاہئیے، دہشت گردی سے مقابلہ تب ہو سکتا ہے جب بڑی طاقتیں اس مسلئے کو سنجیدہ لیں گی،

    ہم ایک ہی حکومت میں ہیں، نہیں چاہتے کہ متنازع بات کریں، خورشید شاہ
    وفاقی وزیر رانا تنویر کے بیان پر پیپلز پارٹی ارکان نے رد عمل دیا ہے،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم ایک ہی حکومت میں ہیں، نہیں چاہتے کہ متنازع بات کریں، یہ کہا جا رہا ہے کہ 2013 میں ملک میں اندھیرا تھا، قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) اس بات کی تحقیقات کرکے بتائے کہ 2008 سے 2013، 2013 سے 2018 اور 2018 سے اب تک ملک میں بجلی کی کیا صورتحال رہی،محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کا معاہدہ کیا تھا، وہ معاہدہ ختم کیا گیا،اگر وہ معاہدہ ختم نہ کیا گیا ہوتا تو آج ہم اندھیروں میں نہیں ہوتے، قوم کے پاس ڈاکومنٹس ہونے چاہیے،قوم کو پتا ہونا چاہیے کس نے کیا کیا،

    مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دی جائے جو کہ 45 لاکھ لوگوں کا ضلع ہے،
    رکن قومی اسمبلی ارشاد احمد خان نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو بجٹ بہتر ہے مگر خدا کرے یہ صرف الفاظ میں نہ ہو بلکہ عملی طور بھی ہو، صوبہ پنجاب میں پینشن بہت کم بڑھائی گئی ہے، پینشن دار طبقے کا بڑھاپے میں کوئی سہارا نہیں ہوتا ان کا سہارا صرف پینشن ہوتا ہے،میری درخواست ہے کہ جس طرح وفاقی حکومت نے پینشن میں اضافہ کیا ہے اسی طرح پنجاب حکومت بھی کرے ،مزدور، ملازمین اور چھوٹے طبقے کی تنخواہیں بڑھائی جائیں،اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک محفوظ ہو تو زراعت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،مظفرگڑھ کو کسی کے حصے کا پانی نہیں چاہیے صرف مظفرگڑھ کو اپنے حصہ کا پانی دیا جائے،مظفرگڑھ کے ضلع میں سے دو ضلعے وجود میں آئے ہیں ایک ضلع لیہ اور دوسرا کوٹ ادو، مظفر گڑھ سے ضلعے وجود میں آئے ہیں اور اس کی خود کی آبادی 45 لاکھ ہے،کیا مظفرگڑھ کا حق نہیں بنتا کہ اس کو ڈویژن بنایا جائے،میری درخواست ہے ان دو ضلعوں کو شامل کرکے مظفرگڑھ کو ڈویژن بنایا جائے،آج کے موجودہ حالات میں دنیا کا مقابلہ صرف تعلیم سے کیا جاسکتا ہے،مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دی جائے جو کہ 45 لاکھ لوگوں کا ضلع ہے،

    ہولی کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جو خط لکھا گیا اس معاملے کو احسن انداز میں اور فوری طور پر حل کرنے پر قومی اسمبلی کے ممبران نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے تعلیم رانا تنویر حسین کو کو خراج تحسین پیش کیا،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی