Baaghi TV

Tag: وفاقی بجٹ

  • ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 13 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہے،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے،نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے،جولائی میں تمام ٹیکسوں کا اطلاق کیا جائے گا، تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہئیے تھا،این ٹی این نمبر ہو گا تو بیرون ملک سفر ہو سکے گا،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا، 10 فیصد ٹیکس ٹوجی ڈپی کی شرح ناقابل برداشت ہے،تقریباََ 31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں،ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے،

    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس،پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں کا احتجاج
    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس، صحافیوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل احتجاج کیا،صحافیوں نے کھڑے ہو کر ظالمانہ ٹیکسز کیخلاف اپنا ٹوکن احتجاج ریکارڈ کروایا،صحافیوں کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھتیں، البتہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں۔دوران پریس کانفرنس سینیئر صحافی ثنا اللہ خان نے سوال کیا کہ آپ نے وزیراعظم ہاؤس، نیشنل اسمبلی، سینیٹ کا بجٹ بڑھا دیا، میڈیا میں لوگوں کو کیش تنخواہیں ملتی ہیں کیا ایف بی آر نے آج تک پوچھا؟ آپ باتیں کرتے ہیں سسٹم ٹھیک ہی نہیں کرنا چاہتے، اپنے اخراجات کم نہیں کرنا چاہتے، لوگوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں،

    اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،علی پرویز ملک
    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ جو راستہ شہباز شریف نے اختیار کیا وہ مشکل اور کٹھن ضرور ہے، حکومت کو کچھ وقت دیں، مقدس گائے وہ ہوتی ہے جو سسٹم سے باہر نکل کر آمدنی پیدا کررہی ہو اور ٹیکس نہ دے رہی ہو پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے جاتی، شہباز شریف 100 گنا ریلیف دینا چاہتے تھے، جب خسارہ بڑھتا ہے تو اس کے لیے آپ نوٹ چھاپیں یا قرض لے کر اگلی نسلوں پر بوجھ ڈالیں، تنخواہ دار طبقے میں امیر طبقہ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہا تھا،نان فائلرز کو وقت دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، ڈیجیٹائزیشن کے بعد نان فائلرز سے ٹیکس بھی لیا جائے گا اور پوچھا بھی جائے گا،مڈل کلاس پر ہم نے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا، ایک لاکھ روپے تنخواہ والے پر سب سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے ،جو بھی پاکستان کی خدمت کے لئے آگے آتے ہیں، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسکے خلوص،نیت پر شک کریں، ہمیں دل کو وسیع کر کے مسائل پر بات کرنی ہو گی، اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،مزدور کی پہلے32 ہزار تنخواہ تھی اب 37 ہزار ہوجائیگی،پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں،ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے پر 1200 روپت تک کا بوجھ بڑھاہے،

    وفاقی بجٹ، وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 روپے مختص
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 ارب روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لئے 5936 اور نئے منصوبوں کے لئے 14,315 ملین روپے مختص کر دیے،وفاقی حکومت نے آئندہ مالی بجٹ میں وزیراعظم ڈائرایکٹو کے تحت جموں کشمیر کے 16سو طلباء کے لئے 250 ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 میں پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کے لئے 3200ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وزیراعظم یوتھ سکل پروگرام کے لئے 4000ہزار ملین روپے مختص کر دیے

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی 141 جاری اور 19 نئی اسکیموں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 60,000 ملین روپے رکھے ہیں، بجٹ دستاویز کے مطابق جاری سکیموں کے لیے تقریباً 41,871.792 ملین روپے اور نئی سکیموں کے لیے 18,128.208 ملین روپے رکھے گئے ہیں،جاری سکیموں میں افغان طلباء کو علامہ محمد اقبال کے 3000 وظائف کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے اکیڈمک بلاک کی تعمیر کیلئے450 ملین روپے ، باچا خان یونیورسٹی، چارسدہ کی ترقی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کی ترقی کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے کیمپس کے قیام کے لیے 400 ملین روپے، کامیاب جوان اسپورٹس اکیڈمیز (ہائی پرفارمنس اینڈ ریسورس سینٹرز) اور یوتھ اولمپکس – ایچ ای سی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،بلتستان سکردو یونیورسٹی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں،فلبرائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام HEC-USAID (فیز-III) کے لیے 759 ملین روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے،ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی اوورسیز اسکالرشپس کیلئے3890 ملین روپے ، پاک-امریکہ نالج کوریڈور (فیز-I) کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے لیے 3000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئی اسکیموں میں وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام آف پاکستان نے وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 6000 ملین جبکہ نظر ثانی شدہ پروگرام کیلئے 10000 ملین روپے رکھے ہیں،اسی طرح وزیراعظم کے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے لیے 30 ملین روپے، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور انوویشن سینٹر کے قیام کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے کے حوالے سے بریفنگ میں کہا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں تھا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ سب سے اہم معاشی کامیابی ہے،دو طرفہ عالمی اور کثیر الجہتی شراکت داری سے بھی مثبت شرح نمو ممکن ہوا،پاکستان میں رواں مالی سال ترقی کی شرح 2.38 فیصد رہی،عالمی سطح پر توانائی اور کھانے پینے کی اشیا ءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا،
    حکومتی اصلاحاتی پالیسی سے بتدریج اقتصادی بحالی ہو رہی ہے، زرعی شعبے میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے بھی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا،زراعت کے شعبے میں گزشتہ 19 سال کے دوران سب سے زیادہ ترقی ہوئی،
    مالی سال 2024 کے دوران مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 94.8 فیصد کمی ہوئی،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا،معاشی اصلاحات کے نتیجے میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ بھی رک گیا،جون 2023 کے بعد روپے کی قدر میں 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا،زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،جولائی تا اپریل تجارتی خسارے میں 21.6 فیصد کمی ہوئی،سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی درست سمت کی طرف پیش قدمی ہے،حکومت مہنگائی کی شرح مزید کم کرنے کیلئے انتظامی،ریلیف اور پالیسی سطح پر اقدامات کر رہی ہے،

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب میں پرائیویٹ سیکٹر میں تھا تب میں کہتا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے ،اگر ہم آئی ایم ایف کے پا س نہ جاتے تو صوتحال مختلف ہوتی ، میں شروع سے ہی کہتا آیا ہوں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے، آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،جی ڈی پی گروتھ میں بڑی صنعتوں کی گرؤتھ اچھی نہ رہی، مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 50 کروڑ ڈالر تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ،رواں مالی سال ریونیو کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کل شرح سود کی کمی ہوئی ،ہمارے پاس 9 ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں ،گزشتہ چند ماہ میں معاشی استحکام نظر آرہا ہے ،زراعت اور آئی ٹی کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ، سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ،اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا مراحلہ بھی آگے بڑھا ہے، اسلام آباد ائیرپورٹ کے بعد لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی طرف بڑھیں گے ،پی آئی اے کی نجکاری کیلئے 6 پارٹیز پری کولیفائی ہوچکی ہیں،

    اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق حکومت کو اقتصادی،صنعتی ترقی، مہنگائی میں کمی اور بجلی کی پیداواری صلاحیت سمیت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا،شرح سود 22 فیصد تک بڑھانے کے باوجود مہنگائی کم کرنےکا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔

    مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ
    اقتصادی سروے 23-24،مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ کیا گیا
    دوران زچگی بچوں کی اموات کی شرح میں کمی آئی،ملک بھر میں رجسٹرد ڈاکٹروں کی تعداد 2لاکھ 99 ہزار،113 تک پہنچ گئی۔رجسٹرد دانتوں کے ڈاکٹرز 36 ہراز32،نرسز کی تعداد1 لاکھ 27 ہزار 855 ہو گئی،دائیاں 46 ہزار 110، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 24 ہزار 22 ہو گئی۔2023 میں خوراک کی فراہمی کی شرح میں بہتری آئی،گذشتہ سال کے مقابلے میں شرح ساڑھے چار فیصد بہتر رہی۔

    بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ
    دوسری جانب نئے مالی سال کے بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 2 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.4 فیصد اور بڑی صنعتوں کی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے، خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد اور جی ڈی پی میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 14.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال افراط زر کا اوسط ہدف 12 فیصد مقرر کیا گیا ہے،نئے مالی سال کے لیے وفاق اور صوبے ملکر ترقیاتی منصوبوں پر 3792 ارب روپے خرچ کریں گے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 1012 ارب روپے زیادہ ہے، وفاقی پی ایس ڈی پی 550 ارب اضافے کے ساتھ 1500 ارب روپے جب کہ چاروں صوبوں کا سالانہ ترقیاتی پلان 462 ارب روپے اضافے سے2095 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،صوبہ سندھ ترقیاتی منصوبوں پر سب سے زیادہ 764 ارب روپے خرچ کرے گا، پنجاب نے 700 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 351 ارب جب کہ بلوچستان نے 281 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جس کے پیش نظر چینی، گھی، چائے کی پتی اور میک اپ کا سامان مہنگا ہونے کا امکان ہے،، چینی پر سیلز ٹیکس 18 سے بڑھ کر19 فیصد ہونے سے چینی کے فی کلو نرخ میں 5 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے گھی 5 سے 7 روپے، صابن 2 سے 5 روپے اور شیمپو 15 سے 20 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

  • وفاقی بجٹ،سگریٹ مزید مہنگا ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ،سگریٹ مزید مہنگا ہونے کا امکان

    سگریٹ نوش ہو جائیں خبردار،آئندہ وفاقی بجٹ میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے

    وزارت صحت ذرائع کے مطابق سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے پر سفارشات مرتب ہو رہی ہیں،وزارت صحت کو سگریٹ پر ٹیکسز کی سفارشات ملی ہیں، سگرٹ پیکٹ پر ایف ای ڈی میں 15 سے 19 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، ٹوبیکو کنٹرول سیل نے سگریٹ مہنگا کرنے کی سفارشات تیار کی ہیں،وزارت صحت سفارشات کا جائزہ لے کر رواں ہفتے سگریٹ پر مزید ٹیکس کے حوالہ سے سفارشات وزارت خزانہ کو بھجوائے گی

    مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ
    پاکستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کے باعث ہر سال پاکستان کے جی ڈی پی میں کافی زیادہ معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صحت کی لاگت کے یہ بڑھتے ہوئے بوجھ سے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات، بیماری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے پیداوری کے نقصانات کے ساتھ ساتھ دیگر بالواسطہ معاشی اثرات شامل ہیں۔ تمباکو کے استعمال کو روکنے سے پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو ممکنہ طور پر کم کر سکتا ہے اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ غیر قانونی سگریٹ کے اضافے سے ٹیکس چوری ہوتا ہے، یہ کہنے میں عار نہیں کہ اب سگریٹ والے اسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں، نسٹ ریسرچ رپورٹ کے مطابق سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ 310ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،جعلی سگریٹ بنانے والے اپنا برانڈ نام بھی تبدیل کرسکتے ہیں،جعلی سگریٹوں کا کاروبار کرنے والے سارے کے سارے پی ٹی آئی میں ہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا جعلی سگریٹوں کا کاروبار کرنے والوں کو پکڑیں،ان سے 300 ارب وصول کریں،وفاق کو بھی دیں اپنا بھی گزارہ وغیرہ کریں

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں،بلاول

    گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ یاروں کا یار ہے، اس وقت ہماری سیاسی یاری مسلم لیگ نواز کے ساتھ ہے،

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست گالم گلوچ اور کرداری کشی پر مبنی نہیں شہباز شریف ن لیگ کا نہیں زیادہ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بچپن سے جانتا ہوں،باقیوں کےلئے یہ ڈار صاحب لیکن میرے لئے ڈار انکل ہیں، زرداری یاروں کے یار ہیں اور اس وقت ن لیگ ہمارا یار ہے، گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں، وہ دن رات محنت کر رہے ہیں، اس طرح لگن سے کام کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے ہاتھ مضبوط کریں،سیلاب متاثرین کے فنڈز کے اجرا کی یقین دہانی پر وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام
    بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوانوں کے لئے کھل کر بات کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں قابل تجدید ذرائع توانائی کی جانب بڑھنا ہو گا، عالمی طور پر ہم موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے دعوے کرتے ہیں مگر بجٹ دستاویزات میں اس کے برعکس لکھا جاتا تھا،ہمیں اپنی منصوبہ بندی قابل تجدید ذرائع توانائی کے ارد گرد مرتب کرنا ہوگی،ہمیں عالمی طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، سابق وزیر اعظم کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو دھچکا لگا، پاپولسٹ سیاست کے خاتمے کے لئے کام کیا جا رہا ہے ،امریکہ میں بھی ایک پاپولسٹ سیاستدان موجود ہے، اس امریکی سیاستدان نے اداروں، پارلیمان پر حملہ کیا، اس امریکی سیاستدان کے سماجی رابطے کے اکاونٹ معطل کر دئے گئے، ہمارے ہاں پاپولسٹ سیاستدان نے اپنے سپیکر کے ذریعے اپنا آئین تڑوایا،کوئی ایسا ملک نہیں جو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اجازت دے،امریکہ میں پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی طرف داخل ہونے پر کیا ہو گا؟ جو ردعمل آیا ہے وہ بہت قدرتی ہے،آپ شہداء کی یادگاروں پر حملہ کریں تو ہم جذباتی ہوں گے، کل تک آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والے آج انسانی حقوق کا رونا رو رہے ہیں،سیاسی انتقام کی حمایت نہیں کریں گے لیکن ہم بے وقوف نہیں ہیں،سابق وزیراعظم سویلینز کو ملٹری کورٹس کا نشانہ بناتے تھے، اگر فوجی تنصیبات اور یادگار شہداء پر حملہ آور ہوں گے تو قانون حرکت میں آئے گا، پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،جمہوریت تب مستحکم ہو گی جب سیاسی جماعتیں جمہوری انداز میں کام کریں گی،

    بلاول کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری سیاستدان تیس سال سے ایسی سیاست کر رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے ہمیں یقینی بنانا ہے کہ اس بند گلی میں پورا سیاسی نظام نا دھکیل دیا جائے،ہمیں سیاسی ، معاشی لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھنا ہے، سیاسی نظریات اتحادیوں کے درمیان مختلف ہو سکتے ہیں،میثاق جمہوریت کی روح کو ہم نے سیاسی استحکام کے لئے قائم رکھنا ہے،

    کسی بھی ملک کے کسی بھی بیان کی وجہ سے پاکستان کوئی کاروائی نہیں کرے گا،بلاول
    وزیر خارجہ بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ بیان سامنے آیا ہے، پاکستان کے لئے ضروری ہے ہم دنیا کی سیاست سے دور رہیں،ہمیں اپنے ملک کی اندرونی صورتحال پر کام کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کل بھی اپنے بل بوتے پر کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہے، کسی بھی ملک کے کسی بھی بیان کی وجہ سے پاکستان کوئی کاروائی نہیں کرے گا، پاکستان دنیا میں سب سے ذیادہ متاثر ہوا ہے،بڑی قوتوں کو دہشت گردی پر سیاست نہیں کرنی چاہئیے، دہشت گردی سے مقابلہ تب ہو سکتا ہے جب بڑی طاقتیں اس مسلئے کو سنجیدہ لیں گی،

    ہم ایک ہی حکومت میں ہیں، نہیں چاہتے کہ متنازع بات کریں، خورشید شاہ
    وفاقی وزیر رانا تنویر کے بیان پر پیپلز پارٹی ارکان نے رد عمل دیا ہے،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم ایک ہی حکومت میں ہیں، نہیں چاہتے کہ متنازع بات کریں، یہ کہا جا رہا ہے کہ 2013 میں ملک میں اندھیرا تھا، قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) اس بات کی تحقیقات کرکے بتائے کہ 2008 سے 2013، 2013 سے 2018 اور 2018 سے اب تک ملک میں بجلی کی کیا صورتحال رہی،محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کا معاہدہ کیا تھا، وہ معاہدہ ختم کیا گیا،اگر وہ معاہدہ ختم نہ کیا گیا ہوتا تو آج ہم اندھیروں میں نہیں ہوتے، قوم کے پاس ڈاکومنٹس ہونے چاہیے،قوم کو پتا ہونا چاہیے کس نے کیا کیا،

    مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دی جائے جو کہ 45 لاکھ لوگوں کا ضلع ہے،
    رکن قومی اسمبلی ارشاد احمد خان نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو بجٹ بہتر ہے مگر خدا کرے یہ صرف الفاظ میں نہ ہو بلکہ عملی طور بھی ہو، صوبہ پنجاب میں پینشن بہت کم بڑھائی گئی ہے، پینشن دار طبقے کا بڑھاپے میں کوئی سہارا نہیں ہوتا ان کا سہارا صرف پینشن ہوتا ہے،میری درخواست ہے کہ جس طرح وفاقی حکومت نے پینشن میں اضافہ کیا ہے اسی طرح پنجاب حکومت بھی کرے ،مزدور، ملازمین اور چھوٹے طبقے کی تنخواہیں بڑھائی جائیں،اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک محفوظ ہو تو زراعت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،مظفرگڑھ کو کسی کے حصے کا پانی نہیں چاہیے صرف مظفرگڑھ کو اپنے حصہ کا پانی دیا جائے،مظفرگڑھ کے ضلع میں سے دو ضلعے وجود میں آئے ہیں ایک ضلع لیہ اور دوسرا کوٹ ادو، مظفر گڑھ سے ضلعے وجود میں آئے ہیں اور اس کی خود کی آبادی 45 لاکھ ہے،کیا مظفرگڑھ کا حق نہیں بنتا کہ اس کو ڈویژن بنایا جائے،میری درخواست ہے ان دو ضلعوں کو شامل کرکے مظفرگڑھ کو ڈویژن بنایا جائے،آج کے موجودہ حالات میں دنیا کا مقابلہ صرف تعلیم سے کیا جاسکتا ہے،مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دی جائے جو کہ 45 لاکھ لوگوں کا ضلع ہے،

    ہولی کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جو خط لکھا گیا اس معاملے کو احسن انداز میں اور فوری طور پر حل کرنے پر قومی اسمبلی کے ممبران نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے تعلیم رانا تنویر حسین کو کو خراج تحسین پیش کیا،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

  • سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

    سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

    سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گول پوسٹ کو آگے بڑھا دیتی ہے

    سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی سامراج کے ایجنٹ کا ہے مجھے لگتا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہوگا بین الاقوامی سامراج کو پاکستان اور چین کے تعلقات کھٹک رہے ہیں ہیں آئی ایم ایف نے کہا کہ ہم تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا دیا گیا قرضہ چین کو ادائیگیوں کے لیے استعمال تو نہیں ہوگا پاکستان کو آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سامراج کے چنگل سے نکلنا ہوگا ، چھوٹے صوبوں کے ساتھ پھر امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز کو کم کیا گیا ہے میرا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کیا جائے ۔ سندھ کو سیلاب کے حوالے سے جو گرانٹ ملنا تھی آج تک نہیں ملی ،

    سینیٹ اجلاس ،سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کہا گیا کہ ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، اصل میں یہ گدھے 2018 میں پیدا ہوئے لیکن گنے اب گئے، یہ گدھے چند مہینے پہلے یتیم ہو چکے،2018 میں گدھے کی پیدائش کے الفاظ پر سینیٹر فوزیہ ارشد اور سیف اللہ ابڑو نے سخت احتجاج کیا،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے سیف اللہ ابڑو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب چئیرمین اس کو پٹہ ڈالیں، ڈپٹی چئیرمین سینیٹ نے گدھے کی پیدائش کے الفاظ حزف کروا دیے ،اپوزیشن نے نعرے لگائے یہ پاگل ہے اس کا علاج کرایا جائے،

    سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث شروع ہوتے ہی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس میں اپوزیشن ارکان نے ملک کو معاشی بدحالی کے دہانے پر لے جانے پر موجودہ حکمرانوں پر تنقید کی اور حکومتی اراکین نے آئی ایم ایف کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرایا،

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی،  اسحاق ڈار

    آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، اسحاق ڈار

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ بجٹ کا مقصد کوئی ابہام ہو تو اس کو دور کیا جائے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد ایف بی آر میں 2 کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں،چیئرمین آج منظوری لے لیں گے ،کمیٹیاں بن جائیں گی،ایک کمیٹی غلطیاں اور دوسری بزنس معاملات کو دیکھے گی، دونوں کمیٹیاں آج شام تک فائنل کردیں گے،جن سفارشات پر عمل ہوسکے گا ہم اس پر عملدرآمد کرینگے، بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے کاروباری طبقے کے تحفظات دور کریں گے ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف 9200 ارب روپے ہے ،حکومت کے کل اخراجات 14 ہزار 400 ارب روپے ہیں پنشن کیلئے 761 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،نجی شعبہ ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،وفاقی خسارہ 5 ہزار 773 ارب روپے ہوا ہے ،پبلک پرائیویٹ سیکٹرکی مدد سے ترقی کا پہیہ چلے گا،ضم اضلاع کے لیے کل61 بلین روپے رکھے گئے ہیں، اگلے سال کا خام ریونیو 12 ہزار 163ارب روپے ہوگا وفاق کے مجموعی اخراجات 14 ہزار 463 ارب روپے ہیں،معیشت کامجموعی حجم 105 ٹریلین روپے ہے، 1150 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی نئی بلند تاریخ رقم کی جارہی ہے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اوورسیز کو گھر خریدنے پر ٹیکس سے استشنی اور گولڈن کارڈ کی سہولت دی،آئی ٹی اور سائنس کیلئے 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، نئے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ اگلی حکومت کرے گی سستی کھاد کیلئے 6 بلین کی سسبڈی رکھی ہے زرعی بیج پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے، زرعی مشینوں کی امپورٹ پر بھی ڈیوٹی ختم کردی،

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

  • مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا،خرم دستگیر کا دعویٰ

    مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا،خرم دستگیر کا دعویٰ

    گوجرانوالہ:وفاقی وزیرتوانائی انجینئرخرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے سولرپینل کی تیاری کیلئے خام مال کوڈیوٹی فری کیا،

    وفاقی وزیرخرم دستگیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ملک میں بدترین سیلاب آیا،سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالرکا نقصان ہوا ،روس یوکرین جنگ سے عالمی سطح پرتوانائی مہنگی ہوئی موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا ہے، پی ٹی آئی نے اپنے دورمیں سی پیک کومکمل طورپر مفلوج کیا،گزشتہ حکومت نے پاکستان میں نکلنے والے کوئلے سے استفادہ نہیں کیا،پی ٹی آئی نے ملک کی خارجہ پالیسی میں بدترین بگاڑ پیدا کیا،پاکستان کے قرضے میں پی ٹی آئی نے 90 فیصد اضافہ کیا،پی ٹی آئی نے اپنے دورمیں سولرپینل پر 17 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا،

    وفاقی وزیرخرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 2019 میں آئی ایم ایف سے اس وقت کی حکومت نے بھیانک سودا کیا پھر بھیانک طریقے سے 2021 اسے میں توڑا، یکم جولائی سے سولر پینل کے خام مال کی امپورٹ مفت ہوجائے گی تھراب خواب نہیں حقیقت ہے ہم اب وہاں سے بجلی پیدا کررہے ہیں، نیوکلیئرسے بھی بجلی پیدا کر رہے ہیں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہم نے اسے روکا ہوا ہے بجلی کی ترسیل میں بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پرجارہا ہے،وزیر خزانہ

    ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پرجارہا ہے،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو معاشی صورتحال انتہائی خراب تھی،ہم نے معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مائیکرو اکنامک پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں،بجٹ کل پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کیا جائے گا, 2017 میں ہماری معاشی ترقی کی رفتار بہت تیز تھی، 2022 میں پاکستان کی معاشی بد حالی ہر ایک کے سامنے تھی, 2017 میں معاشی اعتبار سے ہم 24 ویں نمبر پر تھے،2022 میں پاکستان کا معاشی ترقی کا نمبر 47 واں تھا,اگر ہم گزشتہ حکومت کو چند مہینے اور چلنے دیتے تو نہ جانے پاکستان کے حالات آج کیا ہوتے ، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ملکی معیشت کو وقت پر سنبھالا ،2010 میں پاکستانی معیشت 48 ویں،2017 میں 24 ویں اور 2022 میں 47 ویں پوزیشن پر چلی گئیاب 2023۔24 میں اسے 30 ویں اور اگلے 5 سال میں 20 ویں پوزیشن پر لائینگے ،گزشتہ مالی سال بہت مشکل تھا، اگلے سال کیلئے 5 اہداف مقرر کیے ہیں ہم نے گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کو کنٹرول کیا ،معیشت میں گراوٹ کا عمل رک گیا ہے،

    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی قرضوں کا ہے پاکستانی معیشت میں جو گراوٹ ہورہی تھی وہ رک گئی ہے جب ہماری حکومت آئی جی ڈی پی6% فیصد تھی دوسرے سال منفی میں چلی گئی تھی تجارتی خسارہ 39.1 ارب ڈالر ہوگیا تھا کرنٹ اکاونٹ خسارہ چار فیصد تک پہنچ گیا تھا ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر جارہا ہے بیرونی معاہدے سے انحراف کرکے پچھلی حکومت نے مسئلہ بنایا اب بیرونی فنڈز کے اصول کیلئے اعتماد کا مسئلہ آرہا ہے

    بجٹ اجلاس کل سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا . وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گے ، بجٹ کا حجم 13 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا بجٹ کا خسارہ 6 ہزار ارب سے زائد ہوگا جب کہ 7300 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ،مذکورہ بجٹ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا۔بجٹ اجلاس سے قبل دوپہر 2 بجے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا جس میں کابینہ بجٹ کی منظوری دے گی

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بورڈ کے جائزے سے پہلے فنانسنگ کیلئے 6 ارب ڈالر کا فرق ختم کرنا ہوگا،اس مقصد کیلئے مضبوط قابل اعتماد فنانسنگ کی ضرروت ہے ،پاکستان کو بجٹ پاس کرانے سے پہلے آئی ایم ایف بورڈ کے آخری جائزے کا سامنا ہے ، پاکستان کیلئے موجودہ حالات میں یہ اہم بجٹ ہے ،

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    دوسری جانب حکومت رواں مالی سال مقررہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ،رواں مالی سال 23-2022 کے اقتصادی سروے کے اہم نکات سامنے آ گئے ،اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو 0.29 فیصد رہی جب کہ ہدف 5.01 فیصد تھا ،زرعی شعبےکی شرح نمو 1.55فیصد رہی ، جس کی نمو کاہدف 3.9 فیصد مقرر تھا ،ملک میں شدید سیلاب نےزراعت سمیت دیگر اقتصادی شعبوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ، فصلوں کی شرح نمو منفی 2.49 فیصد رہی ، اہم فصلوں کی گروتھ منفی 3.20 فیصد رہی جب کہ فصلوں کی گروتھ کاہدف 3.5 فیصد مقرر تھا ،لائیو اسٹاک کی ترقی کی شرح نمو 3.78 فیصد رہی جب کہ اس کا ہدف 3.7 فیصد مقرر تھا ، فشریز کے شعبے کی گروتھ 1.44 فیصد رہی، جس کا ہدف 6.1 فیصد تھا ،جنگلات کے شعبے کی شرح نمو 3.93 فیصد رہی،اس کا ہدف 4.5 فیصد مقرر تھا ،صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 2.94 فیصد رہی اور اس کا ہدف 5.9 فیصد تھا بڑی صنعتوں کی گروتھ 7.4 فی صد ہف کے برعکس منفی 7.98 فیصد رہی ،چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 9.03 فیصد رہی جب کہ ہدف 8.3 فیصد تھا ،بجلی، گیس اور پانی فراہمی کی شرح نمو 6.03 فیصد رہی جب کہ ان کا ہدف 3.5 فی صد تھا ، تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو منفی 5.53 فیصد رہی، جس کا ہدف 4 فیصد تھا ، انفارمیشن اور کمیونیکیشن کے شعبوں کی گروتھ 6.93 فیصد رہی اور اس کا مقررہ ہدف 6 فیصد تھا

  • بجٹ میں فلم انڈسٹری کے لئے کئے اعلانات پر مہوش حیات کا رد عمل

    بجٹ میں فلم انڈسٹری کے لئے کئے اعلانات پر مہوش حیات کا رد عمل

    حالیہ حکومت نے بجٹ میں فلم انڈسٹری کے لئے جو اعلانات کئے ہیں اس کے بعد شوبز سے جڑے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ہر کوئی ان اعلانات سے کافی مطمئن ہے۔ ریشم سمیت دیگر فنکاروں نے اس حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر وڈیوز جاری کیں تو مہوش حیات بھی پیچھے نہ رہیں انہوں نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہتی ہوئی نظر آرہی ہیں کہ میں بہت خوش ہوں کہ حکومت نے فلم انڈسٹری کو مراعات دینے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں فلم سازی کو صنعت کادرجہ دینے اور ٹیکسوں میں چھوٹ حکومت قابل ستائش اقدام ہے۔مہوش حیات نے مزید کہا کہ ہم سب فنکار اس حوالے سے کئی برسوں سے بات چیت کررہے تھے جو بھی حکومت آتی تھی اسکے پاس جارہے تھے لیکن کبھی کچھ نہیں ہو سکا میں ان اعلانات کے بعد بہت خوش ہوں کہ ہم سب کو ہمارا حق مل رہا ہے۔

    یاد رہے کہ صدارتی ایوارڈ یافتہ مہوش حیات جتنی ٹی وی پر مقبول ہیں اتنی ہی فلم میں بھی مقبول ہیں ان کی فلم ’’لندن نہیں جائونگا‘‘ عید الاضحی پر ریلیز ہونے جارہی ہے فلم میں مہوش کے ساتھ ہمایوں سعید اور کبری خان مرکزی کرداروں میں نظر آئیگے۔اس فلم کے علاوہ ان کا ڈرامہ ’’ میں منٹو نہیں ہوں‘‘ بھی جلد ہی آن ائیر جائیگا اس میں بھی شائقین ہمایوں سعید کو مہوش کے ساتھ دیکھ سکیں گے۔

  • مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ کوشش کی کہ امیر لوگوں کا حصہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں استعمال کریں ،خوردنی تیل کا مسئلہ ہے، وزیر اعظم نے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی ،پرسنل انکم ٹیکس کم کرنے کی کوشش کی ہے، انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے آئندہ 15دن میں اسمبلی اور سینیٹ میں تقاریرہوں گی،بجٹ میں آئندہ 15دن میں کچھ چھوٹی تبدیلیاں ہوں گی، عوام کے پیسوں سے ملک چلتا ہے،بجٹ سے متعلق ہر بات مکمل لکھی ہے،انکم ٹیکساورسیلز ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے،ہم نے35 اور40 فیصد بجٹ بڑھایا ہے پام آئل مہنگا ہوگیا اس پرہم سبسڈی دیں گے نہیں لگتا کہ عالمی مارکیٹ میں یل کی قیمتیں کم ہونگی ،25ہزار دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں گے دکانداروں پر معمولی ٹیکس عائد کررہے ہیں،ٹیکس لیکیجز پر کمیٹی بنار ہے ہیں،کسٹم کے کچھ سکینرز لگائے ہیں تا کہ لیکج کم سے کم ہو،بجٹ میں ہر جگہ کٹ لگانے کی کوشش کی فوج کا بجٹ بھی تحریری طور پر موجود ہے، کوئی چیز چھپا نہیں رہے پی ڈی ایل کا ٹیکس لگے گا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا،ای او بی آئی کے معاملے کو ابھی دیکھا نہیں بعد میں دیکھیں گے،فاٹا کے اوپر ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا فاٹا کے آوٹ اسٹینڈنگز ہیں جن پر کام کررہے ہیں،نجکاری کمیشن کی جانب سے جن کمپنیوں کو ریڈی فار سیل رکھا گیا وہ کام مکمل ہوگا کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے جانا وزیراعظم کا عز م ہے کسی وزیراعظم نے اتناقرضہ نہیں لیا جتنا عمران خان نے اپنے دورمیں لیا،عالمی سطح پر معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے میں نااہلی بھی شامل تھی اس وقت تحائف رشوت کے طور پر دیئے جاتے تھے سب ہمارے سامنے ہیں ہماری ترجیح گزشتہ حکومت پرکیسزبنانا نہیں ،معیشت ٹھیک کرنا ہے ،خواہش ہے ملک میں کسی کوبھی 2 ہزاروظیفے کی ضرورت نہ پڑے امید ہے صوبوں کےوزرائےاعلیٰ سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے پر غور کریں گے،این ایف سی ایوارڈ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں افسوس ہے کہ این ایف سی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں آئے ملک میں 37 فیصد لوگ ماہانہ 40 ہزار سے کم کماتے ہیں،عمران خان ہمیں جیل میں بند کرنے کے علاوہ کام کرتے توبجلی کا بحران نہ ہوتا،بجٹ ڈالر کے کس ریٹ پر بنا ہے اس کا جواب نہیں دونگا،ہم کسی پارلیمینٹرین کے لیے کوارٹر نہیں بنا رہے ہیں،

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل