Baaghi TV

Tag: وفاقی بجٹ

  • سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

    سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

    سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گول پوسٹ کو آگے بڑھا دیتی ہے

    سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی سامراج کے ایجنٹ کا ہے مجھے لگتا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہوگا بین الاقوامی سامراج کو پاکستان اور چین کے تعلقات کھٹک رہے ہیں ہیں آئی ایم ایف نے کہا کہ ہم تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا دیا گیا قرضہ چین کو ادائیگیوں کے لیے استعمال تو نہیں ہوگا پاکستان کو آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سامراج کے چنگل سے نکلنا ہوگا ، چھوٹے صوبوں کے ساتھ پھر امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز کو کم کیا گیا ہے میرا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کیا جائے ۔ سندھ کو سیلاب کے حوالے سے جو گرانٹ ملنا تھی آج تک نہیں ملی ،

    سینیٹ اجلاس ،سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کہا گیا کہ ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، اصل میں یہ گدھے 2018 میں پیدا ہوئے لیکن گنے اب گئے، یہ گدھے چند مہینے پہلے یتیم ہو چکے،2018 میں گدھے کی پیدائش کے الفاظ پر سینیٹر فوزیہ ارشد اور سیف اللہ ابڑو نے سخت احتجاج کیا،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے سیف اللہ ابڑو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب چئیرمین اس کو پٹہ ڈالیں، ڈپٹی چئیرمین سینیٹ نے گدھے کی پیدائش کے الفاظ حزف کروا دیے ،اپوزیشن نے نعرے لگائے یہ پاگل ہے اس کا علاج کرایا جائے،

    سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث شروع ہوتے ہی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس میں اپوزیشن ارکان نے ملک کو معاشی بدحالی کے دہانے پر لے جانے پر موجودہ حکمرانوں پر تنقید کی اور حکومتی اراکین نے آئی ایم ایف کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرایا،

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی،  اسحاق ڈار

    آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، اسحاق ڈار

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ بجٹ کا مقصد کوئی ابہام ہو تو اس کو دور کیا جائے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد ایف بی آر میں 2 کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں،چیئرمین آج منظوری لے لیں گے ،کمیٹیاں بن جائیں گی،ایک کمیٹی غلطیاں اور دوسری بزنس معاملات کو دیکھے گی، دونوں کمیٹیاں آج شام تک فائنل کردیں گے،جن سفارشات پر عمل ہوسکے گا ہم اس پر عملدرآمد کرینگے، بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے کاروباری طبقے کے تحفظات دور کریں گے ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف 9200 ارب روپے ہے ،حکومت کے کل اخراجات 14 ہزار 400 ارب روپے ہیں پنشن کیلئے 761 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،نجی شعبہ ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،وفاقی خسارہ 5 ہزار 773 ارب روپے ہوا ہے ،پبلک پرائیویٹ سیکٹرکی مدد سے ترقی کا پہیہ چلے گا،ضم اضلاع کے لیے کل61 بلین روپے رکھے گئے ہیں، اگلے سال کا خام ریونیو 12 ہزار 163ارب روپے ہوگا وفاق کے مجموعی اخراجات 14 ہزار 463 ارب روپے ہیں،معیشت کامجموعی حجم 105 ٹریلین روپے ہے، 1150 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی نئی بلند تاریخ رقم کی جارہی ہے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اوورسیز کو گھر خریدنے پر ٹیکس سے استشنی اور گولڈن کارڈ کی سہولت دی،آئی ٹی اور سائنس کیلئے 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، نئے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ اگلی حکومت کرے گی سستی کھاد کیلئے 6 بلین کی سسبڈی رکھی ہے زرعی بیج پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے، زرعی مشینوں کی امپورٹ پر بھی ڈیوٹی ختم کردی،

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

  • مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا،خرم دستگیر کا دعویٰ

    مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا،خرم دستگیر کا دعویٰ

    گوجرانوالہ:وفاقی وزیرتوانائی انجینئرخرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے سولرپینل کی تیاری کیلئے خام مال کوڈیوٹی فری کیا،

    وفاقی وزیرخرم دستگیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ملک میں بدترین سیلاب آیا،سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالرکا نقصان ہوا ،روس یوکرین جنگ سے عالمی سطح پرتوانائی مہنگی ہوئی موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا ہے، پی ٹی آئی نے اپنے دورمیں سی پیک کومکمل طورپر مفلوج کیا،گزشتہ حکومت نے پاکستان میں نکلنے والے کوئلے سے استفادہ نہیں کیا،پی ٹی آئی نے ملک کی خارجہ پالیسی میں بدترین بگاڑ پیدا کیا،پاکستان کے قرضے میں پی ٹی آئی نے 90 فیصد اضافہ کیا،پی ٹی آئی نے اپنے دورمیں سولرپینل پر 17 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا،

    وفاقی وزیرخرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 2019 میں آئی ایم ایف سے اس وقت کی حکومت نے بھیانک سودا کیا پھر بھیانک طریقے سے 2021 اسے میں توڑا، یکم جولائی سے سولر پینل کے خام مال کی امپورٹ مفت ہوجائے گی تھراب خواب نہیں حقیقت ہے ہم اب وہاں سے بجلی پیدا کررہے ہیں، نیوکلیئرسے بھی بجلی پیدا کر رہے ہیں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہم نے اسے روکا ہوا ہے بجلی کی ترسیل میں بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پرجارہا ہے،وزیر خزانہ

    ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پرجارہا ہے،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو معاشی صورتحال انتہائی خراب تھی،ہم نے معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مائیکرو اکنامک پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں،بجٹ کل پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کیا جائے گا, 2017 میں ہماری معاشی ترقی کی رفتار بہت تیز تھی، 2022 میں پاکستان کی معاشی بد حالی ہر ایک کے سامنے تھی, 2017 میں معاشی اعتبار سے ہم 24 ویں نمبر پر تھے،2022 میں پاکستان کا معاشی ترقی کا نمبر 47 واں تھا,اگر ہم گزشتہ حکومت کو چند مہینے اور چلنے دیتے تو نہ جانے پاکستان کے حالات آج کیا ہوتے ، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ملکی معیشت کو وقت پر سنبھالا ،2010 میں پاکستانی معیشت 48 ویں،2017 میں 24 ویں اور 2022 میں 47 ویں پوزیشن پر چلی گئیاب 2023۔24 میں اسے 30 ویں اور اگلے 5 سال میں 20 ویں پوزیشن پر لائینگے ،گزشتہ مالی سال بہت مشکل تھا، اگلے سال کیلئے 5 اہداف مقرر کیے ہیں ہم نے گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کو کنٹرول کیا ،معیشت میں گراوٹ کا عمل رک گیا ہے،

    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی قرضوں کا ہے پاکستانی معیشت میں جو گراوٹ ہورہی تھی وہ رک گئی ہے جب ہماری حکومت آئی جی ڈی پی6% فیصد تھی دوسرے سال منفی میں چلی گئی تھی تجارتی خسارہ 39.1 ارب ڈالر ہوگیا تھا کرنٹ اکاونٹ خسارہ چار فیصد تک پہنچ گیا تھا ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر جارہا ہے بیرونی معاہدے سے انحراف کرکے پچھلی حکومت نے مسئلہ بنایا اب بیرونی فنڈز کے اصول کیلئے اعتماد کا مسئلہ آرہا ہے

    بجٹ اجلاس کل سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا . وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گے ، بجٹ کا حجم 13 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا بجٹ کا خسارہ 6 ہزار ارب سے زائد ہوگا جب کہ 7300 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ،مذکورہ بجٹ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا۔بجٹ اجلاس سے قبل دوپہر 2 بجے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا جس میں کابینہ بجٹ کی منظوری دے گی

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بورڈ کے جائزے سے پہلے فنانسنگ کیلئے 6 ارب ڈالر کا فرق ختم کرنا ہوگا،اس مقصد کیلئے مضبوط قابل اعتماد فنانسنگ کی ضرروت ہے ،پاکستان کو بجٹ پاس کرانے سے پہلے آئی ایم ایف بورڈ کے آخری جائزے کا سامنا ہے ، پاکستان کیلئے موجودہ حالات میں یہ اہم بجٹ ہے ،

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    دوسری جانب حکومت رواں مالی سال مقررہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ،رواں مالی سال 23-2022 کے اقتصادی سروے کے اہم نکات سامنے آ گئے ،اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو 0.29 فیصد رہی جب کہ ہدف 5.01 فیصد تھا ،زرعی شعبےکی شرح نمو 1.55فیصد رہی ، جس کی نمو کاہدف 3.9 فیصد مقرر تھا ،ملک میں شدید سیلاب نےزراعت سمیت دیگر اقتصادی شعبوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ، فصلوں کی شرح نمو منفی 2.49 فیصد رہی ، اہم فصلوں کی گروتھ منفی 3.20 فیصد رہی جب کہ فصلوں کی گروتھ کاہدف 3.5 فیصد مقرر تھا ،لائیو اسٹاک کی ترقی کی شرح نمو 3.78 فیصد رہی جب کہ اس کا ہدف 3.7 فیصد مقرر تھا ، فشریز کے شعبے کی گروتھ 1.44 فیصد رہی، جس کا ہدف 6.1 فیصد تھا ،جنگلات کے شعبے کی شرح نمو 3.93 فیصد رہی،اس کا ہدف 4.5 فیصد مقرر تھا ،صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 2.94 فیصد رہی اور اس کا ہدف 5.9 فیصد تھا بڑی صنعتوں کی گروتھ 7.4 فی صد ہف کے برعکس منفی 7.98 فیصد رہی ،چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 9.03 فیصد رہی جب کہ ہدف 8.3 فیصد تھا ،بجلی، گیس اور پانی فراہمی کی شرح نمو 6.03 فیصد رہی جب کہ ان کا ہدف 3.5 فی صد تھا ، تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو منفی 5.53 فیصد رہی، جس کا ہدف 4 فیصد تھا ، انفارمیشن اور کمیونیکیشن کے شعبوں کی گروتھ 6.93 فیصد رہی اور اس کا مقررہ ہدف 6 فیصد تھا

  • بجٹ میں فلم انڈسٹری کے لئے کئے اعلانات پر مہوش حیات کا رد عمل

    بجٹ میں فلم انڈسٹری کے لئے کئے اعلانات پر مہوش حیات کا رد عمل

    حالیہ حکومت نے بجٹ میں فلم انڈسٹری کے لئے جو اعلانات کئے ہیں اس کے بعد شوبز سے جڑے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ہر کوئی ان اعلانات سے کافی مطمئن ہے۔ ریشم سمیت دیگر فنکاروں نے اس حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر وڈیوز جاری کیں تو مہوش حیات بھی پیچھے نہ رہیں انہوں نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہتی ہوئی نظر آرہی ہیں کہ میں بہت خوش ہوں کہ حکومت نے فلم انڈسٹری کو مراعات دینے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں فلم سازی کو صنعت کادرجہ دینے اور ٹیکسوں میں چھوٹ حکومت قابل ستائش اقدام ہے۔مہوش حیات نے مزید کہا کہ ہم سب فنکار اس حوالے سے کئی برسوں سے بات چیت کررہے تھے جو بھی حکومت آتی تھی اسکے پاس جارہے تھے لیکن کبھی کچھ نہیں ہو سکا میں ان اعلانات کے بعد بہت خوش ہوں کہ ہم سب کو ہمارا حق مل رہا ہے۔

    یاد رہے کہ صدارتی ایوارڈ یافتہ مہوش حیات جتنی ٹی وی پر مقبول ہیں اتنی ہی فلم میں بھی مقبول ہیں ان کی فلم ’’لندن نہیں جائونگا‘‘ عید الاضحی پر ریلیز ہونے جارہی ہے فلم میں مہوش کے ساتھ ہمایوں سعید اور کبری خان مرکزی کرداروں میں نظر آئیگے۔اس فلم کے علاوہ ان کا ڈرامہ ’’ میں منٹو نہیں ہوں‘‘ بھی جلد ہی آن ائیر جائیگا اس میں بھی شائقین ہمایوں سعید کو مہوش کے ساتھ دیکھ سکیں گے۔

  • مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ کوشش کی کہ امیر لوگوں کا حصہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں استعمال کریں ،خوردنی تیل کا مسئلہ ہے، وزیر اعظم نے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی ،پرسنل انکم ٹیکس کم کرنے کی کوشش کی ہے، انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے آئندہ 15دن میں اسمبلی اور سینیٹ میں تقاریرہوں گی،بجٹ میں آئندہ 15دن میں کچھ چھوٹی تبدیلیاں ہوں گی، عوام کے پیسوں سے ملک چلتا ہے،بجٹ سے متعلق ہر بات مکمل لکھی ہے،انکم ٹیکساورسیلز ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے،ہم نے35 اور40 فیصد بجٹ بڑھایا ہے پام آئل مہنگا ہوگیا اس پرہم سبسڈی دیں گے نہیں لگتا کہ عالمی مارکیٹ میں یل کی قیمتیں کم ہونگی ،25ہزار دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں گے دکانداروں پر معمولی ٹیکس عائد کررہے ہیں،ٹیکس لیکیجز پر کمیٹی بنار ہے ہیں،کسٹم کے کچھ سکینرز لگائے ہیں تا کہ لیکج کم سے کم ہو،بجٹ میں ہر جگہ کٹ لگانے کی کوشش کی فوج کا بجٹ بھی تحریری طور پر موجود ہے، کوئی چیز چھپا نہیں رہے پی ڈی ایل کا ٹیکس لگے گا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا،ای او بی آئی کے معاملے کو ابھی دیکھا نہیں بعد میں دیکھیں گے،فاٹا کے اوپر ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا فاٹا کے آوٹ اسٹینڈنگز ہیں جن پر کام کررہے ہیں،نجکاری کمیشن کی جانب سے جن کمپنیوں کو ریڈی فار سیل رکھا گیا وہ کام مکمل ہوگا کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے جانا وزیراعظم کا عز م ہے کسی وزیراعظم نے اتناقرضہ نہیں لیا جتنا عمران خان نے اپنے دورمیں لیا،عالمی سطح پر معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے میں نااہلی بھی شامل تھی اس وقت تحائف رشوت کے طور پر دیئے جاتے تھے سب ہمارے سامنے ہیں ہماری ترجیح گزشتہ حکومت پرکیسزبنانا نہیں ،معیشت ٹھیک کرنا ہے ،خواہش ہے ملک میں کسی کوبھی 2 ہزاروظیفے کی ضرورت نہ پڑے امید ہے صوبوں کےوزرائےاعلیٰ سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے پر غور کریں گے،این ایف سی ایوارڈ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں افسوس ہے کہ این ایف سی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں آئے ملک میں 37 فیصد لوگ ماہانہ 40 ہزار سے کم کماتے ہیں،عمران خان ہمیں جیل میں بند کرنے کے علاوہ کام کرتے توبجلی کا بحران نہ ہوتا،بجٹ ڈالر کے کس ریٹ پر بنا ہے اس کا جواب نہیں دونگا،ہم کسی پارلیمینٹرین کے لیے کوارٹر نہیں بنا رہے ہیں،

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

    ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

    اسلام آباد: حالیہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں میں مہنگائی کی شرح 2.67 فیصد اضافے کے ساتھ 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کو مزید پر لگ گئے جس کے بعد ملک میں ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران 33 اشیاء ضروریات مہنگی ہوئیں صرف 5 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور 13 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے ہفتہ وار اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 2.67 فیصد اضافے کے ساتھ 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی ہے-

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ہفتے میں آلو کی فی کلو قیمت 3 روپے 10 پیسے اور ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 4 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا اس کے علاوہ گھی فی کلو 28 روپے اور کوکنگ آئل کی فی لیٹر قیمت میں37 روپے تک اضافہ ہوا۔

    اعدادو شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران دالیں، نمک، بیف، مٹن، چینی، پیاز، دودھ بھی مہنگے ہونے والے آئٹمز میں شامل ہیں جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے کا اضافہ ہوا۔

    بجٹ میں نئے ٹیکس ؟ عام شہری کتنے متاثر ہوں گے؟مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

  • سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سال 2020-21 کا بجٹ آج پیش کر دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ظاہر ہے اسکے اثرات پاکستان پر بھی ہیں۔ پہلے سے کمزور و ناتواں معاشی حالت کی ابتری میں یقیناً مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں ریاست کے فنڈز میں کمی ہوئی وہیں عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا، بھوک نے ڈیرے ڈالے، سفید پوش طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ ہے جسکے لیے بھوک سے مرنا ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے، ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات نے بے لوث خرچ کر کے ہم وطنوں کی مدد میں انتہا کر دی، وہیں ریاست پاکستان کے احساس پروگرام نے بھی ملک بھر میں حقداروں کو اربوں روپے کی امداد دی۔ ان حالات میں موجودہ بجٹ پیش کیا گیا ہے. جس میں پہلی بار کسی قسم کے نئے ٹیکس کا اضافہ نہیں ہوا ، اوپر بیان کئے گئے حالات کے باوجود ٹیکس کا اضافہ نا ہونا یقیناً قابل تحسین عمل اور عام آدمی کیلئے راحت کا باعث ہوگا۔ اسی طرح اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا جسے میں تو خوش آئند ہی کہوں گا کیونکہ یہ وہ طبقہ جسے بہرحال ہر ماہ ایک لگی بندھی رقم گزر بسر کیلئے مل جاتی ہے گزشتہ تین ماہ لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروباری یعنی دکاندار طبقہ تھا، ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ نا کرنا بھی یقیناً ریاست و عوام کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

    حسب سابق اس بار پھر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دفاعی بجٹ کا تعلیم و صحت سے موازنہ اور تنقید جاری ہے اس پر یہی گزارش کروں گا کہ یہ بارہ اعشاریہ نو تقریباً تیرہ کھرب کا دفاعی بجٹ جو اکہتر کھرب کے کل بجٹ کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے ، دشمن ریاست کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں سات گنا کم ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کے رواں سال بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے سات کھرب زیادہ یعنی اٹھہتر کھرب ہے ۔ یہ اعداد و شمار پبلک ہیں کوئی بھی انہیں چیک کر سکتا ہے، بھارت کی پاکستان دشمنی ساری دنیا کے سامنے ہے وہ شروع دن سے پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے اور حالیہ دنوں بھارتی حکومت تو اکھنڈ بھارت کے نظریے پر کارفرما ہے، چین سے مار کھانے کے باوجود دو دن قبل انہوں نے کراچی کی طرف شرارت کی کوشش کی، بالاکوٹ ائر سٹرائک بھی پرانی بات نہیں، بلوچستان میں جاری شورش بھی آپ جانتے ہیں، جبکہ کشمیر و ایل او سی پر لاک ڈاؤن و جارحیت اور مسلسل شہادتیں جنکی تعداد رواں سال ہی سینکڑوں میں جا چکی ہے ، ایسے سات گنا بڑے ، گھٹیا اور چالاک دشمن کے مقابلے یہ بجٹ محض گزارہ ہی ہے۔

    جہاں تک بات تعلیم و صحت کی ہے تو عرض یہ ہے کہ یقیناً سیکورٹی سٹیٹس میں یہ چیزیں کمپرومائز ہوتی ہیں لیکن یہ دونوں شعبہ جات صوبوں میں بھی بجٹ کا ایک مناسب حصہ رکھتے ہیں جو جاری بحث میں اگنور کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کا بجٹ محض وفاق کے حصے میں آتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کرپشن سے پاک ، مخلص و صالح قیادت عطا کرے جو دشمنوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں بھی کرپشن کا خاتمہ کر ایک فلاحی ریاست کے قیام کا سبب بنے ۔ آمین