Baaghi TV

Tag: وفاقی حکومت

  • پٹرول فی لیٹر 10 روپے مہنگا کردیا گیا

    پٹرول فی لیٹر 10 روپے مہنگا کردیا گیا

    وفاقی حکومت نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کیا گہا ہے۔ جس کے بعد ٹرول کی فی لٹر قیمت 272 روپے سے بڑھ کر 282 روپے فی لٹر ہوگئی۔

    علی امین گنڈا پورکے خلاف اقدام قتل کے تحت درج مقدمے میں ضمانت منظور

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقراررکھی گئی ہیں مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 78 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا ہے ،جس کے بعد نئی قیمت 186 روپے 7 پیسے فی لیٹر ہوگی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

    علی زیدی کی گرفتاری لندن پلان کا حصہ ہے،عمران خان

  • عدالت نے عمران خان کو 4 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا،ویڈیولنک حاضری کی استدعا بھی منظور

    عدالت نے عمران خان کو 4 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا،ویڈیولنک حاضری کی استدعا بھی منظور

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی 2 مقدمات میں ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے ایک دن کے لیے ویڈیو لنک حاضری کی استدعا منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کے خلاف 3 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی عدالتی طلبی پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبدالجبار ڈوگر پیش ہوئے دورانِ سماعت عدالت نے عمران خان کی عدم پیشی پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ عمران خان کہاں ہیں؟ ابھی تک شریک ملزم عمران خان پیش نہیں ہوئے، اگر لیڈر شپ لیٹ آئے گی تو عام لوگوں کا کیا حال ہو گا؟

    عمران خان کے وکیل اظہر صدیق کے گھر پر نا معلوم افراد کا پٹرول بم …

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ابھی کچھ دیر میں پیش ہو جائیں گے، مجھے 5 منٹ دے دیں، کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، عمران خان سابق وزیرِ اعظم ہیں، ان کی جان کو خطرہ ہے، عمران خان کے کیس کی سماعت بذریعہ کیمرہ کر لی جائے۔

    عدالت نے کہا کہ عدالتی عملے سے عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ عمران خان کی وجہ سے عدالتی عملے کو خطرہ ہے عدالت نے استفسار کیا کہ مجھے آپ کے دلائل سننے کے بعد ضمانت خارج کرنا پڑی تو ملزم کو کیسے گرفتار کریں گے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ گارنٹی دیتے ہیں کہ کوئی ایسا فیصلہ آیا تو عمران خان شاملِ تفتیش ہوں گے، تعاون بھی کریں گے –

    عدالت نے سوال کیا کہ عمران خان نے ایسا کون سا کام کیا ہے جو ان کی جان کو خطرہ ہے؟نواز شریف ، شاہد خاقان عباسی اور باقی سابق وزیر اعظم بھی ہیں وہ تو چل پھر رہے ہیں عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ تو وزیر آباد حملہ کرانے والے ہی بتا سکتے ہیں، خدا نخواستہ کوئی واقعہ ہو گیا تو ملک میں حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے-

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر …

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ حالات ایسے ہوں تو ویڈیو لنک پر حاضری ہو سکتی ہے آپ کو کیا اعتراض ہے؟ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نےکہا کہ مجھے 10 سے 15 منٹ دے دیں،میں عدالت کی معاونت کردیتا ہوں،سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی حوالہ ملا توپیش کروں گا۔

    عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سے سوال کیا کہ کیا خطرے کا لیول وہی ہے جو عمران خان کے وکیل بتا رہے ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نےکہا کہ پولیس فائل کے مطابق عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں جس پر عدالت نے کہا کہ تو آپ کہہ رہے ہیں کہ تھریٹ لیول ایسا نہیں جس کا دوسرے فریق نے اظہارکیا؟ اس پر پراسیکیوٹر نےکہا کہ جی میرے علم کے مطابق ایسا نہیں ہے۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نےکہا کہ ہمارے پاس پوری معلومات ہیں، تاریخ کو دہرانےکا موقع نہیں دینا چاہیے، بینظیر بھٹو کا واقعہ سامنے ہےایک حکومتی وزیر ٹی وی پر کہتے ہیں کہ ہم رہیں گے یا عمران خان رہے گا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ تو سیاسی بیان ہے، البتہ بے نظیر واقعے کا حوالہ غور طلب ہے ہمارے پاس قتل کے ملزمان آتے ہیں، ان کو اس سے بھی زیادہ خطرات ہوتے ہیں، آپ کی سکیورٹی نے تو مبینہ طور پر لوکل پولیس پر بھی ہتھیار سیدھے کرلیے تھے، عمران خان زندگی کا حق انجوائے کرنا چاہتے ہیں تو آزادانہ پھرنے کے حق پر سمجھوتہ کرلیں-

    شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان جب بھی باہر نکلتے ہیں ان کے خلاف ایک مقدمہ ضرور درج ہوتا ہے، ان کی جان کو جب تک خطرہ نہیں تھا تو وہ عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، ہمارے پاس اسنائپر شوٹرز کی رپورٹس ہیں، عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔

    وکیل نے کہا کہ عمران خان کو گولیاں لگی تھیں عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ عمران خان کا ایم ایل سی بنا تو ہے لیکن یہ وزیر آباد سے بنا ہونا چاہیے تھا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شامل تفتیش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک بیان ریکارڈ کروا دیا تو ختم، شامل تفتیش ہونے کا مطلب ہےکہ جب پولیس طلب کرے پیش ہونا لازم ہے۔

    عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت اور ویڈیو لنک حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعد ازاں دوبارہ سماعت شروع ہو ئی جس میں عدالت نے عمران خان کو ویڈیو لنک پر حاضری کی اجازت دے دی۔ عدالت نے ایک دن کے لیے استدعا منظور کرتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی بعد ازاں مزید سماعت کے بعد عدالت نے 2 مقدمات میں ضمانت میں توسیع کردی اور عمران خان کو 4 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    عدالت نے فرخ حبیب، فواد چوہدری، حماد اظہر، میاں محمودالرشید اور اعجاز چودھری کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی۔

    بھارتی ریاست پنجاب میں فائرنگ سے ایک اور فوجی ہلاک</h

  • وفاقی حکومت نےتوشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنےکا فیصلہ چیلنج کر دیا

    وفاقی حکومت نےتوشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنےکا فیصلہ چیلنج کر دیا

    لاہور: وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی: وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کے سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے جہاں حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے اپیل دائر کی۔

    بم حملہ،پولیس اہلکار سمیت 5 افراد زخمی

    حکومتی اپیل پر لاہور ہائیکورٹ کا جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس رضا قریشی پر مشتمل 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا سنگل بینچ نے 1990 سے 2001 تک توشہ خانہ کی تفصیل پبلک کرنےکاحکم دیا تھا۔

    23 مارچ کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ حکومت عدالتی حکم کی مصدقہ نقل کے 7 یوم میں توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرے۔

    امریکا میں نامعلوم شخص کا نماز فجر کے دوران امام مسجد پر چاقو حملہ

    جسٹس عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ حکومت 1990ء سے 23 مارچ 2023ء تک تحائف دینے والوں کا نام بھی 7 یوم میں پبلک کرے تحائف کی ملکیت حکومت کے پاس ہوتی ہے، تحائف تب تک حکومت کے پاس ہوتے ہیں جب تک لینے کا طریقہ نہ اختیار کیا جائے۔

  • پی ٹی آئی کا حکومت کیخلاف وائٹ پیپر جاری کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا حکومت کیخلاف وائٹ پیپر جاری کرنے کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے پی ڈی ایم حکومت کے ایک سالہ دور کے خلاف وائٹ پیپر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے آج پی ڈی ایم حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ عمران خان بذریعہ ویڈیو لنک خطاب وائٹ پیپر کے نکات جاری کریں گے وائٹ پیپر میں حکومت کی کارکردگی اور دیگر ایشوز کو اجاگر کیا جائے گا۔

    توشہ خانہ کیس: عدالت نےعمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

    اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی فواد چودھری نے موجودہ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی بدترین فسطائی حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ ایک سال پہلے، وہ رات جب ملکی روشنیاں ختم کرکے ایک حکومت مسلط کی گئی۔

    دوسری طرف رہنما مسلم لیگ ن طلال چودھری کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر پیغام جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خزانہ اورعوام کے پیٹ خالی کرنے والوں سے نجات کا ایک سال مبارک ہو۔ ووٹ چوری کرکے آنے والوں سے عوام کی نجات کو ایک سال ہوگیا معیشت کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں بچھانے والوں سے نجات پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ معیشت اور نوجوانوں کا روزگار تباہ کرنے والوں سے آزادی مبارک ہو۔

    2 سجیلے رہبروں نے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑ لی -امان اللہ کنرانی

  • وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کر لیا-

    باغی ٹی وی: صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پاکستان میں ہماری جنگ حقیقی آزادی کیلئے ہے،عمران خان

    ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 کے حوالے سے صدر کے نکات میں کوئی وزن نہیں، پارلیمان دوبارہ بل کو اکثریت سے منظور کرے گی۔

    لیگی رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ قانون بھی بنے گا اور عدل کے حصول میں ترمیم بھی ہوگی، ترجمان پی ٹی آئی نے ایوانِ صدر سے قانون واپس بھیج دیا تاکہ لاڈلے کیلئے بینچ فِکسنگ ہو سکے۔

    سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، 2 اہلکار شہید

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔

    صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنےاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے۔

    خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • الیکشن ضرور ہوں گےلیکن وقت اورتمام اسٹیک ہولڈرزکی مرضی اور رائے سے،رانا ثنااللہ

    الیکشن ضرور ہوں گےلیکن وقت اورتمام اسٹیک ہولڈرزکی مرضی اور رائے سے،رانا ثنااللہ

    راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ الیکشن ضرور ہوں گے لیکن وقت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور رائے سے ہی ہوں گے-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں متنازع طریقے سے الیکشن کرانےکی کوشش کی جا رہی ہے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کےججز میں بھی اتفاق نہیں ،اس قسم کا الیکشن ملک کوانارکی اورافرا تفری کی طرف دھکیلے گا، ایسے انتخابات خدانخواستہ ملک کی تباہی کا باعث بنیں گے، ہم اس تباہی کے راستے میں رکاوٹ ہیں-

    الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی ہٹ دھرمی کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایک آدمی اپنی انا اور ضد پر اڑا ہوا ہے، کبھی لانگ مارچ اور کبھی عوام کے ذریعے الیکشن چاہتا ہے، ہم الیکشن سے گھبرانے والے نہیں ہیں، ہم ہمیشہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے، الیکشن لڑے اور ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر آئے-

    مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن ضرور ہوں گے لیکن وقت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور رائے سے، جن الیکشنز پر سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن اور باقی اداروں کا اتفاق نہیں تو ایسے الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں۔

    فن لینڈ نیٹو کا رکن بن گیا

  • وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    اسلام آباد : وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق در خواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست اے او آر نے دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیوریٹو درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتی اس لیے حکومت سپریم کورٹ میں دائیر کیوریٹو ریویو واپس لے رہی ہے-

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    وفاقی حکومتی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کیس واپس لینے کی اجازت دے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس واپس لینےکاحکم دیا تھا وزیراعظم نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی ہدایت کی تھی-

    حکومت کا مؤقف ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا یہ ریفرنس نہیں تھاآئین اور قانون کی راہ پر چلنےوالےایک منصف مزاج جج کےخلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پرشب خون اوراسےتقسیم کرنےکی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اوراتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی-

    شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    واضح رہے کہ عمران خان دور حکومت میں پہلے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو ہٹانے کیلئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیامئی 2019 سے جون 2020 تک یہ معاملہ تقریباً 13 ماہ تک چلا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کیجانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس فائزعیسیٰ پریہ الزام لگایا گیا تھاکہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کوچھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کےنام ہیں صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کےحوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    تاہم 7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا تھا جس پر پہلے سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور بارز نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی اور نظرثانی درخواستوں میں اکثریتی فیصلے کے ذریعے ساری کارروائی کو ختم کردیا گیا تھا تاہم جس کے بعد دوبارہ اُس وقت کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو کے نام سے درخواست دائر کردی تھی جسے اب حکومت نے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

  • پی ٹی آئی پر آئندہ چند روز میں پابندی کے اشارے مل رہے ہیں،زلمے خلیل داد

    پی ٹی آئی پر آئندہ چند روز میں پابندی کے اشارے مل رہے ہیں،زلمے خلیل داد

    نیویارک: سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر آئندہ چند روز میں پابندی کے اشارے مل رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ جس پر حکومتی اتحاد کا کنٹرول ہے، آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ سے عمران خان کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دینے کا بھی کہہ سکتی ہے اور پی ٹی آئی پر پابندی عائد کر سکتی ہے-


    زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ایسا لگتا ہے حکومت نے عمران خان کو ریاست کا دشمن نمبر ون بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن اس طرح کے اقدامات پاکستان کے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے بحران کو مزید گہرا کریں گے پہلے ہی کچھ ممالک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو معطل کر دیا ہے-


    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ بھی غیریقینی کا شکار ہے، مذکورہ اقدامات سے پاکستان کیلئے عالمی حمایت میں مزید کمی آئے گی سیاسی پولرائزیشن اور تشدد بڑھنے کا امکان ہے۔


    امید ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت قومی مفاد کو نقصان پہنچانے والی تباہ کن سیاست سے باہر نکلے گی اگر نہیں، تو مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ ایسے کھیلوں میں استعمال ہونے سے منع کرے گی جو قوم کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اگر ایسا نہ کیا تو مجھے پاکستان کے بارے میں تشویش بڑھتی جارہی ہے-

  • توشہ خانہ سے 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی

    توشہ خانہ سے 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ سے 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی: حکومت نے توشہ خانہ پالیسی 2023 فوری طور پر نافذ کر دی اور تمام اداروں کو اس سلسلے میں احکامات جاری کر دیئے ہیں حکومت کی جانب سےکروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، گھڑیاں، زیورات دیگر تحائف حاصل کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

    توشہ خانہ سے کم قیمت پر چیزیں خریدنا شرعی طور پر ناجائز قرار

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر، وزیراعظم ،کابینہ ارکان ،ججز ،سول و ملٹری افسران پر 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی ہوگی جبکہ صدر ، وزیراعظم ، کابینہ ارکان ، پر ملکی و غیر ملکی شخصیات سے نقدی بطور تحفہ وصول کرنے پر بھی پابندی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ججز ،سول و ملٹری افسران پر بھی ملکی و غیر ملکی شخصیات سےکیش بطور تحفہ وصول کرنے پرپابندی ہوگی ،مجبوراً کیش تحفہ وصول کرنے پر فوری پوری رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کی ہدایت ہوگی جبکہ تحائف کے طور پر ملنے والی گاڑیاں اور قیمتی نوادرات کوئی بھی شخصیت خریدنے کی مجاز نہیں ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحائف میں ملنے والی گاڑیاں سینٹرل پول، قیمتی نوادرات سرکاری مقامات پر سجائے جائیں گے، سونے اور چاندی کے سکے اسٹیٹ بینک کے حوالے کر دیئے جائیں گے توشہ خانہ پالیسی کی خلاف ورزی پر متعلقہ شخصیت کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ٕ

    بیٹے کے پاس لے جانے کے بجائے زبردستی عمران خان کے پاس لے گئے. علی بلال کے والد کا انکشاف

    اس کے علاوہ صدر ، وزیراعظم ، کابینہ ارکان، ججز ، سول و ملٹری افسران 300 ڈالر سے کم مالیت کا تحفہ مارکٹ ویلیو پر خریدنے کے مجاز ہوں گے جبکہ 300 ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف اوپن آکشن کے ذریعے عوام بھی خریدنے کے اہل ہوں گے صدر و وزیراعظم کے سوا دیگر شخصیات پر اہل خانہ کیلئے تحائف وصول کرنے پر پابندی عائد ہوگی-

    ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے افسران تحائف کابینہ ڈویژن کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے، تحائف کی مالیت کا تعین ایف بی آر کے ماہر افسران اور نجی فرم سے کروایا جائے گا جبکہ تحفے میں ملنے والا اسلحے کی مالیت کا تعین نجی فرم اور پی او ایف کرے گی غیر ملکی شخصیات سے گریڈ 1 سے گریڈ 4 کے ملازمین کیش بطور تحفہ حاصل کر سکیں گے ۔

    عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ جامعہ نعیمیہ لاہور نے توشہ خانہ قانون کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے اپنا فتوا جاری کردیا ہے جبکہ فتویٰ جاری کرنے والوں میں ڈاکٹر راغب نعیمی، مفتی عمران حنفی، مفتی ندیم قمر، مفتی عارف حسین شامل ہیں۔ اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ سےکم قیمت پر اشیا خریدنا شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے اور حکومتی عہدے پر فائز شخص کو ملا تحفہ ملکیت میں رکھنے پر رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی تھی۔

    جامعہ نعیمیہ نے اپنے فتویٰ میں چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ توشہ خانہ مروجہ قانون تبدیل کرنے میں کردار ادا کریں۔ تاہم خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کیا ہے۔ اور توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

    لندن کی جائیدادیں شہیدوں کی ملکیت ہے. خالد مقبول صدیقی

  • وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    اسلام آباد:حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کر دیا-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپلوڈ کردیا وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002ء سے 2023ء تک کا 466 صفحات پرمشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

    ریکارڈ کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف، سابق وزرائے اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگر کے نام شامل ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈ کیا گیا ہے۔

    وزرائے اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلی حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کےمطابق بغیر ادائیگی کےہی رکھ لیے کیونکہ 2022ء میں 10 ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔

    علاوہ ازیں 10 ہزار سے 4 لاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی جبکہ 4 لاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کیا اجازت تھی۔

    رواں سال 2023 میں موجودہ حکومت نے 59 تحائف وصول کیے ہیں ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال 2022 میں توشہ خانہ میں 224 تحائف موصول ہوئے، 2021 میں 116 تحائف، 2018 میں 175 تحائف اور 2014 میں 91 جبکہ 2015 میں 177 تحائف حکومتی ذمہ داران نے وصول کیے۔

    جنرل (ر) پرویز مشرف

    ریکارڈ کے مطابق 2004 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورجیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

    سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو 6 اپریل 2006ء کو ساڑھے16 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ اگست2007 کو بیگم صہبا مشرف کو ملنےو الے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ 3 اپریل 2007 کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو 14 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

    شوکت عزیز

    سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو 2005 میں ساڑھے 8 لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو 3 لاکھ 55 ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سینکڑوں تحائف 10 ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے۔

    شوکت عزیز کو 27 ستمبر 2007 کو ملنے والی گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، بیس دسمبر دوہزار چھ کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے جو رکھ لئے گئے جبکہ 2006ء میں انہوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں دے دیے۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006ء کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006ء کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو18 لاکھ روپے کے تحائف بھی ملے24 فروری 2010 کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

    اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005ء میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔

    ظفر اللہ خان جمالی

    سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں نصب کروایا جبکہ ظفر اللہ خان جمالی کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 26 لاکھ 34 ہزار 3 سو ستاسی روپے لگائی گئی۔

    ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006ء کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو تحائف ملے جو انہوں نے 10 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیے جبکہ مئی 2006 میں سابق وزیرخزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں دی 16 اگست 2006 کو جہانگیر ترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروایا۔

    آصف علی زرداری

    ریکارڈ کے مطابق دودسمبر 2008 کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی کی ادائیگی کرکے خود رکھ لی جبکہ 26 جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

    آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں 2 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زائد ادا کر کے خود رکھ لیں۔ 28 اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے 16 لاکھ 15ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ11 مارچ 2011 کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی، 13 جون 2011 کو 16 لاکھ مالیتی تحائف ادائیگی کر کے رکھ لئے۔ اس کے علاوہ15 اگست 2011 کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔

    یوسف رضا گیلانی

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۔ 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انہوں نے 6 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا جبکہ انہوں نے 21 لاکھ روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھ لیا۔

    یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ 17 اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لئے۔

    دستاویز کے مطابق سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو 29 فروری 2010 میں سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں دے دی،28 دسمبر2010 کو صحافی رئوف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔ 5 ستمبر2011ء کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے20 ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا اور22 دسمبر2011 کو چودہری پرویز الہی نے چار لاکھ سے زائد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

    نواز شریف

    میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 42 لاکھ 55 ہزار 9 سو 19 روپے لگائی گئی تھی، 20 اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار6 لاکھ 36 ہزار 8 سو 88 روپے ادا کر کے رکھ لی-

    دستاویز کے مطابق نوازشریف نے43ہزار روپے کا گلاس سیٹ اور کارپٹ 6ہزارمیں رکھے، نوازشریف نے وزیراعظم ہوتے ہوئے12لاکھ کی گھڑی ،کف لنک 2 لاکھ 40 ہزار دے کر رکھے، توشہ خانہ سے نوازشریف نے 8 ہزار کا گلدان مفت میں رکھ لیا۔

    شہباز شریف

    وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو15 جولائی 2009ء میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ 10 جون 2010 کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے 40 ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں-

    شہباز شریف نے گائے کا ماڈل، صراحی، وال ہنگنگ، باؤل اور خنجر مفت میں رکھ لیے جبکہ گائے کا ماڈل 8ہزار، صراحی 25ہزار، وال ہنگنگ 17ہزار اور خنجر50ہزار روپے مالیت کے تھے۔

    دستاویز کے مطابق شہبازشریف نے بُک لیٹ 10ہزار، اسٹیڈیم ماڈل 15ہزار توشہ خانہ سے لے کر مفت میں رکھ لیا، شہبازشریف نے پلیٹ کے ساتھ صراحی22ہزار روپے اور آنکس پلیٹ جس کی مالیت 2200روپے تھی فری میں رکھ لی۔

    شہبازشریف نے گھوڑے کا 28ہزار روپے مالیت کا دھاتی مجسمہ فری میں رکھ لیا، شہباز شریف نے چاکلیٹ اور شہد 12ہزار، جار10ہزار روپے کا فری میں رکھ لیا، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے 4لاکھ روپے مالیت کا طلائی گلدان توشہ خانہ سے لیا، انہوں نے طلائی گلدان کیلئے ایک لاکھ 85 ہزار روپے ادائیگی کی، اس کے علاوہ انہوں نے2013 میں بطور وزیراعلیٰ 35ہزار کاڈیکوریشن پیس 5ہزار میں لیا۔

    دستاویز کے مطابق شہباز شریف نےکپ طشتری باؤل 10ہزار، قالین 30ہزارکافری میں رکھ لیاعربی کافی دان 26ہزار،عربی قہوہ دان26ہزار کا فری میں رکھ لیا، مریم نواز،کلثوم اور نوازشریف نے پائن ایپل کا باکس مفت میں رکھا۔

    شاہد خاقان عباسی

    ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    ریکارڈ کے مطابق 2018 میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئیر وسیم کو20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کےقیمتی تحائف موصول ہوئے، سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک عدد ڈائمنڈ گولڈ گھڑی مالیت 8کروڑ 50 لاکھ تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی، کلف لنکس مالیت56 لاکھ 70 ہزار روپے، ایک عدد پین مالیت 15 لاکھ روپے، ایک عدد انگوٹھی جس کی مالیت87 لاکھ 5 ہزار ہے، یہ تمام چیزیں 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے عود کی لکڑی سے تیارشدہ بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے جو بغیر ادائیگی کے حاصل کیں۔ ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 15 لاکھ روپے صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی مالیت9 لاکھ روپے ادا کیے، ایک اور لیڈیز رولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے، عمران خان نے دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزارروپے دیے۔

    دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک پرس مالیت 6 ہزار،ایک لیڈیز پرس مالیت18 ہزار، ایک عدد بال پین مالیت28 ہزار روپے ہے، عمران خان نے صرف3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے ادا کرکے حاصل کیے۔

    ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیئے تھے۔

    صدر عارف علوی

    صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔ اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔

    وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انہوں نے رقم ادائیگی کے بعد رکھ لی۔