Baaghi TV

Tag: وفاق

  • پیٹرولیم لیوی کم کرتے توامیر لوگ بھی سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے،عطا تارڑ

    پیٹرولیم لیوی کم کرتے توامیر لوگ بھی سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے،عطا تارڑ

    وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ موٹرسائیکل سواروں کو20 لیٹر اورچھوٹی گاڑیوں کو30 لیٹر ماہانہ فیول پرریلیف دیا جائے گا-

    وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیول سبسڈی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ اورعالمی صورتحال کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں،وزیراعظم نے غریب طبقے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات پرخصوصی ریلیف کااعلان کیا، موٹرسائیکل سواروں کو20 لیٹر اورچھوٹی گاڑیوں کو30 لیٹر ماہانہ فیول پرریلیف دیا جائے گا،ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سےزیادہ لوگ اس ریلیف پیکج سے فائدہ اٹھائیںموٹر سائیکل والے ہفتے میں ایک بار اور گاڑی والےہر 10 دن میں ایک بار فیول سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں، گاڑی کے لیے 10 لیٹر اور بائیک کے لیے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا۔

    وفاقی وزیرآئی ٹی نے مزید بتایا کہ 9771 پرپیغام بھیج کرپروگرام میں اپنا نام رجسٹرڈ کیا جا سکتا ہے،800 سی سی گاڑیوں اورموٹرسائیکل سواروں کیلئے پیٹرول پر 100روپے فی لیٹر رعایت دی گئی ہے، کوشش ہے کہ پیٹرول پمپوں پرلوگوں کا رش نہ لگے حکومت کوئی شناختی کارڈ نہیں مانگ رہی، موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار فیول سبسڈی حاصل کرسکتے ہیں،ہرشخص کے پاس اسمارٹ فون نہیں اس لیے ایپ نہیں بنائی ،جس نمبرسے میسج کریں گے وہ شناختی کارڈ اورسم شہری کےنام پرہونی چاہیے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں آج رات 12بجے کے بعد سبسڈی کا اجرا ہوگا، وزارت خزانہ کے ساتھ تمام ادارے مل کرکام کر رہے ہیں ،خصوصی اسکیم کااجرا مستحق لوگوں کے لیے ہے ،یہ منفرد اسکیم ہے، اپوزیشن کا کام تجویزدینا ہے ، پیٹرولیم لیوی کم کرتے توامیر لوگ بھی سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے، اس لیے وزیراعظم نے مستحق افراد کیلئے خصوصی ریلیف اسکیم کا اجراء کیا، ایسا نظام پہلے کبھی نہیں متعارف کروایا گیا۔

    وفاقی وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم نے 130 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، لیوی سےبڑھ کر 100روپے فی لیٹر ریلیف دیا، ہم نے تمام وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کی، سب کواکٹھا کرکے ٹارگٹڈ ریلیف کا نظام ترتیب دیا گیا ہےخواہشات کی بنیاد پرنظام نہیں چلتا، وزیراعظم نے غریب طبقے کو سبسڈی دی ہے، معاملات کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، عوام کوجتنا تحفظ اور ریلیف دے سکتے ہیں دیں گے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا۔

    وزیراعظم نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے، مشکل کی اس گھڑ ی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائے گا، جس سے انہیں ماہانہ 2 ہزار روپے تک فائدہ ہوگا۔ اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا یعنی انہیں ماہانہ 3 ہزار روپے تک کا فائدہ حاصل ہو گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کی حدود میں خصوصی ریلیف اسکیم کا اطلاق آج سے کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ہوگا خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل آج سے شروع کردیا گیا ہے، اسکیم کے طریقہ کار اور رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائیں گی۔

    وزیراعظم نے موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

  • خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت  طلب

    خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت طلب

    کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیا ن پروفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی-

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟ وفاقی وزرا کی بیان بازی صوبے کے خلاف سیاسی جارحیت کے مترادف ہے۔

    انہوں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیان بازی سے پہلے تاریخ، آئین اور پارلیمانی ریکارڈ کا مطالعہ کریں پیپلز پارٹی کا موقف دو رخی نہیں بلکہ دوٹوک، اصولی اور آئینی ہے، پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کے خلاف 8 مرتبہ قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔

    انہوں نے (ن) لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرے مگر سندھ کو قربانی کا بکرا نہ بنائے جبکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق اور آئین کو بالادست رکھنے کی سیاست کی ہے،پیپلز پارٹی وفاق اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

    واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی تھی،کہا تھا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پر کروں گا۔

  • نیب کیسز:آئینی عدالت میں اپیل کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جار ی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب مقدمات میں ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں اپیل کا حق دینے سے متعلق ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جار ی کر دیا۔

    جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی جانب سے دائر اس اہم درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،عدالت نے نیب آرڈ یننس میں سیکشن 32 اے کی شمولیت کے خلاف وفاقی حکومت، سیکرٹری نیشنل اسمبلی، سیکرٹری سینیٹ اور سیکرٹری وزارتِ قانون کو ستمبر کے آخری ہفتے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا ہے، چونکہ کیس میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، اس لیے عدالت نے قانونی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسے محض ایک سادہ قانون سازی یا نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175 ایف کے تحت محض آئینی امور کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر سیکشن 32 اے کے ذریعے اب کرمنل نیب کیسز بھی اس کے سپرد کر دیے گئے ہیں جو کہ آئین کے منافی اور واضح تضاد ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سے استفسار کیا کہ قانون کو کن بنیادوں پر چیلنج کیا گیا ہے اور آیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سادہ قانون سازی کا آئینی اختیارات سے تضاد پیدا ہو رہا ہے؟ جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت ان کے موقف کو بالکل درست سمجھی ہے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں نیب کے سیکشن 32 اے کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا تھاعدالت آنے سے قبل صدرِ مملکت، وزیراعظم، سینیٹ اور قومی اسمبلی کو تحریری درخواستیں بھیج چکے ہیں کہ یہ ترمیم آئینی حدود سے تجاوز ہے۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد وکیل کو آئین کے آرٹیکل 185 کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت ستمبر کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • سانحہ پمز:معطل افسران کی جگہ نئی تعیناتیاں،نوٹیفکیشن جاری

    سانحہ پمز:معطل افسران کی جگہ نئی تعیناتیاں،نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے پمز سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد افسران کو معطل اور ان کی جگہ نئی تعیناتیاں کردیں جن کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردئیے گئے۔

    جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر 120 روز کیلئے معطل کردئیے گئے ان کی جگہ ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا،وہ 3سال یا مستقل افسر کی دستیابی تک پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہیں گے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل چودھری وارث علی رضا بھی 120 روز کیلئے معطل کئے گئے ہیں ان کی جگہ ڈاکٹر الطاف حسین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل کا اضافی چارج دے دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پمز کی پروفیسر و ہیڈ آف آبز اینڈ گائنی ڈاکٹر نوشیلا امجد 120 روز کے لیے معطل ہوگئیں ، ان کی جگہ ڈاکٹر شمیلہ کو پروفیسر و ہیڈ آف آبز اینڈ گائنی کا موجودہ چارج دے دیا گیا اسی طرح جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن اسپتال ڈاکٹر مطاہر شاہ بھی 120 روز کیلئے معطل کردئیے گئے ان کی جگہ ڈاکٹر نزہت یاسمین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن اسپتال کا اضافی چارج سونپ دیا گیا –

    نوٹیفکیشن کے مطابق سینئر رجسٹرار آبز اینڈ گائنی ڈاکٹر نگم نواز بھی 120 روز کے لیے معطل ہوگئیں ، ان کی جگہ ڈاکٹر آمنہ کو سینئر رجسٹرار آبز اینڈ گائنی ایم سی ایچ کا موجودہ چارج سونپ دیا گیا،ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس ڈاکٹر سعدیہ ریاض بھی 120 روز کیلئے معطل ہونگی،ڈاکٹر رحمانہ کو ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس چلڈ رن اسپتال کا موجودہ چارج دے دیا گیا پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان بھی 120 روز کیلئے معطل کردئیے گئے ،ان کی جگہ حسن اشرف کو پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کا اضافی چارج دے دیا گیا،اسی طرح پمز کی چارج نرس نسرین اور لیڈی سیکیورٹی اسٹاف ماریا کو ایڈمن پول بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال سے متعلق تفصیلی ایس او پیز اور تربیت موجود نہیں تھی پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف 2 ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر تھا،بریفنگ میں بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں صرف 2 نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ لگنے سے پورا وارڈ جلنے میں صرف 2 منٹ لگے، تاہم ایک نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آگ پھیلنے سے قبل ایک بچے کی جان بچالی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پہلا رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔ وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا بریفنگ کے مطابق جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جبکہ نیونیٹل وارڈ میں عالمی ادار صحت کے متعلقہ قواعد کی بھی خلاف ورزی پائی گئی۔ اسپتال میں ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی مخصوص افسر موجود نہیں تھا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

    اجلاس کو پمز اسپتال کی خستہ حالت اور بدانتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی، وزیر اعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

  • پمز اسپتال میں آتشزدگی: امیر جماعت اسلامی کا شدید افسوس کا اظہار

    پمز اسپتال میں آتشزدگی: امیر جماعت اسلامی کا شدید افسوس کا اظہار

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے نہایت دلخراش واقعے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق ایکس پر اپنے ردعمل میں حافظ نعیم نے کہا کہ جو لوگ وفاقی دارالحکومت میں واقع اسپتال کو نہیں سنبھال سکتے وہ پورا ملک کیا سنبھالیں گے؟15 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے، ان کے والدین پر قیامت گزر گئی ہے، والدین کا یہ سوال بجا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اور عملہ کدھر تھا؟۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ درحقیقت پی ڈی ایم حکومت اور اتحادی جماعتوں کی کارکردگی بدترین ہے، وفاقی حکومت اور اس کے وزراء و ماتحت بیورو کریسی کی نااہلی انتہا کو چھو رہی ہے، صوبائی حکومتوں کا بھی یہی معاملہ ہے،چالیس پچاس سال سے یہی جماعتیں حکومت کررہی ہیں مگر یہ معیشت، قیام امن، تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں ناکام ہوچکے ہیں، ان کے گڈ گورننس کے نعرے دفن ہوگئے۔

  • سی اے اےا ورپی اے اے ہیڈکوارٹرز کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ

    سی اے اےا ورپی اے اے ہیڈکوارٹرز کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) ہیڈکوارٹرز کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر دونوں محکموں کے ہیڈکوارٹرز کی فوری منتقلی کے لیے عارضی ہیڈکوارٹرز کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں نئی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں انتظامی اقدامات کے تحت پی اے اے اور سی اے اے کے افسران پر مشتمل 7 رکنی جوائنٹ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ائیرپورٹس اتھارٹی صادق الرحمان کو جوائنٹ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

    مذکورہ کمیٹی اسلام آباد ائیرپورٹ پر عارضی ہیڈکوارٹرز کی تعمیر کے لیے مخصوص جگہ کا تعین کرے گی،سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نومبر اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کو دسمبر 2026 تک اسلام آباد میں عارضی ہیڈکوارٹرز تعمیر کر کے منتقلی کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس وقت پاکستان سول ایوی ایشن اور ایئرپورٹس اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کراچی میں قائم ہیں، تاہم منتقلی کے بعد بھی دونوں محکموں کے ریجنل دفاتر ملک بھر میں بدستور قائم رہیں گے۔

  • عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی ہے،رانا ثنا اللہ

    عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی ہے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے جو حقائق رکھے گئے، انہیں دیکھتے ہوئے حکومت نے میرٹ پر مناسب فیصلہ کیا، حکومت کو سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم ہے اور اس پر عمل بھی ہوگا، سپریم کورٹ نے قیدی کے حقوق سے متعلق مختلف ترجیحات بیان کی ہیں اور عمر ان خان کی صحت سے متعلق معاملات کو بہتر انداز میں ڈیل کرنے پر زور دیا ہےعدالت نے عمران خان کے اہل خانہ کو بھی اس معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے سے روکا ہے تاکہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ آیا تھا، جس کے بعد میڈیا پر بعض باتیں سامنے آئیں اور معاملہ خراب ہوا،سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر بات ہوتی رہی ہے اور حکومت تحریک انصاف کے رہنماؤں سے کہتی رہی ہے کہ اس معاملے کا طریقہ کار عدالت سے رجوع کرنا ہے، ان کے بقول خوش آئند بات ہے کہ آج تحریک انصاف کے رہنما عدالت کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ جیل حکام یا انتظامیہ کے پاس عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں، اسی طرح کسی دوسرے فریق کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظرانداز کرنے یا میڈیا میں ایسی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس سے دوبارہ تنازع جنم لے سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق تمام رپورٹس طلب کی تھیں اور ان رپورٹس سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں درست مؤقف اختیار کیا اور عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی مخالفت نہیں کی۔

    وزیراعظم سے سہیل آفریدی کی دو ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ خود بھی ان ملاقاتوں میں شریک تھےان ملاقاتوں میں سہیل آفریدی نے مثبت انداز میں گفتگو کی، صوبے اور سیاسی معاملات پر بات کی، تحریک انصاف میں سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں کے ساتھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کرتے رہے ہیں۔

    رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ حکومت کل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس سے بھی ملی، ان کے ساتھ بھی مثبت بات ہوئی۔ امید ہے آنے والے دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوگی،عمران خان کو ریلیف عدالت سے ہی ملے گا اور عدالتی ریلیف کو کسی بھی طور پر سیاسی عمل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

  • عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کا سپریم کورٹ کا حکم :وفاقی حکومت کا نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کا سپریم کورٹ کا حکم :وفاقی حکومت کا نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا گیا ہے اور شفا اسپتال میں طبی معائنے سے متعلق بھی مشاورت کی گئی،سپریم کورٹ کا حکم ان قوانین کے مطابق نہیں جو سزا یافتہ قیدیوں سے متعلق ہیں، جبکہ عدالت کے حکم کے دیگر نکات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیصلہ جاری کیا ہے، تاہم حکومت اس فیصلے پر ازسرنو جائزے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی جیلوں میں بہت سے قیدی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور اہلخانہ و ڈاکٹروں سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔

  • غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کا  خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے،وزیراعظم

    غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔

    وزیراعظم کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے اقدامات پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے کہا کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے انہوں نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی گئی آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) اور پاسکو کو بند کیا جا چکا ہے، جس سے قومی خزانے پر اخراجات کا بوجھ کم ہو رہا ہے،رائٹ سائزنگ اقدامات کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تناسب کم ہوا ہے، جبکہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کا بھی خاتمہ کیا گیا ہے،سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) اور خودمختار اداروں کی رائٹ سائزنگ سے متعلق تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔

    بریفنگ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں،وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ہدایت کی کہ اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کے اندر مکمل کرے اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد مزید تیز کیا جائے۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،جبکہ وزارت خزانہ سے جاری آفس میمور نڈم کے تحت سرکاری ملازمین کے نظرثانی شدہ نئے پے اسکیلز بھی جاری کردیے ہیں۔

    وزارت خزانہ کے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026سے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز پر نظرثانی کا اطلاق کیا گیا ہے اور متعارف کروائے گئے۔

    آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ نظرثانی شدہ نئے بنیادی پے اسکیلز 2026 میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو ضم کیا گیا ہے اور موجودہ ملاز مین کی تنخواہیں یکم جولائی 2026 سے نئے پے اسکیلز میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیاد پر مقرر کی جائیں گی جبکہ سالانہ انکریمنٹ بدستور ہر سال یکم دسمبر کو موجودہ قواعد کے مطابق دی جائے گی۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 ختم تصور کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے سول ملازمین، دفاعی تخمینوں سے تنخواہ پانے والے سویلین ملازمین، کنٹریکٹ پر تعینات اہلکاروں اور دیگر متعلقہ ملازمین کو بی پی ایس 2026کی رننگ بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، یہ الاؤنس انکم ٹیکس کے تابع ہوگا اور اس کے اطلاق سے متعلق دیگر شرائط بھی آفس میمورنڈم میں درج کی گئی ہیں۔

    وزارت خزانہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں، ڈویڑنز اور محکمے اپنے ملازمین سے 30 روز کے اندر تحریری اور ناقابل واپسی آپشن حاصل کریں کہ وہ بنیادی پے اسکیل 2022کے تحت تنخواہ لینا چاہتے ہیں یا نئے بیسک پے اسکیل 2026کے تحت تنخواہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،مقررہ مدت میں آ پشن نہ دینے والے ملازمین کو خودکار طور پر بیسک پے اسکیل 2026 کا انتخاب کرنے والا تصور کیا جائے گا نئے پے اسکیلز کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کے ازالے کے لیے وزارت خزانہ میں ایناملی کمیٹی قائم کی جائے گی۔