Baaghi TV

Tag: وفاق

  • غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کا  خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے،وزیراعظم

    غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔

    وزیراعظم کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے اقدامات پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے کہا کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے انہوں نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی گئی آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) اور پاسکو کو بند کیا جا چکا ہے، جس سے قومی خزانے پر اخراجات کا بوجھ کم ہو رہا ہے،رائٹ سائزنگ اقدامات کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تناسب کم ہوا ہے، جبکہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کا بھی خاتمہ کیا گیا ہے،سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) اور خودمختار اداروں کی رائٹ سائزنگ سے متعلق تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔

    بریفنگ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں،وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ہدایت کی کہ اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کے اندر مکمل کرے اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد مزید تیز کیا جائے۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،جبکہ وزارت خزانہ سے جاری آفس میمور نڈم کے تحت سرکاری ملازمین کے نظرثانی شدہ نئے پے اسکیلز بھی جاری کردیے ہیں۔

    وزارت خزانہ کے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026سے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز پر نظرثانی کا اطلاق کیا گیا ہے اور متعارف کروائے گئے۔

    آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ نظرثانی شدہ نئے بنیادی پے اسکیلز 2026 میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو ضم کیا گیا ہے اور موجودہ ملاز مین کی تنخواہیں یکم جولائی 2026 سے نئے پے اسکیلز میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیاد پر مقرر کی جائیں گی جبکہ سالانہ انکریمنٹ بدستور ہر سال یکم دسمبر کو موجودہ قواعد کے مطابق دی جائے گی۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 ختم تصور کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے سول ملازمین، دفاعی تخمینوں سے تنخواہ پانے والے سویلین ملازمین، کنٹریکٹ پر تعینات اہلکاروں اور دیگر متعلقہ ملازمین کو بی پی ایس 2026کی رننگ بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، یہ الاؤنس انکم ٹیکس کے تابع ہوگا اور اس کے اطلاق سے متعلق دیگر شرائط بھی آفس میمورنڈم میں درج کی گئی ہیں۔

    وزارت خزانہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں، ڈویڑنز اور محکمے اپنے ملازمین سے 30 روز کے اندر تحریری اور ناقابل واپسی آپشن حاصل کریں کہ وہ بنیادی پے اسکیل 2022کے تحت تنخواہ لینا چاہتے ہیں یا نئے بیسک پے اسکیل 2026کے تحت تنخواہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،مقررہ مدت میں آ پشن نہ دینے والے ملازمین کو خودکار طور پر بیسک پے اسکیل 2026 کا انتخاب کرنے والا تصور کیا جائے گا نئے پے اسکیلز کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کے ازالے کے لیے وزارت خزانہ میں ایناملی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

  • ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، شرجیل میمن

    ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، شرجیل میمن

    کراچی:سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے-

    سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے انہیں کراچی کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر وفاق سے سوال کرنے کا مشورہ دیا وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بلیک میلنگ کا ثبوت ہے، ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی ہے، اسی وجہ سے اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ میں دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہوسکتا، ایم کیو ایم اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرے۔

    واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں اور گورنر شپ سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھیں گے۔

    فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں، آرٹیکل 140 اے، سندھ کی گورنر شپ اور اربن ڈیولپمنٹ پیکج جیسے مطالبات منظور نہ ہوئےتو ایم کیو ایم پاکستان جلد اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط لکھے گی اور اپنے 22 اراکین کے لیے اپوزیشن بینچوں پر جگہ بنانے کی درخواست کرےگی 2022 میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دستخط کیے ، وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس معاہدے کے ضامن اور گواہ تھے، آخری وارننگ ہے، وزیر اعظم معاہدے پر عمل درآمد کروائیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں، فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے بتایا ہے گورنر سندھ کو ہٹانے میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے، وفاق اس معاملے پر وضاحت کرے۔

  • کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کیلئے انتظامی یونٹ بنائیں،ایم کیو ایم کا مطالبہ

    کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کیلئے انتظامی یونٹ بنائیں،ایم کیو ایم کا مطالبہ

    ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں اور گورنر شپ سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھیں گے۔

    فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاپتہ ساتھیوں، آرٹیکل 140 اے، سندھ کی گورنر شپ اور اربن ڈیولپمنٹ پیکج جیسے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ایم کیو ایم پاکستان جلد اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط لکھے گی اور اپنے 22 اراکین کے لیے اپوزیشن بینچوں پر جگہ بنانے کی درخواست کرے گی، 2022 میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دستخط کیے ، وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس معاہدے کے ضامن اور گواہ تھے، آخری وارننگ ہے، وزیر اعظم معاہدے پر عمل درآمد کروائیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں، پیپلز پارٹی نے بتایا ہے گورنر سندھ کو ہٹانے میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے، وفاق اس معاملے پر وضاحت کرے۔

  • وفاق کا کفایت شعاری کے تحت  اضافی اقدامات ختم کرنے کا اعلان

    وفاق کا کفایت شعاری کے تحت اضافی اقدامات ختم کرنے کا اعلان

    وفاقی حکومت نے ملک میں نافذ فیول کنزرویشن اور کفایت شعاری کے تحت کیے گئے اضافی اقدامات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 9 مارچ سے نافذ کیے گئے اضافی کفایت شعاری اقدامات اب ختم تصور ہوں گےاور تمام متعلقہ ادارے اپنی معمول کی پالیسیوں پر واپس آ جائیں گے ریستوران، کیفے اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھ سکیں گے، جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا اسی طرح میڈیکل اسٹورز، اسپتال، لیبارٹریز اور پیٹرول پمپس کو اوقات کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل رہے گا، تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

    حکومتی فیصلے کے بعد ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کے معمولات پہلے کی طرح بحال ہو گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو نوٹیفکیشن پر فوری عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

  • تمام گاڑیوں کے لیے سابقہ مقررہ حدِ رفتار بحال کر دی گئی، ترجمان موٹرویز

    تمام گاڑیوں کے لیے سابقہ مقررہ حدِ رفتار بحال کر دی گئی، ترجمان موٹرویز

    وفاقی حکومت نے موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر حد رفتار میں کی گئی عارضی کمی واپس لیتے ہوئے سابقہ سیڈ کو بحال کردیا۔

    ترجمان موٹرویز نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے حد رفتار میں کی گئی عارضی کمی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے تمام سابقہ رفتار کی حدود دوبارہ نافذ کر دی ہیں، موٹرویز پر کار اور ایل ٹی وی گاڑیاں دوبارہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ، پی ایس وی اور ایچ ٹی وی گاڑیاں 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکیں گی قومی شاہراہوں پر بھی تمام گاڑیوں کے لیے سابقہ مقررہ حدِ رفتار بحال کر دی گئی ہے رفتار کی حدیں بحال ہونے کے باوجود محفوظ ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

  • حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے دو پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہےسال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہےاس فیصلے سےسرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہو گا جس کے اثرات مستقبل میں ملنے والی مراعات، پنشن اور دیگر الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنسمیں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے یہ فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے ان اقدامات سے ملازمین کے معیار زندگی میں بہتر ی آئے گی جبکہ بنیادی تنخواہ بڑھنے کے باعث ہاؤس رینٹ سمیت دیگر مراعات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا حکومت نے اسے موجودہ معاشی حالا ت میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔

  • وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ایک سال میں قومی خزانے پر 7 ہزار ارب روپے قرض کا اضافہ ہوگیا ہے، وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح 81 ہزار 930 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

    ملکی معاشی اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا ہو شر با اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مالیاتی ماہرین اس صورتحال کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں کیونکہ قرضوں کا حجم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے،علاوہ ازیں صرف اپریل 2026 کے ایک ماہ کے دوران ہی مرکزی حکومت کے قرضوں میں 1406 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بیرونی اور ملکی قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے لیا جانے والا یہ بھاری قرض ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔

  • خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو  این ایف سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی،سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو این ایف سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے وفاقی وزیر احسن اقبال اور وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں این ایف سی اجلاس اور صوبے کے مالی حقوق سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو صوبائی حکومت کے لیے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی بجٹ اور قومی اہمیت کے دیگر معاملات پر فیصلوں سے قبل عمران خان سے مشاورت اور ان کی منظوری ناگزیر ہےتمام سیاسی جماعتیں اہم قومی اور سیاسی فیصلوں سے پہلے اپنی قیادت سے مشاورت کرتی ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت بھی اسی جمہوری اور سیاسی روایت پر عمل پیرا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حقوق میں مسلسل کٹو تیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے مختص اے آئی پی فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اے آئی پی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے ضم شدہ اضلاع کا این ایف سی حصہ گزشتہ 8 برسوں سے غیر آئینی طور پر روکا جا رہا ہے، جو وہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی نمائندوں کے ساتھ ہر ملاقات کے بعد مسائل کے حل کے بجائے صوبے کے ساتھ مزید ناانصافیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے صوبے کی مجموعی کھپت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے سوات میں مکمل شدہ ڈیم منصوبے کے آغاز کے لیے چینی انجینیئرز کو تاحال این او سی جاری نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔

    انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے اگر پنجاب خیبرپختونخوا کو گندم فراہم نہیں کرنا چاہتا تو آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی عملی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے، آئین بین الصوبائی تجارت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی وسائل پر ترجیحی حق کی واضح ضمانت دیتا ہے، لہٰذا اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیےبس ٹرمینل کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے باعث تاحال فعال نہیں ہو سکا۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بس ٹرمینل کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم نے خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات، مطالبات اور تجاویز وزیراعظم اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھانے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  • وزیراعظم  نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔

    کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔

    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تا کہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔