Baaghi TV

Tag: وفاق

  • حکومت پاکستان کا پنجاب کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دینے سے انکار

    حکومت پاکستان کا پنجاب کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دینے سے انکار

    لاہور:وفاق کا پنجاب کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دینے سے انکار،اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے اہل پنجاب کی غذائی ضرورت کے حوالے پنجاب حکومت کی درخواست کو مسترد کردیا ہے ،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلی چودھری پرویزالٰہی نے وفاق کی طرف سے پنجاب کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت نہ دینے پر اظہار تشویش کیا ہے، وفاق کی طرف سے اہل پنجاب کی غذائی ضروریات کے حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پنجاب نے خود ادائیگی کرکے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ او ردیگرصوبوں کو وفاق کی طرف سے امپورٹ کردہ گندم فراہم کی جاچکی ہے۔چودھری پرویزالٰہی کا مزید کہنا تھا کہ وفاق پہلے بھی گندم امپورٹ کرچکا ہے لیکن پنجاب کو شیئر نہیں دیا۔شہباز شریف ن لیگ کو پنجاب سے نکالنے کا بدلہ عوام سے لینے کی سازش کررہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میں گندم کی قلت پیدا کرنے کی مذموم کاوش کی جارہی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پنجاب سے اسلام آباد کو بدستور16ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔پنجاب نے عوامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق گندم امپورٹ کی اجازت طلب کی۔وفاق کا پنجاب کے عوام کے بارے میں رویہ افسوسناک ہی نہیں، قابل مذمت بھی ہے۔

    چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب میں مختلف وجوہات کی بنا پر رواں سال میں گندم کا سٹاک نسبتاً کم ہے۔پنجاب میں سیلاب متاثرین او ردیگر وجوہات کی بنا پر گندم کی امپورٹ ناگزیر ہوچکی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس
    اجلاس میں گندم کے موجودہ سٹاک اور دیگر امور کاجائزہ بھی لیا گیا ، اس کے ساتھ ستاھ یوریا، فاسفیٹ، گندم کے بیج اور درآمدی گندم پر سبسڈی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا

    اس موقع پر وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نےسبسڈی کے لئے قابل عمل او ربہتر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ، پنجاب کی عوام کے حوالےسے ان فیصلوں کی اس مجلس میں صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی، وزیرخوراک سردار حسنین بہادر دریشک،سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری زراعت، سیکرٹری خوراک، ڈائریکٹر خوراک اور متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے

  • سی سی پی او لا ہور کا تبادلہ: پنجاب اور وفاق ایک بارپھر آمنے سامنے

    سی سی پی او لا ہور کا تبادلہ: پنجاب اور وفاق ایک بارپھر آمنے سامنے

    لاہور:کیپیٹل چیف پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے پر پنجاب حکومت اور وفاق ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے۔تفصیلات کے مطابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ کر دیا گیا، انہیں فوری طور پر وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    دوسری طرف سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ کیوں ہوا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اراکین قومی اسمبلی جاوید لطیف، مریم اورنگزیب و دیگر پر مقدمہ درج کرنے پر ایکشن لیا، لیگی رہنماؤں سےمتعلق سخت پالیسی اپنانے اور 25 مئی کی تفتیش پی ٹی آئی پالیسی کےتحت کرنے پر ایکشن لیا گیا۔ غلام محمود ڈوگر نے مقدمہ درج کرنے سے متعلق سپیشل احکامات دیئے تھے،غلام محمود ڈوگر مسلم لیگ ن کے سینئررہنماؤں سے متعلق سخت احکامات دیتے رہے۔

    ذرائع کے مطابق غلام محمودڈوگر پر 25 مئی سے متعلق پی ٹی آئی پالیسی کے تحت تفتیش کرنے کا الزام عائد کیا گیا، غلام محمود ڈوگر پر وزیراعظم کی لاہور آمد پر سکیورٹی فراہم نہ کرنے کا بھی الزام لگایا گیا، لیگی رہنماؤں اوردیگراہم رپورٹس پر وفاقی وزیر داخلہ نے ایکشن لیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ غلام محمود ڈوگر نے کوئی غلط کام نہیں کیا،قانون کے تحت سب اقدامات کئے۔

    دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بغیر اعتماد میں لئے سی سی پی او لاہور کے تبادلے پر وفاقی حکومت سے شدید احتجاج کیا اور سی سی پی او لاہور کو چارج چھوڑنے سے روک دیا۔

    چودھری پرویزالہٰی کاکہنا تھا کہ وفاقی حکومت انتقام میں آندھی ہو چکی ہے،سی سی پی او لاہور کو وفاقی حکومت ہٹاسکتی ہے نہ تبادلہ کی مجاز ہے،سی سی پی او لاہور کو ہٹانے یا لگانے کا اختیار میرا ہے،وفاقی حکومت کے ہر غیر قانونی اقدام پر بھرپور احتجاج کرتے ہیں۔

    دوسری طرف صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ حکومت پنجاب کے اگلے حکم تک غلام محمود ڈوگر فرائض انجام دیتے رہیں گے،سی سی پی اولاہورغلام محمود ڈوگر اسٹیبلشمنٹ میں رپورٹ نہیں کریں گے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ایچ ای سی کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    ایچ ای سی کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 26 اپریل کو سماعت کرے گا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    وفاق نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال کے شروع میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید بنوری کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا سابقہ حکومت پی ٹی آئی نے گذشتہ سال مارچ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کو مدت ملازمت مکمل کرنے سے پہلے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    سٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002 میں ترمیم کے بعد ڈاکٹر طارق بنوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہےآرڈیننس 2002 کے تحت ڈاکٹر طارق بنوری نے چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے پر چار سال کے لیے فائز رہنا تھا، اس کے تحت ان کی مدت ملازمت مئی 2022 میں مکمل ہونا تھی ترمیمی آرڈیننس 2021 کے تحت چیئرمین ایچ ای سی کی مدت کم کر کے دو سال کر دی گئی ہے۔

    امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات میں کون سی امریکی سازش پر بات ہوئی؟ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے دائرہ اختیار اور چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹائے جانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

    بعد ازاں وفاق نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس پررواں سال فروری میں سپریم کورٹ نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لی تھی اس وقت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ چیئرمین ایچ ای سی کی سربراہی میں کمیشن جو بھی تعیناتیاں کر رہا ہے وہ اس کیس سے مشروط ہوں گی۔

    سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی کا مختصر فیصلہ جاری کیا ہے ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد کیس کی سماعت کریں گےکیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کو پابند کیا جائے کہ روزانہ کے معاملات پر کام کریں چیئرمین ایچ ای سی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی تعینات نہیں کر سکتے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ایچ ای سی کے قوانین اب بدل چکے ہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چیئرمین ایچ ای سی کو پالیسی معاملات پر فیصلوں سے روکا جائے۔

    عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ ، ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کریں ،حکومتی مراسلہ

    جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا تھا کہ چیئرمن ایچ ای سی کے پاس کسی کی تعیناتی کے اختیار کیوں نہیں ہیں؟ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں قانون میں ترمیم کر دی اور پھر کہہ رہے ہیں چیئرمین کو اختیارات کے استعمال سے بھی روکیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی صرف ایکسپرٹ تعینات کر سکتے ہیں چیئرمین ایچ ای سی ریکٹر اور کمیٹی ممبران کی تعیناتی کرکے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کے موجودہ کیس کے فیصلے پر تعیناتیوں کا معاملہ طے ہو گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی تھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 26 اپریل کو سماعت کرے گا-

    واضح رہے کہ ڈاکٹر طارق بنوری کو پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مئی 2018 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین تعینات کیا تھا۔

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

  • وفاق میں کس جماعت کو کتنی اور کون کون سی وزارتیں ملیں گی؟

    وفاق میں کس جماعت کو کتنی اور کون کون سی وزارتیں ملیں گی؟

    وفاقی کابینہ کی تشکیل کا معاملہ آج حلف برداری متوقع مسلم لیگ ن کی مریم اورنگزیب اطلاعات اور مفتاح اسماعیل وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالیں گے وزرات خارجہ پیپلزپارٹی ، کے حصے میں آئے گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم میا ں شہباز شریف کی کا بینہ ٹیم میں مسلم لیگ ن سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، وزیر اطلاعات مریم اونگزیب ہوں گی جبکہ وزارت داخلہ ، پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ، انرجی، تجارت، اسٹیبلمنٹ ، کیبنٹ ، نیشنل سیکورٹی، بین الصبوائی رابطہ ، لاا ینڈ جسٹس، پارلیمانی آفیئر بھی مسلم لیگ ن کے حصے میں آئیں ہیں جن کے وزرا کے نام بعد میں دیئے جائیں گے-

    شاہد خاقان عباسی نے وزارت لینے سے معذرت کر لی

    اسی طرح پیپلزپارٹی کی وزاتوں میں وزارت خارجہ ،آبی وسائل، صحت ، ہیومین رائٹس، ایجوکیشن ، موسمیاتی تبدیلی ، کمیونیکشن ، انڈسڑیزاینڈ پروڈکشن ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلزپارٹی کے ذمے ہوں گیں جبکہ فاقی وزراء اے این پی سے امیر حیدر ہوتی ، اور شازین بگٹی ہوں گے جے یو آئی کے زمے وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس ، اور مذہبی امور ہوں گیں جبکہ خاتون ڈیپٹی سپیکرمسماتہ شاہدہ ہوں گی –

    پنجاب اسمبلی کے چالیسویں اجلاس کی اگلی نشست کی تاریخ جاری

    بلوچستان عوامی پارٹی کو وزارت ڈیفنس پروڈکشن ملے گی اسی طرح بی این بی مینگل گروپ کو بھی ایک وزارت ملے گی اور ایم کیو ایم کو میری ٹائم آفیئر اور انفارمشین ٹیکنالوجی کی وزارتیں ملیں گیں ، وفاقی کابینہ کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں آج حلف برداری متوقع ہے-

    ترجمان پنجاب اسمبلی نے افسران کی معطلی کی تردید کر دی

  • وفاق کی طرح پنجاب میں بھی غیرآئینی اقدامات کی تیاری کی جارہی ہے،لیگی رہنما

    وفاق کی طرح پنجاب میں بھی غیرآئینی اقدامات کی تیاری کی جارہی ہے،لیگی رہنما

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے دعویٰ کیا ہے کہ حمزہ شہباز کل وزیراعلیٰ پنجاب بننے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے الزام لگایا کہ کل ارکان اسمبلی پر پابندی لگا کر اجلاس میں شرکت سے روکا جائے گا وفاق کی طرح پنجاب میں بھی غیر آئینی اقدامات کی تیاری کی جارہی ہے پرویز الہٰی نے شکست دیکھ کر وضع داری کی سیاست کو ختم کر دیا اگر ووٹ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ذمہ دار پرویز الہٰی ہوں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ اسپیکر کا کام الیکشن کروانا تھا نہ کہ کسی کا آلہ کار بنا جائے پنجاب میں پلان کر کے ہنگامہ کر وایا گیا پھر اور اجلاس کو ملتوی کیا گیا ہمارے لوگ روزے میں تھے بجلی ، پانی اور اے سی بند کردیئے گئے-

    مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا ہے کہ اس سے زیادہ لا قانونیت اسمبلی میں نہیں دیکھی گئی اگر حمزہ شہباز کے پاس تعداد 200سے کم ہوتی تو الیکشن کروا دیتے اسپیکر میں اگر ہمت تھی تو استعفٰی دے کر الیکشن لڑتے۔

    رانا مشہود نے کہا کہ علیم خان کی پریس کانفرنس نے سب کچھ واضح کر دیا۔پی ٹی آئی والوں کے مکروہ چہروں نے مذہب کارڈ کھیلا۔ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس میں انصاف ہو۔

    وزیراعظم عمران خان آج لاہورکا دورہ کریں گے

    دوسری جانب پی ٹی آئی نےاراکین کو وزیراعلی ٰپنجاب کے انتخاب میں پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا پابند کر دیا گیا ہے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی کو نوٹس پارٹی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے جاری کیے-

    نوٹس میں اسد عمر نے کہا کہ منحرف ارکان کی حمزہ شہباز کے ساتھ پریس کانفرنس اور ملاقاتوں کا ریکارڈ اکٹھا کرلیا گیا ہے غیر حاضری یا خلاف ووٹ دینے پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی ،

    عدالت نے 31 مارچ اور 3 اپریل کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس طلب کرلیے

  • شیخ رشید نے طارق دھاریجو کے خلاف آستین چڑھا لی: کاروائی کا فیصلہ کرلیا-

    شیخ رشید نے طارق دھاریجو کے خلاف آستین چڑھا لی: کاروائی کا فیصلہ کرلیا-

    وفاق نےاینٹی انکروچمنٹ سیل کے سربراہ طارق دھاریجوکے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کی بنا پر کاروائی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں

    سندھ میں اپوزیشن لیڈر حکیم عادل شیخ کے فارم ہاؤس پر چڑھائی طارق دھاریجو کو مہنگی پڑ گئی۔ وزارت داخلہ کو طارق دھاریجو کے خلاف سخت کاروائی کے احکامات جاری کردئیے گئےہیں- فارم ہاؤسز کے خلاف کاروائی بغیر کسی انتباہ کے کیا گیا۔ طارق دھاریجو کا فون ریکارڈ بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے- گزشتہ دو دن کے دوران طارق دھاریجو کس کس حکومتی شخصیات سے رابطے میں رہے اورکاروائی کے وقت کس کس سے فون پر بات کرتے رہے تھے-طارق دھاریجو کے فون ڈیٹا کی تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی۔
    شیخ رشید نے طارق دھاریجو کے خلاف آستین چڑھا لی اور ان کے خلاف کاروائی کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا-

  • پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟

    پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟

    اسٹیل مل پر سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ٹریڈ یونین رہنماؤں سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اسٹیل مل کو فوری طور پر سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے لیے سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ فیصلہ ٹریڈ یونین رہنماؤں کی سفارش پر کیا گیا ہے.
    اجلاس میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ ،سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی، سیکریٹری محکمہ محنت رشيد سولنگی، ڈپٹی کمشنر ملیر گھنور لغاری، مزدور رہنما کرامت علی، حبیب جنیدی اور اسٹیل مل ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی جس میں سندھ حکومت نے اسٹیل مل معاملے پر وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، مسودہ مشیر قانون مرتضیٰ وہاب تیار کر رہے ہیں۔
    اس مو قع پر سید ناصر حسین شاہ کا کہان تھا کہ سندھ حکومت محنت کشوں کے حقوق کا ہرحال میں تحفظ کرے گی.
    اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت ہے کہ اسٹیل مل کے محنت کشوں سے سفارشات لے کر ان پر عمل کیا جائے۔انکا کہنا تھا کہ محنت کش پر امن احتجاج کریں، ان کا حق ہے، لیکن ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے ان کی تحریک کو نقصان پہنچے کچھ سال قبل پی آئی اے کی تحریک میں میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں تھیں. صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم خط لکھیں اور وفاقی حکومت فوراً اسٹیل مل کا کنٹرول سندھ حکومت کے حوالے کر دے۔ یہ طویل جدوجہد ہے جو ہم سب نے مل کر کرنی ہے.
    اس موقع پر مزدور رہنما کرامت علی کا کہنا تھا کہ مستقل بنیادوں پر تحریک چلانی پڑے گی، وفاق اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔سٹیل مل پر پبلک کو موبلائیز کرنے کی ضرورت ہے، احتجاج کرنے والے مزدوروں کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، یہ ہمارے قوانین کی خلاف ورزی ہے اسے روکا جائے۔ ٹریڈ یونین رہنماکا کہنا تھا کہ یہاں پر بیٹھے تمام ٹریڈ یونین ساتھی متفق ہیں کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اس معاملے کو روکیں گے.