Baaghi TV

Tag: ٌاتازہ ترین

  • پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا 5 اگست کو ”یومِ سیاہ“ منانے کا اعلان

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا 5 اگست کو ”یومِ سیاہ“ منانے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا نے 5 اگست کو بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ”یومِ سیاہ“ منانے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ٹی آئی قیادت نے اس احتجاج کو پرامن رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ اگر کوئی شرارت کی گئی تو کارکنان خاموش نہیں رہیں گے۔

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور شہرام ترکئی نے صوابی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو ملک بھر میں پرامن تحریک کا آغاز کیا جائے گا،اسد قیصر نے کہا کہ یہ دن بانی چیئرمین کی گرفتاری کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا، ان کی رہائی ان کا حق ہے، عدالتیں حکومتی دباؤ میں فیصلے دے رہی ہیں۔اسد قیصر نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ بانی کے مقدمات کو جلد نمٹائیں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ بے توقیر ہو چکی ہے، اپوزیشن رہنماؤں کو ناحق سزائیں دی جا رہی ہیں۔

    شہرام ترکئی نے کہا کہ ہم اسلحہ نہیں، قلم اور تجارت کے مواقع چاہتے ہیں، افغانستان سے تجارتی راستے کھولے جائیں۔ 5 اگست کو سفید، قومی اور پارٹی پرچموں کے ساتھ احتجاج ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پرامن ہیں، لیکن اگر شرارت کی گئی تو کارکن بھرپور جواب دیں گے۔

    ہری پور میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے بھی یوم سیاہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کا احتجاج ضلعی سطح پر ہوگا، کوئی مرکزی احتجاجی تحریک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی نے علی امین گنڈاپور کے استعفے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ بانی کے بیٹے جب چاہیں پاکستان آسکتے ہیں، پی ٹی آئی کی پوری قیادت ان کا استقبال کرے گی۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پشاور میں ریلی کی قیادت کریں گے جبکہ تمام اضلاع میں علیحدہ علیحدہ ریلیاں نکالی جائیں گی، مرادن، صوابی اور نوشہرہ کے قافلے صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے۔

  • اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ :شہزادہ ہیری نےشہزادہ اینڈریوکو  مکا ماردیا، نئی کتاب میں دعویٰ

    اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ :شہزادہ ہیری نےشہزادہ اینڈریوکو مکا ماردیا، نئی کتاب میں دعویٰ

    ایک نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری نے اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ کی ادائیگی پر پرنس اینڈریو کو اتنی زور سے مکا مارا کہ اُن کی ناک سے خون بہنے لگا۔ تاہم، شہزادہ ہیری نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

    پرنس ہیری نے ایک نئی کتاب میں لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا اپنے چچا پرنس اینڈریو کے ساتھ جسمانی جھگڑا ہوا تھا اور اینڈریو نے میگھن مارکل کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔

    مؤرخ اینڈریو لاؤنی کی تازہ کتاب ”Entitled: The Rise and Fall of the House of York“ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جھگڑا 2013میں،اس وقت شروع ہوا جب پرنس اینڈریو نے میگھن مارکل کو ”موقع پرست عورت“ قرار دیا، یہ خبر ایک قابلِ اعتماد ذریعے نے دی تھی، جو پرنس اینڈریو کے قریبی حلقوں سے ہے۔ اس ذریعے نے دعویٰ کیا کہ دونوں شہزادوں کے درمیان اس وقت تلخی بڑھی جب ہیری نے میگھن پر ہونے والی تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا۔

    شہزادہ ہیری کی ٹیم نے دعوے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہاکہ،ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ پرنس ہیری اور پرنس اینڈریو کے درمیان جسمانی طور پر کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا، اور نہ ہی پرنس اینڈریو نے میگھن مارکل سے متعلق کوئی نامناسب تبصرہ کیا-

    مگر اس تردید کے باوجود مصنف اینڈریو لاؤنی اپنے مؤقف پر قائم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میرا ذریعہ نہایت قابلِ اعتماد ہے، اینڈریو کے بہت قریب رہا ہے، اور میرے پاس تفصیلات کی بھرمار ہے۔ میرے ناشر نے تبصرے کے لیے سسیکس خاندان سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

    یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرنس ہیری پہلے ہی برطانوی میڈیا، خصوصاً ڈیلی میل کے خلاف عدالتی مقدمات میں مصروف ہیں ہیری کا الزام ہے کہ ان کی ذاتی معلومات غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئیں۔

    خاندان میں دیرینہ تناؤ کے باوجود شہزادہ ہیری نے مصالحت کی خواہش کا اظہار کیا ہے،مئی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ہیری نے کہا، "میں اپنے خاندان کے ساتھ مفاہمت پسند کروں گا۔ اب مزید لڑائی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی ترجیح اپنی بیوی اور بچوں کی حفاظت ہے۔

    مصنف کے مطابق، بدنام زمانہ شخصیت جیفری ایپسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ ’اینڈریو عورتوں کے معاملے میں مجھ سے بھی زیادہ جنونی ہے،کتاب میں بعض ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ پرنس اینڈریو نے زندگی میں ایک ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے، اور انہیں ”سیریل سیکس ایڈکٹ“ کہا گیا۔

    واضح رہے کہ پرنس اینڈریو کو 2022 میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد شاہی معاملات سے فارغ کر دیا گیا تھا ورجینیا جیفری نامی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ اینڈریو نے انہیں اس وقت جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جب وہ صرف 17 سال کی تھیں یہ کیس میں معاملات عدالت سے باہر ہی طے پا گئے تھے، مگر پرنس اینڈریو کو شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا،اس تمام تر صورتحال نے نہ صرف شاہی خاندان کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ شہزادہ ہیری اور بکنگھم پیلس کے درمیان بڑھتے فاصلے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

  • روس: 7.0 شدت کا زلزلہ،3 علاقوں میں سونامی کی لہروں کا امکان

    روس: 7.0 شدت کا زلزلہ،3 علاقوں میں سونامی کی لہروں کا امکان

    روس کے مشرقی علاقے کمچاتکا کے قریبی کرل جزائر میں 7.0 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق،روسی وزارت برائے ہنگامی خدمات (ایمرجنسی سروس) نے کہا ہے کہ روس کے مشرقی علاقے کمچاتکا کے قریبی کرل جزائر میں 7.0 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا ہے، جس کے بعد 3 علاقوں میں سونامی کی لہروں کا امکان ہے۔

    اتوار کو روس کی وزارت نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر کہا کہ متوقع لہروں کی اونچائی کم ہے، لیکن پھر بھی شہری ساحل سے دور رہیں،بحرالکاہل سونامی وارننگ سسٹم (جس نے زلزلے کی شدت 7.0 ریکارڈ کی) نے کہا کہ زلزلے کے بعد کوئی سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی، امریکی جیولوجیکل سروے نے بھی زلزلے کی شدت 7.0 بتائی ہے۔

    روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آر آئی اے‘ اور سائنس دانوں نے اتوار کو اطلاع دی کہ رات گئے کمچاتکا کے کرشینینیکوف آتش فشاں میں 600 سال بعد پہلی بار دھماکا ہوا،جس کے بعد فضاء میں راکھ کا بادل 6 ہزار میٹر (تقریباً 3.7 میل) کی بلندی تک جا پہنچا،یہ دونوں واقعات گزشتہ ہفتے مشرقی روس میں آنے والے 8.8 شدت کے بڑے زلزلے سے جُڑے ہو سکتے ہیں، جس کے بعد فرانس پولینیشیا اور چلی تک سونامی وارننگز جاری کی گئی تھیں، اور کمچاتکا کے سب سے سرگرم آتش فشاں کلیوچیفسکایا کے پھٹنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

    https://x.com/WeatherMonitors/status/1951857722057486781

    کامچاتکا وولکینک ایرپشن ریسپانس ٹیم کی سربراہ اولگا گیرینا کے مطابق، ’یہ گزشتہ 600 برسوں میں آتش فشاں کراشیننیکوف کے پھٹنے کا پہلا تاریخی طور پر تصدیق شدہ واقعہ ہے۔‘

    انہوں نے مزید کہا کہ آتش فشاں کا پھٹنا بدھ کے روز آنے والے شدید زلزلے سے جڑا ہو سکتا ہے، جس کے بعد بحر الکاہل میں فرانس پولی نیشیا اور چلی تک سونامی الرٹس جاری کیے گئے تھے۔ اسی زلزلے کے بعد کامچاتکا کے سب سے متحرک آتش فشاں ”کلیوچیفسکوی“ میں بھی دھماکہ ہوا،کراشیننیکوف میں آخری بار لاوا کا اخراج 1463 (پلس مائنس 40 سال) میں ریکارڈ کیا گیا تھا، اور تب سے کوئی ایرپشن ریکارڈ پر نہیں ہے-

    کُرِل جزائر کمچاتکا جزیرہ نما کے جنوبی کنارے سے شروع ہوتے ہیں، روسی سائنس دانوں نے بدھ کو خبردار کیا تھا کہ اس علاقے میں آئندہ کئی ہفتوں تک طاقتور آفٹر شاکس آ سکتے ہیں،آر آئی اے نے کامچاتکا آتش فشاں دھماکوں کے جوابی ٹیم کی سربراہ، اولگا گیرینا کے حوالے سے کہا کہ یہ کرشینینیکوف آتش فشاں کے 600 سال بعد ہونے والے دھماکے کی تاریخی طور پر تصدیق شدہ پہلی مثال ہے۔

    انسٹیٹیوٹ آف وولکینالوجی اینڈ سیسمولوجی کے ٹیلی گرام چینل پر اولگا گیرینا نے کہا کہ کرشینینیکوف آتش فشاں پھٹنے کا واقعہ آخری بار 1463 کے 40 برس کے اندر پیش آیا تھا، اور اس کے بعد سے کوئی دھماکا ریکارڈ نہیں ہوا۔

    روس کی وزارت ہنگامی خدمات کی کمچاتکا شاخ نے کہا کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد 6 ہزار میٹر (3.7 میل) بلند راکھ کے بادل کو ریکارڈ کیا گیا ہے، اس آتش فشاں کی اونچائی ایک ہزار 856 میٹر ہے، راکھ کا بادل مشرق کی طرف بحر الکاہل کی سمت جا رہا ہے، اس کے راستے میں کوئی آبادی نہیں ہے،آتش فشاں کے پھٹنے کو نارنجی ایوی ایشن کوڈ دیا گیا ہے، جو ہوائی جہازوں کے لیے خطرے کی بلند سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدوں پر دستخط

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کےجوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے، ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری قوت حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے، پاکستان ایران کے حق کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے

    ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور دونوں ممالک کے درمیان اخوت و برادری پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم دہرایا،وزیراعظم نے کہا کہ ’ایران ہمارا انتہائی برادر اور دوست ملک ہے، اور صدر مسعود پزشکیان کا پہلا دورۂ پاکستان ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ ہم نے باہمی ملاقات میں تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے بات چیت کی ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی ہے وزیراعظم نے شہدا کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے ایرانی افواج اور عوام کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا،ایرانی قیادت نے دانشمندانہ انداز میں شاندار فتح حاصل کی، اور دشمن کے خلاف مضبوط فیصلے کیے،پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے ساتھ ہر قدم پر کھڑا ہے۔‘

    لندن:دوافغان پناہ گز ین 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں گرفتار

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے آج کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جنہیں جلد باضابطہ معاہدوں میں تبدیل کیا جائے گا۔’ہمارا ہدف 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہے، جو ہم جلد حاصل کریں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور ایران کی سوچ ایک ہے، اور خطے میں امن و ترقی کے لیے دونوں ملکوں کا وژن یکساں ہے۔

    وزیراعظم نے اسرائیل کی غزہ میں جاری بربریت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’غزہ میں ہر لمحہ معصوم بچوں اور خواتین کا قتل عام ہو رہا ہے، اسرائیل خوراک کو بھی فلسطینیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ مہذب دنیا کو اب بھرپور آواز اٹھانی چاہیے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے،دنیا کو غزہ میں امن کے لیے متحد ہونا ہوگا، کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی غزہ سے مختلف نہیں۔ کشمیر کی وادی مظلوم کشمیریوں کے خون سے سرخ ہوچکی ہے۔

    غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ

    پریس کانفرنس سے قبل دونوں رہنماؤں نے باقاعدہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر مختلف وزرا اور اعلیٰ حکام کے مابین 10 سے زائد یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ ہوا جن میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ اور ایرانی ہم منصب کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کی یادداشت،ایرانی وزیر تجارت اور پاکستانی وزیر خوراک کے درمیان تجارتی تعاون کی یادداشت،وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان مالیاتی و ریلوے شراکت،وفاقی وزیر خالد مگسی اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے درمیان مختلف سماجی و ثقافتی معاہدے،ثقافتی روابط، موسمیاتی تبدیلی، بحری امور، قانون و انصاف، داخلہ اور فضائی خدمات کے شعبوں میں متعدد یادداشتوں کا تبادلہ، شامل تھے-

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

  • لندن:دوافغان پناہ گز ین  12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں  گرفتار

    لندن:دوافغان پناہ گز ین 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں گرفتار

    افغان "پناہ کے متلاشیوں” کے ایک جوڑے پر نیویٹن میں ایک 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    23 سالہ احمد ملاخیل نے 22 جولائی کی شام کو قصبے کی شیورل اسٹریٹ پر مبینہ طور پر بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ اسے 26 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اگلے دن اس پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ 23 سالہ محمد کبیر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر 31 جولائی کو 13 سال سے کم عمر لڑکی کے اغوا، گلا گھونٹنے ا اور عصمت دری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    کوونٹری مجسٹریٹس کی عدالت میں پیش ہونے کے بعد اس جوڑے کو حراست میں لے لیا گیا ہے – ان کے کیس کی سماعت 26 اگست کو وارک کراؤن کورٹ میں ہوگی،ہفتہ کی سہ پہر کو پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فورس ابھی بھی واقعے کے گواہوں کی اپیل کر رہی ہے ، لیکن اس نے ان کے پس منظر کا ذکر نہیں کیا۔

    راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    اس کے بعد نامعلوم ذرائع نے میل کو بتایا کہ واروکشائر پولیس نے کونسلرز اور مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ یہ ظاہر نہ کریں کہ یہ جوڑا "کمیونٹی تناؤ” کو ہوا دینے کے خوف سے پناہ کے متلاشی کیسے تھے،اخبار نے شیورل روڈ کے قریب ایک گھر سے سی سی ٹی وی کی تصویریں شائع کیں جن میں 22 جولائی کی رات 8 بجے کے قریب ایک شخص کو ایک سفید فام لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے-

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

  • راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے بی جے پی پر الیکشن چوری کے الزام نے بھارتی انتخابی نظام کا راز فاش کردیا ۔

    راہول گاندھی نے مودی سرکار پر لوک سبھا انتخابات میں 100 نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگایا، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نظام کے بارے میں جب ڈیٹا جاری کریں گے تو یہ ایٹم بم ثابت ہوگا، بھارت کا انتخابی نظام پہلے ہی مر چکا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ اگر نشستیں دھاندلی سے نہ جیتی گئی ہوتیں تو مودی بھارت کا وزیراعظم نہ ہوتا، راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ہم ثابت کریں گے کہ لوک سبھا کا الیکشن کیسے چوری کیا گیا، جس ادارے نے جمہوریت کا دفاع کرنا تھا، وہ خود مودی کے قبضے میں چلا گیا، مودی نے ووٹ کے ساتھ ساتھ بھارتی عوام کا اعتماد بھی چھین لیا، جو ووٹ بھارتی عوام کا حق تھا، وہ مودی کی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھ گیا،جمہوریت کی قاتل، بی جے پی سرکار صرف چوری شدہ مینڈیٹ سے اقتدار پر قابض ہے۔

  • غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ

    غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے حج کوٹہ مکمل نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر غیررجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ساڑھے 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین سے سوا لاکھ کا حج کوٹہ مکمل نہ ہونے کا خدشہ ہے اس لیے وزارت مذہبی امورنےکم درخواستوں کے خدشے پر غیر رجسٹرڈ عازمین کو موقع دینےکا فیصلہ کیا ہے،رجسٹرڈ عازمین سے حج درخواستوں کی وصولی کل پیرسےشروع کی جائےگی، رجسٹرڈ عازمین سرکاری اسکیم کے تحت درخواستیں 4 سے 9 اگست تک جمع کرا سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، غیر رجسٹرڈ عازمین سے درخواستوں کی وصولی 11 سے 16اگست تک جاری رہے گی، درخواستیں پہلے آئیے پہلے پائیےکی بنیاد پر وصول کی جائیں گی، حج درخواستوں کے لیے موقع رجسٹرڈ عازمین کو دیا جائے گا، 38 سے 42 روزہ حج کے لیے 5 لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے جبکہ 20 سے 25 روزہ مختصر حج کی پہلی قسط کے طور پر ساڑھے 5 لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے۔

  • اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰاق ڈار نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے لیے پاکستان کے گہرے عزم کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ یہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثے، مذہب اور باہمی احترام کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

    صدر پزشکیان نے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور مختلف شعبوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے ایران کے عزم کو دہرایا،انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ بامعنی گفتگو کی خواہش کا بھی اظہار کیا تاکہ دونوں دوست ممالک کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحٰاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انہوں نے ایرانی صدر کے اس بیان کا بھی خیرمقدم کیا جو وزیراعظم کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے،معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے باہمی اقتصادی ہم آہنگی قائم کرنا نہایت خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان اور ایران کا موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر اتفاق

    پاکستان اور ایران نے اتوار کے روز دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سالانہ تجارتی حجم کو 8 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے-

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور ایرانی وزیر برائے صنعت، کان کنی اور تجارت، محمد اتابک کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں یہ،فیصلہ،کیا گیا۔

    وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق،اعلیٰ سطح کی ملاقات نے دونوں ممالک کے اس نئی عزم کی عکاسی کی کہ وہ تجارت کو تیز کریں، سرحدی رکاوٹوں کو ختم کریں، اور ترجیحی شعبوں میں اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کریں، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر جام کمال نے تصور پیش کیا کہ اگر مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت آئندہ برسوں میں با آسانی 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ کی حد عبور کر سکتی ہے۔

    انہوں نے تجویز دی کہ ٹارگٹڈ تجارتی وفود ترتیب دیے جائیں، جن میں وفاقی اور صوبائی چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان شامل ہوں، تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری سہولت کاری پر توجہ مرکوز کی جا سکے، ہم نے یہ ماڈل بیلا روس سمیت دیگر جگہوں پر کامیابی سے آزمایا ہے، آئیے ایران کے لیے بھی یہی طریقہ اپنائیں، ان شعبوں سے آغاز کریں جہاں باہمی فائدے کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔

    وزرا نے موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر بھی اتفاق کیا، وفاقی وزیر جام کمال نے زور دیا کہ خطے میں تجارت کی صورت میں جو فوائد آسیان ممالک نے حاصل کیے، اسی طرح پاکستان اور ایران کو بھی چاہیے کہ جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھائیں، جغرافیہ ایک فائدہ ہے، پاکستان اور ایران کو فاصلے کے اس رعایتی فائدے کو استعمال کرنا چاہیے، اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا تو وقت اور لاگت دونوں کے نقصان کا سامنا ہوگا۔

    محمد اتابک نے پاکستان سے ایران کو برآمدات بڑھانے کے لیے جاری بات چیت کا ذکر کیا اور حال ہی میں طے پانے والے معاہدوں پر جلد عملدرآمد کی ترغیب دی، دونوں ممالک کے تاجر اور صنعت کار تیار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ اب انہیں صرف ہماری طرف سے ایک واضح اور مستقل سہولت کاری کا نظام درکار ہے۔“

    وزیر کمال نے کہا کہ دو طرفہ فوائد سے آگے بڑھ کر یہ رابطہ ترکی، وسطی ایشیا، روس اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں تک پھیل سکتا ہے، جو ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے،محمد اتابک نے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران باقاعدہ بی ٹو بی ڈے منعقد کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور ایرانی کاروباری گروپوں کو پاکستان بھیجنے کی پیشکش بھی کی۔

    دونوں وزرا نے پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا اعتراف کیا اور کہا کہ حالیہ علاقائی و عالمی حالات نے دونوں ممالک کو مزید قریب کر دیا ہے،محمد اتابک نے پاکستانی حکومت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اور آپ کی ٹیم کی فوری شرکت اور عزم نہ ہوتا تو ہم اس مقام تک نہ پہنچتے، اب جو رفتار ہم نے حاصل کی ہے، اسے باقاعدہ تجارتی نتائج میں بدلنا ہوگا،جام کمال نے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں حکومتوں اور نجی شعبے نے مل کر کام کرنے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سفارت کاری میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب لوہا گرم ہوتا ہے، یہ وہی لمحہ ہے، ہمیں فوری عمل کرنا ہوگا، تاخیر چیزوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، جذبہ اور سیاسی عزم کے بعد ضابطہ کار آتا ہے، اور پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو باقاعدہ چینلز جیسے جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی)، بی ٹو بی تبادلے، اور شعبہ وار وفود کے ذریعے مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دونوں وزرا نے زراعت، لائیو اسٹاک، خدمات، توانائی، اور سرحد پار لاجسٹکس جیسے مخصوص شعبوں کی نشان دہی پر بھی اتفاق کیا، جن میں مستقبل میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے،باہمی تعلقات کے انسانی پہلو پر غور کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان ثقافتی اور لسانی اشتراک کو اجاگر کیا۔

    وزرا نے پاکستان-ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن کے اگلے اجلاس کو تیزی سے منعقد کرنے، عوامی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو یقینی بنانے، اور سرحدی سہولت و تجارتی لاجسٹکس کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا، میں کہا گیا کہ اعلیٰ سطح کی سیاسی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کے ساتھ، پاکستان اور ایران بظاہر اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں، جو خطے کی تجارت کو بدل سکتا ہے۔

  • پی سی بی کا ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے رویے پر سخت ردعمل

    پی سی بی کا ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے رویے پر سخت ردعمل

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ، آئندہ پاکستانی کھلاڑیوں کی اس ایونٹ میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں بورڈ ممبران ظہیر عباس، زاہد اختر زمان، سجاد علی کھوکھر، ظفر اللہ، تنویر احمد، محمد اسماعیل قریشی، انوار احمد خان، طارق سرور اور دیگر نے شرکت کی۔

    اس کے علاوہ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر، چیف فنانشل آفیسر جاوید مرتضیٰ اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ بھی اجلاس میں شریک ہوئےاجلاس میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا اور پاکستانی کھلاڑیوں پر آئندہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں شرکت پر پابندی کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔

    اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز پی سی بی نے کہا کہ ڈبلیو سی ایل نے جان بوجھ کر میچز نہ کھیلنے والی ٹیم کو پوائنٹس دینے کا یک طرفہ فیصلہ کیا جو کھیل کی روح کے منافی ہے، پاک بھارت میچز کی منسوخی کے حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز دوہرے معیار اور تعصب کا پلندہ تھی،پریس ریلیز میں کھیلوں کو سیاسی مفادات اور محدود کمرشل ترجیحات کے تابع کر کے چیمپئن شپ کے بڑے مقصد کو روندا گیا، پی سی بی ہمیشہ سے کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کا علمبردار رہا ہے، ٹورنامنٹ کے بنیادی اصولوں کو کسی بھی غیر مرئی دباؤ کے تحت پامال کرنا افسوسناک ہے۔

    بورڈ آف گورنرز نے کہا کہ لیجنڈز لیگ کے منتظمین کا یہ جانبدارانہ رویہ مستقبل کیلئےخطرناک اور تشویشناک ہے، ڈبلیو سی ایل کی جانب سے معذرت بلاواسطہ اعتراف ہے کہ میچز کی منسوخی کھیلوں کے اصولوں پر نہیں بلکہ مخصوص قوم پرستی کے بیانیے کے دباؤ پر ہوئی، بین الاقوامی کھیلوں کی دنیا میں یہ دوغلا اور متعصبانہ رویہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔

    اجلاس کے مطابق بیرونی دباؤ پر کھیلوں کے غیر جانبدارانہ اصولوں کی خلاف ورزی سے انتہائی افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی، پی سی بی آئندہ اپنی ٹیم کو اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے نہیں بھیج سکتا، پاکستانی کھلاڑیوں کو ایسے مقابلے میں شرکت کی اجازت نہیں دے سکتے جسے سیاست کی تنگ نظری نے داغدار کر دیا ہو۔

    خیال رہے کہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے راؤنڈ میچ اور سیمی فائنل میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیاتھا، پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2008 میں ہوئی تھی بعد ازاں ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت نے دو طرفہ کرکٹ تعلقات ختم کر دیے تھے، پھر 2012 میں پاکستان نے ون ڈے سیریز کے لیے شاہد آفریدی کی قیادت میں بھارت کا دورہ کیا تھا جس میں بھارتی کو اپنی ہی عوام کے سامنے شکست کا سامنا ہوا تھا،بعد ازاں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں صرف آئی سی سی ٹورنامنٹ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں۔

    پھر حالیہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے جس کا اثر دونوں ممالک کے کھیلوں پر بھی ہوا۔ بھارت نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا جس کے بعد صورتحال مزید بدتر ہوئی،بھارت کے کھیلوں کے میدان میں سیاست کو لانے کی وجہ سے کرکٹ کا نقصان ہوا ہے-