Baaghi TV

Tag: ٌاتازہ ترین

  • 3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 سالہ بیٹی سے مبینہ ریپ کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی ہےاسلام آباد ہائیکورٹ نے قراردیا کہ ملزم ضمانت کا غلط استعمال یا ٹرائل میں تاخیرکا سبب بنے توضمانت کا حق واپس لیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ضمانت منظور کی، فیصلے کے مطابق دفعہ 497 کے تحت مزید انکوائری کے کیس میں ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے، صرف جرم کی سنگینی عدالت سے ضمانت کا اختیار چھیننے کے لیے کافی نہیں۔

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا کہ ضمانت ملزم کی بریت نہیں بلکہ صرف کسٹڈی کی تبدیلی ہوتی ہے، ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو حکومتی ایجنسیوں کی تحویل سے ضامن کے سپرد کیا جائے اور ضامن اس بات کا پابند ہو کہ ضرورت پڑنے پر ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرے، پٹیشنر محمد حسیب حفیظ 3 ماہ سے جیل میں تھا اور ٹرائل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی، پٹیشنر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ گھریلو جھگڑے کا معاملہ ہے اور ملزم کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے-

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ بچی کی ماں ہے جس کی یہ دوسری شادی تھی اور اس نے خلع کا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے، پمز اسپتال کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بچی کی ماں نے ڈاکٹرز کو مبینہ زیادتی کے متعلق بتایا، تاہم متاثرہ بچی کے عدم تعاون کی وجہ سے طبی معائنہ ممکن نہیں ہو سکا، میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی کسی قسم کے زخم، رگڑ یا خون کے نشانات نہیں پائے گئے، اس بات کا کوئی معقول جواز موجود نہیں کہ ایک حساس ادارے سے تعلق رکھنے والا پڑھا لکھا شخص اپنی 3 سالہ بچی سے زیادتی کرے، تفتیشی افسر نے بھی اعتراف کیا کہ ملزم کا نفسیاتی معائنہ نہیں کرایا گیا۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    واضح رہے کہ پاکستان میں سخت قوانین موجود ہونے کے باوجود زیادتی کے مقدمات سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں سزائے موت سے لے کر 10 سے 25 برس قید تک کی سزائیں دی جا سکتی ہیں،گزشتہ برس بچوں سے جنسی زیادتی کے کیسز پر کام کرنے والی این جی او ’ساحل‘ کے جمع کردہ اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا کہ اکثری مجرم یا تو رشتہ دار تھے یا پھر کمیونٹی میں شناسا افراد اور پڑوسی۔

  • سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث جہاں پنجاب میں سیلابی صورت حال ہے وہیں دریائے سندھ میں بھی گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم پانی سے مکمل بھر گیا ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش بھی 1550 فٹ ہی ہےمنگلا ڈیم بھی 1222 فٹ تک بھر گیا ہے جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1242 فٹ ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا جبکہ زیریں کیچمنٹ ایریا جیسے راولپنڈی ڈویژن میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی،دریائے جہلم کے کیچمنٹ ایریا خشک رہیں گے جبکہ دریائے چناب کے اپر اور زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہےدریائے راوی میں لاہور ڈویژن کے زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ دریائے ستلج کے زیریں اور اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ تونسہ، گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر 4 اور 5 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گادریائے کابل میں پانی کی سطح سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ دریائے چہلم میں منگلا اور رسول کے مقام پر پانی کی سطح سیلاب کے درجے سے نیچے ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ مرالہ اور تریمو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر پانی کا لیول سیلاب سے کم ہے دریائے راوی میں جسر کے مقام پر اونچے جبکہ شاہدرہ اور بلوکی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گاجبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹے میں پانی کی سطح کم ہو جائے گی،دریائے چناب میں تریمو کے مقام پر 29 اگست کی شام انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گا جبکہ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر 2 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔

  • انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب  بتادیا

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    دنیا بھر میں نوکری کے انٹرویوز کے دوران سب سے مشکل اور ناپسندیدہ سوال سمجھا جاتا ہے کہ ’آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس سوال کا منفرد اور بہترین جواب بتا دیا ہے-

    امریکی بزنس ویب سائٹ بزنس انسائیڈر کے مطابق ایک انٹرویو میں جب گیٹس سے پوچھا گیا کہ وہ اس سوال کا جواب کیسے دیں گے تو انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ کمپنی مجھے اچھا پیکیج دے گی تاکہ میں رسک لے سکوں، مجھے کمپنی کے مستقبل پر اعتماد ہے اس لیے میں فوری نقد رقم سے زیادہ اسٹاک آپشنز کو ترجیح دوں گا، مجھے معلوم ہے دیگر کمپنیاں زیادہ دیتی ہیں لیکن مجھے منصفانہ رویہ اور آپشنز زیادہ اہم لگتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق،بل گیٹس کا یہ سادہ سا جواب ان کے وژن اور مستقبل بینی کو ظاہر کرتا ہے یہی حکمتِ عملی ان کی دولت کا اہم سبب بھی بنی کیونکہ ان کی بیشتر دولت مائیکروسافٹ کے شیئرز سے بنی، بل گیٹس کا جواب نہ صرف خود اعتمادی اور حوصلے کی علامت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمپنی کے ساتھ طویل المدتی وابستگی چاہتے ہیں۔ یہ جواب شفافیت، اعتماد اور کمپنی کے مستقبل پر یقین کو اجاگر کرتا ہے۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری
    انٹرویو میں بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی بھی سیلز یا مارکیٹنگ کے شعبے میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہا میں فطری طور پر سیلز یا مارکیٹنگ کا ماہر نہیں ہوں، میری دلچسپی ہمیشہ پروڈکٹ بنانے اور اس کی تعریف پر مرکوز رہی ہے۔

    جنوبی کوریا: اسکولوں میں موبائل فونز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی

  • سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد  بری

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    سپریم کورٹ نے سگی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں 12 سال سے جیل میں قید والد کو بری کردیا –

    سپریم کورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کا تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا گیا جب کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس سنا تھا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ و ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی کالعدم قرار دے دی ہے،عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

    حکم نامے کے مطابق 2 اکتوبر 2010 کو متاثرہ بچی، جو اس وقت 6 یا7 برس کی تھی، روتی ہوئی اپنی ماں کے پاس گئی اور انکشاف کیا کہ اس کے والد نے اس کے ساتھ ’فعل بد‘ کیا ہے جس کے بعد اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی،اس کے بعد والد کو گرفتار کر لیا گیا اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376(1) کے تحت عمر قید اور 35 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، 2013 میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان ریکارڈ کرتے وقت اس کی ذہنی پختگی کا ٹیسٹ نہیں لیا گیا جب کہ قانونِ شہادت کے تحت بچے کا بیان تب معتبر ہے، جب جج اس کی سمجھ بوجھ پر مطمئن ہو، متاثرہ کے بیان میں تضادات پائے گئے اور اس میں واقعے کی تاریخ اور وقت واضح نہیں تھا، ڈاکٹر کی رائے بھی متضاد تھی، پہلے زیادتی کہا پھر جرح میں انکار کیا مدعیہ والدہ اور ماموں واقعے کے عینی شاہد نہیں، صرف افواہی گواہ ہیں، خاندان کے اندر جائیداد اور گھریلو جھگڑوں کا تنازع بھی ریکارڈ پر آیا عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو غیر معتبر قرار دے دیا۔

    جسٹس نجفی نے کہا کہ ’اس سے عدالت کے سامنے متاثرہ بچی کے بیان کی ساکھ اور ملزم کے غلط طور پر ملوث کیے جانے کے امکان پر سنگین سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسے سنگین الزامات کیوں عائد کیے گئے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ریکارڈ میں آیا ہے کہ شکایت کنندہ اور ملزم کے درمیان تنازع موجود تھا-

    واضح رہے کہ 2010 میں چھ سالہ بیٹی نے والد پر زبردستی زیادتی کا الزام لگایا تھا، جس پر ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید اور 35 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،لاہورہائیکورٹ نے 2013 میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا تاہم ملزم نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • جنوبی کوریا: اسکولوں میں موبائل فونز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی

    جنوبی کوریا: اسکولوں میں موبائل فونز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی

    جنوبی کوریا کے اسکولوں میں کلاس رومز کے اندر موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے-

    ’روئٹرز‘ کے مطابق یہ پابندی آئندہ سال مارچ سے نافذ العمل ہوگی، جس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جو کم عمر افراد کے درمیان اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کر رہے ہیں،جنوبی کوریا دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل طور پر جُڑے ہوئے ممالک میں شامل ہے۔

    امریکا کے پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2022 اور 2023 میں کیے گئے ایک جائزے میں 99 فیصد جنوبی کوریائی عوام آن لائن ہیں، جب کہ 98 فیصد اسمارٹ فون رکھتے ہیں، جو زیرِ مطالعہ 27 ممالک میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

    38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    بدھ کے روز پارلیمنٹ میں اس بل کو دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی،اپوزیشن پیپلز پاور پارٹی کے رکنِ اسمبلی اور بل کے معاون چو جنگ ہن نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی سوشل میڈیا کی لت اب خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے،ہمارے بچوں کی ہر صبح آنکھیں سرخ ہوتی ہیں، وہ رات 2 یا تین بجے تک انسٹاگرام پر لگے رہتے ہیں۔

    تعلیم کی وزارت کے گزشتہ سال کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 37 فیصد مڈل اور ہائی اسکول کے طلبہ نے کہا کہ سوشل میڈیا اُن کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے، جب کہ 22 فیصد نے اعتراف کیا کہ اگر وہ سوشل میڈیا تک رسائی حاصل نہ کر سکیں تو انہیں بے چینی محسوس ہوتی ہے۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

    جنوبی کوریا کے بہت سے اسکول پہلے ہی اسمارٹ فون کے استعمال پر اپنی حدود مقرر کر چکے ہیں، اور اب یہ بل ان پابندیوں کو باضابطہ بنا رہا ہے،ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال اب بھی معذور طلبہ یا تعلیمی مقاصد کے لیے کیا جا سکے گا،البتہ کچھ نوجوانوں کی فلاحی تنظیموں نے اس پابندی کی مخالفت کی ہے، اُن کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی-

    حالیہ دنوں میں آسٹریلیا نے نوعمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی پابندی کو مزید وسعت دی ہے، جولائی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق نیدرلینڈ کے اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی نے طلبہ کی توجہ میں بہتری پیدا کی ہے۔

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

  • 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ  کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    مریم نواز کشتی میں سوار ہو کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچیں، مریم نواز نے کشتی میں سوار ہو کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ حکام کی جانب سے انہیں دریائے راوی میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر بریف کیا گیا۔

    https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1960974633647092209

    مریم نواز نے کہا کہ شدید ترین بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد سیلابی صورتحال ہے، یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، بھارت نے اپنے ڈیم بھر جانے سے پانی چھوڑا تمام ادارے مکمل الرٹ تھے، انتظامیہ نے بہترین دن رات کام کیا ہے، ریسکیو، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اچھا کام کیا،نارووال، گجرات، سیالکوٹ میں صورتحال بہت خراب ہے، تمام متعلقہ اداروں سے آئندہ سال کے لیے سیلاب سے بچاؤ اور نقصانات سے بچنے کے لیے منصوبہ طلب کرلیا ہے۔

    سندھ میں سیلابی صورتحال، حکومت مکمل طور پر الرٹ ہے،شرجیل میمن

    مریم نواز نے کہا کہ وزیر اعظم نارووال گئے ہیں، کمشنرز، ڈی سی نے دن رات کام کیا اگر تیاری نا ہوتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے ہمارے لیے ہر جان قیمتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا یہ سیلاب کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے، لوگوں کے مال مویشیوں کو منتقل کیا، اللہ نے بڑے نقصان سے بچایا ہے جو بھی نقصان ہوا ہے ، مجھے اس پر افسوس ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ بھارت میں بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کا لیول بھر گیا تو انہوں نے اپنے ڈیمز کے اسپل ویز کھولے، جس سے ہمارے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، پنجاب کے 3 دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، پنجاب میں بارشیں بھی بہت زیادہ ہوئی ہیں،ہم اپنے متاثرہ عوام کے ہر قسم کے نقصان کا ازالہ کریں گے، میں نے راوی میں کبھی اتنا پانی نہیں دیکھا، پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انفرااسٹرکچر بنانا بہت ضروری ہے،اس چیز پر کام کر رہے ہیں کہ سیلابی پانی کو کس طرح ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اب پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو رہا ہے، ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرنے چاہئیں۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کا فضائی جائزہ لیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو سیلابی صورتحال اور ریسکیو آپریشن سے متعلق بریف کیا گیا۔

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی، آج دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے-

  • پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے،محسن نقوی کی  برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو

    پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے،محسن نقوی کی برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، بارڈر سکیورٹی اور انسانی سمگلنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیابرطانوی ہائی کمشنر نے محسن نقوی کو حال ہی میں ملنے والے نشان امتیاز پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

    ملاقات کے دوران پاکستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں کے باعث ہونے والے جانی نقصانات پر بھی بات ہوئی جین میریٹ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے اور ہم دہشت گردی کی ہر شکل کی پرزور مذمت کرتے ہیں،برطانیہ ترقی کے سفر میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور ہم باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

    دیامر بھاشا ڈیم سمیت موجودہ ڈیموں کی گنجائش میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے،وزیراعظم

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

  • دیامر بھاشا ڈیم سمیت موجودہ ڈیموں کی گنجائش میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے،وزیراعظم

    دیامر بھاشا ڈیم سمیت موجودہ ڈیموں کی گنجائش میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے-

    لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کو حالیہ سیلابی ریلوں اور متاثرہ علاقوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر منصوبہ بندی چوہدری احسن اقبال، صوبائی و وفاقی وزرا، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں آنے والی قدرتی آفات نے پہلے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کو متاثر کیا اور اب پنجاب کے میدانوں میں تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہواانہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    شہباز شریف نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں انتظامیہ اور اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، پولیس اور دیگر محکمے دن رات کام کر رہے ہیں جو قابلِ تعریف ہے،انہوں نے افواجِ پاکستان، این ڈی ایم اے اور مقامی قیادت کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کر کے عوام کی مدد کی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ یہ ٹیم ورک ہی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان کم ہوا 2022،میں سندھ اور بلوچستان شدید متاثر ہوئے تھے اور پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا تھا، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے نشانے پر ہیں، لہٰذا آئندہ سالوں میں بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےاس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاق اور تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا حل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے تاکہ فلیش فلڈز اور نقصانات پر قابو پایا جا سکے، اس مقصد کے لیے فوری طور پر ڈیمز اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے پر کام شروع کرنا ہوگا اور دیامر بھاشا ڈیم سمیت موجودہ ڈیموں کی گنجائش میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر آج سے عملی اقدامات شروع کیے جائیں تو اس بڑے مقصد کو حاصل کرنے میں کئی سال لگیں گے،انہوں نے کہا کہ سندھ کی جانب بڑھنے والے سیلابی ریلے میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے کمی فرمائے۔

  • کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل  کی پیشگوئی

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے کل سے صوبے بھر میں مون سون کا 9 واں اسپیل شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا 9 واں اسپیل کل سے شروع ہوگا، 29 اگست سے 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہےراولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی،نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں تمام ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لایئو اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہےشہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    وزارت خزانہ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، سیلاب کی صورتحال کے باعث معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے،سیلاب کے باعث فوڈ سپلائیز متاثر ہوسکتی ہیں، وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت اور مستحکم دکھائی دے رہے ہیں،مانیٹری پالیسی نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے، جون میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    ہاتھیوں اور مگرمچھوں سمیت سیکڑوں بڑے جانوروں پر مشتمل اننت امبانی کا زو اسکینڈل بے نقاب

    وزارت خزانہ کے مطابق مانیٹری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر شرح سود کو برقرار رکھا ہے، اقتصادی رپورٹ میں کہا گیا کہ اپریل 2025 سے بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی دکھائی دے رہی ہےمضبوط بیرونی اور مالیاتی دباؤ کے باعث معاشی شرح نمو میں اضافے کی توقع ہے، امریکہ کے ساتھ تجارتی ڈیل کے باعث پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا، تجارتی پارٹنرز سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینج 1 لاکھ 50 ہزار کی سطح سے تجاوز کر چکی ہے۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل