نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے-
آسیان ریجنل فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ساتھ بھرپور تعاون کا خواہاں ہے اور منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر مؤثر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے، موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور اس سے متعلق یکطرفہ اقدامات نہ صرف تشویشناک اور اشتعال انگیز ہیں بلکہ ان سے 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، بین الاقوامی معاہدوں کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے اور 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے، تاہم ملک ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نےکہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا پاکستان نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری بھی کی-
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا ہے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتکاری و مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ خودمختاری، باہمی احترام اور بات چیت ہی مشترکہ اور پرامن مستقبل کی بنیاد ہیں،مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفا نہ حل کی اپنی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے غزہ کی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہےپاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
