Baaghi TV

Tag: ٰاسحاق ڈار

  • نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ پارٹی مشاورت سے ہوگا، اسحاق ڈار

    نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ پارٹی مشاورت سے ہوگا، اسحاق ڈار

    مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے کوئی پریشانی نہیں،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے اپنی سیاسی و قانونی حکمت عملی طے کرے گی، قانونی ماہرین سے اس معاملہ پر مشاورت کریں گے، نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی،نگران وزیراعظم کے حوالے سے جاری مشاورتی عمل سے خود کو الگ رکھا ہے، نگران وزیراعظم کے بارے فیصلہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نے باہمی مشاورت سے کرنا ہے،

    صحافی نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ کیا آپ نگران وزیراعظم بن رہے ہیں؟ جس کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میرا اس پر یقین ہے اللہ نے آپ سے جو کام لینا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا، میں نے چوتھی بار وزارت خزانہ کا عہدہ نہیں مانگا تھا اللہ نے 5 سال بعد اسی کرسی پر بٹھا دیا، شہبازشریف نگران وزیراعظم کے حوالے سے اتحادیوں سے بھی مشاورت کررہے ہیں، نگران وزیراعظم ایسا ہونا چاہیے جو معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے، کسی سینیٹر کے نگران وزیراعظم یا نگران وزیر بننے میں کوئی رکاوٹ قانونی رکاوٹ نہیں،صدر کی دستخط شدہ سمری کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کے لیے 90 روز ہیں، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں نئی مردم شماری کے نتائج متفقہ طور پر منظور کیے گئے، الیکشن کمیشن اب نئی مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانے کا پابند ہے،انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہی ہوں گے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سینیٹ انتخابات سے پہلے عام انتخابات کا انعقاد لازم ہے،

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • دہشتگردی کو واپس لانے والے قوم سے معافی مانگیں، اسحاق ڈار

    دہشتگردی کو واپس لانے والے قوم سے معافی مانگیں، اسحاق ڈار

    سینیٹ اجلاس سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضرب عضب کیلئے ہم نے تمام وسائل فراہم کئے ، ضرب عضب کے بعد ردالفساد آپریشن شروع کیا گیا ، وزارت داخلہ پچھلے 10 سال کا پورا ریکارڈ دے تاکہ پتہ چلے کب کیا ہوا؟

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بد قستمی سے دہشتگردی کے واقعات پھر سے سراٹھا نے لگے ہیں، کیا ہم اندھے ہیں کیوں ہم نے ہجرت کرنیوالے دہشتگردوں سے مذاکرات کئے ،کیوں دہشت گردوں کو واپس لایا گیا کیوں جیلوں سے رہا کرایا گیا ،ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا کیوں ان کو واپس لایا گیا ؟انسداد دہشتگردی کے لئے جو فنڈز خیبرپختونخواہ کو دیے گئے وہ اس مقصد پر خرچ نہیں کیے گئے،باجوڑ میں دلخراش واقعہ کی مذمت کرتے ہیں، دہشتگردی کو واپس لانے والے قوم سے معافی مانگیں،نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدر آمد نہیں کیا گیا،

    اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، ہمارے ملک میں کھربوں روپے کے اثاثے ہیں پاکستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا پائپ لائن نیٹ ورک ہے دنیا کی لمبی گیس کی پائپ لائن پاکستان میں ہے اور 3000 ملین کے ذخائرموجود ہیں، ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کہ ہمارے پاس اثاثے ہیں ۔عالمی سطح پر ملکی تشخص بہتر کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں

    سینیٹ اجلاس میں پی پی رہنما رضا ربانی اپنی ہی پارٹی پر برس پڑے، بل کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے کہا، مجھے پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں بھیجا لیکن ایسا لگتا ہے مجھے کسی راجواڑے میں بھیج دیا، میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وارث ہوں، ذولفقار علی بھٹو نے یواین میں کہا میرا وقت ضائع مت کرو میں اپنا وقت یہاں ضائع نہیں کرسکتا

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • پٹرول 19 روپے 95 پیسے فی لیٹر، ڈیزل  19 روپے 90 پیسے فی لیٹر مہنگا

    پٹرول 19 روپے 95 پیسے فی لیٹر، ڈیزل 19 روپے 90 پیسے فی لیٹر مہنگا

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا، پٹرول 19روپے 95 پیسے مہنگا کیا گیا، ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا،نئی قیمتوں کا اطلاق فوری ہوگا،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پچھلے 15 دن میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمتوں میں چڑھاؤ ہوا، پچھلے 15 دن میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھیں، کل رات 12 بجے کے بعد قیمتوں کا تعین ہوا،وزیراعظم نے کہا جو کچھ بہتر ہوسکتا ہے عوام کیلئے کرنا چاہیے، ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا ہے،پیٹرول کی نئی قیمت272 روپے 95 پیسے مقرر کی گئی ہے ،

    سینیٹر ڈاکٹر عبدالکریم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حكومت کا جاتے ہوئے عوام کیلئے آخری تحفہ ، بجلی کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 20 روپے اضافہ نامناسب اور زیادتی ہے یہ اضافہ پہلے ہی مہنگائی سے تنگ عوام کو مزید مارنے کا پروگرام ہے ان حالات میں الیکشن میں جانے کے انتہائی خطرناک نتائج ہونگے

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں ایک دفعہ پھر 20 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا۔ اس پٹرول بم سے پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں کا عوام دشمن چہرہ مزید بے نقاب ہو گیا۔ یہ عوام کا معاشی قتل ہے،غریبوں کے جیب پر ڈاکہ ہے، یہ ناقابل برداشت بوجھ ہے، عوام کی کمر توڑ دی ہے، آئی ایم ایف کیلئے قانون سازی ،آئی ایم ایف کیلئے ٹیکسوں کا نظام، آئی ایم ایف کیلئے مہنگائی، ائیرپورٹس بندرگاہیں شاہراہیں اور قومی اثاثے بیچے جارہے ہیں.
    حکومت مفت پٹرول، مفت بجلی ، مفت گیس اور ججز، سیاستدانوں، اشرافیہ اور افسر شاہی کی مراعات کم کیوں نہیں کرتی؟ کب تک عوام بوچھ برداشت کرتے رہیں گے۔ کب تک عوام پر یہ ظلم برداشت کریں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی سیاست چمکائی جا رہی ہے، ملکی معیشت کو درست سمت میں ڈالنے کے لئے ہم نے مشکل فیصلے کئے،اتحادی حکومت نے سستی شہرت لینے کے لئے فیصلے نہیں کئے، 15 ماہ قبل مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نے ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا، آج ہم سر اونچا کر کے کہہ سکتے ہیں کہ جو فیصلہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لئے کیا، جب ہم اقتدار میں آئے تھے ملک دیوالیہ کی نہج پر تھا، نااہلوں اور چوروں نے اپنی سیاست کو بچانے کے لئے ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر پہنچایا، چیئرمین پی ٹی آئی نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کئے، نواز شریف آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ چکے تھے،پی ٹی آئی نے اپنے ہی دستخط کردہ آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی اور اسے معطل کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی ساکھ بچانے کے لئے آئی ایم ایف کے معطل پروگرام کو بحال کرنے کے لئے دوبارہ بات چیت شروع کی،ہم معیشت کے اندر ان کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا خاتمہ کریں گے، ہم ملک کو ترقی کی شاہراہ پر لے کر جائیں گے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ میں ہیں، ہم اس انسٹرومنٹ کو استعمال نہیں کر سکتے، نگران سیٹ اپ کا فیصلہ وزیراعظم اور اتحادی جماعتیں کریں گی،

  • نگران وزیراعظم،پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے،وزیر دفاع

    نگران وزیراعظم،پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے،وزیر دفاع

    کون بنے گا نگران وزیراعظم، اس حوالہ سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران وزیراعظم کے لئے پانچ ناموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، پانچ نام کون سے ہیں وہ نہیں بتائے البتہ یہ کہا کہ نگران وزیراعظم کے لئے سیاستدان کو ہی منتخب کیا جائے گا

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعت پی پی اور ن لیگ نے ملکر چار سے پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہفتے میں نام فائنل کر لیں گے، اتحادی جماعتوں سے مشاورت ہو گی، یہ میری ذاتی رائے ہے کہ الیکشن 90 روز میں ہوں، میرے خیال سے اسمبلیاں مدت پورے ہونے سے دو روز قبل تحلیل کردی جائیں گی

    وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نگران وزیراعظم کے لیے اسحاق ڈار کا نام تجویز نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی انہوں نے خود ایسی کوئی خواہش ظاہر کی ہےاسحاق ڈار نے کسی بھی فورم پر ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ نگران وزیراعظم بننے کے خواہش مند ہیں

    واضح رہے کہ اسحاق ڈار کا نام نگران وزیراعظم کے طور پر آیا تو پیپلز پارٹی نے اسکی مخالفت کی تھی، نگران وزیراعظم کا نام طے کرنے کے لئے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی بھی وزیراعظم سے رواں ہفتے ملاقات کا امکان ہے،راجہ ریاض نے نگران وزیراعظم کے لیے پہلے اسحاق ڈار کے نام کی مخالفت کی تھی تاہم بعد میں اس کی حمایت بھی کی، لاہور کے تاجروں کا بھی کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو ہی نگران وزیراعظم بنایا جائے،

    موجودہ حکومت کی مدت اگست میں ختم ہو رہی، وزیراعظم شہباز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ حکومت وقت پر ختم ہو گی، اسمبلی وقت پر یا کچھ دن قبل تحلیل ہو جائے گی، ایسے میں نگران وزیراعظم کے لئے سیاسی جماعتوں نے مشاورت شروع کر رکھی ہے، سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے تا ہم ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہیں ہو سکا

    اسحاق ڈار کا گزشتہ روز نام سامنے آیا تو پیپلز پارٹی نے علی الاعلان کہہ دیا کہ اس نام پر اتفاق نہیں ہو سکا،پی پی رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ پیپلزپارٹی نے ابھی تک نگران وزیراعظم کے لیے کوئی نام فائنل نہیں کیا، نگران وزیراعظم کے لیے ناموں پربات چیت ہورہی ہے، حتمی لسٹ جلد سامنے آجائےگی، دو چار روز میں پیپلزپارٹی نگران وزیراعظم کے لیے نام تجویز کرلے گی وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہتے ہیں کہ اسحق ڈار کے نگران وزیراعظم بننے سے الیکشن کے پراسس پر سوالیہ نشان آجائے گا۔ میڈیا میں ایک معتبر صحافی نے خبر لیک کی اس کے علاوہ کچھ نہیں ،اسحاق ڈار کو نگران وزر اعظم بنانے کیلئے کام بھی شروع نہیں ہوا، خواہش ہے اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے تو اچھی بات ہے ،معلومات کے مطابق اسحاق ڈار کے نام پر اعتراضات شروع ہوگئے ہیں ،سندھ کے صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن کہتے ہیں کہ نگران وزیراعظم پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تین رکنی کمیٹی بنائی ہے مخدوم یوسف رضا گیلانی خورشید شاہ سید نوید قمر اس میں شامل ہیں

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

  • قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی  متعدد منصوبوں کی منظوری

    قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی متعدد منصوبوں کی منظوری

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایکنک کا اجلاس ہوا، جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ایکنک نے پاکستان ریزز ریونیو منصوبے کی منظوری دے دی، منصوبے پر ساڑھے 21 ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ عالمی بینک ریونیو منصوبے کے لیے 8 کروڑ ڈالر قرضہ فراہم کرے گا۔
    وزارت خزانہ کے مطابق ایکنک نے چشمہ فائیو نیو کلیئر پاور پراجیکٹ کی بھی منظوری دے دی، منصوبے پر 1047 ارب 98 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
    ایکنک نے 23 ارب 54 کروڑ روپے سے راولپنڈی کہوٹہ روڈ کو دورویہ کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا، 28.4 کلو میٹر کے راولپنڈی کہوٹہ روڈ منصوبے کے تحت سہالہ بریج اور بائی پاس بھی تعمیر کیا جائے گا، منصوبے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں 50،50 فیصد لاگت برداشت کریں گی۔
    ایکنک نے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبے کی بھی منظوری دے دی، منصوبے پر 12 ارب 33 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ وفاق اور سندھ حکومت متاثرہ اسکولوں کی تعمیر اور بحالی منصوبے پر 50، 50 فیصد فنڈز خرچ کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق ایکنک نے کراچی شپ یارڈ انجینئرنگ ورکس کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی منظور کرلیا، منصوبے پر 10 ارب 68 کروڑ روپے کی نظرثانی شدہ لاگت آئے گی۔اس کے علاوہ ڈی آئی خان میں عبدالخیل ڈھکی کلورکوٹ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ منظور کرلیا گیا، اس منصوبے پر 14 ارب 5 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
    وزارت خزانہ کے مطابق ایکنک نے ضلع خاران میں ڈیم کی تعمیر کا 27 ارب 75 کروڑ لاگت کا نظریاتی شدہ منصوبہ بھی منظور کرلیا۔

  • مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نگران وزیراعظم کے لیے  اسحاق ڈار کے نام پر متفق

    مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نگران وزیراعظم کے لیے اسحاق ڈار کے نام پر متفق

    مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے نگران وزیراعظم کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق کر لیا۔ جبکہ مسلم لیگ ن نے اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق ہوا ہے اور حکومتی کمیٹی اسحاق ڈار کے نام پر باقی سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے رہی ہے۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف کی بھی خواہش ہے کہ نگراں وزیراعظم معشیت کی سمجھ رکھنے والی شخصیت کو بنایا جائے تاکہ اچھے معاشی فیصلے ہوں۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے نگراں وزیراعظم کے حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی خواہش ہے کہ پاکستان کا نگراں وزیراعظم معشیت کی سمجھ رکھنے والی شخصیت کو بنایا جائے، ایسا وزیراعظم لایا جائے جو اچھے معاشی فیصلے کرسکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    یہ مطالبہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایک انگریزی اخبار ٹریبون نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام بطور نگراں وزیراعظم لیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ نہ صرف اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے بلکہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کو معاشی فیصلوں کا اختیار بھی دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • نگران وزیراعظم کے لئے اسحاق ڈار کے نام پر غور

    نگران وزیراعظم کے لئے اسحاق ڈار کے نام پر غور

    مسلم لیگ ن نے نگران وزیراعظم کے لئے اسحاق ڈار کے نام پر غور شروع کر دیا، حتمی فیصلہ پیپلز پارٹی کی مشاورت سے آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی:انگریزی اخبار "دی ایکسپریس ٹریبیون” میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کے ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اقتصادی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے وسیع تر منصوبے کے تحت نگراں وزیراعظم کے لیے اسحاق ڈار کا نام تجویز کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اسحاق ڈار کی نامزدگی کے بارے میں حتمی فیصلہ اگلے ہفتے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ مشاورت سے کیا جائے گا جو دو اہم اتحادی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 میں ترمیم پر غور کر رہی ہے، نگران سیٹ اپ کو معاشی فیصلے کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئندہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کا امکان ہے ان ترامیم سے نگران حکومت کو معیشت کی بحالی کے لیے ضروری فیصلے کرنے کا موقع ملے گا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل

    سیکشن 230 کے مطابق نگران حکومت صرف روزمرہ کے معاملات میں شرکت کے لیے فرائض انجام دے گی جو حکومت کے امور کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ عام انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی مدد کرے گی اور اپنے آپ کو ان سرگرمیوں تک محدود رکھے گی جو معمول کی، غیر متنازعہ اور فوری نوعیت کی ہوں۔

    موجودہ قانون نگران حکومت کو فوری معاملات کے علاوہ بڑے پالیسی فیصلے لینے سے روکتا ہے۔ اور یہ کسی ملک یا بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ بڑے بین الاقوامی مذاکرات میں بھی شامل نہیں ہوسکتی۔ کسی بین الاقوامی بائنڈنگ انسٹرومنٹ پر دستخط یا اس کی توثیق بھی نہیں کرسکتی ۔

    دبئی ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز،آصف زرادری کے بعد نواز شریف بھی …

    ذرائع نے بتایا کہ تجویز سیکشن 230 کے دونوں ذیلی شقوں میں ترمیم کرنے کی تھی جو عبوری سیٹ اپ کو دیے گئے اختیار سے متعلق ہیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے الیکشن ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا-

  • زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار

    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ زرعی آمدن پر نہ کوئی وفاقی ٹیکس لگایا گیا اور نہ ہی لگایا جائےگا۔

    باغی ٹی وی : زراعت اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں نے زراعت اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں بیان دیا تھا جس کامقصد اس تاثرکو ختم کرنا تھا کہ حکومت زراعت اور تعمیراتی شعبہ جات پر نئے ٹیکس لگائےگی میرے وضاحتی بیان کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، جن ٹیکس اقدامات کا تذکرہ ہے وہ یہ ہیں جو 30 جون تک ملک میں لگائے جاچکے ہیں، ان کے علاوہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔

    قبل ازیں ایک بیان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی ہےکہ زراعت اور رئیل اسٹیٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئی ایم ایف معاہدے کی دستاویز پیش کیں اور کہا کہ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا ہے اس کی تفصیلات ایوان میں پیش کررہا ہوں، اس کا مقصد یہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو اس کی تفصیلات کا علم ہوسکے، یہ کام شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جارہا ہے-

    چئیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں زیادہ دیرراہ فراراختیار نہیں کر سکیں گے

    اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ تمام دستاویزات وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں جب کہ ان دستاویزات کی نقول قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی لائبریری میں بھی بھجوائی جارہی ہیں پاکستانی ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، 5.3 ارب ڈالر نجی بینکوں کے پاس ذخائر موجود ہیں جب کہ 8.7 ارب ڈالر ذخائر اسٹیٹ بینک کے ہیں، کوشش ہے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر کے چھوڑ کر جائیں۔

    شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب ملک کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آئی ایم ایف کا نواں جائزہ نومبر 2022 ، دسواں فروری 2023 اور گیارہواں بھی 2023 میں منعقد ہونا تھا لیکن کریڈیبیلیٹی گیپ کی وجہ سے نواں جائزہ تاخیر کا شکار ہوا۔

    منی لانڈرنگ کیس:وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی اشتہاری قرار،دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

  • اسٹیٹ بنک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی. اسحاق ڈار

    اسٹیٹ بنک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی. اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اسٹینٹ برائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کی دستاویز قومی اسمبلی میں پیش کردی ہیں۔ جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت میں جاری ہے، اس موقع پر اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف معاہدے کی دستاویز ایوان میں پیش کیں۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت سےمتعلق دستاویز پیش کروں گا، جس ممبر کو دستاویز پڑھنی ہو وہ پڑھ سکتاہے، اور دستاویز اسمبلی کی لائبریری میں رکھوانے کی بھی درخواست کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق دستاویز شیئر کرنی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام 2019 میں شروع ہوا جسے 2022 میں ختم ہونا تھا۔

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ کریڈیبیلٹی کے گیپ کی وجہ سے 9واں ریویو تاخیر کا شکار ہوا، بجٹ 24-2023 آگیا لیکن نواں جائزہ نہیں ہوا تھا، گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ذخائر 14 بلین ڈالر پر پہنچ چکے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں، 5 اشاریہ 3 بلین پرائیویٹ بینکوں جب کہ 8 اشاریہ 7 بلین ڈالر اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں موجود ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ کوشش ہے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرکے چھوڑ کر جائیں، اسٹیٹ بینک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہےکہ ایسی پالیسیاں بنائیں جس سے مہنگائی کم ہو، البتہ زراعت، رئیل اسٹیٹ کسی بھی شعبے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

    وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی-

    باغی ٹی وی: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا،پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر کمی کی جا رہی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ 16 جولائی سے 31 جولائی تک کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل واجب تھا، اس حوالے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پچھلے 15 روز کے دوران ایک آئٹم میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن دوسرے آئٹم میں اضافہ ہوا ہے۔

    حکومت عوام پر ظلم کی بجائے اپنی مراعات ختم کرے،سراج الحق

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا جس آئٹم میں اضافہ ہوا ہے ہم نے اس کو پاکستانی روپے میں بہتری کی وجہ سے کچھ تلافی کرنے کی کوشش کی ہے، پہلی جولائی کو پیٹرولیم ڈویلمپنٹ لیوی جو کہ آئی ایم ایف سے طے تھا اس میں مزید کوئی کوئی تبدیلی نہیں کر رہے۔


    سینیٹر اسحاق ڈار نے ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ 9 روپے کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 253 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 253 روپے 50 پیسے ہو گئی ہے نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا-

    پاکستان اور سری لنکا کا پہلا ٹیسٹ میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ