Baaghi TV

Tag: ٰاسحاق ڈار

  • قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023  کا وفاقی بجٹ منظور

    قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور

    اسلام آباد: آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا گیا ،قومی اسمبلی نے فنانس بل 24-2023 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی بجٹ کا کل تخمینہ 14 ہزار 480 ارب روپے ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ ساڑھے 900 ارب روپے ہوگا،جبکہ حکومت کی جانب سے بہت سی ترامیم بھی کی گئی ہیں، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے سےبڑھاکر 60 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف معاہدے کی ایک اور شرط پوری ہوگئی ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ بجٹ میں 215 ارب سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 ارب سے بڑھا کر 9 ہزا 415 ارب کردیا گیا پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کردی گئی ہےآئندہ مالی سال کے منظور شدہ بجٹ کے مطابق این ایف سی کے تحت 5 ہزار 276 ارب روپے کے بجائے 5 ہزار 390 ارب روپے ملیں گے۔

    غلام محمود ڈوگر کیجانب سے لینڈ مافیا کی سرپرستی کا انکشاف،اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 459 ارب روپے کے بجائے 466 ارب روپے کردی گئی ہے پراپرٹی کی خرید اور فروخت پر ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کا امکان ہے، پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سےحکومت کو 45 ارب کے اضافی ٹیکس وصول ہوں گے کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا بھی امکان ہے، کھاد پر فیڈرل ایکساٸز ڈیوٹی بڑھانے سے 35 ارب اضافی وصول ہوں گے انکم ٹیکس میں سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر ٹیکس 2.5 فیصد اضافہ کیا ہے پرانی ٹیکنالوجی والے پنکھوں اور پرانے بلب پریکم جنوری 2024 سے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کی ترمیم منظور کی گئی ہے، یہ ترمیم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کی اب پرانی ٹیکنالوجی والے پنکھوں پر یکم جنوری 2024 سے 2 ہزار روپے فی پنکھا ٹیکس عائدہوگا، پرانے بلب پر یکم جنوری 2024 سے 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    فیصل آباد سے بدنام زمانہ انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر کو گرفتار

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

  • آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    ملتان: تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قوم کے سامنے پیش کیا گیا بجٹ کچھ اور ہے اور منظور کرایا جانے والا بجٹ کچھ اور ہو گا۔

    باغی ٹی وی: ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 215 ارب روپے کے مزید ٹیکسز لگا دیئے گئے ہیں، قوم پہلے ہی مہنگائی میں پس چکی ہے فنانس بل کو ریوائز کیا جا رہا ہے، جو پہلے ٹیکس لگے ہیں وہ موجود ہیں اور ان میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہےآئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے، قوم کے سامنے پیش کیا گیا بجٹ کچھ اور ہے اور منظور کرایا جانے والا بجٹ کچھ اور ہو گا۔

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعتیں تقریباً 40 فیصد بند ہو چکی ہیں اورمزید بند ہو رہی ہیں،انڈسٹریز اس وقت بحران کی کیفیت میں ہیں اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پروڈکشن متاثر ہو رہی ہے ٹیکسٹائل اور زراعت کا برا حال ہے، ملک کی معیشت سکڑ رہی ہے اور حکمران جو بات کر رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں، زرعی شعبہ بھی بحران کا شکار ہے، کھاد مہنگی ہوتی جا رہی ہے،اس پر 5 فیصد ڈیوٹی لگادی گئی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کے اعلامیے پر تبصرہ نہیں کیا، امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کی ملاقات کے اعلامیے میں کشمیریوں کی پامالی کا ذکر تک نہیں، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر کوئی تبصرہ ہی نہیں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر سب خاموش ہیں-

    آئی ایم ایف کا اعتراض،بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی

  • مفتاح اسماعیل نے پارٹی چھوڑ دی

    مفتاح اسماعیل نے پارٹی چھوڑ دی

    مفتاح اسماعیل نے مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کرلیں

    مفتاح اسماعیل نے پارٹی کے صوبائی عہدے سے استعفیٰ دے دیا مفتاح اسماعیل مسلم لیگ ن سندھ کے جنرل سیکرٹری تھے ، مفتاح اسماعیل نے اپنا استعفی سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن احسن اقبال کو بھجوا دیا ،مفتاح کا کہنا ہے کہ پارٹی کے قائد میان نوازشریف اور صدر میاں شہبار کی برسوں تک مجھ پر مہربان رہے،میں ہمیشہ ان کی سپورٹ پر شکر گزار رہوں گا،اب میں انتخابی سیاست میں متحرک نہیں رہا، میری دلی خواہش ہے کہ پاکستان میں سماجی انصاف ہو، معاشی استحکام ہو اور بہتر طرز حکومت ہو،

    واضح رہے کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت بنی تو مفتاح کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا تا ہم ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کی لندن سے پاکستان واپسی پر مفتاح اسماعیل سے وزارت لے لی گئی تھی، مفتاح اسماعیل پارٹی کی پالیسیوں سے نالاں تھے، مریم نواز بھی مفتاح کے حوالہ سے خوش نہیں تھی، مفتاح نے حکومتی معاشی پالیسی پر تنقید بھی کی، جس پر چند دن قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ اسحاق ڈار پر تنقید کرنے والوں‌کو پارٹی میں رہنے کا حق نہیں

    مفتاح اسماعیل کی نکتہ چینی حکومت کیلئے مفید بھی ہو سکتی. خواجہ آصف

    برطانیہ سے ملے 190 ملین پاؤنڈ کا جواب عمران خان کو دینا چاہئے. مفتاح اسماعیل

    ‏عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے….فواد چودھری کی آڈیو لیک

    پرویز الہی کی مبینہ آڈیو لیک جس میں وہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو گندی گالیاں دے رہے ہیں

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

  • پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے،اسحاق ڈار

    قومی اسمبلی اجلاس، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک نے کچھ پابندیاں لگائی تھیں ،سٹیٹ بینک نے تمام پابندیاں ہٹا دی ہیں ،تاجروں اور انڈسٹری کے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا ،ملک کے حالات کی وجہ سے درآمدات پر پابندیاں لگائی تھیں،ہماری کوشش ہو گی کہ پاکستان کی معیشت کو جلد سے جلد بہتر کریں،بیرونی ادائیگی کرنا ہماری ذمہ داری ہے،انڈسٹریر کو جو مسائل تھے وہ دور ہو جائیں گے،ارکان نے تنقید کے ساتھ تجاویذ بھی پیش کیں،سپر ٹیکس گزشتہ برس لایا گیا تھا، سپر ٹیکس کی کم سے کم حد 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کی جا رہی ہے، کیش نکلوانے پر 0.6 فیصد ٹیکس کا مقصد ڈاکو منٹیشن بڑھانا ہے،بون شئیرز پر 10 فیصد جبکہ ڈیویڈنڈ پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، بونس شئیرز پر ٹیکس کمپنیوں نے ادا نہیں کرنا،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سینٹ اور اسمبلی کی طرف سے جو تجاویز آئیں ہیں میں ان پہ تمام ممبران کا اور دونوں ہاؤسز کا مشکور ہوں ،نان فائلرز کے رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ہے،ڈیویڈنڈ پر 15 فیصد اور بونس شیئر کے لیے ٹیکس کی شرح 10 فیصد تجویزہے ،امپورٹس کے حوالے سے پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں پنکھوں کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو انرجی ایفیشنٹ مصنوعات بنانے کے لیے چھے مہینے کی توسیع دے رہے ہیں اور اس پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ،سوپر ٹیکس کی حد 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کر دی گئی ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم بڑھا کر 466 ارب روپے کر دی گئی ہے پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے،دو سے تین روز میں بجٹ پاس کریں گے کوشش ہے پاکستان کے فارن ریزرو میں اضافہ کریں، اسٹیٹ بینک کی جانب سے بزنس پرسختیوں کوختم کردیا گیا ،

    رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں ایوان کی توجہ شمالی وزیرستان میں گیس کے مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں گیس دریافت ہو چکی ہے، اس سے قومی خزانے کو ڈیڑھ بلین ڈالر کا فائدہ ہوگا جو کہ ہم ایل این جی کو امپورٹ کرنے پر خرچ کرتے ہیں، گیس پائپ لائن بچھائی جارہی ہے مگر مقامی لوگوں کو گیس فراہم نہیں کی جارہی، اس معاملے کو پہلے بھی اجاگر کیا گیا ہے، شمالی وزیرستان میں گیس کے مسئلے پر پہلے بھی وزیرستان میں احتجاج ہوا تھا، وزیراعظم صاحب نے کمیٹی بنائی جس نے وعدے کیے مگر ابھی تک ان کے مسائل کے حل تو دور کی بات ان سے بات تک نہیں کی،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام

  • گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں،بلاول

    گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ یاروں کا یار ہے، اس وقت ہماری سیاسی یاری مسلم لیگ نواز کے ساتھ ہے،

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست گالم گلوچ اور کرداری کشی پر مبنی نہیں شہباز شریف ن لیگ کا نہیں زیادہ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بچپن سے جانتا ہوں،باقیوں کےلئے یہ ڈار صاحب لیکن میرے لئے ڈار انکل ہیں، زرداری یاروں کے یار ہیں اور اس وقت ن لیگ ہمارا یار ہے، گواہی دیتا ہوں شہباز شریف اچھا کام کرتے ہیں، وہ دن رات محنت کر رہے ہیں، اس طرح لگن سے کام کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے ہاتھ مضبوط کریں،سیلاب متاثرین کے فنڈز کے اجرا کی یقین دہانی پر وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام
    بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوانوں کے لئے کھل کر بات کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں قابل تجدید ذرائع توانائی کی جانب بڑھنا ہو گا، عالمی طور پر ہم موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے دعوے کرتے ہیں مگر بجٹ دستاویزات میں اس کے برعکس لکھا جاتا تھا،ہمیں اپنی منصوبہ بندی قابل تجدید ذرائع توانائی کے ارد گرد مرتب کرنا ہوگی،ہمیں عالمی طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، سابق وزیر اعظم کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو دھچکا لگا، پاپولسٹ سیاست کے خاتمے کے لئے کام کیا جا رہا ہے ،امریکہ میں بھی ایک پاپولسٹ سیاستدان موجود ہے، اس امریکی سیاستدان نے اداروں، پارلیمان پر حملہ کیا، اس امریکی سیاستدان کے سماجی رابطے کے اکاونٹ معطل کر دئے گئے، ہمارے ہاں پاپولسٹ سیاستدان نے اپنے سپیکر کے ذریعے اپنا آئین تڑوایا،کوئی ایسا ملک نہیں جو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اجازت دے،امریکہ میں پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی طرف داخل ہونے پر کیا ہو گا؟ جو ردعمل آیا ہے وہ بہت قدرتی ہے،آپ شہداء کی یادگاروں پر حملہ کریں تو ہم جذباتی ہوں گے، کل تک آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والے آج انسانی حقوق کا رونا رو رہے ہیں،سیاسی انتقام کی حمایت نہیں کریں گے لیکن ہم بے وقوف نہیں ہیں،سابق وزیراعظم سویلینز کو ملٹری کورٹس کا نشانہ بناتے تھے، اگر فوجی تنصیبات اور یادگار شہداء پر حملہ آور ہوں گے تو قانون حرکت میں آئے گا، پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،جمہوریت تب مستحکم ہو گی جب سیاسی جماعتیں جمہوری انداز میں کام کریں گی،

    بلاول کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری سیاستدان تیس سال سے ایسی سیاست کر رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے ہمیں یقینی بنانا ہے کہ اس بند گلی میں پورا سیاسی نظام نا دھکیل دیا جائے،ہمیں سیاسی ، معاشی لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھنا ہے، سیاسی نظریات اتحادیوں کے درمیان مختلف ہو سکتے ہیں،میثاق جمہوریت کی روح کو ہم نے سیاسی استحکام کے لئے قائم رکھنا ہے،

    کسی بھی ملک کے کسی بھی بیان کی وجہ سے پاکستان کوئی کاروائی نہیں کرے گا،بلاول
    وزیر خارجہ بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ بیان سامنے آیا ہے، پاکستان کے لئے ضروری ہے ہم دنیا کی سیاست سے دور رہیں،ہمیں اپنے ملک کی اندرونی صورتحال پر کام کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کل بھی اپنے بل بوتے پر کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہے، کسی بھی ملک کے کسی بھی بیان کی وجہ سے پاکستان کوئی کاروائی نہیں کرے گا، پاکستان دنیا میں سب سے ذیادہ متاثر ہوا ہے،بڑی قوتوں کو دہشت گردی پر سیاست نہیں کرنی چاہئیے، دہشت گردی سے مقابلہ تب ہو سکتا ہے جب بڑی طاقتیں اس مسلئے کو سنجیدہ لیں گی،

    ہم ایک ہی حکومت میں ہیں، نہیں چاہتے کہ متنازع بات کریں، خورشید شاہ
    وفاقی وزیر رانا تنویر کے بیان پر پیپلز پارٹی ارکان نے رد عمل دیا ہے،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم ایک ہی حکومت میں ہیں، نہیں چاہتے کہ متنازع بات کریں، یہ کہا جا رہا ہے کہ 2013 میں ملک میں اندھیرا تھا، قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) اس بات کی تحقیقات کرکے بتائے کہ 2008 سے 2013، 2013 سے 2018 اور 2018 سے اب تک ملک میں بجلی کی کیا صورتحال رہی،محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کا معاہدہ کیا تھا، وہ معاہدہ ختم کیا گیا،اگر وہ معاہدہ ختم نہ کیا گیا ہوتا تو آج ہم اندھیروں میں نہیں ہوتے، قوم کے پاس ڈاکومنٹس ہونے چاہیے،قوم کو پتا ہونا چاہیے کس نے کیا کیا،

    مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دی جائے جو کہ 45 لاکھ لوگوں کا ضلع ہے،
    رکن قومی اسمبلی ارشاد احمد خان نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو بجٹ بہتر ہے مگر خدا کرے یہ صرف الفاظ میں نہ ہو بلکہ عملی طور بھی ہو، صوبہ پنجاب میں پینشن بہت کم بڑھائی گئی ہے، پینشن دار طبقے کا بڑھاپے میں کوئی سہارا نہیں ہوتا ان کا سہارا صرف پینشن ہوتا ہے،میری درخواست ہے کہ جس طرح وفاقی حکومت نے پینشن میں اضافہ کیا ہے اسی طرح پنجاب حکومت بھی کرے ،مزدور، ملازمین اور چھوٹے طبقے کی تنخواہیں بڑھائی جائیں،اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک محفوظ ہو تو زراعت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،مظفرگڑھ کو کسی کے حصے کا پانی نہیں چاہیے صرف مظفرگڑھ کو اپنے حصہ کا پانی دیا جائے،مظفرگڑھ کے ضلع میں سے دو ضلعے وجود میں آئے ہیں ایک ضلع لیہ اور دوسرا کوٹ ادو، مظفر گڑھ سے ضلعے وجود میں آئے ہیں اور اس کی خود کی آبادی 45 لاکھ ہے،کیا مظفرگڑھ کا حق نہیں بنتا کہ اس کو ڈویژن بنایا جائے،میری درخواست ہے ان دو ضلعوں کو شامل کرکے مظفرگڑھ کو ڈویژن بنایا جائے،آج کے موجودہ حالات میں دنیا کا مقابلہ صرف تعلیم سے کیا جاسکتا ہے،مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دی جائے جو کہ 45 لاکھ لوگوں کا ضلع ہے،

    ہولی کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جو خط لکھا گیا اس معاملے کو احسن انداز میں اور فوری طور پر حل کرنے پر قومی اسمبلی کے ممبران نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے تعلیم رانا تنویر حسین کو کو خراج تحسین پیش کیا،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

  • شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کررہا،وزیرخزانہ

    شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کررہا،وزیرخزانہ

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کررہا بلکہ شیل ایک اور بین الاقومی انویسٹر کو اپنے شیئرز بیچنا چاہتا ہے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ شیل کمپنی اپنے شیئر بیچ کر بیرون ملک رقم نہیں لے جا رہی، شیل کمپنی جوبھی فیصلہ کرے گی وہ حکومتی فیصلوں پرعمل درآمد کی پابند ہے-

    انہوں نے کہا کہ شیل کمپنی کے شئیر بیچنے کا تعلق پاکستانی حالات سے نہیں ہے شیل کمپنی کے حوالے سے بے بنیاد قیاس آرائیاں کی جارہی ہے شیل کئی یورپی ممالک میں بھی اپنا کاروبار ری آرگنائز کر رہا ہے۔

    اعظم خان اپنی مرضی سے گاڑی خود ڈرائیو کر کے گئے،اسلام آباد پولیس

    اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کو ایک ارب ڈالر کی قرض کی واپسی کا انتظام بھی کر لیا ہے، پہلے پیمنٹ کرنے سے کچھ رقم چارج کی جاتی ہے، وزارت خزانہ نے چینی بینک سے رابطہ کیا، چینی بینک کو مقررہ وقت سے پہلے ادائیگی کرنے کا کہا، بیرونی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے، پیر کو ہم نے چین کو ادائیگی کی، 30 کروڑ ڈالرز کی بھی چین کو ادائیگی کردی ہے۔

    اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ،بچوں سمیت 40 افراد ہلاک

    وزیر خزانہ نے کہا کہ چین سے 30 کروڑ ڈالرز جلد مل جائیں گے یہ طے کر چکے ہیں کہ ادائیگی فاسٹ ٹریک سے کی جائے گی، 300 ملین ڈالر بھی پاکستان کو 3 یا 4 روز میں واپس آجائیں گے۔

    پرویز الہیٰ کی مشکلات بڑھنے لگیں

  • آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی،  اسحاق ڈار

    آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، اسحاق ڈار

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ بجٹ کا مقصد کوئی ابہام ہو تو اس کو دور کیا جائے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد ایف بی آر میں 2 کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں،چیئرمین آج منظوری لے لیں گے ،کمیٹیاں بن جائیں گی،ایک کمیٹی غلطیاں اور دوسری بزنس معاملات کو دیکھے گی، دونوں کمیٹیاں آج شام تک فائنل کردیں گے،جن سفارشات پر عمل ہوسکے گا ہم اس پر عملدرآمد کرینگے، بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے کاروباری طبقے کے تحفظات دور کریں گے ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف 9200 ارب روپے ہے ،حکومت کے کل اخراجات 14 ہزار 400 ارب روپے ہیں پنشن کیلئے 761 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،نجی شعبہ ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،وفاقی خسارہ 5 ہزار 773 ارب روپے ہوا ہے ،پبلک پرائیویٹ سیکٹرکی مدد سے ترقی کا پہیہ چلے گا،ضم اضلاع کے لیے کل61 بلین روپے رکھے گئے ہیں، اگلے سال کا خام ریونیو 12 ہزار 163ارب روپے ہوگا وفاق کے مجموعی اخراجات 14 ہزار 463 ارب روپے ہیں،معیشت کامجموعی حجم 105 ٹریلین روپے ہے، 1150 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی نئی بلند تاریخ رقم کی جارہی ہے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اوورسیز کو گھر خریدنے پر ٹیکس سے استشنی اور گولڈن کارڈ کی سہولت دی،آئی ٹی اور سائنس کیلئے 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، نئے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ اگلی حکومت کرے گی سستی کھاد کیلئے 6 بلین کی سسبڈی رکھی ہے زرعی بیج پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے، زرعی مشینوں کی امپورٹ پر بھی ڈیوٹی ختم کردی،

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

  • ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پرجارہا ہے،وزیر خزانہ

    ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پرجارہا ہے،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو معاشی صورتحال انتہائی خراب تھی،ہم نے معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مائیکرو اکنامک پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں،بجٹ کل پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کیا جائے گا, 2017 میں ہماری معاشی ترقی کی رفتار بہت تیز تھی، 2022 میں پاکستان کی معاشی بد حالی ہر ایک کے سامنے تھی, 2017 میں معاشی اعتبار سے ہم 24 ویں نمبر پر تھے،2022 میں پاکستان کا معاشی ترقی کا نمبر 47 واں تھا,اگر ہم گزشتہ حکومت کو چند مہینے اور چلنے دیتے تو نہ جانے پاکستان کے حالات آج کیا ہوتے ، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ملکی معیشت کو وقت پر سنبھالا ،2010 میں پاکستانی معیشت 48 ویں،2017 میں 24 ویں اور 2022 میں 47 ویں پوزیشن پر چلی گئیاب 2023۔24 میں اسے 30 ویں اور اگلے 5 سال میں 20 ویں پوزیشن پر لائینگے ،گزشتہ مالی سال بہت مشکل تھا، اگلے سال کیلئے 5 اہداف مقرر کیے ہیں ہم نے گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کو کنٹرول کیا ،معیشت میں گراوٹ کا عمل رک گیا ہے،

    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی قرضوں کا ہے پاکستانی معیشت میں جو گراوٹ ہورہی تھی وہ رک گئی ہے جب ہماری حکومت آئی جی ڈی پی6% فیصد تھی دوسرے سال منفی میں چلی گئی تھی تجارتی خسارہ 39.1 ارب ڈالر ہوگیا تھا کرنٹ اکاونٹ خسارہ چار فیصد تک پہنچ گیا تھا ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر جارہا ہے بیرونی معاہدے سے انحراف کرکے پچھلی حکومت نے مسئلہ بنایا اب بیرونی فنڈز کے اصول کیلئے اعتماد کا مسئلہ آرہا ہے

    بجٹ اجلاس کل سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا . وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گے ، بجٹ کا حجم 13 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا بجٹ کا خسارہ 6 ہزار ارب سے زائد ہوگا جب کہ 7300 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ،مذکورہ بجٹ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا۔بجٹ اجلاس سے قبل دوپہر 2 بجے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا جس میں کابینہ بجٹ کی منظوری دے گی

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بورڈ کے جائزے سے پہلے فنانسنگ کیلئے 6 ارب ڈالر کا فرق ختم کرنا ہوگا،اس مقصد کیلئے مضبوط قابل اعتماد فنانسنگ کی ضرروت ہے ،پاکستان کو بجٹ پاس کرانے سے پہلے آئی ایم ایف بورڈ کے آخری جائزے کا سامنا ہے ، پاکستان کیلئے موجودہ حالات میں یہ اہم بجٹ ہے ،

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    دوسری جانب حکومت رواں مالی سال مقررہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ،رواں مالی سال 23-2022 کے اقتصادی سروے کے اہم نکات سامنے آ گئے ،اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو 0.29 فیصد رہی جب کہ ہدف 5.01 فیصد تھا ،زرعی شعبےکی شرح نمو 1.55فیصد رہی ، جس کی نمو کاہدف 3.9 فیصد مقرر تھا ،ملک میں شدید سیلاب نےزراعت سمیت دیگر اقتصادی شعبوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ، فصلوں کی شرح نمو منفی 2.49 فیصد رہی ، اہم فصلوں کی گروتھ منفی 3.20 فیصد رہی جب کہ فصلوں کی گروتھ کاہدف 3.5 فیصد مقرر تھا ،لائیو اسٹاک کی ترقی کی شرح نمو 3.78 فیصد رہی جب کہ اس کا ہدف 3.7 فیصد مقرر تھا ، فشریز کے شعبے کی گروتھ 1.44 فیصد رہی، جس کا ہدف 6.1 فیصد تھا ،جنگلات کے شعبے کی شرح نمو 3.93 فیصد رہی،اس کا ہدف 4.5 فیصد مقرر تھا ،صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 2.94 فیصد رہی اور اس کا ہدف 5.9 فیصد تھا بڑی صنعتوں کی گروتھ 7.4 فی صد ہف کے برعکس منفی 7.98 فیصد رہی ،چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 9.03 فیصد رہی جب کہ ہدف 8.3 فیصد تھا ،بجلی، گیس اور پانی فراہمی کی شرح نمو 6.03 فیصد رہی جب کہ ان کا ہدف 3.5 فی صد تھا ، تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو منفی 5.53 فیصد رہی، جس کا ہدف 4 فیصد تھا ، انفارمیشن اور کمیونیکیشن کے شعبوں کی گروتھ 6.93 فیصد رہی اور اس کا مقررہ ہدف 6 فیصد تھا

  • آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو،وزیراعظم

    آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ اس حوالے سےامید پائی جاتی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے ایک سمجھوتے پر پہنچ جائےگی-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے "جیو” نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مابین ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا ہے کہ اس حوالے سےامید پائی جاتی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے ایک سمجھوتے پر پہنچ جائےگی –

    محکمہ ایکسائز نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیل نیب کو …

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں یقینی بنائیں کہ آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کی کوئی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے عمومی انتخابی سال کے لیے پاپولر بجٹ دینے کی میڈیا رپورٹس کے برعکس ’’ پاکستان کوئی ایسا بجٹ افورڈ نہیں کر سکتا جس میں آئی ایم ایف کی طے کردہ بنیادی باتوں کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔

    ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے حوالے سے خاصے پرامید ہیں کیونکہ ان کی ایک ہفتہ قبل آئی ایم ایف کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی۔

    بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن نے سمندری طوفان کی شکل اختیار کرلی

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیارجیوا سے رابطے میں 6.5 ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج کےپٹری سےاترے ہوئے پیکج کی بحالی کی بات کی تھی، دونوں رہنماؤں کےمابین ہونےوالی یہ گفتگو وزارت خزانہ کیجانب سے گزشتہ چار ماہ کے دوران مذاکرات میں تعطل دور کرنے میں ناکامی کے بعد ہوئی تھی۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے گفتگو سےخاصےمطمئن تھےاسی میٹنگ میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے بجٹ کی تفصیلات شیئر کرےگا۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے وزیراعظم کو پروگرام کی بحالی کا اشارہ بھی دیا۔

    یہاں تک کہ وزیراعظم شہبازشریف نے ترک میڈیا کو بتایا کہ پاکستان رواں ماہ میں آئی ایم ایف سے ڈیل طے پاجانے کے حوالے سے پرامید ہے۔

    امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

  • جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے،اسحاق ڈار

    جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے،اسحاق ڈار

    لاہور: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے نویں جائزے کیلئے سب کچھ ہوچکا ہے، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔

    باغی ٹی وی: تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے، ہم نے گزشتہ دور میں پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بہترین معیشت بنایا تھا، آئی ایم ایف کے نویں جائزے کیلئے سب کچھ ہوچکا ہے، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا پارٹی سے علیحدگی کا سلسلہ تاحال جاری

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا پاکستان پر جیسے 1999ء میں ایٹمی دھماکوں کے وقت بدترین پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن تب بھی ہم مشکلات سے نکل آئے تھے، موجودہ مشکل وقت سے بھی جلد نکل آئیں گے گزشتہ تین سال میں معیشت کا برا حال کیا گیا، پچھلے تین ماہ سے مسلسل پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی، ڈیفالٹ نہ ہونے سے پاکستان کے اندر اور باہر موجود ناقدین کو مایوس ہونا پڑا،مشکل وقت ہے مل کر اس کو نکالنا ہے اور پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے کوشش کریں گے بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے لیکن آئی ایم ایف کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا ہےکہ پاکستانی حکام سے بات چیت میں بجٹ پرتوجہ رکھی جائے گیایک بیان میں آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس کیلئے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کی معیاد جون کے آخر میں ختم ہو رہی ہے پاکستانی حکام سے بات چیت میں اگلے مالی سال کے بجٹ پرتوجہ رکھی جائے گی، پروگرام کے اہداف اور مناسب فنانسنگ کے انتظامات بھی بات چیت کا حصہ ہیں۔

    عمران خان کے ایڈوائزر ہمیشہ انہیں غلط مشورے دیتے رہے،9 مئی کاواقعہ تو انتہا تھی،مراد …

    جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کی ایم ڈی سے مدد مانگ لی ہے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے رابطہ کیا جس میں انہوں نے پروگرام کے لیے 9 واں جائزہ مکمل کرنے میں مدد طلب کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ذرائع کا بتانا ہےکہ ایکسٹرنل فنانسنگ کے معاملے پر آئی ایم ایف کے مطالبات برقرار ہیں اور آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ میں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کا فرق ختم کروانا چاہتا ہے۔

    قبل ازیں وزارت خزانہ حکام نے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کردی ہیں،گزشتہ روز حکام وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئےان سے بجٹ کی تفصیلات شیئر کی جائیں گی، اور آئی ایم ایف کے اعتراضات کی صورت میں بجٹ میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

    روسی تیل آنے کے بعد بھی قیمتیں کم ہوں گی یا نہیں؟ وزیر مملکت برائے …

    ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کر دی گئی ہیں آئی ایم ایف سے تجاویز میں ایف بی آر اہداف، قرضوں کی ادائیگیوں سمیت اہم اہداف کی تجاویز شئیر کی گئی ہیں، آئی ایم ایف ان تجاویز کا جائزہ لے کر وزارت خزانہ حکام سے بجٹ پر بات چیت کرے گا وفاقی بجٹ میں قرض اور سود کیلئے 8 ہزار ارب تک مختص کرنے کی تجویز ہےاور دفاعی اخراجات 1.7 ٹریلین سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے، جب کہ نان ٹیکس آمدن کے ذریعے 2.5 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق اسٹیٹ بینک منافع 900 ارب اور پی ڈی ایل سے 750 ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے، آئندہ بجٹ میں سبسڈیزکی مد میں1.3ٹریلین مختص کرنے کی تجویز ہے آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد رہ سکتا ہے، وفاق اور صوبوں کا بجٹ خسارہ 4.8 سے 5 فیصد تک رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا۔

    علی محمد خان اور شہریار آفریدی رہا ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار

    ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی اسٹیٹ بینک حکام سے آئندہ مالی سال کیلئے فنانسنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ سے قبل معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اسٹاف لیول معاہدے کو منظوری کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوا دیا جائے، موجود پروگرام مکمل ہوتے ہی پاکستان اگلے پروگرام کے لئے مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیرونی فنانسنگ سمیت تمام مطالبات پورے کردیے ہیں لیکن پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان 1.1 ارب ڈالر کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔