Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کی دھمکیاں ، کیوبا کا امریکا کیساتھ بات چیت کرنے سے انکار

    ٹرمپ کی دھمکیاں ، کیوبا کا امریکا کیساتھ بات چیت کرنے سے انکار

    کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میگوئل دیاز کانیل نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ سوائے امیگریشن کے تکنیکی مسائل کے علاوہ کسی بھی معاملے پر بات چیت نہیں ہو رہی،صدر کانیل کا یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے اور دھمکی دینے کے بعد سامنے آیا۔

    صدر کانیل نے کہاکہ امریکی حکومت کے ساتھ مہاجرین کے سوا کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ان کا یہ ردعمل اس بیان کے بعد آیا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا اور کیوبا کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

    ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    ٹرمپ نے الزام عائد کیاکہ کیوبا نے برسوں تک وینزویلا سے حاصل ہونے والے تیل اور مالی وسائل پر گزارا کیا اور اس کے بدلے وینزویلا کے دو رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی انہوں نے خبردار کیاکہ اب امریکا کی طاقتور فوج وینزویلا کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور کیوبا کو مزید تیل یا مالی مدد نہیں ملے گی، اس لیے فوری معاہدہ کرنا ضروری ہے ورنہ دیر ہو جائے گی۔

    صدر ٹرمپ کی دھمکی پر گزشتہ کیوبا کے صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کوئی بھی ملک یا رہنما انہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

  • ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا کا دعوی

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا کا دعوی

    برطانوی میڈیا نےدعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سب سے ایلیٹ یونٹ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی کارروائی اور قبضے کا خفیہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سخت گیر حلقے جن کی قیادت اسٹیفن ملر کر رہے ہیں، حالیہ خفیہ آپریشنز کی کامیابی کے بعد اس قدر پرجوش ہیں کہ اب آرکٹک کے اس اسٹریٹجک جزیرے کو بھی طاقت کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ میں لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

    برطانیہ کے سنڈے ڈیلی میل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ سپیشل فورسز کے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرین لینڈ پر حملے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کریں، جس کی مبینہ طور پر سینئر امریکی فوجی رہنما مزاحمت کر رہے ہیں دی میل آن سنڈے کے حوالے سے ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی مشیر، خاص طور پر سیاسی حکمت عملی کے ماہر اسٹیفن ملر، وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو پکڑنے کے لیے کیے گئے حالیہ آپریشن سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اور وہ آرکٹک جزیرے پر قبضہ کرنے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنا چاہتے ہیں اس سے پہلے کہ روس یا چین کوئی اقدام کریں۔

    ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ذرائع کے مطابق اس ممکنہ منصوبے کے پیچھے تین بڑے مقاصد بتائے جا رہے ہیں، جس میں امریکا میں معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانا، مڈٹرم انتخابات سے قبل ایک بڑی فتح دکھانا اور آرکٹک میں روس اور چین کے بڑھتے اثر کو روکنا شامل ہے۔

    برطانوی سفارتی ذرائع کا خیال ہے کہ ٹرمپ ملکی سیاسی محرکات سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، امید ہے کہ ڈرامائی خارجہ پالیسی کارروائی اس سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کمزور اقتصادی کارکردگی سے امریکی ووٹروں کی توجہ ہٹا سکتی ہے تاہم، اس منصوبے نے سینئر فوجی شخصیات کو خوف زدہ کر دیا ہے، امریکی نظام کے اندر ہی شدید مزاحمت سامنے آ گئی ہے-

    امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

    رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ جنرلز اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اس منصوبے کو کھلے الفاظ میں غیر قانونی، ناقابلِ عمل اور تباہ کن قرار دے دیا ہے عسکری قیادت کا مؤقف ہے کہ نہ تو کانگریس اس کی اجازت دے گی اور نہ ہی نیٹو اس کے نتائج برداشت کر سکے گا۔

    ڈنمارک کے ساتھ گرین لینڈ کے تعلقات منقطع کرنے کے لیے طاقت یا زبردستی کے استعمال سے لے کر "سمجھوتہ کرنے والے منظر نامے” تک، جس میں ڈنمارک نے روس اور چین کو باضابطہ طور پر روکتے ہوئے امریکہ کو توسیعی فوجی رسائی کی اجازت دی ہے، سفارت کاروں نے مبینہ طور پر جنگی نوعیت کے کئی منظرنامے پیش کیے ہیں دی میل کے ذریعہ نقل کردہ ایک سفارتی کیبل میں متنبہ کیا گیا کہ انتہائی انتہائی صورت حال "نیٹو کی اندر سے تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔”

    انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ

  • ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کیا گیا ہے یہ غور و فکر ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔

    امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں،ممکنہ کارروائی کا مقصد براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔

    امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

    واضح رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہےملک میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس بند ہے، جس کے باعث اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا ایران ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکا اس کی حمایت کے لیے تیار ہےمریکا ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومتی رِٹ کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

  • ٹرمپ کی تہران پر قیامت برپا کرنے کی دھمکی ،ایران کاسخت ردعمل سامنے آگیا

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی وارننگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں انتہائی سخت جواب دے گا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے اقدام اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کی تعمیر جاری رہنے کی صورت میں اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

    پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کیلیے انعامی رقم منظور

    فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران دوبارہ جوہری ڈھانچے کی تعمیر کی کوششوں میں مصروف ہے، اور اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو امریکا فوری حملوں کی حمایت کرے گا، ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی بحالی کی صورت میں اسے تباہ کرنا ناگزیر ہو جائے گاصدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی معا ہد ے پر آ جانا چاہیے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات معاملات مطلوبہ انداز میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کیفے ٹیریا، سینیٹر کی پلیٹ سے کاکروچ نکل آیا

  • صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں،صدر ٹرمپ نے یو ایس سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ماہ 100 سے 200 شہریت منسوخی کے کیسز امریکی وزارتِ انصاف کو بھیجے جائیں۔

    ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکا کی کثیرالثقافتی شناخت اور آئینی اقدار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہےادھر امریکی وزارتِ انصاف کے ذرائع نے بتایا کہ 2017 سے اب تک 120 شہریت منسوخی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا میں شہریت حاصل کرنے والے غیرملکیوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہےمحکمۂ شماریات کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ سال 8 لاکھ غیر ملکیوں نے امریکی شہریت حاصل کی، جن کا تعلق میکسیکو، بھارت، فلپائن، ڈومینیکن ریپبلک اور ویتنام جیسے ممالک سے تھاچنانچہ ان تمام ممالک کے باشندوں کی امریکی شہریت کی منسوخی کے امکانات قوی ہیں جس میں سب سے زیادہ خطرہ بھارتیوں کے لیے ہے۔

    امیگریشن ماہرین اور سول رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قانونی سے زیادہ سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا مقصد غیر سفید فام اور غیر یورپی نژاد امریکیوں کو خوف میں مبتلا رکھنا ہے،جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی مزید آگے بڑھی تو امریکا میں بسنے والے لاکھوں شہریوں کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، اور یہ ملک کے جمہوری تشخص پر سیاہ دھبا ثابت ہو گا۔

    واضح رہے کہ 2018 میں شہریت منسوخی کے 90 کیسز سامنے آئے تھے جب کہ 2024 میں 13 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 8 کی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور 2017 سے2021 میں بھی سخت امیگریشن قوانین نافذ کیے تھےانھوں نے “زیرو ٹالرنس” پالیسی کے نام پر تارکین وطن خاندانوں کو جدا کیا اور مسلمانوں کے خلاف سفری پابندیاں عائد کی تھیں، اُس وقت بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی یہ پالیسیاں نسلی تعصب، خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دے رہی ہیں۔

  • ٹرمپ نے مودی کو اپنا دوست قرار دے دیا

    ٹرمپ نے مودی کو اپنا دوست قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر بار بار تنقید کے باوجود اچانک انہیں اپنا دوست قرار دے دیا۔

    صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مودی ہمیشہ میرے دوست رہیں گے، بھارت اور امریکا کا ایک خاص رشتہ ہے، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے جذبات اور تعلقات کے مثبت انداز کو سراہتے ہیں،بھارت اور امریکا کے درمیان انتہائی مثبت اور مستقبل کی جانب دیکھنے والی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔

    https://x.com/narendramodi/status/1964180697012228163

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں امریکا اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے کو ملی ہے۔ امریکا نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، جب کہ ٹرمپ نے بھارت پر روس سے سستا تیل خریدنے کا الزام بھی لگایا۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ ہونے پر بھارت کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مودی، پیوٹن اور شی جن پنگ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسا لگتا ہے بھارت اور روس چین کے قریب جا رہے ہیں،دوسری جانب، مودی نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کی یہ دورہ سات برس بعد ہوا جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے، ملاقات کا امکان

    ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے، ملاقات کا امکان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے ہیں جہاں ان کے درمیان چند لمحوں میں ملاقات متوقع ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے ے مطابق ٹرمپ اپنے خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعے پہنچے، جبکہ روسی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ پیوٹن بھی الاسکا پہنچ چکے ہیں۔ایلمینڈورف-رچرڈسن بیس پر دونوں صدور نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور تصویریں بنوانے کے لیے کچھ دیر رکے۔ اس دوران صحافیوں نے سوالات کیے، تاہم ٹرمپ اور پیوٹن ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر بیس سے روانہ ہو گئے۔

    اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ایئر فورس ون کے ذریعے الاسکا پہنچیں گے۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اجلاس میں تمام آپشنز زیر غور ہوں گے، حتیٰ کہ اگر ٹرمپ کو محسوس ہوا کہ پیوٹن معاہدے میں سنجیدہ نہیں تو وہ اجلاس سے واک آؤٹ بھی کر سکتے ہیں۔ دوران سفر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ سب اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ جانیں بچانے کے لیے کر رہے ہیں، اور اگر پیوٹن جنگ ختم کرنے پر راضی نہ ہوئے تو روس کو سخت اقتصادی نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ یوکرین کے علاقوں کے تبادلے پر بات ہو سکتی ہے لیکن فیصلہ یوکرین کو ہی کرنا ہوگا، اور جب تک جنگ ختم نہیں ہوگی، کاروباری تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔ اجلاس کا آغاز دونوں رہنماؤں کی مترجمین کے ساتھ نجی ملاقات سے ہوگا، جبکہ امریکی وفد میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

    بھارتی یومِ آزادی تقریب ،امیت شاہ سے ترنگا گر گیا، سوشل میڈیا پر مذاق

    کھلاڑیوں کی کارکردگی پر پی سی بی ناخوش، اہم تبدیلیاں متوقع

    ملکی زرمبادلہ ذخائر میں معمولی اضافہ، مجموعی حجم 19.49 ارب ڈالر

    سندھ طاس معاہدہ: بھارت کا عالمی ثالثی عدالت فیصلہ ماننے سے انکار

  • ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    اتوار کے روز ایک نجی مسافر طیارہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیو جرسی میں واقع رہائشگاہ بیڈمنسٹر کے اوپر پرواز کرتا ہوا پابندی شدہ فضائی حدود (Restricted Airspace) میں داخل ہو گیا،اتوار کے روز صدر ٹرمپ بیڈمنسٹر میں موجود تھے اور شام کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس واپس پہنچے۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے بتایا کہ یہ واقعہ دوپہر تقریباً 12:50 بجے پیش آیا۔ طیارے کو روکنے کے لیے امریکی جنگی طیارے فوراً روانہ کیے گئے،پائلٹ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جنگی طیاروں نے روشنی چھوڑنے والے فلیئرز استعمال کیے یہ فلیئرز کچھ لمحوں میں جل کر ختم ہو جاتے ہیں اور زمین پر موجود افراد کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتے۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے مطابق اتوار کے دن ایسا دوسرا واقعہ تھا، اور پورے ویک اینڈ کے دوران پانچ مرتبہ فضائی حدود کی خلاف ورزیاں ہوئیں،ادارے نے تمام عام پائلٹس کو خبردار کیا ہے کہ پرواز سے قبل لازمی طور پر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جاری کردہ ہدایات کا مطالعہ کریں تاکہ ایسی خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے۔ بیڈمنسٹر کے علاقے میں نوٹس نمبر 9839، 9840، 9841 اور 9842 خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے کہاکہ،تمام پائلٹس کے لیے لازمی ہے کہ وہ پابندی شدہ فضائی حدود کی مکمل معلومات حاصل کریں اور ان پر سختی سے عمل کریں۔ یہ اصول ہر علاقے اور ہر قسم کے طیارے پر لاگو ہوتے ہیں۔

  • ٹرمپ  نے  گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا-

    عالمی میڈیاکے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ ”اے آئی سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ کو سخت تنبیہ کی کہ وہ بیرونِ ملک، خاص طور پر بھارتیوں کو ملازمتیں دینا بند کریں اور امریکی شہریوں کو روزگار دیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ”گلوبلسٹ مائنڈسیٹ“ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی آزادی کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں ورکرز بھرتی کرتی ہیں، چین میں فیکٹریاں لگاتی ہیں اور منافع آئرلینڈ میں چھپاتی ہیں یہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے، صدر ٹرمپ کے تحت ایسی پالیسیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو امریکا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ بھارتی آئی ٹی مافیا کے مفاد کے لیے انہوں نے ٹیک کمپنیوں سے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکا کو اولین ترجیح دیں، یہ ہمارا واحد مطالبہ ہے۔‘

    سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت نہ صرف امریکی ساختہ اے آئی ٹولز کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جائے گا بلکہ اُن تمام کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگیں گی جو وفاقی فنڈنگ لے کر سیاسی نظریات پر مبنی ”ووک“ اے آئی بناتی رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تنوع اور شمولیت کے نام پر امریکی ترقی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ٹرمپ نے اے آئی کے لیے اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مصنوعی ذہانت نہیں، یہ ایک ذہانت کا کمال ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا،سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ‘میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں،اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔

    بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    دریں اثنا 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل سے بھارت میں آئی فونز تیار نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی

    ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس کو دھمکی دے دی۔

    برکس تنظیم کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کے بعد ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس تنظیم کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک برکس کی امریکا مخالف پالیسی کا حصہ بنے گا، اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا جائے گا، اس پالیسی سے کسی کو رعایت نہیں ملے گی، اس معاملے کی طرف توجہ دینے کا شکریہ، آج مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط ارسال کردیےجائیں گے۔

    یاد رہے کہ برکس تنظیم نے گزشتہ روز ایک بیان میں خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر بیرونی حملوں کی مذمت کی تھی،اعلامیے میں کہا گیا کہ 13 جون کے بعد ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے ،البتہ بیان میں امریکا یا اسرائیل کا نام لے کر ان کی مذمت نہیں کی گئی،اس کے علاوہ برکس تنظیم نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے تمام دیگر مقامات سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ۔

    برکس ممالک کی ایران پر حملوں کی مذمت، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    مودی سرکار کی اگنی ویر اسکیم نے بھارتی نوجوانوں کو 4 سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ ، انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں