Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    اتوار کے روز ایک نجی مسافر طیارہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیو جرسی میں واقع رہائشگاہ بیڈمنسٹر کے اوپر پرواز کرتا ہوا پابندی شدہ فضائی حدود (Restricted Airspace) میں داخل ہو گیا،اتوار کے روز صدر ٹرمپ بیڈمنسٹر میں موجود تھے اور شام کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس واپس پہنچے۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے بتایا کہ یہ واقعہ دوپہر تقریباً 12:50 بجے پیش آیا۔ طیارے کو روکنے کے لیے امریکی جنگی طیارے فوراً روانہ کیے گئے،پائلٹ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جنگی طیاروں نے روشنی چھوڑنے والے فلیئرز استعمال کیے یہ فلیئرز کچھ لمحوں میں جل کر ختم ہو جاتے ہیں اور زمین پر موجود افراد کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتے۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے مطابق اتوار کے دن ایسا دوسرا واقعہ تھا، اور پورے ویک اینڈ کے دوران پانچ مرتبہ فضائی حدود کی خلاف ورزیاں ہوئیں،ادارے نے تمام عام پائلٹس کو خبردار کیا ہے کہ پرواز سے قبل لازمی طور پر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جاری کردہ ہدایات کا مطالعہ کریں تاکہ ایسی خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے۔ بیڈمنسٹر کے علاقے میں نوٹس نمبر 9839، 9840، 9841 اور 9842 خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے کہاکہ،تمام پائلٹس کے لیے لازمی ہے کہ وہ پابندی شدہ فضائی حدود کی مکمل معلومات حاصل کریں اور ان پر سختی سے عمل کریں۔ یہ اصول ہر علاقے اور ہر قسم کے طیارے پر لاگو ہوتے ہیں۔

  • ٹرمپ  نے  گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا-

    عالمی میڈیاکے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ ”اے آئی سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ کو سخت تنبیہ کی کہ وہ بیرونِ ملک، خاص طور پر بھارتیوں کو ملازمتیں دینا بند کریں اور امریکی شہریوں کو روزگار دیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ”گلوبلسٹ مائنڈسیٹ“ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی آزادی کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں ورکرز بھرتی کرتی ہیں، چین میں فیکٹریاں لگاتی ہیں اور منافع آئرلینڈ میں چھپاتی ہیں یہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے، صدر ٹرمپ کے تحت ایسی پالیسیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو امریکا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ بھارتی آئی ٹی مافیا کے مفاد کے لیے انہوں نے ٹیک کمپنیوں سے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکا کو اولین ترجیح دیں، یہ ہمارا واحد مطالبہ ہے۔‘

    سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت نہ صرف امریکی ساختہ اے آئی ٹولز کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جائے گا بلکہ اُن تمام کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگیں گی جو وفاقی فنڈنگ لے کر سیاسی نظریات پر مبنی ”ووک“ اے آئی بناتی رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تنوع اور شمولیت کے نام پر امریکی ترقی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ٹرمپ نے اے آئی کے لیے اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مصنوعی ذہانت نہیں، یہ ایک ذہانت کا کمال ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا،سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ‘میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں،اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔

    بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    دریں اثنا 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل سے بھارت میں آئی فونز تیار نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی

    ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس کو دھمکی دے دی۔

    برکس تنظیم کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کے بعد ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس تنظیم کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک برکس کی امریکا مخالف پالیسی کا حصہ بنے گا، اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا جائے گا، اس پالیسی سے کسی کو رعایت نہیں ملے گی، اس معاملے کی طرف توجہ دینے کا شکریہ، آج مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط ارسال کردیےجائیں گے۔

    یاد رہے کہ برکس تنظیم نے گزشتہ روز ایک بیان میں خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر بیرونی حملوں کی مذمت کی تھی،اعلامیے میں کہا گیا کہ 13 جون کے بعد ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے ،البتہ بیان میں امریکا یا اسرائیل کا نام لے کر ان کی مذمت نہیں کی گئی،اس کے علاوہ برکس تنظیم نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے تمام دیگر مقامات سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ۔

    برکس ممالک کی ایران پر حملوں کی مذمت، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    مودی سرکار کی اگنی ویر اسکیم نے بھارتی نوجوانوں کو 4 سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ ، انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں

  • ٹرمپ کی نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی

    ٹرمپ کی نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی دی ہے۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ظہران ممدانی اگر میئر بنے تو نیویارک کو وفاقی فنڈز نہیں دیے جائیں گےظہران ممدانی کمیونسٹ ہے، اگر وہ جیتے تو نیویارک کے لیے بہت بُرا ہوگا،جبکہ ظہران ممدانی نے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی دھمکی کا ہنس کر جواب دیا کہ وہ کمیونسٹ نہیں اور صدر کی تنقید کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں۔

    واضح رہے کہ اگر نومبر 2025ء میں وہ کامیاب ہوئے تو نیو یارک کے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی میئر ہوں گے 2021ء سے کوئنز کے 36 ویں ڈسٹرکٹ سے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن ممدانی پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈن اور تیسرے مسلم رکن ہیں 33 سالہ ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر بننے کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن شکست دی تھی، جس کے بعد وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں، ظہران ممدانی یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور ”Democratic Socialists of America“ کے سرگرم رکن ہیں۔

    اداکارہ ہمانشی خرانہ نے ’بگ باس‘ کو آسیب زدہ قراردیا

    ظہران ممدانی کا ماننا ہے کہ نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک چوتھائی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، اور 5 لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں اور اسی حقیقت کو بدلنے کا عزم انہوں نے اپنے منشور میں ظاہر کیا ہے،ممدانی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی کھل کر تنقید کی اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

    ایرانی عالم نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کیخلاف سخت فتویٰ جاری کر دیا

  • ایران پر فوجی حملہ، ایوان میں ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام

    ایران پر فوجی حملہ، ایوان میں ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام

    امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی حملے پر مواخذہ کرنے کی کوشش روک دی ہے۔

    ٹیکساس سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس ال گرین کی جانب سے صدر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے مواخذے کی قرارداد پیش کی گئی تھی، لیکن ایوان نے 79 کے مقابلے میں 344 ووٹوں سے اسے مسترد کر دیا۔

    ال گرین نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ مجھے اس کام سے خوشی نہیں، لیکن میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ کسی ایک شخص کو 30 کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے یہ معاملہ آئین کی ساکھ سے جڑا ہے، اگر آئین کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ٕ

    ال گرین نے واضح کیا کہ وہ امریکی جمہوریت کو آمرانہ طرزِ حکومت کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں، اسی لیے وہ یہ قدم اٹھا رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ کانگریس کا کوئی رکن ان کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    گرین کی یہ کوشش ایسے وقت پر کی گئی جب صدر ٹرمپ نے بغیر کانگریس کو اعتماد میں لیے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے اس پر کئی ڈیموکریٹس نے ناراضی کا اظہار کیا لیکن اکثریت نے مواخذے کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ مرکوز رکھنے کو ترجیح دی ڈیموکریٹ رکن پیٹ ایگیولر نے کہا کہ ہم اس وقت صدر کے مجوزہ ٹیکس اصلاحاتی بل پر کام کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی معاملے پر توجہ دینا ایک "توجہ کی تقسیم” ہوگی۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ کو اس سے قبل بھی دو بار مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک بار 2019 میں یوکرین پر امداد روکنے پر، اور 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملے کی ترغیب دینے پر، لیکن دونوں بار سینیٹ نے انہیں بری کر دیا تھا

  • اگر اسرائیل مزید بم گراتا ہے تو یہ سنگین خلاف ورزی ہو گی،ٹرمپ

    اگر اسرائیل مزید بم گراتا ہے تو یہ سنگین خلاف ورزی ہو گی،ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم کر دی ہیں ایران اب ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع نہیں کرسکے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران سے کہتا ہوں رک جائیں ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل سے کہتا ہوں کہ تحمل سے کام لےدیکھ رہا ہوں کہ کیا میں مزید حملے رکوا سکتا ہوں سعودی عرب نے بھی بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بی 2 پائلٹس نے اپنا کام شاندار طریقے سے کیااسرائیل اور ایران دونوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے اچھا نہیں لگا کہ جنگ بندی پر رضامندی کے فوراً بعد اسرائیل نے شدید حملے کیے اس لیے اسرائیل سے خوش نہیں ہوں ایران سے بھی خوش نہیں لیکن اسرائیل سے بہت ناخوش ہوں۔ اسرائیل اب ایران پر مزید بم مت گرائے اور اسرائیل کے مزید حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو گی،اگر اسرائیل مزید بم گراتا ہے تو یہ سنگین خلاف ورزی ہو گی اور اسرائیل فوری اپنے پائلٹس واپس بلائے۔

  • بھارتی سیاستدان اور میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے

    بھارتی سیاستدان اور میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک بھارت کشیدگی میں جنگ بندی کے دعوے پرھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے اس بات کو لے کر امریکی صدر کی کردار کشی کی جا ری ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا 10 مئی کو ایکس پوسٹ کے ذریعے پاک بھارت جنگ بندی کا اعلان کرتے ہی بھارتی میڈیا اینکر ارناب گوسوامی نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ ٹرمپ اپنا بیانیہ بیچ رہا ہے، یہ شخص اسرائیل، حماس اور روس یوکرین کے درمیان جنگ بندی نہیں کروا سکا، ٹرمپ کی ریٹنگ گر رہی ہے تو یہ پوائنٹ اسکورننگ کر رہا ہے۔‘‘

    بھارتی جماعت ’’عام آدمی پارٹی‘‘ نے بھی سوال اٹھایا کہ امریکی صدرکا کیا کام ہے کہ وہ جنگ بندی کرائے راجھستان کے سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ سچن پائلٹ نے ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا کہ وہ دہشتگردی پر خاموش کیوں ہیں؟ بھارتی میڈیا میں ٹرمپ کا یہ بیان بھی چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے جنگ بندی نہیں کرائی بلکہ مدد کی ہے،ارناب گوسوامی کا کہنا تھا کہ 28 اپریل کے بعد صدر ٹرمپ کی پوزیشن بدلی اور وہ پاکستان کا سپورٹر بن گیا۔

    بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا کے مطابق ورلڈ لیبرٹی فنانشنل پاکستان کے ساتھ کرپٹو معاہدے میں شریک ہے، ورلڈ لیبرٹی فنانشل اور پاکستان کرپٹو کونسل کے درمیان یہ معاہدہ 26 اپریل یعنی پہلگام واقعے کے 4 روز بعد ہوا۔

    بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی فیملی کے حوالے سے بھی الزام لگایا کہ کیا یہ کرپٹو معاہدے سے فائدہ نہیں اٹھا رہے؟ بھارتی میڈیا نے بغیر شواہد یہ الزام بھی عائد کیا کہ صدر ٹرمپ کے کرپٹو بزنس کو پاکستانی آرمی جنرل نے سنبھال رکھا ہےکور کمانڈر کے بھتیجے کا صدر ٹرمپ کو منانے یا راضی کرنے میں بڑا کردار ہے –

    جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا مزید بدحواس ہو گیا ہے ارناب گوسوامی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے I LOVE PAKISTAN کہنے پر انہیں پاک فوج کا کارکن کہہ دیا۔ ارناب گوسوامی نے یہاں تک کہا کہ صدر ٹرمپ اور اس کی فیملی کے کرپٹو معاہدے پر تحقیقات کی جائیں۔

    بھارتی سوشل میڈیا پر امریکی صدر کو نوبیل پرائز کے حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ بھارتی سوشل میڈیا پر ان کے کارٹون بنا کر دہشتگرد کا ساتھی ظاہر کیا گیا، بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کو ایک مریض کے طور پر پیش کیا جبکہ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایک ناکام سیاست دان ہے اور یہ شخص صدر نہیں ہونا چاہیے بھارتی سیاست دان نے کہا کہ امریکی صدر نے بھارت کو بہت زیادہ ناراض کر دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ خود لینا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں ہے امریکی صدر کو کچھ بھی پتہ نہیں انہیں زمینی حقائق تک معلوم نہیں اور وہ خود کو گلوبل پیس میکر ثابت کر رہا ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا اعتبار کیا جائےاور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

    سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق مودی نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا،بھارتی ایکس اکاؤنٹ پر بھی ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ ایک روز ٹرمپ کہتا ہے اس کا اسرائیل کے ایران حملے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسرے روز امریکا کہتا ہے کہ ان کا ایران کی فضا پر مکمل کنٹرول ہے۔

  • اب یا تو امن ہوگا یا پھر سانحہ،ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    اب یا تو امن ہوگا یا پھر سانحہ،ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد قوم سے خطاب میں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اسے اب امن قائم کرنا ہوگا، ورنہ آئندہ حملے ایران کے لیے سانحہ ہوں گے۔

    واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات، بشمول فورڈو، نطنز اور اصفہان پرحملے کیے ہیں، دنیا نے سالوں تک ان ناموں کو سنا، جب ایران نے اس تباہ کن منصوبے کو تیار کیا تھا، آج رات میں یہ اطلاع دے سکتا ہوں کہ یہ حملے بے حد کامیاب رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب یا تو امن ہوگا یا ایران کے لیے وہ تباہی آئے گی جس کا ہم نے گزشتہ آٹھ دنوں میں مشاہدہ کیا یاد رکھیں کئی دیگر اہداف باقی ہیں آج رات کا حملہ ان سب میں سب سے مشکل اور شاید سب سے مہلک تھا لیکن اگر امن جلدی نہ آیا تو ہم ان دیگر اہداف کو تیز رفتا ری، مہارت اور درستگی کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔

    ٹرمپ نے ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی نے ہزاروں افراد کی جان لی، میں نے طے کیا تھا کہ اس کا سلسلہ یہاں نہیں رکے گا، اور یہ جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں نے اس تباہ کن خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا،ٹرمپ کا خطاب تقریباً چار منٹ تک جاری رہا، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ مزید کشیدگی کے امکانات اور امریکہ کے عزم کا اظہار کیا۔

  • تضحیک آمیز تبصرے، ٹرمپ  کا بھارت کے ساتھ  اعلان جنگ

    تضحیک آمیز تبصرے، ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ اعلان جنگ

    امریکہ کا دورہ کرنے والے بھارتی رہنما کے تضحیک آمیز تبصروں کے بعد ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کر دیا-

    پاکستان سے شکست کے بعد مودی سرکار نے ہزیمت چھپانے کیلئےفواج کی جانب سے اپنے دفاع میں بھرپور جواب پر بھارت امریکا کے در پر پہنچ گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے سیزفائر ہوا توبھارت نے یوٹرن لے لیا، ارناب گوسوامی جیسے مودی حمایتیوں نے امریکی صدر پر تنقید شروع کردی۔

    بھارتی میڈیا نے خفت مٹانے کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشتگردوں کا سرپرست بھی کہنا شروع کر دیا،بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کیخلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا آئی کیو لیول بھارت کے7 ویں جماعت کے بچے سے بھی کم ہے،جہاں ٹرمپ جیسے صدرہوں گے وہاں نائن الیون جیسا واقعہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔

    مودی سرکارنے جب پاکستانی مسلح افواج سے منہ کی کھائی تو امریکا سے مدد کی بھیک مانگی، جب سیز فائر طے پا گیا تو مودی سرکار نے یوٹرن لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید شروع کردی۔

    سیالکوٹ: عیدالاضحی پر مثالی صفائی کے انتظامات، ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

    آپریشن بنیان مرصوص میں جوابی حملے میں بھارت کے رافیل طیارے تباہ ہوئے، پاکستانی مسلح افواج کے حملوں سے شمالی بھارت کے70 فیصد علاقے کی بجلی بند ہو گئی پاکستانی فضائیہ نے بھارت کا مہنگا ترین ایس 400 دفاعی نظام تباہ کیا، بھارت کے سیزفائر کیلئے رابطے کے حوالے سے سی این این کے رپورٹر نک رابرٹسن نے بھی تصدیق کی۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی امریکی صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے سیز فائر کی خبر نے بھارتی میڈیا ، سیاست دانوں اور عوام کو سیخ پا کردیا تھا۔

    بھارتی سیاست دان کا کہنا ہے کہ سیز فائرکی خبر اب امریکی دھرتی سے جاری کی جائے گی، امریکا کے دباؤ کے باعث بھارت سیزفائر کر رہا ہے۔ 78 برس سے ہمارا موقف رہا ہے کہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی آج ٹرمپ ٹوئٹ کرتا ہے اور سیزفائر ہوجاتا ہے، سیزفائر کیلئے کوئی نہ کوئی کردار ادا کرتا ہے مگرامریکا کی نے تجارتی دھمکیاں دیکر ایسا کرنا افسوسناک ہے۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

    بھارتی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کے اینکرز بھی امریکی صدر ٹرمپ پر برس پڑے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارتی میڈیا کے اینکرز نے بغیر نظریے کے رہنما قرار دیدیا بھارتی ٹی وی اینکر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کشمیر پر بات کرا دے گا توہم بتا دیں ہم اپنا معاملہ دیکھنا جانتے ہیں۔


    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اس دعوے کے ساتھ گردش کر رہا ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور کے بعد امریکہ جاکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور ان وفود میں سے ایک کی قیادت کر رہے ہیں جو آپریشن سندور اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی کے سلسلے میں آگاہ کرنے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ اس وفد نے اپنے دورے کا آغاز امریکہ سے کیا ہے اس کے بعد یہ وفد امریکی براعظم کے دیگر ممالک گیانا، پاناما، برازیل اور کولمبیا کا بھی دورہ کرے گا۔

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

    وائرل ہونے والی ویڈیو تقریباً 1 منٹ 16 سیکنڈ لمبی ہے جس میں ششی تھرور نے سابق امریکی صدور بل کلنٹن، براک اوباما اور بش کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں میں کچھ خاصیت تھی جو اس آدمی میں کم نظر آتی ہے۔

    امریکہ کے نیویارک میں منعقد ہونے والے جے پور لٹریچر فیسٹیول 2024 کی ہے جس میں انڈیا ٹوڈے گروپ کے ارون پوری نے کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ ششی تھرور سے بات کی تھی اس دوران ارون پوری نے ان سے چند ماہ بعد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات 2024 اور بھارت پر اس کے اثرات سے متعلق سوالات بھی کئے تھے وہ اس وقت کی ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ششی تھرور کی رائے بھی جاننا چاہتے تھے۔

    ارون پوری نے ششی تھرور سے ڈونلڈ ٹرمپ کے سلسلے میں سوال پوچھتے ہوئے کہا تھا کہ “ٹرمپ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ ان کے لئے بہت زیادہ سفارتی ہوئے بغیر اپنے انداز میں ایک لفظ کہہ سکتے ہیں؟” اس پر ششی تھرور نے کہا تھا کہ میں “غیر مہذب” کہنے ہی والا تھا، لیکن سوچا کہ یہ قدرے بدتمیزی ہوگی۔ دیکھئے خاص طور پر جب میں بھارتی پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر متعارف ہوا تو ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم کسی دوسرے ممالک کے لیڈروں پر ان کی سرزمین پر تبصرہ کریں، لیکن یہ کہنے کے بعد یہ بھی سچ ہے کہ لوگوں کی اپنی سیاسی ترجیحات ہیں اور میری کوئی سیاسی ترجیحات نہیں ہیں کیونکہ میں یہاں ٹیکس ادا نہیں کرتا ہوں۔

    پاکستان یو این امن مشنز کیلئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے، اسحاق ڈار

    ششی تھرور نے کہا کہ مجھے پرواہ نہیں کہ وہ کم ہیں یا زیادہ، میں یہاں امیگریشن نہیں ڈھونڈھ رہا ہوں یہاں تک کہ جب مجھے یہ کرنے کا حق تھا تب بھی میں نے ایسا نہیں کیا اس لئے امیگریشن کے بارے میں ان کا موقف مجھے پریشان نہیں کرتا یہ اور مسائل ہیں، اس ہال میں موجود ہر شخص کو پالیسی معاملات پر اپنی اپنی ترجیحات رکھنے کا حق ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ “لیکن ذاتی طور پر مجھے ان کا رویہ اتنا بہتر یا خوشگوار نہیں لگتا، جتنا کہ کسی امریکی سیاسی شخصیت دیکھنے کی توقع ہوتی ہے مجھے امریکہ میں قیام کے دوران چار یا پانچ امریکی صدور سے ملنے کی خوش نصیبی ملی ہے۔ میں نے بش، کلنٹن دونوں کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی اور اوباما کے ساتھ بہت مختصر گفتگو کی یہ تمام لوگ ایک خاص زمرے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک خاصیت رکھتے تھے یہ سیاست نہیں ہے، کیونکہ اس فہرست میں دو ریپبلکن اور دو ڈیموکریٹس تھے لیکن ان کا ایک خاص سیاسی وزن، سفارتی وقار اور فکری سطح تھی، جو مجھے اس شریف آدمی میں بہت کم نظر آتی ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے-

    تضحیک آمیز تبصروں کے بعد ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کر دیا،ٹرمپ نے ہندوستانی طلباء کے تمام ویزا بلاک کرنے کا حکم دیا ہے ہندوستان سے مینوفیکچرنگ کو ہٹانا اور ہندوستانی سے تعلق ر کھنے والے سی ای او کو امریکی کمپنیوں سے ہٹانا یہ تو ابھی شروعات ہے۔

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

  • امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    نیویارک: امریکا سمیت مختلف ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرین نے واشنگٹن، نیویارک، ہیوسٹن، فلوریڈا، کولوراڈو اور لاس اینجلس سمیت دیگر مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالیں "Hands Off!” کے عنوان سے ہونے والے اس احتجاج نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جس میں عوام نے حکومتی اقدامات کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    عالمی میڈیا کے مطابق صرف نیویارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جبکہ واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر 20,000 سے زائد مظاہرین نے شرکت کی، ملک کی تمام 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا اور میکسیکو میں بھی تقریباً 1,200 احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

    سی آئی ڈی کے مرکزی کردار اے سی پی پردیومن اب اس دنیا میں نہیں رہے

    مظاہرین نے امیگریشن پالیسیوں، تجارتی محصولات، تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اور ایلون مسک کی سربراہی میں محکمہ حکومتی کارکردگی کی جانب سے وفاقی ملازمتوں میں کی گئی 200,000 سے زائد کٹوتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    یورپ میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے برلن، فرینکفرٹ، پیرس، اور لندن میں مقیم امریکی شہریوں نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی، برلن میں ٹیسلا کے شوروم کے باہر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "ایلون، چپ رہو، کسی نے تمہیں ووٹ نہیں دیا” جیسے نعرے درج تھے۔

    پی ایس ایل 10: کمنٹری پینل کا اعلان ہوگیا،کمنٹری مکمل اردو میں ہو گی

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ امریکا میں جمہوریت کی بحالی، عوامی مفادات کی حفاظت اور "طاقتور افراد کے ذریعے پالیسی سازی” کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوئے ہیں ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر ان عوام دشمن پالیسیوں کو واپس لے اور حقیقی نمائندہ نظام کو بحال کرے۔