Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی نے باضابطہ طور پر اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیسری مرتبہ نامزد کئے گئے ہیں، ٹرمپ دوسری بار 2020 میں صدارتی الیکشن لڑے تھے تا ہم جوبائیڈن سے ہار گئے تھے، ٹرمپ اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور ریپبلکن کے متوقع امیدوار تھے تا ہم اب انہیں نامزد کر دیا گیا ہے، پارٹی کے نیشنل کنونشن نے ان کی نامزدگی پر مہر لگا دی ہے،وہ ریپبلکن پارٹی کے کنونشن میں مطلوبہ تعداد میں ڈیلیگیٹس کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

    ٹرمپ نے نائب صدر کے لیے سینیٹر جے ڈی وینس کو امیدوار نامزد کر دیا
    ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اپنے ساتھ نائب صدر کے لیے سینیٹر جے ڈی وینس کو امیدوار نامزد کر لیا ہے،ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں کہا۔طویل غور و فکر کے بعد، اور بہت سے دوسرے لوگوں کی زبردست صلاحیتوں پر غور کرنے کے بعد، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے سب سے موزوں شخص اوہائیو کی عظیم ریاست کے سینیٹر جے ڈی وینس ہیں۔

    سینیٹر جے ڈی وینس 2022 میں سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے تھے اور وہ سابق صدر کے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں کے ایجنڈے کے زبردست چیمپئن بن گئے ہیں، وہ غیر معمولی لمحے میں ٹرمپ کے ٹکٹ پر شامل ہو رہے ہیں۔وینس سیاست میں سب سے کم تجربہ کار ہیں، وہ جنوری 2023 سے سینیٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے پہلے کوئی انتخابی عہدہ نہیں رکھتے تھے۔ ان کی عمر 39 سال ہے ،وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا ہے،ٹرمپ پر الزام لگایا گیا تھا کہ 2021 میں اپنا عہدہ چھوڑتے وقت ٹرمپ قومی سلامتی کی سینکڑوں دستاویزات کو غیر قانونی طور پر فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ میں ساتھ لے گئے تھے،عدالت نے اس مقدمے کو خارج کر دیا ہے،کیس کا فیصلہ جج ایلین کینن نے سماعت مکمل ہونے کے بعد سنایا، جج ایلین کی تقرری ٹرمپ کے دور میں ہی ہوئی تھی،جج ایلین کیینن نے اپنی 93 صفحات پر مشتمل فیصلے میں سوال کیا کہ کیا ریاستہائے متحدہ کے کوڈ میں کوئی ایسا قانون ہے جو اس مقدمے کو چلانے کے لیے خصوصی وکیل سمتھ کی تقرری کی اجازت دیتا ہے؟ اس بنیادی مسئلے کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد، جواب نفی میں ہے،اس بارے میں خصوصی پراسیکیوٹر کے برعکس دعوؤں کے باوجود کوئی امریکی قانون اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کو ایک وفاقی افسر کو پراسیکیوشن کے ان وسیع قانونی اختیارات کے ساتھ تقرر کی اجازت نہیں دیتا جو اسپیشل کونسل اسمتھ کے پاس ہیں،

    ٹرمپ کے حق میں یہ فیصلہ حیران کن طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ کہ دیگر ججوں نے اسی دلیل کو اس وقت مسترد کر دیا تھا جب ٹرمپ کے وکلاء نے اسمتھ کی تقرری کی قانونی حیثیت کے بارے میں خفیہ دستاویزات کے مقدمے میں پیش کی تھی۔

    ہائے غربت،بھارتی خواتین عرب ممالک میں فروخت،مجرا کروایا جانے لگا

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    تحریک انصاف پر جلد پابندی لگنے والی ہے؟

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    سابق امریکی صدر، امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر گزشتہ روز ایک ریلی کے دوران حملہ ہوا،ٹرمپ کے کان کو گولی چھو کر گزری، ٹرمپ محفوظ رہے تاہم حملہ آور کو موقع پر ہی مار دیا گیا،حملے کے بعد بھی ٹرمپ کی انتخابی مہم جاری ہے،ٹرمپ پر حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کی سیکورٹی پر سوال اٹھ گئے ہیں،

    ٹرمپ پہلے رہنما نہیں جن پر اس طرح کا حملہ ہوا، ماضی میں بھی کئی اہم شخصیات پر حملے ہو چکے ہیں،پاکستان کی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو پر لیاقت باغ میں جلسے کے بعد حملہ ہوا تھا جس میں بینظیر شہید ہو گئی تھیں،اسکے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں کئی رہنماؤں پر حملے ہوئے ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں.

    سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو (15 مئی 2024)
    رواں برس مئی کے مہینے میں سلواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو پر بھی حملہ کیا گیا تھا، سلوواکیہ کے وزیراعظم پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ زخمی ہو گئے تھے، حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب رابرٹ فیکو ایک اجلاس کے بعد شرکاء سے مخاطب تھے، رابرٹ فیکو کو گولیاں‌لگنے کے بعد زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ،انکا علاج جاری ہے اور حالت بہتر ہے.

    جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے (جولائی 2022)
    جولائی 2022 میں جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے پر بھی حملہ کیا گیا تھا، ان پر فائرنگ اس وقت کی گئی تھی جب وہ نارا شہر میں ایک ریلی کی قیادت کر رہے تھے، جاپانی وزیراعظم پر حملہ کرنے والے حملہ آور نے دو گولیاں فائر کی تھیں، جن میں سے ایک گولی انکی گردن میں لگی تھی.

     عمران خان (3 نومبر 2022)
    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر بھی پنجاب کے شہر وزیرآباد میں جلسے کے دوران حملہ ہوا تھا، حملہ آور نے گولیاں چلائیں جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی تھی، مبینہ طور پر عمران خان کی ٹانگ میں گولی لگی تو ہم عمران خان طبی امداد کے لئے سرکاری ہسپتال جانے کی بجائے شوکت خانم چلے گئے، عمران خان عدالتوں میں وہیل چیئر پر پیش ہوتے رہے ہیں تا ہم جب نومئی کو اسلام آباد سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت عمران خان کے دوڑنے سے ایسے لگ رہا تھا جیسے انہیں کچھ نہیں ہوا،اور وہ بالکل تندرست ہیں،

    بے نظیر بھٹو، (27 دسمبر 2007)
    پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم، بھٹو کی بیٹی، بینظیر بھٹو پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا، کراچی میں ریلی کے دوران کارساز پر حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہیں تا ہم اسکے بعد دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد حملہ ہوا جس میں بینظیر شہید ہو گئیں،یہ حملہ بہت قریب سے کیا گیا تھا،بینظیر شرکاء کے نعروں کا جواب دینے گاڑی سے باہر نکلیں ، جونہی انہوں نے سر گاڑی سے باہر نکالاحملہ آور نے انکو نشانہ بنایا،

    ہیتی کے صدر جوونیل موئز (جولائی 2021)
    ہیتی کے صدر جوونیل موئز پر بھی قاتلانہ حملہ جولائی 2021 میں کیا گیا تھا، ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی رہائشگاہ پر آرام کر رہے تھے، ہیتی کے صدر جوونیل موئز کو کرائے کے فوجیوں نے قتل کیا تھا، 28 ملزمان حملہ آوروں میں شامل تھے،بعد ازاں تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہیتی کے صدر جوونیل موئز پر حملہ کسی اور نے نہیں بلکہ انکی بیوی نے کروایا تھا،

    بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی (31 اکتوبر 1984)
    بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا، 1984 میں اندرا گاندھی کو کسی اور نے نہیں بلکہ انکے ذاتی محافظوں نے ہی گولیاں چلا کر قتل کر دیا تھا، تحقیقات ہوئیں تو سامنے آیا کہ حملہ آور آپریشن بلیو سٹار سے بہت ناراض تھے۔

    تحریک انصاف پر جلد پابندی لگنے والی ہے؟

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قاتلانہ حملے کے بعد کنونشن میں شرکت کے لئے پہنچ گئے،

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات کے لئے مہم جاری ہے، ٹرمپ کنونشن میں پہنچے اور کہا کہ "ہمیں ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے”۔بعد ازاں ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں خدا اور قسمت نے نہ بچایا ہوتا تو وہ مرچکے ہوتے، زبردست کام یہ ہوا کہ انہوں نے سر کو ٹھیک وقت پر بالکل ٹھیک حرکت دی، اگر انہوں نے اپنے سر کو بروقت حرکت نہ دی ہوتی تو وہ مر چکے ہوتے،

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنیوالے حملہ آور سے متعلق نئی ​​تفصیلات سامنے آئی ہیں، ٹرمپ پر ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا،،بٹلر میں منعقد ریلی کے شرکا سے خطاب کے لیے اسٹیج پر موجود تھے جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، گولی بظاہر ٹرمپ کے کان کو چھوتی ہوئی نکل گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والا 20 سال کا مقامی نوجوان تھا جس کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے نام سے ہوئی ہے جو یاست پینسلوینیا کا ہی رہائشی ہے، تاہم ابھی حملہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے، ایف بی آئی کے مطابق ٹرمپ کی ریلی میں مشتبہ حملہ آورنے اکیلے سب کچھ کیا ، حملہ آور کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کوئی دھمکی آمیز موادنہیں ملا،بم اسپیشلسٹ نے حملہ آور کی گاڑی سے مشکوک ڈیوائس قبضے میں لے لی، حملہ آور نے جو بندوق استعمال کی اسے اس کے والد نے قانونی طور پر خریدی تھی، حملہ آور کے گھر سے بھی بم بنانےوالا سامان برآمد ہوا ہے،

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ حملہ آور تھامس کروکس کا کوئی فوجی بیک گراؤنڈ نہیں، حملہ آور کی گاڑی میں دھماکا خیز اشیا بھی تھیں، گاڑی ٹرمپ کی ریلی کے مقام سے نزدیک پارک تھی

    ٹرمپ سے گزشتہ رات بات چیت ہوئی ،خوشی ہے وہ خیریت سے ہیں، جوبائیڈن
    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خیریت سے ہیں ،ٹرمپ پر حملے کی مکمل اور واضح تحقیقات کا حکم دیا ہے ،ٹرمپ سے گزشتہ رات مختصر اور اچھی بات چیت ہوئی ، حملے میں ہلاک افراد کیلئے تعزیت کا اظہار کرتاہوں ، قاتلانہ حملہ امریکی اقدار کے خلاف ہے ، حملہ آور کے اقدام قتل کے محرکات سے متعلق ابھی کوئی معلومات نہیں ، حملہ آور کا مقصد اور اس سے متعلق کوئی قیاس آرائیاں نہ کی جائیں ، واقعے کا جائزہ لینے کا کہا ہے نتائج سب کو بتائے جائیں گے،ریپبلکن کنونشن کے سیکیورٹی اقدامات کیلئے سیکرٹ سروس کو ہدایت دیدی ہیں ، حملہ آورکے مقاصدکونہیں جانتے،صدارتی انتخابات میں خطرات بہت زیادہ ہیں، سیاست میں کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے، اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہونا چاہیے، اختلافات بیلٹ باکس کے ذریعے حل کرتے ہیں، گولی سے نہیں، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔

  • سابق امریکی صدر ٹرمپ کی سزا ستمبر تک ملتوی

    سابق امریکی صدر ٹرمپ کی سزا ستمبر تک ملتوی

    امریکی عدالت نے سابق امریکی صدر ٹرمپ کی سزا ستمبر تک ملتوی کر دی،

    امریکی عدالت نے فحش اداکارہ کو خاموش رہنے کیلئے رقم دینے کے کیس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سزا 18 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے، اس ضمن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف فحش اداکارہ کو رقم دینے کے کیس میں جج نے 11 جولائی کو سنائے جانے والے فیصلے کو ستمبر تک ملتوی کردیا ہے، سابق صدر کے استثنیٰ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جج جوئان مرچن سے درخواست کی تھی کہ فیصلہ سنانے سے قبل فحش اداکارہ کو رقم دینے کے مقدمے میں استثنیٰ سے متعلق اپنا کیس بنانے کیلئے مہلت دی جائے۔

    مین ہیٹن کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے دلائل میرٹ پر نہیں تھے تاہم انہوں نے اتفاق کیا کہ فیصلہ ملتوی کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا کیس بنانے کیلئے موقع ملنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں سابق صدر ٹرمپ کو جزوی استثنیٰ دے دیا تھا،سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو سابق صدر کی حیثیت سے اپنے خلاف مقدمات میں کچھ استثنیٰ مل سکتا ہے،سپریم کورٹ کے 6 ججوں نے ٹرمپ کے حق میں جبکہ 3 ججوں نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے خلاف فوجداری مقدمہ سے متعلق مرکزی کردار فحش اداکارہ اسٹارمی ڈینیئلز کا کہنا تھا کہ میں نہیں مانتی کہ مجھے دی گئی رقم چھپانے کی وجہ سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیل جانے کے حقدار بنتے ہیں، فحش اداکارہ نے میڈیا ادارے کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ ٹرمپ میری وجہ سے نہیں بلکہ انہوں نے کچھ اور کیا کچھ اور چیزیں ہیں اگر انکا قصور نکلا تو پھر انہیں جیل جانا ہی پڑے گا

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    ہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر پاکستانی ہوتا تو ان کی حاضری بھی عمران کی طرح عدالت کے دروازے پر ہی لگ جاتی

  • ٹرمپ،جوبائیڈن میں پہلا مباحثہ،ہاتھ تک نہ ملایا، ایک دوسرے پر الزامات

    ٹرمپ،جوبائیڈن میں پہلا مباحثہ،ہاتھ تک نہ ملایا، ایک دوسرے پر الزامات

    امریکی صدارتی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین پہلا مباحثہ ہوا ہے

    امریکی انتخابا ت میں ڈیموکریٹک پارٹی کے میدوار اور امریکی صدر جو بائیڈن اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، دونوں کے مابین پہلا صدارتی مباحثہ اٹلانٹا میں ہوا،سابق و امریکی صدر دونوں مباحثے میں آئے شریک ہوئے تاہم دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملایا، دوران مباحثہ ایک دوسرے پر سخت الزامات لگائے گئے اور تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا،ٹرمپ اور جوبائیڈن نے حماس اسرائیل جنگ پر ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا وہیں مہنگائی پر دونوں ایک دوسرے کے ذمہ دار قرار دیتے رہے،

    پہلے مباحثے میں امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کی عمر اہم موضوع رہی،میزبان نے امیدواروں سے عمر سے متعلق سوال کیا تو ٹرمپ نے کہا کہ میں آج بھی خود کو 20 سال پہلے جیسا فٹ محسوس کر رہا ہوں،جوبائیڈن نے جواب دیا کہ میں بھرپور توانا ہوں اور میری صحت پر عمر کے کوئی زیادہ اثرات نہیں ہیں،مباحثے میں دونوں دوسری، دوسری مرتبہ امریکی صدر بننے کے لیے اپنی اپنی پالیسیاں اور ترجیحات بیان کیں،نئے قواعد کے تحت پہلی بار صدارتی مباحثے میں حاضرین نے شرکت نہیں کی۔

    صدارتی مباحثے کا آغاز ہوا تو امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ جب میں نے صدارت سنبھالی تو معیشت بہت خراب تھی اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ملازمتوں میں اضافہ ہو، گھروں کی خریداری آسان ہو سکے، ٹرمپ واحد صدر تھے جن کے دور میں ملازمتوں میں کمی ہوئی ٹرمپ کے ٹیکس چھوٹ سے صرف امیروں کو فائدہ پہنچا ہے، اسقاطِ حمل کے معاملے میں ٹرمپ نے جو کیا وہ بہت غلط تھا، اسقاطِ حمل کے معاملے کو ریاستوں کے حوالے کرنا ایسا ہی ہے جیسے سول راٹس کو ریاستوں کے حوالے کرنا، سیاستدانوں کے پاس اسقاطِ حمل کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے، ہم نے امیگریشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسا قانون بنایا جس سے تارکین وطن کی تعداد میں 40 فیصد کمی ہوئی، اور کوئی گھر ٹوٹا نہیں، ہم نے یوکرین کو امدادی رقم اُن ہتھیاروں کی شکل میں دی جو ہم خود بناتے ہیں، غزہ میں جنگ بندی کے ہمارے منصوبے کو عالمی حمایت حاصل ہے، ہم حماس کو اسامہ بن لادن کی طرح ختم کر دیں گے،امریکا اسرائیل کی امداد کرنے والا سب سے بڑ املک ہے، ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے، ٹرمپ وہ شخص ہے جو نیٹو سے نکلنا چاہتا ہے،میرے سامنے اس وقت واحد مجرم ٹرمپ ہے جسے عدالت سے سزا ہو چکی ہے،ٹرمپ کو ووٹ امریکی جمہوریت کے خلاف ووٹ ہوگا،کیا وجہ ہے کہ ٹرمپ کے ٹاپ 44 سابقہ ساتھیوں نے اس مرتبہ اُن کی حمایت نہیں کی۔

    مدمقابل صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے دور میں معیشت کی جو حالت تھی اُس کی دنیا نے تعریف کی، ہم نے جس طرح کوویڈ کو سنبھالا ہمیں اُس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا، امر یکا آنے والے ہزاروں تارکین وطن سے سوشل سیکورٹی کا نظام برباد ہو جائے گا، میں بھی افغانستان سے انخلاء کر رہا تھا، لیکن جس طرح بائیڈن نے کیا وہ امریکی تاریخ کا شرمندہ ترین واقعہ تھا،کمپنیوں اور امیروں کو ٹیکس چھوٹ دینے سے مزید نوکریاں پیدا ہوں گی، اور اُس کا فائدہ نچلے طبقے تک جائے گا، بائیڈن کے زیرِ صدارت امریکا کو دنیا میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا، ہم تیسری دنیا کا ملک بن گئے ہیں، میں نے اسقاطِ حمل کے معاملے میں جو کیا، اُس کا ہر سطح سے مطالبہ تھا،میرے دور میں امریکی سرحدیں تاریخ میں سب سے محفوظ تھیں، کسی نے امریکی فوجیوں کا اتنا خیال نہیں رکھا جتنا میں نے رکھا،بائیڈن کے دور میں سب سے زیادہ جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد امریکا میں داخل ہوئے،ہمارے ریٹائرڈ فوجی سڑکوں پر رہ رہے ہیں جبکہ غیر قانونی تارکین وطن لگژری ہوٹلز میں رہ رہے ہیں،سابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر آج امریکا میں ایسا صدر ہوتا جس کی دنیا میں عزت ہوتی، تو روسی صدر پیوٹن کبھی یوکرین پر حملہ نہ کرتا،اگر میں صدر ہوتا تو حماس کبھی بھی اسرائیل پر حملہ نہ کرتی ،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 6 جنوری میں نے اسپیکر نینسی پیلوسی کو 10 ہزار گارڈز کی پیشکش کی تھی،انہوں نے منع کر دیا تھا، نینسی پیلوسی 6 جنوری کی ہنگامہ آرائی کی ذمہ داری قبول چکی ہیں، تو میں کیسے ذمہ دار ہو گیا، وہ 6 جنوری کے مجرموں کی سزائیں ختم کر دیں گے، ڈیموکریٹس نے 6 جنوری کے حوالے سے تمام معلومات ضائع کردیں، اس لیے مجھ پر الزام لگا، بائیڈن کے اپنے بیٹے کو سزا ہو چکی ہے، کل کو بائیڈن کو سزا ہو سکتی ہے،اگر بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو امریکا ہی باقی نہیں بچے گا۔

  • امریکی صدارتی انتخابات: بائیڈن اور ٹرمپ میں مباحثے کا آغاز آج سے

    امریکی صدارتی انتخابات: بائیڈن اور ٹرمپ میں مباحثے کا آغاز آج سے

    امریکی صدارتی انتخابات میں مباحثے کاآغاز آج سے ہورہا ہے، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں پہلا مباحثہ اٹلانٹا میں شیڈول ہے۔

    صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ٹیلی وژن مباحثے میں آمنے سامنے آ رہے ہیں جو پانچ نومبر 2024 میں ہونے والے الیکشن کے لیے جاری ان کی مہم کا انتہائی اہم موڑ ہے،امریکہ میں ہر چار سال کے بعد ہونے والے صدارتی الیکشن میں امیدواروں کی مہم کےدوران ٹی وی پر مباحثے کی دہائیوں پرانی روایت ہےالبتہ اس بار خلافِ روایت یہ مباحثہ الیکشن سے کئی ماہ قبل ہو رہا ہے۔

    اس سے قبل 2020 کے الیکشن سے پہلے جو بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان بھی صدارتی مہم کے دوران مباحثے ہوئے تھے، لیکن یہ سلسلہ الیکشن سے صرف دو ماہ قبل شروع ہوا تھا،جمعرات کو ہونے والا دو بدو مباحثہ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس کے دو نو ں ہی شرکا منصبِ صدارت پر فائز رہے ہیں، اس کے علاوہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے مباحثے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب وہ ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔

    جارجیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مک کیمش پویلین میں نشریاتی ادارے سی این این کے تحت پہلے صدارتی مباحثے کے انتظامات کو آخری شکل دے دی گئی ہیں بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان مباحثہ 27 جون کو ہو رہا ہے۔

    صدر بائیڈن نے جمعرات کو ہونے والے مباحثے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد وسطِ مئی میں اس موضوع پر پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2020 میں مجھ سے دو مباحثوں میں ہار چکے ہیں۔ اس کے بعد سے وہ کبھی بحث کے لیے سامنے نہیں آئے،ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز میں صدارتی دوڑ کے لیے ری پبلکن نامزدگی کے دیگر امیدواروں کے ساتھ مباحثے سے بھی گریز کیا تھا۔

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ اب وہ (ٹرمپ) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مجھ سے ایک بار پھر بحث کرنا چاہتے ہیں خیر، اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو گی۔

    اس مباحثے میں ممکنہ طور پر ٹرمپ اپنے مقابل جو بائیڈن کو معیشت کو درست انداز میں نہ چلانے، جنوب مغربی امریکہ کی میکسیکو کے ساتھ سرحد پر ناقص کنٹرول اور ہزاروں مہاجرین کو امریکہ میں داخل ہونے دینے کے لیے موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔

    ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بار مباحثے کو شائستگی کے دائرے میں رکھنے کے لیے اس کے میزبان ’سی این این‘ کئی ضابطے بنائے ہیں اور بحث کا مکمل خاکہ فراہم کیا ہے اس بار کے مباحثے میں مقرر کا مائیک صرف بات کرتے وقت کھولا جائے گابات ختم ہوتے ہی مائیک بند کردیا جائے گا دوسری تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اس بار مباحثے کے دوران اسٹوڈیو میں سامعین نہیں ہوں گے۔

    مباحثے کا دورانیہ 90 منٹ ہو گا جس میں امیدوار کوئی تمہیدی گفتگو نہیں کریں گے بلکہ صرف میزبانوں کے سوالوں کا جواب دیں گے،دونوں امیدواروں کو سوال کا جواب دینے کے لیے دو منٹ کا وقت دیا جائے گا،مقابل امیدوار کی کسی بات کی تردید یا اس پر کوئی اعتراض کرنے کے لیے دوسرے امیدوار کو ایک منٹ دیا جائے گا اور اس تردید یا اعتراض کے جواب الجواب کے لیے پہلے مقرر کو بھی ایک منٹ دیا جائے گا میزبان اپنی صوابدید پر ایک اضافی منٹ بھی دے سکتے ہیں۔

    ہر امیدوار کو گفتگو کے لیے دیا گیا وقت ختم ہونے سے پانچ سیکنڈ قبل سرخ بتی جلنا بجھنا شروع کر دے گی اور وقت ختم ہوتے ہی بتی مکمل طور پر سرخ ہو جائے گی مقررین کو اسٹیج پر پہلے سے لکھے ہوئے نوٹس یا کوئی اور چیز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہر امیدوار کو پانی کی بوتل اور لکھنے کے لیے قلم و کاغذ دیے جائیں گے۔

    مباحثے کے لیے اسٹیج پر ایک جیسے پوڈیمز رکھے گئے ہیں ان پوڈیمز پر سے صدر بائیڈن دائیں اور ٹرمپ اسکرین کے بائیں جانب نظر آئیں گے۔ اسٹیج پر دائیں اور بائیں کھڑے ہونے کا یہ فیصلہ ٹاس کر کے کیا گیا تھا جو بائیڈن جیت گئے تھےدونوں امیدواروں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس مباحثے میں اشتہاروں کے لیے دو وقفے ہوں گے۔ اس وقفے کے دوران امیدوار اپنے عملے کے افراد سے بھی نہیں مل سکیں گے اس بار روایت کے برخلاف کمرشل وقفوں کے دوران کارپوریٹ اسپانسر شپ کی اجازت دی گئی ہے، مباحثے کے اختتام پر دونوں امیدواروں کو اختتامی گفتگو کے لیے دو، دو منٹ دئیے جائیں گے جس میں پہلے بائیڈن اور آخر میں ٹرمپ بات کریں گے، یہ ترتیب بھی پوڈیم کے لیے ہونے والے ٹاس کے طریقہ کار سے متعین کی گئی ہے۔

  • اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی

    اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی

    نیوجرسی: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادیں گے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے امریکا کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق مکس مارشل آرٹ خبیب نُرماگومیڈوف کے ساتھ ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے،ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ خبیب کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو غزہ میں جاری جنگ رکوا دیں گے۔

    میل آن لائن کے مطابق سابق صدر ٹرمپ نے ریاست نیوجرسی کے شہر نیوآرک میں پروڈینشل سینٹر میں منعقدہ یو ایف سی 302 ایونٹ میں شرکت کی، جہاں ان کی ملاقات سابق یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن سے ہوئی اور دونوں شخصیات کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی، خبیب نُرماگومیڈوف نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا وہ جانتے ہیں آپ فلسطین جنگ رکوادیں گے، جس پر سابق امریکی صدر نے انہیں جواب دیا اقتدار میں آنے کے بعد وہ یہ جنگ رکوادیں گے۔

  • فحش اداکارہ کو رقم ادائیگی کیس،ٹرمپ مجرم قرار

    فحش اداکارہ کو رقم ادائیگی کیس،ٹرمپ مجرم قرار

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فحش اداکارہ کو رقم ادائیگی کیس میں عدالت نے مجرم قرار دے دیا ہے

    امریکا کی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق صدر کو سزا سنا ئی جائے گی،امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی پر مجرم قرار دیا، عدالت ٹرمپ کو 11 جولائی کو سزا سنائے گی ،ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک کی جیوری نے سزا سنائی، ڈونلڈٹرمپ پر فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی سے متعلق 34 الزامات عائد کیے گئے تھے، جیوری نے تمام 34 الزامات کو درست قرار دیا ہے

    امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ ان کے اسٹارمی ڈینئلز کے ساتھ جنسی تعلقات تھے اور انہیں چھپانے کیلئے 2016 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اسٹارمی ڈینئلز کو رقم دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت گئے تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سزا سنانے والی جیوری پرتنقیدکرتے ہوئے کہا مجھ پر یہ مقدمہ دھاندلی ہے، میں بالکل بے قصور ہوں، یہ مقدمہ میری توہین ہے، معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔دڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

    سابق امریکی صدر کے سابق وکیل مائیکل کوہن نے عدالت کو دئیے گئے بیان میں کہا کہ فحش اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز اسکینڈل منظر عام پرآیا تو ڈونلڈ ٹرمپ کواس بات کی فکر ہی نہیں تھی کہ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ انہیں چھوڑ تو نہیں دیں گی، ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ فکر یہ تھی کہ اسکینڈل کا الیکشن 2016 کی انتخابی مہم پر کیا اثر پڑے گا، ڈونلڈ ٹرمپ نے فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز سے جنسی تعلقات چھپانے اور انہیں خاموش رہنے کی خاطر ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ڈیل کی تھی۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے خلاف فوجداری مقدمہ سے متعلق مرکزی کردار فحش اداکارہ اسٹارمی ڈینیئلز کا کہنا تھا کہ میں نہیں مانتی کہ مجھے دی گئی رقم چھپانے کی وجہ سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیل جانے کے حقدار بنتے ہیں، فحش اداکارہ نے میڈیا ادارے کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ ٹرمپ میری وجہ سے نہیں بلکہ انہوں نے کچھ اور کیا کچھ اور چیزیں ہیں اگر انکا قصور نکلا تو پھر انہیں جیل جانا ہی پڑے گا

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    ہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر پاکستانی ہوتا تو ان کی حاضری بھی عمران کی طرح عدالت کے دروازے پر ہی لگ جاتی

    امریکی سابق صدر رمپ کو ریپبلکن پارٹی کے کنونشن سے صرف چار دن قبل 11 جولائی کو سزا سنائی جائے گی، ریپبلکن پارٹی کے کنونشن میں ٹرمپ کو صدر کا امیدوار نامزد کیا جائے گا، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اصل فیصلہ نومبر میں ہوگا، جب صدارتی انتخابات ہوں گے۔امریکن پبلک براڈکاسٹنگ سروس کے زیر اہتمام ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 67 فیصد ووٹرز نے کہا کہ ان کی سزا ان کے ووٹ کو متاثر نہیں کرے گی،سابق امریکی صدر ٹرمپ اور بائیڈن ابھی تک کے سروے میں برابر ہیں،

    سزا کے بعد ٹرمپ صدارتی انتخابات لڑ سکیں گے؟
    امریکی سابق صدر سزا ملنے کے باوجود صدارتی انتخابات لڑ سکیں گے، معروف قانونی ماہرپروفیسر رچرڈ ایل ہیسن کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کسی بھی سزا یافتہ مجرم کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے نہیں روکتا، قانونی طور پر، ایک امیدوار کے طور پر ٹرمپ کی حیثیت سے کچھ نہیں بدلا.امریکی آئین میں صدارتی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے لیے صرف محدود شرائط شامل ہیں۔ جس میں امیدوار کی کم از کم عمر 35 سال ہو اور اس کی جائے پیدائش امریکا ہو یا وہ کم از کم 14 سال سے امریکا کا رہائشی ہو۔

  • ہاں،ٹرمپ نے جنسی تعلقات قائم کیے تھے، فحش فلموں کی اداکارہ کی تصدیق

    ہاں،ٹرمپ نے جنسی تعلقات قائم کیے تھے، فحش فلموں کی اداکارہ کی تصدیق

    فحش فلموں کی اداکارہ نے تصدیق کی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسکے ساتھ جنسی تعلقات تھے

    فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز کے ساتھ تعلقات کی سابق صدر نے تردید کی ،ٹرمپ کے وکیل نے عدالتی کاروائی کو بے بنیاد قرار دیا،جج نے ٹرمپ کی درخواست مسترد کی اور فحش فلموں کی اداکارہ کو پورا واقعہ بتانے کی اجازت دی، ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اسٹارمی ڈینئلز کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر دیے تھے کہ وہ جنسی تعلق پر خاموش رہے .ٹرمپ نے اسٹارمی ڈینئلز سے جنسی تعلق کی تردید کی ہے تا ہم اداکارہ نے عدالت میں‌تعلقات کی تصدیق کی ہے

    فحش فلموں کی اداکارہ ڈینیئلز ٹرمپ سے کچھ فاصلے پر گواہوں کے کٹہرے میں آئیں۔ وکیل استغاثہ، سوسن ہوفنگر کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے اپنی دشوار گزار ابتدائی زندگی کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے امریکا کی جنوبی ریاست لویزیانا میں بیٹن روج میں پرورش پائی اور یہ کہ وہ ایک زمانے میں جانوروں کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں، تحقیقات کے آغاز سے قبل وکیل استغاثہ ہوفنگر نے نیویارک سپریم کورٹ کے جسٹس جوآن مرچن کو یقین دلایا کہ ڈینیئلز، ٹرمپ کے ساتھ اپنے دعویٰ کردہ تعلق کی کوئی ایسی ذاتی تفصیل بیان نہیں کریں گی جیسا انہوں نے ایک بار ایک لیٹ نائٹ کامیڈی شو میں بتایا تھا۔

    ٹرمپ کے دفاع کے وکیل ٹوڈ بلانشے نے ڈینیئلز کی گواہی کے بعد اس میں بعض اوقات واقعات کی کچھ کھلی تفصیل کے بعد مقدمے کو”مس ٹرائل”قرار دینے کی کوشش کی ، نیویارک سپریم کورٹ کے جسٹس جوآن مرچن نے یہ کہتے ہوئے کہ بہتر ہوتا اگر ان کے بیان میں سے کچھ بغیر کہے چھوڑ دیا جاتا ، درخواست کو مسترد کردیا۔

    ٹرمپ جو اب 2024 کے صدارتی الیکشن میں ریپبلکن صدارتی امیدوار ہیں، ریاست نواڈا میں لیک ٹاہو پر ایک مشہور گولف ٹورنامنٹ کے دوران، ڈینیئلز کی جانب سے افیئر کے دعویٰ اور ان تمام 34 الزامات کی تردید کی ہے جن کا وہ سامنا کر رہے ہیں ،مقدمے کی سماعت جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں ہے، استغاثہ کے گواہوں نے، 12 رکنی جیوری کو، جنس اور اسکینڈل پر مبنی کہانیاں سنائی ہیں۔

    2016 کے انتخابات میں ٹرمپ کی مدد کرنے کے لیےفحش فلموں کی اداکارہ ڈینیئلز اور ایک اور خاتون، پلے بوائے ماڈل کیرن میک ڈوگل کو خفیہ ادائیگیاں شامل تھیں، جن کا مقصد ٹرمپ کے ساتھ خفیہ تعلقات کے ان کے دعوؤں کو پوشیدہ رکھنا تھا سابق صدر نے، 2006 اور 2007 میں میک ڈوگل کے ساتھ ،10 ماہ کے افیئر کے دعوے کی بھی تردید کی تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ 5 نومبر کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف یہ مقدمہ 5 سے 6 ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ جرم ثابت ہونے اور جیل ہونے کی صورت میں بھی وہ الیکشن لڑنے اور صدر کا عہدہ سنبھالنے کے اہل ہوں گے۔ سابق امریکی صدر کے خلاف 3 دیگر کرمنل کیسز بھی ہیں،

    دوسری جانب ٹرمپ کے خلاف فوجداری مقدمہ سے متعلق مرکزی کردار فحش اداکارہ اسٹارمی ڈینیئلز کا کہنا تھا کہ میں نہیں مانتی کہ مجھے دی گئی رقم چھپانے کی وجہ سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیل جانے کے حقدار بنتے ہیں، فحش اداکارہ نے میڈیا ادارے کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ ٹرمپ میری وجہ سے نہیں بلکہ انہوں نے کچھ اور کیا کچھ اور چیزیں ہیں اگر انکا قصور نکلا تو پھر انہیں جیل جانا ہی پڑے گا

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    ہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر پاکستانی ہوتا تو ان کی حاضری بھی عمران کی طرح عدالت کے دروازے پر ہی لگ جاتی

  • غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی ،ٹرمپ کے حمایتی بھی بول اٹھے

    غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی ،ٹرمپ کے حمایتی بھی بول اٹھے

    نیویارک: غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کٹر حمایتی اور قدامت پسند امریکی صحافی ٹکر کارلسن بھی بول پڑے۔

    باغی ٹی وی : بیت اللحم میں موجود فلسطینی پادری منتھر آئزک کا انٹرویو کرتے ہوئے ٹکر کارلسن نے رائے دی کہ اگر ہم ایسی غیر ملکی حکومت کی حمایت کرتے ہیں جو گرجا گھروں کو تباہ کر رہی ہے، عیسائیوں کو مار رہی ہے تو ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں۔

    انٹرویو میں فلسطینی پادری نے غزہ میں جاری جنگ کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیافلسطینی پادری نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کو فلسطینیوں کی نسل کشی کہوں گا، یہ جنگ معصوم بچوں، عورتو ں کی جانیں لے رہی ہے اسے روکنا ہوگا۔

    افغانستان طالبان کےر وپوش سربراہ عید پر منظر عام پر آگئے

    واضح رہے 7 اکتوبر سے جاری صیہونی درندگی میں اب تک 34 ہزار سے زائد فلسطینی شہد اور 80 ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکا کا کہنا ہے کہ ہمیں اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی نظر نہیں آئیں۔

    دوسری جانب عید کے موقع پر بھی اسرائیلی مظالم میں کمی نہ آ ئی، مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں ہزاروں فلسطینیوں نے نمازِعیدالفطر ادا کی،فلسطینی شہریوں نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید مسجد کے سامنے بھی نمازِعید ادا کی،غزہ کے مظلوم اور بے گھر فلسطینی آج خیموں میں عید منا رہے ہیں،گھر اسرائیلی بمباری سے مسمار ہو چکے، اسرائیلی مظالم رکنے کا نام نہیں لے رہے، تاہم فلسطینی شہریوں میں جذبہ اسلام زندہ ہے اور عید منا رہے ہیں-

    پاپ سپر اسٹار ریحانہ کو شدید تنقید کا سامنا

    عید کے روز بھی اسرائیل بمباری سے باز نہ آ ریا، اسرائیلی فوج نے نصرت کیمپ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہیدہوگئے، غزہ کے رہائشی عید کے دن بھی جنازے اٹھا رہے ہیں، گزشتہ روز بھی چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد شہری شہید ہوئے ہیں، غزہ میں سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 33 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں 14500 بچے بھی شامل ہیں،

    رفح کے بچوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان سے عید کی خوشیاں چھین لی ہیں،بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ کی بے گھر آبادی میں ایک فیصد بچے ایسے ہیں جو یتیم ہو چکے ہیں یا پھر اب ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں بچا، غزہ میں ایسا کوئی کیمپ نہیں جہاں موجود کسی بچے نے اپنے والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کو نہ کھویا ہو-

    عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،فلسطینی عید کے دن بھی جنازے اٹھا رہے