Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کل جمعہ کو بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے

    بجٹ پیش کرنے سے قبل ٹرسٹ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے ن لیگ رہنما مریم نواز اور وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کی ہے،شارق خان کا کہنا تھا کہ چار سال ہو گئے ہیں تمباکو پر ٹیکس نہیں لگا، حکومت کو بجٹ میں چاہئے کہ تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگایا جائے،

    دوسری جانب تمباکو مصنوعات پر ٹیکس لگانے کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی جمعرات کو ٹاپ پر رہا، صارفین نے حکومت سے تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا، اب اتحادیوں جماعتوں کی حکومت ہے اور یہ حکومت پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، اس سے قبل تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں تمباکو پر ٹیکس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا تھا،اب عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سگریٹ کی قیمت میں اضافہ کیا جائے،

    حکومت سے اپیل ہے کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے بیماریوں میں اضافہ کی وجہ بننے والے دو غیر ضروری عوامل تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ پر سنجیدگی سے سوچے،ان پر ٹیکس میں اضافہ سے نہ صرف قومی خزانے کو سالانہ 105 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا،بلکہ ہیلتھ برڈن میں بھی نمایاں طور پر کمی واقع ہوگی

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    https://twitter.com/fahad4014/status/1534800506375356416?s=21&t=b-GhCgIY1BE3we6sDRq8gA

  • بجٹ، عوام پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری

    بجٹ، عوام پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری

    حکومت نے بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے دی، آیئندہ سال کے لیے بجٹ کا حجم 9 ہزار 500 ارب کے قریب ہوگا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 23-2022 کے سالانہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہے کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں قرض اور قرض پر سود ادائیگی کے لیے 21 ارب ڈالر، بیرونی قرض ادائیگی کے لیے 3500 ارب روپے اور اگلے سال کا بجٹ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد سرپلس رکھے جانے کی تجویز ہےجبکہ بجٹ میں سبسڈی کے لیے 650 ارب روپے مختص کئے جائیں گے.

    ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڑ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ جیا گیا ہے ، بجٹ میں وِد ہولڈنگ ٹیکسز کو کم کیا جائے گا، جن وِد ہولڈنگ ٹیکسز سے آمدن نہیں ہو رہی انہیں ختم کیا جائےگا جبکہ نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکسز برقرار رہیں گے، وِد ہولڈنگ ٹیکسز کے ذریعے ڈاکیومینٹیشن جاری رہے گی۔

    آئیندہ مالی سال عوام پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری بھی کی گئی ہے ،زرائع کے مطابق آئندہ سال بلاواسطہ ٹیکس وصولیاں بڑھانے کی تجویزبھی دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاواسطہ ٹیکس وصولیوں میں 1048 ارب روپے اضافے کی سفارش کا امکان ہے.بلاواسطہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4695 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویززیرغورہے۔

    آئندہ بجٹ میں مجموعی آمدن کا تخمینہ تقریباً 9 ہزار ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی ہے۔ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 7255 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

  • عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد بارے آگاہی پیدا کرنی چاہیے، یوسف رضا گیلانی

    عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد بارے آگاہی پیدا کرنی چاہیے، یوسف رضا گیلانی

    تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقعے پہ آگاہی سیمینار کاانعقاد کیا گیا ، یوسف رضا گیلانی نے ٹیکس بڑھانے کیلیے آواز اٹھانے کا عہد کیا-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ملک میں روزانہ اوسطاً 5,000 افراد ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں اور ہر سال 100,000 سے زیادہ موت کےمنہ میں چلےجاتے ہیں۔ اگر تمباکو کا استعمال موجودہ رفتار سے جاری رہا تو 2030 تک اس تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ایسی صورتحال پاکستان کو پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو حاصل کرنے سے روک دے گی، جس کا مقصد 2030 تک تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی اموات کو ایک تہائی تک کم کرنا ہے۔

    ریاست کے خلاف لانگ مارچ ہوا تو سختی سے پیش آیا جاۓ گا، رانا ثناء اللہ

    ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے” کےحوالےسے کرومیٹک ٹرسٹ نےتمباکو کے استعمال کے خطرات اور تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے اور لوگوں کی بہترین صحت کے حق کے تحفظ کے عہد کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے لیے انسداد تمباکو کلبوں کی ملک گیر مہم کا آغاز کیا۔

    کرومیٹک ٹرسٹ نے CTFK اور پارٹنر تنظیموں کے ساتھ مل کر اینٹی ٹوبیکو کلبز بنائے ہیں تاکہ تمباکو کنٹرول پر گفتگو میں طلباء کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ ان کلبوں کے ذریعے طلباء تمباکو کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں گے۔ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنے کے لیے عوام کو حساس بنائیں گے اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانے کی وکالت کریں گے۔

    شہبازحکومت کوشش نہ کرتی تو حج 11 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا، مفتی عبدالشکور

    سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق محمود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ بچوں کو تمباکو کی لعنت سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگانے سے نہ صرف تمباکو کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ بچوں کو تمباکو سے دور رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے اور چونکہ بجٹ قریب ہے، یہ مناسب وقت ہے کہ تمباکو پر کم از کم 30 فیصد ٹیکس بڑھایا جائے۔

    سی ٹی ایف کے کے نمائندہ ملک عمران احمد نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام بالخصوص نوجوانوں کے لیے تمباکو کو کم قابل رسائی بنانے کے لیے پالیسی میں تبدیلی اور زیادہ ٹیکس لگانے جیسے اقدامات کا استعمال کرکے آنے والی نسلوں کو تمباکو سے پاک بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔

    آصف زرداری سے رابطوں بارے عمران خان نے خاموشی توڑ دی

    انہوں نے کہا کہ یہ کلب ہمارے نوجوانوں کی حقیقی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں اور لوگوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ان کا مقصد ہے۔

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے موجودہ اعدادوشمار سے پریشان طلباء پر زور دیا کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں اور زیادہ ٹیکس لگانے کی ضرورت پر زور دیا جس سے طلباء کو نہ صرف تمباکو کے استعمال سے روکا جائے گا بلکہ آمدنی بھی بہتر ہو گی اور ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے تعلیم کے شعبے میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

    یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد کے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بحث کی جائے گی اور اس مسئلے کو قومی سطح پہ اجاگر کیا جائے گا تاکہ تمباکو کے استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط قانون سازی کی جا سکے۔

    یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ اس سماجی مقصد کے لیے طلباء کی فعال شرکت کو دیکھ کر مجھے اس قدر فخر ہو رہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صحیح ہاتھوں میں ہے ۔

    تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

    مسلم لیگ ن کی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور ماہر قانون آمنہ شیخ نے طلباء سے خطاب میں کہا کہ تمباکو کی اس لعنت کو روکنے میں حصہ لینا ہماری سماجی ذمہ داری ہے۔ ہر جلتے ہوئے سگریٹ سے ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں سب سے کم ہیں اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے نوجوانوں کی قوت خرید سے باہر کیا جا سکے۔

    کنٹری لیڈ وائٹل سٹریٹیجیز اور سابق ٹیکنیکل ہیڈ آف ٹوبیکو کنٹرول سیل ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت کے لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت اسے چھوڑنے کا انتخاب کرے گی اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی اور حکومت کی آمدنی کو بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مضبوط قانون سازی کی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان کے نوجوان تمباکو سے پاک ہوجائیں گے۔

    تقریب کا اختتام مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے پوسٹر ڈسپلے اور تقاریر کے ساتھ ہوا-

    عمران خان نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا، کسی کوامن تباہ نہیں کرنے دیں گے، عطا تارڑ

  • کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا ۔

    کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکاء کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔

    سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔

    سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔

    انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلاٸی جاۓ تو یقینا حکومت آٸندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ​​ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف NHSRC ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

  • تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سری لنکا کی طرح پاکستان انتہائی چارجڈ سیاسی ماحول اور معاشی بحران کے درمیان دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے جس کا ملک کو کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پاکستان کے لئے مجموعی بیرونی قرضہ 32.74536 امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے قدم اٹھانے پر مالی اعانت میں مشکلات کو کم کرنے میں مدد کے لئے اپنے 6 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی فنڈنگ کے حجم اور مدت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے چین، برادر اسلامی ملک سعودی عرب ا ور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 9.2 ارب ڈالر کا قرض بھی لیا ہے ۔

    اس سے قبل مملکت سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لئے موخر ادائیگیوں کے لئے 3 ارب ڈالر کی سہولت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی معاونت بھی دی تھی۔ سرکلر ڈیٹ کا موجودہ اسٹاک 5 ٹریلین روپے (14 ارب ڈالر) کے آس پاس ہے۔ پاکستان کو دسمبر 2018 میں متحدہ عرب امارات سے 3 ارب ڈالر کی اقتصادی امداد بھی ملی تھی جبکہ مارچ 2019 میں آل ویدر دوست ملک چین نے 2.2 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔ چین بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

    تمباکو عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابقق پنے آدھے صارفین کو ہلاک کرتا ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا میں موت کی واحد سب سے بڑی قابل روک تھام وجہ ہے جس میں ہر سال ٨٠ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ 70 لاکھ سے زائد اموات تمباکو کے استعمال کے براہ راست نتائج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ 12 لاکھ اموات سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو ہر سال تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار 100 افراد کی موت کا سبب ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت نشانہ بنائے جا رہی ہے تاکہ "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کو بھرتی کیا جا سکے۔ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریبا 1200 پاکستانی بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔
    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے کے مطابق 2014 میں تقریبا 24 ملین (19.1 فیصد) بالغ اس وقت کسی بھی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 15.6 ملین (12.4 فیصد) بالغ افراد ہیں جو اس وقت تمباکو پیتے ہیں جن میں 3.7 ملین بالغ افراد پانی کے پائپ، ہکا یا شیشا استعمال کرتے ہیں اور مزید 9.6 ملین (7.7 فیصد) بالغ ہیں جو بغیر دھوئیں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں میں غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری پیدا ہونے کا امکان دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود تمباکو کی نمائش کی کم سطح، غیر معمولی تمباکو نوشی یا سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے ساتھ، ناکافی دل کی صحت کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ مرد تمباکو نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا امکان 23 گنا زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کے امکانات غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر سے 80-90 فیصد اموات کا سبب بنتی ہے۔
    آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 207.77 ملین اور آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء تھی۔ جس سے ملک میں نوجوانوں کی کافی زیادہ تعداد ظاہر ہوئی ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 14 لاکھ افراد صرف سگریٹ، شہری ہکہ / شیشہ / الیکٹرک ویپس، گٹکا، پین، میوا، نسوار وغیرہ کی وجہ سے منہ کے کینسر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کینسر کے 100 کیسز میں سے کم از کم 4 کیسز پاکستان میں منہ کے کینسر کے ہیں۔ جب ہم زبانی سرطان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو بات ذہن میں آتی ہے وہ تمباکو نوشی ہے۔ پاکستان میں جہاںایگلر فوڈ اور دیگر استعمال کی اشیاء گزشتہ پانچ سالوں میں اوسطا 60 سے 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، بدقسمتی سے سگریٹ کے ایک پیکٹ کی کم از کم قیمت یکساں رہی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی یو آئی سی کی جانب سے شائع کردہ تمباکو اکنامکس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی اور کمی نہیں کی جا سکی ، پاکستان ٹوبیکونومیکس سگریٹ ٹیکس اسکور کارڈ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو ٹیکس نظام کی طاقت کا جائزہ لیتا ہے، مجموعی طور پر ٹیکس نظام کا اسکور پانچ نکاتی پیمانے پر ایک سے بھی کم ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ زیادہ سستے ہوگئے ہیں کیونکہ تمباکو کے ٹیکس کم ہیں اور جولائی ٢٠١٩ کے بعد سے اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں ایکسائز ٹیکس کی اوسط شرح اس وقت خوردہ قیمت کا تقریبا 45 فیصد ہے جو کہ 70 فیصد کے وسیع پیمانے پر قبول شدہ بینچ مارک کے مقابلے میں ہے۔ عالمی بینک کی سفارش کے مطابق سگریٹ پر وفاقی ایکسائز ٹیکس وں کو 30 فیصد تک ختم کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے کم ہوں گے اور ایکسائز ٹیکس کی آمدنی میں کم از کم 25 فیصد اضافہ ہوگا۔

    لہذا عالمی بینک کی سفارش کی تعمیل میں پاکستان میں موجودہ ٹیکس کے تناسب کا 30 فیصد بڑھانے کا مطلب ہےکہ ؛ سگریٹ پر تمباکو ایکسائز 43 روپے اور زیادہ قیمت والے سگریٹ پر 135 روپے تک فروخت کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے، تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں 1.2 فیصد کمی، بالغ تمباکو نوشی کرنے والوں میں تمباکو نوشی کی شدت میں 1.23 فیصد کمی، 71 ہزار 900 جانیں بچگئیں، پاک کو اضافی کل فیڈ آمدنی میں 27.4 ارب روپے کا اضافہ ہوگا یعنی کم از کم 25.1 فیصد اضافہ

    حال ہی میں پی آئی ڈی ای کی جانب سے جاری کردہ "پاکستان میں تمباکو سے متاثرہ بیماریوں کی اقتصادی لاگت” چونکا دینے والے اور آنکھیں کھولنے والے اعداد و شمار سے پردہ اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں 2019 ء کے لئے تمباکو نوشی سے متعلق تمام بیماریوں اور اموات کی وجہ سے مجموعی اخراجات 615.07 ارب روپے (3.85 ارب ڈالر) ہیں۔ یہ تعداد تمباکو کی صنعت سے پاکستان میں موصول ہونے والے تمباکو ٹیکس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ (71 فیصد) کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں سے آتا ہے۔ تمباکو نوشی سے منسوب کل اخراجات جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہیں جبکہ کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں کے تمباکو نوشی سے منسوب اخراجات جی ڈی پی کا 1.15 فیصد ہیں”۔

    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ٹیکس تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہیں۔ تمباکو کا استعمال بڑے پیمانے پر آبادی پر کافی معاشی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماری سے منسلک صحت کے زیادہ براہ راست اخراجات اور قبل از وقت جانی نقصان، تمباکو سے متعلق بیماری کی وجہ سے معذوری اور پیداواری نقصانات سے متعلق زیادہ بالواسطہ اخراجات تمباکو کے استعمال کی نمایاں منفی خارجیت پیدا کرتے ہیں۔

    لہٰذا یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ "تمباکو کے ٹیکسوں میں اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کمی آتی ہے۔” درحقیقت تمباکو پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جیسا کہ ایف سی ٹی سی نے تقویت دی ہے کہ "مؤثر تمباکو ٹیکس نہ صرف کم کرتے ہیں ،کھپت اور پھیلاؤ میں کمی کے ذریعے خارجیت لیکن تمباکو کے استعمال سے وابستہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لئے حکومتوں کے اخراجات میں کمی لانے میں بھی معاون ہے۔ ”

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
    یہ سفارشات تکنیکی گواہی، بہترین طریقوں اور ان ممالک کی تفہیم پر مبنی ہیں جنہوں نے تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کو ان طریقوں سے موثر طریقے سے نافذ کیا ہے جن سے ان کے عوام کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ ایف سی ٹی سی کا آرٹیکل ٦ رکن ممالک کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ٹیکس اور قیمتوں کی پالیسیاں اپنانے کا پابند کرتا ہے۔ قیمتیں سگریٹ کے استعمال کے اقدامات سمیت عملا تمام اجناس کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے فی کس کھپت، تمباکو نوشی کی شرح اور روزانہ سگریٹ پینے والوں کی تعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹیجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org

    مصنف وزارت قومی صحت پاکستان کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • شاہ محمود قریشی کی اہلیہ کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا

    شاہ محمود قریشی کی اہلیہ کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا

    شاہ محمود قریشی کی اہلیہ کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا
    ایف بی آرنے آمدن چھپانے پر شاہ محمود قریشی کی اہلیہ پر ٹیکس عائد کردیا

    شاہ محمود قریشی کی اہلیہ نے اوڈی کارخریدی لیکن گوشوارے میں ظاہر نہیں کی،50 لاکھ روپے مالیت کی اوڈی کار چھپانے پر مہرین قریشی پر 10لاکھ روپے ٹیکس عائد کیا گیا ہے ایف بی آر کے مطابق شاہ محمود قریشی کی اہلیہ نےسال 2016 میں اوڈی کار خریدی تھی،ایف بی آر نے ایکسائز سے گاڑی کی رجسٹریشن کا ریکارڈ حاصل کرکے چھان بین شروع کی تھی ایف بی آر نے4 مرتبہ نوٹسزبھجواکرذرائع آمدن پوچھے،جواب جمع نہیں کروایا گیا

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف دور میں وزیر خارجہ رہے ہیں، اب انکی حکومت ختم ہو چکی ہے، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں اور پی ٹی آئی نے اسمبلیوں سے استعفے دے دیئے ہیں تا ہم انکے استعفے ابھی تک قبول نہیں کئے گئے، نئی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی کرپشن کی تلاش جاری ہے، اب شاہ محمود قریشی کی اہلیہ ایف بی آر کی ریڈار پر آ گئی ہیں،

    قبل ازیں عمران خان کی اہلیہ بشری کی دوست فرح کے خلاف نیب متحرک ہو چکی ہے، فرح پر مریم نواز سمیت دیگر نے الزامات لگائے تھے، فرح نئی حکومت بننے سے قبل ہی دبئی چلی گئی تھی، عمران خان نے بھی اپنی ایک پریس کانفرنس میں فرح کی مبینہ کرپشن کا دفاع کیا ہے،

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    توہین مذہب مقدمہ، چھٹی کے روز درخواست پر سماعت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

  • 5 فیصد ٹیکس ادا کریں اور سفید کریں کالے دھن سے بنائی ہوئی دولت

    5 فیصد ٹیکس ادا کریں اور سفید کریں کالے دھن سے بنائی ہوئی دولت

    اسلام آباد :5 فیصد ٹیکس ادا کریں اور سفید کریں کالے دھن سے بنائی ہوئی دولت ،اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے حکومتی کی تیسری ٹیکس ایمنسی اسکیم کا آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری دے دی ۔آرڈیننس کی سمری کے مطابق صرف 5 فیصد ٹیکس ریٹ پر اب کالا دھن سفید کیا جاسکتا ہے۔

    ٹیکس ریٹ کی ادائیگی پر کالادھن سفید کرنے والوں سے اُن کے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔سمری کے مطابق سرمایہ کار ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے نئی کمپنی بنائے گا، اس سے فائد اٹھانے کی کٹ آف ڈیٹ دسمبر 2022ء ہوگی۔

    آرڈیننس سمری کی مطابق نئے یونٹ کے ذریعے جون 2024ء تک کمرشل پیداوار شروع کردی جائے، ایمنسٹی اسکیم میں بیمار صنعتی یونٹس کے لیے 3سال کی ٹیکس مراعات بھی شامل ہیں۔

    سمری کے مطابق بیرون ملک پاکستانی غیرملکی اثاثے سرمایہ کاری کے لیے بھیجتے ہیں تو 5 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ ہوگی۔

    سمری کے مطابق گزشتہ 3 سال سے نقصان والی کمپنیوں کو صحت مند صنعتی یونٹ خرید سکتا ہے اور کمپنی کو منافع بخش بنانے پر کمپنی کو 3 سال کی ٹیکس چھوٹ ہوگی۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہمارے ہاں اکثر یہ بات عام ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اچھا لگتا ہے مگر وہی کام جب کوئی اور کرے تو وہ ہمارا نا پسندیدہ ہو جاتا ہے3 دہائیاں قبل پاکستان میں ایک مذہبی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے دنیا بھر کے انسانوں بلخصوص مسلمانوں کے لئے ہر سماجی،خدمتی کام کیا ان کے اس کام کی بدولت ان پر پابندیاں لگیں اور ان کے کام بند ہوتے گئے اور وہ نئے ناموں سے پھر آتے گئے-

    یہ ایک کھیل سا بن گیا پابندیاں لگنا اور پھر ان کا نئے ناموں سے آنا خیر انہوں نے اپنے دعوتی،سماجی خدمتی کام نا بدلے اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا وقت گزرتا گیا اور ان کے کاموں میں جدت آتی گئی اور پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمی اداروں نے ان پر پابندیاں عائد کروا دیں-

    ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ لوگ ٹیلی ویژن،تصویر کشی اور جمہوریت کے سخت خلاف تھے اور جمہوری نظام کو کفریہ نظام کہا کرتے تھے اور اپنے سٹیج سے اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم کبھی اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے پھر رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کے نقصانات کے ساتھ افادیت کو دیکھتے ہوئے خود انہوں نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا جس سے دعوتی و خدماتی کاموں میں تیزی آئی اور لوگوں میں ایک جذبہ نمایاں ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ تو ان رفاعی،فلاحی،دینی کاموں کی لگن میں ان سے جڑ گئے تو کچھ لوگوں نے اپنی جماعتیں بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کر دیا-

    اسی طرح بطور ایک مذہبی جماعت اپنے اوپر لگی پابندیوں کے باعث دعوتی،سماجی خدماتی کاموں کی رکاوٹ کے باعث ان کو احساس ہوا کہ اس دور نظام جمہوریت ( جو کہ دراصل غیر شرعی ہے) کا حصہ بنے بنا اپنا وجود رکھنا ناممکن ہےسو ماضی کے واضع اعلانات کے باوجود انہوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا جس پر انہی کے بعض اپنوں نے سخت اعتراض کیا کہ آپ نے کم و بیش 3 دہائیوں تک جمہوریت کو کفریہ نظام کہا اور اس سے دوری اپنائی اور اب خود ہی سیاست میں آکر اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں اس صورتحال کا راقم نے خود عملی مشاہدہ کیا اور دونوں فریقین کیلئے کچھ اصلاح کرنے کی کوشش کی-

    اس جماعت کے قائدین و کارکنان کے نام یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنی جلدی فیصلہ کرنا اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ لوگوں نے لوگوں کے ٹی وی تڑوا دیئے اور پھر رفتہ رفتہ ٹی وی کے نقصانات کی طرح فوائد دیکھتے ہوئے خود ہی ٹی وی پر آکر دور حاضر کے ڈیجیٹل فوائد سے مثبت کام لیا اور اپنے دعوتی کاموں کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا اس سے قبل جب آپ لوگ ٹی وی مخالف تھے تو بہت کم ہی لوگ آپ کے کاموں سے واقف تھے یہ مخالفت آپکی غلطی تھی-

    اسی طرح جب آپکو احساس ہوا کہ اس جمہوری نظام کا حصہ بنا بنے اس دور میں اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہے تو آپ نے اپنی بقاء اور اپنے خدماتی کاموں کے تسلسل کیلئے اور خدمت انسانیت کیلئے جمہوریت کو اختیار کیا جو کہ دور حاضر کی ایک بہت بڑی ضرورت ہےخیر اس میں اللہ رب العزت کی بھی رضا مندی شامل ہے کیونکہ شاید آپ اسی وقت ٹی وی پر آتے اور فوری سیاست شروع کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور آپ بھی کچھ معاشرتی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہوتےسو جو بھی کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرتا ہے-

    اب دوسری اصلاح ان لوگوں کیلئے جو اس جماعت کے سیاست میں آنے کے مخالف ہیں اور خود بھی اسی سیاسی جمہوری ( درحقیقت کفریہ) نظام کا حصہ ہیں وہ لوگ سب سے پہلے سیاست،جمہوریت کی تشریح سن لیں کہ اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے لیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر نبوت کا اعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کریم کے ساتھ نہیں تھا-

    نبی کریم کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا لیکن کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام کے اعلان سے باز آ گئے کہ جمہوریت( لوگوں کی) چونکہ میرے خلاف ہے اور اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے باز رہتا ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ میرے نبی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک نظام ترتیب دیا جو کہ اسلامی نظام کہلاتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام میں وہ اسکامی نبوی نظام دب چکا ہے اور آج ہم اس نظام میں اس قدر دبے ہوئے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے کیلئے پل پل جمہوری نظام کو گلے سے لگانا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس نظام کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ آپ نے بھی بہت پہلے سے اس نظام کو گلے سے لگایا ہوا ہے حالانکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ آپ اس نظام کا رد کرتے-

    آج ہم اس نظام کی طرف دیکھیں تو یہ ہم پر جبری مسلط ہے اور اپنی بقاء کی خاطر ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے سے بڑا عالم دین بھی اسی جمہوری نظام کے تابع ہے نہیں یقین تو اس کے زیر استعمال ہر چیز پر ادا ہونے والا ٹیکس دیکھ لیجئےکوئی کرے ہمت کہ میں تو ٹیکس نہیں دیتا اور اپنی زندگی بغیر ٹیکس کے گزاروں گا کیونکہ ٹیکس حرام ہے مگر ہم ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں حتی کہ ہماری مساجد بھی ٹیکس دیئے بنا نہیں بنتیں نہیں یقین تو جس بھٹہ خشت سے آپ اپنی مسجد کیلئے اینٹیں خریدتے ہیں ان سے ذرا پوچھئے بھئی اینٹ کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر گورنمنٹ کا ٹیکس کتنا ہے ؟نیز سیمنٹ،ریت ،بجری وغیرہ-

    اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی بجلی کی اصل قیمت بل میں دیکھئے اور ساتھ میں لگا ٹیکس بھی دیکھئے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ دور ماضی کی طرح مساجد کو حاکم وقت چلاتا مگر یہاں تو حاکم وقت مساجد سے ٹیکس وصول کرتا ہے ٹیکس حرام ہونے بارے نبی کریم کا واضع فرمان ہے کہ

    إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی الْیَھُودِ وَالنَّصَارَی وَلَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ عُشُورٌ
    ’دسواں حصہ(مال تجارت کا ٹیکس) صرف یہود و نصارٰی پر ہے مسلمانوں پر نہیں
    (سنن ابی داود،ج:۸،ص:۲۶۷)
    یہاں تو جناب عام مسلمان کی بجائے مساجد سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ہم اپنی مساجد کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں بصورت دیگر مسجد کا میٹر کٹ جائے گا اور ہماری مسجد کا اے سی،پنکھے،گیزر بند ہو جائے گا اور نمازی مسجد کا رخ نا کرینگے تو جناب جب ہم اپنی بنائی گئی مسجد پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں اور اسی ٹیکس دینے والی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو جناب کیا اب ہم اس کفریہ نظام کے اندر چلنے والی مسجد اللہ کے گھر میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟نہیں ہرگز نہیں ہمیں مسجد کو آباد رکھنا ہے مگر جو جبر گورنمنٹ جمہوریت کے ذریعہ کر رہی ہے اس کی جوابدہ روز قیامت وہی ہو گی ناکہ ہم-

    اسی طرح اسلام میں ویزہ،پاسپورٹ،بارڈر سسٹم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ساری زمین اللہ کی ہے مگر اس نظام کے تحت ہمیں ٹیکس دے کر ویزہ لینا پڑتا ہے پھر اسی ویزے کے ذریعہ ہم حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا اب ہم اپنا مقدس فریضہ حج و عمرہ بھی چھوڑ دیں ؟اب سب جانتے ہیں کہ تصویر کشی حرام ہے مگر بالغ ہوتے ہی ہمارا شناختی بنوانا لازم ہے اور اس پر تصویر لگوانا بھی لازم تو کیا کوئی اس دور میں بغیر شناختی کارڈ کے رہ سکتا ہے ؟ تو حضور والا سیاست میں اپنی بقاء رکھنے والے ان مجبور لوگوں کا سیاست میں آنا ناجائز کیسے ہے بھلا؟یاں تو خود اس نظام سے نکل کر دکھلائیں یاں پھر غیبت اور طعن و تشنیع سے باز آجائیں کیونکہ کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع کی بہت بڑی ممانعت ہے اور اس بارے فرمان الہی ہے کہ :

    اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔ ۔۔الحجرات 1

    اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے

    ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے ۔ الھمزہ 1

    تو جناب یاں تو اپنے گھر ،اپنے کاروبار اپنی آل اولاد کو اس کفریہ سیاسی ،جمہوری نظام سے دور لیجائیں یاں پھر اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع نا کریں اور اپنی آخرت سنواریں کچھ انہی کی جماعت کے افراد بھی سابقہ جماعتی بیانات پر بد دل ہو کر اس نظام کا حصہ بننے پر دل برداشتہ ہیں تو ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی کی مثال پیش خدمت ہے

    جس نے امیر کی خوش دلی سے اطاعت کا شرف حاصل کیا گویا کہ اس (خوش نصیب) نے میری(یعنی سید الاولین والآخرینﷺ) کی اطاعت کا شرف عظیم حاصل کیا اور جس (بدنصیب) نے (مدینۃ الرسول ﷺ) کی نسبت سے متعین امیر کی نافرمانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا گویا اس نے براہ راست سید الاولین والآخرین ﷺ کی نافرمانی کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ( صحیح بخاری ،کتاب الجہاد، 2957)

    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے امیر نے تو اس نظام کو حصہ بننے کا اعلان کیا ہے جو کہ پہلے سے ہی چل رہا ہے جس نظام میں آپ اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں اور کوئی آپ کو عشر و زکوٰۃ بارے پوچھنے والا نہیں اور یہی لوگ کچھ ہمت کرکے آپکو عشر و زکوٰۃ ،حج و جہاد ،نماز و صدقات کی تلقین کرتے ہیں تو پھر برات کیسی بھئی امیر نے کوئی نیا نظام تو متعارف کروا نہیں دیا اپنی طرف سے ؟سوچئے اگر اس پہلے سے اپنائے نظام کے ذریعہ سے آپ اپنے دعوتی،خدماتی کام جاری رکھ سکتے ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے ؟-

    ایک اور اہم مثال پیش خدمت ہے کہ نبی کریم کا فرمان ہے کہ دائیں جانب نا تھوکا جائے اور پھر دوسری حدیث ہے کہ قبلہ رخ نا تھوکا جائے ایک اور حدیث ہے کہ بائیں جانب تھوکا جائےاب میں اس پوزیشن میں کھڑا ہوں کہ میری بائیں جانب قبلہ رخ ہے تو حدیث تو مجھے بائیں جانب تھوکنے کی اجازت دے رہی ہے مگر جب دوسری حدیث دیکھوں تو قبلہ رخ بھی تھوکنا منع ہے اور دائیں جانب تھوکنے سے بھی حدیث نے منع فرمایا ہے تو کیا اب میں نا تھوکوں؟سوچنے کی بات ہے نا ؟-

    تو جناب اب مجھے تمام احادیث کا بھی احترام کرنا ہوگا اور اپنی تھوک کو بھی تھوکنا ہوگا تو اس لئے میرا حدیثوں کا رود و بدل تو جائز نہیں مگر میرا محض رخ کرنا بنتا ہے لہذہ ماضی کی باتوں کو رخ تصور کریں اور یہ ذہن نشیں کرلیں کہ اس نظام کے ذریعہ ہی اگر اسلامی نظام کی طرف جایا جا سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟-

  • ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ

    ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ

    اسلام آباد:ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرلیں ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، ایسوسی ایشن آف پرسنز (AoPs) اور افراد کا آڈٹ کرنے کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیس تھرڈ پارٹی کے سپرد کرنے کافیصلہ کرلیا ہے

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، اے او پیز اور افراد کے کیسز کا آڈٹ کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے لیے فنڈنگ ​​کی منظوری درکار ہے۔

    ایف بی آر رینڈم بیلٹنگ کے ذریعے آڈٹ کے لیے کیسز کا انتخاب کرے گا۔ کیسز کا انتخاب رسک بیسڈ آڈٹ مینجمنٹ سسٹم (RAMS) کے ذریعے آڈٹ کے لیے کیا جائے گا۔ فنڈنگ ​​کی منظوری کے بعد، پھر ایف بی آر تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کا انتخاب کرے گا۔

    ایف بی آر ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، اے او پیز اور افراد کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے 50,000 سے زیادہ انکم ٹیکس کیسز کا احاطہ کرسکتا ہے

    انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے تحت، بورڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم کا تقرر کر سکتا ہے جیسا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آرڈیننس، 1961 کے تحت بیان کیا گیا ہے یا لاگت اور مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم جیسا کہ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس ایکٹ 1966 کے تحت بیان کیا گیا ہے کسی بھی شخص یا افراد کے طبقے کے انکم ٹیکس کے معاملات، اور اس طرح کے آڈٹ کا دائرہ بورڈ یا کمشنر کیس ٹو کیس کی بنیاد پر طے کرے گا۔

    یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تھرڈ پارٹی آڈیٹرز آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے رازداری کے ضابطے کی پابندی کرنے کے پابند ہوں گے۔

    انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 216(7) کے تحت رازداری کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرموں کے ذریعے اسٹامپ پیپرز پر یقینی بنایا جائے گا جیسا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آرڈیننس، 1961 کے تحت بیان کیا گیا ہے

    آڈٹ کے معیار کو بہتر،معیاری اور بروقت یقینی بنانے کے لیے، تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کو ٹیکس دہندگان کے مالیاتی گوشواروں میں اعلان کردہ ٹرن اوور کے مطابق تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔

    ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز بشمول ان لینڈ ریونیو آڈٹ افسران اور افسران کی دیگر کیٹیگریز کو اس سال آڈٹ کیسز تفویض نہیں کیے جائیں گے۔ انہیں بے ترتیب رائے شماری کے ذریعے منتخب ہونے والے مقدمات کو نوٹس جاری کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔