Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • الحمدللہ  :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اسد عمر

    الحمدللہ :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اسد عمر

    لاہور:الحمدللہ :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ری بیسنگ کی وجہ سے معیشت کی بہترکی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ترقی کا سبب بنیں، معیشت کو 3 بڑے مسائل کا سامنا ہے، بچت اتنی نہیں ہے جتنی سرمایہ کاری کیلئے چاہیے اور ٹیکس اتنا اکٹھا نہیں ہوتا جتنا اخراجات کیلئے چاہیے، اتنی برآمدات نہیں ہوتیں کہ درآمدات برداشت کرسکیں۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ جی ڈی پی شرح پہلے سے بہتر نہیں ، پچھلے 2 سال میں ٹیکس ریونیو میں بہتری نظر آئی ، ٹیکس ریونیو 3700 ارب سے بڑھ کر 6100 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

    اسد عمر نے مزید کہا کہ لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کیلئے کیش میں کاروبار کرتے ہیں، اگر یہ نظام فوراً تبدیل کیا تومعیشت منجمد ہوتی نظر آئےگی ، اس کا حل ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل کامرس سے نکل سکےگا ، وزارت خزانہ اوراسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ترقی کی وجہ بنی ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ 2017 تک گردشی قرضہ سالانہ 450 ارب روپےبڑھ رہاتھا جو ہم 130 ارب روپےسالانہ تک لائے، ٹرانسمیشن ٹی اینڈ ڈی لاسز پہلے سے کم ہو رہے ہیں، ایل این جی پرانحصار کم کر کے 2 سال میں 140 ارب روپے بچائے، گردشی قرضہ سال کے آخرمیں 300 ارب تک کم کرنےکاہدف ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نجی شعبوں کی 06 -2005 کےبعد سرمایہ کاری نہیں دیکھی گئی، 6 ماہ میں 1 ہزار ارب روپے کے قرضے نجی شعبوں نے لیے، ایف بی آرمیں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، بجٹ خسارہ سود کی ادائیگی اور پرائمری بیلنس پرمشتمل ہوتا ہے، پرائمری بیلنس رواں آمدن اوراخراجات پرمشتمل ہوتا ہے اور اس پر خسارہ پچھلے 15 سال میں کم ترین رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امپورٹس کاسیلاب آگیاتھا، ایکسپورٹس پرٹیکس لگایا ہوا تھا، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، آئی ایم ایف پروگرام میں کمٹمنٹس کیلئے گنجائش پیدا ہوتی ہے، کچھ چیزیں معاشی حجم کے لحاظ سےدیکھی جاتی ہیں اور پبلک پرائیویٹ منصوبوں کیلئےحکومتی ضمانت دی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے
    وزیراعظم عمران خان نے مالی سال 2020-21میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد حاصل کرنے پر حکومت کو مبارکباد دی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی اقتصادی اصلاحات کی کامیابی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جارہا ہے ، عالمی جریدے بلوم برگ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان بڑھتی ہوئی شرح نمو کا تسلسل جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اس شرح نمو کی بدولت روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔

     

     

    اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نموملازمتوں کی تخلیق اور فی کس آمدن میں اضافے کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کامیاب رہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان اعلیٰ اقتصادی ترقی اور روزگار کی سطح کو برقرار رکھے گا۔

    واضح رہے کہ تجارت اور زراعت میں اضافے کے باعث پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز ،مالی سال 2021ء میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد رہی۔
    معاشی اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 5اعشاریہ 37 فیصد رہی ہےجبکہ صنعت وزراعت میں 7اعشاریہ 8 فیصد گروتھ ہوئی۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیرحماد اظہر کاکہنا ہے کہ سابقہ حکومت ایکسپورٹس میں خاطرخواہ اضافہ نہ کرسکی، ہم نے تیسرے مالی سال اتنی گروتھ حاصل کرلی ہے۔ملکی معاشی گروتھ وسیع بنیاد پر ہوئی ہے، اگلے 10 سال میں نوکریاں پیدا کرنے کا تناسب اعلیٰ سطح پر ہوگا۔

  • شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس پر جواب طلب

    شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس پر جواب طلب

    شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس پر جواب طلب

    جہانگیر ترین سمیت دیگر کی شوگر ملز سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کا معاملہ

    شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس کے خلاف درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ،عدالت نے پنجاب حکومت ،،سیکرٹری زراعت سمیت دیگر فریقین کو جواب کے لئے 2 فروری تک مہلت دے دی عدالت نے شوگرز ملز سے مارکیٹ کمیٹیوں کی فیس وصولی روکنے کے حکم میں توسیع برقرار رکھی عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی،

    جسٹس شاہد وحید نے جے ڈی ڈبلیو سمیت دیگرز شوگرز ملز کی درخواستوں پر سماعت کی ،ہنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل راجہ عارف پیش ہوئے ،۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ پنجاب حکومت ، سیکرٹری زراعت سمیت دیگرز کے جواب کے لئے مہلت دی جائے

    شوگر ملز کی درخواستوں میں پنجاب حکومت، سیکرٹری زراعت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف رکھا گیا ہے کہ مارکیٹ کمیٹیوں کی فیس وصولی کی جاتی رہی ہے،پنجاب حکومت نے مارکیٹ کمیٹیوں کی جانب سے فیس وصولی کے لئے نیا قانون بنادیا ہے، سیکرٹری زراعت نے مارکیٹ کمیٹیوں کے فیس وصولی کے متعلق 2 اگست، 7 اگست اور 7 جولائی2021کو نوٹیفکیشن جاری کئے، مسیکرٹری زراعت کی جانب سے جاری کئے گئے تینوں نوٹیفکیشن خلاف قانون ہیں،عدالت مارکیٹ کمٹیوں کی فیس وصولی کے متعلق 2 اگست، 7 اگست اور 7 جولائی کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے، اکیس کے حتمی فیصلے تک مارکیٹ کمٹیوں کی فیس وصولی کے متعلق 2 اگست,7 اگست اور 7جولائی کے نوٹفکیشن معطل کئے جائیں

    جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے

    جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا

    جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر

    جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    وزیراعظم نے جہانگیر ترین بارے کیا رپورٹ مانگی تھی؟ بیرسٹر علی ظفر کا انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین بارے درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    بریکنگ..شہزاد اکبر کھل کر جہانگیر ترین گروپ کیخلاف آ گئے، مقدمہ درج کروا دیا

    جہانگیر ترین کیخلاف کاروائی سے پہلے عدالت کو بتانا ہو گا،عدالت کا حکم، درخواست ضمانت واپس

    جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے‌ حوالہ سے درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری

    شوگر مافیا کے سامنے بے بس تھے،رمضان میں چینی کی قیمتیں کتنی بڑھائی جا رہی تھیں؟ شہزاد اکبر

    وکلا پڑھے بغیر ہر چیز کو چیلنج کر دیتے ہیں، رمضان شوگر مل کیس میں عدالت کے ریمارکس

    ٹیکس کے نفاذ کے بعد شوگر ملز کاٹیکس دو گنا بڑھ گیا، شہزاد اکبر

  • آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

    آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

    کراچی: آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا:تاجربرادری،اطلاعات کے مطابق کراچی کی تاجر برادری اس وقت سخت پریشان ہے ، تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں پار ہے کہ کیا یہ فیصلہ آئی ایم ایف کا جبر ہے یا پھربیوروکریسی کی ناہلی ہے کہ وہ ایک طئے شدہ بات پر عمل دراًمد نہیں کرواسکتے یا پھر شوکت ترین وزیراعظم پر بھاری ہیں کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسی کی رائے کا احترم نہیں کیا گیا

    اس حوالے سے کراچی سمیت ملک بھی کی تاجر برادری سخت پریشان ہے ان کا کہنا ہے کہ عجیب معاملہ ہےکہ حکومت خود ہی قانون اور پالیسیاں بناتی ہے اور خود سرکار نے خود اپنا ہی بنایا قانون توڑ دیا

    اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس فری ایکسپورٹ پراسیسنگ زون پر ٹیکس لگادیا، تاجری برادری کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی درآمدات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کی گئی ، تاجر برادری کایہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہونہیں سکتا کیونکہ وزیراعظم ہمیں یقین دہانئی کروا چکے ہیں ، لیکن سوچتے ہیں کہ پھروزیراعظم مجور ہیں کیا یا پھران کو بے خبر رکھا جارہا ہے

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی, اس کے ساتھ ساتھ کراچی اور سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کی مسئلہ کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور وزیراعظم نے ہماری بات کو بڑے غور سے سُنا لیکن وزیرخزانہ شوکت ترین درمیان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے

    برآمدکنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا۔برآمدکنندہ عرفان اخلاص کے مطابق ای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز نے مزید کہاکہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا,

    ایکسپورٹرز نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ بات چیت کے دوران وزیرخزانہ اپنی بات پرڈٹے رہے اور کہا کہ ای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں,

    اس بارے میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی,وزیر خزانہ کا موقف ہے کہ ایکسپورٹرزای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں, جبکہ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگاای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں,

    ایکسپورٹر ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہےایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا, ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کے خاتمے سے اب ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی درآمدات پر بھی 17فیصدٹیکس لاگو ہوجائے گا۔

    ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ہمارا یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پھرآنے والے دنوں میں کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے اورپھر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے اور دیکھیں کہ کون ہےجو جبر کے ذریعے پاکستان کی ایکسپورٹرزکواپنے جبر کا نشانہ بنائے گا

  • رات کے اندھیرے میں بل پاس کرائے گئے،شاہد خاقان عباسی

    رات کے اندھیرے میں بل پاس کرائے گئے،شاہد خاقان عباسی

    ہم تو پوری رات بیٹھنے کو تیار تھے، شاہد خاقان عباسی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کل عوام پر 700 ارب روپے سالانہ کا بوجھ ڈالا گیا،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عوام کے نمائندوں کو اس پر بات کرنے کی بھی اجازت نہ دی گئی، رات کے اندھیرے میں بل پاس کرائے گئے،اسٹیٹ بینک کا بل پاکستان کی تاریخ کا سب سے خطرناک بل ہے،ہم اپنی معیشت کی چابی آئی ایم ایف کے حوالے کر رہے ہیں،رات کے 11بجے یہ بل پاس کروایا گیا، اس پر رائے نہیں لی گئی،ہر وزیر یہ کہتا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں، اگر آپ مجبور ہیں تو ہمیں بات تو کرنے دیں،وہاں وہ لوگ بیٹھے ہوں گے جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہیں آئین و قانون کی پروا نہیں ہے،یہ سب اس وقت ہوا جب ملک کا وزیراعظم ایوان میں بیٹھا ہوا تھا،ہم تو بحث کیلئے پوری رات بیٹھنے کو تیار تھے،کم از کم اس بل پر بحث تو ہونی چاہیے تھی

    ن لیگی رہنما خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ کل ایوان میں پاس ہونے والا بل محنت کشوں، مزدورں کا قتل نامہ تھا، کل عمران خان نے ان کے گلے ہی کاٹ دیئے، پاکستان میں غریبوں کیلئے 20 فیصد مہنگائی ہے،کل اسٹیٹ بینک غلام بینک بن گیا،کل حکومت نے اپنی خودکشی کے کاغذات پر دستخط کئے،

    سابق وزیر خزانہ، ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت کا 2 ارب روپے کے ٹیکس بڑھنے کا دعویٰ غلط ہے،180ارب روپے کی قسط کیلئے آپ نے 6 ماہ میں 350 ارب روپے کا ٹیکس لگا دیا،

    قبل ازیں قومی اسمبلی میں ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کل جو حکومت کا رویہ تھا یا جو رویہ چیئر کا تھا کیا وہ احترام کے قابل تھا ؟کل وفاقی وزیر شبلی فراز نے ابھی اپنا بل پیش نہیں کیا تھا جسے منظور کرا لیا گیا یہ چیئر خود اپنا احترام نہیں کرا رہی ہے، ہمیں ایک دوسرے کا احترام خود کرنا ہے ہم نے ہی ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے کیونکہ کوئی فرشتے نہیں اترتے جو آکر احترام کرینگے 32 سال میں کبھی ایسا رویہ نہیں دیکھا جو کل سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے اپنایا ،مشرف دور آمریت میں بھی ایسا رویہ نہیں دیکھا تھا جو گزشتہ روز ہوا ،آج بھی اس چیئر کا احترام ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ،کل تمام روایات کو پامال کردیا گیا ہے، کچھ روایات ایسی بنائی جارہی ہیں جو شرمسار کردیتی ہیں ،جو قانون سازی کل کی گئی اس میں کون سی ایمرجنسی تھی؟ وہ آج بھی ہوسکتا تھا پیر کو بھی ہوسکتا تھا ،آپ نے تو کہا تھا سو ارب ڈالر اس کے منہ پر اور سو ارب دوسرے کے منہ پر ماریں گے ،آپ نے تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کے منہ پر مار دیا ،آپ نے کل سرنڈر کردیا ہے ، ڈھاکہ سے بڑا سرنڈر کل کردیا گیا، یہ وطن فروشی کل کی گئی ،کل آپ چیئر پر بیٹھے تھے، آپ کی زیر صدارت وطن فروشی ہوئی ہے ،اختر مینگل بلوچستان کے حقوق کی بات کررہاتھا مگر آپ چیئر پر بیٹھ کر وفاداریاں بیچ رہے ہیں ،تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، تاریخ ان جعلی حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی

    قبل ازیں ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کے جھوٹ کی گواہی22کروڑ عوام دے رہے ہیں عوام معاشی تباہی ، بے روزگاری اور مہنگائی برپا کرنے والوں کو پہچان چکی عوام ملک کی معاشی سالمیت اور خودمختاری کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنے والوں کوپہچان چکی کس نے کہا تھا کہ ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھر دیں گے ؟کس نے کہا تھا کہ خود کشی کر لوں گا آئی ایم ایف نہیں جاوں گا جھوٹ بولنے والے عوام کو چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، ملک پر مہنگائی کی قیامت نازل کرنے والوں کو قوم پہچان چکی ہے، عام انتخابات پی ٹی آئی کا آخری انتخاب ثابت ہوگا،

    قبل ازیں ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سانحہ مری میں قیمتی جانوں کا ضیاع حکومتی نااہلی ہے، سانحہ مری کے لواحقین سے تعزیت کا اظہارکرتی ہوں ،پہلے پاکستان کے عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان تھے اب پنجاب کے لوگ اپنی جانیں دے رہے ہیں برف باری سے نہیں ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اموات ہوئیں شہباز شریف برف باری سے پہلے ہی تمام حفاظتی اقدامات کیے ہوتے تھے، 3میٹنگز ہوئیں لیکن عثمان بزدار ایک بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے،ان کی رپورٹ کے مطابق 820 گاڑیں پھنسی ہیں محکمہ موسمیات نے کہا کے معمول کی برف باری ہوئی،ایسے حکمرانوں کے لیے 23 لوگوں کا مر جانا کوئی بات نہیں ایک گھر سے 8 جنازے نکلے ان کا درد نہیں سمجھا جا سکتا،

    @MumtaazAwan

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

    نواز شریف کی واپسی، شہباز شریف نے بڑا اعلان کر دیا

    عمران خان اگلے ماہ جا رہے ،نواز شریف آنا چاہتا ہے تو آ جائے، شیخ رشید

  • سلائی مشینوں پر بھی ٹیکس،جب حکمران عوام میں جائیں گے تو لگ پتہ چل جائے گا،بلاول

    سلائی مشینوں پر بھی ٹیکس،جب حکمران عوام میں جائیں گے تو لگ پتہ چل جائے گا،بلاول

    جب حکمران عوام میں جائیں گے تو لگ پتہ چل جائے گا،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف سالانہ بجٹ دیتے ہیں بلکہ ہر2ماہ بعد منی بجٹ بھی لے آتے ہیں، کنفیویژن معیشت کی موت ہوتا ہے معیشت پر کیے گئے فیصلے عوام کے لیے تکلیف دہ ہیں،جب آپ آئی ایم ایف کےپاس گئے تو آپ کمزور تھے،اس لیے کمزور ڈیل کی،آئی ایم ایف ڈیل کا بوجھ اب ملک کے غریب عوام اٹھائیں گے،آئی ایم ایف کا یہ بوجھ عوام کا معاشی قتل ہے،نیا پاکستان کا مطلب مہنگائی،بے روزگاری اور غربت ہے،آپ نے پاکستان کی معاشی خود مختاری کا سودا کیا ہے،آئی ایم ایف جانے کے بعد آپ نئے وزیر کے ساتھ واپس آئے پاکستان کی تاریخ میں بُرے معاشی اشاریئے سامنےآئے ،جب پاکستان دولخت ہوا تب بھی ہماری معیشت نیگیٹو گروتھ میں نہیں تھی جب پاکستان دولخت ہوا تب بھی ہماری معیشت منفی نہیں تھی،عمران خان مزید غربت اور مہنگائی کا بندوبست کررہا ہے،کنفیوژن معیشت کی موت ہوتا ہے،وزیراعظم انتخابی مہم میں جو باتیں کرتے تھے ہم سمجھے وہ کامیاب ہوکر سائیکل پر دفتر آئیں گے وہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاوس جانے کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں،ٹویٹر اور فیس بک کی جماعت نے آئی ٹی سیکٹر پر بھی ٹیکس لگادیا،منی بجٹ سے ایک ہزار سی سی گاڑی کی قیمت میں 100فیصد اضافہ ہوگا مہنگائی اور بے روزگاری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے،منتخب حکومت ایسے فیصلے کر ہی نہیں سکتی،آپ نے عام آدمی کی زندگی مشکل میں ڈال دی،جب حکمران عوام میں جائیں گے تو لگ پتہ چل جائے گا وفاقی حکومت ہر قومی سانحے میں گم ہوجاتی ہے مری اور بلوچستان میں سانحات کے دوران حکومت غائب تھی ڈپٹی اسپیکر صاحب آپ خود الیکشن لڑتے ہیں حکومت سلائی مشین پر بھی ٹیکس لگارہی ہے، سلائی مشین پر زیادہ نہیں بولوں گا سب کو معلوم ہےموبائل ، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کے ذریعے نوجوان پیسے کمارہے ہیں شہباز شریف مفت لیپ ٹاپ بانٹتے تھے،موجودہ حکومت ٹیکس لگارہی ہے ، 2018سے اب تک اشیائے خورونوش کی قیمت میں58فیصد اضافہ ہوا،بلاول کے سلائی مشین سے متعلق بات پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہر صدی میں ایک بحران آتا ہے ہمارے بحران کا نام عمران خان ہے،قومی اسمبلی اجلاس، رانا ثناء اللہ نے کورم کی نشاندہی کردی ، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران وزیرخزانہ کو موجود ہونا چاہیے تھا

    حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ان کی غلطیوں کی وجہ سے ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑے معیشت صرف بیمار نہیں تھی بلکہ دیوالیہ ہونےکے قریب تھی، قرضوں کے ریکارڈ انبار کو ہم نے واپس کیاملک کو دیوالیہ ہونےسے بچایا اور معیشت کوترقی کی ٹریک پر لگایا، کورونا کے دوران باہر سے آیا لیپ ٹاپ کھول کر کہا کہ پورے پاکستان بندکردو، مسلم لیگ ن دیوالیہ ہونے کے قریب معیشت چھوڑ کر گئی،ہم نے ان کی کوویڈ کی مشاورت کو رد کر کے صحیح راستہ اپنایا، کوویڈ کے دوران ہماری معیشت نے4فیصد ترقی کی ایل این جی کی ڈیل ہم نے ڈیل کی اسی کمپنی سے جس سے انہوں کی تھی ہم نے کم ریٹ پر ڈیل کی ہمیں پتہ ہے کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہوئی ہے مسلم لیگ ن کے دور میں امپورٹ کا سیلاب آیا تھا، امپورٹس نے ہماری معیشت کو تباہ کردیا ہے،ہمارے دور میں گنا 250سے 300روپے فی من فروخت ہوا، کورونا کےدوران سپلائی چین بند ہونے سے مہنگائی ہوئی، فصلوں کی پیداوار ن لیگ دورسے زیادہ ہوئی،اس سال ایکسپورٹ کو30ارب ڈالر تک لے جائیں گے سب سے زیادہ یوریا کی فروخت 2021 میں ہوئی،امیر لوگ جتنا ٹیکس دیتے ہیں انہیں زیادہ ٹیکس دینے کی ضرورت ہے، ہمارے لیڈ کے اکاونٹ سے 4ارب روپے نہیں نکلتے،منظور چپڑاسی کے اکاونٹس سے کیسے 4ارب روپے نکلے،ہم نے نومبر، دسمبر اور جنوری میں ایل این جی کے 10کارگو امپورٹ کیے، ایل این جی کا ایک کارگو 10ارب روپے کا ہے، بجلی گھروں کو ساڑھے 800ارب روپے سالانہ کرایہ دیا جارہا ہے،بجلی لیں یا نہ لیں ہمیں پیسے دینے پڑتے ہیں، ڈیمانڈ بڑھنے سے یوریا کی کمی آئی ہے،یہ اپنی بات کرکےچوروں کی طرح بھاگ جاتے ہیں،سندھ میں ریاست کا نظام کمزور ہو چکا ہے ،عدالت کے ریمارکس ہیں کہ سندھ میں کوئی حکومت ہے ہی نہیں،ہم نے صرف 300 ارب کے ٹیکسز لگائے ہیں،لگائے گئے ٹیکسز ایڈجسٹ ایبل ہیں،منظور چپڑاسی کے اکاؤنٹ سے 4 ارب کہاں سے نکل آئے؟ ہم نے نومبر، دسمبر اور جنوری میں ایل این جی کے 10کارگو امپورٹ کیے، ان کےلگائے گئے ٹرمینلز کو 5لاکھ ڈالر یومیہ دےرہےہیں،

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بجٹ کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا،صحافی نے بلاول زرداری سے سوال کیا کہ کیا حکومت بجٹ منظور کرا لے گی؟ جس پر بلاول زرداری نے جواب دیا کہ ہماری کوشش ہوگی کی بھرپور مخالفت کریں، بجٹ منظور ہو یا نہ ہو لیکن اس کے اثرات ابھی سے آپ کو نظر آ رہے ہیں

     

    کی یاد تازہ،سفاک باپ نے بیٹا نہ ہونے پر 3 کمسن بیٹیوں کو قتل کر دیا

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

  • ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    اسلام آباد:ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس تو سب کو دینا پڑے گا، نوٹسز نہیں، خود ٹیکس گزار تک پہنچیں گے، لوگ کاررو

     

    ائی سے پہلے محاصل ادا کرنا شروع کردیں، ٹیکس پیئرز کی تعداد دو کروڑ ہونی چاہیے، عمران خان مسٹر کلین ہیں، عوام کے پیسے میں کرپشن نہیں ہونے دے گا۔

    وزیرخزانہ نے قومی سیلزٹیکس ریٹرن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس توآپ کودینا پڑے گا، ٹیکسوں کا نظام خودکارہونے سے محصولات بڑھیں گے، ٹیکسوں کے نظام کوآسان بنایا جارہا ہے، جب لوگوں کوسہولت ہوگی تو زیادہ ٹیکس بھی دیں گے، جب ٹیکس اکٹھے نہیں ہوں گے تو ملک میں ترقی کیسے ہو گی؟ ٹیکسوں ادائیگیوں سے ہی ملک میں پائیدارترقی ہوسکتی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں تک پہنچیں گے، جوٹیکس ادا نہیں کرتے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے۔

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سب لوگ اپنا ٹیکس دینا شروع کردیں، اب ہم نوٹس نہیں دیں گے، اب ہم ان لوگوں کوبتائیں گے کہ آپ کی اتنی آمدن ہے، ہم کسی کوہراساں نہیں کریں گے، اگرکوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جوٹیکس ادا نہیں کررہے ان کوچاہیے ہمارے پہنچنے سے پہلے وہ ٹیکس ادا کردیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گڈزپرسیلزٹیکس وفاق کا دائرہ کارہے، یہ مجھے نہیں معلوم آج ہوں یا کل نہیں، اگراس عہدے پر رہا توسب کو انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس بھی دینا پڑے گا، ملک کو اس وقت ٹیکس کی ضرورت ہے، ادھارلیکرملک چلایا جاتا ہے یہ نہیں چلے گا، بڑی بڑی گاڑیاں والے ٹیکس نہیں دیتے، دوملین لوگ ٹیکس دیتے ہیں، کم ازکم 20ملین لوگوں کوٹیکس دینا چاہیے، عمران خان مسٹرکلین، آپ کے دیئے گئے ٹیکسوں کی خردبرد نہیں ہوگی، میں توتنخواہ بھی نہیں لیتا ہم نے اس سسٹم کوٹھیک کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلزٹیکس گڈز پہ بھی ہے اور سروسز پر بھی، صوبوں کو سروسز پر ٹیکس تو ملنا شروع ہو گیا مگر لوگوں کو دِقت تھی، اب کمپنیوں کو ایک ہی سیلزٹیکس ریٹرن فائل کرنا ہوگی، یہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا اچھا طریقہ ہے، ایک جگہ ٹیکس اکٹھا کرنے سے معلوم ہوگا کمپنیاں کتنا پیسہ اکٹھا کررہیں، ریٹیل میں 18 ٹریلین کی سیل ہے، ہمارے پاس 3 ٹریلین آتا ہے، لوگ ایک وقت میں کھانے کا 30 سے 40 ہزار دیتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، ہم وہ لوگ نہیں جو پیسے کا خرد برد کرتے ہیں۔

    دوسری طرف چیئرمین ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’تاریخ میں پہلی بارسیلز ٹیکس انتظامی اصلاحات کا پیکیج لارہے ہیں’

     

     

    چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا ہے قومی سیلز ٹیکس ریٹرن کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ نے سیلز ٹیکس اصلاحات کی پالیسی پارلیمان میں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ آج ہم ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلز ٹیکس کے انتظامی اصلاحات کا پیکیج لارہے ہیں، ملک میں 7 ٹیکس اتھارٹیز ایک طرح کا کام کررہی ہیں۔

    ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ ٹیکس دہندہ کو 7 ٹیکس ایجینسیوں کے پاس اپنے اعدادوشمار جمع کرانے پڑتے تھے، اس حوالے سے صوبوں سمیت ٹیکس بارز کے ساتھ گفت وشنید کی گئی،ان کا کہنا تھا کہ اب سنگل ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرانے جاسکتے ہیں۔اب ایک سیلز ٹیکس گوشوارہ جمع کرانا کافی ہوگا، دسمبر 2021 کے نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن جنوری 2022 میں جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ فلائنگ اور فیک سیلز ٹیکس انوائسنگ کا خاتمہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل انکم ٹیکس ریٹرن پر بھی مزید کام کیا جارہا ہے، نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن کو مزید آسان بنایا جائے گا۔

  • جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس کی جتنی طاقت ہےوہ ٹیکس چھپاتا ہے،کسی کوہراساں نہیں کریں گے لیکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : وزیرخزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ لگائیں گےکہ کس کی کتنی انکم ہے وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ معاشرےکی ترقی میں ٹیکس کااہم کردارہے، جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا-

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس کلچر کو پروان چڑھانےکیلئےشروعات پارلیمنٹیرینز سے ہونی چاہیے، ارکان پارلیمنٹ ٹیکس کی ادائیگی میں لوگوں کیلئےمثال بنیں یہاں جس کی جتنی طاقت ہےوہ ٹیکس چھپا تا ہے-

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریونیو سے کرنٹ اخراجات بھی پورےنہیں کرپارہے ٹیکس سسٹم میں شفافیت اورآسانی کیلئےاقدامات کررہےہیں شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ لگائیں گےکہ کس کی کتنی انکم ہے، کسی کوہراساں نہیں کریں گے لیکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت…

    شوکت ترین نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے، 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 30 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، محصولات میں اضافے کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    سیالکوٹ سے دبئی، پی آئی اے پروازوں کا آغاز

  • بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم  نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

    ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 98لاکھ 54 ہزار959 روپے، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپے، آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپے ٹیکس دیا۔

    دیگر سیاستدانوں میں  شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے، وزیرخزانہ شوکت ترین نے  2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے ٹیکس دیا۔  وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپےٹیکس دیا۔

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

    وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراء پر کہا کہ یہ شفافیت کی طرف ایک اہم قدم ہے، قوم کی نظریں ارکان پارلیمان پر ہوتی ہیں، جب قوم کو معلوم ہو گا کہ ارکان پارلیمان شفاف طریقہ سے ٹیکس ادا کرتے ہیں تو شہری بھی اسی جذبہ کے ساتھ ٹیکس ادا کریں گے، اس سے ٹیکس کے پورے نظام میں شفافیت آئے گی۔ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ٹیکس کے فعال اور مؤثر نظام کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، ٹیکس ریونیو کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرتا، ماضی میں جس کو بھی موقع ملتا وہ ٹیکس کو چھپانے کی کوشش کرتا، اس سے ترقی کے سفر پر اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس جاری اخراجات کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں، اگر ٹیکس کا شفاف اور مؤثر نظام موجود ہو تو اس طرح کے مسائل سے چھٹکارا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائری کی اشاعت کا آغاز 2013ء میں ہوا تھا، یہ ایک اچھی روایت ہے، اس مرتبہ ٹیکس ڈائریکٹری میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں جو خوش آئند ہیں

    ارکان پارلیمنٹ کے ادا کردہ ٹیکس پر مشتمل ڈائریکٹری میں ان ارکان کے نام شامل ہیں جنہوں نے 3 جوری 2022 تک اپنی ریٹرن فائل کی تھی۔ یہ ریٹرن آن لائن جمع ہوئی یا ہاتھ سے جمع کرائی گئی ڈائریکٹری میں ایسے ممبران کے نام شامل ہیں ٹیکس نل ظاہر کیا گیا ہے ان میں فیصل سلیم رحمان شامل ہیں تاہم انہوں نے زرعی انکم ظاہر کی ہے سینیٹر پلوشہ خان کی طرف سے کوئی آمدن ظاہر نہیں کی گئی قومی اسمبلی کے ریٹرن جمع کرانے والے 312 ارکان میں سے صرف دس ایسے ہیں جن کا انکم ٹیکس نل ہے تاہم ان میں کچھ ارکان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زرعی آمدن کو ظاہر کیا ہے

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

  • حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    وزیر مملکت علی محمد نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی ،

    علی محمد خان کا کہنا تھا کہ میری درخواست پر وزیرخزانہ نے لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس نہیں لگایا، شکرہے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں پر ٹیکس نہیں لگا ،وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے مردان میں اہل علاقہ سے گفتگو کی،

    وفاقی حکومت نے منی بجٹ میں سب کچھ مہنگا کر دیا ہے تمام اشیاء پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں، منی بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا ہے، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کہہ چکے تھے کہ حکومت نے عوام کو لنڈے کے کپڑوں تک کا نہیں چھوڑا پیک فوڈ ، بجلی، پیٹرول ، دالیں اور گھی سمیت دیگر اشیاء اس منی بجٹ کے مرہون منت مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

    حمزہ شہباز کا مزید کہنا تھا کہ 350 ارب کے منی بجٹ کے ذریعہ لگنے والے ٹیکسوں سے جو سیکڑوں اشیاء مہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر نہیں پڑے گا؟عمران حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے حکمران مال بنانے میں مصروف ہیں اور عوام فاقوں سے خودکشی پر۔

    لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس کے حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے کچھ ٹویٹس کی ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کی ہے

    ر قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ منی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور ہونا قومی خودکشی ہوگی ,شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منی بجٹ روکنے کے لئے متحدہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے پاکستان کی معاشی خودمختاری خطرے میں ہے منی بجٹ کے ملک اور قوم کے لئے تباہ کن اثرات پر حکومتی ارکان اوراس کے اتحادیوں کے احساس کو جگانے کی کوشش کریں گے موجودہ حکومت قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئی ہے ایک اور منی بجٹ کینسر کا علاج اسپرین سے کرنے کے مترادف ہے حکومت آئی ایم ایف کا تیارکردہ منی بجٹ نہ دے، استعفی دے تبدیلی کا سونامی معیشت، روزگار اور عوام کی خوشیوں کو نگل گیا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا ریلیف اب تک عوام کو نہیں مل سکا عوام کے لئے اعلان کردہ معاشی ریلیف پیکج کا اثر تو نہیں نہیں پہنچا البتہ بجلی گیس اور اشیاءکی قیمت مزید بڑھ چکی ہے

    آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

    وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

  • خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے مزید ایک ارب ڈالر لینے کے لئے عمران خان نے منی بجٹ پیش کرکے عام آدمی کو دیوار سے لگادیاہے۔

    حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے منی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی آئی ایم ایف ڈیل ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادے گی، پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف سے غلط ڈیل کی بھاری قیمت پاکستان کے عوام ادا کررہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بیکری کی اشیاء سے نومولود بچوں کے دودھ تک پر عمران خان نے ٹیکس بڑھا کر سفاکیت کی انتہا کردی، ڈبے کا دودھ اور ماچس بھی عمران خان نے منی بجٹ میں مہنگی کرکے اپنے عوام دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے، موبائل فون کالز کے پیسے بڑھادئیے، کتابوں تک پر ٹیکس عائد کردیا گیا، ملک میں اندھیر نگری کا راج نہیں چلے گا۔

    ادھرعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگوکیے گئے ہیں‌

    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے