Baaghi TV

Tag: ٹیکنالوجی

  • پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری،زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے میں اہم پیش رفت

    پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری،زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے میں اہم پیش رفت

    پاکستان میں جی ایم مکئی بیج کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے، جو زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت ہے-

    ایس آئی ایف سی اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر بیجوں کے فروغ کیلئے اقدامات جاری ہیں،پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) مکئی کی کاشت سے متعلق پالیسی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،’جی ایم’ مکئی جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ بیج ہے جو کیڑوں، بیماریوں اور موسمی اثرات کے خلاف مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے

    دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد ملٹی نیشنل بیج کمپنیوں کو ‘جی ایم’ مکئی کی کاشت کے لیے اصولی منظوری حاصل ہو گی،کمیٹی اجلاس میں وزیر خزانہ کے ساتھ ایس آئی ایف سی کے گرین پاکستان انیشیٹو کے چیف ایگزیکٹو بھی شریک ہوئےلکابینہ کمیٹی نے پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ‘جی ایم ‘ مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دے دی-

    عالمی ملٹی نیشنل کمپنیاں مونسانٹو، بائر، کارگل، سِنجینٹا اور کورٹِیوا 1980 کی دہائی سے پاکستان کی بیج صنعت میں سرگرم ہیں،اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے زرعی جدت اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں جی ایم مکئی کی منظوری سے زرعی شعبے میں جدید بیج، زیادہ پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

  • برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانوی حکومت نے بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور بلیک میلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت جلد ایسا قانون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت بچوں کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے عریاں تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے گابرطانیہ میں زیادہ تر اسمارٹ فونز کے آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے والی کمپنیوں ایپل اور گوگل کو جون میں 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے زیر استعمال آلات پر عریاں تصاویر تک رسائی روکنے کے مؤثر اقدامات کریں۔

    تاہم برطانوی وزیرِ ثقافت لیزا نینڈی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اہم وعدوں کے باوجود موجودہ اقدامات مسئلے کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں، مجوزہ قانون کے تحت نہ صرف موبائل فونز بلکہ بچوں کے زیر استعمال ایپس میں بھی عریاں تصاویر کو بلاک کرنے کے لیے حفاظتی نظام متعارف کرانا ہوگا،اس اقدام کا مقصد آن لائن ماحول میں بچوں کو جنسی استحصال، گرومنگ اور بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔

    ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اس حوالے سے کچھ اقدامات کرچکی ہیں، ایپل نے 2021 میں ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ فیچر متعارف کرایا تھا، جو بچوں کو عریاں تصاویر دیکھنے یا شیئر کرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے اس نظام کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ گوگل نے بھی بچوں کے تحفظ اور بغیر رضامندی کے نجی تصاویر کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں کا دفاع کیا ہے۔

    بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم این ایس پی سی سی نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے موبائل فونز سے بنائی جانے والی تصاویر بعض اوقات آن لائن گرومنگ، جنسی بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا آغاز بن سکتی ہیں۔

    برطانوی پولیس حکام بھی ماضی میں خبردار کرچکے ہیں کہ بچوں کے آلات سے عریاں تصاویر بنانے یا شیئر کرنے کی صلاحیت محدود کرنا ’سیکسٹورشن‘ کے خلاف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے اس جرم میں بچوں کو پہلے ایسی تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں انہی تصاویر کی بنیاد پر بلیک میل کیا جاتا ہے مجوزہ قانون بالغ افراد کو عریاں تصاویر تک رسائی سے نہیں روکے گا، تاہم بچوں کے لیے پابندی نافذ کرنے کی خاطر صارف کی عمر کی تصدیق کا نظام درکار ہوسکتا ہے۔

    ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے پرائیویسی متاثر ہوسکتی ہے، تاہم حکومت نے نگرانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ ہے۔

  • ہری پور : لاپتا ہونے والی 5 سالہ بچی کی لاش کنویں سے برآمد،ملزمان گرفتار ،زیادتی کا اعتراف

    ہری پور : لاپتا ہونے والی 5 سالہ بچی کی لاش کنویں سے برآمد،ملزمان گرفتار ،زیادتی کا اعتراف

    ہری پور میں 15 روز قبل لاپتا ہونے والی پانچ سالہ بچی آیت نور کی لاش مل گئی، بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاش کنویں میں پھینک دی گئی تھی۔

    پولیس کے مطابق بچی کی لاش یونیورسٹی روڈ پر ویئر ہاؤس کے کنویں سے ملی ہے، آیت نور گھر سے باہر کھیلنے کے لیے نکلی اور لاپتا ہو گئی تھی آیت نور کیس کے دو ملزمان جیل میں اور ایک پولیس تحویل میں ہے، بچی کی تلاش کی کارروائی کے دوران 3 ملزمان کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے ایک ملزم نے جج کے سامنے بچی سے زیادتی کا اعتراف کر لیا۔

    پولیس کے مطابق پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا جس میں بچی کو ایک لڑکے کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا بچی کو جس موٹر سائیکل پر لے جایا گیا اسے بھی برآمد کر لیا گیا ہےسی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لیا، اس کیس میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن کی عمریں سولہ سال سے کم ہیں اور وہ ماڈل ٹاؤن کالونی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں عثمان ولد لقمان، قاسم ولد نثار احمد اور طلحہ ولد محمد فرید شامل ہیں، دو ملزمان جیل اور ایک ملزم پولیس کی کسٹڈی میں ہے باقی دو ملزما کی تلاش جاری ہےدورانِ تفتیش مرکزی ملزم عثمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ بچی کو اغوا کر کے قریبی گراؤنڈ میں لے گئے جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    دوسری جانب اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پھیلا ہوا تھا اور علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں صدیق اکبر چوک پر جمع ہو کر احتجاج بھی کیا تھا۔

  • چینی راکٹ نے زمین کے مدار میں پرواز کے بعد زمین پر دوبارہ اترنے میں کامیابی حاصل کرلی

    چینی راکٹ نے زمین کے مدار میں پرواز کے بعد زمین پر دوبارہ اترنے میں کامیابی حاصل کرلی

    چین کی نجی خلائی کمپنی LandSpace کے تیار کردہ راکٹ ژوچوئے-3 (Zhuque-3) نے زمین کے مدار میں پرواز اور مشن کی تکمیل کے بعد اپنے پہلے مرحلے کو زمین پر بالکل سیدھا اور بحفاظت اتارنے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہےجبکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی راکٹ نے مدار تک جانے کے بعد خودکار طریقے سے زمین پر ورٹیکل لینڈنگ کی ہے-

    چینی نجی کمپنی ’لینڈ اسپیس‘ کے تیار کردہ راکٹ ’زیوکیو 3‘ نے زمین کے مدار میں مشن مکمل کرنے کے بعد اپنی لینڈنگ لیگز کی مدد سے زمین پر بالکل سیدھا اتر کر کامیابی سے لینڈنگ کی ہے،یہ پہلا موقع ہے جب کسی چینی نجی ایرو اسپیس کمپنی نے مدار میں پرواز کے بعد فرسٹ اسٹیج بوسٹر کو بحفاظت اور خودکار طریقے سے زمین پر واپس اتارنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

    اس سے قبل 10 جولائی کو سرکاری ادارے چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے ‘لانگ مارچ 10 بی’ نے بھی واپسی کی آزمائش کی تھی، تاہم زیوکیو 3 نے مکمل طور پر اپنی لینڈنگ لیگز کے بل بوتے پر سیدھا کھڑے ہو کر لینڈنگ مکمل کی،کمپنی کے مطابق شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس زون سے لانچ کیے گئے اس دوسرے آزمائشی مشن نے مدار میں سیٹلائٹ پہنچانے کے بعد راکٹ کے دوبارہ قابلِ استعمال ڈیزائن اور پائیداری کو ثابت کر دیا ہے۔

    ساخت اور لفٹنگ صلاحیت کے اعتبار سے زیوکیو 3 امریکی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے معروف ‘فالکن 9’ راکٹ سے کافی مماثلت رکھتا ہے، تاہم دونوں کا ایندھن مختلف ہے، فالکن 9 مائع آکسیجن اور کیروسین پر کام کرتا ہے جبکہ زیوکیو 3 میں مائع آکسیجن اور مائع میتھین کا جدید امتزاج استعمال کیا گیا ہے، جس سے آئندہ خلائی مشنز کے اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

  • دنیا کے پہلے الیکٹرک طیارے کی کامیاب آزمائشی اُڑان

    دنیا کے پہلے الیکٹرک طیارے کی کامیاب آزمائشی اُڑان

    دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے الیکٹرک طیارے نے پہلی مرتبہ کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی-

    گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق سویڈن میں قائم اور امریکا میں کام کرنے والی کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس نے 12 اگست 2026 کو نیویارک کے پلاٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے مکمل جسامت والے ایکس ون طیارے کو پہلی بار فضا میں اڑایا۔

    کمپنی کے مطابق طیارہ تقریباً 27 منٹ تک فضا میں رہا اور اس دوران 335 میٹر یعنی تقریباً 1100 فٹ کی بلندی تک پہنچا۔ 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والے اس طیارے میں بیٹری سے چلنے والے چار برقی موٹرز نصب ہیں، جو ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتی ہیں۔

    اس آزمائشی پرواز کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ طیارے نے تقریباً 5 ڈالر کی بجلی استعمال کی، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف اس پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت ہے، اس میں پائلٹ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری کی قیمت یا طیارے کے دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں۔

    ایکس ون دراصل مسافروں کو لے جانے کے لیے تیار کیا جانے والا حتمی طیارہ نہیں بلکہ ایک تجرباتی طیارہ ہے، اسے اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ کمپنی بیٹری، برقی موٹرز، طیارے کے دیگر نظام اور تیاری کے طریقوں کو حقیقی پرواز میں جانچ سکے۔

    ہارٹ ایرو اسپیس کا اصل ہدف 30 نشستوں والا ای ایس-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے کمپنی کے منصوبے کے مطابق ای ایس-30 تقریباً 200 کلومیٹر تک مکمل طور پر بجلی سے پرواز کر سکے گا، جبکہ ہائبرڈ نظام کے ذریعے اس کی پرواز کی حد 800 کلومیٹر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

    کمپنی کے مطابق ای ایس-30 کو خاص طور پر مختصر فاصلے کے سفر اور چھوٹے شہروں کو آپس میں ملانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایسے روٹس پر روایتی ایندھن سے چلنے والے طیاروں کا متبادل فراہم کرنا ہے جہاں کم فاصلے کی پروازیں ہوتی ہیں۔

    ہارٹ ایرو اسپیس نے کئی سال کی تیاری کے بعد اس مرحلے تک رسائی حاصل کی ہےکمپنی نے 2021 میں 35 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، جبکہ 2024 میں مزید 107 ملین ڈالر جمع کیے گئے اسی سرمایہ کاری سے ایکس ون سمیت برقی طیارے کی ٹیکنالوجی پر کام آگے بڑھایا گیا،2026 میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایکس ون کو خصوصی پرواز کا سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے بعد کمپنی کو اس کی آزمائشی پرواز شروع کرنے کی اجازت ملی۔

    اب کمپنی کا اگلا بڑا ہدف ای ایس-30 کے پری پروڈکشن مرحلے کی پروازیں شروع کرنا ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس 2028 میں مزید بڑے آزمائشی مراحل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جبکہ ای ایس-30 کو 2031 کے قریب سروس میں شامل کرنے اور اس کی باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق ایکس ون کی پہلی پرواز کا مقصد فوری طور پر بڑے مسافر طیاروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر آزمانا ہے جو مستقبل میں علاقائی ہوابازی کو تبدیل کرسکتی ہے، پہلی بار 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والا اور 32 میٹر پروں کے پھیلاؤ والا بیٹری سے چلنے والا طیارہ مکمل جسامت میں فضا میں گیا ہے،اس پرواز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے برقی اور ہائبرڈ طیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔

  • عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب

    عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب

    لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری ترجیح ہے آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے، جبکہ ہمیں بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی بدلنا ہو گا۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بہتری کے لیے نئے ماڈل متعارف کرا رہے ہیں ایف بی آر میں اصلاحات اور کیش لیس اکانومی پر کام کر رہے ہیں اور ہم سب مل کر ادارے میں تبدیلی لے کر آئیں گے عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات پروگرام نہایت اہم ہے اور تمام پارٹنرز کے مشکور ہیں جبکہ ادارے میں تبدیلی کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری ترجیح ہے آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے، اور ایف بی آر افسران کو اس سے فائدہ اٹھانا ہے چینی اور سیمنٹ کے شعبے میں ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے،اداروں کے ساتھ مل کر اپنے ڈیٹا بیسز کو بہتر بنا رہے ہیں،اور ہمیں بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی بدلنا ہو گا۔

  • اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر  چیٹ ممکن

    اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر چیٹ ممکن

    مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران صارفین کو فون نمبر ظاہر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین منفرد یوزر نیم (Username) کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے، جس کے بعد چیٹ کے لیے فون نمبر شیئر کرنا ضروری نہیں رہے گا پیر سے صارفین ایپ کے ذریعے اپنا یوزر نیم محفوظ (Reserve) کر سکیں گے، تاہم یہ فیچر لازمی نہیں ہوگا، صارفین کسی بھی وقت اپنا یوزر نیم تبدیل یا حذف بھی کر سکیں گے یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا جبکہ چند معروف شخصیات، سرکاری عہدیداروں اور مشہور ناموں کو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا جائے گا تاکہ ان کی شناخت کا غلط استعمال نہ ہو۔

    واٹس ایپ کی ہیڈ آف پروڈکٹ ایلس نیوٹن ریکس نے کہا کہ بہت سے صارفین، خاص طور پر گروپ چیٹس میں، اپنا فون نمبر دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، ان کے مطابق یہ فیچر صارفین کو اس بات پر زیادہ اختیار دے گا کہ وہ ایپ پر اپنی شناخت کس طرح ظاہر کرنا چاہتے ہیں یہ فیچر صارفین کی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم صارفین کے پاس بدستور ناپسندیدہ پیغامات بھیجنے والوں کو بلاک یا رپورٹ کرنے کا اختیار موجود ہوگا۔

    دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور کتاب Privacy is Power کی مصنفہ کاریسا ویلز نے کہا کہ اگرچہ یہ فیچر پرائیویسی کے حوالے سے مفید ہے لیکن واٹس ایپ مجموعی طور پر مکمل طور پر پرائیویسی دوست پلیٹ فارم نہیں کیونکہ یہ اشتہارات کے لیے صارفین کا مختلف قسم کا میٹا ڈیٹا، جیسے وہ کس سے اور کب رابطہ کرتے ہیں استعمال کرتا ہے۔

    واٹس ایپ نے واضح کیا کہ وہ صارفین کی نجی گفتگو کا مواد اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرتا کیونکہ تمام ذاتی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ ہوتی ہیں اور کمپنی ان کے مندر جات نہیں پڑھ سکتی فیچر کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد صارفین کے فون نمبر دیگر افراد کو نظر نہیں آئیں گے تاہم واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے کے لیے فون نمبر بدستور ضرور ی ہوگا ، یوزر نیمز کی کوئی عوامی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی۔

  • 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے10 لاکھ نوجوانوں کو ’اے آئی‘ کی ٹریننگ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) سے آنے والے عالمی انقلاب کے باعث زندگی کے تمام شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور پاکستان کو اس ریس میں پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا حکومت نے اگلے 3 سال کے دوران 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنو عی ذہانت (اے آئی) کی جدید ترین تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ تمام ٹریننگز بالکل ‘مفت’ فراہم کی جائیں گی تاکہ مالی وسائل کسی بھی طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ’اے آئی پالیسی‘ منظور کر لی ہے انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ’پاکستانی نکتہ نظر‘، ہماری ثقافت، زبان اور مقامی ضروریات کے مطابق ٹرینڈ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملکی مسائل کا مقامی سطح پر حل نکالا جا سکے۔

    ماضی میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور رابطے کے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں موزوں سپیکٹرم دستیاب نہ ہونا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم اب حکومت نے اس کا مستقل حل نکال لیا ہےپاکستان کے بڑے شہروں میں 5Gسروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت نے انقلابی اقدامات کرتے ہوئے سپیکٹرم کی دستیابی کو 270 میگا ہرٹز سے براہ راست بڑھا کر 750 میگا ہرٹز کر دیا ہے، جبکہ حال ہی میں 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم کامیابی سے نیلام کیا گیا ہے مزید برآں، ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے نئی سب میرین کیبلز بھی بچھائی جا رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی کمپنی ‘گوگل’ کے ساتھ پاکستان میں براہ راست کام کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اب گوگل کروم بکس کی پاکستان میں مقامی سطح پر تیاری شروع ہو چکی ہے، جو کہ ’میڈ ان پاکستان‘ ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک سنگ میل ہے، ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو خطے کا ڈیجیٹل ہب بنانا اور نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے قابل بنانا ہے۔

  • زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔

    ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھاماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہےتاہم یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

  • مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے اور حکومت ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ وژن کے تحت مؤثر اقدامات کر رہی ہے، مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے-

    وزیراعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ تمام ماہرین، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی دن کا موضوع ’ڈیجیٹل لائف لائنز: ایک مربوط دنیا میں مضبوطی و پائیداری کا فروغ‘ پاکستان کے قومی وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام ہے جبکہ حالیہ شفاف 5G اسپیکٹرم نیلامی ’ڈیجیٹل پا کستان‘ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے، جسے جی ایس ایم اے نے ابھرتی معیشتوں کیلئے قابلِ تقلید قرار دیا، ملک میں سیلولر اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھا کر 754 میگا ہرٹز کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت 5G کے تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون، 6 جدید سب میرین کیبلز، 58 ہزار سیلولر ٹاورز اور 20 سے زائد جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں، جو 205 ملین صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں پاکستان جنوبی و وسطی ایشیا میں ایک علاقائی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور CAREC ڈیجیٹل کوریڈور منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ ڈیجی اسکلز، نیشنل انکیوبیشن سینٹرز اور سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس پروگرام جیسے اقدامات نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں پاکستان نے آئی ٹی یو/ اقوام متحدہ کے سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں ٹئیر-1 ’رول ماڈل‘ حیثیت حاصل کی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کا عالمی اعتراف ہے۔

    وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، پی ٹی اے، سیلولر آپریٹرز اور شعبے سے وابستہ تمام اداروں اور افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے۔