Baaghi TV

Tag: ٹیکنالوجی

  • عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب

    عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب

    لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری ترجیح ہے آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے، جبکہ ہمیں بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی بدلنا ہو گا۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بہتری کے لیے نئے ماڈل متعارف کرا رہے ہیں ایف بی آر میں اصلاحات اور کیش لیس اکانومی پر کام کر رہے ہیں اور ہم سب مل کر ادارے میں تبدیلی لے کر آئیں گے عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات پروگرام نہایت اہم ہے اور تمام پارٹنرز کے مشکور ہیں جبکہ ادارے میں تبدیلی کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری ترجیح ہے آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے، اور ایف بی آر افسران کو اس سے فائدہ اٹھانا ہے چینی اور سیمنٹ کے شعبے میں ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے،اداروں کے ساتھ مل کر اپنے ڈیٹا بیسز کو بہتر بنا رہے ہیں،اور ہمیں بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی بدلنا ہو گا۔

  • اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر  چیٹ ممکن

    اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر چیٹ ممکن

    مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران صارفین کو فون نمبر ظاہر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین منفرد یوزر نیم (Username) کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے، جس کے بعد چیٹ کے لیے فون نمبر شیئر کرنا ضروری نہیں رہے گا پیر سے صارفین ایپ کے ذریعے اپنا یوزر نیم محفوظ (Reserve) کر سکیں گے، تاہم یہ فیچر لازمی نہیں ہوگا، صارفین کسی بھی وقت اپنا یوزر نیم تبدیل یا حذف بھی کر سکیں گے یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا جبکہ چند معروف شخصیات، سرکاری عہدیداروں اور مشہور ناموں کو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا جائے گا تاکہ ان کی شناخت کا غلط استعمال نہ ہو۔

    واٹس ایپ کی ہیڈ آف پروڈکٹ ایلس نیوٹن ریکس نے کہا کہ بہت سے صارفین، خاص طور پر گروپ چیٹس میں، اپنا فون نمبر دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، ان کے مطابق یہ فیچر صارفین کو اس بات پر زیادہ اختیار دے گا کہ وہ ایپ پر اپنی شناخت کس طرح ظاہر کرنا چاہتے ہیں یہ فیچر صارفین کی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم صارفین کے پاس بدستور ناپسندیدہ پیغامات بھیجنے والوں کو بلاک یا رپورٹ کرنے کا اختیار موجود ہوگا۔

    دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور کتاب Privacy is Power کی مصنفہ کاریسا ویلز نے کہا کہ اگرچہ یہ فیچر پرائیویسی کے حوالے سے مفید ہے لیکن واٹس ایپ مجموعی طور پر مکمل طور پر پرائیویسی دوست پلیٹ فارم نہیں کیونکہ یہ اشتہارات کے لیے صارفین کا مختلف قسم کا میٹا ڈیٹا، جیسے وہ کس سے اور کب رابطہ کرتے ہیں استعمال کرتا ہے۔

    واٹس ایپ نے واضح کیا کہ وہ صارفین کی نجی گفتگو کا مواد اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرتا کیونکہ تمام ذاتی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ ہوتی ہیں اور کمپنی ان کے مندر جات نہیں پڑھ سکتی فیچر کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد صارفین کے فون نمبر دیگر افراد کو نظر نہیں آئیں گے تاہم واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے کے لیے فون نمبر بدستور ضرور ی ہوگا ، یوزر نیمز کی کوئی عوامی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی۔

  • 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے10 لاکھ نوجوانوں کو ’اے آئی‘ کی ٹریننگ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) سے آنے والے عالمی انقلاب کے باعث زندگی کے تمام شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور پاکستان کو اس ریس میں پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا حکومت نے اگلے 3 سال کے دوران 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنو عی ذہانت (اے آئی) کی جدید ترین تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ تمام ٹریننگز بالکل ‘مفت’ فراہم کی جائیں گی تاکہ مالی وسائل کسی بھی طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ’اے آئی پالیسی‘ منظور کر لی ہے انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ’پاکستانی نکتہ نظر‘، ہماری ثقافت، زبان اور مقامی ضروریات کے مطابق ٹرینڈ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملکی مسائل کا مقامی سطح پر حل نکالا جا سکے۔

    ماضی میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور رابطے کے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں موزوں سپیکٹرم دستیاب نہ ہونا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم اب حکومت نے اس کا مستقل حل نکال لیا ہےپاکستان کے بڑے شہروں میں 5Gسروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت نے انقلابی اقدامات کرتے ہوئے سپیکٹرم کی دستیابی کو 270 میگا ہرٹز سے براہ راست بڑھا کر 750 میگا ہرٹز کر دیا ہے، جبکہ حال ہی میں 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم کامیابی سے نیلام کیا گیا ہے مزید برآں، ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے نئی سب میرین کیبلز بھی بچھائی جا رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی کمپنی ‘گوگل’ کے ساتھ پاکستان میں براہ راست کام کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اب گوگل کروم بکس کی پاکستان میں مقامی سطح پر تیاری شروع ہو چکی ہے، جو کہ ’میڈ ان پاکستان‘ ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک سنگ میل ہے، ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو خطے کا ڈیجیٹل ہب بنانا اور نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے قابل بنانا ہے۔

  • زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔

    ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھاماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہےتاہم یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

  • مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے اور حکومت ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ وژن کے تحت مؤثر اقدامات کر رہی ہے، مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے-

    وزیراعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ تمام ماہرین، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی دن کا موضوع ’ڈیجیٹل لائف لائنز: ایک مربوط دنیا میں مضبوطی و پائیداری کا فروغ‘ پاکستان کے قومی وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام ہے جبکہ حالیہ شفاف 5G اسپیکٹرم نیلامی ’ڈیجیٹل پا کستان‘ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے، جسے جی ایس ایم اے نے ابھرتی معیشتوں کیلئے قابلِ تقلید قرار دیا، ملک میں سیلولر اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھا کر 754 میگا ہرٹز کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت 5G کے تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون، 6 جدید سب میرین کیبلز، 58 ہزار سیلولر ٹاورز اور 20 سے زائد جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں، جو 205 ملین صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں پاکستان جنوبی و وسطی ایشیا میں ایک علاقائی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور CAREC ڈیجیٹل کوریڈور منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ ڈیجی اسکلز، نیشنل انکیوبیشن سینٹرز اور سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس پروگرام جیسے اقدامات نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں پاکستان نے آئی ٹی یو/ اقوام متحدہ کے سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں ٹئیر-1 ’رول ماڈل‘ حیثیت حاصل کی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کا عالمی اعتراف ہے۔

    وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، پی ٹی اے، سیلولر آپریٹرز اور شعبے سے وابستہ تمام اداروں اور افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے۔

  • اماراتی ٹیلی کام  ای اینڈ (اتصالات) کا پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور

    اماراتی ٹیلی کام ای اینڈ (اتصالات) کا پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور

    اماراتی ٹیلی کام جائنٹ ای اینڈ (اتصالات) پاکستان کے پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور کر رہا ہے-

    متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی ‘ای اینڈ’ (اتصالات) نے 2005ء میں پی ٹی سی ایل (PTCL) کی نجکاری کے وقت سے جاری بقایا جات ($800 ملین سے زائد) اور جائیدادوں کی منتقلی کے دیرینہ تنازع کے باعث پاکستان سے باہر نکلنے پر غور کیا ہے، تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور پی ٹی سی ایل نے حال ہی میں ٹیلی نار پاکستان کا انتظام بھی سنبھال لیا ہے۔

    جمعرات کو گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ای اینڈ (سابقہ ​​اتصالات) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) میں اپنی سرمایہ کاری اور انتظامی کردار کا جائزہ لے رہی ہے ابتدائی طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں تقسیم، تنظیم نو، یا اخراج کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ حصص یافتگان کی کسی بھی آنے والی تبدیلی سے لاعلم ہے اور اپنے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہے، بشمول 5G رول آؤٹ کی تیاری۔

    اس پیشرفت نے 2005-2006 کی نجکاری سے متعلق ایک طویل عرصے سے مالیاتی اختلاف کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے اتصالات نے 2005 میں $2.6 بلین میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص خریدے تھے، لیکن جائیدادوں کی ملکیت منتقل نہ ہونے پر 800 ملین ڈالر کی بقیہ ادائیگی روک رکھی ہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس بقایا رقم کو بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اور اتصالات کے حکام دبئی میں اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں اس تمام صورتحال کے باوجود، پی ٹی سی ایل نے 1 جنوری 2026ء کو ٹیلی نار پاکستان (Telenor Pakistan) اور اوریون ٹاورز کے 100% حصص کی خریداری مکمل کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ ای اینڈ (اتصالات) اور پاکستان کے درمیان یہ تنازعہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہے،کئی سالوں میں ہونے والی بات چیت نے متنازعہ اثاثوں کی قیمتوں کا تعین اور حوالے کرنے پر توجہ دی ہے، رپورٹس کے مطابق 34 اور 100 سے زائد جائیدادیں ابھی بھی تنازعہ میں ہیں۔

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور اتصالات کی قیادت کے درمیان جنوری 2026 میں دبئی میں ہونے والی ملاقات سمیت اعلیٰ سطحی مذاکرات نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ مسئلہ مکمل تصفیے کے بغیر برقرار ہے کچھ تخمینے، ممکنہ دلچسپی یا ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے، متنازعہ رقم کو نمایاں طور پر زیادہ رکھتے ہیں، حالانکہ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے تحفظ کے لیے رسمی قانونی چارہ جوئی پر بات چیت کی حمایت کی ہے۔

  • چیٹ جے پی ٹی کے سربراہ  نے بڑی غلطی پر معافی مانگ لی

    چیٹ جے پی ٹی کے سربراہ نے بڑی غلطی پر معافی مانگ لی

    اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے کینیڈا میں پیش آنے والے ایک ہولناک فائرنگ کے واقعے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ ان کی کمپنی کو حملہ آور کی مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔

    رپورٹس کے مطابق 18 سالہ نوجوان جیسی وان نے 10 فروری کو ٹمبلر رڈج میں فائرنگ کر کے 8 افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں اس کی والدہ، سوتیلا بھائی اور ایک اسکول کے طلبہ بھی شامل تھے بعد ازاں حملہ آور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    کمپنی کے مطابق حملہ آور کا چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ گزشتہ سال جون میں مشتبہ سرگرمیوں کے باعث معطل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس کی سرگرمیوں کو پرتشدد مقاصد سے جوڑا جا رہا تھا تاہم اس وقت اوپن اے آئی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع نہیں کیا کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ سرگرمیاں فوری خطر ے کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔

    اپنے ایک خط میں سیم آلٹمین نے کہا کہ ہمیں اس اکاؤنٹ کی معطلی کے بارے میں حکام کو اطلاع دینی چاہیے تھی، اور اس پر ہمیں گہرا افسوس ہے،انہوں نے متاثرہ کمیونٹی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

    برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ای بے اور مقامی حکام نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور کمپنی سے وضاحت طلب کی تھی، جس کے بعد یہ معذرت سامنے آئی، ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری، صارفین کی نگرانی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔

  • غیرملکی کمپنی کا پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کا اعلان

    غیرملکی کمپنی کا پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کا اعلان

    پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی بڑی غیرملکی کمپنی نے آئندہ 4 سے 5 سال کے دوران ملک میں 30 سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کردیا۔

    سی ای اوانڈس موٹرز علی اصغر جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے بتایا کہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں حکومت پانچ کے بجائے دس سالہ کلیئر آٹو پالیسی کا اعلان کرے انڈسٹری کیلئے پانچ کے بجائے دس سالہ آٹو پالیسی دی جائے، پالیسی میں ابہام نہ ہو بالکل واضح ہو،ٹویوٹا آئندہ 5سال میں 30 سے 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنا چاہتا ہے۔

    الیکٹرک وہیکل کی ٹیکنالوجی کو دنیا اختیار کر رہی ہے،ای وی کا مستقبل ہے ہم بھی ای وی گاڑی لانچ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزیدکہاشرح سودکم ہونے سے پچھلے تین سال میں آٹو فائنانسنگ ڈبل ہوگئی،گاڑی کیلئے بینک لون کی حد پر 30 لاکھ کی پابندی ختم کرکے اسے ایک کروڑتک کیاجائے۔

    ایکسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ گاڑیاں بنیں علی اصغر جمالی نے کہا ملک میں گاڑیوں کے خام مال کی صنعت ہو تاکہ سستے خام مال سے گاڑی کی قیمت کم رہے، جن ممالک کو ایکسپورٹ کریں وہاں ہماری گاڑی پرٹیکس کم ہو،گاڑیاں درآمد کرنے والے ممالک سے حکومت ترجیحی تجارت کے معاہدے کرے-

  • سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    پی ٹی سی ایل نے ایکس پر جاری پیغام میں بتایا کہ مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

  • صارفین کو گمراہ کرنے پر میٹا کو 375 ملین ڈالر جرمانہ

    صارفین کو گمراہ کرنے پر میٹا کو 375 ملین ڈالر جرمانہ

    نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے میٹا کو بچوں کی حفاظت کے حوالے سے صارفین کو گمراہ کرنے پر 375 ملین ڈالر (279 ملین پاؤنڈ) جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جیوری نے فیصلہ دیا کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز پر نابالغ صارفین کو خطرے میں ڈالنے اور انہیں جنسی طور پر غیر مناسب مواد اور جنسی شکاریوں کے رابطے میں آنے کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ریاست نے بچوں کی حفاظت کے مسائل پر میٹا کے خلاف کامیابی سے مقدمہ جیتا۔

    میٹا کی ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اپیل دائر کرے گی،ہم اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کی حفاظت کے لیے سخت محنت کرتے ہیں اور نقصان دہ مواد کی شناخت اور ہٹانے میں چیلنجز کے بارے میں واضح ہیں، ہم نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے اپنے ریکارڈ پر پر اعتماد ہیں

    جیوری نے میٹا کو نیو میکسیکو کے ان فیئر پریکٹسز ایکٹ کی خلاف ورزی پر ذمہ دار قرار دیا کیونکہ کمپنی نے نوجوان صارفین کے لیے اپنے پلیٹ فارمز کی حفا ظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا، 7 ہفتے کے جاری رہنے والے مقدمے میں جیوری کو میٹا کے دستاویزات دکھائے گئے اور سابق ملازمین کے بیانا ت سنے گئے جنہوں نے بتایا کہ کمپنی کو معلوم تھا کہ بچے اس کے پلیٹ فارمز پر جنسی شکاریوں کے خطرے میں ہیں۔

    سابق انجینئرنگ لیڈر اور وِسل بلور آرٹورو بیجار نے انسٹاگرام پر کیے گئے تجربات کے حوالے سے بیان دیا جس میں یہ ظاہر ہوا کہ نابالغ صارفین کو جنسی مواد فراہم کیا جا رہا تھا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی اپنی بیٹی کو انسٹاگرام پر ایک اجنبی نے جنسی پیشکش کی جبکہ اسٹیٹ کے وکیلوں نے میٹا کی تحقیق بھی پیش کی جس میں ایک ہفتے کے دوران 16 فیصد انسٹاگرام صارفین نے رپورٹ کیا کہ انہیں غیر ضروری عریانی یا جنسی سرگرمی دکھائی گئی۔

    میٹا نے دعویٰ کیا کہ کمپنی نے سالوں سے اپنے پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کے لیے محفوظ تجربات فراہم کرنے کی کوشش کی۔ 2024 میں انسٹاگرام نے ٹین اکاؤنٹس متعارف کرائے تاکہ نوجوان صارفین اپنے تجربات کو بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکیں جبکہ پچھلے ماہ والدین کو مطلع کرنے والا فیچر متعارف کروایا گیا جو بچوں کی خود کو نقصان پہنچانے والے مواد کی تلاش کے بارے میں آگاہ کرے گا۔

    375 ملین ڈالر کا سول جرمانہ اس لیے مقرر کیا گیا کیونکہ جیوری نے فیصلہ دیا کہ ایکٹ کی ہزاروں خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ ہر خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ 5,000 ڈالر جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

    نیو میکسیکو کی ریاست نے 2023 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، دعویٰ کرتے ہوئے کہ کمپنی نے نوجوان صارفین کو جنسی طور پر غیر مناسب مواد، بچوں کے جنسی استحصال یا انسانی اسمگلنگ کے خطرناک مواد کی طرف راغب کیا جس میں کمپنی کے ریکمنڈیشن الگورتھمز استعمال ہوئے۔

    راؤل ٹوریز نے کہا کہ میٹا کے اعلیٰ حکام جانتے تھے کہ ان کی مصنوعات بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں، اپنے ملازمین کی وارننگز کو نظرانداز کیا اور عوام سے جھوٹ بولا آج جیوری نے خاندانوں، اساتذہ اور بچوں کی حفاظت کے ماہرین کے ساتھ مل کر کہا کہ اب بس ہے۔