Baaghi TV

Tag: ٹی وی ڈرامہ

  • حنا گھر میں گانا نہیں‌ گانے دیتی آغا علی

    حنا گھر میں گانا نہیں‌ گانے دیتی آغا علی

    چھوٹی سکرین کے بڑے فنکار آغا علی جن کی شادی حنا الطاف کے ساتھ ہوئی ہے ان سے شادی سے قبل آغا کا نام کئی ہیروئنز کے ساتھ جڑا. لیکن جب سے حنا آغا علی کی زندگی میں آئی ہیں ان کی تو جیسےزندگی کی بدل گئی ہے،انکو حنا کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتا. آغا علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی اہلیہ ان کو گھر میں گانا نہیں‌گانے دیتیں . لہذاا جب وہ گھر میں اکیلے ہوتے ہیں اس وقت گھر میں گانا گاتے ہیں .انہوں نے یہ بھی کہا

    ہےکہ ان کو اشعار یاد نہیں رہتے ہاں لیکن جو ٹرک کے پیچھے لکھے ہوتے ہیں وہ ضرور یاد رہ جاتے ہیں. آغا علی نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ وہ بچپن میں بہت ہی زیادہ شرارتی تھی اب بھی شرارتی ہیں اور ہمیشہ شرارتی رہیں گے. آغا علی نے کہا کہ ان کا بچپن بہت یادگار گزرا لیکن والد کا انتقال جلدی ہوجانے کی وجہ سے انکی زندگی میں ایک خلاء رہ گیا جو آج تک پر نہ ہو سکا نہ ہو گا. بس اس کمی کو زندگی کے ہر قدم پر محسوس کیا ہے. آغا علی نے کہا کہ مجھے عمران خان کی شخصیت بہت پسند ہے اور ویسے میری خود کی شخصیت بھی بہت اچھی ہے.

  • ایک اچھا انسان کون ہوتا ہے یمنی زیدی نے بتا دیا

    ایک اچھا انسان کون ہوتا ہے یمنی زیدی نے بتا دیا

    اداکارہ یمنی زیدی جو کہ اپنے معصوم چہرے اور بہترین اداکاری کی وجہ سے شائقین کے دلوں پر راج کرتی ہیں ، یمنہ ایک سال میں‌بمشکل ایک ہی پراجیکٹ کرتی ہیں اور شائقین کو اپنی اداکاری کے سحر میں‌جکڑ لیتی ہیں. یمنہ زیدی کا شمار بلاشبہ ٹی وی انڈسٹری کی بہترین اداکارائوں میں‌ہوتا ہے. یمنہ بہت کم انٹرویوز دیتی ہیں‌لیکن جب بھی انہیں بولتے سنا گیا ہے ہمیشہ اچھی اور سلجھی ہوئی بات کرتی ہیں. حال ہی میں ان سے ایک سوال ہوا اور سوال کیا ایک معروف میک اپ آرٹسٹ‌نے . میک آرٹسٹ عدنان انصاری نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک وڈیو شئیر کی جس

    کا کیپشن انہوں نے لکھاکہ میری خواہش ہے کہ میں‌ایک اچھا انسان بنوں‌، اللہ کا قرب حاصل کروں، انہوں نے یمنہ زیدی کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایک اچھا انسان بننے کے لئے کیا ضروری ہے تو اداکارہ نے دل کا ایموجی بنا کر کہا کہ اس میں احساس کا ہونا ضروری ہے یعنی اگر کسی انسان کا دل اچھا ہے اور اس میں احساس ہے تو وہ ایک اچھا انسان ہے. یمنی زیدی کے جواب پر سوشل میڈیا صارفین نے کافی سراہا. عدنان انصاری جواب میں کہا کہ میں‌پوری کوشش کروں گا کہ ہمیشہ اچھا انسان بن کر رہوں اور ایسا انسان بنوں جو کسی کا دل نہ دکھائے.

  • لوگوں کو مثبت کی بجائے منفی کردار زیادہ یاد رہ جاتے ہیں سید جبران

    لوگوں کو مثبت کی بجائے منفی کردار زیادہ یاد رہ جاتے ہیں سید جبران

    اداکار سید جبران کا کہنا ہے کہ میں‌نے اپنے کیرئیر میں ہر طرح کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے . جب بھی میرے پاس کوئی پراجیکٹ آتا ہے میں دیکھتا ہوں‌کہ اس میں اداکاری کرنےکا مارجن ہے یا نہیں چاہے وہ کردار منفی ہو یا مثبت. میں نے اپنے کیرئیر میں بہت سارے منفی کردار کئے ہیں مثبت بھی کئے ہیں لیکن لوگوں کو میرے منفی کردار زیادہ یاد ہیں. سید جبران نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ میں منفی کردار اس لئے پسند کرتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ایک تو لوگوں‌کو یہ یاد رہ جاتے ہیں دوسرا یہ کہ ان میں اداکاری کا بہت زیادہ مارجن ہوتا ہے. میں صرف

    تعداد بڑھانے کےلئے کام نہیں‌کرتا بلکہ یہ دیکھتا ہوں کہ میرا کردار شائقین کو یاد رہ جائیگا یا نہیں‌. میرا کردار شائقین کو یاد رہ جائے اس کےلئے میں‌بہت محنت کرتا ہوں . انہوں نے مزید کہا کہ میں بہت ہی خوش نصیب آرٹسٹ ہوں کہ مجھے میرے مداح ہر کردار ہر روپ میں پسند کرتے ہیں ٹی وی کے ساتھ جب اس سال مں نے فلم میں کام کیا تو اس میں بھی مجھے شائقین نے بے حد سراہا. یاد رہے کہ سید جبران نے اس سال فلم گھبرانا نہیں ہے سے اپنا ڈیبیو کیا اور انہیں‌خاصا سراہا گیا.

  • عورت کے بارے میں خلیل الرحمان قمر نے کیا کہہ دیا ؟

    عورت کے بارے میں خلیل الرحمان قمر نے کیا کہہ دیا ؟

    خلیل الرحمان قمر ہمیشہ ہی ایسے بیانات دیتے ہیں کہ جو سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دیتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ میں ہر عورت کو عورت نہیں مانتا تو میں بنیادی طور پر اس کے مرتبے کی بات کرتا ہوں. میں عورت کے لئے لکھتا ہوں عورت میرا ایمان ہے. ایک اچھی عورت معاشرے کو چلاتی ہے مرد معاشرے کو نہیں چلاتا ، میں مرد کو تو مانتا ہی نہیں ہوں.خلیل الرحمان مزید کہتے ہیں‌کہ بری عورت کو میں عورت ہی نہیں مانتا.
    یاد رہے کہ خلیل الرحمان کی کہی ہوئی بات تنازعات کا شکار ہوجاتی ہے ، حال ہی میں‌ انہوں نے ماہرہ خان کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے ماوری اور میرے جھگڑے میں ماوری کے حق میں ٹویٹ کیا تھا اور یہ گناہ ماہرہ

    سے جب ہوا تو اس کے بعد وہ میری ڈراموں اور فلموں سے محروم ہوگئی. خلیل الرحمان قمر کے کریڈٹ پر سپر ہٹ ڈرامے اور فلمیں ہیں . ان کے ڈرامہ میرے پاس تم ہو کے ڈائیلاگز نے بہت پذیرائی کی. مصنف آج کل عمران خان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور ٹویٹر سپیسز میں بطور مہمان شریک ہو کر اپوزیشن پر تنقید کے نشتر چلانے کے ساتھ عمران خان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں.

  • ماورا حسین اپنی کونسی وِش پوری نہ ہونے پر ہیں حیران ؟‌

    ماورا حسین اپنی کونسی وِش پوری نہ ہونے پر ہیں حیران ؟‌

    اداکارہ ماورا حسین جو ایک عرصے سے سکرین سے غائب ہیں نہ وہ فلموں میں نظر آرہی ہیں نہ ہی ٹی وی ڈراموں میں، لیکن شنید ہے وہ بہت جلد اداکار امیر گیلانی کے ساتھ ایک ڈرامے میں نظر آئیں گی اس ڈرامے کی کاسٹ اور شوٹنگ کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں.حال ہی میں‌ماورا حسین نے ایک انٹرویو دیا ہے اور اس میں اپنی ایک خواہش پوری نہ ہونے پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے جی ہاں‌ماورا حسین کی بھی ایک ایسی خواہش ہے جس کے پورا نہ ہونے پر وہ بہت حیران ہیں‌، اور وہ خواہش ہے کہ اپنے ماں باپ کو عمرے پر لیجانا . ماورا حسین کہتی ہیں کہ میں اپنے

    والدین کو عمرہ پر لیجانا چاہتی ہوں ان کے ساتھ خود بھی جانا چاہتی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میری یہ خواہش آخر پوری کیوں نہیں‌ہورہی. ماورا حسین نے کہا کہ میری بہت خواہش ہے کہ میں عمرہ کروں اور میرے والدین میرے ساتھ ہوں. میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک صحیح وقت کہ جب یہ کام ہونا چاہیے . یہ میری سب سے بڑی خواہش ہے جو میں چاہتی ہوں کہ جلد سے جلد پوری ہوجائے. یاد رہے کہ ماورا حسین عروہ حسین کی چھوٹی بہن ہیں دونوں‌ بہنوں نے ایک ساتھ کیرئیر کا آغاز کیا، ماورا حسین نے انڈیا میں بھی جا کر کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا.

  • صرحا اصغر بنی حاملہ خواتین کے لئے انسپریشن

    صرحا اصغر بنی حاملہ خواتین کے لئے انسپریشن

    اداکارہ صرحا اصغر جنہیں کافی پسند کیا جاتا ہے یہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں صرحا اصغر انسٹاگرام پر اکثر اپنی ڈانس وڈیوز بھی شئیر کرتی رہتی ہیں. صرحا بہترین اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین رقاصہ بھی ہیں. انسٹاگرام پر ہر وقت متحرک رہنے والی صرحا اصغر نے حال ہی میں ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں بنی ہیں حاملہ خواتین کے لئے انسپریشن. وہ اس وڈیو میں وزش کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ حمل کے دوران ورزش کرنا کوئی بہت اچنبے کی بات نہیں ہے. ماں‌بننے کا عمل کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ ایک

    خوبصورت احساس ہے. صرحا کے مطابق حمل کے دوران روز مرہ کی روٹین کو چھوڑ کر بالکل ہی اپنا آپ بھول جانا مناسب نہیں ہے اس دوران اچھا کھانا کھانے کے ساتھ پر سکون رہنا اور ورزش کرنا بہت ضروری ہوتا ہے . صرحا کی حالیہ وڈیو بتاتی ہے کہ حمل کے پیریڈ کو سر پر سوار نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ واک ورزش ہر چیز کرنی چاہیے . یاد رہے کہ صرحا اصغر کا ایک یوٹیوب چینل بھی ہے جہاں یہ اپنی صلاحیتوں‌کا اظہار کرتی رہتی ہیں. صرحا ڈراموں میں نظر آتی ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے ایسا ڈرامہ نہیں‌کیا جس میں ان کا کردار مرکزی ہو.

  • سوشل میڈیا صارفین نے لیا اشنا شاہ کو آڑھے ہاتھوں‌

    سوشل میڈیا صارفین نے لیا اشنا شاہ کو آڑھے ہاتھوں‌

    پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ جن کے کریڈٹ پر ان کے پراجیکٹس دیکھیں تو وہ ایک درمیانی سی اداکارہ لگتی ہیں لیکن اشنا شاہ خبروں میں رہنے کا فن خوب جانتی ہیں. کبھی وہ مختصر لباس زیب تن کر کے تصویریں اپلوڈ کرتی ہیں اور کبھی وہ ایسا کچھ کہہ دیتی ہیں کہ جس کے بعد ان کو دھر لیا جاتا ہے اور ان پر خوب تنقید کی جاتی ہے. لیکن اشنا شاہ تنقید سے نہیں گھبراتیں. اگر گھبراتی ہوں تو وہ یقینا سوچ سمجھ کر بات کریں. حال ہی میں انہوں نے اپنے ایک میل فرینڈ کو چھٹی دودھ یاد کروا دیا. انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ” ڈئیر مین اگر فیمیل فرینڈ آپ کی بیہودہ

    باتوں پر ردعمل نہیں دے رہی تو آپ کو سمجھ لینا چاہیئے ، ایسا نہ ہو آپ کی یہ حرکت مزید پریشانی کا سبب بنے”. اشنا شاہ کی اس پوسٹ کے بعد ان پر خاصی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ آپ کسی سے بات کریں تو ٹھیک کوئی کرے تو غلط . اشنا شاہ کی پوسٹ کا مقصد شاید یہ تھا کہ اگر لڑکیاں مردوں سے بات نہیں کرنا چاہتیں یا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دینا چاہتیں تو پھر پیچھے ہٹ جانا چاہیے. شاید اشنا شاہ کی بات ٹھیک تھی لیکن ان کا یہ بات لکھنے کا طریقہ کار زرا تلخ تھا اسی وجہ سے ان پر تنقید ہوئی.

  • امیر غریب میں تفریق ختم کرنے کےلئے حکومت یکساں نصاب لاگو کرے صبا حمید

    امیر غریب میں تفریق ختم کرنے کےلئے حکومت یکساں نصاب لاگو کرے صبا حمید

    باصلاحیت اداکارہ صبا‌حمید نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ملک میں چاہے صحت کا شعبہ ہو یا تعلیم دونوں کی ہی عجیب صورتحال ہے ایسا لگتا ہےکہ جیسے ان دونوں کو شعبوں کو کاروبار بنا لیا گیا ہے. غریب آدمی نہ اپنا علاج کروا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوا سکتا ہے. غریب کے لئے تو علاج کروانا اور تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے. ایلیٹ کلاس اور سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے ان کے پڑھائی کے طریقہ کار اور ان کے نصاب میں زمین آسمان کا فرق ہے. غریب کا بچہ نہ فیسیں افورڈ کر سکتا ہے اس لئے وہ عملی زندگی میں‌مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر ہوجاتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ

    بات ہے. صبا پرویز نے زور دیکر کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی تفریق کا خاتمہ کرے اور یکساں نصاب لاگو کرے تاکہ جو احساس محرومی غریب کے بچے میں جنم لیتی ہے وہ جنم نہ لے اور جب وہ پڑھائی مکمل کرے تو اس کے لئے بھی جاب کرنے کے اتنے ہی مواقع ہوں جتنے دوسروں کو میسر ہیں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کی بھی صورتحال کو بہتر کرے تاکہ غریب کا علاج ممکن ہو سکے.

  • کیا چیز قسمت بدل دیتی ہے حماد شعیب نے  بتا دیا

    کیا چیز قسمت بدل دیتی ہے حماد شعیب نے بتا دیا

    نوجوان نسل کے نمائندہ اداکارہ حماد شعیب سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں وہ چاہے کہیں شوٹ کررہے ہوں یا کہیں ویسے ہی بیٹھے ہوں وڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے رہتے ہیں. ان کی خصوصی طور پر ڈانس وڈیوز بہت زیادہ وائرل ہوتی ہیں. حماد شعیب کو کم ہی عرصے میں بہت زیادہ پذیرائی بھی ملی ہے. حماد کا آج کل سوشل میڈیا پر ایک کلپ بہت وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ کچھ یوں باتیں کررہے ہیں. ” میرے حساب سے انسان جتنا مرضی باصلاحیت ہو جتنا مرضی خوبصورت ہو لیکن اگر اللہ اس سے راضی نہیں ہے تو اسے کامیابی نہیں مل سکتی نہ ہی اسکا کچھ ہو سکتا ہے ، حماد مزید بھی کہہ رہے ہیں کہ میرا ماننا ہے کہ دعا قسمت بدل دیتی ہے ماں باپ کا پیار اگر آپ کے ساتھ ہو

    اور صبح کو ان کا پیار لیکر ہی گھر سے نکلیں تو کامیابی ملتی ہی ملتی ہے. حماد اسی انٹرویو میں یہ بھی کہتے ہی کہ ان کا ان کے والدین کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے ان کی ماں اور باپ نے کبھی ان پر رعب نہیں ڈالا ہمیشہ دوستانہ ماحول رکھا. انہوں نے صحیح غلط کی تمیز سکھائی یہی وجہ ہےکہ کوئی کام کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں کچھ ایسا نہ ہوجائے کہ جس سے ماں باپ کے اعتبار کو ٹھیس پہنچے. یاد رہے کہ حماد شعیب کو بھارتی اداکار رنویر سنگھ کے ساتھ بھی ملایا جاتا ہے.

  • اشفاق احمد کی 18 ویں  برسی

    اشفاق احمد کی 18 ویں برسی

    گفتگو کا بادشاہ سمجھے جانے والے ڈرامہ رائٹر ، دانشور، ادیب ، تجزیہ نگار، براڈ کاسٹر ، سفر نامہ نگار اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے ہیں. علم و ادب کی یہ بہت بڑی ہستی قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آئی. پاکستان آنے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا یہاں بانو قدسیہ بھی پڑھتی تھیں وہ ان کی ہم جماعت تھی ان کی یہیں دوستی ہوئی اور یہ دوستی شادی میں بدل گئی. اشفاق احمد کا پہلا افسانہ 1953 میں آیا. اشفاق احمد کا شمار ان ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے بعد ادب کے افق پر چمکے. 1968 میں وہ مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر منتخب ہوئے 89 تک یہ سلسلہ چلا . ضیاء الحق کے دور میں وفاقی وزیر تعلیم کے مشیر بھی مقرر

    ہوئے. 1965 میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے یہاں انہوں نے ہفتہ وار پروگرام شروع کیا جو کہ 30 سال تک چلتا رہا. 70 کی دہائی کے شروع میں انہوں نے ایک محبت سو افسانے لکھا. طوطا کہانی اور من چلے کا سودا سے اشفاق احمد تصوف کی طرف مائل ہوئے. اشفاق احمد کو ڈرامہ کی کہانی لکھنے کے فن پر جو عبور حاصل تھا وہ کسی کسی کو نصیب ہوا ، اشفاق احمد پلاٹ سے زیادہ مکالموں پر زور دیتے ان کے کردار طویل گفتگو کرتے. اشفاق احمد نے پی ٹی وی پر زاویے کے نام سے پروگرام بھی کیا یہ پروگرام بہت زیادہ سراہا گیا. جگر کا عارضہ لاحق ہونے کے باعث آج ہی کے دن 2004 میں خالق حقیقی سے جا ملے .