Baaghi TV

Tag: ٹی وی ڈرامہ

  • اقرا عزیز کی دو سال کے بعد ٹی وی پر واپسی

    اقرا عزیز کی دو سال کے بعد ٹی وی پر واپسی

    چھوٹی سکرین کی چلبلی اور باصلاحیت اداکارہ اقرا عزیز کو بہت پسند کیا جاتا ہے ان کے ڈراموں‌ کو شائقین شوق سے دیکھتے ہیں. اقرا شادی کے بعد کسی بھی ڈرامے میں نظر نہیں آئیں لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ وہ شوبز نہیں چھوڑیں گی، بیٹی کی پیدائش کے بعد اداکارہ نے دوبارہ ٹی وی کا رخ کر لیا ہے. جی ہاں اقرا عزیز کے پرستاروں‌کے لئے نہایت ہی خوشی کی خبر ہےکہ ان کی پسندیدہ اداکارہ کو وہ ایک بار پھر دیکھ سکیں گے. اقرا اس بار اپنے شوہر یاسر حسین کے ساتھ کام کررہی ہیں دونوں نے ایکساتھ کام کرنے کا اعلان اپنی انسٹاگرام پوسٹ

    کے زریعے کیا. ڈرامہ سیریل ” ایک تھی لیلی ” کی آج کل ریکارڈنگ کی جا رہی ہے ڈرامے کے ڈائریکٹر اقرا کے شوہر یاسر حیسن ہیں. کہا جا رہا ہے کہ ایک تھی لیلیٰ مرڈر مسٹری ڈراما ہے. اقرا پہلی بار اپنے شوہر کی ہدایتکاری میں‌ کام کررہی ہیں. اقرا عزیز مسلسل دو سال سے سکرین سے غائب ہیں ان کا ڈرامہ سیریل رانجھا رانجھا کردی اور جھوٹی میں کردار شائقین کو بے حد پسند آئے. اقرا بلاشبہ ایک بہترین اداکارہ ہیں انہوں‌نے کم عرصے میں اپنی پہچان بنائی اور خود کو کام کے زریعے صف اول کی اداکارائوں‌میں لا کھڑا کیا. شائقین اقرا کی ٹی وی پر واپسی کے منتظر ہیں. یاد رہے کہ اقرا اور یاسر پہلے بھی ایک ساتھ ڈرامہ سیریل جھوٹی میں‌ کام کر چکے ہیں.

  • اصلاحی کہانیاں وقت کی ضرورت ہیں  ثمینہ پیرزادہ

    اصلاحی کہانیاں وقت کی ضرورت ہیں ثمینہ پیرزادہ

    اداکارہ ثمینہ پیرزادہ جو کہ عمران خان کی سپورٹ میں آج کل کافی سیاسی بیانات دیتی رہتی ہیں. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی بننے والا ڈرامہ ہمسایہ ملک میں بننے والے ڈرامے سے بہتر ہے. ہمارا ڈرامہ آج بھی ہمسایہ ملک میں پسند کیا جاتا ہے. ہمیں ایسی کہانیوں کو موضوع بنانا چاہیے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو بلکہ اصلاح کا پہلو نکلے، ہمیں اصلاحی کہانیوں پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے. ثمینہ پیرزادہ نے مزید کہا کہ ہم نے ایک وقت ایسا بھی دیکھا ہے کہ جب رات کو ٹی وی پر ڈرامہ لگتا تھا تو سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں لوگ اپنی ساری

    مصروفیات ترک کرکے ڈرامہ دیکھتے تھے بلکہ تقریبات کا شیڈیول اور وقت ڈرامہ کے ٹائم کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا جاتا تھا. ثمینہ پیرزادہ نے کہا کہ نئے فنکار بہت اچھا کام کررہے ہیں ہماری ڈرامہ انڈسٹری درست سمت کی طرف جا رہی ہے کوئی شک نہیں لیکن پھر بھی ہمیں اپنے سکرپٹس کا رخ تبدیل کرنے اور معاشرے کے مسائل کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے. انہوں نے نئے لڑکے لڑکیوں کی ھوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پڑھے لکھے لڑکے لڑکیوں کا شوبز انڈسٹری میں آنا حوصلہ افزا ہے میں آج کے فنکاروں‌ کا کام پسند کرتی ہوں آج ہر فنکار اپنی جگہ بہترین کام کررہا ہے.

  • ماں باپ کی علیحدگی کس طرح سے ہوئی ہانیہ عامر پر اثر انداز

    ماں باپ کی علیحدگی کس طرح سے ہوئی ہانیہ عامر پر اثر انداز

    باصلاحیت اداکارہ ہانیہ عامر جو ہر وقت کسی نہ کسی کنٹرورسی میں گھری ہوتی ہیں. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ بہت چھوٹی تھیں جب ان کے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی یوں ان کی ماں کو انہیں اکیلے پالنا پڑا .ان کی علیحدگی کا سب سے زیادہ اثر ہانیہ عامر پر پڑا. ہانیہ عامر کہتی ہیں کہ میں نے جب گھر کے ھالات دیکھے تو نہایت ہی کم عمر میں ساری ذمہ داریاں سنبھال لیں، بہت محنت کی. بہت مشکل اور کڑے وقت بھی آئے ابھی آتے ہیں لیکن میں ہنسی خوشی ان کا مقابلہ کرتی ہوں. ہانیہ عامر نے مزید یہ بھی کہا کہ شہرت نے نہ میرا نہ ہی میرے گھر والوں‌کا دماغ خراب کیا ہے بلکہ میرے گھر والے تو بھار ہی نہیں اٹھاتے کہ میں ایک آرٹسٹ ہوں مشہور ہوں یا لوگ

    مجھے پسند کرتے ہیں . ان کا ری ایکشن بس یہی ہوتا ہے اچھا کوئی ڈرامہ چل رہا ہے لوگ دیکھ رہے ہیں اوکے. اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے وہ مجھے. اداکارہ نے اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کے لئے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر میرے خلاف بہت زیادہ پراپگینڈا ہوتا رہا ہے جس کے بعد میں کافی پریشان ہوئی لیکن اس پراپگینڈے سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور جو غلطیاں انجانے میں مجھ سے ہوئیں کوشش کی کہ آئندہ نہ ہوں.، سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے. یاد رہے کہ ہانیہ عامر کا نام ہر دوسری کنٹرورسی میں‌ہوتا ہے تبہی انہیں اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کےلئے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کی بات کرنا پڑی .

  • مومل شیخ منفی کردار میں نظر آئیں گی

    مومل شیخ منفی کردار میں نظر آئیں گی

    سینیر اداکار جاوید شیخ کی بیٹی اور اداکار شہزاد شیخ کی بہن مومل شیخ نےاب تک جتنا بھی کام کیا ہے وہ نوٹس کیا گیا ہے. ان کا اداکارہ آئزہ خان کے ساتھ ڈرامہ سیریل یاریاں سپر ہٹ ہوا تھا.مومل نے اس میں پازیٹیو اور تابعدار بیٹی کا کردا ادا کیا تھا. اب مومل شیخ منفی کردار کرتی ہوئی نظر آئیں گی. ڈرامہ سیریل دراڑ میں مومل شیخ منفی کردار ادا کررہی ہیں.اس کردار کے زریعے وہ اس بار اپنی صلاحیتوں کو ایک اور انداز سے منوانے جا رہی ہیں. اس ڈرامے میں مومل شیخ کے ساتھ سید جبران نظر آرہے ہیں اس کے علاوہ امر خان بھی اہم اور مرکزی کردار ادا کررہی ہیں. مومل شیخ نے بالی وڈ کی فلم ہیپی بھاگ جائیگی میں بھی کام کیا تھا اس کے

    علاوہ وہ ریمپ پر واک کرتی بھی دکھائی دیتی ہیں.مومل نے مشک، کدورت، سلسلے ، مجھے خدا پر یقین ہے جیسے ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں کو لوہا منوایا ہے. مومل شیخ نے نادر نواز سے شادی کی ان کے دو بچے ہیں.اداکارہ مومل شیخ نے 2018 میں فلم ” وجود” کو پروڈیوس کیا اس میں دانش تیمور اور سعیدہ امتیاز نے مرکزی کردار ادا کئے تھے. اداکارہ کے دیگر معروف ڈراموں میں یہ زندگی ہے ، میرات العروس،قدرت، زارا اور مہروانساء ،سلسلے،میں تم اوروہ، خاص اور دمسا کے نام قابل زکر ہیں.

  • مجھے کامیڈٰی کردار کم آفر ہوتے ہیں عثمان مختار

    مجھے کامیڈٰی کردار کم آفر ہوتے ہیں عثمان مختار

    اداکار عثمان مختار جو کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں جتنا سنجیدہ لگتا ہوں اتنا ہوں نہیں میرے قریبی لوگ جانتے ہیں کہ میں کس قدر ہنسی مذاق کرنے والا انسان ہوں۔ میں سنجیدہ ہوں یہ تاثر میرے کرداروں کی وجہ سے ہے اب جیسے کردار ملیں گے ویسے ہی کروں گا۔ کامیڈی کردار ٓآفر ہی نہیں ہوتے تو کیا کیا جائے۔ اگر مجھے کامیڈی کردار ملے تو یقینا میں کروں گا اور مجھے بہت بار پوچھا جا چکا ہے کہ کیا کامیڈی کردار آپ کی ترجیحات میں نہیں ہیں تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اداکار

    کو ہر قسم کے کردار کرنے چاہیں اور کامیڈی میری ترجیحات میں بالکل ہے لیکن کامیڈی ڈرامے بنتے ہی کم ہیں۔ رمضان المبارک میں کہیں کوئی ہلکا پھلکا کامیڈی ڈرامہ بن جاتا ہے اس کے علاوہ تو سارا سال جو ڈرامے چلتے ہیں وہ سبھی سنجیدہ کہانیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔جب کام ہی ایک جیسا ہو رہا ہو ایک ہی پیٹرن پر ہو رہا ہو تو پھر ایسے میں الگ کام کیسے چوائس کیا جائے۔ لیکن مجھے جب بھی اچھا کامیڈی کردار ملا تو میں ضرور کروں گا بلکہ کامیڈی کردار مجھے سنجیدہ کرداروں سے زیادہ پسند ہیں۔ یاد رہے کہ عثمان مختار نامور ہیروئینز کے ساتھ کام کر چکے ہیں جن میں ماہرہ خان کا نام قابل زکر ہے.

  • ساتھ نہ چل سکیں تو راہیں الگ کر لینی چاہیں ارسہ غزل

    ساتھ نہ چل سکیں تو راہیں الگ کر لینی چاہیں ارسہ غزل

    سینئر اداکارہ ارسہ غزل نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں ڈرامہ سیریل ”حبس” میں جو کردار کررہی ہوں وہ یہی بتاتا ہے کہ اگر ساتھ نہیں چل سکتے تو ایک ساتھ رہ کر ایک دوسرے کی زندگی اجیرن کرنے سے بہتر ہے کہ ایک دوسرے سے الگ ہو کر رہا جائے۔ ارسہ غزل نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اپنے اردگرد بہت سارے ایسے لوگ دیکھے جو ساری زندگی ایک دوسرے کو جھیلتے ہی رہے لیکن الگ نہ ہوئے ان کے بچوں نے ایک سٹیج پر آکر ان سے کہا کہ پلیز آپ دونوں الگ ہوجائیں تاکہ آپ دونوں خوش رہ سکیں ہم روزانہ کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ارسہ غزل نے کہا کہ ماں باپ کے

    لڑائی جھگڑوں بچے ہی پریشان ہوتے ہیں۔ ارسہ نے یہ بھی کہا کہ مرد کا رشتہ نہ چلے تو وہ شادی کرلے اور اپنے کم عمر سے شادی کرے تو کوئی نہیں بولتا لیکن کوئی طلاق یافتہ عورت اگر شادی کر لیتی ہے تو اس کو اتنی باتیں سنائی جاتی ہیں کہ اسکا جینا حرام کر دیا جاتا ہے یہ ہماری سوسائٹی کا دوہرا معیار ہے جسے میں پسند نہیں کرتی۔ ارسہ نے یہ بھی کہا کہ جب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں تو پھر پبلک میں اس بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے ایک دوسرے کو چھوڑنا ضروری ہو تو عزت احترام کے ساتھ چھوڑیں۔

  • عروہ حسین نے عتیقہ اوڈھو کو فرشتہ صفت خاتون  قرار دیدیا

    عروہ حسین نے عتیقہ اوڈھو کو فرشتہ صفت خاتون قرار دیدیا

    عروہ حسین جنہوں نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، انہوں نے سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو کی کھل کر کی ہے تعریف اور انہیں‌قرار دے دیا ہے فرشتہ صفت خاتون.. اداکارہ عروہ حسین نے گزشتہ روز اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر سینئر اداکارہ عتقیہ اوڈھو کے ساتھ اپنی ایک تصویر شئیر کی اور ایک جذباتی سا کیپشن لکھا انہوں نے لکھا کہ آپ نے مشکل وقت میں جس طرح‌سے میرا ساتھ دیا ہے میری رہنمائی کی ہے اسکےلئے میں کس طرح سے شکریہ ادا کرو‌ں میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں. عروہ حسین نے عتیقہ اوڈھو کی اتنی تعریف کی کہ انہیں فرشتہ صفت خاتون کہہ دیا اور کہا کہ

    آپ میرے لئے خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ ہو، آپ نے مجھے جو راحت دی ہے میں اس کےلئے آپ کو سراہتی ہوں.میں آپکی دانائی اور نرم دلی کی معترف ہو گئی ہوں ،آپ نے جو مجھ پہ محبتیں نچھاور کی ہیں اس کے لئے میں آپ کی شکور گزار رہوں گی.عروہ حسین نے بھی لکھا کہ اس دنیا کو آپ جیسی سپر خواتین کی ضرورت ہے. عروہ حسین کے اس کیپشن کے بعد عتقیہ اوڈھو کے مداحوں نے بھی ان کی تعریف کی.
    یاد رہے کہ عروہ حسیبن اور فرحان سعید کی علیحدگی کی خبریں ایک عرصے سےگردش کررہی ہیں دونو‌ں کی طرف سے تصدیق یا تردید تو نہیں ہوئی لیکن یقینا یہ جوڑا اپنی ذاتی زندگی سے نا خوش ہی ہے.

  • نعمان اعجاز محبت کے بارے کیا سوچتے ہیں؟

    نعمان اعجاز محبت کے بارے کیا سوچتے ہیں؟

    نعمان اعجاز ویسے تو سنجیدہ اداکاری کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے وہ ہنستے مسکراتے بہت کم ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نعمان اعجاز حقیقی زندگی میں ہنستے مسکراتے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اکثر ہلکی پھلکی طنز و مزاح کرتے رہتے ہیں. نعمان اعجاز کی سوشل میڈیا پوسٹیں دیکھ کر کسی بھی طبیعت خوش ہوجائے. انہوں‌ نے گزشتہ روز اپنی اور اپنی اہلیہ کی تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کی اور کیپشن لکھا کہ محبت آپ کو احمقانہ کام کرنے پر مجبور کردیتی ہے اور یہ احمقانہ حرکت مجھ سے بھی ہو گئی اور میں نے بھی شادی کر لی انہوں‌نے مزید لکھا کہ میری بیوی کو تو آسکر ملناچاہیے. یاد رہے کہ نعمان اعجاز کی اہلیہ اکثر ان کے ساتھ مختلف فلمی تقریبات میں‌نظر آتی ہیں. نعمان اعجاز نےمحبت کی شادی کی تھی وہ اپنی اہلیہ سے بہت محبت کرتے ہیں.نعمان اعجاز کے

    بیٹے زاویار بھی ٹی وی انڈسٹری میں قدم رکھ چکے ہیں اور وہ والد کی طرح‌سنجیدہ اداکاری کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں یاد رہے کہ نعمان اعجاز کا شمار ٹی کے منجھے ہوئے اداکاروں میں‌ہوتا ہے وہ پاکستان کے وہ فنکار ہیں جن کی آنکھیں بھی اداکاری کرتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں.وہ مختلف اور روٹین سے ہٹ کر کام کرنے کے عادی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے پرستار ان کو دیکھنے کےلئے بےتاب رہتے ہیں.

  • ماضی کے نامور فنکار طلعت حسین ملکی صورتحال پر پریشان

    ماضی کے نامور فنکار طلعت حسین ملکی صورتحال پر پریشان

    ماضی کے نامور فنکار طلعت حسین جنہوں جو آج کل ٹی وی ڈرامے سے دوری بنائے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیاستدانوں نے ان حالات میں پہنچا دیا ہے کہ جہاں‌ہر کوئی پریشان ہے اور یہ لوگ خوش ہیں.کراچی کی جو صورتحال ہے یا لاہور کے علاوہ دیگر شہروں کی اس کے ذمہ دار صرف سیاستدان ہیں. کیا پاکستان اس دن کے لئے بنایا گیا تھاکہ عوام پریشان رہیں اور سیاستدان آپسی سیاسی لڑائیاں‌لڑتے رہیں. ان کا مزید کہنا ہے کہ میں بہت مایوس ہوں اپنے ملک کے حالات دیکھ کر جو کچھ ہو رہا ہےیہ سب سیاستدانوں‌کے آپسی مفادات کی خاطر ہو رہا ہے.مفادات کی جنگ لڑی جا رہی ہے اس میں عوام کہاں‌ہے؟

    یاد رہے کہ طلعت حسین نے کچھ عرصہ قبل ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا دل کرتا ہے کہ وہ ڈرامے لکھیں انہوں‌نے لکھا بھی لیکن آگے سے جواب ملا کے آپ کی کہانیاں بہت مشکل ہیں ہمیں سمجھ نہیں آرہی تو لوگوں‌کو کیسے سمجھ آئے گی اس کے علاوہ اسی انٹرویو میں ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ ڈراموں میں اداکاری کیوں نہیں کررہے تو انہوں نے کہا تھا کہ مجھے اداکاری کی آفرز ہی نہیں آتیں.طلعت حسین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ڈرامہ ادب کی قسم ہے اور آج کے ڈرامے میں انہیں‌ڈرامے کی کمی نظر آتی ہے.طلعت حسین کے مطابق ڈرامہ لکھنا آسان کام نہیں‌ہے پہلے جو لکھا کرتے تھے ان کو بہت ہی ذہین کہا جاتا تھا.

  • لاہور سے ڈرامہ  کراچی منتقل ہوجانا  تشویشناک  ہے مدیحہ شاہ

    لاہور سے ڈرامہ کراچی منتقل ہوجانا تشویشناک ہے مدیحہ شاہ

    سٹیج کی معروف اداکارہ مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے لاہور سے کراچی ڈرامہ منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے. مدیحہ شاہ نے کہا کہ ایک وقت تھا لاہور میں ڈراموں اور فلموں کی سرگرمیاں ہوتی تھیں لیکن اب یہ ساری رونقیں کراچی منتقل ہو گئی ہیں.ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کام سارا کا سارا کراچی منتقل ہو چکا ہے اور جو لوگ آرٹسٹ لاہور رہتے تھے وہ تقریبا کراچی منتقل ہو چکے ہیں جو تھوڑے رہ گئے ہیں وہ بھی وہاں جانے کی تیاریوں‌میں‌ہیں. مدیحہ شاہ نے اس انٹرویو

    میں‌یہ بھی واضح کیا ہے مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں کہ کراچی میں ڈرامہ کیوں بن رہا ہے اچھی بات ہے کام ہونا چاہیے اور فنکاروں کو کام ملنا چاہیے پھر وہ چاہے کراچی ہو یا لاہور. لیکن میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے یہ سوچیں کہ دوبارہ لاہور کو ڈراموں اور فلموں کا گڑھ کیسے بنایا جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں‌وہ تمام وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کی وجہ سے لاہور ڈرامہ کراچی منتقل ہوا. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کام اچھا ہو رہا ہے کوئی شک نہیں لیکن ہمارے ہاں جو پہلے کام ہو رہا تھا ہمیں وہی رونقیں یہاں‌دوبارہ دیکھنی ہیں اس کے لئے ہم سب کو مل بیٹھ کر کوشش کرنی ہو گی.