Baaghi TV

Tag: پارلیمنٹ

  • سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت اور قانونی ماہرین سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،شہباز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق ،سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، معاون خصوصی ملک احمد خان اور لیگی رہنما شزا فاطمہ شامل ہیں،سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی ہے، ملاقات میں شہباز شریف نے لیگی قیادت و قانونی ماہرین سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت ایک ہی دن انتخابات کروانے کے کیس سے متعلق تفصیلی مشاورت کی،

    سپریم کورٹ کے حکم پر سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا معاملہ ، حکومت کے نامزد نمائندوں نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا ہے ،پہلے رابطے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگی رہنماؤں سردار ایاز صادق ،خواجہ سعدرفیق اوردیگر رہنماوں نے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا، حکومتی نمائندوں نے اسد قیصر سے کہا کہ ہم آپ سے باضابطہ بات چیت کے لئے آفیشل رابطہ کررہے ہیں ، یہ رابطہ اس وقت کیا گیا جب سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی ،اسد قیصر نے حکومتی نمائندوں کے رابطے بارے پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر کو آگاہ کردیا، اسد عمر کا کہنا تھا کہ رابطہ اچھی بات ہے حکومتی نمائندے سپریم کورٹ میں دوران سماعت اس سے آگاہ کردیں ،تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرنا اچھی بات ہے خوش آئند اقدام ہے ۔ہم اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ بات عدالت کو بتا دیں

    دوسری جانب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن کی دھواں دار پریس کانفر نس ،اوراسکے بعد ن لیگی رہنما مریم نواز کے ٹویٹ کے بعد مذاکراتی ملاقات پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے، پی ٹی آئی اور حکومتی نمائندوں کی کب ملاقات ہوگی تاحال حتمی طے نہ ہوسکا ،حکومتی اتحاد نے ابھی تک پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کے لئے دن اور وقت طے نہیں کیا، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار ہو چکی ہے ، عمران خان کو جب سے نکالا گیا تب سے انہوں نے فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک برس بیت گیا ابھی تک الیکشن نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی امکان نظر آ رہے ہیں،ایسے میں سب کی نطریں سپریم کورٹ پر ہیں مگر حکومت ڈٹ گئی ہے اور حکومت نے آج عدالتی اصلاحات کا بل بھی باقاعدہ قانون بنا دیا ہے، ایسے میں تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عدالت کو کیا بتانا تھا مریم نواز اور مولانا کا ردعمل سامنے آ گیا ۔یہ صرف اور صرف تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    واضح رہے کہ عدالتی حکم کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے اتحادی شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ نوازشریف شہبازشریف کے فون کے بعد فضل الرحمن نے پرتشدد اوردہشت گرد پریس کانفرنس کی۔ مندر کا ہتھوڑا بندوق کی نوک اور گینگ آف تھری کے سیاستدانوں کے الفاظوں کااستعمال مذاکرات نہیں بلکہ عدلیہ سے کھلی جنگ ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلےمیں سب کو پابند کر دیا ہےجو نہیں مانے گا وہ قانون کےشکنجے میں آئے گا ،باپ سپریم کورٹ کوخوش آئند بیٹا بندوق کی نوک کہتا ہےحکومت توہین عدالت میں نااہلی میں عدم اعتمادی میں اورآرٹیکل6 کے ریڈار میں آسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے سپلیمنٹری گرانٹ کا مسترد ہوناحکومت پرعدم اعتماد ہےعدلیہ نے ہرقسم کے دباؤ کومسترد کرکے آئین اورقانون کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہےعدلیہ ہی جیتے گی ،پاکستان کےدوست ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتےہیں۔حکومت چیمبر کے اندراور عدالت میں پاؤں پڑتی ہے میڈیا میں ٹارزن بنتی ہے گلے پڑتی ہے۔ حکمران سامان باندھ لیں گاڑی چھوٹنے والی ہے ساری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہےعید کے بعد بڑی خبرآسکتی ہے نگران حکومتیں ختم ہوچکیں 14مئی کوصوبائی الیکشن ہونگے ،

  • عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعتہ الوداع المبارک کے روز پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کُن قانون سازی کے بعد آج اس کا روبہ عمل و نافذ العمل ہونا پاکستان کی تکریم و انصاف کے حصول کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ ‏اس قانون سازی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، عوام و وکلاء کو انکے دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر عید سے قبل عید کی مبارک، فسطائی دور کا خاتمہ، مشاورت پر اللہ تعالی کا باتھ کے تصور کی پزیرائی قوم و ملک کے لئے نیک شگون ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم پارلیمانی کمیٹی نے کیں منظور

    الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم پارلیمانی کمیٹی نے کیں منظور

    الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم پارلیمانی کمیٹی نے کیں منظور

    پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات نے مجوزہ ترامیم کی منظوری دیدی ہے جن کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان صدر کی بجائے چیف الیکشن کمشنر کر سکیں گے

    پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کا اجلاس ہوا جس میں چیف الیکشن کمشنر کی مجوزہ ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم منظور کر لی ہیں۔ آئین میں ان ترامیم سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کا اختیار صدر کی بجائے چیف الیکشن کمشنر کے پاس چلا جائے گا

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی رہنما جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ مفتی عبدالشکور ایک بہادر انسان تھے ،زور وشور سے بات کی جاتی ہے کہ 90 میں الیکشن ہونے چاہیئے، کیا جسٹس منیر سے شروع ہونے والا سلسلہ جاری رہے، دو جونیئر ججز کو سپریم کورٹ کو بنانے کیلئے حکومت وقت اور طاقتور لوگوں نے کہا، اگر انصاف دینے فراہم کرنے والے میرٹ کے بغیر آئیں گے تو آج کس بات کا رونا ہے، کس بات کا رونا ہے کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا، وہ دو جج صاحبان جج بنے تو طاقتور لوگوں نے کونسی بات کی جو آج نہیں ہورہی،وزیر قانون صاحب کو یہ بتانا چاہیئے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس ہوا جس میں قومی احتساب ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کر دیا گیا،بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا اور کہا کہ میری گزارش ہے بل کو کمیٹی میں بھیجنے کی بجائے منظور کیا جائے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ میں اس بل کی مخالفت کرتا ہوں، اس بل کی منظوری کے بعد نیب میں کرپشن مزید بڑھے گی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مشتاق احمد صاحب گزارش ہے بل کو پڑھ کر آیا کریں،محض ٹی وی کی خبر کے لئے ایسا نہ کیا کریں، آپ قانون سازی کا مذاق اڑا رہے ہیں،عدالت نے شاید یہ سمجھ لیا کہ ان کے اختیارات ختم کردیے گئے،

    قومی احتساب ترمیمی بل 2023 ایوان سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کی منظوری کے خلاف اپوزیشن نے شورشرابہ کیا اور اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

  • جنگی جانور پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ، سب کی دوڑیں لگ گئیں

    جنگی جانور پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ، سب کی دوڑیں لگ گئیں

    جنگی جانور پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ، سب کی دوڑیں لگ گئیں

    جنگلی جانور ایک بار پھر پارلیمنٹ ہاوس میں داخل ہوگیا جس کے بعد عملے کی دوڑیں لگ گئیں، عملے کے مطابق جنگلی جانور نے کل بھی کئی دفاتر میں داخل ہوکر تھوڑ پھوڑ کی تھی ،آج ایک بار پھر جنگلی جانور پارلیمنٹ ہاوس میں داخل ہوگیا، پارلیمنٹ کے عملے کے مطابق جنگلی جانور نے کئی دفاتر کو نقصان پہنچایا ہے، جنگلی جانور کے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے عملہ پریشان ہے، عملے کا کہنا ہے کہ یہ جانور انتہائی خطرناک ہے، یہ سپرے کرتا ہے، جس جس دفتر میں یہ جانور گیا ہے اب وہاں جائیں تو سے ہماری آنکھیں جلتی ہیں، عملہ جنگلی جانور سے پریشان تھا مگر پھر پولیس اہلکاروں کی مدد سے جنگی جانور کو قابو کر لیا گیا،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا

    https://twitter.com/Babarbhatti22/status/1648226375919075330

    پولیس جنگلی جانور کو پکڑنے کے بعد کیا کرے گی، اس حوالہ سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تا ہم جنگلی جانور کی دوسری بار آج پارلیمنٹ میں آمد پر عملے میں کافی خوف پایا جاتا ہے ،عملے کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں سے ہمیں محفوظ کیا جائے،

  • جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    سینئر قانون دان اعتزاز احسن نےلاہور میں وکلاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیئے،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے تو14 مئی کو الیکشن ہوں گے، جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے،یہ معاملہ انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے اب اس ادرے کا مل کر کام کرنا ناممکن ہوگیا ہے ،اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے ،عدلیہ اور پارلیمان میں ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے، عدلیہ کے فیصلہ پر پارلیمانی تشریح کی جارہی ہیں،ہم جس چیز کو احساس نہیں کر رہے کہ ہم کونسی قوم ہیں، ہم اب اتنے برے قرضے میں پھنس چکے ہیں آنے والی چار نسلوں کی کمائی ہم نے کھا لی اور ڈکار بھی نہیں مارا،یہ قرضے ہماری نسلوں نے دینے ہیں جو ہم کھا چکے ہیں،بڑے بڑے ادارے ایک دوسرے کے دست و گریبان ہیں،اب ایسی باتیں ہورہی ہیں 5 رکنی بنچ تھا سات رکنی بنچ تھا یہ باتیں ہورہی تھی،انہوں نے کسی پر نہیں ماننا تھا،الیکشن کرو سارا معاملہ حل ہو جائیگا ،اصل مسلہ یہی ہیں اس سے دھیان تبدیل کرنے کے لیے یہاں وہاں کی باتیں کر رہے ہیں، ہمیں مل کریہ سوچنا ہےکہ کیا آئین اور قانون کی بالدستی ہونی ہے یا نہیں کور ایشو یہ ہے کہ کیاپنجاب اور کے پی میں انتخابات نوے دن میں ہونے ہیں یا نہیں ،

    سردار لطیف کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت خداد میں ادارے ایک دوسرے سے متصادم ہیں قوم عجیب تذبذب میں مبتلا ہیں ہم نے سوچا مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کو اکٹھا کر کے کچھ لائحہ عمل ترتیب دیں ہر ایک پاکستانی اس ملک کی ترقی چاہتا ہے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی میں پاکستان کی مضبوطی ہے

    خواجہ طارق رحیم نے گول میز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں لمبی بات نہیں کرنا چاہتا جو ٹاپک سے ہٹ کر ہو،اج آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی ،پارلیمنٹ کو یہ حق نہیں کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ وہ سپریم کورٹ میں دخل دے ،اج ہم وکلا آئین کی بلادستی کے لیے کھڑے ہیں ،ہم اس پارلیمنٹ کو ماننے کو تیار نہیں

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے گول میز کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے ہم اپنا کردار ادا کریں، انہیں بات چیت ہر لائیں ہم یہ نہیں کہہ سکتے اسکو نہیں مانتے اگر آپ کہیں کہ آپ آئین کو نہیں مانتے تو آپ حلف کیخلاف ورزی کر رہے ہیں اگر آپ الیکشن کی مدت بڑھانا چاہتے ہیں تو آئین میں ترمیم کر لیں الیکشن کی تاریخ پر ساری سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں کوئی قانون سازی ایسی نہیں ہو سکتی جو سپریم کورٹ کے اختیار کو کم کرے اس جنگ کا نقصان اس ملک کو ہو رہا ہے، اس ملک کے عوام کو ہو رہا ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی عدلیہ کی خود مختاری کیلئے کھڑے ہیں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ان لوگوں کو بٹھائیں

    سابق جسٹس شبر رضا رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کا پارلیمنٹ کو خطاب خوش آئند ہے۔ ریاست اپنے اختیارات منتخب لوگوں کے ذریعے سے استعمال کرے گی۔ یہ ہمارے آئین میں درج ہے۔ ہماری عدالتوں نے پارلیمانی طرز حکومت کے حق میں متعدد فیصلے دئیے۔پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم وفاق اور صوبے میں وزیراعلی کے افسسز اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ آئین میں اسمبلیوں کی مدت اور اسکے جلد تحلیل کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہے۔ آئین میں لکھا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت مکمل کرنے سے پہلے تحلیل ہو جائے تو 90 روز مین انتخاب ضروری ہیں۔

    جیورسٹس کانفرنس سے سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ عدالتی فیصلے پرعمل درآمد کرے کسی کے ہاس گنجائش نہیں ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے باہر نکل سکے آئین کے تحت انتظامی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمدکرنے اور کرانے کے پابند ہیں جویہ بات کررہے ہیں کہ عمل نہیں کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کررہے ہیں ہم سب سے پہلے وکیل ہیں پھر ہماری ہمدردیاں کسی بھی سیاسی جماعت کےساتھ ہیں آئین نہ ہوتو وکالت کےپیشے کا جواز نہیں رہ جاتا

    پاکستان میں آئین کےتقدس اور عدلیہ کی آزادی کے موضوع پر راونڈ ٹیبل کانفرنس ،سینئر قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ سمیت دیگر سینئر وکلاء پہنچ گئے خواجہ طارق رحیم، آفتاب باجوہ، ربیعہ باجوہ شرکت کیلئے پہنچ گئے ،سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ، کرامت نذیر بھنڈاری، چودھری اکرام گوندل ایڈووکیٹ بھی کانفرنس میں شریک ہیں سابق صدر لاہور بار ایسوسی ایشن جہانگیر جھوجھہ بھی گول میز کانفرنس میں شریک ہیں ،سابق اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور، سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مقتدر اختر شبیر بھی کانفرنس میں شریک ہیں،جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال بھی گول میز کانفرنس میں شریک ہیں،سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری، سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار مقصود بٹر بھی کانفرنس میں پہنچ گئے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • چینلز از خود عمران خان کی تقریر نہیں چلا رہے، چیئرمین پیمرا

    چینلز از خود عمران خان کی تقریر نہیں چلا رہے، چیئرمین پیمرا

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات کا اجلاس ہوا

    چئیرمین قائمہ کمیٹی سینٹر فیصل جاوید نے اجلاس کی‌صدارت کی،فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے مقبول لیڈر عمران خان کی تقاریر نشر نہیں ہونے دی جا رہیں، صحافیوں کو انکے گھروں اور دفاتر سے اٹھایا جا رہا ہے، ٹی وی چینلز کو بند کیا جا رہا ہے۔چئیرمین پیمرا نے اجلاس میں کہا کہ چینلز از خود عمران خان کی تقریر نہیں چلا رہے ہم نے کسی کو منع نہیں کیا

    سینیٹر فیصل جاوید نے اجلاس میں کہا کہ یقین دہانی کرائیں عمران خان کی تقریر تمام چینلز پر نشر ہوں گی جس پر چئیرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ پیمرا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کی تقریر دکھانے کے لیے چینلز کو نہیں کہہ سکتا میڈیا کی ایڈیٹوریل ججمنٹ پر ہمارا اختیار نہیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہوا ہے

    اجلاس میں وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک سال میں کوئی چینل بند ہوا نہ ہی کوئی پروگرام اور نہ ہی کسی کی ناک کی ہڈی یا پسلیاں توڑیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اختیار سابقہ حکومت نے وزارت انسانی حقوق کو دے دیا تھا ہم نے حکومت سنبھالتے ہی یہ اختیار واپس وزارت اطلاعات و نشریات کو دلایا ہے

    سینیٹر سید وقار مہدی کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی بیواؤں کی پینشن 20 رمضان تک ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر ڈی جی ریڈیو طاہر حسن نے جواب دیا کہ رقم کا بندوبست ہوگیا ہے پینشنرز کی بیواؤں کو کل تک رقم ادا کردی جائے گی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

  • سرکاری فلیٹ پر قابض رہنے والے فواد چودھری کو شرم آنی چاہیے،عطا تارڑ

    سرکاری فلیٹ پر قابض رہنے والے فواد چودھری کو شرم آنی چاہیے،عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں نظام عدل و انصاف کی بالادستی چاہتے ہیں اور قانون کی بالادستی کیلئے بل کا آنا ضروری تھا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا ضروری ہے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، پارلیمان سپریم ادارہ ہے، پارلیمان آئین میں تبدیلی کا اختیار رکھتی ہے، عدلیہ پارلیمان کے اختیارات اور قانون سازی میں مداخلت نہیں کرسکتی، صدر دستخط کریں یا نہ کریں، بل 10 دن بعد قانون بن جائے گا، عمران خان جیلوں سے بھاگے ہوئے، ضمانتوں پر پھر رہے ہیں،سرکاری فلیٹ پر قابض رہنے والے فواد چودھری کو شرم آنی چاہیے،ہمارے دستخط بھی اصلی ہیں اور حکومت بھی اصلی ہے، آپ کا لیڈر جعلی ہے، الیکشن ہوںگے لیکن ایک ساتھ ہونگے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی 3 رکنی کمیٹی کے قیام سے جج صاحبان بینچز کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت سے فیصلے کیا کریں گے تاکہ اس ون مین شو کا خاتمہ ہوسکے.سوموٹو کی پاور پسے ہوئے طبقات کیلیے تھی اقلیتوں کیلیے تھا اور ان لوگوں کیلیے تھا جن کی آواز نہیں سنی جاتی.یہ اس لیے نہیں تھا کہ سیاسی پارٹیوں کی سہولتکاری اور سپورٹ کیلیے ازخود نوٹس لیا جائے

    دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری کا معاملہ ،قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور بل صدر عارف علوی کو دوبارہ بھجوا دیا صدر نے دس دن میں دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن جائے گا ،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا نئے قانون کے تحت از خود نوٹس کا چیف جسٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا تین سینیر ترین ججز از خود نوٹس سے متعلق فیصلہ کرینگے صدر نے اب بھی دستخط نہ کیے تو بیس اپریل کی شام کو بل کے قانون بننے کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی تقریب، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو سیاسی باتیں کی گئیں ان سے اتفاق نہیں کرتا ،قانون میرا میدان ہے، ہم نے تنقید بھی سنی ہے، ہم بھی آئین کے محافظ ہیں، ہم سب نے آئیں کے تحفظ کا حلف لیا ہوا ہے،یہ آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے،اپنی اور سپریم کورٹ کے طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، آئین آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے،پارلیمان اور عدلیہ کا کام لوگوں کی خدمت ہے،جب لوگ یہ بات سمجھ جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہمارا آج محفوظ ہے، لوگ اپنی اچھائی سوچتے ہیں برائی اپنی نہیں سوچتے،ہم اپنی غلطیوں، ناکامیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں،آئین میں سے سب سے اہم بات لوگوں کے حقوق کی ہے،پارلیمان ، بیوروکریسی سب کے وجود کا مقصد ایک ہونا چاہیئے، عوام کی خدمت، ہمارا کام ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد ازجلد فیصلے کریں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 2014 سے آپ کاہمسایہ ہوں، پارلیمان اور عدلیہ کا بنیادی کام لوگوں کی خدمت ہے، ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت پہچان کر اس پرعمل کرناچاہیے آئین کی گولڈن جوبلی کاجشن منانے آیا ہوں،ہم دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی ایک دوسرے سے کرتے ہیں،تقسیم ہند نہ ہوتی تومسلمان بطور اقلیت ہندوستان میں رہتے،کل آپ کہیں کہ آپ کوبلایا بھی اورپھر بھی آپ نے ہمارے خلاف فیصلہ کیا،

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    قومی آئینی کنونشن میں وزیراعظم کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

  • الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی مین پیش کر دیا گیا، بل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کیا،

    سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں اسمبلی اجلاس میں معمول کی کارروائی کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا ،اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی پاکستان کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے دور میں شرح نمو اور پالیسی ریٹ 6 فیصد تھا نوازشریف دور میں ملک میں خوشحالی تھی نوازشریف دور میں زرمبادلہ کے ذخائر24 ارب ڈالر سے زیادہ تھے نوازشریف کے دور میں مہنگائی کی شرح 2 فیصد تھی،2018 میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا،عالمی مالیاتی اداے پاکستان کی معاشی ترقی کے معترف تھے پی ٹی آئی کی حکومت کوشاں ہے ملک میں مایوسی اور انتشار پھیلے،دورہ امریکا کی منسوخی پر بے بنیاد خبریں پھیلائیں، یہ ملک دشمنی پر اتر آئی ہے، موجودہ حکومت آئی تو غیریقینی صورتحال کا سامنا تھا،سازشی عناصر ذاتی مفاد کی خاطر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں،پی ٹی آئی قیادت افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے الیکشن اخراجات بل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات دن دو بجے تک ملتوی کردیا

    پنجاب اور کے پی میں انتخابی اخراجات کا معاملہ ،قومی اسمبلی میں پیش بل کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔بل کا نام لازمی اخراجات برائے جنرل الیکشن پنجاب اور کے پی 2023 ہے۔5 شقوں پر مبنی بل اب قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر بحث آئے گا۔کے پی اور پنجاب میں الیکشن کمیشن کو اخراجات کی ادائیگی فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں ہو گی۔قومی اسمبلی، بلوچستان اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے بغیر پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کے بعد یہ قانون ختم ہو جائے گا۔یہ حکم قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات کے بغیر دیا گیا۔ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 81 کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں رقم جاری کی جائے،

    بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا

    قبل ازیں آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر گولڈن جوبلی تقریبات کا آغاز ہوگیا ہے پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں ایس ایم ڈیز نصب کر دی گئیں ،پارلیمنٹ ہاؤس کے صدر دروازے پر 1973 کے آئین کی منظوری کی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا سپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان کی یادگار کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، آئین پاکستان 1973 کی یادگار کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے خطاب کیا سپیکرقومی اسمبلی نے جمہوریت کے گمنام ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں،راجہ پرویزاشرف کا کہنا تھا کہ آج 10 اپریل 2023 کو آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں، آئین کا متفقہ منظور ہونا ایک کامیابی ہے، 1973 میں آئین متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، دستور پاکستان کی یادگارکی تعمیر ایک مثبت اور اہم قدم ہے امید ہے سی ڈی اے اس یادگار کی تعمیر جلد مکمل کرے گا، اس یادگار کے ڈیزائن کیلئے ملک گیرمقابلہ ہوگا، ڈی چوک پر یادگار کی تعمیر کے ساتھ ایک باغ بھی تعمیرہوگا جس کا نام باغ دستور ہوگا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    قبل ازیں وفاقی کابینہ نے الیکشن کے فنڈز کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کی منظوری دی تھی، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس ہوا تھا جس میں الیکشن کے لئے فنڈز کی سمری پیش کی گئی، وزارت خزانہ نے گزشتہ روز کے کابینہ اجلاس کی روشنی میں فنڈز سے متعلق سمری آج کابینہ اجلاس میں پیش کی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ،سمری کی کابینہ سے منظوری کے بعد اب پنجاب میں الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو حکم دیا تھا کہ وفاق 10 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دے ، الیکشن کمیشن 21 اپریل کو رقم سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کےمطابق وفاقی کابینہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی،اجلاس میں قانونی مشاورت اورسپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق حکمت عملی پربات ہوگی، عدالتی اصلاحات بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظورکرانے پر بھی بات ہوگی۔

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا …

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے چند روز قبل عدالتی اصلاحات کا بل منظور کر کے توثیق کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا تھا تاہم صدر عارف علوی نے بل نظر ثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔

    خیال رہے کہ صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ …