Baaghi TV

Tag: پارلیمنٹ

  • وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کر لیا-

    باغی ٹی وی: صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پاکستان میں ہماری جنگ حقیقی آزادی کیلئے ہے،عمران خان

    ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 کے حوالے سے صدر کے نکات میں کوئی وزن نہیں، پارلیمان دوبارہ بل کو اکثریت سے منظور کرے گی۔

    لیگی رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ قانون بھی بنے گا اور عدل کے حصول میں ترمیم بھی ہوگی، ترجمان پی ٹی آئی نے ایوانِ صدر سے قانون واپس بھیج دیا تاکہ لاڈلے کیلئے بینچ فِکسنگ ہو سکے۔

    سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، 2 اہلکار شہید

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔

    صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنےاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے۔

    خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • صدر کا بل پر دستخط سے انکار،حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    صدر کا بل پر دستخط سے انکار،حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    صدر کے سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل پر دستخط سے انکار کا معاملہ ،بل صدر کے اعتراضات کے ساتھ پارلیمنٹ کو موصول ہو گیا

    وفاقی حکومت بھی اس معاملے پر ڈٹ گئی ،وفاقی حکومت نے بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پیر کو منظور کروانے کا فیصلہ کر لیا، اس ضمن میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دن دو بجے طلب کرلیا گیا ،پارلیمنٹ سے منظور کروا کر بل دوبارہ صدر کو دستخط کےلیے بھیجا جائے گا صدر نے دس دن دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن کر لاگو ہوجائےگا

    واضح رہے کہ صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حوالہ سے بل کابینہ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کیا تھا جو دونوں ایوانوں سے منظور ہو گیا تھا جس کے بعد صدر مملکت کو دستخط کے لئے بھیجا گیا تھا مگر آج صدر مملکت نے بل واپس کر دیا،

     انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے چیف جسٹس کا فیصلہ اقلیتی تھا

    فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور 

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا

    مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

  • اقلیتوں کے مسائل،چیئرمین سینیٹ کی مزید اقدامات کی یقین دہانی

    اقلیتوں کے مسائل،چیئرمین سینیٹ کی مزید اقدامات کی یقین دہانی

    چئیرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے شہریار شمس ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کی سربراہی میں اقلیتی حقوق کیلئے قومی لابنگ کے وفد نے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی جس میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی-چئیرمین سینیٹ نے وفد کو اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی-

    وفد نے سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے 5 فیصد کوٹہ اورسینیٹ میں اقلیتوں کی سیٹ بڑھانے، اقلیتوں کے مسائل کے حل کرنے کیلئے سینیٹ کی کمیٹی تشکیل دینے اور سینیٹری ورکرز کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی سفارش کی-چئیرمین سینیٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اور دین اسلام تمام اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتاہے-اقلیتوں کے 5 فیصد کوٹے کے حوالے سے معاملات سینیٹ میں زیر بحث ہیں -انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ میں اقلیتوں کے کوٹے کے حوالے سے بحث کیلئے موشن اور توجہ دلاوُ نوٹس لے کر آئیں گے-اقلیتوں کے حقوق اور مسائل کے حل کیلئے سینیٹر لیاقت خان ترکئی کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے-ان کے ساتھ ملکر پاکستان کے کچھ علاقوں کا وزٹ پلان کر کے اقلیتوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرے تاکہ ان کے حل کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے جا سکے-بحث کیلئے چئیرمین سینیٹ نے وفد کی گزارشات پارلیمانی کمیٹی برائے اقلیتی حقوق کو بھجوا دیں –

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

    اس موقع پر چئیرمین سینیٹ نے اقلیتوں کے حقوق کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کو کمیٹیز مرتب کرنے کیلئے خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا-انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو خطوط لکھ کر گزارش کروں گا کہ کمیٹیز مرتب کرے جو پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ ملکر اقلیتوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے-ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹری ورکرز کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی قانون لے کر آئے جس پر ایوان میں بحث ہو سکے-پاکستان میں وسائل محدود ہیں اور ہمیں بہت سے چیلجز کا سامنا ہے-ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اللّہ کی نعمتوں کا بھی شکر ادا کرنا چاہئے، بہت سے ممالک سے اب بھی پاکستان بہتر ہے-ملک کے وسائل کو دیکھتے ہوئے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے-انہوں نے ہر 4 ماہ بعد اقلیتوں کے حقوق کیلئے قومی لابنگ وفد سے ملاقات رکھنے کا عندیہ بھی دیا-وفد نے اقلیتوں کے مسائل کے حل میں دلچسپی ظاہر کرنے پر چئیرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا-

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

  • پاکستان بچ گیا تو سب خیر ، پاکستان کو ضعف پہنچے تو ہم سب نقصان میں ہیں،وزیراعظم

    پاکستان بچ گیا تو سب خیر ، پاکستان کو ضعف پہنچے تو ہم سب نقصان میں ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ملک کو مشکل حالات سے نکالا،حالات گھمبیر ہیں لیکن ہماری نیت صاف ہے، ان شاءاللہ حالات بہتر ہوں گے ،وقت آئے گا حالات بدل جائیں گے، یہ میرا ایمان ہے، آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 10 کروڑ غریب خاندانوں کو مفت آٹا فراہم کرنے کا آغاز کیا، پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں غریبوں کو رمضان میں مفت آٹا فراہم کر رہے ہیں ،آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط مان لی گئی ہیں، پچھلی حکومت کے آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے مہنگائی کی لہریں آ رہی ہیں آئی ایم ایف کی آخری شرط پر بات چیت جاری ہے، برادر ممالک پاکستان کی بڑی مدد کر رہے ہیں،وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں 2014 سے 2018 تک پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن تھا،ملک کو سیلاب کی تباہ کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ،100 ارب روپے صرف وفاق سے سیلاب متاثرین کو دئیے گئے ہیں،عمران خان نے پاکستان کو معاشی دلدل میں پھنسا دیا،دوست ممالک کے خلاف سابق حکمرانوں نے بدزبانی کی ،چین کے منصوبوں پر سنگین الزامات لگائے گئے،عمران اور حواریوں نے کہا کہ چین کے منصوبوں میں 45 فیصد کرپشن ہوئی ،چین نے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اسی مددگار دوست پر بھونڈے الزامات لگائے گئے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تجارت شروع کرنے کا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے، ایک انفرادی شخص کا حکومت پاکستان کی پالیسی سے کیا تعلق ؟فلسطینیوں کو حق ملنے تک پاکستان اپنے اصولی موقف پر کاربند رہے گا،عمران خان نے پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کیا، پاکستان کی ساکھ داؤ پر لگا دی،عمران خان نے سخت ترین شرائط پر آئی ایم ایف پروگرام پر دستخط کئے، پھر خود خلاف ورزی کرکے اس پروگرام کو معطل کر دیا ،عمران خان نے آئی ایم ایف پروگرام ناکام بنانے کی سازش کی، عمران خان کے وزیر رنگے ہاتھوں سازش کرتے پکڑے گئے،عمران خان دور میں ججوں کو دھمکیاں ملیں، ریفرنس دائر ہوئے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی ارکان کے عزم وہمت اور وفاداری کو خراج تحسین کیا اور کہا کہ ریاست بچانے کے لئے سیاسیت قربان کر دی،پاکستان بچ گیا تو سب خیر ہے پاکستان کو ضعف پہنچے تو ہم سب نقصان میں ہیں .ان شاءاللہ وقت بدلے گا، نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) ملک کو مسائل سے نکالیں گے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

  • افسران کو ایک سال میں 9 ارب کے قریب بجلی مفت دی جاتی ہے،پاور ڈویژن حکام

    افسران کو ایک سال میں 9 ارب کے قریب بجلی مفت دی جاتی ہے،پاور ڈویژن حکام

    اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےوزیراعظم کو گریڈ 16 سے 22 تک کے افسران کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنے کی سفارش کردی۔

    باغی ٹی وی : پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت توانائی سے متعلق سال 2021-22 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا کمیٹی نے پاورڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے دی گئی گرانٹ میں سے ایک ارب 48 کروڑ لیپس ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور حکام کے جواب پر عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا۔

    لکی مروت: دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    کمیٹی نے گرانٹ لیپس ہونے کے معاملے سمیت دیگر آڈٹ اعتراضات کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی جب کہ وزارت توانائی کو دوبارہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ہم نے بجلی کے مفت یونٹس ختم کرنے کی ہداہت کی تھی،کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کا جواب نہیں آیا، پاور ڈویژن کے نقصانات کتنے ہیں؟ اس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے جواب دیا کہ اس سال نقصانات 590 ارب تک ہوں گے۔

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ افسران کو ایک سال میں 9 ارب کے قریب بجلی مفت دی جاتی ہے جس پر نور عالم خان نے کہا کہ ایم این اے اور پارلیمنٹیرین نہ فری بجلی لگاتے ہیں نہ فری گیس لگاتے ہیں۔

  • قائمہ کمیٹی کا بیرون ممالک خالی چیئرز کا سخت نوٹس

    قائمہ کمیٹی کا بیرون ممالک خالی چیئرز کا سخت نوٹس

    ایجوکیشن کمیٹی نے بیرون ممالک خالی چیئرز کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا۔
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں قائداعظم چیئر اورعلامہ اقبال چیئر اور پاکستان سٹیڈیز جیسے مختلف ناموں کے تحت بیرون ممالک خالی پاکستانی چیئرز کے معاملے کا سخت نوٹس لیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے معاملے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے معاملے کی تہہ تک تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس بے حسی کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2008 سے اب تک کل 14 چیئرز مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں میں خالی ہیں، بجٹ کی رکاوٹوں کی وجہ سے 14 میں سے صرف 6 چیئرز مشتہر کی گئیں۔ انتخاب کا عمل 2021 میں مکمل ہوا جس میں کیمبرج یونیورسٹی کے لیے تین سکالرز کے پینل منتخب کیا گیا۔ یونیورسٹی کی طرف سے اس عمل کو ختم کر دیا گیا تھا اور وزارت کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق چیئرز کی دوبارہ تشہیر کرے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت چین، مصر، جرمنی، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ہانگ کانگ، ایران، اردن، نیپال اور قازقستان میں اردو اور پاکستان اسٹڈیز کی چیئرز خالی ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اورکہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور جرائم سے خود کو الگ کرنے اور ثقافت اور ادب کے کارناموں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا سنہری موقع گنوا دیا ہے۔اس نے اس غفلت کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جس نے ملک کے سافٹ امیج کو روک رکھا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے ہدایت کی کہ وزارت اس معاملے کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کرے۔

    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار

    قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بریفنگ دیتے ہوئے قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء گروپوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں پر کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا۔ قائمہ کمیٹی نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور معاملے کی اصل وجہ معلوم کرنے پر زور دیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے قائداعظم یونیورسٹی کے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر کا خیرمقدم کیا اور انہیں کمیٹی کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینز کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ طلبا یونین میں نسلی بنیادوں پر گروہ بندی کو ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی وجہ سے طلبا میں آپس کے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں اور طلبا اپنی تعلیمی سرگرمیوں توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو ہدایت کی کہ وہ ایک کمیشن تشکیل دیں اور کمیٹی کو اس مسئلے کی وجوہات اور اس کے تدارک کے طریقوں کی سفارشات پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے یونیورسٹی کیمپس کے گرد چاردیواری کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سی ڈی اے کو باؤنڈری وال کی تعمیر کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کے لیے خط بھیجا جائے۔

    اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں جونیئر لیڈی ٹیچرز کی تقرری/ تعیناتی سے متعلق معاملے پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی نے اس مسئلے کے حل کی میں تاخیر کی مذمت کی اور اس ضمن میں زور دیا کہ آنے والے نئے اساتذہ کو ریگولر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ یہ سفارش بھی کی گئی کہ وزارت تعلیم اس معاملے کو ایک بار پھر اٹھائے اور اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کے لیے وفاقی کابینہ سے رجوع کرے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔

    پرائیویٹ ممبر بلز پر غور کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (ترمیمی) بل 2023 کو معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے پیش کیا جانے والا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کلچر اینڈ ہیلتھ سائنسز بل 2022 معاملے کی مزید تحقیقات کے باعث زیر التواء تھا۔ اس معاملے کے حوالے سے سینیٹر رانا مقبول احمد کی کنونیئر شپ میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو معاملے پر دس دن میں قائمہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔

  • قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا
    اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری محمود بشیر ورک کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سید نوید قمر،وزیر مملکت قانون شہادت اعوان و دیگر شامل تھے ،اجلاس میں سپریم کورٹ( کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 زیر بحث آیا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 4 ، 10 اور آرٹیکل 25 شفاف ٹرائل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو پورا کرتا ہے۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ از خود نوٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بعد آنے والے 3 چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا بہت کم استعمال کیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس کا استعمال کیا۔وزارت قانون و انصاف کافی دیر سے اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ روز معزز ججز کا فیصلہ سب کے سامنے ہے۔جب بھی عدلیہ کی آزادی کی بات ہوتی ہے تو بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کرتی ہیں۔ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے سپریم کورٹ (کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو اس کمیٹی میں بھجوایا گیا،سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا،184(3) کے دائرہ اختیار کو زیر بحث لایا جائے، بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی، گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    دوسری جانب ممتاز ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے عدلیہ کی اصلاحات کے بل کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوگا، 90 دن کے آس پاس انتجابات کروانے ہونگے،تین دو سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پانچوں جج کے دستخط ہیں کہ یہ اکثریتی فیصلہ ہے حکومت کے عدلیہ بارے بل کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کے کوئی اثرات نہیں ہونگے، چیف جسٹس پاکستان آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

  • جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،راہول گاندھی

    جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،راہول گاندھی

    نئی دہلی: اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

    باغی ٹی وی:راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہےکہ وزیراعظم نریندر مودی کے کاروباری اتحادی کے خلاف تحقیقات کے مطالبے کی پاداش میں مجھے پارلیمنٹ سے نکالا گیا لیکن میں جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

    سعودی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ،رمضان المبارک کی مبارکباد

    نریندر مودی کی حکومت پر سیاسی مخالفین اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر الزام لگایا گیا کہ وہ قانون کا استعمال ناقدین کو نشانہ بنانے اور خاموش کرنے کے لیے کرتی ہے،راہول گاندھی نے کہا کہ وہ دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

    انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں اس ملک کی جمہوری کے دفاع کے لیے جو بھی کرنا پڑے گا کروں گانریندر مودی کے اہم مخالف کی پارلیمنٹ سے برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہےجب بھارت کے سب سے طاقتور صنعت کاروں میں سے ایک گوتم اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کےتعلقات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے مجھے نااہل قرار دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی گوتم اڈانی پر آنے والی اگلی تقریر سے خوفزدہ ہیں، میں یہ سوال پوچھتا رہوں گا کہ مسٹر اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کا کیا تعلق ہے؟-

    شہزادہ ولیم کا یوکرین اورپولینڈ کی سرحد کے قریب اچانک دورہ

    خیال رہے کہ سورت کی عدالت نے جمعرات کو 12.30 بجے راہل کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن 27 منٹ بعد ضمانت مل گئی۔ سزا کے 26 گھنٹے بعد جمعہ کو ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ ہفتہ کو 23 گھنٹے بعد راہل پرینکا کےساتھ کانگریس دفتر پہنچے اور 28 منٹ تک میڈیا سے بات کی راہول گاندھی کو عدالتی فیصلے کےبعد 24 مارچ کو ان کی پارلیمانی نشست سے ہٹا دیا گیا تھا، 2019 میں مودی کی آبائی ریاست گجرات میں انتخابی مہم کےدوران کیےگئے تبصرے میں انہیں ہتک عزت کا مجرم قرار پایا گیا تھا جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی توہین کے طور پر دیکھا گیا –

    مودی برادری کی توہین، راہول کو دو برس قید کی سزا

  • 20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی

    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی

    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    سینیٹ کمیٹی میں ریڈیو پاکستان کو درپیش مالی مسائل پر غور کیا گیا۔ طاہر حسن، ڈی جی پی بی سی نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں سے خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ریڈیو پاکستان کا موجودہ خسارہ 2246.007 ملین روپے ہے۔ خسارے میں اضافے کی ایک بنیادی وجہ گرانٹ ان ایڈ کا بند ہونا ہے جو چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی طرف سے ہراسٹیشن کو دی جاتی تھی اور جس کی مالیت تقریباً 12 کروڑ روپے تھی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے تجویز دی کہ تمام گاڑیوں کے مالکان سے رجسٹریشن اور ٹوکن فیس کی ادائیگی کے وقت 500 روپے فیس ریڈیو سبسکریپشن کی مد میں وصول کی جائے۔ تاہم انہوں نے پی بی سی کو ہدایت کی کہ وہ تمام ملازمین اور پنشنرز کو 20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔

    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار

    مزید برآں سینیٹر سید وقار مہدی نے استفسار کیا کہ بقایا واجبات جو کہ نجی افراد یا اداروں کی جانب سے گزشتہ چند سالوں سے ادا نہیں کیے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے واجبات کی وصولی کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں۔ ڈی جی پی بی سی نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 7.5 کروڑ روپے کے واجبات واجب الادا ہیں اور پی بی سی نے تمام نادہندگان کو واجبات کی ادائیگی کے لیے خط لکھ دیا ہے لیکن بدقسمتی سے اب تک کوئی وصولی نہیں کی گئی۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پی بی سی کے پاس ملک بھر کے مختلف شہروں میں اہم مقامات پر جائیدادیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے پی بی سی نے یہ جائیدادیں پرائیویٹ اسٹیک ہولڈرز کو سستے داموں لیز پر دی ہوئی ہیں اور اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے پی بی سی کو ان پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

    ایڈیشنل سیکرٹری سہیل علی خان کو پی بی سی کا کوآرڈینیٹر مقرر کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے پی بی سی کو ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی جس سے پی بی سی کو مالی خود مختاری حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریڈیو پاکستان ہمارا اثاثہ ہے اور ہم پی بی سی کو مالی طور پر خود مختار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

  • پی اے سی کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کمپنی کےغیرقانونی اقدامات کیخلاف سخت کاروائی کا فیصلہ

    پی اے سی کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کمپنی کےغیرقانونی اقدامات کیخلاف سخت کاروائی کا فیصلہ

    پی اے سی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کمپنی،افراد کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے

    چیرمین پی اے سی نور عالم نے چئیرمین نیب، سی ڈی اے اور ڈی جی ایف آئی اے کو کاروائی کی ہدایت کر دی،نادہندہ کمپنی،افراد سے منسلک تمام اکاوئنٹس منجمد کرنے کا حکم دے دیا گیا، کمیٹی نے کہا کہ عمارت کے مالکان اور کمپنی سے جڑے شناختی کارڈز کو بھی فوری بلاک کیا جائے ،نادہندہ کمپنی ،افراد کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں،کمیٹی نے چیف کمشنر اور چیئرمین سی ڈی اے کو عمارت کا قبضہ لینے کی ہدایت کر دی

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکم دیا کہ چیرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا آغاز کریںعمارت کو قبضہ میں لیکر نادہندہ کمپنی کے تمام ملازمین کو باہر نکالا جائے،متعلقہ پلاٹ پر قائم تجاوزات اور غیر قانونی تعمرات کو ہٹایا جائے،فلیٹس مالکان کا سپریم کورٹ میں جمع ریکارڈ کے ساتھ تصدیق کروائی جائے،الاٹیوں کی ادائیگیوں سے متعلق جائزہ لیا جائے،نادہندہ کمپنی اور اپارٹمنٹس مالکان کے ٹیکس ریکارڈ کا ایف بی آر اور اے جی پی آر سے بھی جائزہ لیا جائے۔غیر قانونی رہائشیوں سے اپارٹمنٹس کی نیلامی کروائی جائے۔کمیٹی کو ون کونسٹیٹیوشںن ایونیو عمارت کے رہائشیوں کی تفصیلی فہرست فراہم کی جائے۔پی اے سی کی ہدایت پر فوری عملدرآمد کرکے سیکرٹریٹ کو مطلع کیا جائے

    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ