Baaghi TV

Tag: پانی

  • پانی کے بحران پرمشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس بلایاجائے:رضا ربانی

    پانی کے بحران پرمشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس بلایاجائے:رضا ربانی

    کراچی:پانی کے بحران پرمشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس بلایاجائے:،اطلاعات کے مطابق سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے پانی کے بحران پر مشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس 48 گھنٹے میں بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    میاں رضا ربانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ سندھ میں پانی کا بحران بین الصوبائی معاملہ بن چکا ہے کیونکہ جنوبی پنجاب کے علاقے بھی پانی کے قلت سے متاثر ہیں، صوبوں کے درمیان پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا سوال بھی شدت اختیار کر چکا ہے،

    رضا ربانی نے مشورہ کیا کہ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کو آئین کے آرٹیکل 155، 1973 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل میں شکایت کرنی چاہیے۔

    رہنما پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ سی سی آئی آبپاشی، انجینئرز، انتظامیہ، مالیات یا قانون دان پر مشتمل افراد کا کمیشن تشکیل دے، کمیشن اپنی رپورٹ میں آرٹیکل 155(4) کے تحت دے گاجس پر کونسل اپنا فیصلہ دے گی۔

    رضا ربانی نے کہا کہ سندھ کی شکایت ہے کہ دریائے سندھ سے پانی جہلم چناب میں منتقل کیا جا رہا ہے، سندھ کی ڈیمانڈ پوری نہیں ہو رہی چشمہ اور تربیلا کے آبی ذخائر میں پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے لیے پانی کا بحران شدید ہو گیا ہے، آبادی کے ساتھ ساتھ ان کے مویشیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے، سی سی آئی کا اجلاس 48 گھنٹوں کے اندر بلایا جانا چاہیے۔

     

     

     

  • چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کو ایسے نئے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا-

    باغی ٹی وی : "”سائنس ایڈوانسز جریدے ميں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کے ژو رونگ روبوٹک روور کو ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مریخ پر پانی پہلے کی سوچ سے زیادہ دیر تک موجود ہے۔

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریخ کی سطح پر پڑنے والے ایک بڑے آتش فشانی گڑھے میں ’ایمیزونیائی دور‘ کے دوران مائع پانی موجود تھا اور سرخ سیارے پر ہائیڈریٹڈ معدنیات موجود ہیں،جن سے اس سیارے پر مستقبل میں آنے والے انسان بردار مشنز ممکنہ طور پر فائدہ اٹھاسکیں گے۔

    یہ نتائج ان مفروضوں کو تقویت دیتے ہیں کہ مائع پانی کی سرگرمیاں مریخ پر اس سے پہلے پائی جانے والی سوچ سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہی ہوں گی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ مریخ کی اس مخصوص جگہ پر اس وقت ہائیڈریٹڈ معدنیات اور ممکنہ طور پر برف کی شکل میں پانی کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا طویل عرصے سے یہ خیال رہا ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ کی سطح پر ایک گاڑھا، گرم ماحول اور مائع پانی موجود تھا، لیکن یہ سیارہ ٹھنڈا ہوگیا کیونکہ اس نےاپنا حفاظتی مقناطیسی میدان تقریباً 4 ارب سال پہلے کھو دیا موجودہ ارضیاتی دور جسے Amazonian epoch کے نام سےجانا جاتا ہےجس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ 3.5 سے 1.8 بلین سال پہلے شروع ہوا تھا کو ایک ایسے وقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جب مریخ سرد اور خشک تھا، جس میں سطحی پانی نہیں تھا۔

    دوسری جانب سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • سخت گرمی میں بلیک کوبرا کو پانی پلانے کی وڈیو وائرل

    سخت گرمی میں بلیک کوبرا کو پانی پلانے کی وڈیو وائرل

    نئی دہلی :بھارت میں بلیک کوبرا کو گلاس کے ذریعے پانی پلانے کی وڈیو وائرل ہو گئی ہے۔بھارتی آئی بی ایس آفیسر سوسنتا نندا نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل اکاؤنٹ پر ایک وڈیو شئیر کی تھی جس میں ایک بندر اور چند بطخ کے بچے ایک دوسرے کو تربوز بانٹتے اور کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

     

    بھارتی آفیسر کی وڈیو کے جواب میں ایک اور یوزر نے جوابی کمنٹس میں کوبرا سانپ کو پانی پلانے کی وڈیو شئیر کی اور ساتھ میں لکھا کہ بندر اور بطخ کے بچے تربوز کھا رہے ہیں اور یہاں ایک کوبرا گلاس سے پانی پی رہا ہے۔

     

    یوزر نے مزید لکھا کہ سانپ کو بھی ہائیڈریٹ ہونا پڑے گا ، لیکن وہ پانی پینے کے لئے منہ نہیں کھولتے بلکہ ان کے منہ کے پاس ایک چھوٹا نتھنا ہے جس سے وہ پانی چوستے ہیں۔

    یہ پوسٹ پرانی ہے، صارف نے گزشتہ سال اگست میں محترمہ نندا کو جواب دیا تھا۔ لیکن یہ ایک بار پھر وائرل ہو رہا ہے کیونکہ یہ گرمیوں کا موسم ہے اور بہت کم لوگ دراصل پیاسے کوبرا سانپ کو دیکھنے کی امید کرتے ہیں۔

    اگرچہ شدید گرمی میں ہر جانور کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی پینا فطری ہے، لیکن اس ویڈیو نے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی ریڑھ کی ہڈی کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔

  • پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    کراچی:پانی کی غیر منصفانہ تقسیم روکنے کےلیے سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ:سندھ حکومت کی جانب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

    خط میں سندھ کے پھلیلی کینال، اکرم واھ، گونی کینال ڈویژن، روھڑی کینال سرکل، نصیر واھ، ھالا واھ، داد ڈویژن، کے بی فیڈر سمیت تقریباً تمام پانی کی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔اس سے قبل سندھ حکومت کی گزارش پر مئی کے پہلے ھفتے میں تھر ڈویژن کے جمرائو اور مٹھرائو کینالز پر رینجرز تعینات ہو چکی ہے۔

  • ڈیموں میں پانی کی آمد میں اضافہ

    ڈیموں میں پانی کی آمد میں اضافہ

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ، منگلا اور چشمہ ریزوائر ڈیمز میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 4 لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ 78 ہزار ایکٹرفٹ ہے منگلا ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 61 ہزا ر ایکڑ فٹ ہے جبکہ تربیلا میں آج پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 82 ہزار ایکٹرفٹ ہے-

    عمران خان سےآئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی: نواز شریف

    ترجمان واپڈا کے مطابق نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 34 ہزارکیوسک اور اخراج 34 ہزارکیوسک ہے دریائے چناب میں پانی کی آمد 27 ہزارکیوسک اور اخراج 19 ہزار100کیوسک ہے جبکہ چشمہ میں پانی کی آمد 85 ہزارکیوسک اور اخراج 91ہزارکیوسک ہے-

    اسی طرح منگلا میں پانی کی آمد 38ہزار200کیوسک اور اخراج 33 ہزار300کیوسک ہےجبکہ تربیلا میں پانی کی آمد 83 ہزار100کیوسک اور اخراج 75 ہزارکیوسک ہے-

    پاک فوج ملک وقوم کی سلامتی کی ضامن:سیاست کریں مگرپاک فوج پرنہیں:زیبا بختیار

    دوسری جانب کراچی میں رات گئےبھی شہر کےمختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیماڑی بھٹہ ویلیج، لیاقت آباد سی ون ایریا، اورنگی چشتی نگر، کھارادر، نیاآباد کھڈا مارکیٹ میں رات کے اوقات میں شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

    ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، موجودہ صورتحال کے پیش نظر عارضی طور پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھانا پڑ سکتا ہے، ممکنہ متاثرہ صارفین کو بذریعہ ایس ایم ایس مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

    ہاتھ جوڑکرکہتا ہوں کہ خداکیلئےنفرتوں کےبیج بوناختم کردیں:مفتی تقی عثمانی کا پیغام

  • پاکستان بھر میں پانی کی قلت کی وجہ سے کاشت کار مسائل کا سامنا کررہے ہیں:بلاول بھٹو

    پاکستان بھر میں پانی کی قلت کی وجہ سے کاشت کار مسائل کا سامنا کررہے ہیں:بلاول بھٹو

    لاہور:بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پانی کی قلت کی وجہ سے کاشت کار مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک میں پانی کی قلت پر کہا کہ ملک بھر میں پانی کی قلت کی وجہ سے عوام بالخصوص کاشت کار مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کی ایک بڑی وجہ ارسا کی جانب سے صوبوں کو پانی کے جائز حصے کی فراہمی میں خلل ہے، کھاد کے بحران اور پانی کی ترسیل کے نظام میں گزشتہ حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے خاص طور پر زیریں علاقوں میں فصلوں کو نقصان ہوا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت نے گیس پاور جنریشن پلانٹس لگانے کی تجویز دی تو ماضی کی حکومتوں نے اس منصوبے کو رد کردیا۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں ایک فوڈ سیکیورٹی ٹاسک فورس بنائی جائے تاکہ ہم ممکنہ غذائی بحران کا مقابلہ کرسکیں۔

    پانی کا بحران بڑھتا جارہاہے اوراس بحران کی وجہ سے ملک بھر میں گندم کی پیداوار میں کمی کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے ،اطلاعات کے مطابق ملک میں پانی کا بحران سنگین ہوگیا ہےجس کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔

     

     

    ارسا نے صوبوں کو خبردار کیا ہے اس وقت پانی کی قلت 45 فیصد تک جاپہنچی ہے، حصے کا پورا پانی نہ ملنے سے سندھ کی زرعی معیشت کو خطرہ ہے۔

    پاکستان میں پانی کی کمی سے پیدا ہونے والے بحران کے حوالےسے مشیر زراعت سندھ منظور وسان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سندھ میں پانی کی کمی روز بروز بڑھتی جارہی ہے،پانی قلت سے گنے، آم، چاول، مرچ، زیتون اور کھجور کے باغات کو نقصان ہوسکتا ہے۔

    پاکستان میں اس بحران کی وجہ سے کس حد تک گندم کی کمی ہوسکتی ہے اس سلسلے میں دوسری جانب مزمل چیپل چئیر مین سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ رواں سال گندم کی پیداوار میں کمی کو پورا کرنے کے لیے درآمد پر انحصار بڑھ گیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق رواں سال 22سے 23 ملین ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہے۔

    مزمل چیپل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں بھی گندم کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں گندم کی قیمت 500 ڈالر پر ٹن ہو گئی ہے، فوری طور پر درآمدی پالیسی بنا کر گندم بحران کو روکا جا سکتا ہے۔

    سیریل ایسوسی ایشن نے کہا کہ نجی شعبے کو درآمد کی اجازت دی جائے تا کہ گندم کے ممکنہ بحران کو روکا جا سکے۔انکا مزید کہنا تھا کہ پیداوار میں کمی کے باعث حکومتی اداروں کو بھی گندم کی خریداری مکمل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    ادھر دوسری طرف وفاقی وزیرمفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کو سستا آٹے فراہم کرنے کے حوالے سے سبسڈی دینے پرغور کررہی ہے ،

  • صحرائے چولستان میں شدید گرمی،تالاب خشک ہوگئے،پینے کا پانی نایاب،درجنوں بھیڑیں مر گئیں

    صحرائے چولستان میں شدید گرمی،تالاب خشک ہوگئے،پینے کا پانی نایاب،درجنوں بھیڑیں مر گئیں

    صحرائے چولستان میں شدید گرمی کی لہرمویشیوں کے لیے جان لیوا بن گئی-

    باغی ٹی وی : صحرائےچولستان میں شدید گرمی میں تالاب خشک ہوگئے ہیں اورپینے کاپانی نایاب ہوچکا ہے اورکنووں کا پانی کڑوا ہوجانے سے پانی ناپید ہونے لگا، جس کے باعث تین دن کے دوران درجنوں بھیڑیں مرگئيں۔

    مقامی افراد کہنا ہے کہ صحرائی علاقہ ٹوبہ نواں کھوہ اورٹوبہ سالم سر میں درجنوں بھیڑیں ہلاک ہوگئی ہیں۔

    ڈائریکٹرلائیواسٹاک ڈاکٹر سہیل کا کہنا ہے کہ جانوروں کی اموات چولستان کے دور دراز علاقوں میں ہوئیں،جہاں سےاعدادوشمار اکٹھاکر رہےہیں ٹیمیں تین دن سے صحرا میں موجود ہیں اورجانوروں کی ویکسینیشن کر رہے ہیں مویشی مالکان کو گرمی سے بچاؤ کے لیے تدابیر اور آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔

    وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ تالابوں کاپانی خشک اور کنووں کاپانی کڑوا ہوچکا ہے، ایسے میں مویشی مالکان جانوروں کو آبادیوں کے قریبی علاقوں میں منتقل کریں۔

    چین کے ساتھ پاکستان کے تعاون کو مزید بلندی پر لے جائیں گے،وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ 11 مئی سے گرمی زیادہ شدت کے ساتھ سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے دادو، جیکب آباد، لاڑکانہ، سکھر اور دیگر علاقوں میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دیگر اضلاع میں پارہ 45 ڈگری تک جاسکتا ہے 12 سے 14 مئی کے دوران کراچی میں درجہ حرارت 40 یا اس زیادہ ہونے کا خدشہ ہے سندھ میں گرمی کی لہر 16 مئی تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • وزیراعلیٰ کاکراچی اور اندرون سندھ پینے کے پانی کی قلت پر نوٹس

    وزیراعلیٰ کاکراچی اور اندرون سندھ پینے کے پانی کی قلت پر نوٹس

    کراچی :وزیراعلیٰ کاکراچی اور اندرون سندھ پینے کے پانی کی قلت پر نوٹس ،اطلاعات کے مطابق ید مراد علی شاہ کی زیرصدارت ہونے والے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے اجلاس میں کراچی میں پینے کے پانی کی چوری، رساؤ اور اس کے ضیاع کو روکنے کے لیے ٹاسک فورس بھی قائم کردی ہے۔

    اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ناصرحسین شاہ، شرجیل میمن، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات، وقارمہدی، نجمی عالم کے علاوہ واٹربورڈ کے حکام اور دیگرمتعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹاسک فورس کا چیئرمین وزیربلدیات ناصرحسین شاہ کو مقرر کیا۔ جب کہ دیگرارکان میں کمشنرکراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، واٹربورڈ کے چیف انجنیئرز، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقارمہدی اورنجمی عالم بھی شامل ہیں۔

    ٹاسک فورس پولیس، رینجرزاورمتعلقہ انجنیئرزکے ساتھ آئندہ دوروزمیں غیرقانونی کنیکشنز،غیرقانونی ہائیڈرنٹس اورپانی کی چوری کرنے والے افرد کے خلاف کارروائی کرے گی۔

    وزیر اعلی سندھ نے واٹربورڈ کے بلک اورڈسٹری بیوشن سسٹم پرالگ الگ مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ہدایات کے مطابق پانی کے مختلف سسٹم پرمیٹرز نصب کیے جائیں گے۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کے مختلف علاقوں کوآبادی کے حساب سے پانی مہیا کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واٹر بورڈ کو اپنے پورے ڈسٹری بیوشن نظام کو جدید میپنگ سسٹم کے ذریعے اجاگر کرنے کا حکم دیا۔

    اس موقع پروزیر اعلیٰ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ واٹربورڈ کومانیٹرنگ سسٹم قائم کرنا ہوگا، اس کے بغیرکراچی میں پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے دریائے سندھ کے دائیں طرف واقع علاقوں میں پینے کے پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ آب پاشی کو ضروری اقدامات کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں پینے کا پانی پہچانے کی ہدایت بھی کی۔

    اندرون سندھ کے علاقے ٹھٹہ، سجاول، بدین اوردیگراضلاع اس وقت پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہےہیں۔

    اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ محکمہ آب پاشی مذکورہ علاقوں کے کینال سسٹم میں فوراً پانی جاری کرے، لوگوں کوپینے کا پانی ہرصورت ملنا چاہئے، کل شام تک پانی پہنچا کرمجھے رپورٹ کریں۔

  • ہنزہ: شیشپر گلیشیرمیں پانی کا اخراج تیز،پاکستان، چین کو ملانے والا مین پل دریا برد

    ہنزہ: شیشپر گلیشیرمیں پانی کا اخراج تیز،پاکستان، چین کو ملانے والا مین پل دریا برد

    ہنزہ:جھیل میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا جس کے باعث شیشپر گلیشیر اوٹ برسٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین کو ملانے والا مین پل دریا برد ہو گیا۔اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے متعلقہ حکام اس وقت علاقے میں موجود ہیں اور حفاظتی اقدامات کررہے ہیں

    گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے شیشپر گلیشیر اوٹ برسٹ ہوگی میں پانی کا اخراج زیادہ ہونے کی وجہ سے نالے کے دونوں اطراف زیر کاشت شدہ زمینں اور مکانات تباہ ہو گئے، شاہراہ قراقرم کو بھی شدید نقصان پہنچا، پاکستان اور چین کو ملانے والا مین پل بھی پانی میں بہہ گیا جس کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف سینکڑوں سیاح پھنس گے۔

    پاک چین راہداری کا اہم اور تاریخی پل جو شاہراہ قراقرم کو ہنزہ ملانے کے لیے اہم جز تھا جس کو محفوظ بنانے کیلئے کروڑوں روپے خرچ ہوئے تھے پل کو نہیں بچا سکے۔

    شیشپر نالے کے اطراف شاہراہ قراقرم بھی کٹاو کے باعث دریا برد ہوچکی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ نے نالے کے اطراف ایمرجنسی نافذ کر کے بروقت گھرانوں کو خالی کرایا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کے اور لوکل ٹرانسپورٹ کو نگر شاہراہ کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    ضعلی انتظامیہ کا کہنا ہے اس وقت ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ خاندانوں کو شلٹر اور خوراک فراہم کی جارہی ہیں اور شاہراہ قراقرم کو عارضی بحالی کے این ایچ اے سے رابطہ کیا جا رہا ہے، جلد از جلد شاہراہ قراقرم کو بحال کرنے کے لیے عارضی پل لگا کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • پاکستان کو پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے:ایشیائی ترقیاتی بینک

    پاکستان کو پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے:ایشیائی ترقیاتی بینک

    اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ پانی کی بڑھتی ہوئی مسابقت سے نمٹنے اور موجودہ اور مستقبل میں آلودگی، گندے پانی، سیلاب، خشک سالی اور زمینی انحطاط کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تمام شعبوں میں جامع طرز حکمرانی کی ضرورت ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے نئے خانکی بیراج پراجیکٹ کی تکمیل سے متعلق کیس اسٹڈی میں کہا ہے کہ مربوط انتظام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے مناسب پالیسیاں وضع کی جائیں گی۔

    اس ہفتے جاری ہونے والی کیس اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ نئے خانکی بیراج جیسے منصوبے مستقبل میں آبپاشی کے منصوبوں کو ڈیزائن کرنے میں ترقیاتی شراکت داروں کی رہنمائی کے لیے ماڈل کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

    اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مستقبل کے آبپاشی کے منصوبوں کو بھی کئی شعبوں بالخصوص زراعت میں پانی سے متعلق مسائل کے حل کے ذریعے آگاہ کرنے کی ضرورت ہوگی، بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کو مزید جامع بنانے کے لیے، تعلیم، مالیات اور صحت جیسے شعبوں میں تکمیلی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہوگی اور یہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے کثیر شعبوں کے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اقدامات محفوظ خوراک کی اہم کثیر جہتی خصوصیات کو منظم طریقے سے حل کرتے ہیں۔

    محکمہ آبپاشی کے ایک مطالعہ نے اس بات کا بہت زیادہ امکان ظاہر کیا تھا کہ ایک بڑا سیلاب خانکی ہیڈ ورکس کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کے پشتوں کو توڑ سکتا ہے، جس سے فصلوں اور مویشیوں سمیت بہت زیادہ جانوں اور املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    خطرے کو بھانپتے ہوئے پنجاب حکومت نے خانکی ہیڈ ورکس کو نئے بیراج سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ 100 سال بعد واپس آنے والے سیلاب کی محفوظ گزرگاہ، کمانڈ ایریا میں آبپاشی کے پانی کی پائیدار فراہمی اور لوگوں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے تحفظات نے بھی اس فیصلے کو متاثر کیا کیونکہ 2020 کے گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر رکھا ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پرانے خانکی ہیڈ ورکس کے نیچے 275میٹر پر دریائے چناب پر نئے خانکی بیراج کی تعمیر کے لیے پاکستان کو 27کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کیا۔