Baaghi TV

Tag: پاکستانی فلمز

  • آج جو فلمیں بن رہی ہیں وہ فلمیں کم اور ڈرامہ زیادہ لگ رہی ہیں معمر رانا برس پڑے

    آج جو فلمیں بن رہی ہیں وہ فلمیں کم اور ڈرامہ زیادہ لگ رہی ہیں معمر رانا برس پڑے

    نوے کی دہائی کی پاکستانی فلموں میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہونے والے معمر رانا آج کی فلموں پر برس پڑے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہے آج جو فلمیں بن رہی ہیں وہ ڈرامہ زیادہ اور فلمیں کم لگتی ہیں .انہوں نے کہا کہ فلم اور ڈرامے کی تکنیک میں‌فرق ہوتا ہے اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ میرے اس نقطے کو سمجھنتے ہیں کہ میں اصل میں‌کہنا کیا چاہ رہا ہوں وہ اتفاق کریں گے کہ فلم اور ٹی وی کی تکینیک میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے نئے فلم میکرز کو اس فرق کو سمجھنا چاہیے. میں نئے کام کرنے والوں پر یا آج جو کام کررہے ہیں ان پر تنقید نہیں‌کررہا ہوں لیکن میں سمجھانے

    کی کوشش کررہا ہوں کہ فلم فلم لگنی چاہیے اور ڈرامہ ڈرامہ لگنا چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ فلمیں زیادہ سے زیادہ بننی چاہیں اور بن بھی رہی ہیں اچھی بات یہ ہے کہ بزنس بھی اچھا کررہی ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ اگر فلم فلم لگے ڈرامہ نہ لگے. یاد رہے کہ معمر رانا کی رواں برس پنجابی فلم گوگا لاہوریا ریلیز ہوئی تھی اس فلم نے پنجاب کی حد تک اچھا بزنس کی تھا لیکن بہت سارے لوگوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ 2022 میں بھی گوگا لاہوریا جیسی فلمیں بنائی جا رہی ہیں.

  • ریشم نے کتابوں کو تنہائی کا ساتھی قرار دیدیا

    ریشم نے کتابوں کو تنہائی کا ساتھی قرار دیدیا

    فلم ”جیوا” سے کیرئیر کی شروعات کرنے والی اداکارہ ریشم نے فلم انٍڈسٹری میں ہیروئین کا تصور بالکل تبدیل کرکے رکھ دیا تھا. ریشم کا شمار ان اداکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلا اپنے بولنے چالنے پر توجہ دی اور سیکھا کہ دنیا کے ساتھ کیسے چلنا ہے. ریشم اکثر اپنے گھر پر کوکنگ کرتی نیاز تیار کرتی ہوئی نظر آرہی ہوتی ہیں. ھال ہی میں اداکارہ ریشم نے ایک انٹرویودیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ آج اچھے ڈرامے بن رہے ہیں ان میں گلیمر بھی کافی زیادہ ہے لیکن یہ بھی زہن میں رہنا چاہیے ہر کوئی گلیمر کو پسند نہیں کرتا. انہوں نے مزید کہا کہ ٹی وی ڈرامے معاشرے کی اصلاح

    کا بہترین ذریعہ ہیں اور سکرپٹ بھی پھر اسی حساب سے لکھا جانا چاہیے. اداکارہ ریشم نے مزید کہا کہ میں نے ٹی وی اور ڈرامے دونوں میں کام کیا ہے اور میں نے جتنا بھی کام کیا ہے اس پر بہت مطمئن ہوں. اب بھی اگر اچھا کام ملے گا تو یقینا کروں گی. جو لوگ ریشم کو قریب سے جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ ریشم کو ادب سے خاصا لگائو ہے وہ اکثر خوبصورت اشعار اور غزلیں بھی سنا رہی ہوتی ہیں. اداکارہ نے کہا کہ کتابیں تنہائی کا بہترین ساتھی ہیں کتابوں سے بہتر کوئی دوست نہیں‌ہو سکتا. کتابوں سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں وہ الگ بات ہے کہ اب کتابیں‌پڑھنے کا بہت زیادہ رجحان باقی نہیں رہ گیا.

  • آج بننے والی فلموں کو ہم مکمل فلم نہیں کہہ سکتے  لیلی

    آج بننے والی فلموں کو ہم مکمل فلم نہیں کہہ سکتے لیلی

    نوے کی دہائی کی خوبصورت اداکارہ لیلی جو ایک عرصہ سے سٹیج ڈراموں سے منسلک ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک فنکارکوفنون لطیفہ کے تمام شعبوں میں کام کرنا چاہیے لیکن ہمارے ہاں کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک اداکار اگر ٹی وی ڈراموں‌سے شہرت حاصل کرلیتا ہے تو وہ وہیں تک خود کو محدود کر لیتا ہے اور فلموں میں‌ چلا جائے تو پھر وہ ٹی وی میں واپسی نہیں کرتا.یہ بہت ہی غلط رجحان ہے ایسا نہیں‌ ہونا چاہیے. لیلی نے ایک سوال کے جواب میں‌ کہا ہے کہ پاکستان میں‌جو اس وقت فلمیں بن رہی ہیں انہیں‌ ہم مکمل فلمیں‌ نہیں‌ کہہ سکتے یہ فلمیں اس لئے بہتر نظر آرہی ہیں کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان کے

    بنایا جا ررہا ہے. ساتھ ہی لیلی نے پاکستان میں‌اچھی فلموں‌کے دور کی واپسی کی بھی امید کی اور کہا ہے کہ جیسا کام ہورہا ہے پاکستانی فلموں کا دور جلد واپس آجائیگا. لیلی نے کہا کہ میں‌وہ اداکارہ ہوں جس نے فلمی صنعت سے کیرئیر شروع کیا لیکن بعد میں فنون لطفیہ کے دوسرے شعبوں میں بھی قسمت آزمانے کی کوشش کی، میں نے خود کو فلموں تک محدود نہیں کیا اور نہ ہی یہ سوچا کہ میں فلموں‌کے علاوہ کچھ نہیں‌کروں گی. میں نے ڈرامے بھی کئے سٹیج بھی کیا اور میں خوش ہوں کہ میں نے فن کی خدمت کی ہے.

  • شمیم آراء کی آج 6 ویں برسی

    شمیم آراء کی آج 6 ویں برسی

    پاکستان فلم انڈسٹری کی نامور فنکارہ شمیم آراء جن کی بے مثال اداکاری نے انہیں کم ہی عرصے میں نمبر ہیروئینز کی صف میں لا کھڑا کیا آج ان کی چھٹی برسی ہے. شمیم آراء نے ہدایتکاری بھی کی اور کافی اچھی فلمیں بنائیں نوے کی دہائی میں ان کی ہدایتکاری میں بنی فلموں نے شائقین کو سینما گھروں تک آنے پہ مجبور کر دیا. پتلی بائی سے شمیم آراء بننے والی اس اداکارہ نے فلم کنواری بیوہ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا.فلم سہیلی نے تو ان کے کیرئیر کی ڈگر ہی بدل ڈالی.1960 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں بہترین اداکاری پر شمیم آراء کو نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. شمیم آراء کی فلم نائلہ کو کون بھول سکتا ہے، انہوں نے ایک کے بعد

    ایک سپر ہٹ فلم دی ان کی جوڑی ویسے تو ہر ہیرو کے ساتھ سراہی گئی لیکن وحید مراد کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت زیادہ مقبولیت ملی. وحید مراد شمیم آراء کو کزن سسٹر کہا کرتے تھے.شمیم آراء کی فلمیں اور ان کے کردار آج بھی شائقین کے دلوں پر نقش ہیں. فلم لاکھوں‌میں ایک بھی شمیم آراء کے کیرئیر میں بہت اہمیت کی حامل ہے. شمیم آراء نے بطور ہیروئین آخری بار پنجابی فلم تیس مار خان میں کام کیا. شمیم آرا ء نے نوے کی دہائی ریما ،صاھبہ ریمبو اور بابر علی کے ساتھ یادگار فلمیں بطور ہدایتکارہ بنائیں. شمیم آراء نے بھی کیرئیر میں اتار چڑھائو دیکھے انکی شروع کی فلمیں بہت کامیاب نہ رہیں لیکن کامیابی ملی تو پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا.یاد رہے کہ شمیم آرا طویل علالت کے بعد 5 اگست 2016 میں لندن میں78 برس کی عمر انتقال کر گئیں تھیں.

  • سید نور حالیہ دور کی کس اداکارہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں سید نور

    سید نور حالیہ دور کی کس اداکارہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں سید نور

    سید نور پاکستان فلم انڈسٹری کے منجھے ہوئے ہدایتکار ہیں ان کے کریڈٹ پر زبردست فلمیں ہیں ان کی بنائی ہوئی فلمیں نوے کی دہائی میں فیملیز سینما جا کر دیکھا کرتی تھیں. سید نور کی فلم چوڑیاں نے ریکارڈ توڑ‌بزنس کیا پنجابی اس فلم کا ہر گیت بھی فلم جتنا ہی مقبول ہوا. فلم میں صائمہ اور معمر رانا کی جوڑی شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں بہت کامیاب رہی. رواں برس سید نور کی فلم تیرے باجرے دی راکھی ریلیز ہوئی اس میں انہوں‌نے معروف ٹک ٹاکر جنت مرزا کو متعارف کروایا.جیسا کہ سید نور نے اپنی بہت ساری فلموں میں ہیروئنز کو

    متعارف کروایا. فلم قائداعظم زندہ باد کی پرموشنز کے دوران ماہرہ خان نے سید نور کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اس حوالے سےحال ہی میں سید نور سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ماہرہ خان حالیہ دور کی بہترین اداکارہ ہیں ان کے ساتھ کام کرنا فخر کی بات ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے کام کی تعریف کی، میرے پاس جیسے ہی کوئی اچھا سکرپٹ آئیگا میں یقینا ماہرہ خان کے ساتھ کام کرنا چاہوں گا. سید نور نے مزید کہا کہ ماہرہ خان نے ابھی تک جتنا کام کیا ہے بہت اچھا کیا ہے وہ ہیروئین میٹریل ہیں لوگ انہیں پسند کرتے ہیں لہذا ماہرہ خان کے ساتھ کام کرنا میرے لئے بھی فخر کی بات ہو گی.

  • لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کی امریکہ میں‌سکریننگ

    لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کی امریکہ میں‌سکریننگ

    عید الاضحی پر دو بڑی فلمیں لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد ریلیز ہوئی ہیں پاکستان میں یہ فلمیں کامیابی سے جاری ہیں، لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کے مجموعی طور پر بزنس کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ لندن نہیں جائونگا قائداعظم زندہ باد سے آگے ہے. لوگوں کی ایک بڑی تعداد دونوں فلموں‌کو دیکھنے جا رہی ہے یہاں تک کہ ہالی وڈ فلم تھور کی موجودگی میں یہ دونوں فلمیں بزنس کررہی ہیں. لندن نہیں جائونگا نے تو لندن اور دبئی میں ریکارڈ توڑ بزنس کیا ہے اسی طرح سے قائداعظم بھی باہر کے ملکوں میں اچھا بزنس کررہی ہے. لندن نہیں جائونگا کی سب سے پہلے سکریننگ دبئی میں کی گئی جبکہ قائداعظم زندہ باد کی سکریننگ سب سے پہلے لاہور میں کی گئی. اب ان دونوں فلموں کی امریکہ میں

    سکریننگ کی جا رہی ہے. دونوں فلموں کے ایکٹرز،پرڈیوسر اور ڈائریکٹر امریکہ میں موجود ہیں . لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کی گزشتہ روز ہیوسٹن میں سکریننگ کی گئی جہاں اپنے پسندیدہ فنکاروں‌کو ملنے کےلئے پاکستانیوں اور پاکستانی فلموں کو پسند کرنے والے بڑے تعداد میں پہنچے جنہوں نے نہ صرف فلمیں دیکھی ہیں بلکہ سراہ بھی رہے ہیں. اب دونوں فلموں کی ٹیمیں ڈیلیس میں موجود ہیں اسی طرح سے امریکہ کی مختلف ریاستوں میں فلم کی سکریننگ کی جائیں گی. دونوں فلموں کو بڑی تعداد میں لوگوں کی ہر اس جگہ پر سپورٹ مل رہی ہے جہاں یہ ریلیز کی گئی ہے اور جہاں جہاں اردو فلموں‌کو پسند کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں .

  • نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں صائمہ نور

    نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں صائمہ نور

    پنجابی فلموں کی سپر ہٹ اداکار ہ صائمہ نور کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ہی نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس سٹیج سے گزر کر ہی یہاں تک پہنچی ہیں۔ایک انٹرویو میں صائمہ نور نے کہا کہ میں بھی ایک وقت میں نئی تھی اور اپنے سینئرز کے ساتھ کام کیا کرتی تھی۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں بہت زیادہ پوٹینشل ہے اگر اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی فلمیں بھی بنیں تو فلم انڈسٹری پھل پھول سکتی ہے۔ صائمہ نور نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو اس حوالے سے آگے آنا اچاہیے اور سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ پنجابی سینما کو بچایا جا سکے ۔ مزید کہا کہ فنکار کبھی بھی

    ریٹائرڈ نہیں ہوتا اور میں تب تک کام کرتی رہوں گی جب تک میری زندگی ہے،میں اس شعبے سے الگ ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ یاد رہے کہ اداکارہ صائمہ نور کی کئی برسوں کے بعد عید الفطر پر فلم تیرے باجرے دی راکھی ریلیز ہوئی تھی اس فلم نے پنجاب میں بہتر بزنس کیا تھا لیکن مجموعی طور پر فلم کا بزنس بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا۔ صائمہ بہت کم انٹرویوز دیتی ہیں اور فلمی تقریبات میں تو نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہیں ، یہاں تک کہ صائمہ اپنی ہی فلم تیرے باجرے دی راکھی کی پرموشنز میں بھی کم ہی نظر آئیں تھیں۔ اس فلم میں ان کے ساتھ مشہور ٹک ٹاکر جنت مرزا بھی تھیں۔

  • تہواروں کی بجائے سارا سال فلمیں ریلیز کی جانی چاہیں فہد مصطفی

    تہواروں کی بجائے سارا سال فلمیں ریلیز کی جانی چاہیں فہد مصطفی

    اداکار و میزبان فہد مصطفی جنہیں بہت پسند کیا جاتا ہے انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ حال ہی میں‌ جو فلمیں‌ ریلیز ہوئی ہیں وہ بہت اچھا بزنس کررہی ہیں اور فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں کے لئے یہ اچھی علامت بھی ہے. یعنی کہ اگر فلم اچھی بنی ہو تو وہ نہ صرف چلتی ہے بلکہ ہالی وڈ کی فلموں کا بھی مقابلہ کر جاتی ہے.انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اگر ہم فلم انٍڈسٹری کو ترقی کی راہوں پر لیکر جانا چاہتے ہیں تو بہت ضروری ہے کہ

    تہواروں کی بجائے سارا سال ہی فلمیں ریلیز کی جائیں. اس طرح‌سے پاکستانی شائقین کا پاکستانی فلموں پر اعتماد بڑھے گا.فہد مصطفی نے مزید کہاکہ پاکستان میں مختلف مقامات پر شوٹنگ کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ مشکلات ہیں حکومت کو چاہیے کہ تمام محکموں کو آڈر کرے اور کہے کہ اگر کوئی فلمی یونٹ ان کے پاس آئے تو نہ صرف وہ اجازت دیں بلکہ جتنی ہو سکے مدد بھی کریں. اچھی فلم بنانے کےلئے ضروری ہے کہ سب مل کر کام کریں اور اگر کسی قسم کی رکاوٹ کہیں بھی آرہی ہے اسکو دور کیا جائے. فہد مصطفی نے مزید کہا کہ عید پر ریلیز ہونے والی فلموں کے اچھے بزنس نے فلم سازوں کو بہت حوصلہ دیا ہے.انہوں‌نے مزید بھی اچھا کام کرنے کا عزم ظاہر کیا.

  • آج بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے قوی خان

    آج بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے قوی خان

    سینئر اداکار قوی خان کہتے ہیں کہ مجھے یہ تنقید بے جا لگتی ہے کہ جس میں کہا جا تا ہے کہ آج ڈرامہ اچھا نہیں بن رہا آج ڈرامہ بہت اچھا بن رہا ہے میں نے حال ہی میں ایک ڈرامہ کیا ہے کیا کمال کی کہانی اور کام کا انداز ہے.آج سبھی فنکار بہت اچھا کام کررہے ہیں میں کسی ایک کا نام اس لئے نہیں‌لوں گا کیونکہ میں مقابلے پر یقین نہیں رکھتا.سب ہی فنکار ہیں اور سب ہی کام کررہے ہیں تو کیوں‌میں کسی ایک کا نام لیکر کسی کو اہم اور کسی کو غیر اہم کروں . قوی خان نے کہا کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ہمارے دورے کے کام کے اپنے تقاضے تھے آج دور بدل چکا ہے آج کام کے تقاضے کچھ اور ہیں .کل بھی کام اچھا ہو رہا تھا آج بھی اچھا ہو رہا ہے.قوی خان نے مزید کہا کہ آج جو بھی فلمیں بن رہی ہیں میں ان کو بھی دیکھ رہا ہوں ڈائریکٹرز رائٹرز کام کے ساتھ انصاف کررہے ہیں.

    قوی خان نے کہا کہ مہنگائی ہمارے دور میں بھی تھی آج بھی ہے کل بھی سیاستدان عوام کے لئے کام کررہے تھے آج بھی عوام کے لئے کام کررہے ہیں ہم کیوں کسی کو برا کہیں کیوں کسی ایک کو اچھا باقیوں کوبرا کہیں. مقابلے بازی کے اس ماحول نے سوسائٹی میں بہت سارا انتشار پیدا کر دیا ہے، آپ پسند کریں کسی بھی سیاستدان کو لیکن کسی ایک کو اچھا اور دوسرے کو برا کہہ کر الگ ماحول نہ بنائیں.

  • سٹیج کی رونقیں کب بحال ہوں گی کے افتخار ٹھاکر نے کر دیا بڑا دعوی

    سٹیج کی رونقیں کب بحال ہوں گی کے افتخار ٹھاکر نے کر دیا بڑا دعوی

    سٹیج کے نامور اداکار افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ دو سال کے اندر اندر سٹیج کی حالت بہتر ہو جایگی اور فیملیاں بالکل پہلے کی طرح اسکا رخ کریں گی. اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کامیڈین افتخار ٹھاکر نے کہا کہ سٹیج فحش رقص سے نہیں چل سکتا میں یہ بات مانتا ہوں اور اس طرح کے ڈانس بالکل غیر ضروری ہیں. سٹیج کی تباہی اس وقت ہوئی جب یہاں انویسٹر گھسا جہاں بھی انویسٹر گھسے گا اسکا حال یہ ہو گا جو سٹیج کا ہوا. اچھا کونٹینٹ ہی سٹیج کو بچا سکتا ہے جو لوگ اچھا کونٹینٹ بنائیں گے وہ تو بچ جائیں گے اور اسی انڈسٹری میں رہیں گے باقیوں کو یقینا گھر جانا پڑے گا .اگر اچھا کونٹینٹ سٹیج پر لایا جائے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ دو برس میں سٹیج کی حالت نہ صرف بدل جائیگی بلکہ فیملیاں اسکا رخ بھی کرنے لگیں گی.

    افتخار ٹھاکر نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ آج کل جو فلمیں بن رہی ہیں ٹیکلنکل اعتبار سے بہت زبردست ہیں مجھے بہت امید ہے کہ ہماری فلم کا ستارہ ایک بار پھر چمکے گا. اس وقت ہر کوئی اچھی کوشش کر رہا ہے بس فلم کو فلم سمجھنا چاہیے ، لاہور یا کراچی کی نہیں بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری کی فلم کہلائی جانی چاہیے، میں تو یہی کہوں گا کہ سب مل کر کام کریں. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ سٹیج پر کامیڈینز کی واپسی جو ہوئی ہے اس کا سہرا میں سہیل احمد کے سر رکھتا ہوں.