Baaghi TV

Tag: پاکستانی فلمز

  • سید نورکوکونسی تین ہیروئنز پسند ہیں سن کر رہ جائیں آپ حیران

    سید نورکوکونسی تین ہیروئنز پسند ہیں سن کر رہ جائیں آپ حیران

    سید نور جنہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو بے شمار اردو اور پنجابی سپر ہٹ فلمیں دیں ۔ انہوں نے نوے کی دہائی میں بہت ساری ہیروئنز کے ساتھ کام کیا کئی ہیروئنز کو متعارف بھی کروایا ۔ پھر جب انہوں نے اپنی اردو فلم گھونگھٹ میں فلمسٹار صائمہ کو لیا تو پھر انکی ہر فلم میں صائمہ ہی نظر آئیں ۔ یہاں تک کہ سید نور نے صائمہ سے شادی کر لی کئی سال تک یہ شادی خفیہ رکھی لیکن آخر کار شادی کا اعلان کرنا پڑا۔ سید نور اور صائمہ ایک دوسرے کو بے حد پسند کرتے ہیں ۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں سید نور ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری پسند کی جو تین ہیروئنز ہیں ان میں پہلے نمبر پر ہیں صائمہ جی دوسرے نمبر پر بھی صائمہ جی ہیں تیسرے نمبر پر بھی

    صائمہ جی ہیں۔ سید نور نے کہا کہ اس انڈسٹری میں ہے کوئی صائمہ جیسی ہیروئین نہیں۔ سید نور نے کہا کہ صائمہ نہ صرف اچھی اداکارہ ہیں بلکہ اچھی انسان بھی ہیں ، اب تو میرے بچے بھی اس سے بہت مانوس ہیں۔ سید نور نے مزیدکہا کہ ابھی جو فلمیں بن رہی ہیں اچھی کوشش ہے بس یہ جاری رہنی چاہیے۔ یاد رہے کہ سید نور نے صائمہ کے ساتھ بہت ساری فلموں میں کام کیا جس کی وجہ سے انڈسٹری میں ان پر اعتراضات بھی رہے کہ یہ صائمہ کے علاوہ کسی ہیروئین کے ساتھ کام نہیں‌ کرتے.

  • ڈرامہ سیریل ہمسفر نے فواد خان کی زندگی کیسے بدلی، انہی کی زبانی

    ڈرامہ سیریل ہمسفر نے فواد خان کی زندگی کیسے بدلی، انہی کی زبانی

    ہر آرٹسٹ کی زندگی کا کوئی ایسا پراجیکٹ ضرور ہوتا ہے جو اسکی زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے. اگر ہم کہیں کہ ڈرامہ سیریل ہمسفر نے فواد خان کی زندگی بدل کر رکھ دی ان کا کیرئیر عروج پہ پہنچا دیا تو بےجا نہ ہو گا. اور فواد خان بھی اس چیز کو مانتے ہیں. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ڈرامہ سیریل ہمسفر نے میری زندگی بدل کر رکھ دی ہے میری کیا ماہرہ خان کی بھی زندگی بدل کر رکھ دی. میں مانتا ہوں کہ اس پراجیکٹ نے

    ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور میں آج تک اس ڈرامہ کی تمام ٹیم کو یاد رکھے ہوئے ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں.اس ڈرامے کے بعد شاید میں نے سٹار ڈم دیکھا. جہاں جاتا تھا لوگ پہچانے تھے. آج جس بھی مقام پر ہوں اس میں ہمسفر کا بہت بڑا ہاتھ ہے. یوں فواد خان نے بتا دیا کہ ڈرامہ سیریل ہمسفر نے ان کی زندگی کو کس طرح سے بدل کر رکھ دیا کہ بالی وڈ تک ان کی شہرت جا پہنچی آج فواد خان صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بالی وڈ کے بھی سپر سٹار ہیں. یاد رہے کہ ڈرامہ سیریل ہمسفر میں ماہرہ اور فواد کے علاوہ عتیقہ اوڈھو و دیگر بھی تھے ڈرامے کی ڈائریکشن درمد سلطان کھوسٹ کی تھی.

  • میں نے غلطی کی معافی بھی مانگی لیکن مجھے معافی نہیں ملی ریشم کا گلہ

    میں نے غلطی کی معافی بھی مانگی لیکن مجھے معافی نہیں ملی ریشم کا گلہ

    لالی وڈ اداکارہ ریشم جن کی گزشتہ دنوں‌ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ دریا میں مچھلیوں کو کھانا ڈال رہیں تھیں اور ساتھ ہی انہوں‌ نے پانی میں‌پلاسٹک کا شاپر بھی پھینک دیا ان کے ایسا کرنے کے بعد ان کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ٹرول کیا گیا اور کہا گیا کہ ریشم ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں.ریشم پر ہر طرف سے خاصی تنقید کی گئی ریشم نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے سب سے معافی مانگی اور ایک وڈیو جاری کرکے کہا کہ یہ میرے کیرئیر کی میری پہلی غلطی ہے مجھے معاف کردیں لیکن اس کے بعد بھی وہ ٹرول ہو تی رہیں. ریشم نے اب کیا ہے گلہ ان کا کہنا ہے کہ میں‌ نے اپنے کیرئیر میں یہ پہلی غلطی کی اس پر معافی بھی

    مانگی لیکن مجھے معافی نہ ملی. میرا دل اس لئے بھی دکھا کہ میرے ساتھ جن لوگوں‌نے میرے ساتھ کام کیا یا شوبز انڈسٹری کے کسی ایک فنکار نے میرے حق میں ایک ٹویٹ نہ کیا میرا ساتھ نہ دیا اور یہ نہ کہا کہ ریشم اچھی عورت ہے اچھی اداکارہ ہے اس سے غلطی ہوئی اس نے معافی مانگ لی. لیکن کسی نے بھی ایسا نہ کیا. اپنے وڈیو پیغام میں‌ریشم نے کہا کہ میرا ساتھ میری صرف ایک ساتھی فنکارہ علینہ خان نے دیا انہوں‌ نے اس سارے پیریڈ میں میرا ساتھ دیا اور میرا حوصلہ بلند رکھا میں‌ان کی بہت زیادہ شکر گزار ہوں اور جنہوں‌نے ساتھ نہیں دیا ان سے یہی کہوں گی کہ ٹھیک ہے آپ نے میرا ساتھ نہیں دیا لیکن برا وقت سب پر آتا ہے کوئی نہیں.

  • فارمولا فلموں کا دور ختم ہو چکا عروہ حسین

    فارمولا فلموں کا دور ختم ہو چکا عروہ حسین

    اداکارہ عروہ حسین جنہوں نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی کام کیا ہے وہ کہتی ہیں کہ وہ وقت گیا جب فارمولا فلمیں بنتی تھیں اب جدید دور ہے اس کے تقاضوں کے مطابق کام کرنے کا دور ہے. اگر جدید تقاضوں کے مطابق کام نہیں کریں گے تو لوگ ہماری فلمیں رد کردیں گے. ایک انٹرویو میں عروہ حسین نے کہا کہ شائقین کو سینما گھروں تک لانے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید موضوعات پر فلمیں‌بنائی جائیں. ایسا ہو گا تو شائقین یقینا سنیما گھروں کی طرف خود ہی رخ کریں گے. انہوں نے کہا کہ مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمیار فلم انڈسٹری اور فلموں‌کو بہتر کرنے کے لئے کبھی بھی خاص اقدامات نہیں

    کئے گئے. اگر ایسا ہوتا رہتا تو بیس سال تک فلم انڈسٹری کو تالے نہ لگے رہتے. انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گلیمر اچھی چیز ہے گلمیر اور آرٹسٹ لازم ملزوم ہے لیکن مجھے صرف گلیمر گرل کہلوانا پسند نہیں ہے بلکہ میں چاہتی ہوں کہ مجھے اچھی اداکارہ کے طور پر جانا جائے میری یہ بھی خواہش ہے کہ میں فلموں میں اپنا نام اپنی اداکاری کے دم پر بنائوں. مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ میرے مداحوں نے آج تک مجھے ہر کردار میں سراہا. میری بھی کوشش رہی ہے کہ ہمیشہ ایسے پراجیکٹس سائن کروں جن کو دیکھ کر میرے مداح مجھ سے مایوس نہ ہوں.

  • ریشم نے اپنی غلطی کی معافی مانگ کر سب کے دل جیت لئے

    ریشم نے اپنی غلطی کی معافی مانگ کر سب کے دل جیت لئے

    کہا جاتا ہے کہ جو انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر لے وہ بڑا پن کا مظاہرہ کرتا ہے. ایسے ہی بڑے پن کا مظاہرہ اداکارہ ریشم نے کیا ہے. چند روز قبل ان کی ایک وڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی جس میں وہ دریا کے کنارے کھڑی ہوکر مچھیلوں کو خوراک ڈال رہی ہیں اسی دوران انہوں نے دریا میں شاپر بیگ بھی پھینک دئیے. جس پر انہیں کافی برا بھلا کہا گیا اور ان پر تنقید کی گئی.اداکارہ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک وڈیو جاری کی جس میں انہوں نے معافی مانگ لی. اداکارہ نے وڈیو میں کہا کہ ” میری معذرت قبول کیجیے ، جو کچھ بھی ہوا نہیں ہونا چاہیے تھا ، وہ سب بے

    دھیانی بے خیالی میں ہوا، میں ذاتی طور پر ہر قسم کی آلودگی کے خلاف ہوں اور ہر قسم کی آلودگی سے ملک کو پاک رکھنا ہم سب کا فرض ہے. انسان ہوں غلطیاں ہوجاتی ہیں یقین کیجیے یہ میرے کیرئیر کی سب سے بڑی غلطی تھی کوشش کروں گی کہ ایسی غلطی پھر کبھی دوبارہ نہ ہو.دل کی گہرائیوں سے میری معذرت قبول کیجیے. یاد رہے کہ ریشم دو دن تک کافی زیادہ تنقید کی زد میں رہیں آخر کار ان کو معافی مانگنا پڑی اور انہوں نے بہت ہی گریس کے ساتھ معافی مانگ لی ، جسے سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریشم نے معافی مانگ کر بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے.

  • ٹی وی اور سٹیج کے فنکاروں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے ریشم

    ٹی وی اور سٹیج کے فنکاروں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے ریشم

    پاکستان کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ ریشم نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اب جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں ٹی وی اور سٹیج کے فنکاروں کو بھی موقع ملنا چاہیے. ٹی وی اور سٹیج میں بہت سارے ایسے باصلاحیت اداکار ہیں جن کو فلموں میں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا. ریشم نے کہا کہ میں نے کام کے معاملے میں کبھی بھی کمپرومائز نہیں کیا ہمیشہ معیاری کام کیا ہے یہ یہی وجہ ہےکہ میرے پرستار مجھ سے پیار کرتے ہیں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری ایک بار پھر پھلے پھولے اور

    یہاں کی رونقیں ایک بار پھر سے بحال ہوں. جس طرح سے فلمیں بن رہی ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بہت جلد پاکستان فلم انڈسٹری اپنے پائوں پرکھڑی ہو جائیگی. اور میرا یہ خواب کہ پاکستان فلم انڈسٹری پھلے پھولے ضرور حقیقت بنے گا. ریشم نے کہا کہ انقلابی بنیادوں‌ پر ہمیں انڈسٹری کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے. یاد رہے کہ ریشم نے کیرئیر کے شروع میں ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا اور خوب داد سمیٹی پھر انہیں سید نور نے فلم جیوا میں چانس دیا، فلم سپر ہٹ ہوئی اور ریشم راتوں رات سٹار بن گئیں.

  • سوشل میڈیا سٹارز کو فلموں میں لانچ کیا جا رہا ہے فلمسٹار میرا برس پڑیں فلموں پر

    سوشل میڈیا سٹارز کو فلموں میں لانچ کیا جا رہا ہے فلمسٹار میرا برس پڑیں فلموں پر

    پاکستانی اداکارہ میرا جو کافی عرصے سے چھوٹی اور بڑی سکرین سے غائب ہیں . انہیں آخری بار فلم باجی میں دیکھا گیا تھا. میرا اکثر یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کے خلاف مسلسل سازش ہورہی ہے تاکہ ان کو کام نہ مل سکے. میرا کہتی ہیں کہ مجھے شوبز سے آئوٹ کرنے میں بہت ساری ہیروئینز کا نام ہے وہ ہیروئنز کون ہے اس بارے میں میرا نے آج تک بات نہیں کی. ھال ہی میں میرا کا ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اسٹارز کو اٹھا کر فلموں میں لایا جا رہا ہے بھلا ان کو فلموں میں کام کرنے کا کیا اندازہ ہو سکتاہے اور کیسے وہ بڑی سکرین کی ڈیمانڈ کے مطابق کام کر سکتے ہیں. اسی طرح سے ڈراموں میں آنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کو فلموں میں کاسٹ کیا جا رہا ہے یہ چھوٹی سکرین کے لوگ ہیں ان کی فلموں کے لئے تربیت ہی نہیں ہے یہ کیا

    کام کریں گے. انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سینما گھروں سے مایوس لوٹ رہے ہیں جو فلمیں بن رہی ہیں وہ ڈرامہ لگتی ہیں. فلم بنانے والوں کو کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ بڑی اور چھوٹی سکرین میں فرق ہے وہ اس فرق کو سمجھیں اور ان کو کام دیں جو بڑی سکرین کے کام کو جانتے ہیں ورنہ تو فلمیں چاہے جتنی بھی بنتی رہیں فلمی صنعت کی بحالی میں مددگار نہیں ہو سکیں گی.

  • سائرہ نسیم نے لیا انکو آڑھے ہاتھوں جو کہتے ہیں ہم غزل گائیک ہیں

    سائرہ نسیم نے لیا انکو آڑھے ہاتھوں جو کہتے ہیں ہم غزل گائیک ہیں

    پاکستانی گلوکارہ سائرہ نسیم نے لیا آڑھے ہاتھوں ان کو جو کہتے ہیں کہ ہم غزل سنگر ہیں،. گلوکارہ نے کہا کہ بہت سارے گلوکار کہہ دیتے ہیں کہ ہم غزل سنگر ہیں لیکن وہ ہوتے نہیں ہیں گاتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ان کو تو غزل گائیکی کی اے بی سی بھی نہیں پتا. سائرہ نسیم نے کہا کہ غزل گانا نہایت ہی مشکل کام ہے اس کے لئے یا کسی بھی قسم کی گلوکاری کے لئے ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ غزل گانے کےلئے کئی سال چاہیں، کئی سال کی ریاضت چاہیے یہ اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا ہے.گلوکارہ نے مزید کہ اچھی بات ہے فلمیں بن رہی ہیں فلمیں بنیں گی تو فلم انڈسٹری میںکام ہو گا کام ہو گا تو اس سے جڑے ہر فرد کو بھی روزگار ملے گا.

    سائرہ نسیم نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتی ہوں جب مجھے میڈم نورجہاں کو خرج عقیدت دینے کے لئے کسی پروگرام میں بلایا جاتا ہے. میڈم نور جہاں نے جتنے بھی گانے گائے وہ نہایت ہی مشکل تھے ان کو گا کر دل کو سکون ملتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے کہ اپنی پسندیدہ گلوکارہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع میسر آیا ہے. یاد رہے کہ گلوکارہ سائرہ نسیم نے نوے کی دہائی میں بننے والی فلموں میں اپنی گائیکی کے سر بکھیرے ان کے بہت سارے گیت سپر ہٹ ہوئے.

  • آنے والے دنوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں

    آنے والے دنوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں

    کورونا کے بادل چھٹنے کے بعد اس سال پاکستانی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں. عید الفطر پر چاراوردو فلمیں (پردے میں رہنے دو ، چکر ، دم مستم ، گھبرانا نہیں‌ ہے) اور ایک پنجابی (تیرے باجرئ دی راکھی) ریلیز ہوئی. ان پانچوں فلموں نے خاطر خواہ بزنس نہ کیا پرڈیوسرز نے بزنس نہ کرنے کی وجہ ہالی وڈ فلم ڈاکٹر سٹرینج کی ان کے ساتھ ریلیز بتائی. سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم کملی بھی ریلیز ہوئی اس نے اچھا بزنس کیا. اس کے بعد عید الاضحی پر دو بڑی فلمیں ریلیز ہوئی جن میں لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ بعد شامل تھیں ان کے ساتھ فلم لفنگے بھی ریلیز ہوئی لفنگے کا بزنس مایوس کن رہا. جبکہ ان فلموں کے ساتھ ہالی وڈ تھار بھی ریلیز ہوئی لیکن لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد نے تھار کی موجودگی میں

    اچھا بزنس کیا. اب سال ختم ہونے میں صرف چاہ ماہ باقی ہیں اور ان چار ماہ میں جو فلمیں‌ریلیز ہونے جا رہی ہیں ان کے نام کچھ یوں‌ہیں.انتظار ، دا لیجنڈ آف مولا جٹ ، نیلوفر ، شاٹ کٹ ، ڈوڈا ، کارما ، ضرار ، یارا وے ، ٹچ بٹن ، آسمان بولے گا. ان میں‌ سے زیادہ تر فلمیں بڑے بجٹ کی بڑی کاسٹ کے ساتھ ہیں امید کی جا رہی ہے کہ یہ سب فلمیں‌باکس آفس بہت اچھا بزنس کریں گی. مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ سال فلموں کی ریلیز کے حوالے سے کافی حوصلہ فزاء رہا ہے.

  • زارا شیخ کم کم کیوں نظر آتی ہیں؟‌

    زارا شیخ کم کم کیوں نظر آتی ہیں؟‌

    لالی وڈ کی اداکارہ زارا شیخ بڑی اور چھوٹی سکرین پر کم کم نظر آتی ہیں. بڑی سکرین پر تو ایک عرصے سے نظر ہی نہیں آرہیں .ماضی قریب میں وہ عمران اشرف اور سارا خان کے ساتھ ڈرامہ سیریل رقص بسمل میں نظر آئیں ان کے کردار کو کافی سراہا گیا. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اور کہا ہے کہ میں اپنی مرضی اور مزاج کے مطابق کام کرتی ہوں. میں نے ہمیشہ پاور فل کرداروں کو ترجیح دی ہے اگر کردار پاور فل نہ ہو تو میں کسی صورت پراجیکٹ سائن نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ میں شائقین کو ٹی وی پر کم دکھائی دیتی ہوں. زارا شیخ نے کہا کہ میں نے بہت شہرت سمیٹی اور بہت کام کیا اور

    مرضی کاکام کیا، میں نے شہرت حاصل کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال نہیں کیا. میں یہ بھی جانتی ہوں کہ خبروں میں رہنے کےلئے جان بوجھ کر جھوٹے سچے سکینڈلز بنوائے جاتے ہیں، میں ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتی. میں اچھا اور بہتر کام کرنے پر یقین رکھتی ہوں یہی وجہ ہے میں جب اور جتنی ضرورت ہو سامنے آجاتی ہوں. زارا شیخ نے مزید کہا کہ کام کا مزہ تب آتا ہے جب آپ کی مرضی کے مطابق ملے اور میں نے ہمیشہ اپنے کام کو انجوائے کیا.مجھے لگتا ہے کہ اگر آرٹسٹ اپنے کام کو انجوائے کرے تو شائقین بھی انجوائے کرتے ہیں.