Baaghi TV

Tag: پاکستانی ڈرامہ

  • ماریہ واسطی نے بتا دیا کہ کامیابیوں کا تسلسل براقرا رکھنا کیوں ضروری ہے؟

    ماریہ واسطی نے بتا دیا کہ کامیابیوں کا تسلسل براقرا رکھنا کیوں ضروری ہے؟

    سینئر اداکارہ ماریہ واسطی جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. ان کی خوبصورت اداکاری نے شائقین کے دل موہ لئے ، ماریہ واسطی نے پی ٹی وی کے دور میں یادگار ڈرامے کئے. ماریہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں‌ نے پی ٹی وی میں کام کرکے بہت کچھ سیکھا جس وقت میں نے کام شروع کیا اس وقت نامور لوگ پی ٹی وی سے وابستہ تھے ان کی صحبت سے بہت کچھ سیکھا اُس وقت کا سیکھا ہوا آج کام آرہا ہے. ماریہ واسطی نے کہا کہ کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے ، اور ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ آپ کے مداحوں نے آپ کا

    جس لیول کا کام دیکھا ہوتا ہے وہ اس سے اوپر کا کام ہر بار دیکھنا چاہتے ہیں. ماریہ واسطی نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میرے حصے میں بہترین کردار آئے. میں نے ہمیشہ معیار کو ترجیح دی ہے ہر ڈرامہ یا کہانی صرف اسلئے سائن نہیں‌کر لی کہ میرے پاس آئی ہے میں نے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کسی بھی پراجیکٹ کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پرستار مجھے بہتر سے بہترین کام کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں.ماریہ واسطی نے کہا کہ مجھے چیلنجنگ کام کرنا پسند رہا ہے یہی وجہ ہے میرے کرداروں میں شائقین کو ورائٹی نظر آتی ہے.

  • کنزہ ہاشمی نے بتا دیا لوگ ان سے ناراض کیوں ہوجاتے ہیں؟

    کنزہ ہاشمی نے بتا دیا لوگ ان سے ناراض کیوں ہوجاتے ہیں؟

    ٹی وی اداکارہ کنزہ ہاشمی جو ہمیشہ سنجیدہ کرداروں میں ہی نظر آتی ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ کس قسم کا مزاج رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت ہی زیادہ صاف گو ہوں جو دل میں آئے بول دیتی ہوں ایسا نہیں ہوتا کہ میرے دل میں کچھ اور ہو اور زبان پر کچھ اور ہو۔ میں نے ہمیشہ صاف گوئی کو پسند کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میری صاف گو لوگوں سے بنتی بھی بہت ہے۔ کنزہ ہاشمی نے کہا کہ پیار محبت کی زندگی میں بہت اہمیت ہے اور پیار محبت کے بغیر زندگی کے رنگ ادھورے ہیں لیکن میں یہاں یہ بتانا

    چاہتی ہوں کہ مجھے بلاوجہ کی اپنی زندگی میں مداخلت اچھی نہیں لگتی میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھ پہ حکمرانی کرے۔ کنزہ نے مزید کہا کہ میں نے کبھی کسی کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کی چاہے میرا کسی سے کتنا بھی اچھا تعلق کیوں نہ ہو اپنی حدود میں رہتی ہوں اسی طرح سے چاہتی ہوں کہ میری بھی زندگی میں کوئی مخل نہ ہو۔ یاد رہے کہ اداکارہ صبور علی سجل علی کی بہن ہیں سجل علی تو اپنے کیرئیر میں‌اپنی بہن صبور علی سے کافی آگے دکھائی دیتی ہیں کیونکہ انہوں نے ہالی وڈ کی فلموں میں بھی کام کیاہے جبکہ صبور علی کا کیرئیر ٹی وی کی حد تک محدود ہے.

  • شہود علوی ڈرامے کی موجودہ صورتحال پر کیا کہتے ہیں؟

    شہود علوی ڈرامے کی موجودہ صورتحال پر کیا کہتے ہیں؟

    نامور اداکارہ شہود علوی نے حال ہی میں ڈرامے کی موجودہ صورتحال پر کھل کر کی ہے گفتگو ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں ایک سال میں دو سو ڈرامہ بن رہا ہے اور ہر ڈرامہ دوسرے کو مات دے رہا ہے. ہر ڈرامے کی کہانی دوسرے سے مختلف ہے، مختلف موضوعات پر کہانیاں بنائی جا رہی ہیں.ہمارے پاس ایک سے بڑھ کر ایک آرٹسٹ ہے. شہود علوی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ میں مانتا ہوں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمارے لوگ بھارتی ڈراموں کے مداح بن گئے تھےبھارتی ڈرامہ ان کے اعصاب پر سوار ہو گیا تھا لیکن بہت جلد ہی پاکستانی بھارتی ڈرامے سے اکتا بھی گئے ہم نے اپنے ڈرامے کو بہتر بنایا اور اپنے ڈرامے کو اصل

    حالت میں واپس لیکر آئے یوں پاکستانیو‌ں نے ایک بار پھر اپنے ڈرامے دیکھنا شروع کر دئیے. شہود علوی نے کہا کہ بھارتی ڈراموں میں سوائے گلیمر کے کچھ بھی نہیں ہوتا. ہمارے ہاں ڈراموں میں گلیمر پر کم اور کہانی اور موضوع پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے. ڈرامے کی بہتری کے لئے میں اپنا جتنا حصہ ڈال سکتا تھا میں نے ڈالا اور بہتر سے بہترین کام کرنے کی کوشش. یقینا ہر کوئی اپنے حصے کا بہترین کام کررہا ہے.ہمارا ڈرامہ بھارت میں کل بھی مقبول تھا اور آج بھی مقبول ہے.شہود علوی نے یہ بھی کہا کہ نئے فنکاروں کی کھیپ بہت زبردست ہے.

  • والد نے کہا تھا تم اداکاری کر ہی نہیں سکتے کاشف محمود

    والد نے کہا تھا تم اداکاری کر ہی نہیں سکتے کاشف محمود

    چھوٹی سکرین کے اداکار کاشف محمود جو میزبان بھی ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے والد نے ان سے کہا تھا کہ تم کبھی بھی اداکار نہیں بن سکتے کیونکہ اداکاری تمہارے بس کی بات نہیں .انہوں نے کہا کہ میرے والد کو پورا یقین تھا کہ میں اداکاری نہیں کر سکتا بلکہ وہ کہا کرتے تھے کہ تمہیں اداکاری کرنی نہیں آنی اور ہمارا ہر طرف سے مذاق اڑایا جائیگا. کاشف محمود نے مزید بتایا کہ جب انہوں‌نے اداکاری شروع کی تو لوگوں‌کی داد ملی اور کام بھی دھڑا دھڑ ملنے لگا تو میرے والد کا نظریہ تبدیل ہوگیا بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ میری اداکاری کے معترف ہو گئے. کاشف محمود نے کہا میرے والد میرا حوصلہ نہیں توڑنا چاہتے تھے اس لئے منع کررہے تھے کہ میں اداکاری نہ

    کروں ان کولگتا تھا میں اداکاری نہیں کر سکتا. وہ مجھے ایک اچھے مقام پر دیکھنا چاہتے تھے اور میں آج جس مقام پر ہوں یقینا میرے والد مجھے اسی مقام پر دیکھنا چاہتے تھے. یاد رہے کہ کاشف محمود نے اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی بڑے پراجیکٹس میں سینئرزاداکاروں کے ساتھ کام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فنکاروں کی بھیٹر میں اپنی پہچان بنا لی. کاشف محمود جتنے اچھے اداکار ہیں اتنے ہی اچھے میزبان بھی ہیں. کاشف محمود پی ٹی آئی کے بہت بڑے سپورٹر ہیں سوشل میڈیا پر وہ ہر دوسرے لمحے عمران خان کی حمایت کرتے نظر آرتے ہیں.

  • حرامانی کو ساڑھی پہننا مہنگا پڑ گیا

    حرامانی کو ساڑھی پہننا مہنگا پڑ گیا

    اداکارہ حرا مانی کو ساڑھی پہن کر تصاویرسوشل میڈیا پر لگانا مہنگی پڑ گئیں. حرامانی نے ساڑھی زیب تن کرکے بارش کے موسم کو انجوائے کیا اور اس دوران کچھ تصاویر بھی بنوائیں جو کہ بعد میں‌سوشل میڈیا پر لگائیں.تصاویر میں حرا مانی نے نیلے رنگ کی ساڑھی زیب تن کر رکھی ہے اور نہایت ہی دلکش لگ رہی ہیں وہ بارش میں رقص بھی کررہی ہیں.ان کی تصاویر کے اس انداز کو جہاں ان کے مداحوں نے بہت سراہا وہیں بہت ساروں نے تنقید بھی کی اور کہا کہ حرامانی بچوں کی والدہ ہیں اور عمر میں اچھی خاصی میچور ہیں ان کو یہ حرکتیں کرنا زیب نہیں دیتیں. انہیں‌ چاہیے کہ اپنے عمر کے حساب سے حرکتیں کریں.

    یاد رہے کہ حرامانی ڈراموں میں‌ مرکزی کردار کرتی ہیں ان کی جوڑی افان وحید اور جنید خان کے ساتھ خاصی سراہی جاتی ہے. ابھی تک دونوں‌ کے جتنے بھی پراجیکٹس ایک ساتھ آئے ہیں ڈرامہ شائقین نے انہیں‌ بے حد پسند کیا ہے.حرا مانی حقیقت کے قریب اداکاری کرتی ہیں ان کا ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو میں کردار کافی پسند کیا گیا. حرامانی نے اس میں ایک ٹیچر کا کردار ادا کیا تھا اس ڈرامے کے بعد ان کی مقبولیت میں‌ دو گنا اضافہ ہوا. حرامانی کافی صاف دل ہیں جو دل میں‌آئے بول دیتی ہیں. بعض اوقات وہ ایسی باتیں بھی کہہ جاتی ہیں جن کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے .

  • آج بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے قوی خان

    آج بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے قوی خان

    سینئر اداکار قوی خان کہتے ہیں کہ مجھے یہ تنقید بے جا لگتی ہے کہ جس میں کہا جا تا ہے کہ آج ڈرامہ اچھا نہیں بن رہا آج ڈرامہ بہت اچھا بن رہا ہے میں نے حال ہی میں ایک ڈرامہ کیا ہے کیا کمال کی کہانی اور کام کا انداز ہے.آج سبھی فنکار بہت اچھا کام کررہے ہیں میں کسی ایک کا نام اس لئے نہیں‌لوں گا کیونکہ میں مقابلے پر یقین نہیں رکھتا.سب ہی فنکار ہیں اور سب ہی کام کررہے ہیں تو کیوں‌میں کسی ایک کا نام لیکر کسی کو اہم اور کسی کو غیر اہم کروں . قوی خان نے کہا کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ہمارے دورے کے کام کے اپنے تقاضے تھے آج دور بدل چکا ہے آج کام کے تقاضے کچھ اور ہیں .کل بھی کام اچھا ہو رہا تھا آج بھی اچھا ہو رہا ہے.قوی خان نے مزید کہا کہ آج جو بھی فلمیں بن رہی ہیں میں ان کو بھی دیکھ رہا ہوں ڈائریکٹرز رائٹرز کام کے ساتھ انصاف کررہے ہیں.

    قوی خان نے کہا کہ مہنگائی ہمارے دور میں بھی تھی آج بھی ہے کل بھی سیاستدان عوام کے لئے کام کررہے تھے آج بھی عوام کے لئے کام کررہے ہیں ہم کیوں کسی کو برا کہیں کیوں کسی ایک کو اچھا باقیوں کوبرا کہیں. مقابلے بازی کے اس ماحول نے سوسائٹی میں بہت سارا انتشار پیدا کر دیا ہے، آپ پسند کریں کسی بھی سیاستدان کو لیکن کسی ایک کو اچھا اور دوسرے کو برا کہہ کر الگ ماحول نہ بنائیں.

  • مومنہ درید کھڑی ہوگئیں مہرین جبار کے حق میں

    مومنہ درید کھڑی ہوگئیں مہرین جبار کے حق میں

    چند روز قبل ڈائریکٹر اور پرڈیوسر مہرین جبار برس پڑیں تھیں اپنے ڈراموں‌ پر اور بولیں تھیں کہ ہمارے ڈرامے انڈین سوپ بن گئے ہیں ان میں عورت سمیت ہر کوئی مسلسل ایک اذیت میں دکھایا جاتا ہے مرد حضرات چھوٹی داڑھیاں رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور اقساط کو کھینچ کر ایک ہزار تک لیجانے کی کوشش کی جاتی ہے مہرین جبار کے اس بیان پر جہاں انہیں بہت ساری تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہیں ان کے ساتھ ان کے حق میں بھی ایک آواز اٹھی اور وہ آواز مومنہ درید کی ہے. ڈائریکٹر اور سینئر پرڈیوسر ہم ٹی وی مومنہ درید کہتی ہیں‌ کہ پاکستانی ٹی وی ڈراموں‌ کے حوالے سے مہرین نے جو بھی کہا ہے میں اس سے بالکل متفق ہوں پاکستانی ڈرامے کی کوالٹی گرنے کے حوالے سے ان کا موقف بالکل درست ہے اور میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں. مہرین جبار نے جب سوشل میڈیا پر پاکستانی ڈراموں‌ کے زوال کے حوالے سے سے درج بالا کہی گئی باتوں پر مشتمل پوسٹ کی تھی تو مومنہ درید نے انہیں‌اسی پوسٹ کے نیچے جواب دیا تھا مومنہ کے اس جواب کو سراہا گیا کہ انہوں‌ نے کھلے دل سے تنقید سنی اور اس کے ساتھ اتفاق بھی کیا.

    یاد رہے کہ مومنہ درید خود بھی ڈرامے بناتی ہیں اور ان کے ڈرامے بھی روٹین کے بننے والے ڈراموں سے کچھ زیادہ ہٹ کر تو نہیں‌ہوتے لیکن مومنہ اپنے ڈراموں میں‌خواتین کو بااختیار دکھانے کی کوشش ضرور کرتی ہیں. ہم ٹی وی اس وقت ڈراموں کے حوالے سے ایک بڑا نیٹ ورک بن چکا ہے.

  • معروف بھارتی ڈیزائنر بھی پاکستانی ڈرامہ”پری زاد” کے مداح

    معروف بھارتی ڈیزائنر بھی پاکستانی ڈرامہ”پری زاد” کے مداح

    ڈرامہ سیریل پری زاد کی دھوم سرحد پار پہنچ گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی گلوکاروں کے بعد بھارتی ڈیزائنر بھی اپنی کلیکشن لانچ کرنے کے لیے پاکستانی گانوں کا استعمال کرنے لگے ہیں بھارت کے مشہور ڈیزائنر منیش ملہوترا نے اپنی مینز کلیکشن کے لیے پری زاد ڈرامے کا ساؤنڈ ٹریک کاپی کر لیا۔

    گزشتہ روز منیش ملہوترا نے اپنی نئی کلیکشن کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس کے لیے انہوں نے پری زاد کے ساونڈ ٹریک کا استعال کیا تھا، جسے مداحوں نے پہچان لیا، اور پری زاد کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرنے لگے بعد ازاں منیش ملہوترا نے اپنی مذکورہ پوسٹ انسٹاگرام سے ڈیلیٹ کر دی-

    ہندوستانی ڈیزائنر کے اس ویڈیو پر پری زاد کے مرکزی کردار احمد علی اکبر نے بھی کمنٹ کر کے کہا کہ یہ میوزک سنا سنا لگتا ہے، اور ساتھ ہی انسٹا اسٹوری پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ میوزک پسند ہے۔

    انسٹاگرام پالیسی کے تحت پاکستانی صارفین منیش ملہوترا کی ویڈیو کی آواز نہیں سن سکے، اس لیے انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی ڈیزائنر نے پری زاد کو کریڈٹ دیتے ہوئے پری زاد کے میوزک کا استعمال کیا تھا، اور انہوں نے اپنی پوسٹ میں آرٹسٹ وقار علی کو خصوصی منشن بھی کیا۔

    واضح رہے کہ ڈرامہ سیریل پری زاد ہاشم ندیم کے ناول پر مبنی ہے اور اس ڈرامے کا مرکزی کردار، پری زاد اداکار احمد علی اکبر نبھا رہے ہیں۔ اس کردار پر مداحوں کی طرف سے ان کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔

    پری زاد ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جسے رنگ کالا ہونے کی وجہ سے یہ معاشرہ قبول نہیں کرتا۔ اسے زندگی کے ہر قدم پر دھتکارا جا رہا ہے اس ڈارمے کا مرکزی کردار پری زاد اداکار احمد علی نبھا رہے ہیں جسے خو سراہا جا رہا ہے-