Baaghi TV

Tag: پاکستان تحریک انصاف

  • پی ٹی آئی میں الزام تراشی، بیرسٹر گوہراور سلمان اکرم کے درمیان تلخ کلامی

    پی ٹی آئی میں الزام تراشی، بیرسٹر گوہراور سلمان اکرم کے درمیان تلخ کلامی

    پاکستان تحریک انصاف میں رہنماوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ رک نہ سکا ، چیئرمین بیرسٹر گوہر اور جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روزپی ٹی آئی قیادت بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے بعد خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچی تھی جہاں پر چیئرمین گوہراور جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ا سحوالے سے ذرائع نے بتایاکہ اس موقع پر مرکزی قیادت کے درمیان صلح کیلئے پارٹی رہنما کردار ادا کرتے رہے۔

    پی ٹی آئی کےذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور علی ظفر کے نام ملاقات کے لیے دی گئی فہرست میں شامل نہ تھے، تحریک انصاف کے اراکین نے بیرسٹر گوہر اور علی ظفر کی ملاقات پر اعتراض اٹھائے، عاطف خان، شبلی فراز اور عمر ایوب نے بھی ملاقاتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ بیرسٹر گوہر نے رہنماوں کو بانی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل جانے کے پیچھے کسی مقصد کا نہ ہونے بتایا جبکہ سلمان اکرم راجا بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کیلئے احکامات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ سخت جملوں کے تبادلوں پر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے میڈیا کو اپنا مؤقف دینے سے گریز کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کیلئے 6 وکلا رہنماؤں کو اجازت ملی تھی جن میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر، مبشر مقصود اعوان، ظہیر عباس چوہدری، علی عمران اور خاتون رہنما رضیہ سلطانہ شامل تھیں۔جبکہ پاکستان تحریک ان صاف کے پارٹی ارکان نے بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر کی ملاقات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    امریکا کا چین پر 125 فیصد اور باقی ممالک پر ٹیرف میں وقفےکا اعلان

    چین کے بعد یورپی یونین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگا دیا

    خیبرپختونخوا ،ملزمان انٹرویو اور پولیس کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

    نادرا کی شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے ڈاکخانوں سے سہولت ختم

    کراچی میں قبرستان سے مارٹر گولے برآمد، الرٹ جاری

  • پی ٹی آئی نے  مینار پاکستان پر جلسے کے لیے درخواست  دیدی

    پی ٹی آئی نے مینار پاکستان پر جلسے کے لیے درخواست دیدی

    پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے چیف سیکرٹری پنجاب کو مینار پاکستان پر جلسے کی درخواست دیدی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو جلسے کی اجازت کیلئے بار بار درخواست دی ہے لیکن ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے درخواست پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ نائب صدر پی ٹی آئی پنجاب اکمل خان باری نے جلسے کی اجازت کیلئے درخواست جمع کروا ئی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آ ئی ) مینار پاکستان پر پرامن جلسہ کرنے کی خواہاں ہے،گزارش ہے کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی جائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور نے ملک میں امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست مسترد کردی تھی۔ پی ٹی آئی نے 22 مارچ کو اپنے نائب صدر پنجاب اکمل خان باری کے ذریعے اجازت کے لیے درخواست دی تھی۔ حکم نامے میں ڈی سی سید موسیٰ رضا نے کہا کہ درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی (ڈی آئی سی) کی سفارش پر کیا گیا ہے۔ڈی آئی سی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو 22 مارچ کو جلسے کی اجازت دینا سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر ممکن نہیں ہوگا۔

    کراچی شہر سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، آفاق احمد

    مشاورت کے بغیر بنے بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

    بجلی کی قیمت مزید 6 روپے کم کروا لیں گے،فاروق ستار

    میکسیکو کے سیوریج سسٹم نے امریکہ کو پریشان کر دیا

    کراچی چیمبر کا بجلی نرخوں میں کمی کےاعلان کا خیرمقدم

  • پی ٹی آئی مینارِپاکستان جلسہ، اجازت پر پنجاب حکومت سے جواب طلب

    پی ٹی آئی مینارِپاکستان جلسہ، اجازت پر پنجاب حکومت سے جواب طلب

    لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کے معاملے پر پنجاب حکومت و دیگر سے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی 22 مارچ کو مینارِ پاکستان جلسے کی اجازت کے لیے تحریک انصاف کے نائب صدر اکمل خان باری کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے کی۔سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی 22 مارچ کو قانون اور آئین کے مطابق جلسہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ جلسہ منیار پاکستان پر کرنا چاہتے ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا کہ انہوں نے عدالت کے حکم پر جلسے کی اجازت کے لیے ہوم سیکرٹری پنجاب کو درخواست دی۔ ہوم سیکرٹری نے ابھی تک ان کی درخواست پر فیصلہ نہیں کیا۔ ان کو پرامن جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت مینار پاکستان پر 22 مارچ کو جلسے کی اجازت دے۔بعد ازاں عدالت نے صوبائی حکومت، ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب پولیس اور ڈی سی لاہور سے کل جواب طلب کرلیا۔

    موبائل فونز کی درآمدات میں 13فیصد کمی

    دریائے سندھ پر 6 نہریں نہیں بننے دیں گے،سعید غنی

    جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد انتقال کرگئے

  • شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری

    شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری

    رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پاکستان تحریک انصاف سے نکال دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی نے ایم این اے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔آج صبح پی ٹی آئی نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ذرائع نے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے پارٹی قیادت کو شیر افضل مروت کے خلاف فیصلہ کن اقدام کی ہدایت کردی ہے۔مزید کہا تھا کہ بنیادی رکنیت ختم ہونے پر شیر افضل مروت سے بطور رکن قومی اسمبلی استعفی بھی طلب کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق شیر افضل مروت کے تحریک انصاف کے صوابی جلسہ میں کردار پر پارٹی رہنماؤں نے بانی پی ٹی ائی سے شکایت کی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔تاہم، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلے پر لاعلم نکلے تھے۔بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کی خبروں پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس عمران خان کی جانب سے ایسی کوئی اطلاعات نہیں آئیں۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ ہمارا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اور جو احکامات بانی پی ٹی آئی سے آتے ہیں وہ اُن پر فوراً عمل کرتے ہیں۔

    صائم ایوب کے ساتھ خاتون مداح کی بدتمیزی ،ویڈیو وائرل

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کو 6 وکٹوں سے شکست، وزیراعظم کی مبارکباد

    کراچی کا معاشی قتل بند ،تعمیراتی منصوبے فی الفور مکمل کیے جائیں،منعم ظفر خان

    آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

  • تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) میں رابطے،کمیٹی قائم

    تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) میں رابطے،کمیٹی قائم

    تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) کے درمیان رابطے کیلئے دو رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ،کمیٹی میں اسد قیصر اور کامران مرتضیٰ شامل ہوں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کےوفد نے امیر جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا،مولانا فضل الرحمان کو حکومت کی نیت کے بارے میں بھی بتایا۔ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی ،انہوں نے کہا عمر ایوب نے کئی خطوط لکھے،آگے بڑھنے کے امکانات زیادہہیں،آئین کو بچانے کیلئےسب سے مشاورت کررہےہیں۔انکا کہنا تھا کہ متنازعہ پیکا ایکٹ میں صحافتی برادری کو مجرم بنا دیا گیا ،صحافی برادری سمیت سب کیخلاف گفتگو پر مقدمہ بنایا جا سکتا ہے،اکٹھے کھڑے ہونے کا ہمارا آئینی حق ہے ،ہم شاہد خاقان عباسی ، محمود اچکزئی اور دیگر سے ملے ہیں۔

    اپوزیشن لیڈرعمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کے فروغ کیلئے یہاں پر آئے ،حکومت نے وعدہ کیا تھا بانی پی ٹی آئی سے آزادانہ ملاقات کرائیں گے ،بانی پی ٹی آئی سے آزادانہ ملاقات نہیں ہو سکی۔9مئی اور 26نومبر پرجوڈیشل کمیشن نہیں بنایا گیا ،تیسری نشست میں کہا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے،چوتھی نشست کیلئے جوڈیشل کمیشن نہیں بنا اس لیے میٹنگ میں نہیں گئے،متنازعہ پیکا ایکٹ ترمیمی بل اور ڈیجیٹل ایکٹ کیخلاف پی ٹی آئی نے ووٹ دیا۔

    اس موقع پرجے یو آئی (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کی تعیناتی پر تفصیلی بات چیت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کا انتخاب ہونا ہے،الیکشن میں مداخلت ختم ہونی چاہیے، اس موضوع پر بات ہوئی۔دستور کیلئے بھی ون پوائنٹ ایجنڈے پر ملکر چلنا چاہتے ہیں،مل جل کر چلنے کیلئے مولانا اور جے یو آئی کا اپنا مذاج ہے ،مشاورت سے بتایا جائےگا کہ آگے معاملات کو کیسے چلایا جائےگا،کمیٹی غلط فہمی دور کرنے اور فوری رابطے کیلئے بنائی گئی ہے۔

    مائیکروسافٹ کا ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

    وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل

  • عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

    عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

    عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خواتین میں مقبول جماعت رہی، فافن نے رپورٹ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فافن نے مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کے رحجان سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات میں 18فیصدخواتین نے مردوں سے مختلف ووٹ ڈالے،82فیصد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کا انتخاب جیتنے والا امیدوار تھا۔فافن رپورٹ کے مطابق شہری حلقوں میں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں مردوں سے مختلف ووٹ دیا،اسلام آباد کے حلقوں 37 فیصد خواتین نے مرد ووٹرز کے مقابلے میں مختلف امیدوار کو ووٹ دیا، بلوچستان کی خواتین نے37،سندھ19اور پنجاب18فیصد مردوں سے مختلف ووٹ دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی خواتین میں سب سے مقبول جماعت رہی، خواتین میں ووٹرز کے تناسب سے ن لیگ دوسرے جبکہ پی پی تیسرے نمبر پر ہے۔ عام انتخابات میں خواتین ووٹرز میں پی ٹی آئی ملک بھر میں مقبول رہی، پنجاب میں ن لیگ خواتین ووٹرز میں زیادہ مقبول رہی،سندھ میں پی پی نے خواتین ووٹرز کو زیادہ راغب کیا۔فافن رپورٹ کے مطابق این اے 37میں خواتین نے جیتنے والے امیدوار کے مخالف کو زیادہ ووٹ کیا، این اے266میں خواتین ووٹرز نے جیتنے والے امیدوار کو زیادہ ووٹ دئیے، خواتین پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ووٹ جیتنے والے امیدواروں نے حاصل کیا، ملک بھر کے سات حلقوں میں جیتنے والے امیدواروں نے خواتین پولنگ اسٹیشنز کے باعث لیڈ حاصل کی۔

    ڈیٹا چوری کرنے کیلئےہیکرز 16 مخصوص براؤزر زکا استعمال کر رہے ہیں

  • تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    باغی ٹی وی کےزرائع نے بتایا کہ اسد قیصر نے مولانا فضل الرحمان کی طبیعت کے بارے میں بھی پوچھا۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے رابطے میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کی آئندہ ہفتے ملاقات طے پاگئی۔ زرائع کا کہنا تھا کہ طے پانے والی ملاقات کے دوران پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن گرینڈ الائنس میں شامل ہونے کی دعوت دے گی۔

    دوسری طرف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے لیے تمام توانائیاں خرچ کی ہیں۔ جبکہ قبائلی علاقوں کے عوام پریشان ہیں اور اپنے علاقے چھوڑ رہے ہیں۔ اور جو آپ کو سبز باغ دکھائے گئے تھے امید ہے آپ ان باغوں میں گھومتے ہوں گے۔ تمام مکاتب فکر کا مؤقف ہے کہ اسلحے کا استعمال نہیں کرنا۔ اور جن علاقوں میں امن تھا وہاں بھی اب وحشت ہے۔ قبائلیوں کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ اور قبائلی علاقوں سے جتنے فنڈز کا وعدہ ہوا تھا وہ پورا نہیں کیا گیا۔

    رجب بٹ کے بعد ٹک ٹاکر ذوالقرنین بھی گرفتار

  • پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کردیے۔

    چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے۔سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کل ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کے لئے خط سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروادیا گیا تھا۔اعجاز چوہدری نے اپنے وکیل بابر اعوان کے ذریعے جمع کرائے گئے خط میں چیئرمین سینیٹ کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا کہا تھا۔خط میں کہا گیا تھا کہ اعجاز چوہدری سینیٹ کے ممبر ہیں جن کو ڈیڑھ سال سے کسی اجلاس میں پیش نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ اعجاز چوہدری کو 9 مئی 2023 کو جھلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جبکہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

    روہت شرما چیمپئنز ٹرافی سے قبل پاکستان آسکتے ہیں

    مکان کا تنازعہ،سوتیلے باپ نے بیٹے کا گلا کاٹ دیا

    رواں مالی سال یورپی یونین کو برآمدات میں 18.62 فیصد اضافہ

    زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو کا دسواں نمبر

  • خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    پاکستان کے خیبر پختونخوا کے علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ 85 دنوں سے فسادات اور بدامنی کی صورتحال جاری تھی، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فوج کی مدد کی درخواست کی ہے۔

    فوج آج کرم ایجنسی کے علاقے ٹل پہنچ گئی، جہاں حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ ان فسادات میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں ڈیڑھ سو کے قریب بچے بھی شامل تھے جو جان بحق ہو گئے۔ اس دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی ردعمل یا ٹویٹ سامنے نہیں آیا، جو اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی نے حالات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔کرم ایجنسی کی صورتحال 85 دنوں تک بگڑتی رہی، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جرگے کی بات کی گئی تھی لیکن جرگہ بھی بھیجنے میں ناکامی ہوئی۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گئی جب پی ٹی آئی نے فوج سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کو شروع میں ہی اس مشکل کا پتا تھا تو اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوج کو کیوں نہیں بلایا؟

    فوج کی مدد کی درخواست کرنے سے پہلے، پی ٹی آئی نے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ ان کے پاس دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قراردادیں پاس کیں، جن میں کہا گیا کہ صوبہ خود ہی اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہے اور اس میں کسی بھی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اب انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا ہی واحد حل ہے، تو پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی اور فوج کی مدد طلب کی۔ اس فیصلے کے پیچھے کیا عوامل ہیں، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کا فوجی آپریشن کے خلاف موقف محض سیاسی مفادات کے لیے تھا؟

    ڈیرہ اسمعیل خان بھی اسی طرح کی بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں رات کے اوقات میں دہشت گردوں کا راج ہوتا ہے اور امن کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کو وہاں بھی فوج کی مدد کی درخواست کرنا پڑے۔ اگر یہ دو اہم علاقے یعنی کرم ایجنسی اور ڈیرہ اسمعیل خان میں امن قائم نہیں کر سکے، تو سوال اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی پورے صوبے میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟

    یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں جس طرح سے امن قائم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ اب مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف تھا کہ وہ صوبے کے اندر خود حالات کو بہتر کر لیں گے، لیکن اب فوج کی مدد طلب کرنا ان دعووں کے ساتھ تضاد کا باعث بن رہا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا اصل مقصد صوبے میں امن قائم کرنا تھا یا اس کی حکمت عملی میں کہیں نہ کہیں ٹی ٹی پی کی حمایت کا پہلو چھپا ہوا تھا۔اگر پی ٹی آئی ان دو علاقوں میں بھی امن قائم نہیں کر سکتی، تو یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پارٹی کی حکومتی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے۔ عوام کا اعتماد پی ٹی آئی پر اس بات کے بعد کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ اس کی کارکردگی اور حکومتی فیصلے عوامی سطح پر سنگین سوالات پیدا کر رہے ہیں، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پی ٹی آئی اس بحران کا کس طرح حل نکال پاتی ہے۔

    کرم ایجنسی میں فوج کی آمد اور پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے جس میں سیاسی قیادت نے اپنی ابتدائی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا۔ اس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں، بلکہ پورے صوبے میں امن قائم کرنے کے دعووں کی حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے۔ اب وقت یہ بتائے گا کہ پی ٹی آئی ان مسائل کا حل کس طرح نکالتی ہے، اور آیا وہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کر پائے گی یا نہیں۔

  • مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، چیئرمین  پی ٹی آئی

    مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ مذاکرات ہی ہوں گے، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکرات پر کمیٹی بنانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔جب صحافی نے ان سے سوال کیا، ’لطیف کھوسہ نے آج کہا کہ ڈیڈلائن ختم، سول نافرمانی کی تحریک پرعمل ہوگا؟‘ جس پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بالکل سول نافرمانی کی تحریک پر بھی عمل ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ امید ہے کل تک کمیٹی بن جائے گی۔اس سے قبل کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع دی گئی، عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تعیناتی کے لیے رولز کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں کی سربراہی کی، پہلے اجلاس کا آغاز صبح 11 بجے ہوا جو 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ججوں کی تقرری رولز کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن نے اجلاس کے دوران مانگی گئی عوامی رائے کا بھی جائزہ لیا۔دوران اجلاس آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا، ووٹنگ میں 7 ممبران نے بینچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط