Baaghi TV

Tag: پاکستان تحریک انصاف

  • پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور وکلاءالجھ پڑے تو ججز سماعت ادھوری چھوڑ کر چلے گئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشدعلی اور جسٹس وقار احمد نے کی،عدالت نے 24نومبر احتجاج کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب کرلی۔ججز نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا الزام ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری وسائل لے کر اسلام آباد جاتی ہے، کیا صوبائی حکومت نے ہدایات جاری کی ہے کہ مشینری کا استعمال کیا جائے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے روسٹرم پر بلالیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ غلط بیانی ہے۔حکومت نے کوئی ہدایت نہیں دی اس لئے درخواست قابل سماعت نہیں خارج کی جائے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار کا الزام ہے کہ آپ سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہاکہ اسلام آباد میں اس نوعیت کا کیس چل رہا ہے سر یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔وکیل درخواستگزار نے کہاکہ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں آگ لگی تو ریسکیو گاڑیاں کم پڑ گئی تھیں۔پی ٹی آئی احتجاجوں میں ریسکیو گاڑیاں لے کر گئی۔گاڑیاں اب اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔جسٹس ارشد نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں ہے سرکاری وسائل اور ملازمین کو احتجاج میں آنے کا حکم دیا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہم نے سرکاری وسائل سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کئے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکرٹری سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کو ایسے احکامات ملے ہیں یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ بیٹھاتھا ایسے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے، میں پھر بھی پوچھ لیتا ہوں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ ہمیں کچھ دیر تک آگاہ کریں کہ کیا معاملہ ہے۔وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب کیا احکامات ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ درخواست درست نہیں، ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔جسٹس ارشدعلی نے ریمارکس دیئے کہ ہم دائرہ اختیار پر بات نہیں کر رہے ہیں۔
    جسٹس ارشد علی نے سوال کیا کہ یہ بتائیں حکومتی اداروں کو کوئی احکامات جاری ہوئے یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نہیں، سرکاری اداروں اور اہلکاروں کو کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایسے معاملات میں تحریری احکامات جاری نہیں ہوتے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ اگر سرکاری ملازمین خود جاتے ہیں تو ہم ان کو تو نہیں روک سکتے۔جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دئیے کہ ایسا احتجاج نہ ہو کہ سڑکیں بند ہو لوگوں کو مشکلات نہ ہو ۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ احتجاج سے تکلیف تو ہمیں بھی ہوتی ہے،ایک دفعہ سوات سے آرہے تھے تمام راستے بند تھے،کن کن راستوں سے آنا پڑا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے گھر کو آگ لگے گی اور انہوں نے مشینری احتجاج پر لگائی ہوگیہم ایسا آرڈر کیسے کر سکتے ہیں جو کل نافذالعمل نہ ہو۔ان کو روڈ بند کرنے سے روکیں، سرکاری وسائل استعمال کرنے سے روکیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 800 کنٹینرز لگا رکھے ہیں، شہری حقوق سلب ہورہے ہیں تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ عوام صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں سے تنگ ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین مجھے جلسے کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کسی اور کے کہنے پر رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکلا اور ایڈوکیٹ جنرل آپس میں الجھ پڑے جس پر پشاور ہائیکورٹ کے ججز احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے اور سماعت کو ادھورا چھوڑ دیا۔

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • پی ٹی آئی کے وفد کا کراچی میں چین کے قونصل جنرل کا دورہ

    پی ٹی آئی کے وفد کا کراچی میں چین کے قونصل جنرل کا دورہ

    پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے کراچی ایئرپورٹ دھماکے میں شہریوں کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کے لیے کراچی میں چین کے قونصلیٹ جنرل کا دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کی قیادت میں وفد میں پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فردوس شمیم نقوی، مصطفی کرانی اور ایم پی اے ریحان شامل تھے۔عارف علوی نے افسوسناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کی توجہ سی پیک منصوبے سے ہٹانے کی گھنائونی کارروائیوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔ہم چین کے ساتھ اپنی دوستی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور میں کوویڈ 19 کے بعد چین کا دورہ کرنے والا پہلا سربراہ مملکت تھا جس میں میںنے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جو کے عمران خان کا ویژن ہے اور خان نے ہمیشہ چین کی کئی شعبوں میں ہونے والی تیز رفتار تررقی کی تعریف کی” علوی نے کہا ۔ اس موکے پر فردوس نقوی نے اپنی پارٹی کی جانب سے تعزیت پیش کی، اور کہا کہ چین ہمارا آہنی بھائی ہے اور ہماری توجہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے نہیں ہٹنی چاہیے، جس سے پورے خطے کی ترقی ہوگی ۔چین کے قونصل جنرل، یانگ یونڈونگ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پی ٹی آئی کی قیادت کا چین کے لیے غیر متزلزل حمایت اور خیالات پر شکریہ ادا کیا۔

    ایف بی آر نے جعلی انوائسنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردیں

    ایران پر کسی بھی وقت بڑے اسرائیلی حملے کا خطرہ

    سندھ حکومت نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے کرنے کی منظوری دیدی

  • پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات،سماعت 11 اکتوبر کو ہوگی، بینچ تشکیل

    پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات،سماعت 11 اکتوبر کو ہوگی، بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کے لیے 7 بینچ تشکیل دے دیا گیا، نظر ثانی درخواست 11 اکتوبر کو ساڑھے 11 بجے سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی اسپیشل بینچ سماعت کرے گا، 3 رکنی اسپیشل بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔بینچ نمبر ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جسٹس نعیم اختر افغان اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر دو جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر تین جسٹس منیب اختر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہوگا۔

    بینچ نمبر چار جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہراور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر پانچ جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر چھ جسٹس حسن اظہر رضوی جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر سات جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل ہوگا۔ججز کمیٹی نے آئندہ ہفتے کے لیے ججز روسٹر جاری کر دیا.

    بلوائیوں میں شامل خیبرپختونخوا پولیس کے 6 اہلکار ڈی چوک سے گرفتار

    کراچی کی ترقی کے لیے سالانہ تقریباً 1000 ارب روپے درکار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا اشارہ دے دیا

    گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا اشارہ دے دیا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات حد سے بڑھ گئے توگورنرراج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے یہ عندیہ نجی ٹی وی کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے دیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں ان کے دورہ امریکا کے علاوہ صوبے کے معاملات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج اور صوبے کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ چیزیں حد سے بڑھ گئیں تو ملک اور جمہوریت کی خاطر گورنر رول نافذ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی اسرائیل کی طولکرم پر بمباری میں 18افراد قتل کی مذمت

    پی ٹی آئی کے دھرنے کیخلاف درخواستیں 10سال بعد سماعت کیلئے مقرر

  • وزیراعلی پنجاب نے پی ٹی آئی کو دہشت گرد جماعت قرار دے دیا

    وزیراعلی پنجاب نے پی ٹی آئی کو دہشت گرد جماعت قرار دے دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی، ہے اور نہ ہو سکتی ہے، یہ ایک دہشت گرد جماعت ہے جو بار بار اپنے ہی ملک پر حملہ آور ہوتی ہے۔

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک پیغام میں مشورہ دیا کہ ریاست کو ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بھیس میں تحریک انتشار کا واحد مقصد ملک میں آگ لگانا ہے، یہ کسی رعایت یا نرمی کی مستحق نہیں ہے۔مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لشکر کی فرنٹ لائنز میں تربیت یافتہ دہشت گرد شامل ہیں، کون سا ملک یہ برداشت کرتا ہے؟
    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے پی ٹی آئی نے ہر حال میں ڈی چوک جانے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث حکومت نے قیام امن کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بھی طلب کر لیا ہے. دوسری طرف اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے پولیس اور مظاہرین میں جحڑپوں کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں.

    لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

  • نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد متوقع

    نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد متوقع

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کچھ دیر میں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نواز شریف کے ساتھ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی جے یو آئی سربراہ کے گھر آئیں گے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی مرکزی قیادت مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں حکومتی آئینی ترامیم سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دے گی۔آئینی ترمیم ہوگی یا نہیں؟ سارا دار و مدار مولانا فضل الرحمان پر آگیا، نمبرز گیم کا دلچسپ کھیل جاری ہے۔ حکومت اور اتحادیوں کا سارا زور مولانا فضل الرحمان کو منانے پر ہے۔

    حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کردئیے

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی، مولانا فضل الرحمان کی اقتداء میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے نماز مغرب ادا کی.ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے اپوزیشن اتحاد کو سپورٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ملاقات میں حکومتی آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کے نکات پر بات چیت کی گئی۔ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر با جماعت نماز مغرب پڑھی گئی، مولانا فضل الرحمان کی اقتداء میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے نماز مغرب ادا کی۔

  • حکومتی وفد کی موجودگی، پی ٹی آئی  وفد فضل الرحمان  کےگھر سے واپس

    حکومتی وفد کی موجودگی، پی ٹی آئی وفد فضل الرحمان کےگھر سے واپس

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر حکومتی وفد کی موجودگی کے باعث پاکستان تحریک انصاف وفد واپس چلا گیا۔

    پی ٹی آئی کا وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا تھا، وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عمر ایوب، شبلی فراز اور صاحبزادہ حامد رضا شامل تھے۔ پی ٹی آئی وفد حکومتی وفد کی پہلے سے موجودگی کے باعث واپس چلا گیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کیلئے وقت کا تعین دوبارہ کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما اخونزادہ حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ملاقات کیلئے آئے تھے، یہاں پہنچنے پر پتہ چلا مولانا فضل الرحمان کے کچھ مہمان موجود ہیں۔

    پی ٹی آئی کو اپنے بانی کو سمجھانے کی ضرورت ہے، مصفی کمال

    اخوانزادہ حسین نے کہا کہ ہمارے وفد میں بھی کچھ لوگ کم تھے، پی ٹی آئی کا وفد کچھ دیر میں واپس آئے گا۔بعد ازاں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کی قیادت میں تحریک انصاف کا وفد مولانا فضل الرحمان کے گھر دوبارہ پہنچا، مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی وفد کا استقبال کیا۔

  • تحریک انصاف کے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری

    تحریک انصاف کے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 10 گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری پروڈکشن آرڈ میں کہا گیا ہے کہ پولیس گرفتار ممبران کو اجلاس شروع ہونے سے قبل سارجنٹ ایٹ آرمز کے پاس پہنچائے، اجلاس ختم ہونے کے بعد ارکان کو پولیس کی تحویل میں واپس دے دیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، احمد چٹھہ، زین قریشی، زبیر خان وقاص اکرم، اویس حیدر، احد علی شاہ، نسیم علی شاہ اور یوسف خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ہیں۔اس سے قبل اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے 4 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی، کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق کمیٹی میں جوائنٹ سیکریٹری ارشد علی، رضوان اللّٰہ اور قائمقام سارجنٹ ایٹ آرمز راجہ فرحت عباس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی کو جلد از جلد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اسپیکر کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی 9 ستمبر کو پیش آنیوالے واقعے کے محرکات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی جائزہ لے گی پولیس اور سیکیورٹی ادارے کس کی اجازت سے پارلیمنٹ میں داخل ہوئے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی جائزہ لے گی پارلیمنٹ کی سیکیورٹی نے انہیں اندر آنے کی اجازت کیوں دی؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ان تمام محرکات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔

    واضح رہے کہ پیر کی رات اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار کیا تھا، جنہیں گزشتہ روز رہا کردیا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ شیر افضل مروت اور شعیب شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

  • پی ٹی آئی کا  شیر افضل مروت کے سعودی عرب سے متعلق بیان پر مکمل لاتعلقی کا اظہار

    پی ٹی آئی کا شیر افضل مروت کے سعودی عرب سے متعلق بیان پر مکمل لاتعلقی کا اظہار

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور مرکزی ترجمان نے شیر افضل مروت کے سعودی عرب سے متعلق بیان پر مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے-

    گزشتہ روز ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت گرانے میں امریکا کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی شامل تھا یہ بیان اسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان آیا ہوا تھا۔

    اہم پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور مرکزی ترجمان نے شیر افضل مروت کے رجیم چینج آپریشن میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے پیش کردہ خیالات کو حقائق سے یکسر منافی قرار دیکر ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کر دیابیان میں کہا گیا کہ شیر افضل مروت صاحب کے خیالات پاکستان تحریک انصاف کی حکمتِ عملی یا مؤقف کی کسی طور پر بھی نہ تو غمازی کرتے ہیں نہ انہیں حقیقت پر مبنی بیان سمجھتے ہیں یہ کلیتاً ان کی ذاتی رائے تو ہوسکتی ہے جسے کسی سطح پر بھی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت یا کارکنان کی تائید و توثیق حاصل نہیں۔

    سعودی وفد پاکستانی وزراء اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا ،وزیراعظم

    ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کا شمار پاکستان کے نہایت قریبی اور بااعتماد برادر اسلامی ممالک میں ہوتا ہے جس کی حکومت اور عوام سے پاکستان کے تعلقات کو بانی چیئرمین عمران خان، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور سعودی ولی عہد اور وزیراعظم عزت مآب جناب محمد بن سلمان کے مابین باہم احترام، اعتماد اور برادرانہ اخوت کا رشتہ قائم ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان نہایت اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں ، دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ کثیرالجہتی مفادات کے امین اور لائقِ تحسین ہیں۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ماضی اور حال کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے مابین قریبی اشتراک اور بھائی چارے کے فروغ کی خواہاں اور سعودی قیادت و عوام کی فلاح و ترقی کے حوالے سے نیک تمنّاؤں کے اظہار کے ساتھ اس ضمن میں بطور جماعت اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

    صدرعالمی بینک کی پاکستانی معیشت کے استحکام اور ٹیکس بڑھانے کے پروگراموں کی حمایت …

  • پی ٹی آئی نےمزید 6 ممبرزکی بنیادی رکنیت معطل کردی

    پی ٹی آئی نےمزید 6 ممبرزکی بنیادی رکنیت معطل کردی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے مزید 6 ممبرز کی بنیادی رکنیت معطل کر دی۔

    باغی ٹی وی: پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق حاجی شوکت علی، مجاہد میتلہ سمیت نادیہ عزیز کی بنیادی رکنیت معطل کی گئی ہے اس کے علاوہ سلیم بریار، ذوالفقار شاہ اورعثمان ترکئی کی بھی بنیادی رکنیت معطل کر دی گئی ہے،پارٹی پالیسی سے انحراف پر ایم ایل اے گلگت بلتستان فتح اللہ خان اور حشمت اللہ خان کوبھی شوکاز نوٹس جاری کر دئیے گئے۔

    سیکریٹری جنرل عمر ایوب کے دستخط شدہ نوٹیفیکشن میں اراکین کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میڈیا کے مختلف فورمز پر آپ کی پریس کانفرنس کی گردش اور بڑے پیمانے پر نشریات دیکھی گئی کہ آپ نے پاکستان تحریک انصاف چھوڑ دی ہے۔ آپ نے جان بوجھ کر پارٹی دفاتراور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ۔ لہذا آپ کو پاکستان تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا نوٹس دیا جاتا ہے۔

    ملک کی قسمت کےلیے یکسو ہوجائیں تو کوئی راستہ نہیں روک سکتا،وزیراعظم

    نوٹس میں کہا گیا کہ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ پارٹی کا نام ۔ عہدہ اوررکنیت کا کسی بھی طریقے سے استعمال کرنے سے گریز کریں ۔ خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی آپ کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے گلگت بلتستان الیکشن میں پارٹی پالیسی سے انحراف پر پی ٹی آئی نمائندوں کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا، شوکاز نوٹس ایم ایل اے گلگت بلتستان فتح اللہ خان اور حشمت اللہ خان کے نام جاری کیا گیا۔ نوٹس کے متن کے مطابق کہا گیا ہے کہ پارٹی قیادت کے علم میں آیا ہے کہ آپ نے پارٹی کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا ہے، آپ کے حوالے سے گلگت بلتستان میں الیکشن کے دوران پارٹی کے خلاف سازش میں ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں، آپ کو تین روز کے اندر تحریری طور پر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، جواب نہ ملنے یا غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں پارٹی پالیسی اور قواعد کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

    ایرانی شخص کی خلیج فارس میں وہیل شارک پرسواری کرنے کی ویڈیو وائرل