Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوے مسترد کر دیئے

    پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوے مسترد کر دیئے

    پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوے مسترد کردیئے اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کا وعدہ پورا کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد ضروری ہے،ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کے نام نہاد نقشوں اور خودمختاری کے دعوؤں کا کشمیر کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔

    پاکستان نے عالمی برادری سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور غیر قانونی قبضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے،مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب تنازعات میں شامل ہے،حتمی فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے،کشمیری عوام کی خواہشات کا اظہار آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصواب رائے سے ہوگا،اقوام متحدہ کے نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع خطہ ظاہر کیا گیا ہے۔

  • سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان کاہم جنس پرستوں سے تعلقات کا دعویٰ ،برطانیہ ہوم آفس

    سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان کاہم جنس پرستوں سے تعلقات کا دعویٰ ،برطانیہ ہوم آفس

    برطانیہ کے ہوم آفس (Home Office) کے ایک وِسل بلور نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے سیاسی پناہ (asylum) کے نظام میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی ہو رہی ہے اور صرف ایک فیصد پناہ گزینوں کے دعوے ہی حقیقی ہیں،یہ الزامات برطانوی میڈیا میں منظرِ عام پر آئے ہیں، جس کے بعد پناہ گزینوں کے نظام کی شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے-

    اہلکار، جو اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے صرف "J” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ہوم آفس کے فیصلہ ساز کے طور پر کام کرتے ہوئے کئی سال گزارے ہیں اور پناہ کی ہزاروں درخواستوں کا جائزہ لیا ہے،ٹائمز سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا: "بہترین طور پر 1 فیصد پناہ گزین حقیقی ہیں پناہ کے نظام کا تقریباً کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جو یا تو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا شکار نہ ہو یا واقعی غیر فعال ہو۔ کچھ بھی کام نہیں کرتا جیسا کہ اسے کرنا چاہیے۔”

    جے نے دعویٰ کیا کہ عہدیداروں کا باقاعدگی سے سامنا ہوتا ہے جس کے عملے نے "پیکیج کلیمز” کا نام دیا ہے، جہاں پناہ گزین مبینہ طور پر اپنی درخواستوں کی حمایت کے لیے نمایاں طور پر ملتے جلتے اکاؤنٹس جمع کراتے ہیں،انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جس طرح سے درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے اس سے حکام کے لیے ممکنہ طور پر من گھڑت کہانیوں کو بے نقاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پناہ کے متلاشیوں کو مزید تفصیلی انٹرویو سے پہلے ابتدائی اسکریننگ سے گزرنا پڑتا ہے، جو مہینوں بعد ہو سکتا ہے جے نے کہا کہ ابتدائی مرحلے کے دوران درخواست دہندگان "انتہائی مبہم” ہو سکتے ہیں، تاخیر کا دعویٰ کرنا پھر بے ایمان درخواست دہندگان کو اپنا کیس بنانے کا موقع فراہم کرتا ہےاس سے انہیں تیاری کرنے، مشورہ لینے اور یہ دیکھنے کا وقت مل جاتا ہے کہ تفصیلی انٹرویو کے دوران کسی خاص بیان یا کہانی پر کاربند ہونے سے پہلے وہ کس قسم کے جعلی شواہد حاصل کر سکتے ہیں۔”

    جے (J) نے اس بات پر زور دیا کہ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ شروع ہی سے تفصیلی بیان فراہم کریں؛ انہوں نے کہا: "اس عمل میں تاخیر سے انہیں تیاری کا مزید وقت مل جاتا ہے، حالانکہ انہیں تیاری کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ واقعات ان کے ساتھ پہلے ہی پیش آ چکے ہوتے ہیں۔”

    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سسٹم حکام کو درخواستیں منظور کرنے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ کیس دینے میں "آدھا گھنٹہ سب سے اوپر” لگ سکتا ہے، جب کہ مسترد ہونے کے لیے درخواست دہندگان کے دعووں کو حل کرنے کے لیے گھنٹوں کام کرنا پڑ سکتا ہے۔

    وسل بلور نے اس عمل کو "بچپن” کے طور پر بیان کیا اور دعوی کیا کہ عملے کو مینیجرز نے پناہ کے متلاشیوں کو "گاہک” کے طور پر حوالہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی یہ "ان کو خدمت فراہم کرنے کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے، ملک کی خدمت نہیں”۔

    عملے کی جانب سے بے نقاب کیے جانے والے مبینہ واقعات کے سلسلے میں ایسے سینکڑوں عراقی کرد شامل تھے جن کا دعویٰ تھا کہ ان کے کردستان ریجن کے وزیرِاعظم کی بیٹی کے ساتھ رومانوی تعلقات رہے ہیں،یہ بار بار دہرائی جانے والی کہانی محکمے کے اندر ایک "مذاق” (یا عام لطیفہ) بن چکی تھی کیونکہ حکام کو ایسے ہی بہت سے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان نے ایک ہی شخص کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے تعلقات میں ہونے کا دعوی کیا ہے، جس نے "سیکڑوں کی تعداد میں بہت واضح طور پر جعلی حمایت کے خطوط فراہم کیے ہیں،آپ کو یہ تصاویر ملیں گی اور وہاں دس پاکستانی لڑکے ہوں گے جو کلب میں بے لباس ہو کر ایک دوسرے کے گرد بازو باندھے کھڑے ہوں گے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔”

    ہوم آفس دھوکہ دہی پر مبنی جنسیت پر مبنی پناہ کے دعووں کی تحقیقات کر رہا ہے جب بی بی سی کی خفیہ تحقیقات میں امیگریشن مشیروں کو بے نقاب کیا گیا جو مبینہ طور پر لوگوں کو جھوٹے مقدمات بنانے میں مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔

    جے نے یہ بھی دعوی کیا کہ بنگلہ دیشی درخواست دہندگان نے بار بار عوامی لیگ سے روابط پر ظلم و ستم کا حوالہ دیا تھا، جس نے 2024 میں اقتدار کھو دیا تھا، جبکہ پارٹی کے بارے میں سوالات کا جواب دینے کے لیے جدوجہد کی تھی،جب حکومت گری تو انہیں صرف اس جماعت کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جس سے وہ خوفزدہ تھے، معاون شواہد میں "جعلی پولیس دستاویزات” بھی شامل تھیں جن میں وہی نام اور مقامات بار بار ظاہر ہوتے تھے۔

    سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جون 2026 کو ختم ہونے والے سال میں ابتدائی فیصلے کے مرحلے پر پناہ کی منظوری کی شرح 38 فیصد رہی؛ یہ شرح ایک سال قبل 48 فیصد اور ستمبر 2022 کو ختم ہونے والے سال میں 77 فیصد (جو کہ بلند ترین سطح تھی) کے مقابلے میں کم ہے۔

    گزشتہ سال کے دوران، ابتدائی فیصلے کے مرحلے پر تقریباً 42,394 افراد کو پناہ گزین کے طور پر تحفظ یا قیام کی دیگر اجازت دی گئی، جبکہ 73,478 افراد کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں،ہوم آفس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پناہ کی ہر درخواست پر تربیت یافتہ فیصلہ سازوں کی جانب سے دستیاب شواہد کی روشنی میں انفرادی طور پر غور کیا جاتا ہے۔

    محکمے کے ترجمان نے کہا کہ دھوکہ دہی کی نشاندہی کے لیے طے شدہ طریقہ کار موجود ہیں، جبکہ رازداری سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں حکام کو اس بات سے روکتی ہیں کہ وہ پناہ کے متلاشی کے بیان کی تصدیق کے لیے اس کے آبائی ملک سے رابطہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم گمنام بریفنگز پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہوم سیکرٹری کا موقف واضح ہے کہ جو لوگ برطانیہ میں قیام کے لیے برطانوی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے، ان کی درخواست مسترد کر دی جائے گی اور انہیں برطانیہ سے باہر جانے والی یک طرفہ پرواز کے ذریعے واپس بھیج دیا جائے گا۔

  • فلسطینیوں کی جبری بے دخلی :پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیلی وزرا کے بیانات کی شدید مذمت

    فلسطینیوں کی جبری بے دخلی :پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیلی وزرا کے بیانات کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزرائے دفاع و قومی سلامتی کے فلسطینیو ں کو غزہ سے بے دخل کرنے سے متعلق بیانات اور تجاویز کی شدید مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان میں آٹھوں ممالک نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ان بیانات کو مسترد کیا جن میں غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی یا بے دخلی کے منصوبوں اور طریقہ کار کی بات کی گئی ہے۔

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اشتعال انگیز بیانات اور تجاویز بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش یا منصوبے کو، خواہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر ہو یا ان سے باہر، کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت قبول نہیں کیا جائے گا، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو سرکاری پالیسی یا عملی اقدامات کی شکل دینے سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کا حق حاصل ہے جبکہ جبری بے دخلی خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی یا نام نہاد ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے منصوبوں کی حمایت کی تھی، اس صورتحال پر امریکا کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے بھی کہا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی نکالنے کے لیے امریکا کا حمایت یافتہ کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

    پاکستان سمیت آٹھ ممالک اس سے قبل بھی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، اسرائیلی آبادکاری اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کوششوں کو مسترد کرتے رہے ہیں،اگست 2026 میں بھی انہی آٹھ ممالک نے اسرائیل کے E1 آبادکاری منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کارروائیاں دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

  • شاہ ناروے کی آخری رسومات میں پاکستانی کی نمائندگی عبدالعلیم خان کریں گے

    شاہ ناروے کی آخری رسومات میں پاکستانی کی نمائندگی عبدالعلیم خان کریں گے

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور شاہِ ناروے ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر پاکستان کی جانب سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے صدر، وزیراعظم، فیلڈ مارشل، اپنی جانب سے اور پاکستانی عوام کی طرف سے شاہی خاندان اور ناروے کے عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا،نائب وزیراعظم نے ناروے کے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کو 9 ستمبر کو اوسلو میں ہونے والی شاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا ہے، شاہ ہیرالڈ پنجم کا انتقال 89 برس کی عمر میں ہوا تھا اور ان کی آخری رسومات 9 ستمبر کو اوسلو میں ہوں گی۔

    اسحاق ڈار اور ایسپن بارتھ ایدے نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

  • اللہ کے فضل سے آج پاکستان مضبوط ہے اور اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے،مریم نواز

    اللہ کے فضل سے آج پاکستان مضبوط ہے اور اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے،مریم نواز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے یوم دفاع کے موقع پر پاک فوج کے ہر افسر، جوان، شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے-

    اپنے پیغام میں مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ آپریشن ردالفساد میں پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت کے نئے معیار قائم کیے، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی سلامتی کے لیے دعا گو ہے،پاک فوج نے ثابت کیا ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، یقین، عزم اور حوصلے سے جیتی جاتی ہیں،پوری قوم کو اپنی بہادر پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی پر فخر ہے۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان مضبوط ہے اور اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، پاکستان آج ایک ایٹمی طاقت ہے اور عوام پہلے سے بھی زیادہ پراعتماد ہیں،دھرتی کے دفاع کے لیے سرحدوں پر سینہ سپر رہنے والے بہادر سپوت پوری قوم کا فخر ہیں، عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز قومی اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والی دشمن قوتوں کے مذموم عزائم کو پوری قوت، اتحاد اور عزم کے ساتھ ناکام بنانا ہوگا۔

  • ورلڈ نومیڈ گیمز : پاکستانی ایتھلیٹس کی شاندار کارکردگی، 4 کانسی کے تمغے جیت لیے

    ورلڈ نومیڈ گیمز : پاکستانی ایتھلیٹس کی شاندار کارکردگی، 4 کانسی کے تمغے جیت لیے

    کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز میں پاکستان نے رسہ کشی اور ماس ریسلنگ کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کانسی کے تمغے جیت لیے ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق رسہ کشی (ٹگ آف وار) کے 11 ایکس مقابلے میں طیب رضا اعوان نے زبردست کھیل پیش کرتے ہوئے روس، جارجیا اور برطانیہ کے کھلاڑیوں کو یکے بعد دیگرے شکست دی، جبکہ تیسری پوزیشن کے فیصلہ کن میچ میں ایرانی حریف کو پچھاڑ کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

    اسی طرح 88 ایکس رسہ کشی کے ٹیم ایونٹ میں بھی پاکستان نے روایتی حریف بھارت سمیت دیگر ممالک کے خلاف شاندار کھیل پیش کیا اور بالآخر ایران کو ہرا کر ایک اور کانسی کا تمغہ حاصل کیا،اس ایونٹ کے دوران پاکستانی ٹیم کا مقابلہ برطانیہ، روس، جنوبی کوریا، قازقستان، کرغزستان، برازیل اور جارجیا جیسی مضبوط ٹیموں سے ہوا، جہاں قومی کھلاڑیوں نے شاندار مزاحمت اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔

    ماس ریسلنگ کے میدان میں بھی پاکستانی ایتھلیٹس نے ملک کا نام روشن کیا 90 کلوگرام کیٹیگری میں محمد عاصم نے ایک سخت مقابلے کے بعد ایرانی ریسلر کو شکست دے کر تیسرا کانسی کا تمغہ جیتا، جبکہ خواتین کی 90 کلوگرام پلس کیٹیگری میں اقرا نصیب نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے مزید ایک کا نسی کا تمغہ جیت کر پاکستان کے تمغوں کی مجموعی تعداد 4 کر دی۔

    ورلڈ نومیڈ گیمز دراصل وسطی ایشیا اور خانہ بدوش قوموں کی ثقافت اور روایتی کھیلوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک بڑا عالمی ایونٹ ہے،سال 2014 میں شروع ہونے والے ان کھیلوں کا یہ 6 واں ایڈیشن تھا، جس میں دنیا بھر سے آئے کھلاڑیوں نے روایتی کشتی، تیر اندازی، گھڑ دوڑ اور رسہ کشی جیسے قدیم اور مقامی کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، پاکستان کی ان کھیلوں میں بھرپور شرکت اور کامیابی روایتی کھیلوں سے ملک کی جڑی ہوئی تاریخ اور لگاؤ کی عکاس ہے۔

  • نئے صوبوں کا قیام:سیاسی محاذ آرائی کی بجائےمل بیٹھ کر سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مشاورت کرنی چاہیے،چوہدری شجاعت حسین

    نئے صوبوں کا قیام:سیاسی محاذ آرائی کی بجائےمل بیٹھ کر سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مشاورت کرنی چاہیے،چوہدری شجاعت حسین

    پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم قومی معاملے کو سیاسی محاذ آرائی کا موضوع بنانے کے بجائے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مشاورت کرنی چاہیے۔

    اپنے ایک بیان میں چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ نئے صوبوں کا قیام کسی ایک جماعت، گروہ یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق براہِ راست عوام کی سہولت، بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور ملکی مستقبل سے ہے، اس لیے نئے صوبوں کے معاملے پر فیصلہ سیاسی مفادات یا وقتی نعرے کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ آج وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر ازسرنو غور کی ضرورت ہے تاہم کوئی بھی اقدام آئین سے ماورا نہیں ہوگا، اگر پاکستان کے عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو یہ بننے چاہییں اور اگر عوام نہیں چاہتے تو انہیں مسلط نہیں کیا جانا چاہیے، یہ فیصلہ نہ کسی ایک شخص کا ہے، نہ حکومت کا اور نہ کسی ایک سیاسی جماعت کا، عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہوگا۔

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کو تو تقسیم کردیا جائے اور باقی صوبوں کو دیکھا تک نہ جائے میں بڑی صاف بات کرتا ہوں، چھوٹے صوبوں کا حامی ہوں، لیکن جو بھی ہوگا سب کے ساتھ ہوگاپنجاب بہت بار تقسیم ہوا ہے، اب بھی اس کے لیے تیار ہے، لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے، بلوچستان کا وزیراعلیٰ نکلتا ہے تو اسے واپس آنے میں 2 دن لگتے ہیں، جبکہ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی جا ہی نہیں سکتا۔

    علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پر کروں گا۔

  • افغان شہریوں کے لیے ویزوں کے دوبارہ اجرا کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،پاکستان

    افغان شہریوں کے لیے ویزوں کے دوبارہ اجرا کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،پاکستان

    پاکستان نے افغانستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسانی بنیادوں پر ویزوں کا دوبارہ اجرا شروع کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔

    پاکستان کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کو پناہ فراہم کی، لیکن اس کے جواب میں پاکستان کو شکریہ کے تحفے کے طور پر دہشتگردی ہی ملی، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور افغانستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی جب تک ایسا نہیں ہوتا، افغانستان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ معطل رہے گا۔

    پاکستان کے مطابق، جب تک افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور موثر کارروائی نہیں کرتا، دو طرفہ تعلقات اور رابطوں میں لچک پیدا نہیں کی جا سکتی۔

    پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پہلی ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قومی سلامتی ہے، انسانی ہمدردی کے تقاضے قومی سلامتی کی قیمت پر پورے نہیں کیے جا سکتے افغانستان سے مسلسل سرحد پار دہشتگردی کے پیش نظر پاکستان قبل از وقت ویزا سہولیات دوبارہ شروع کرکے سیکیورٹی خطرات مول نہیں لے سکتا۔

    پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کو افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی د ہشتگرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے،ایک پاکستانی فرد کی جان و سلامتی پورے افغانستان سے زیادہ اہم ہے،یہ تمام مسائل ا فغان طالبان حکومت کی دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے دہشتگردی میں ملوث اپنے بھا ئیوں کو ترجیح دیتی ہے۔

  • پاکستان کیخلاف  اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی،میر ضیااللہ لانگو

    پاکستان کیخلاف اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی،میر ضیااللہ لانگو

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے کہا ہے کہ ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی، ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئےگا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ریاست مخالف بیانیے پر سی ٹی ڈی نے مقدمہ درج کیا ہے ،ڈاکٹر عائشہ کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا قانون کے مطابق ہوا ہے ، ریاست پاکستان کے خلاف اور دہشتگردی کی حمایت کر نے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،میرے خلاف روزانہ 50 افراد بات کرتے ہیں، کسی کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔

    وزیر داخلہ بلوچستان نے کہاکہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف پاکستان ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے جو بھی پاکستانی شہری ملک و ریاست توڑنے کی بات کرے گا، اس کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوگا اور گرفتاری بھی ہوگی،ہر پاکستانی شہری کو سیاستدانوں اور میرے خلا ف پریس کانفرنس کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان توڑنے، سیکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حکومت نے دہشت گرد قرار دیا ہے، دہشتگرد قرار دیے گئے عناصر کے حق میں بات اور ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئےگا۔

  • ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ:  بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی

    ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ: بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی

    ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2026 میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اے سی سی ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ 2026 کے نویں میچ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، میچ میں قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیتا اور بھارتی کپتان ہرمن پریت کور کو فیلڈنک کی دعوت دی۔

    قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 18.1 اوورز میں 55 رنز بنائے اور روایتی حریف بھارت کو جیت کے لیے 56 رنز کا ہدف دیا جبکہ پوری ٹیم 55 رنز پر ڈھیر ہوگئی،پاکستان کی جانب سے شوال ذوالفقار 14 جبکہ وکٹ کیپر منیبہ علی 13 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں جبکہ بھارتی ٹیم کی جانب سے پریمہ روات اور شریں چرانی نے 3،3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

    کپتان فاطمہ ثنا سمیت پاکستان کی 4 بیٹر صفر پر آؤٹ ہوئیں جبکہ 9 بیٹر ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکیں۔ قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی بدترین پرفارمنس کے باعث پاکستان ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 55 رنز کم ترین ٹوٹل ہے۔بھارت کی جانب سے پریما راوت اور شری چرنی نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں –

    ہدف کے تعاقب میں بھارتی ویمنز ٹیم نے 8.4 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 56 رنز بنا کر کامیابی حاصل کرلی شفالی ورما 12، اسمرتی مندھانا 9 اور پراتیکا راول 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں، جبکہ کپتان ہرمن پریت کور 12 اور دپتی شرما 12 رنز پر ناٹ آؤٹ رہیں،پاکستان کی جانب سے کپتان فاطمہ ثنا نے 3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

    ہائی وولٹیج مقابلے میں جہاں بھارت سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے، وہیں قومی ٹیم آج اپنا مسلسل دوسرا میچ جیت کر پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے،پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اب تک 17 مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکی ہیں۔

    بھارتی ٹیم کا پلڑا واضح طور پر بھاری ہے، جس نے 14 میچوں میں کامیابی سمیٹی ہے، جبکہ گرین شرٹس کو اب تک محض 3 بار ہی فتح نصیب ہو سکی ہے۔ آج کے میچ میں پاکستانی ٹیم پر اس پرانے ریکارڈ کو بہتر بنانے کا چیلنج ہوگا۔

    پاکستانی اسکواڈ

    فاطمہ ثنا (کپتان)، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، شوال ذوالفقار، گل فیروزہ، عائشہ ظفر، صدف شمس، ایمن فاطمہ، طوبہٰ حسن، نشرہ سندھو، سعدیہ اقبال اور ام ہانی شامل ہیں۔

    بھارتی اسکواڈ

    ہرمن پریت کور (کپتان)، اسمرتی مندھانا، شیفالی ورما، پراتیکا راول، بھارتی فلمالی، ریچا گھوش (وکٹ کیپر)، دیپتی شرما، پریما راوت، شری چرنی، کرانتی گوڈ اور نندنی شرما شامل ہیں-