Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد، تجزیہ : شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد، تجزیہ : شہزاد قریشی

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں جن کے ادارے مضبوط، منظم اور قانون کے تابع ہوں۔ شخصیات آتی ہیں، مقبول ہوتی ہیں اور پھر وقت کے ساتھ منظر سے ہٹ جاتی ہیں، لیکن ادارے ہی ریاست کے تسلسل، استحکام اور بقا کی ضمانت بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ "شخصیات فانی ہیں، ادارے باقی رہتے ہیں۔”

    آج بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ جن ممالک کے دفاعی، انتظامی اور ریاستی ادارے کمزور ہوئے، وہاں عدم استحکام، انتشار اور بیرونی مداخلت نے جنم لیا۔ اس کے برعکس وہ ریاستیں ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہیں جنہوں نے اپنے قومی اداروں کو مضبوط بنایا اور انہیں سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھا۔

    سیاسی قیادت اور دانشور کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لیکن عوام کو ہمیشہ جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ سیاست میں مفادات اور بیانیے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے قومی مفاد کو شخصیات سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں پر تنقید کا حق اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ایسی روش سے گریز کرنا چاہیے جو اداروں کی بنیادوں کو کمزور کرے یا قومی وحدت کو نقصان پہنچائے۔

    پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب قوم اتحاد، نظم و ضبط اور قومی اداروں کے احترام کو فروغ دے۔ پاک فوج، عدلیہ، پولیس، سول سروس اور دیگر ریاستی ادارے ملک کے نظام کا حصہ ہیں۔ ان کی بہتری، اصلاح اور مضبوطی ہی دراصل پا کستان کی مضبوطی ہے۔

    آخرکار حقیقت یہی ہے کہ اگر ملک محفوظ اور مستحکم ہوگا تو سیاست بھی ہوگی، جمہوریت بھی ہوگی اور عوام کی ترقی بھی ممکن ہوگی۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود ریاستی استحکام، قومی سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کو ہمیشہ ترجیح دی جائے، کیونکہ مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کے نئے مواقع روشن مستقبل کی نوید ہیں،چینی سفیر

    پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کے نئے مواقع روشن مستقبل کی نوید ہیں،چینی سفیر

    پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا ہے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کے نئے مواقع روشن مستقبل کی نوید ہیں۔

    اسلام آباد میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پاک چین بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے بزنس ٹو بزنس (B2B) تعاون کا وژن پیش کیا ہے، جو عملی شراکت داری کے لیے ایک نئی راہ ثابت ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کاروباری اداروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے خصوصی دلچسپی اور تعاون کا اظہار کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے پاکستان میں مختلف ترقیاتی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے، جن کی تکمیل سے 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بالخصوص صحت، فارماسیوٹیکل اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جبکہ ان شعبوں میں پاک چین تعاون نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور استعداد کار میں اضافے کا بھی باعث بنے گا اور امید ہے کہ دونوں مما لک کے نجی شعبوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

  • عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کے نام ایک سوال اقتدار کی سیاست بہت ہو گئی، عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟

    عوام کو نعروں، الزامات اور اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ دیانت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، سستی بجلی و گیس اور عملی خدمت درکار ہے

    سیاست ہو یا مذہب، رسول ﷺ کی تعلیمات کردار، دیانت اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں، اقتدار اور مفاد پرستی کا نہیں

    پاکستان اسی دن حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داری، جوابدہی اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنا لے گی۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    یہ سرزمین کسی فرد، جماعت یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے، اور اس پر بسنے والے کروڑوں عوام اس امانت کا اصل سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ برسوں سے اقتدار، سیاست، مذہب اور جمہوریت کے نام پر عوام سے وعدے کرنے والوں نے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے؟ سیاسی جماعتوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی مسائل سے نجات دلانے کے لیے ان کی حقیقی خدمات کیا ہیں؟ ہر روز بیانات، الزامات اور سیاسی کشمکش تو نظر آتی ہے، مگر عام شہری کی زندگی میں آسانی کہاں پیدا ہوئی؟ اسی طرح مذہبی جماعتوں سے بھی ایک اہم سوال ہے۔

    رسول اکرم ﷺ کا واضح فرمان ہے: "جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔” کیا اس حدیث پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر تحریک چلائی گئی؟ کیا بازاروں، کاروباری مراکز اور اپنے زیرِ اثر علاقوں میں دیانت داری، امانت اور خالص تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے؟ افسوس یہ ہے کہ اکثر مذہب کو خدمتِ خلق کے بجائے اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے، جبکہ دین کا اصل مقصد انسانیت کی اصلاح اور معاشرے میں انصاف کا قیام ہے۔ آج عالمی سطح پر پاکستان کی سیاست اور جمہوری رویوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، ذاتی مفادات، انا پرستی اور اقتدار کی کشمکش نے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی سیاست کا ذکر اکثر ایک سنجیدہ قومی ماڈل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل بحران کے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ہر محب وطن پاکستانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہیرو بننے کی خواہش میں ایسے قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو ریاستی استحکام اور قومی سلامتی کے ستون سمجھے جاتے ہیں تنقید ہر جمہوری معاشرے کا حق ہے، مگر تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہےقومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر قربان کرنا کسی بھی ذمہ دار قیادت کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔

    استحقاق اور اختیار کا مطالبہ کرنے والوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ استحقاق کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ کیا استحقاق اس بات کا نام ہے کہ عوام کے مسائل نظر انداز کر دیے جائیں، احتساب سے بالاتر سمجھا جائے اور تنقید کو اپنی توہین قرار دے دیا جائے؟ حقیقی استحقاق تو خدمت، دیانت، جوابدہی اور کردار سے حا صل ہوتا ہے، نہ کہ بلند عہدوں اور طاقت کے مظاہروں سے، وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے اپنے گریبان میں جھانکے، قوم کو نعروں، الزام تراشیوں اور محاذ آرائی سے زیادہ کردار، بصیرت اور خدمت کی ضرورت ہے۔

    عوام کو بجلی، گیس، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف چاہیے؛ انہیں تقریروں اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں خدا کا خوف کیجیے، اس ملک پر رحم کیجیے، اس قوم پر رحم کیجیے، اقتدار، شہرت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیے کہ تاریخ آپ کے کردار کے بارے میں کیا فیصلہ دے گی۔ قومیں نعروں سے نہیں، کردار، دیانت اور خدمت سے بنتی ہیں پاکستان بھی اسی دن مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے گی۔

  • پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط

    پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط

    اسلام آباد میں منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ کے دوران پاکستان کی 12 کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا آغاز کریں گی۔

    اسلام آباد میں الراعی گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سعودی وژن 2030 پاک سعودی تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اہم موقع فراہم کر رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ایمان، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ سعود ی وژن 2030 نےعالمی سرمایہ کاری اورنجی شعبے کےفروغ کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں،جن سےپاکستانی کاروباری برادری بھرپور استفادہ کرسکتی ہے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے الراعی گروپ اور مملکت سعودی عرب کو کامیاب سمٹ کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ سینیٹ اور حکومت پاکستان معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

    الراعی گروپ کے چیئرمین بلال ایم زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ملکیتی حقوق، آسان بینکاری سہولیات اور کم از کم سرمائے کی شرط کے بغیر کاروبار شروع کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے پاکستان کی کوئی بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی یا پارٹنرشپ فرم، جو کم از کم ایک سال سے فعال ہو، مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا حصہ بن سکتی ہے۔

    صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا اور پاک سعودی تجارتی تعلقات کے فروغ میں الراعی گروپ کے کردار کو سراہاسمٹ میں سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کی نمایاں کامیابی پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 12 ممتاز کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادد ا شتوں (ایم او یوز) پر دستخط تھے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کا آغاز کریں گی شرکا نے اس پیشرفت کو دو نوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

  • اسحاق ڈار اور انڈونیشی وزیر اقتصادی امور کی ملاقات

    اسحاق ڈار اور انڈونیشی وزیر اقتصادی امور کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایرلنگا ہرتارتو سے ملاقات کی-

    ملاقات میں پاک۔انڈونیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے اور دسمبر 2025 میں انڈونیشی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ شنگھائی میں عا لمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایرلنگا ہرتارتو سے خوشگوار ملاقات ہوئی

    انہوں نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف ترجیحی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور کثیرالجہتی امور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    اسحاق ڈار کے مطابق ملاقات میں دسمبر 2025 میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے تاریخی دورۂ پاکستان کے دوران ہونے والی پیش رفت، اقتصادی و ترقیاتی نتائج اور طے شدہ مفاہمتوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیادونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے فیصلوں کو عملی شکل دے کر دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

  • گوادر پورٹ پر پہلی بار تجارتی بنکرنگ سروس کا آغاز

    گوادر پورٹ پر پہلی بار تجارتی بنکرنگ سروس کا آغاز

    گوادر پورٹ نے کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ کامیاب تجارتی جہازی ایندھن (بنکرنگ) آپریشن مکمل کر لیا، جس کے ساتھ ہی پاکستان نے بین الاقوامی معیار کی میرین فیول سروسز فراہم کرنے والے ممالک کی صف میں شمولیت اختیار کر لی۔

    جولائی 2026 میں گوادر پورٹ نے پاکستان کی تاریخ کا پہلا کامیاب تجارتی جہازی ایندھن (Ship Bunkering) آپریشن مکمل کرتے ہوئے ملکی بحری شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا، اس آپریشن کے دوران گوادر پورٹ سے ایل این جی بردار جہاز ’اینوگو‘ کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق تیار کردہ 2,500 میٹرک ٹن ویری لو سلفر فیول آئل فراہم کیا گیا۔

    یہ ایندھن پاکستان کی نجی توانائی کمپنی سینیرجیکو پی کے لمیٹڈ نے تیار کیا، جس سے پاکستان کی عالمی معیار کی میرین فیول سروسز فراہم کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ ہوا،یہ کامیابی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فلیگ شپ منصوبے گوادر پورٹ کی ترقی میں ایک اہم پیشرفت قرار دی جا ر ہی ہے، جس کے بعد گوادر محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ مکمل بحری، تجارتی، لاجسٹک اور توانائی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس اقدام سے گوادر پورٹ کی خطے میں اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھے گی اور پاکستان علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور لاجسٹکس کے ایک مؤثر گیٹ وے کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے گا، تجارتی بنکرنگ سروس کے آغاز سے بین الاقوامی بحری جہازوں کی گوادر آمد میں اضافہ متوقع ہے، جس سے بندرگاہ کی آمدنی بڑھے گی، قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی بحری تجارت اور علاقائی توانائی سپلائی چین میں کردار مزید مستحکم ہوگا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ پر بین الاقوامی معیار کی ایندھن فراہمی کی سہولت دستیاب ہونے سے عالمی شپنگ کمپنیاں اس بندرگاہ کو ترجیح دے سکیں گی، جس سے پاکستان کی بحری مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور گوادر پورٹ کو خطے کے اہم میری ٹائم اور لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنے کے حکومتی وژن کو عملی تقویت ملے گی۔

  • کراچی بندرگاہ پر پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

    کراچی بندرگاہ پر پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

    وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی کاوشیں رنگ لے آئیں،پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پہنچ گئیں-

    وزارتِ بحری امور کے مطابق، الیکٹرک گاڑیوں سے لدا ہوا مخصوص بحری جہاز ‘ایم وی گرینڈے شنگھائی’ کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔

    اس تاریخی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ رورو (Ro-Ro) جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پاکستان کی بحری اور تجارتی تاریخ میں ایک انقلابی قدم ہے کراچی پورٹ پر پہلی رورو ای وی شپمنٹ کا پہنچنا ہماری بحری تجارت کی ترقی اور جدید خطوط پر استواری کی واضح دلیل ہےرورو جہاز کے ذریعے پہلی بار الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد تاریخی سنگ میل ہے –

    انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ رورو (Roll-on/Roll-off) ایسے جدید ترین بحری جہاز ہوتے ہیں جن پر گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے ذریعے اٹھانے کے بجائے ریمپ کی مدد سے براہِ راست چلا کر لوڈ اور ان لوڈ کیا جاتا ہے اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف وقت کی بڑی بچت ہوتی ہے بلکہ قیمتی گاڑیوں کے محفوظ ترین طریقے سے بندرگاہ پر اترنے کی ضمانت بھی ملتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت بندرگاہوں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ان جدید سفارتی و تجارتی کوششوں سے پاکستان کی مجموعی تجارتی صلاحیت مزید مستحکم ہوگی اور کراچی پورٹ دنیا بھر کے جدید ترین شپنگ نیٹ ورک کا اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔

  • رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں،تجزیہ :شہزاد قریشی

    رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں،تجزیہ :شہزاد قریشی

    رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں

    وطن کے محافظوں کی قربانیاں کسی تنخواہ یا مفاد کا نتیجہ نہیں بلکہ فرض، وفاداری اور حب الوطنی کی عظیم داستان ہیں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کے خون اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو الزام تراشی اور نفرت کی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے جو قومیں اپنے محافظوں کا احترام کرتی ہیں وہ مضبوط بنتی ہیں، اور جو اپنے ہی دفاع کو کمزور کرتی ہیں وہ خود اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں

    پاکستان ایک نازک خطے میں واقع ملک ہے جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ایسے حالات میں اگر ہم ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن سے اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ وطن کی سرحدوں سے لے کر شہروں اور دیہات تک، بے شمار لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک اور عوام کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

    یہ اختلاف کا نہیں، انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں جو روزانہ اس وطن کے لیے دی جا رہی ہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی جوان شہید ہو رہے ہیں۔ کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کو دفنا رہی ہے، کہیں ایک بہن اپنے بھائی کی جدائی کا دکھ سہہ رہی ہے، اور کہیں معصوم بچے اپنے والد کے سائے سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو اس ملک کے امن اور استحکام کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اوقات سیاسی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ قومی ادارے بھی الزام تراشی کا نشانہ بننے لگتے ہیں۔ تنقید ہر جمہوریت کا حق ہے، لیکن ایسی گفتگو جو قوم کے محافظوں کی قربانیوں کو مشکوک بنا دے، وہ نہ صرف شہداء کے لواحقین کے زخم تازہ کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

    میں پوٹھوہار کی اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں جسے بجا طور پر شہداء کی سرزمین کہا جاتا ہے، یہاں کے قبرستانوں میں وطن پر قربان ہونے والوں کی قبریں موجود ہیں اور بے شمار خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے، بھائی اور والد اس ملک کے دفاع کے لیے قربان کیے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ان جنازوں کو کندھا دیا ہے، ان گھروں کا درد دیکھا ہے اور ان آنکھوں کے آنسو دیکھے ہیں جن کے پیارے وطن پر نثار ہو گئے۔

    کیا کوئی شخص صرف تنخواہ یا مالی منفعت کے لیے موت کو گلے لگاتا ہے؟ کیا کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کو صرف ایک ملازمت کے لیے رخصت کرتی ہے؟ نہیں، یہ جذبہ اس سے کہیں بلند ہے۔ یہ وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی ذمہ داری کا وہ احساس ہے جو انسان کو اپنی جان تک قربان کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔

    سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور قومی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ان قربانیوں کا احترام کریں۔ قوموں کی طاقت ان کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر ہم خود اپنے محافظوں کو کمزور کریں گے، ان کی نیتوں پر سوال اٹھائیں گے اور ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیں گے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نفرت کے بجائے اتحاد، الزام کے بجائے انصاف اور تقسیم کے بجائے یکجہتی کو فروغ دیں۔ شہداء کا احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے، اس کے محافظ بھی ہمارے ہیں، اور ان کی قربانیاں بھی ہماری مشترکہ قومی امانت ہیں۔

    خدارا، اس وطن پر رحم کیجیے، اس کے شہداء پر رحم کیجیے، ان ماؤں کے آنسوؤں کا احترام کیجیے جنہوں نے اپنے لختِ جگر پاکستان کے نام کر دیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر اپنے ہی وطن کے محافظوں کو کمزور مت کیجیے۔

  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہےترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہےاسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

    ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا اس دورے کا مقصد پاکستان کے د یرینہ دوست ملک قطر کے امیر اور قطری قیادت سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرنا تھا۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع پر قطر کے ساتھ یکجہتی اور قریبی تعلقا ت کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں ایک دوست ملک کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ بھی کیا اس موقع پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں ممالک نے اقتصادی روابط میں اضافے، سفارتی مکالمے کو مضبوط بنانے اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ مشاورت بھی منعقد ہوئی پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ سفیر عائشہ علی نے جبکہ پرتگال کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ پالیسی سفیر ہیلینا مالکاٹا نے کی دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور او آئی سی کے رکن ممالک میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں اور پاکستان ملک میں موجود تمام چینی شہریوں اور عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اس جرم کی سخت مذمت کرتا ہے، تاہم یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے، شبیر حسین برطانوی شہری ہیں، ان کی پرورش بھی برطانیہ میں ہوئی، اس لیے حکومت پاکستان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کی بھی مذمت کی انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

  • اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

    شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کے سیکریٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی –

    ملاقات میں تنظیم کی ترجیحات، رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دور ان دونوں رہنماؤں نے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطہ کاری سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر مفید گفتگو کی۔

    ایس سی او کے سیکریٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا،انہوں نے ایس سی او کی مؤثریت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔

    اسحاق ڈار نے ایس سی او کے مقاصد کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے سے قبل تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے تیار ہے،انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کامیاب انداز میں کرے گا۔