Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس، پاکستان کی بھرپور سفارتی تیاریوں کی ہدایت

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سمیت آئندہ کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کے لیے جامع اور بھرپور تیاریوں کی ہدایت کردی۔

    نائب وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئندہ کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کی تیاریوں سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سمیت اہم عالمی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اور حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔

    سیکریٹری خارجہ نے اجلاس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی تیاریوں اور آئندہ سفارتی سرگرمیوں کے اہم پہلوؤں پر بریفنگ دی، جبکہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی ترجیحات کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری رہنمائی فراہم کی،اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں کو جامع تیاری اور مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان کی ترجیحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس 8 ستمبر 2026 سے نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔ جبکہ ہفتہ وار اعلیٰ سطحی عام بحث کا آغاز 22 ستمبر سے 28 ستمبر تک جاری رہے گا ‏81 ویں اجلاس کی صدرات جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن کریں گے جنکا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔

    جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے مقررین ممالک کی پہلی عارضی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ جسکے مطابق پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف بروز جمعہ، 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ رواں سال عبوری فہرست میں پاکستان کا خطاب دوسرے سیشن (سہ پہر 3 تا رات 9بجے) رکھا گیا ہے۔

    جنرل اسمبلی کی برسوں سے جاری روایت کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے افتتاحی خطاب کے بعد اجلاس کے پہلے مقرر برازیل کے صدر ہوں گے جبکہ دوسری تقریر میزبان ملک امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہو گی۔

    جاری ہونے والی عارضی فہرست میں بھارت کی جانب سے 25 ستمبر کو خطاب کے لیے فی الحال اسکے (ہیڈ آف گورنمنٹ) وزیراعظم کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم حسب معمول زیادہ توقع اس بات کی ہے کہ مقررین کی فائنل لسٹ میں بھارت کے وزیرخارجہ کا نام آ جائے گا۔

    رواں سال جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے زیادہ تر مقررین موسمیاتی تبدیلی، عالمی صحت، امن و سلامتی جیسے عالمی مسائل پر تقاریر کے دوران انکے حل کے لیے اپنی تجاویز دیں گے،193 عالمی رہنما (یو این جی اے۔ 81) اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کا چناؤ بھی کریں گے۔ نئے سیکرٹری جنرل کی دوڑ میں اس وقت 5خواتین امیدواروں سمیت8 امیدوار میدان میں ہیں۔

  • پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے،جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ ہے-

    وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے دو ٹرینچز میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کر دیئے ، پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کرنے کی پیشکشیں موصول ہوئی ہیں، ملک کو پہلی بار 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ یکمشت جاری کرنے کا موقع ملا، یورو بانڈ کا کامیاب اجرا پاکستان پر عالمی اعتماد کا عکاس ہے، پا کستان کے قرض واپس کرنے کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی وجہ سے یورو بانڈ کا کامیاب اجرا ممکن ہوا۔

    پاکستان نے ساڑھے پانچ سالہ یورو بانڈ سے 1.75 ارب ڈالر حاصل کیے، جس پر سود کی شرح 7.50 فیصد ہو گی جبکہ 10 سالہ یورو بانڈ سے پاکستان نے 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے، جس پر 7.90 فیصد سود ادا کرنا پڑے گا، بانڈز میں عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اور طلب جاری رقم سے تقریباً دوگنا رہی۔

    سرعام ہوائی فائرنگ کرنے والا گرفتار،پسٹل برآمد،مقدمہ درج

    پہلے پانڈا بانڈ کی کامیابی سے اجرا کے بعد پاکستان نے نئے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلی بار بانڈ جاری کیا، جو عالمی کیپیٹل مارکیٹس سے مختلف ذرائع کے ذریعے مالی معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    اس اقدام کا مقصد صرف مزید قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت قرضوں کے مؤثر اور فعال انتظام کو یقینی بنانا ہے،اس حکمت عملی میں مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنانا، قرض کی مدت بڑھانا، ری فنانسنگ اور قرضوں کی تجدید سے وابستہ خطرات کم کرنا اور معاشی طور پر فا ئدہ مند ہونے کی صورت میں قلیل مدتی اور مہنگے قرضوں کی جگہ طویل مدتی اور مسابقتی شرح پر حاصل کی گئی فنانسنگ لانا شامل ہے۔

    نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک اے آئی کے استعمال پر پابندی

    یورو بانڈ بنیادی طور پر ایسا بانڈ ہوتا ہے جسے کوئی حکومت یا ادارہ اپنی مقامی کرنسی کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے جاری کرتا ہے پاکستان کے معاملے میں یہ بانڈ امریکی ڈالر میں جاری کیا جاتا ہے حکومتیں یورو بانڈز کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں سے براہ راست مالی وسائل حاصل کر سکتی ہیں، جس سے انہیں مقامی ذرائع کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری تک رسائی ملتی ہے۔

    گزشتہ روز مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 5 سالہ اور 10 سالہ مدت کے دو مختلف ڈالر بانڈز پر مشتمل ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ پیش کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں سے فنڈز حاصل کیے جائیں گے،یورو بانڈ کا اجرا پاکستان کی عالمی سرمایہ مارکیٹ تک دوبارہ رسائی کی جانب اہم قدم ہے۔ بانڈ کے اجرا کا فیصلہ عالمی مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہےمعاشی استحکام اور مضبوط میکرو اکنامک اشاریوں کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یورو بانڈ کا اجرا عالمی مالیاتی نظام میں پاکستان کی دوبارہ مؤثر شمولیت کی جانب اہم پیشرفت ہے۔

  • پاکستان اور کرغزستان کے مابین کئی معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور کرغزستان کے مابین کئی معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف اور کرغزستان کے صدر صادرژاپاروف نے مشترکہ اعلامیے پر دستحط کیے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہوئے ، اس کے علاوہ لاہور اور کرغز شہر اوش کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا،پاکستان اور کرغزستان کی خارجہ امور کی وزراتوں کے درمیان تعاون کے پروگرام سے متعلق دستاویز کا تبادلہ کیا گیا۔

    علاوہ ازیں انسٹی ٹیوف آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور کرغز نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت ، منشیات ،نشہ آور اشیاء اوراسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور کرغز وزارت صحت کے درمیان طبی تعلیم میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ، ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔

    این ڈی یو اسلام آباد اورکرغزنیشنل انسٹی ٹیوٹ فاراسٹریٹجک انیشی ایٹوز کے درمیان تحقیق کے شعبے میں ایم او یو پر بھی دستخط کئے گئے۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کے بشکیک میں صدارتی محل آمد پر پاکستان اور کرغزستان کے قومی ترانے بجائے گئےکرغزستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی دی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    معاہدوں پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کرغزستان کے صدر صادرژاپاروف نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کو بشکیک آمد پرخوش آمدید کہتے ہیں ، پاکستان اور کرغزستا ن کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں ، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کی شراکت داری کا اہم ستون ہے۔ کاسا 1000 منصوبے کی بروقت تکمیل ضروری ہے، جبکہ بجلی، پن بجلی، متبادل توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھائیں گے۔ قدیم شہروں اوش اور لاہور کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کا قیام بھی خوش آئند ہے دونوں ممالک دہشت گردی، انتہاپسندی اور دیگر عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اور دفاعی تعاون مزید بڑھائیں گےپاکستان اور کرغزستان عالمی امن و سلامتی کے لیے مؤثر کثیرالجہتی نظام کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

    کرغز صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں، پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات باہمی احترام اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، علاقائی روابط اور تجارت کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں، مشکل وقت میں باہمی تعاون اور یکجہتی دونوں ممالک کی دیرینہ روایت ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بہترین میزبانی پر کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کا شکر گزار ہوں، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے دوطرفہ تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور شعبہ سرمایہ کاری میں تعاون کی گنجائش موجود ہے،علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کرغزستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

    تجارتی حجم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک تجارتی حجم بڑھانے کے لیے قوانین کو مزید آسان بنائیں گے، باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ دوطرفہ مذاکرات میں تجارتی تعلقات کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، باہمی تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے، امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

    انہوں نے توانائی کے شعبے میں CASA-1000 منصوبے پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے بجلی، پن بجلی، قابل تجدید توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی میں عملی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ اور ٹرانزٹ ٹریفک سے متعلق چار فریقی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد اور نقل و حمل، کسٹمز اور انتظامی طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف مل کر کام کریں گے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے بھی اتفاق رائے طے پایا ہے، مختلف دوطرفہ، علاقائی اور عالمی فورمز پر تعاون بڑھایا جائے گا،ایس سی او سربراہ اجلاس کا کامیاب انعقاد کرغز قیادت کی بہترین صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایس سی او پلیٹ فارم سے علاقائی رابطے، پائیدار ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کا حصول ناگزیر ہے۔

  • اسحاق ڈار کی کرغزستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات،علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی تعاون پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کی کرغزستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات،علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی تعاون پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے وزیر خارجہ ژین بیک کلوبایف سے ملاقات میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    مذکورہ ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں کرغزستان کے صدر صادیر ژاپاروف سے ملاقات سے قبل ہوئی اسحاق ڈار نے کرغز وزیر خارجہ کو شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیاب سربراہی اور ایس سی او سربراہی اجلاس کی مؤثر میزبانی پر مبارکباد بھی دی۔

    اسحاق ڈار نے ورلڈ نومیڈ گیمز کے چھٹے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب کی کامیاب میزبانی پر بھی کرغزستان کو مبارکباد دیتے ہوئے ایس سی او کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کرغز قیادت کی کاوشوں کو سراہا،اور اس موقع پر پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کرغزستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے گا،انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط، سیکیورٹی اور عوامی سطح پر روابط سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

    کرغز وزیر خارجہ ژین بیک کلوبایف نے پاکستان کو 27-2026 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان تنظیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مؤثر قیادت فراہم کرے گا،کرغزستان پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی اور دوستا نہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایس سی او سمیت دیگر کثیرالجہتی فورمز پر قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • عالمی اداروں کو اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف

    عالمی اداروں کو اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے، ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے-

    بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگِ میل ہے، پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے، ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملدرآمد ضروری ہے، ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام اہم قدم ثابت ہو گا، پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی اور آئی ٹی کو ترجیح دی جائے گی پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں صحت، ثقافت اور کھیل کی ترجیحا ت میں شامل ہیں ،پاکستان غربت کے خاتمے اورسماجی تحفظ کے فروغ کیلئے کردار جاری رکھے گاایس سی او خطے میں تین ارب سے زائد افراد آباد ہیں، علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، پاکستان کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہےپاکستان پائیدار علاقائی امن کے لیے پرعزم اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی ہے، عالمی اداروں کو اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا،غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی المیہ ناقابلِ تصور مصائب کا باعث ہے، عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، پاکستان پرامن ،مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، دہشتگردوں کو افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں کرنے دی جا سکتی، سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، پاکستان علاقائی ریل،سڑک اور توانائی منصوبوں کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔

  • اسحاق ڈار کی بیلاروس کے وزیر خارجہ سے ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کی بیلاروس کے وزیر خارجہ سے ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزنکوف سے ملاقات کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور بیلاروس کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی دلچسپی کے امور پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا،ملاقات یکم ستمبر 2026 کو بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

  • قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ:  شہزاد قریشی

    قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی ترقی کے دشمن کون؟

    قومی منصوبوں کا قتلِ عام کب تک؟

    سیاست کی قیمت قوم کب تک چکاتی رہے گی؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ملک وسائل سے محروم ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب بھی قومی مفاد کا کوئی دروازہ کھلتا ہے، سیاست کی تنگ نظری اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے بعض سیاسی حلقوں نے اختلافِ رائے کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں قومی مفاد، جماعتی مفاد کے سامنے بے حیثیت دکھائی دیتا ہے۔

    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ریاستیں اپنی معیشت، دفاع، سفارت کاری اور انتظامی ڈھانچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کر رہی ہیں، جبکہ ہم آج بھی انہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ کالا باغ ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جو پانی، بجلی اور زراعت کے شعبوں میں انقلاب لا سکتا تھا، اسے سیاسی نعروں، علاقائی تعصبات اور اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ آج جب قوم لوڈشیڈنگ، آبی قلت اور زرعی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

    حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے بعض سیاسی قوتیں آج بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام جیسے معاملات پر وہی پرانی سیاست دہرا رہی ہیں۔ عوام کو حقائق بتانے کے بجائے جذباتی نعروں کے ذریعے خوف اور بداعتمادی پیدا کی جا رہی ہے۔ حالانکہ دنیا کا ہر کامیاب ملک انتظامی اصلاحات کو ریاستی استحکام اور عوامی سہولت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑے علاقوں کو بہتر نظم و نسق کے لیے نئے انتظامی ڈھانچوں میں تقسیم کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ جدید ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

    سوال یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے مفاد کی کوئی بات ہوتی ہے تو مخالفت کی یہ آگ کیوں بھڑک اٹھتی ہے؟ آخر کیوں قومی ترقی کے منصوبے سیاسی انا کی نذر ہو جاتے ہیں؟ کیوں ہر وہ اقدام جو عوام کی زندگی آسان بنا سکتا ہے، اسے سیاسی معرکہ بنا دیا جاتا ہے؟ قوم ان سوالات کے جواب چاہتی ہے۔
    دوسری جانب پاکستان نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت اور وقار میں اضافہ کیا ہے۔ علاقائی تعاون، سفارتی روابط اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہونے والی پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں داخلی انتشار، بے بنیاد پروپیگنڈا اور قومی معاملات پر سیاست دراصل پاکستان کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    وقت آ گیا ہے کہ قوم جذباتی نعروں اور سیاسی شور سے آگے بڑھے۔ پاکستان کو ایسی قیادت، ایسی سوچ اور ایسی سیاست درکار ہے جو آنے والی نسلوں کے مفاد کو مقدم سمجھے۔ جو منصوبوں کو ووٹ کی عینک سے نہیں بلکہ قومی ضرورت کی نظر سے دیکھے۔ جو عوام کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرےتاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو قوموں کی تعمیر کرتے ہیں، اور وہ بھی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں جو ذاتی مفادات کی خاطر قومی مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔ فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ترقی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں یا ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہنا چاہتے ہیں۔

  • اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور چین کے درمیان ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون کی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 2026 کے اجلاس سمیت مختلف اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی اجلاس سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر اقوام متحدہ کے آئندہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے جاری عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔

  • پاکستان اور ترکیہ کا خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور ترکیہ کا خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے استنبول میں اپنے ترک ہم منصب یاشار گولر سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی اور باہمی دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا،اس موقع پر ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ نے خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،یہ ملاقات تینوں برادر ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو مقدس شہر مکہ مکرمہ میں دستخط کیے جانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ‘ کے تحت قائم ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کے پہلے باقاعدہ اجلاس سے قبل ہوئی۔ اس کمیٹی کا یہ تاریخی پہلا اجلاس دفاعی اور سفارتی تعاون کی عملی شکل فراہم کرنے کے لیے استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔

    اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شرکت کر رہی ہے، ترک وزارت خارجہ کے مطابق ترکیہ کی نمائندگی وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو کر رہے ہیں۔

    دفتر خارجہ اسلام آباد کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم سرکاری دورے پر استنبول پہنچ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ استنبول کا یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر عملدرآمد کی سمت میں پہلا مضبوط ادارہ جاتی قدم ہے،اس معاہدے کے تحت طے پایا ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 کی طرز پر اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تینوں ممالک نے اس نظام کو خالصتاً دفاعی اور اجتماعی طاقت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے جس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

  • نیپال میں تباہ کن زلزلہ:پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا

    نیپال میں تباہ کن زلزلہ:پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا

    پاکستان سیلاب سے متاثرہ برادر ملک نیپال کے لیے آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا،امداد کی پہلی کھیپ آج شام 4 بجے تک روانہ کی جا رہی ہے، اس امدادی سامان میں خیمے، ادویات، کمبل اور دیگر ضروری اشیائے ضرورت شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار برادر ملک نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے 80 ٹن وزنی انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی پہلی کھیپ آج شام 4 بجے تک نیپال کے لیے روانہ کر دی جا ئے گی۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پہلی امدادی کھیپ میں سیلاب متاثرین کے لیے خیمے، ضروری ادویات، کمبل اور دیگر انتہائی اہم اور بنیادی ضرورت کی اشیاء شامل کی گئی ہیں تا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں تیز رفتاری لائی جا سکے،پاکستان کی جانب سے یہ اقدام نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بعد بحالی اور ریلیف کی کوششوں میں حصہ ڈالنے اور مشکل کی اس گھڑی میں نیپالی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ نیپال اور تبت کی سرحدی پٹی میں سیلاب کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے، جبکہ نیپال میں 794 اور تبت میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے،نیپال میں 2,500 سے زائد افراد لاپتا ہیں، جن میں سینکڑوں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

    نیپال میں حکام نے سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں میں چین اور بھارت کے ماہرین بھی شامل ہیں، جو سرنگوں کے اندر موجود افراد سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    حکام کے مطابق تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے میں امدادی کارکنوں نے سرنگ میں داخل ہونے کے لیے ایک سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ نیپال میں لاپتا ہونے والے 2,500 سے زائد افراد میں سینکڑوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملک کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرتے تھے۔ لاپتا افراد میں مختلف ممالک کے غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں سرکاری طور پر 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں، ان میں سے تقریباً نصف غیرملکی شہری بتائے جاتے ہیں، شگاتسے میں امدادی ٹیموں کو اب تک کسی شخص کو زندہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    سیلاب سے نیپال کے 3 سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں کم از کم 19 اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں، وزارتِ تعلیم کے مطابق 9 اسکول مکمل طور پر تباہ جبکہ 7 کو جزوی نقصان پہنچا ہے، مختلف تعلیمی اداروں سے اساتذہ اور طلبہ کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تازہ جائزے کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتا جبکہ تقریباً 20 سیلابی ریلے میں بہہ گئے، راسووا اور نواکوٹ اضلاع کے متعدد اسکول، جہاں 2,425 طلبہ زیرتعلیم تھے، سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے، ایک اسکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ سیلاب اس کی ایک طالب علم کو لے جانے والی بس بھی بہا لے گیا۔