Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    اسلام آباد: حکومت نے عوام کو ریلیف کے لیے متبادل ذرائع سے آمدن کا پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے متعلق مذاکرا ت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حکومت نے بجٹ میں سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبو ں کو ریلیف دینے کی تجویز کے تحت متبادل ذرائع سے ریونیو اکٹھا کرنے کا پلان آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے ان ریلیف اقدامات سے متعلق سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور ابھی تک حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کسی ریلیف پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے آئی ایم ایف نے صوبائی اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے اور زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ادارے نے زور دیا ہے کہ اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ریونیو کا توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف طبقوں کے لیے ٹیکس ریلیف چاہتی ہے تاہم آئی ایم ایف اس حوالے سے فراہم کردہ ڈیٹا اور حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا فی الوقت آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت سے ہر تجویز پر ڈیٹا طلب کر رہی ہے اور معاشی ٹیم کی جانب سے مسلسل جوابات دیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الحال کسی نئی شرط پر بھی اتفاق نہیں ہوا ہے آئی ایم ایف نے عدالتی مقدمات سے حاصل ممکنہ ریونیو کو بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی ہے اس وقت مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق 770 ارب روپے کے مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 30 جون تک 250 ارب روپے کے مقدمات کے فیصلے حکومت کے حق میں آنے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سالانہ ٹیکس ہدف دو حصوں میں تقسیم ہوگا اور 14 ہزار ارب روپے سے زائد کا ہدف تجویز کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کم از کم 500 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے فیصلے آئندہ مالی سال میں یقینی بنائے جائیں تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پابند ہے اور تمام فیصلے باہمی رضامندی سے کیے جائیں گے۔

  • نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے، اسحاق ڈار

    نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے، اسحاق ڈار

    سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنے بچوں کے قاتلوں کا حساب لے گانیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔

    جمعرات کو جاری سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خضدار کے سانحے کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی پراکسیز سے باز آ جائے، پاکستان ہر صورت میں اپنے بچوں کے قاتلوں کا حساب لے گانیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔ ہم نے بارڈرز کھول کر 35 سے 40 ہزار افراد کو ملک میں داخل ہونے دیا، اور ان میں سے بعض ہی ہمارے لیے آج فتنہ بنے ہوئے ہیں اس فتنہ کو ختم کرنا ہوگا اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے بھی واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اسکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، یہ کھلی دہشتگردی ہے پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور قربانیاں دیں، ہم نے محترمہ بینظیر بھٹو کو دہشتگردی میں کھویا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی لوگ شہید ہوئے۔

    شیری رحمان نے بھارت کی مداخلت کے ثبوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہے، لیکن بھارت آج تک کسی واقعے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا 87 گھنٹے کی حالیہ جنگ میں بھی بھارت نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جب کہ پاکستان نے صرف فوجی اہداف پر جواب دیا۔

    خضدار واقعے پر بحث کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ایسے شاید جانوروں کو بھی نہ مارا جائے جیسے ہمارے معصوم بچوں کو مارا گیا۔ انہوں نے اے پی ایس سانحے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوگا تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

    ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ کیا اُن افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی جنہوں نے اس پالیسی پر عمل نہیں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ پچاس سال میں یہ طے نہیں ہوسکا کہ طالبان گڈ ہیں یا بیڈ، یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ یہ دہشتگرد ہیں یا اسٹریٹیجک اثاثے؟بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام اب پراکسی جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہمیں امن امریکہ یا سعودیہ سے نہیں، اپنے دفاعی ادارے سے چاہیے۔

    ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ وفاق میں 50، 60 وزارتیں بیٹھی ہیں، کیا کر رہی ہیں؟ خطے میں امن کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران اور افغانستان سے بات کرنی چاہیے، اور مفروضوں سے نکل کر تجارت کی طرف جانا ہوگا۔

    ایمل ولی خان نے گزشتہ روز چئیرمین پی ٹی اے کے متنازع ریمارکس پر احتجاج کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا، جس پر چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی رائے طلب کرلی۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے دفاعی بجٹ میں دو سے تین گنا اضافے کی پرزور تجویز دی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا پیٹ کاٹ کر دفاعی بجٹ کو بڑھانا پڑے گا، ہمیں ترقیاتی منصوبوں کی بجائے اب دفاع پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ افواج پاکستان کی تنخواہوں کو دوگنا کرنا وقت کی ضرورت ہے اور بھارت کے مقابلے کے لیے حکمت عملی پر بھی سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ہمیں ترقی کے بار ے میں سوچنا چاہیے، ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور قوم متحد ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ کو کیسے دو یا تین گنا کیا جائے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے بھارتی جارحیت پر پاکستان کے منہ توڑ جواب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاک افواج نے حالیہ معرکہ میں دشمن کے 285 اہلکاروں کو ہلاک کیا پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی واضح ہدایت تھی کہ کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ بھارت پاکستان کو کمزور سمجھ بیٹھا تھا، لیکن ہماری افواج نے جرات مندانہ جواب دے کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہم ہندوستان کے سامنے اپنی طاقت واضح کرچکے ہیں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے، یہ سب کچھ اپوزیشن کو ساتھ ملائے بغیر ممکن نہیں ہوگا،وہ دل بڑا کرے اور اپوزیشن سے اختلافات کو طے کرنے کیلئے سنجیدگی سے بات چیت کرے،بھارت کی فوج کی تعداد ہم سے زیادہ ہے، لیکن ہم نے ابھی تک اپنا بھرپور دفاع کیا ہے اور ہماری قوم اور فوج ہر سطح پر تیار ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹ نے سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی تحریک کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت سانحہ خضدار پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا۔

    اس موقع پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا دلخراش واقعہ ہوا ہے اور ہمیں اس پر آواز اٹھانے دی جائے انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی شدت پسند سوچ کو پاکستان پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا،ا نوار الحق کاکڑ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تقریر ختم کرنے کی ہدایت پر برہم دکھائی دئیے اور کہا، ’اگر یہاں بات نہیں کرنی تو پھر ٹک ٹاک یا یوٹیوب بنانا شروع کر دوں؟‘

    خضدار میں اسکول جاتی تین معصوم بچیوں کی شہادت کو سینیٹر عرفان صدیقی نے انسانیت کے خلاف بدترین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں کرہ ارض پر کوئی اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ کون سے حقوق مانگے جا رہے ہیں؟ معصوم بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے شہید کر دینا درندگی ہے اس دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو نہ صرف ان گروہوں کو فنڈنگ دے رہا ہے بلکہ اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جس میں دشمنی کا بھی سلیقہ نہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا جائے انہوں نے زور دیا کہ یہ دہشتگرد کسی ناراضی یا حقوق کے لیے نہیں، بلکہ ایک پیشہ ورانہ سلسلہ بنا چکے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی نہیں برتی جانی چاہیے ہماری تین بچیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس خون سے جو انقلاب آئے گا وہ بھارت کو بہت تکلیف دے گایہ دہشتگرد ہیں، ان کو کچلا جائے، ان پر رحم نہ کیا جائے، اور نہ ہی ان کی حمایت میں کوئی آواز اٹھنی چاہیے۔

  • چین کا دورہ کامیاب ، پاک چین تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں: اسحاق ڈار

    چین کا دورہ کامیاب ، پاک چین تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں: اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چین کا حالیہ دورہ انتہائی مثبت اور کامیاب رہا، پاکستان اور چین کے تعلقات میں مزید گہرائی اور مضبوطی آ رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بیجنگ میں وطن واپسی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ تین اہم ممالک – پاکستان، چین اور افغانستان – کے درمیان سہ فریقی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں خطے کی سیکیورٹی اور معاشی ترقی سے متعلق اہم امور زیر بحث آئے۔ افغان عبوری وزیر خارجہ کے ساتھ الگ سے تفصیلی مذاکرات بھی کیے گئے، جن میں دوطرفہ امور اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ اگلا سہ فریقی اجلاس افغانستان میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔

    اسحاق ڈار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط اور پائیدار ہو رہے ہیں، خاص طور پر سی پیک منصوبے کو افغانستان تک توسیع دینے کے معاملے پر دونوں ممالک مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ دورہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھولنے کی امید لے کر آ رہا ہے۔

    کالعدم بی ایل اے کا گرفتار کارندہ ریمانڈٍ پر پولیس کے حوالے

    پی ایس ایل 10: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا اسلام آباد کو 210 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف

    سپریم کورٹ کی بڑی پیش رفت: سزائے موت کی تمام اپیلیں نمٹا دی گئیں

    کراچی ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی، 37 کروڑ روپے کی ممنوعہ ادویات ضبط

  • بھارت کو جنگ چاہیے، تو پھر جنگ سہی، ہم جنگ کیلئے بھی تیار ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کو جنگ چاہیے، تو پھر جنگ سہی، ہم جنگ کیلئے بھی تیار ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہا کہنا ہے کہ سیاست اور سفارتکاری پاک فوج کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازع اب بھی برقرار ہے، حالیہ دنوں میں پاکستان نے بہت بالغ طریقے سے ردعمل دیا، ہم امن سے محبت کرتے ہیں، ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں، اگر بھارت کو جنگ چاہیے، تو پھر جنگ سہی، ہم جنگ کیلئے بھی تیار ہیں بھارت جس طریقے سے بات کر رہا ہے وہ اپنی داخلی سیاست کو بہتر کرنے کا طریقہ ہو سکتا ہے کیا آپ کو بھارت میں کسی ذمہ دار سیاسی قیادت کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟، بھارت ہر چند سال بعد ایک چھوٹا بیانیہ گھڑتا ہےسیاست اور سفارتکاری پاک فوج کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اصل تنازع اب بھی کھڑا ہے، اصل مسئلے میں کسی وقت بھی چنگاڑی ڈالی جا سکتی ہے، بھار ت گھمنڈ کا شکار ہے۔آپ حالات کو دیکھیں، 10 مئی کے بعد کتنے دن گزر چکے ہیں مگر بھارت میں جو بیانیہ چلایا جا رہا ہے وہ اب بھی جاری ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ محض بیوقوفی ہوگی، ایٹمی جنگ دونوں ممالک کے لیے باہمی تباہی کا باعث بن سکتی ہے، ایٹمی جنگ ناقابل تصور اور نامعقول خیال ہونا چاہیے پاکستان امن کا خواہاں ہے، اگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پاکستان ہر وقت اس کے لیے تیار ہے بھارت اپنے بیانیے کی وجہ سے آگ سے کھیل رہا ہے، بھارت ہر چند سال بعد ایک جھوٹا بیانیہ گھڑتا ہے، دنیا بھی اب جان چکی ہے بھارت کا پہلے دن سے مؤقف بے بنیاد تھا شدت پسندی کے واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو ہمیں دیے جائیں، ہم خود کارروائی کریں گے ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں، امن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وقت پاکستان میں امن کا جشن منا رہے ہیں-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی حکومت میں کوئی بھی پہلگام واقعے سے متعلق سخت سوالات نہیں کر رہا، بھارتی حکومت میں کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ اتنا بڑا سکیورٹی لیپس آخر کیسے ہوا؟ بھارت میں کسی کو ان واقعات کے پیچھے موجود وجوہات کو سمجھنے میں دلچسپی نہیں بھارت ان آوازوں کو سننے کو تیار نہیں جو ظلم و زیادتی کی بات کر رہی ہیں 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات پاکستان نے بھارت کو نپا تلا، مربوط اور متناسب جواب دیا، یہ ایک محدود سطح پر ہماری روایتی فوجی طاقت کا استعمال تھا اور ہماری تکنیکی صلاحیت کا ایک چھوٹا لیکن نہایت مؤثر مظاہرہ تھا اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ بھارت نے پیچھے ہٹنا شروع کیا، اچانک بھارت بات چیت اور کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگا۔

  • پاکستان اور چین کے مابین سدا بہار دوستی ہے،صدر مملکت

    پاکستان اور چین کے مابین سدا بہار دوستی ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ تاریخی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 74 سال مکمل ہونے پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین سدا بہار دوستی ہے، گزشتہ 7 دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے مابین تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں،پاکستان “ون چائنا” پالیسی کے اصولی مؤقف کا مضبوط حامی ہے، پاک چین اقتصادری راہداری نے پاکستان کی معیشت ، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے پر مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔

    آصف زرداری نے مستقبل میں چین کے ساتھ تعلقات مزید وسیع کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان کے دفاعی شعبے کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان معیشت، ٹیکنالوجی ، دفاع، تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے-

  • پاکستان اور افغانستان کاتجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور افغانستان کاتجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان نے تجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    بیجنگ میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان اعلیٰ سطح کا سہہ فریقی اجلاس ہوا ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چین کے وزیر خارجہ اور افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی نے شرکت کی اجلاس میں سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا گیا-

    یہ اجلاس مثبت، تعمیری اور دوستانہ ماحول میں منعقد ہوا،اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کی اور خطے میں استحکام، باہمی تعاون، اقتصادی روابط، اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی-

    دشمن روایتی جنگ میں شکست کےبعد بچوں پر حملے کرنے پر اتر آیا ہے،عطا اللہ تارڑ

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر خطے میں دہشت گردی کا مشترکہ مقابلہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، وزرائے خارجہ نے خطے کی سلامتی اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کیلئے تعاون کے عزم کا اظہار کیا اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پر تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔

    علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے بیجنگ میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے مثبت رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جب کہ ملاقات میں تجارت، ٹرانزٹ اور سفارتی روابط میں پیشرفت کا خیر مقدم کیا گیا۔

    بجلی ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دورہ کابل کا بھی حوالہ دیا،ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی مفادات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

  • پاکستان نے اپنی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا

    پاکستان نے اپنی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا

    امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اینجلس ورلڈ افیئرز کونسل سے ملاقات کی-

    ملاقات میں رضوان سعید شیخ نے جنوبی ایشیا کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کی دفاعی کامیابیوں پر بریفنگ دی ملاقات کے دوران سفیر نے ”آپریشن بنیان مرصوص“ کی کامیابیوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کیا۔

    سفیر رضوان سعید شیخ نے بریفنگ میں واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع خطے میں پائیدار امن کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ضروری ہےپاکستان نے ہمیشہ امن کا پرچم بلند رکھا ہے، تاہم بھارتی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان نے اپنی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

    سفیر رضوان سعید شیخ نے بین الاقوامی معاہدوں اور اصولوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی سلامتی کے لیے عالمی برادری کا مؤثر کردار ناگزیر ہے انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا کے مثبت کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ میں اپنی ذمے داری ادا کرتا رہے گا۔

    ملاقات کے دوران سفیر نے شرکا کے سوالات کے جوابات بھی دیئے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی روابط، اور اقتصادی تعاون سے متعلق امور پر بھی روشنی ڈالی۔

  • ٹرمپ اور پاکستان کا نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان پر سخت ردعمل

    ٹرمپ اور پاکستان کا نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان پر سخت ردعمل

    پاکستان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کو مکمل کنٹرول میں لینے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے-

    پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے تسلسل، اسپتالوں اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے، اور اجتماعی انخلا کے احکامات کے نتیجے میں درجنوں فلسطینیوں کی شہادت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائیوں کی توسیع اور پورے غزہ پر ”مکمل کنٹرول حاصل کرنے“ کے اعلان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہےاس کے علاوہ، اسرائیل دانستہ طور پر اہم انسانی امداد کو لاکھوں ضرورت مند افراد تک پہنچنے سے مسلسل روکے ہوئے ہے، جو کہ محصور فلسطینی عوام پر اجتماعی سزا مسلط کرنے کے مترادف ہے۔

    اوکاڑہ: راؤف مارکیٹ کی بیکری میں ممنوعہ اجزاء کا استعمال، دو لاکھ روپے جرمانہ

    ادھر بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بند نہ کی گئی تو اسرائیل کو امریکہ کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سخت موقف خلیجی ممالک کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے، اور اطلاعات ہیں کہ اسرائیل ایک حتمی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ اب واضح اور شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں نیتن یاھو کے دفتر میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے اس وقت واشنگٹن نہ صرف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالواسطہ بلکہ حماس سے براہ راست بھی بات چیت کر رہا ہے۔

    مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    واشنگٹن پوسٹ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے قریبی معاونین نے اسرائیلی حکام کو صاف الفاظ میں پیغام دیا ہے، ’اگر جنگ بند نہ کی گئی تو امریکہ اپنی حمایت واپس لے لے گاذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ نیتن یاہو کو اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) اور عوام کی حمایت حاصل ہے، لیکن وہ سیاسی عزم کے فقدان کا شکار ہیں۔

    غزہ پر اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں مزید 46 فلسطینی شہید اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔

    اسرائیلی فورسز نے غزہ میں ایک گھنٹے کے اندر 30 فضائی حملے کئے، جس میں سیکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہو گئے ، اسرائیلی فوج نے اسرائیلی فوج نے خان یونس کے شہریوں کو جبری نقل مکانی کا حکم بھی دے دیا ہے۔

    ادھر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے غزہ کی پٹی میں قحط کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ افراد بھوک سے مر رہے ہیں،علاوہ ازیں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے اسرائیل کو غزہ میں حملے بند نہ کرنے پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے جبکہ 22 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں تک امداد پہنچنے دے۔

  • پاکستان نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ نہیں کیا، دفتر خارجہ کی بھارتی الزامات کی تردید

    پاکستان نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ نہیں کیا، دفتر خارجہ کی بھارتی الزامات کی تردید

    دفتر خارجہ نے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا سکھوں کے مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت خود 6 سے 7 مئی کو متعدد مذہبی مقامات پر حملے کر چکا ہے اور اب اپنی کاروائیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔

    بھارتی فوج کے ایک سینئر افسر کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ پاکستان نے 7 اور 8 مئی 2025 کی درمیانی شب ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی،انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر بھارت نے گولڈن ٹیمپل کے گرد جدید فضائی دفاعی نظام نصب کیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔

    پنجاب کے تعلیمی اداروں میں‌گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

    اس بیان کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہم ان الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان نے گولڈن ٹیمپل جو سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس ترین مقام ہےاسے نشانہ بنانے کی کوشش کی در حقیقت یہ بھارت ہی تھا جس نے 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی رات پاکستان میں مختلف عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا، بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات اس کی اس ناقابل قبول حرکت سے توجہ نہیں ہٹا سکتے۔

    پاکستان اور بھارت کا سرحد سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ

    دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سکھ مذہب کے کئی مقدس مقامات کا قابل فخر محافظ ہے، پاکستان ہر سال دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں سکھ یاتریوں کا خیرمقدم کرتا ہے، پاکستان کرتارپور راہداری کے ذریعے گوردوارہ صاحب کرتارپور تک ویزہ فری رسائی بھی فراہم کرتا ہے، اس پس منظر میں گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی پاکستان کی کوشش سے متعلق کوئی بھی دعویٰ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔

    نورمقدم کیس، جس فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

  • پاکستان اور بھارت کا سرحد سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ

    پاکستان اور بھارت کا سرحد سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ

    پاکستان اور بھارت کا سرحد سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت نےسرحد سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے،دونوں ممالک نےتمام فوجیں 30 مئی تک نارمل پوزیشن پر واپس لانے پر اتفاق کیا ہے، فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خطرات کو کم کرنے کیلیے کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی فوجیں انٹرنیشنل اور لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) پر واپس آنا شروع ہو گئیں، امن کیلیے ڈی جی ایم اوز کے درمیان مسلسل بات چیت جاری ہے،پہلے مرحلے میں ائیر فورس اور ایوی ایشن اور دوسرے مرحلے میں 30 مئی تک تمام بری فوجیں اور زمینی فورس نارمل پوزیشن پر واپس آ جائیں گی،سیز فائر پر عمل درآمد کیلیے ڈی جی ایم اوز کے درمیان بات چیت جاری رہے گی،دونوں ممالک کے درمیان جلد نیوٹرل مقام پر بات چیت شروع ہونے کا امکان ہے