Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • سعودی عرب کا پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ

    سعودی عرب کا پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ

    سعودی عرب نے پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر10 کروڑ ڈالرکی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے بھیجے گئے خط سے آگاہ کیا،خط میں پیٹرولیم مصنوعات کی مؤخر ادائیگی کی تجدید کےبارے میں بتایا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی قیادت کے تہہ دل سےمشکور ہیں،سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔وفاقی کابینہ کو وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای-آفس کے استعمال پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی تمام ڈویژنز میں ای آفس کااستعمال 98فیصد تک پہنچ چکا ہے،وفاقی حکومت کی 93ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ100فیصد ہے۔

    بین الوزارتی روابط کے حوالے سے 21 ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ 100 فیصد ہو چکا،176اداروں میں ای آفس کا نفاذ مکمل کر لیا گیا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک پاکستانی مشنز میں خدمات کی فراہمی کیلئے نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی جائے ،ڈیجیٹائزیشن سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خدمات کی فراہمی میں آسانی ہوگی،وفاقی حکومت کی وزارتوں اور محکموں میں ای آفس کا نفاذ 20 مارچ تک مکمل کیا جائے۔اعلامیہ کے مطابق کنونشن برائے سمندری قانون کے تحت بین الاقوامی قانونی معاہدے پر دستخط ،کامران جہانگیر کی بطور مینجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن تعیناتی،صومالیہ کیلئے نیشنل آئیڈینٹیی سسٹم کے حوالے سے اڈینڈم 2 پر دستخط کی منظوری دی گئی ۔

    اس کے علاوہ ڈاکٹر شاہد اسلم مرزا کی بطور مینجنگ ڈائریکٹر کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی تعیناتی،پی ای سی کی گورننگ باڈی کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے کمیشن آف انکوائری تشکیل دینے کی منظوری دی گئی ۔ان لینڈ ریونیو اپیلیٹ ٹریبیونل رولز 2024 میں ترامیم کی منظوری بھی دیدی گئی ، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 فروری کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں،کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 17 فروری کےاجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی ۔قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر طیب ایردوان نے ہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا،چاہے مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین، ترکیے کامؤقف واضح ہے۔

    ترکیے اور پاکستان میں برادرانہ تعلقات ہیں،ترک صدر طیب ایردوان کا دورہ پاکستان انتہائی کامیاب رہا،ترک صدر نے کشمیر اور فلسطین کی آزادی کیلئے آواز بلند کی،ہر فورم پر ترکیے اور پاکستان نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔پاکستان اور ترکیے نے اپنی تجارت کو بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے کرجانا ہے،ترکیے کیساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں،آج ایک انٹرچینج کاافتتاح کیا جو 84 دنوں میں مکمل ہوا،انٹرچینج کانام طیب ایردوان رکھا گیا ہے۔گیلپ سروے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کابتایا گیا.

    وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا سکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کیساتھ جنگ لڑ رہی ہیں،ہم نے ملک کو دہشتگردی سے صاف کرنا ہے۔معاشی ترقی کے لیے ملک میں امن انتہائی ضروری ہے،ملکی معیشت کے تمام اشارے مثبت ہیں،مل کرکام کریں گے تو ملکی معیشت تیزی سے چلے گی،ملک سے دہشتگردی کامکمل خاتمہ ہمارا مشن ہے،ہم نے محنت کرنی ہے، پاکستان دنیا میں اپنا مقام بنائے گا،ورلڈ بینک کے وفد نے پاکستان کے معاشی اقدامات کی تعریف کی ہے۔

    کور کمانڈر کراچی کی ایوی ایشن سیکیورٹی کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت

    کراچی میں ٹریفک حادثات پر شرجیل میمن اور فاروق ستار کی مشترکہ پریس کانفرنس

    سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کرپشن پر اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم

    یوکرین جنگ پر امریکی اور روسی حکام کی ریاض میں ملاقات

  • ازبکستان میں پاکستانیوں پر ملازمت کے حصول پر عائد پابندی ختم ،اہم ہدایات جاری

    ازبکستان میں پاکستانیوں پر ملازمت کے حصول پر عائد پابندی ختم ،اہم ہدایات جاری

    تاشقند: ازبکستان میں پاکستانیوں پر ملازمت کے حصول پر عائد پابندی ختم کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ازبکستان میں اپنے شہریوں پر ملازمتوں کے حصول پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے شہریوں کو اجازت دے دی ہے کہ وہ وہاں پر ملازمت حاصل کر سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے کچھ اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سرکلر میں کہا ہے کہ تاشقند، ازبکستان میں پاکستانی سفارت خانے نے سفارش کی ہے کہ وہاں پر پاکستانیوں کی ملازمتوں پر عائد پابندی ختم کر دی جائے اس لئے یہ پابندی ختم کی جاتی ہے اور سرکلر میں تمام پروٹیکٹوریٹ دفاتر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ملازمت کے خواہش مند شہریوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی بحال کر دیں۔

    بیٹرز جو چیمپیئنز ٹرافی میں رنز کا انبار لگا سکتے ہیں، آئی سی سی نے فہرست جاری کر دی

    بیرون ملک ملازمت کیلئے حکومت پاسپورٹ پر پروٹیکٹر لگا کر دیتی ہے، پروٹیکٹر کے بغیر بیرون ملک پاکستانی شہری نوکری کے لئے نہیں جا سکتے، یہ ایک مہر یا سٹکر ہوتا ہے جو اب بارکوڈ کے ساتھ لگایا جاتا ہے، یہ حکم پہلے سے دیئے گئے اجازت ناموں اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز یا براہ راست ملازمت کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر بھی لاگو ہو گا۔

    امریکا میں بڑھتے فضائی حادثے ،ایف اے اے نے 300 ملازمین کو فارغ کر دیا

    وہ پاکستانی شہری جنہوں نے اپنی کوشش سے ازبکستان کا ورک ویزا حاصل کیا ہے، وہ اسکروٹنی کا عمل مکمل کرتے ہوئے پروٹیکٹوریٹ دفاتر میں ڈائریکٹ امیگریشن کے کاؤنٹرز پر جا کر اپنی رجسٹریشن کرکے پروٹیکٹر لگوا سکتے ہیں اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے بیورو آف امیگریشن کی جانب سے منظور کردہ ڈیمانڈ پر جانے کے خواہشمند افراد کی رجسٹریشن اور پروٹیکٹر بھی بحال کر دیئے گئے ہیں لیکن اس کیلئے پیشگی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ وہ ایسے آجر کے پاس جائیں گے جس کی پہلے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

    پائیدار ترقی کے لیے خود سائنس اور تحقیق کا کام کرنا ہوگا،مصدق ملک

    ایمپلائمنٹ پروموٹر کو بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ازبک آجر سے متعلق تسلی بخش رپورٹ پیش کریں گے کہ وہ پاکستانی ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گااس کے علاوہ ازبکستان میں نئے پاکستانی ورکرز کی ڈیمانڈ کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ جو بھی نئی ڈیمانڈ آئے، اس کی باضابطہ تصدیق اور سکروٹنی پاکستانی سفارت خانہ کرے گا۔

  • پائیدار ترقی کے لیے خود سائنس اور تحقیق کا کام کرنا ہوگا،مصدق ملک

    پائیدار ترقی کے لیے خود سائنس اور تحقیق کا کام کرنا ہوگا،مصدق ملک

    وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے،معاملات کو نجی شعبے کے حوالے کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں سالانہ تکنیکی کانفرنس اورآئل شو سے خطاب میں وزیرپیٹرولیم ڈاکٹرمصدق ملک نے کہا کہ ہمیں حکومتی پالیسیوں میں لبرل آئزیشن کی ضرورت ہےجس طرح ہم ملک چلا رہے ہیں اس طرح تو پرچون کی دکان بھی نہیں چلتی، کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے معاملات کو نجی شعبے کے حوالے کرنا ہوگا پی آئی اے کی نجکاری میں ناکامی ہوئی ہم ایک بار پھر پی آئی اے کی نجکاری شروع کررہے ہیں ہمیں ملکی وسائل پر انحصار بڑھانا ہے، دقیانوسی اور نوکر شاہی کے طریقوں سے باہر نکلنا ہو گا۔

    مریم نواز نے سعودی جرمن اسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ ہم اس وقت توانائی کے شعبے میں تین طرح کام کر رہے ہیں حکومت توانائی تک تمام آبادی کی رسائی کیلئے کام کر رہی ہے توانائی کی قیمتیں عوام تک پہنچانے اور توانائی کی پائیداری کے لیے بھی کام ہورہا ہے حکومت مقامی پیداوار کو بڑھا نے پر توجہ دے رہی ہے ایسی توانائی کا کیا کریں گے جسے عوام خرید نہ سکیں۔

    بگن میں قافلے پر حملہ، 4 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید، صورتحال کشیدہ

    انہوں نے کہا کہ ایک آدھ مشین لانے سے خوشحالی نہیں آئے گی پائیدار ترقی کے لیے خود سائنس اور تحقیق کا کام کرنا ہوگا یہ اعتماد پیدا کریں کہ ہم بھی ایک قوم ہیں اگر گلیشئرز تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے تو ہمارا نہری نظام تباہ ہو جائے گا جو بھی قدم اٹھانا ہے اسے ماحولیات کو سامنے رکھ کر اٹھانا ہے-

    ٹورنٹو میں طیارہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ،1 بچے سمیت 15 افراد زخمی

  • ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی بلکہ بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایوان میں ایسی قانون سازی بھی دیکھی جو بغیر کاروائی منظور ہوئی، اس ایوان میں اضطراب اور ہنگامہ آرائی کو سال ہوگیا، ہمارا نکتہ نظر کوئی سننے کو تیار نہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت چاہے نہ چاہے ایوان کو احسن طریقہ سے چلانا اسپیکر کی ذمہ داری ہے، پورا ملک اس وقت اضطر اب میں مبتلا ہے، عام آدمی کے پاس روزگار نہیں، محکمہ اور ادارے ملیامیٹ کیے جارہے ہیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہورہے ہیں، حکومت عوام کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو پارلیمنٹ میں بات ہوتی ہے، حکومت ایک سال سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ملکی سالمیت کا مسئلہ ہے، بار بار بات کررہا ہوں، ہمیں ریاست کی بقا کی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہم ان سے لڑ رہے ہیں، ہمیں ادراک ہونا چاہیئے کہ 2 صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں جو ہورہا ہے وزیراعظم شاید اس سے لاعلم ہیں، افغانستان ہمارے جرگے جاتے تھے اب حکومت کو کچھ علم نہیں، ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے، ہم سے تو بس انگوٹھے لگوائے جاتے ہیں، ہمیں پارلیمان میں فیصلے کرنے ہیں، میرے علاقے میں بعض مقامات کو پولیس تو چھوڑیں آرمی بھی خالی کرگئی، ان علاقوں میں کس کا راج ہے؟-

    حزب اللہ کی اسرائیلی فوج کو 18 فروری تک لبنان خالی کرنے کی ڈیڈلائن

    مونالا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے اضلاع ابھی آزادی کا اعلان کریں تو اقوام متحدہ ان کی درخواست قبول کرلے، میری باتیں بڑی سنجیدہ ہیں،جنوبی خیبرپختونخوا میں کوئی حکومت نہیں، گلیاں سڑکیں مسلح لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں اللہ کو اونچی آواز میں بات پسند نہیں لیکن مظلوم کی اللہ بات سنتا ہے، پہلے ریاست اور حکومت کی رٹ کو تو مضبوط کریں، آپ کس کے لیے قانون بنارہے ہیں، صوبوں کی اسمبلیاں بھی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں، کوئی پبلک نمائندہ عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، نظریاتی اور اتھارٹی کی جنگ ہے، میں نے 2018 کی پارلیمان کو تسلیم نہیں کیا تھا، 2024 کی پارلیمان کو بھی منتخب نہیں سمجھتا۔

    مخالفین کو پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہورہی،وزیراعلیٰ پنجاب

    انہوں نے کہا کہ کسی وقت ایک اور بازو ہم سے ٹوٹ جائے گا کسی نے اس کا سوچا ہے، ہم نے 40 سال پراکسی وار لڑی ہے، ہم نے اپنی فوج کو جنگ میں جھونکا، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے جس میں تمام کھرے ہماری طرف نکلتے تھے، کوئی افغانی مارا جائے تو ہمارا سارا غصہ افغانستان پر نکلتا ہے،میں انتخابات سے پہلے حکومت کی اجازت سے افغانستان گیا، ایک ایک نکتہ پر بات ہوئی کسی نے اس کو آگے نہیں چلایا، میری ریاست کے کرتا دھرتا ناکام ثابت ہوئے۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے فیصلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے فورم پر ہوتے ہیں، ہمارے فیصلے ہم نہیں کرتے، ہمارے اداروں کو آئی ایم ایف کنٹرول کرتا ہے، آئے روز آئی ایم ایف کا وفد آرہا ہے، اب تو آئی ایم ایف حکومت کی بجائے عدلیہ سے بات کرتا ہے، آئی ایم ایف وفد سپریم کورٹ بار سے مل رہا ہے، آئی ایم ایف وفد کا عدلیہ یا بار سے کیا تعلق، دینی مدارس کی رجسٹریشن پر کہا گیا بیرونی اداروں کو اعتراض ہے، دینی مدارس کے حوالے سے صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں کی جارہی، ٹرمپ نے آتے ہی کہا غزہ ہمارا ہے، ایک آزاد قوم کو دوسرے ملک میں مہاجر بنانے والے آپ کون ہوتے ہیں۔

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    انہوں نے کہا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد یہودیوں کو فلسطین میں جبراً آباد کیا گیا، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بےگھر کیا گیا، کیا ہم دوبارہ نو آبادیات کی طرف جارہے ہیں، ہمارے بارڈر پر جو ہورہا ہے یہ 40 سال سے ہے، صرف ایک ہی جگہ پر جنگ مسلط کی گئی ہے، امریکا یہاں معدنیات پر قبضہ کرنے آیا، خیبرپختونخوا اور افغانستان میں 2 طرح کی معدنیات ہیں، ایک وہ پتھر ہیں جو خلا میں جانے کے لیے راکٹس کے لیے کارآمد ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ امریکا، چین اور روس سب کے یہاں مفادات ہیں جس کی وہ تگ و دو کررہے ہیں، کوئی پتہ نہیں یہ قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہوں، ان قبائلی علاقوں سے دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہوں، ہمارے قبائلی علاقوں میں جنگیں ہورہی ہیں، آپ نے ان کوضم کردیا، ہمارے علاقوں کا امن بھی خراب ہوگیا، آپ ملک اور ریاست کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، میرے پاس تمام قبائل کا جرگہ آیا ہے، سب کا یہی کہنا کہ ہمیں امن دو۔

    مفتی قوی مجھے نہیں سنبھال پائیں گے،راکھی ساونت

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پشاور میں تمام اضلاع کا جرگہ ہوا کہ ہمیں امن دو، آج قبائل کی خواتین گلی کوچوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، صحیح لوگوں کے حوالے سب کریں، معاملہ پارلیمنٹ طے کرے یہ سب کرسکتی ہے، ہمیں سویلین قیادت پر اعتماد کرنا ہوگا، ورنہ وہی بے معنی باتیں، ورنہ وہی ہرروز بے معنی باتیں، یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات۔

  • پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف نے ورلڈ بینک کے تحت پاکستان میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: وزیرِاعظم شہباز شریف سے عالمی بینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز کے وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیر اعظم نے وفد کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیاانہوں نے کہا کہ عالمی بینک اور پاکستان کی شراکت داری گزشتہ 7 دہائیوں ہر محیط ہے، عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے متعدد بڑے منصوبے بنے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا ہے، عالمی بینک نے 2022 کے سیلاب کے دوران پاکستان میں متاثرہ لوگوں کی بھرپور مدد کی، عالمی بینک کے حالیہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی، جو خوش آئند ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 20 ارب ڈالر سے پاکستان میں صحت، تعلیم، ترقیِ نواجوانان اور دیگر سماجی شعبوں میں مختلف منصوبوں سے ترقی کا نیا باب کھلے گا، آئی ایف سی کے تحت پاکستان کے نجی شعبے میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملکی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا، ہم عالمی بینک کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کے شکر گزار ہیں پاکستان کا ادارہ جاتی و معاشی اصلاحات کا پروگرام تیزی سے جاری ہے، ملک کی معیشت صحیح سمت اور ترقی کی جانب گامزن ہے تاہم ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ابھی مزید سفر طے کرنا ہے، معیشت کی بہتری کا سہرا ٹیم کی کوششوں کو جاتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملکی برآمدات، ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، شرح سود کم ہونے سے پیدواری شعبے میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لیے نظام میں شفافیت لا رہے ہیں، ایف بی آر کی اصلاحات میں ڈیجیٹائیزیشن پر کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے جبکہ بجلی شعبے کی اصلاحات سے بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور خسارے میں کمی لا رہے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی بدولت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے پر کشش ماحول فراہم کیا گیا ہے، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کے منفرد نظام کے تحت کام کرتا ہے، حکومت نے قرضوں کے بجائے سرمایہ کاری اور شراکت داری ترجیح ہے۔

    عالمی بینک کے وفد نے پاکستان کے جاری اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان میں حکومت کے جاری اصلاحا ت کے پروگرام کے مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں، جو خوش آئند امر ہے، وزیرِاعظم کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا سفر تیزی سے جاری ہےوفد نے حکومت کے توانائی، صنعت و برآمدات، نجکاری، محصولات و دیگر شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کی۔

    واضح رہے کہ ورلڈ بینک کے نو (9 )ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز پاکستان کے دورے پر آئے ہیں اور وہ ورلڈ بینک میں دنیا کے مختلف ممالک کے پورٹ فولیو کے نگران ہیں وفد پاکستان میں معاشی ترقی کے منصوبوں اور سرمایہ کاری کے بارے میں تبادلہ خیال کرے گا،عالمی وفد تقریباً 20 سال بعد ملک کا دورہ کر رہا ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، ڈاکٹر مصدق ملک، وزرا مملکت علی پرویز ملک، شیزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ اعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم، سینیٹر شیری رحمن، رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ، وزیرِ اعظم کی نمائندہ برائے پولیو پروگرام عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق یہ دورہ اس پس منظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے کہ عالمی بینک کے نئے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کے تحت پاکستان کا سی پی ایف ماڈل دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ اس اسٹریٹجک شراکت داری کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینا اور پاکستان بھر میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے بنایا گیا سی پی ایف عالمی بینک ہیڈکوارٹر میں خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور دیگر ممالک بھی اسے اپنی معاشی ترقی کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، دورے کے دوران ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کاروباری منصوبے تیار کرنے اور ان کے مؤثر نفاذ پر توجہ دیں گے، جس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے عالمی بینک کی طویل مدتی وابستگی مزید مستحکم ہوگی۔

    وفد میں شامل نمایاں شخصیات
    عبدالحق بدجاوی (الجزائر) – آٹھ ممالک کی نمائندگی
    زینب احمد (نائیجیریا) – جنوبی افریقہ اور انگولا کی نمائندہ
    بیٹریس ماسر (سوئٹزرلینڈ) – وسطی ایشیا اور سوئٹزرلینڈ کی نمائندہ
    رابرٹ بروس نکول (آسٹریلیا) – 14 ممالک، بشمول جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے نمائندہ
    ٹریسا سولبس (اسپین) – میکسیکو اور کوسٹاریکا سمیت سات جنوبی امریکی ممالک کی نمائندہ
    پال بونمارٹن (فرانس) لونخوللیکو ماگاگولا (ایسواتینی) – 21 افریقی ممالک، بشمول تنزانیہ، زمبابوے، کینیا اور ایتھوپیا کی نمائندہ
    مارلین سوزی نزینگاؤ (وسطی افریقی جمہوریہ) – 23 افریقی ممالک کی نمائندہ
    توقیر شاہ (پاکستان) – پاکستان اور سات دیگر ممالک کے نمائندہ

    یہ گروپ عالمی بینک گروپ کی کمپنی سیکرٹری اور نائب صدر مرسی ٹیمبون کے ہمراہ ہےیہ دورہ پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی علامت ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی اور تکنیکی مدد میں اضا فے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں نفرت کا کلچر پروان چڑھا۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے دن رات محنت کی ہے اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے مزید محنت درکار ہے، تاہم عوام کو بہتر معیشت کے ثمرات مل رہے ہیں ہم نے سفار شی کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی، جب ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو حالات انتہائی مشکل تھے اور سیاسی جھگڑوں سے نفرت پھیلتی ہے جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے، پی ٹی آئی کے دور میں نفرت کا کلچر پروان چڑھا، اور اسی نفرت کے کلچر نے ملک کو نقصان پہنچایا، باہمی اتفاق و اتحاد سے ہی ملک کو ترقی دی جا سکتی ہے۔

    سندھ دریا سے نہریں نکالنا نامنظور، 23 فروری کو سندھ،پنجاب بارڈر پر دھرنے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ گئی ہے اور بینکوں کا مارک اپ ریٹ بہتر ہوا ہے، آنے والے دنوں میں مہنگائی کا گراف مزید کم ہوگا مہنگائی کو کم کرنے میں پوری ٹیم کی کوششیں شامل ہیں، سرکاری افسران کو بھی دن رات محنت کرنا ہو گی، اور ملکی ترقی کے لیے اسٹیک ہولڈر کو خلوص نیت سے کام کرنا ہو گا، فوج ملکی سلامتی کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے۔

    رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان، چینی اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں آسمان پر، حکومتی دعوے ٹھس

  • سعودی عرب اور امارات سمیت 11 ملکوں سے مزید 173 پاکستانی ڈی پورٹ

    سعودی عرب اور امارات سمیت 11 ملکوں سے مزید 173 پاکستانی ڈی پورٹ

    کراچی: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت 11 ملکوں سے گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران مزید 173 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جن میں سے 24 کو کراچی میں گرفتار کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : امیگریشن ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں بلیک لسٹ، بھیک مانگنے، منشیات فروشی، غیر قانونی قیام، کفیل کے بغیر کام کرنے، ملازمت سے مفرور اور معاہدے کے برخلاف کرنے پر حراست میں لے کر 94 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔

    عمان سے 3، تھائی لینڈ سے 1، عراق سے 9، برطانیہ اور قبرص سے 2، موریطانیہ میں انسانی اسمگلنگ کے لیے موجود 5، انڈونیشیا سے 4، اخراجات کے لیے کم رقم لے کر قطر میں پہنچے 2 اور تنزانیہ سے 1 پاکستانی کو بے دخل کیا گیا۔

    سیالکوٹ:اپووا اور کاروان قلم رائٹر فورم کے زیر اہتمام اپووا ادبی کانفرنس کا شاندار انعقاد

    متحدہ عرب امارات میں جیل رہائی دے کر غیر قانونی کام اور دیگر الزامات کے تحت 39 پاکستانیوں کو گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران ڈی رپورٹ کر کے کراچی بھیجا گیا، جن میں آئی بی ایم ایس میں ہٹ 7 بلیک لسٹ افراد بھی شامل ہیں۔

    ٹریفک کی روانی بہتر کرنے کے لیےتجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا،میئرکراچی

  • آئی ایم ایف کے مزید 2 وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے

    آئی ایم ایف کے مزید 2 وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے

    اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 1.5 ڈالر کے نئے رعایتی قرض کے لیے مذاکرات ہوں گے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے مزید 2 وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، اس دوران مجموعی طور پر 2.5 ارب ڈالر کے قرض کے لیے الگ الگ مذاکرات ہوں گے نیا قرض پروگرام موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے تدارک کے لیے ہوگا اس حوالے سے وزیراعظم کی دبئی میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے حالیہ ملاقات میں بات چیت ہوئی تھی۔ آئی ایم ایف کا وفد نئے موسمیاتی تبدیلی قرض پروگرام پر مذاکرات کرے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستانی معیشت کو 2 سال پہلے موسمیاتی تبدیلیوں سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، آئی ایم ایف نئے قرض پروگرام میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کم کرنے میں مدد کرے گا، آئی ایم ایف نئے قرض پروگرام میں موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات اور اہداف کا جائزہ لےگا۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ سعودی عرب:دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

    ذرائع کے مطابق مارچ کے اوائل میں ہی آئی ایم ایف کا ایک اقتصادی جائزہ مشن پاکستان آئےگا، وفد کے پاکستانی حکام سے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام میں سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات ہوں گے، آئی ایم ایف کو جولائی سے دسمبر تک کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی جائےگی۔

    سال 2025 کی ٹاپ 25 بہترین ایئرلائنز کی لسٹ جاری

  • لبنان، غزہ اور شام کے متاثرین کے لیے 24ویں امدادی کھیپ روانہ

    لبنان، غزہ اور شام کے متاثرین کے لیے 24ویں امدادی کھیپ روانہ

    اسلام آباد:لبنان، غزہ اور شام کے متاثرین کے لیے 24ویں امدادی کھیپ روانہ کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : وزیرِاعظم پاکستان کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے لبنان، غزہ اور شام کے جنگ زدہ عوام کے لیے امدادی سامان بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں 24ویں امدادی کھیپ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے روانہ کر دی گئی۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اس امدادی کھیپ میں 60 ٹن سامان شامل ہے، جس میں ٹینٹ، ترپال اور گرم خیمے موجود ہیں تاکہ جنگ سے متاثرہ عوام کو شدید موسم میں مدد فراہم کی جا سکے اب تک این ڈی ایم اے لبنان، غزہ اور شام کے لیے مجموعی طور پر 1,861 ٹن امدادی سامان روانہ کر چکا ہے جس میں خوراک، طبی سامان، خیمے اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔

    زیر زمین پانی کی سطح 850 فٹ تک گر گئی،واسا نےواٹر ایمرجنسی نافذ کردی

    حکومتِ پاکستان ان ممالک کے جنگ زدہ عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔

    یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ تنازع:خاتون انفلوئنسر کوریپ کی دھمکیاں ملنے لگیں

  • چین نے تاریخ میں کبھی بھی قابض ملک کا کردار ادا نہیں کیا،  آصف علی زرداری

    چین نے تاریخ میں کبھی بھی قابض ملک کا کردار ادا نہیں کیا، آصف علی زرداری

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے سیاسی فلسفے اور طرز حکمرانی کا معترف ہوں، چین نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ترقی کی کئی منازل طے کی ہیں، چین کی ترقی دنیا کیلئے خوش آئند ہے۔

    باغی ٹی وی: چین کے نشریاتی ادارے کو دیئے گئےانٹرویو میں صدر مملکت نے کہا کہ پاک -چین دوستی صرف اچھے وقتوں کی نہیں بلکہ سدا بہار دوستی ہےپاکستان اور چین قریبی ہمسائے ہیں، تمام حالات میں دوست رہیں گے،پاکستان چین کی ترقی اور اپنے جغرافیہ سے مکمل طور پر مستفید ہونے کا خواہاں ہے، چینی عوام سے محبت رکھتے ہیں، چین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ چینی صدر مضبوط اور مستقل مزاج ہیں، عالمی حالات کا ادراک رکھتے ہیں، پاک چین تعلقات تاریخی ہیں، نسلوں پر محیط ہیں،صدر شی جن پنگ کے سیاسی فلسفے اور طرز حکمرانی کا معترف ہوں، چین نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ترقی کی کئی منازل طے کی ہیں، چین کی ترقی دنیا کیلئے خوش آئند ہے۔

    ایف بی آر کے اختیارات کم کرنا ملکی مفاد میں ہے، بزنس کمیونٹی

    آصف علی زرداری نے کہا کہ چین نے تاریخ میں کبھی بھی قابض ملک کا کردار ادا نہیں کیا، چین دوسرے ملکوں میں مداخلت نہیں کرتا، چین کی ترقی سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے، چین کے ساتھ لازوال دوستی پر یقین رکھتے ہیں، چین کے ساتھ روابط، سڑکیں اور مواصلات مزید بہتر اور پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔

    صدر پاکستان نے کہا کہ چین زرعی شعبے میں پاکستان کی مدد کرسکتا ہے، پاکستان کے زرعی شعبے کی فی ایکڑ پیداواری صلاحیت چین کے مقابلے میں کم ہے، پاکستان میں چین کیلئے خصوصی انڈسٹریل پارکس پر کام کررہے ہیں، ماحولیات، آبپاشی سمیت مختلف شعبوں میں ملکی ترقی کیلئے چین کی ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے خواہاں ہیں۔

    حماس نے مزید 3 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیئے

    صد مملکت نے کہا کہ چین کی ترقی خطے کے مفاد میں ہے، چین کی خلائی شعبے میں ترقی نئی نہیں، پاکستان چین کے ساتھ خلائی شعبے میں اپنی استعداد کار بڑھا رہا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم خطے کی ترقی میں کردار کرے گی، ہماری توجہ پاکستان کے استحکام پر مرکوز ہے، چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی اولین ترجیح ہیں،چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک مل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔

    فراڈ‌کیس میں قید ملزم کا جیکولین کوویلنٹائن ڈے پر قیمتی جہاز کا تحفہ