Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی نئی اننگ کا آغاز

    اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی نئی اننگ کا آغاز

    پاکستان آج یکم جنوری 2025 سے آٹھویں بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے ذمے داریاں نبھائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عالمی سیاست کے پیچیدہ اور اہم موڑ کے پس منظر میں پاکستان نئے سال کے پہلے دن سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی دو سالہ مدت کا آغاز کر رہا ہے۔پاکستان کو اس کے لیے گزشتہ جون میں جاپان کی جگہ بڑی اکثریت سے منتخب کیا گیا تھا اور 193 رکنی جنرل اسمبلی میں اسے ایک سو بیاسی ووٹ ملے تھے، جو کہ دو تہائی اکثریت سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اس طرح اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایشیا پیسیفک کی دو نشستوں میں سے ایک پاکستان کے پاس ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار منیر اکرم نے اس حوالے سے کہا، ’’سلامتی کونسل میں ہماری موجودگی کو محسوس کیا جائے.

    نیا سال کراچی کی تعمیر و ترقی کا سال ثابت ہوگا ،مرتضیٰ وہاب

    سال 2024:سندھ پولیس کی سالانہ رپورٹ پیش

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • دنیا کے صاف ستھرے ممالک کی فہرست جاری، پاکستان  کس نمبر پر؟

    دنیا کے صاف ستھرے ممالک کی فہرست جاری، پاکستان کس نمبر پر؟

    ورلڈ پاپولیشن ریویو نے ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس (Environmental Performance Index) کی بنیاد پر 2024 کے دنیا کے سب سے صاف ستھرے ممالک کی فہرست ترتیب دی ہے۔

    باغی ٹی وی : ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ویب سائٹ کے مطابق اس فہرست میں 180 ممالک کی درجہ بندی انڈیکس ییل یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی اور ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے تعاون سے کی گئی ہے اس درجہ بندی کے لیے 40 مختلف اشاریے استعمال کیے جا تے ہیں جن میں ماحولیاتی صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کارکردگی کے معیار کو جانچا جاتا ہے۔

    مسلسل ناکامیاں،گوتم گمبھیر کا شدید غصہ،بھارتی ٹیم کےڈریسنگ روم کا ماحول تلخ

    سال 2024 میں ایسٹونیا 75.3 کے اسکور کے ساتھ سرفہرست ہے جو اس کی ماحولیاتی پالیسیوں اور آلودگی کے کم سطح کی عکاسی کرتا ہے پچھلے دس سالوں میں بالٹک ریاست مسلسل ٹاپ تیس میں شامل ہے،دوسرے نمبر پر لکسمبرگ ہے جس کا انوائرمینٹل پرفار منس انڈیکس 75 ہے جب کہ 74.6 اسکور کے ساتھ جرمنی تیسرے نمبر پر ہے اس کے بعد فن لینڈ (73.7)، برطانیہ (72.7)، سویڈن (70.5)، ناروے (70.0)، آسٹریا (69.0)، سوئٹزرلینڈ (68.0) اور ڈنمارک (67.9) اسکور کے ساتھ بالترتیب چوتھے سے دسویں نمبر تک ہیں۔

    بالی ووڈ فلمساز نہیں سمجھتے کہ فلم سازی کیا ہوتی ہے،انوراگ کشپ

    ان ممالک کی ماحولیاتی صفائی میں نہ صرف بہتری نظر آئی بلکہ انسانی صحت بھی بہتر ہوئی کیونکہ صاف پانی، خالص ہوا، اور مؤثر صفائی کےذریعے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے180 ممالک کی فہرست میں بھارت کا نمبر 175 اور بنگلادیش 174 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا نمبر 178 ہے جس کے بعد دو آخری ممالک بالترتیب ویت نام اور مغربی افریقی ملک گنی بساؤ ہے۔

    نامور خاتون ماہر علم نجوم کی 2025 کیلئے بڑی پیشگوئیاں

    واضح رہے کہ عالمی سطح پر آلودگی کے اعلیٰ سطح والے ممالک میں غیر متعدی بیماریوں کی شرح زیادہ ہوتی ہے جو عالمی اموات کا 72 فیصد حصہ ہیں۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

  • افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی  وزیراعظم سے ملاقات

    افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے افغانستان کے لئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی، محمد صادق خان، نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں محمد صادق خان نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہء افغانستان کے دوران کی جانے والی ملاقاتوں اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد صادق خان نے افغانستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور انسانی حالات پر روشنی ڈالی اور وہاں پاکستان کے اقدامات اور معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، طارق فاطمی بھی موجود تھے، جنہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    محمد صادق خان نے وزیراعظم کو افغانستان میں پاکستانی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں پر بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اقتصادی ترقی، تجارت اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں سیاسی استحکام، امن و سکونت کی فضا کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مستحکم کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر محمد صادق خان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان کے لئے پاکستان کی پالیسی کو مزید کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    برطانوی سائنسدان کی ایک صدی قبل کی گئی درست پیشگوئیاں

  • پہلا ٹیسٹ:جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دیدی

    پہلا ٹیسٹ:جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دیدی

    سنچورین: جنوبی افریقا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میچ میں 2 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: سنچورین میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقی ٹیم نے پاکستان کی جانب سے دیے گئے 148رنز کا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا، پروٹیز نے چوتھے روز کھیل کا آغاز کیا تو اسے جیت کے لیے مزید 121 رنز جبکہ پاکستان کو کامیابی کے لیے 7 وکٹیں درکار تھیں۔

    چوتھا روز

    چوتھے روز کھیل کا آغاز ہوا تو جنوبی افریقا نے 147 رنز کے تعاقب میں 27 رنز بنا لیے اور اس کے 3 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے جنوبی افریقا کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں ٹونی ڈی زورزی 2 اور کیلی وارین 2، 2، ڈیوڈ بیڈنگھم 14، ریان رکیلٹن اور کوربن بوش صفر جبکہ ٹرسٹن اسٹبس ایک رن بناکر پویلین لوٹے۔

    ایڈن مارکرم اور کپتان ٹمبا باوما نے 43 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم 37 رنز بناکر مارکرم وکٹ گنوابیٹھے، ٹمبا باوما نے 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 40 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے 6 جبکہ نسیم شاہ اور خرم شہزاد نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، اس سے قبل گزشتہ روز پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں محض 237 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

    اس سے قبل تیسرے دن کے اختتام تک جنوبی افریقا نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 27 رنز بنائے تھے، ایڈم مارکرم 22 اور کپتان ٹمبا باووما بغیر رن بنائے کریز پر موجود تھے تاہم محمد عباس نے ایڈم مارکرم کو 37 رنز پر آؤٹ کر دیا-

    پاکستان نے پہلی اننگز میں 211 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں جنوبی افریقا کی ٹیم پہلی اننگز میں 301 رنز بناکر آؤٹ ہوئی تھی جبکہ گرین کیپس نے دوسری اننگز میں 237 رنز بنائے تھے۔

    پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان سیریزکا دوسرا ٹیسٹ 3 جنوری سے کیپ ٹاؤن میں شروع ہوگا۔

  • بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کسی عالمی طاقت کے توازن میں بگاڑ کے لئے کسی بھی قسم کے عزائم نہیں رکھتا یہ بات امریکہ سمیت مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے بارے میں ایک متنازعہ فیصلہ کیاہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو لے کر ہمارے سیاستدانوں نے دلیل کے بجائے غلیل اٹھا لی ہے جیسا کہ ملک کے صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں امریکہ کو للکارا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بائیڈن انتظامیہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے کیا پالیسی ہوگی ۔ بہت ہی تھوڑا فاصلہ باقی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو لیکر کس پالیسی پر گامزن ہے ۔ بھارت کے جارحانہ عزائم سے امریکہ سمیت عالمی قوتیں آگاہ ہیں اور پاکستان کو اپنی سلامتی اور بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا دفاع مضبوط رکھنے کا پورا حق ہے۔پاکستان کے دفاع کو مستحکم دیکھ کر بھارت کو تکلیف ہے۔ بھارت نے خود خطے میں سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ عالمی طاقتوں سے دفاعی نظام حاصل کر رکھا ہے ۔ اُمید ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن انتظامیہ کے ان فیصلوں پر عمل نہیں کرے گی امریکہ اور پاکستان دونوں اتحادی ملک ہیں پاکستان نے 9/11 کے بعددہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ آج تک پاکستان دہشت گردی کی زدمیں ہے ۔عالمی دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا کردار کیا رہا اور بھارت افغانستان میں قیام امن کو برباد کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی میںملوث رہا جبکہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھی ملوث رہا جس کا ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہے۔ نئی آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ مشرق وسطیٰ سمیت روس یوکرین جنگ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق مشرق و سطیٰ میں طویل جنگ نہیں چاہتے جبکہ امریکی دفاعی ادارے چین کو امریکی طاقت اور مفاعدات کے لئے سب سے زیادہ ممکنہ چیلنجز کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ٹرمپ کے پاس عالمی دنیا کے لئے نئی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے کا اہم اختیار ہوگا۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ2025 وائٹ ہائوس کی خارجہ پالیسی کا نقطہ نظر 2024 بائیڈن انتظامیہ سے مختلف ہوگا۔ پاکستا ن کو نئی ٹرمپ انتظامیہ کو دلیل کے ساتھ اپنے دفاع اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو غلیل سے نہیں دلیل کے ساتھ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، وفاقی وزیر خزانہ

    معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ م اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے، تاجر اپنے کام پر توجہ دیں ہم آپ کے پاس خود حاضر ہوں گے، بجٹ کی تیاری میں تجاویز اور مشورے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر کے پاس جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، ہمیں پائیدار معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے، ہمیں برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ہے ہم اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے، تاجر اپنے کام پر توجہ دیں ہم آپ کے پاس خود حاضر ہوں گے، بجٹ کی تیاری میں تجاویز اور مشورے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر کے پاس جائیں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ دسمبر کا آخر ہے، اللہ کے کرم سے جو باتیں کہیں تھیں وہ کر کے دکھائیں، وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں تمام کہیں باتوں پر عمل آیا جس سے معاشی استحکام آیا ہے، اللہ کا شکر ہے مہنگائی کم ہوئی ہے، افراط زر 5 فیصد پر پہنچ گیا ہے، فارن ایکسچینج ریزرو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی طبیعت ناساز ، اسپتال منتقل

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت کا پہیہ ابھی چلنا شروع ہوا ہے، معاشی اہداف ہمیں استحکام کی طرف لے کر گئے اور لے کر جا رہے ہیں، کوشش ہے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں، زراعت کے سلسلے میں پچھلے سال اچھی چیز ہوئی، زراعت اور پولٹری کے سیکٹر کو آگے لے کر چلنا ہے، پچھلے 6 ماہ کے اہداف دیکھے چاول کی بہترین ایکسپورٹ ہوئی، ترسیلات پچھلے سال 30.2 بلین ڈالرز تھیں، اللہ مدد کرتا رہا تو ترسیلات 35 بلین ڈالرز سے زیادہ ہوں گی۔

    اوور سیز پاکستانیوں نے 31 فیصد زیادہ پیسے بھیج کر سول نافرمانی کی کال مسترد کردی، مریم اورنگزیب

    وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، مثبت پالیسیوں کی وجہ سے معیشت بہتر ہوئی، ہمارے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر ملک کی خاطر اکٹھا ہونا پڑے گا، یہاں کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا، چارٹر آف اکانومی پر سب اکٹھے ہوجائیں، ملک ہے تو ہم ہیں،ٹیکسیشن، انرجی اور گورنمنٹ کے اداروں میں اصلاحات کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان سے بڑا کوئی ملک نہیں جو خیرا ت نہ دیتا ہو، خیرات سے تعلیمی ادارے اور ہسپتال چل سکتے ہیں، ملک خیرات سے نہیں چلتے، ملک ٹیکسز سے چلتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

  • سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی جا سکی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا.

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 24 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 15 سرکاری کمپنیوں کو 405 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا۔وزارت خزانہ کی مالی سال 24 کی ایس او ایز پر ششماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2023 سے دسمبر 2023 تک ان ایس او ایز کے مجموعی نقصانات کا تخمینہ 405 ارب 86 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، اس کے برعکس دیگر تمام ایس او ایز کے نقصانات 2 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد تھے۔مجموعی نقصانات میں 15 سرکاری ملکیت والے اداروں (ایس او ایز) کا حصہ 99.3 فیصد رہا، جو ایس او ای سیکٹر میں وسیع پیمانے پر نااہلی اور آپریشنل مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔وزارت خزانہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی طور پر ایس او ای نقصانات میں گزشتہ سال کے 452 ارب 68 کروڑ روپے کے مقابلے میں 9.72 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم 2014 سے اب تک مجموعی خسارہ 5 ہزار 900 روپے تک پہنچ چکا ہے۔حکومت پہلے ہی ایس او ایز کی درجہ بندی کرنے اور نجکاری یا کارپوریٹ تنظیم نو کے دیگر اختیارات کی طرف ان کے راستوں کی وضاحت کرنے کے لیے ایک ایس او ای کمیٹی تشکیل دے چکی ہے۔اس کمیٹی کا مقصد بہتر کارکردگی کے لیے نجی شعبے کی شرکت سے فائدہ اٹھانا اور عوامی خزانے پر ایس او ایز کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے سربراہ ہیں، تاہم یہ کمیٹی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔سرکاری ملکیت والے اداروں کے اعدا و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ این ایچ اے کو سب سے زیادہ 151 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، اس کے بعد کیسکو کو 56 ارب 20 کروڑ روپے اور پی آئی اے کو 51 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، پیسکو نے 39 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا جبکہ پاکستان ریلوے کو 23 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی، پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے نقصانات کی بھی اطلاع ہے کہ انہیں بالترتیب 20 ارب 90 کروڑ روپے، 14 ارب 40 کروڑ روپے اور 12 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (جینکو ٹو) کو 8 ارب 30 کروڑ روپے، پی ٹی سی ایل کو 7 ارب 70 کروڑ روپے، پاکستان پوسٹ آفس کو 5 ارب 50 کروڑ روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کو 5 ارب 20 کروڑ روپے، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کو 2 ارب 60 کروڑ روپے، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو 4 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (پرائیویٹ) کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔حکومت نے دسمبر 2023 کو ختم ہونے والے 6 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 436 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی، اس امداد کو 120 ارب روپے کی گرانٹ، 231 ارب روپے سبسڈی اور 85 ارب روپے کے قرضوں میں تقسیم کیا گیا تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مدت کے دوران کوئی ایکویٹی انجکشن نہیں بنایا گیا تھا، یہ مالی مداخلت سالانہ بنیادوں پر وفاقی بجٹ کی وصولیوں کا 7 فیصد سے زائد بنتی ہے۔ مالی سال 24 کے پہلے 6 ماہ کے دوران لائن لاسز کی بنیاد پر ڈسکوز کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے، لیسکو 323 ارب 46 کروڑ روپے کے ساتھ پہلے، میکپو 272 ارب 96 کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے، فیسکو 217 ارب 41 کروڑ روپے کے ساتھ تیسرے اور گیپکو 159 ارب 32 کروڑ روپے کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔حیسکو کے لائن لاسز کا تخمینہ 59 ارب 78 کروڑ روپے، آئیسکو کا 68 ارب 72 کروڑ روپے، سیپکو کا 62 ارب 84 کروڑ روپے، پشاور الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کا 186 ارب 30 کروڑ روپے اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کا 86 ارب 72 کروڑ روپے ہے۔جولائی تا دسمبر 2023 کے 6 ماہ کے دوران منافع کمانے والے ٹاپ 15 اداروں نے 510 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ مضبوط مالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ دیگر تمام ایس او ایز کا منافع 50 ارب 20 کروڑ روپے رہا۔ان میں سے او جی ڈی سی ایل 123 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ سرفہرست ہے، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ 68 ارب 70 کروڑ روپے اور نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ 36 ارب 20 کروڑ روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، دیگر اہم شراکت داروں میں پاک عرب ریفائنری کمپنی 35 ارب روپے اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ساڑھے 32 ارب روپے کے ساتھ شامل ہیں، مزید منافع بخش اداروں میں نیشنل بینک آف پاکستان 26 ارب 60 کروڑ روپے اور پورٹ قاسم اتھارٹی 18 ارب 40 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ شامل ہیں۔ایس او ایز کی مجموعی آمدنی 7 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔متعلقہ مدت میں ایس او ایز نے 200 ارب روپے کے ٹیکس ادا کیے، جو گزشتہ 6 ماہ کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہے، نان ٹیکس محصولات جن میں سیلز ٹیکسز، رائلٹیز اور لیویز شامل ہیں، (27 فیصد کمی سے) 349 ارب روپے رہے، 9 ارب روپے کا ڈیوڈنڈ تقسیم کیا گیا، جو 71 فیصد کم ہے۔

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

  • پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 کے پہلے نو ماہ میں ایچ آئی وی کے 9 ہزار 713 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ماہانہ اوسطاً 1 ہزار 79 افراد ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2024 کے اختتام تک ایچ آئی وی کے 12 ہزار 950 کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یعنی 2023 میں ایچ آئی وی کے 12 ہزار 731 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے صحت کے نظام میں مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ایچ آئی وی کیسز میں مردوں کی تعداد 69.4 فیصد، خواتین کی 20.5 فیصد، خواجہ سرا 4.1 فیصد اور بچوں کی تعداد 6 فیصد ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا سب سے زیادہ اثر مردوں پر پڑ رہا ہے، تاہم خواتین، خواجہ سرا اور بچے بھی اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    اگر صوبوں کی بات کی جائے تو اس سال پنجاب میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں 5 ہزار 691 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ سندھ میں 2 ہزار 383، خیبرپختونخوا میں 926 اور بلوچستان میں 329 ایچ آئی وی کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 9 ماہ میں 378 اور آزاد کشمیر میں 10 ایچ آئی وی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ماہرین اور حکام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی رسک گروپز جیسے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے والے افراد اور منشیات کے استعمال کرنے والے افراد سے ایچ آئی وی عام آبادی میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آگہی کی کمی، حفاظتی تدابیر کا فقدان اور صحت کی سہولیات میں حفاظتی اقدامات کی کمی بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی آگہی میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ جنسی تعلقات سے بچاؤ، منشیات کے استعمال سے اجتناب اور صحت کے مراکز پر حفاظتی اقدامات کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں اور وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کرواتے رہیں تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2024 کے اختتام تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکام اور ماہرین کی جانب سے عوام کو آگاہی دینے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی جا رہی ہے تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

    ایڈز سے بچاؤ کیلئے سیمینار ،شرکا کی واک،آگاہی مہم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل