Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    برطانیہ نے ایک غیر ضروری اور غیر معقول بیان میں پاکستان میں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ یہ اعتراض اُس ملک کی طرف سے آیا ہے جو خود 29 جولائی 2024 کو ساؤتھ پورٹ کے علاقے میں ہونے والے نسل پرستی کے فسادات کے بعد اپنے شہریوں پر سخت کارروائی کر چکا ہے۔ ان فسادات کے بعد برطانیہ نے چند دنوں کے اندر 200 سے زیادہ افراد، بشمول تین بچوں، کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے غیر مستقیم الزامات پر سزا دی اور سخت سزائیں سنائیں۔

    فسادات میں ملوث تمام افراد کو فوراً جیل بھیج دیا گیا۔ 54 سزا یافتہ افراد میں سے 47 بالغ اور 3 نابالغ افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں۔ جنہوں نے جرم قبول کیا، ان کے مقدمات کو تیزی سے نمٹایا گیا، جبکہ باقی افراد کو حراست میں رکھا گیا۔خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے براہ راست تشدد میں حصہ نہیں لیا لیکن سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی پھیلائی، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔ نارتھمپٹن میں ایک 26 سالہ شخص، جس نے ہوٹلوں اور تارکین وطن کی مدد کرنے والے وکیلوں کو جلانے کی دھمکی دی تھی، کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔پاکستان نے کبھی برطانیہ کے اس عمل پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ فسادات کے دوران جعلی خبروں پھیلانے والے افراد کی شناخت میں مکمل تعاون کیا، کیونکہ یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ تھا۔اب برطانیہ کی طرف سے پاکستان میں ایک قانونی اور آئینی عمل پر اعتراض کرنا نہایت مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا، اور اب ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات کو نمٹایا جا رہا ہے۔ یہ سب پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔

    یہ بات واضح ہے کہ ہر ملک کے قوانین اور عدالتی نظام مختلف ہوتے ہیں اور ان کا انحصار زمینی حقائق پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانا ایک قانونی اور آئینی عمل ہے جو ملک کے قوانین اور آئین کے تحت جائز ہے۔برطانیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات پر توجہ دے اور غزہ اور فلسطین کے عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائے، اور اسرائیل کو نسل کشی سے روکے۔برطانیہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر کسی بیرونی دباؤ کے تحت۔ پاکستان کسی بھی غیر ضروری اور بے بنیاد سیاسی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔

    کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    کراچی کو ٹینکروں کے ذریعے نہیں نلکوں میں پانی دیا جائے ، منعم ظفر خان

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

  • چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024منعقدہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وفاقی وزیر اوور سیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب میں شرکت کی۔ سیکریٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احسان بھٹہ ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ احمد جاوید قاضی،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور،صنعتکاروں،کالم نگاروں اور سینئر صحافی بھی تقریب میں شریک تھے۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین ،سابق نگران صوبائی وزیر عامر میر اور دیگر کو فرینڈشپ ایوارڈ دیئے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔چین مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ہر گزرتے لمحے پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں گارمنٹ سٹی بنایا ہے جو سولر انرجی پر ہوگا۔چین کی کمپنیاں پنجاب میں سولر،ٹیکسٹائل،زراعت ،لیتھیئم بیٹریاں بنانے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔چین کی آئکو سولر انرجی کمپنی کے ساتھ پنجاب میں سولر پینلز مینوفیکچرنگ کا کارخانہ لگانے کا معاہدہ پہلے ہی ہوچکاہے۔چین کی بڑی موبائل فون کمپنی فیصل آباد میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگائے گی۔صوبائی وزیرصنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ چین کے دوران الیکٹرک وہیکلز بنانے والے گروپ کے علاوہ متعدد کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔بہت سی کمپنیوں نے پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں آمادگی ظاہر کی۔پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوچکا اب دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر ثابت ہوگا۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے کہاکہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ممالک کے مابین دوستی اور تجارتی تعاون کی اعلیٰ مثال ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے حالیہ دورہ چین سے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔چینی قونصل جنرل نے کہاکہ پنجاب میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کی سہولت ملی ہے۔چین کے سرمایہ کاروں کو بہترین سکیورٹی کی فراہمی پر حکومت کے مشکور ہیں۔

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری
    اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار

  • عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    پاکستان اور عراق کے تعلقات میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ آ رہا ہے۔

    حالیہ پیش رفت نے ایک پیچیدہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے جو قانونی زائرین کے ساتھ غیر قانونی پاکستانیوں کی موجودگی کو بھی شامل کرتا ہے۔ عراقی حکومت نے غیر قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنائی ہیں جن میں زائرین کی تمام داخلی راستوں پر تفتیش، ان کے پاسپورٹس کو قبضے میں لینا اور گروپوں کے سفر کی زیادہ نگرانی شامل ہے۔اگرچہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت کو روکنا ہے، لیکن ان کا اثر قانونی زائرین پر بھی پڑا ہے جو اب غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے اتنی ہی نگرانی کا سامنا کر رہے ہیں جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر بوجھ ڈال دیا ہے۔عراقی حکومت خاص طور پر اس لیے متنبہ ہے کیونکہ عراق میں تقریباً 40,000 سے 50,000 پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جن میں سے بیشتر انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے عراق پہنچے ہیں۔

    غیر قانونی بحران اور اس کا اثر

    عراق کی سخت امیگریشن تدابیر کی بنیاد غیر قانونی ہجرت ہے۔ پاکستان کے کئی غریب علاقوں جیسے وزیرآباد، گجرات، گجرانوالہ، پاراچنار اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانیوں کو انسانی اسمگلروں کا شکار بنایا جاتا ہے۔یہ غیر قانونی تارکین وطن اکثر اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد عراق میں غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں اور انہیں زیادہ تنخواہوں کا وعدہ کیا جاتا ہےجو کبھی $700 ماہانہ تک پہنچتی تھی۔تاہم، جب سے ان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ان کی اجرتیں کم ہو کر $300 سے $400 ماہانہ تک پہنچ چکی ہیں، اور وہ شدید استحصال اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2023 میں عراق میں کم از کم 50 پاکستانی کارکن ہلاک ہوئے تھے جن کی وجہ یہ خطرناک کام کے حالات تھے اور 2024 میں بھی تقریباً اتنے ہی افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عراق کی بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں پاکستان نے گجرات اور گجرانوالہ جیسے علاقوں میں سرگرم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے کردار کی تحقیقات کی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان غیر قانونی نیٹ ورکوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی وسعت اور مقامی ایجنٹوں اور سرحدی سیکیورٹی اہلکاروں کی مداخلت کی وجہ سے قانون کی عملداری کو یقینی بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

    انسانی بحران کا بڑھنا

    غیر قانونی تارکین وطن کو عراق میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ ان کی زندگی اور کام کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں چھپ کر رہتے ہیں، جہاں وہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی گرفتاری اور بدسلوکی کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ افراد اسمگلروں اور عراقی حکام کے ہاتھوں تشدد اور حتیٰ کہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈی پورٹیشن کا عمل بھی سست اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے گرفتار شدگان طویل عرصے تک بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔پاکستانی زائرین جو مذہبی مقصد کے لیے عراق آتے ہیں، ان کے لیے عراقی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ داخلے اور اخراج کے وقت پاسپورٹس کو ضبط کرنے کا عمل ایک اہم لاجسٹک مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی زائرین جو گروپوں میں سفر کرتے ہیں اور جن کا ایک مخصوص رہنما (سالار) ہوتا ہے، اکثر پاسپورٹ کی واپسی میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کی ناقص کارکردگی نے زائرین اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    مفاہمت کا معاہدہ: مسئلے کا حل

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کے سفر کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ عراق کی غیر قانونی ہجرت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں دونوں حکومتیں ایک مفاہمت کا معاہدہ (MoU) تیار کر رہی ہیں جس کے تحت پاکستانی عازمین کو ایمرجنسی کی صورت میں گروپ سے علیحدہ ہونے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ زائرین کو درپیش سخت سفری پابندیوں میں کمی لائی جا سکے۔پاکستان نے پاسپورٹ کی ضبطی کے عمل پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور عراقی حکام سے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کی جانچ کریں تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے اور پاسپورٹس کی واپسی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔عراق نے اس عمل کا جائزہ لینے کی کچھ آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کب تک اس پر عملدرآمد ہوگا۔ مزید برآں، پاسپورٹس کی تاخیر اور گم ہونے کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں،تاہم، انسانی اسمگلنگ کا بڑا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔عراقی حکام نے اسمگلروں اور ایجنٹوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن ان نیٹ ورکوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان نے غیر قانونی ٹور آپریٹرز اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ان قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے جو زائرین کو استحصال سے بچا سکیں۔

    آگے کا راستہ: ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پاکستان سے عراق جانے والے غیر قانونی تارکین وطن، خاص طور پر وہ نوجوان جو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے عراق جاتے ہیں، نے زائرین کے سفر کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی عازمین اور غیر قانونی تارکین وطن دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان اور عراق کو متعدد اقدامات پر تعاون کرنا ہوگا۔ان میں زائرین کے سفر کے قانونی فریم ورک کو بہتر بنانا، ایجنٹوں کے مافیا کے خلاف کارروائی کرنا، پاسپورٹ کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مؤثر ڈی پورٹیشن میکانزم بنانا شامل ہے۔جب کہ دونوں حکومتیں مفاہمت کے معاہدے کے تفصیلات پر بات چیت کر رہی ہیں، یہ واضح ہے کہ زائرین کے سفر کا مستقبل مؤثر دو طرفہ تعاون پر منحصر ہے۔ اگرچہ کچھ مسائل کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انسانی اسمگلنگ کو روکنے، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے اور دونوں طرف کے ادارہ جاتی میکانزم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہو۔صرف مسلسل تعاون کے ذریعے دونوں ممالک یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ زائرین کا سفر روحانی اور محفوظ رہے، جو استحصال اور مشکلات سے آزاد ہو۔

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی،کاروبار کا مثبت دن رہا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی،کاروبار کا مثبت دن رہا

    کراچی: آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن رہا –

    باغی ٹی وی: پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں مسلسل مندی کے بعد آج بحالی کے ساتھ کاروبار کا آغاز ہوا ہے،پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئےکاروباری ہفتے کا آغاز 1800 پوائنٹس اضافے سے ہوا جو کاروبار کے اختتام تک 4 ہزار 411 پوائنٹس ہوگیا-

    کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 13 ہزار 924 ہے 100 انڈیکس کاروباری دن میں ایک لاکھ 14 ہزار 189 تک گیا بازار میں 85 کروڑ 78 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 50 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد رہی،مارکیٹ کیپٹلائزیشن 487 ارب روپے اضافے سے 14 ہزار 445 ارب روپے ہے۔

    دوسری جانب آج ملک میں سونے کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 2 لاکھ 73 ہزار 400 روپے پر برقرار ہے آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 34 ہزار 396 روپے پر برقرار ہے جبکہ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 2 ہزار 622 ڈالرز فی اونس پر برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں انٹربینک میں آج ڈالر 15 پیسے مہنگا ہوا ہے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک تبادلہ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کا بھاؤ 278 روپے57 پیسے ہے،انٹربینک میں ڈالرکا بھاؤ گزشتہ کاروباری روز 278 روپے 42 پیسے پر بند ہوا تھا، انٹربینک میں ڈالر آج 15 پیسے مہنگا ہوا ہے،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 17 پیسے مہنگا ہو کر 279 روپے 59 پیسے پر بند ہوا ہے۔

  • عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    آج 23 دسمبر کو برصغیر کی مشہور و مقبول گلوکارہ، "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ نورجہاں، جن کا اصل نام اللہ وسائی تھا، 1926 میں قصور، پنجاب کے ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز نو برس کی عمر میں کلکتہ سے بطور چائلڈ سنگر کیا اور جلد ہی اپنی آواز اور گائیکی کے منفرد انداز سے ایک نئی پہچان حاصل کر لی۔

    پیدائش کے وقت نور جہاں کی خالہ نے نومولود بچے کے رونے کی آواز سن کر کہا، اس بچے کے رونے میں موسیقی ہے۔ نورجہاں کے والدین تھیٹر میں کام کرتے تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے نور جہاں بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھیں،نور جہاں نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور پلے بیک سنگر اپنی شناخت بنائیں گی۔ ان کی والدہ نے نورجہاں کے ذہن میں موسیقی کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو پہچان لیا، اس راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور گھر پر موسیقی سیکھنے کا انتظام کیا۔

    نور جہاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کجن بائی سے اور کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی، 1930 میں نور جہاں کو انڈین پکچر کے بینر تلے بننے والی خاموش فلم ’ہند کے تارے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پنجاب سے کلکتہ چلا گیا، اس عرصے کے دوران انہیں تقریباً 11 خاموش فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا، 1931 تک نور جہاں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنی پہچان بنا لی تھی۔ 1932 میں ریلیز ہونے والی فلم ششی پنوں نورجہاں کے سینما کیرئیر کی پہلی ٹاکی فلم تھی، اس عرصے میں نورجہاں نے کوہ نور یونائیٹڈ آرٹسٹ کے بینر تلے بننے والی کچھ فلموں میں کام کیا۔ کولکتہ میں ان کی ملاقات فلم پروڈیوسر پنچولی سے ہوئی،پنچولی نے نورجہاں کو فلم انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اسٹار کے طور پر دیکھا اور انہوں نے انہیں اپنی نئی فلم گل بکاولی کے لیے منتخب کیا،اس فلم کے لیے نورجہاں نے اپنا پہلا گانا ’سالا جوانیاں مانے اور پنجرے دے وچ‘ ریکارڈ کروایا۔ تقریباً تین سال کولکتہ میں رہنے کے بعد نور جہاں واپس لاہور چلی گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات مشہور موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی، جو اسٹیج پروگراموں میں موسیقی دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نورجہاں کو اسٹیج پر گانے کی پیشکش کی جس کے بدلے میں نورجہاں کو فی گانا ساڑھے سات آنہ دیا گیا۔ ان دنوں ساڑھے سات آنہ اچھی رقم سمجھی جاتی تھی۔1939 میں پنچولی کی میوزیکل فلم گل بکاولی کی کامیابی کے بعد نور جہاں فلم انڈسٹری کی ایک مقبول شخصیت بن گئیں۔ اس کے بعد سنہ 1942 میں پنچولی کی پروڈیوس کردہ فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نور جہاں نے بطور اداکارہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی۔

    نورجہاں نے اپنی زندگی کے 35 سال سے زائد عرصے تک پاکستان اور ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر اپنی آواز کا جادو چلایا اور اپنے دور کی سب سے اہم گلوکارہ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں تقریباً 10,000 گانے ریکارڈ کیے، جو آج بھی موسیقی کی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں۔1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، نورجہاں کے ملی نغموں نے پاکستانی عوام اور فوج میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا۔ ان کے گانے "ہمتِ مردانہ”، "دل دل پاکستان” اور دیگر نغمے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ ان کی آواز نے فوجیوں میں حوصلہ پیدا کیا اور عوامی جذبات کو مضبوط کیا۔

    نورجہاں کی فنی زندگی میں بے شمار ایوارڈز اور اعزازات شامل ہیں۔ 1957 میں انہیں بہترین گلوکاری اور اداکاری کے لیے صدر پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے نگار ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ستارہ امتیاز، پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور ملینیم ایوارڈ جیسے اہم اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ان کے گانے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنے جاتے ہیں، اور ان کا اثر آج بھی موجود ہے۔ نورجہاں کی آواز کی مٹھاس اور گائیکی کے جذباتی رنگ ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    2000 میں آج ہی کے دن نورجہاں کراچی میں انتقال کر گئیں اور انہیں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو دفن کیا گیا۔ ان کی وفات ایک ایسا لمحہ تھا جس سے پاکستانی قوم اور موسیقی کی دنیا ہمیشہ کے لیے غمگین ہو گئی۔نورجہاں کا فن اور ان کی شخصیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز کی جادوگری، ان کے ملی نغمے اور ان کی بے شمار موسیقی کی تخلیقات انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی برسی پر مداحوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد میں محافل منعقد کیں، جہاں ان کے گانے سن کر لوگوں نے اپنے پسندیدہ گانے دوبارہ سنے۔نورجہاں کا نام ہمیشہ گلوکاری کی دنیا میں ایک سنہری باب کے طور پر زندہ رہے گا اور ان کی گائیکی ہمیشہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔

  • پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کی جانب سے آذربائیجان، ایران، عراق، اور سعودی عرب کے راستے یورپ اور مغربی ممالک شہریوں‌کو بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    گزشتہ دنوں یونان میں کشتی ڈوبنے کے واقعات میں متعدد پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا، جس نے ان افراد کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ آذربائیجان پاکستانی انسانی اسمگلروں کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ آذربائیجان کے وزٹ ویزے کی قیمت صرف 26 ڈالر (تقریباً 7206 پاکستانی روپے) ہے اور یہ آن لائن دستیاب ہوتا ہے۔ اس ویزے کے لیے کسی پاکستانی شہری کو بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ یا دیگر اضافی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پاکستانی اور مقامی ٹریول ایجنٹس کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جو غیر قانونی اسمگلنگ کی سرگرمیاں چلاتا ہے۔ یہ ایجنٹ پاکستانی شہریوں کو باآسانی آذربائیجان کا وزٹ ویزہ دلاتے ہیں اور وہاں پہنچنے کے بعد، یہ افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے مزید سہولتیں حاصل کرتے ہیں۔

    آذربائیجان کے راستے یورپ کی طرف غیر قانونی سفر
    آذربائیجان کے وزٹ ویزے کے ذریعے یورپ جانے کا طریقہ کار کچھ یوں ہے: پاکستانی شہری آذربائیجان پہنچ کر ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر مختلف ممالک کی طرف غیر قانونی طور پر سفر کرتے ہیں، جہاں سے یورپ پہنچنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ آذربائیجان میں پہنچنے کے بعد اکثر افراد ایجنٹوں کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات یا ویزے حاصل کرتے ہیں، جس سے انہیں یورپ پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔

    سعودی عرب، ایران اور عراق کے راستے اسمگلنگ
    اسی طرح سعودی عرب میں عمرہ ویزے پر پہنچ کر وہاں موجود ایجنٹوں سے جعلی ویزے یا پاسپورٹ حاصل کر کے اگلے سفر کی تیاری کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے ایسے درجنوں افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے جو عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے اور وہاں سے آگے غیر قانونی طور پر سفر کرنا چاہتے تھے۔
    ایران اور عراق کے راستے بھی پاکستانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے لیے اہم ہیں۔ ایران میں زمینی یا بحری راستوں سے پہنچ کر پاکستانی یا مقامی ایجنٹس کے ذریعے جعلی دستاویزات حاصل کی جاتی ہیں، اور پھر یہ افراد یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح عراق میں بھی انسانی اسمگلنگ کا ایک نیٹ ورک سرگرم ہے، جہاں پاکستانی شہری مختلف طریقوں سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک صرف آذربائیجان، ایران، سعودی عرب اور عراق تک محدود نہیں بلکہ ترکی، ملائیشیا، تھائی لینڈ، مراکش، جارجیا اور دیگر ممالک میں بھی پاکستانی اسمگلرز موجود ہیں۔ ان ممالک میں مختلف طریقوں سے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

    پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر ایس او پیز (معیاری آپریٹنگ پروسیجرز) موجود نہیں ہیں۔ 2005 میں آخری بار وزارت داخلہ نے امیگریشن پالیسی جاری کی تھی، جس کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی یا اپ ڈیٹ نہیں کی گئی۔ نتیجتاً، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک نے آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور ہزاروں افراد غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی اسمگلنگ کے اس پیچیدہ نیٹ ورک کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کو فوری طور پر نئی پالیسی تیار کرنے اور انٹرنیشنل لیول پر کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، پاکستانی شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ انسانی اسمگلروں کے جال میں نہ پھنسیں اور غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوششوں میں جان کی بازی نہ ہاریں۔یونان میں کشتی ڈوبنے کی حالیہ واردات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کے شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    کراچی ، انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل

  • راحت فتح علی خان کی ڈھاکہ میں کنسرٹ میں شرکت،مشیر اطلاعات سے ملاقات

    راحت فتح علی خان کی ڈھاکہ میں کنسرٹ میں شرکت،مشیر اطلاعات سے ملاقات

    پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ’ایکوز آف ریوولوشن‘ کنسرٹ میں پرفارم کرکے بنگلادیش میں پاکستانی موسیقی کی محافل سجا دیں۔

    اس شاندار کنسرٹ کا مقصد نہ صرف پاکستانی گلوکاری کی مقبولیت کو فروغ دینا تھا بلکہ بنگلادیش میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنا تھا۔راحت فتح علی خان اور ان کی ٹیم نے اس کنسرٹ میں بغیر کسی معاوضے کے پرفارم کیا، اور منتظمین سے ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی منافع کو بھی لینے سے گریز کیا۔ اس کے علاوہ، کنسرٹ میں بنگلادیش کے مشہور مقامی بینڈز جیسے آرٹ سیل، چرکٹ، آفٹرمتھ اور سلسیلا نے بھی پرفارم کیا۔ اس کے علاوہ، ریپ آرٹسٹ شیزان اور حنان نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    اس کنسرٹ کا اہتمام کرنے والی تنظیم ’اسپرٹس آف جولائی‘ کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کا مقصد 2023 کے جولائی-اگست میں بنگلادیش میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کی مدد کرنا تھا۔ منتظمین نے کہا کہ کنسرٹ سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی ’شہدا میموریل فاؤنڈیشن‘ کو عطیہ کی جائے گی، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔کنسرٹ میں شرکت کرنے والے طلبا کے لیے خصوصی رعایتیں بھی دی گئیں تاکہ وہ اس ایونٹ میں شریک ہو سکیں۔ بنگلادیش کے انقلاب میں طلبا کے اہم کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ٹکٹ خریدنے والے طلبا کو 16 فیصد سے 36 فیصد تک خصوصی رعایت دی گئی تھی۔

    کنسرٹ کے ٹکٹس کو تین مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا
    وی آئی پی ٹکٹس کی قیمت 10 ہزار بنگالی ٹکا تھی، لیکن طلبا کے لیے اس میں 16 فیصد رعایت دے کر قیمت 8 ہزار 400 بنگالی ٹکا کر دی گئی۔
    پہلی قطار کے ٹکٹس کی قیمت 45 ہزار بنگالی ٹکا تھی، جس میں 24 فیصد رعایت کے بعد قیمت 3 ہزار 420 بنگالی ٹکا مقرر کی گئی۔
    جنرل ٹکٹ کی قیمت 2500 بنگالی ٹکا تھی، جس میں 36 فیصد رعایت دے کر اسے صرف 1 ہزار 600 بنگالی ٹکا کر دیا گیا۔
    ڈھاکہ کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں خصوصی بوتھ بھی قائم کیے گئے تھے تاکہ طلبا آسانی سے ٹکٹ خرید سکیں۔

    اس سے قبل پاکستانی گلوکار عاطف اسلم بھی بنگلادیش میں اپنے کنسرٹ ’میجیکل نائٹ 2.0‘ میں پرفارم کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی پرفارمنس سے سامعین کا دل جیت لیا۔ عاطف اسلم نے ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں ہونے والے کنسرٹ میں دو گھنٹے زائد پرفارم کیا اور سامعین کی درخواست پر مزید گانے گائے۔ ان کی پرفارمنس کے دوران انہوں نے اپنے مداحوں سے گفتگو کی اور پوسٹرز، تصاویر، اور ٹی شرٹس پر دستخط بھی کیے۔

    یہ دونوں کنسرٹ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستانی فنکار نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے فن کا لوہا منواتے ہیں اور موسیقی کے ذریعے ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔

    راحت فتح علی خان کی بنگلہ دیش کے مشیر اطلاعات ناہید اسلام سے ملاقات
    پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے اتوار کے روز بنگلہ دیش کے سیکرٹریٹ میں مشیر اطلاعات و نشریات محمد ناہید اسلام سے ملاقات کی ہے،بنگلہ دیش میں پاکستان کے ثقافتی ورثہ اور موسیقی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے، ناہید اسلام، جو وزارتِ پوسٹس، ٹیلی کمیونیکیشنز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشیر بھی ہیں، نے راحت فتح علی خان کی صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر اور دنیا بھر کے موسیقی کے دنیا کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ راحت فتح علی خان بنگلہ دیش میں بھی بہت مقبول ہیں اور ان کے مداحوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔مشیر اطلاعات نے گلوکار کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں ہونے والے موسیقی کے کنسرٹ میں شرکت کی۔ ناہید اسلام نے اس موقع پر کہا کہ جولائی میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد بنگلہ دیش میں اس طرح کے ثقافتی پروگرامز کی تنظیم کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں میں ہم آہنگی اور ثقافتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    اس ملاقات کے دوران، راحت فتح علی خان نے بنگلہ دیش کی میلوڈیز اور ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آ کر بہت خوش ہیں اور یہ دعوت دینے پر موجودہ عبوری حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اس ملاقات میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش محمد واصف، وزارتِ پوسٹس و ٹیلی کمیونیکیشنز کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد مشتاق الرحمان، اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سیکرٹری مہبوبا فرجانہ بھی موجود تھے۔

    راحت فتح علی خان نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ بنگلہ دیش کی موسیقی اور ثقافتی ورثے کی عالمی سطح پر ترویج کے لیے تعاون کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی موسیقی کا عالمی منظرنامے پر بڑا مقام ہے اور وہ اسے مزید اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ راحت فتح علی خان کی آواز اور موسیقی کے انداز نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کو جیتا ہے، اور ان کی بنگلہ دیش میں موجودگی نے مقامی موسیقی کے شائقین کے لیے ایک یادگار لمحہ پیدا کیا ہے۔

  • پاکستان جنوبی افریقہ کو  ہوم گراونڈ پر کلین سوئپ کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی

    پاکستان جنوبی افریقہ کو ہوم گراونڈ پر کلین سوئپ کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی

    پاکستان نے جنوبی افریقہ کو تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت 36 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-3 سے کلین سوئپ کردیا-

    فتح کے ساتھ ہی قومی ٹیم پروٹیز کو ہوم گراؤنڈ پر ایک روزہ سیریز میں وائٹ واش کرنے والی پہلی ٹیم بھی بن گئی۔جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں پروٹیز کپتان ٹیمبا باووما نے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا،بارش کے باعث میچ کو 47 اوورز فی اننگز تک محدود کیا گیا ہے۔پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز صائم ایوب اور عبداللہ شفیق نے کیا، عبداللہ شفیق مسلسل تیسرے میچ میں بھی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے تاہم صائم ایوب نے اپنی شاندار فارم کو جاری رکھا اور سینچری اسکور کی، انہوں نے دوسری وکٹ پر بابر اعظم کے ساتھ 113 رنز کی شراکت داری قائم کی، 22 ویں اوور کی تیسری گیند پر بابر اعظم 52 رنز بنا کر کیون مافاکا کا شکار بنے۔اس کے بعد کریز پر محمد رضوان آئے اور انہوں نے صائم ایوب کے ساتھ ذمہ دارانہ اور برق رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کے ٹوٹل کو آگے بڑھایا، 35 ویں اوور میں 208 کے مجموعی اسکور پر صائم ایوب ڈیبیو کرنے والے کوربن بوسک کا شکار بنے، انہوں نے 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 94 گیندوں پر 101 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ .

    اس کے بعد نائب کپتان آغا سلمان اور طیب طاہر نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو مستحکم ٹوٹل تک پہنچایا، آغا سلمان 48 اور طیب طاہر 28 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، گرین شرٹس نے 47 اوورز میں ۹ وکٹوں کے نقصان پر 308 رنز اسکور کیے، پروٹیز کی جانب سے کگیسو رباڈا نے تین اور مارکو جانسن نے تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ہدف کے تعاقب میں میزبان ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا، پہلے 6 اوورز میں ہی جنوبی افریقہ کے دونوں اوپنرز آؤٹ ہوگئے، کپتان ٹیمبا باووما 8 اور ٹونی ڈی زورزی 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ابتدائی دو وکٹیں جلدی گرنے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ ایڈن مارکرم اور راسی وینڈر ڈوسن ٹیم کی مشکلات کو کم کریں گے تاہم دونوں کے درمیان صرف 36 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔اس کے بعد وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا اور پروٹیز ہدف سے دور ہوتے چلے گئے، جنوبی افریقہ کی جانب سے ہنرک کلاسن نمایاں بیٹر رہے، انہوں نے 43 گیندوں پر 12 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے برق رفتار 81 رنز بنائے تاہم ان کی مزاحمت بھی کام نہ آسکی اور پوری ٹیم 42 ویں اوور میں 271 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی، قومی ٹیم کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے سفیان مقیم نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔صائم ایوب مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے مین آف دی میچ اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

  • پاکستان  بمقاملہ جنوبی افریقہ  تیسرا ون ڈے کل کھیلا جائے گا

    پاکستان بمقاملہ جنوبی افریقہ تیسرا ون ڈے کل کھیلا جائے گا

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرا ون ڈے میچ کل جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔

    تین میچوں کی سیریز میں گرین شرٹس کو 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ میچ کیلئے قومی اسکواڈ نے بارش کے سبب ان ڈور پریکٹس سیشن کیا، کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور بولنگ کی پریکٹس کی جبکہ اسپنرز نے بھی نیٹ سیشن کیا۔خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ناکامی کے بعد قومی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو ون ڈے سیریز میں چاروں شانے چت کردیا۔پاکستان نے پہلا ون ڈے دلچسپ مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے جیتا جبکہ دوسرا میچ یکطرفہ رہا جس میں قومی ٹیم نے 81 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

    آزاد کشمیر میں لکڑی کا پل ٹوٹ گیا، 6 طالبات زخمی

    کراچی ، انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    پانی بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی میں مظاہرے

  • نادرا میں جدت، چہرہ شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف

    نادرا میں جدت، چہرہ شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف

    نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے خصوصی طور پر بزرگ شہریوں کی سہولت اور پینشنرز کے لیے فنگر پرنٹ کے بعد اب چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نادرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نادرا ہیڈ کوارٹر میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے حوالے سے اہم مشاورتی کانفرنس ہوئی، جس میں وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹی ایکسچینج کمپنی آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز اداروں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔اس وقت پاکستان بھر میں فنگر پرنٹ کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کی جاتی ہے، کچھ عرصہ قبل ہی نادرا نے ایک سے زائد انگلیوں سے بائیو میٹرک شروع کی تھی۔پاکستان بھر کے بینک، سیکیورٹی ادارے اور دوسرے کاروباری ادارے بھی بائیو میٹرک کے ذریعے تصدیقی عمل مکمل کرتے ہیں لیکن اب نادرا نے نئے سال سے چہرے کی شناخت کے ٹیکنالوجی بھی متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔کانفرنس کے دوران بائیو میٹرک کے اندر پیش آنے والے مسائل پر بحث کرنے سمیت نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا۔کانفرنس میں نادرا چیئرمین نے بتایا کہ زائد العمر ہونے کی وجہ سے بعض بزرگ افراد کی انگلیوں اور انگوٹھوں کے نشانات درست انداز میں کام نہیں کرتے اور ان کی تصدیق نہیں ہو پاتی، جس سے مسائل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لیے اب نادرا نے ایسے بزرگ افراد کے لیے بائیو میٹرک کے بعد چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔نادرا چیئرمین نے 15 جنوری 2025 سے نادرا کی ایپلی کیشن پاک آئی ڈی اور نادرا سینٹرز پر مذکورہ سہولت کے آغاز کا اعلان کیا۔

    فرانس میں گستاخانہ خاکے ، ملزمان کو16 سال قید کی سزا

    مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط