Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان میں انٹرنیٹ اکتوبر تک ٹھیک ہونے کا امکان

    پاکستان میں انٹرنیٹ اکتوبر تک ٹھیک ہونے کا امکان

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست روی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، پی ٹی اے نے نیا بیان جاری کر دیا

    ترجمان پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی سست روی کی بنیادی وجہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے والی سات بین الاقوامی سب میرین کیبلز میں سے دو (SMW4، AAE-1) میں خرابی ہے .واضح رہے کہ ایس ایم ڈبلیو4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر 2024 کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان ہے۔ جب کہ سب میرین کیبل اے اے ای – 1 کی مرمت کر دی گئی ہے جس سے انٹرنیٹ کی موجودہ صورتحال میں بہتری آئے گی۔

    دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں ایکس اور انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ وکیل درخواست گزار عبد المعیز جعفری ،جبران ناصر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ضیاء مخدوم ایڈووکیٹ اور دیگربھی عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار وکیل نے کہا کہ ایکس کی غیر قانونی بندش کو چیلنچ کیا گیا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ایکس بند ہے۔ توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جج کو کہا کہ عدالت نے درخواست گزار وکیل کو مطمئن کرنے کا کہا تھا جس پر درخواست گزار کے وکیل عبد المعیز جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کو تیار ہیں۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ ریگولر بینچ ہی اس کیس کو سنے گا اور کیس کی مزید سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

    50 فیصد سے زیادہ آبادی اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہے،یوسف رضا گیلانی

    انٹرنیٹ سست روی،3 ستمبر تک تفیصلی رپورٹ طلب

    انٹرنیٹ سروس سب میرین کیبل میں فالٹ کی وجہ سے متاثر ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

  • جو ریاست پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں،اسحاق ڈار

    جو ریاست پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ریاست پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوا اس پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے، بلوچستان ہمارے دل کے قریب ہے لیکن ہمیں مل کر آگے بڑھنا چاہیے ،وزیر داخلہ بلوچستان پہنچ گئے ہیں ، وزیر اعظم بھی کل جا رہے ہیں، کبھی سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے تاکہ پاکستان معاشی طور پر آگے نہ بڑھ سکے ، ہمیں سیاست سے بالا تر ہو کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے،ناراضگی کے نام پر بات تب ہوگی جب پاکستان کے جھنڈے کو تسلیم کرنا ہوگا،ناراضگی کے نام پر دہشتگردی کرنے والوں کو ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا،یہ کونسی ناراضگی ہے جس میں ریاست نہیں ہے،یہ ملک ہم سب کا ہے ، ہم سب نے ہی اس کو بچانا اور مضبوط بنانا ہو گا،

    شبلی فراز کاکہنا تھا کہ بلوچستان بدل چکا ہے، بلوچستان میں نوجوان ہیں انکی مختلف ڈیمانڈ ہیں، آج کل کی ینگ جنریشن بلیک اینڈ وائیٹ کو دیکھتی ہے، ہم جیسے لوگ گرے ایریاز میں پھرتے تھے،عوام کے مسائل کے حل کیلئے عوام سے بات کرنی چاہیے، بلوچستان میں جو ماحول بن گیا ہے وہ بلوچستان نہ پاکستان کے حق میں ہے،بلوچستان میں الیکشن کا کچھ اور ہی لیول تھا اسی لیے وہاں اضطراب پایا جاتا ہے،

    بلوچستان حملوں پر پارلیمنٹ کا بند کمرہ اجلاس بلایا جائے،رضا ربانی

    ایک بلوچی کے طور پر میرا چہرہ بری طرح مسخ ہوا ،سینیٹر کامران مرتضیٰ
    سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جس طرح 25 اور 26 کی رات نسل اور زبان کی بنیاد پر قتل عام ہوا ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک بلوچی کے طور پر میرا چہرہ بری طرح مسخ ہوا ہے اور یہ طعنہ آنیوالے برسوں تک میرے ساتھ جڑا رہے گا کہ رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر مارا گیا۔ میں اس تکلیف کو نہیں بھول سکتا،یہ ایک بہت بڑا ظلم ہوا ہے، میرا خیال تھا کہ ہاؤس اس پر بات کرے گا لیکن قومی اسمبلی میں کسی نےبات نہیں کی،یہاں سینیٹ میں بھی بات نہیں ہو رہی،کیا یہ وقت آ گیا ہے ، ہم کتنے گرگئے ہیں کہ ایسے واقعات پر خاموش رہیں، جو مزدوری کرنے گئے تھے وہ مار دیئے گئے، ہم نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، جب اس طرح قتل عام ہو گا تو وہاں کوئی کاروبار نہیں کرنے جائے گا ،وفاقی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں.

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری امتیاز کو کل اسمبلی لایا گیا، انکے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تھے، ان پر مقدمہ بھی اینٹی کرپشن کا ہے،بڑے ادب سے کہہ رہا ہوں کہ ہم جیسے پڑھیں گے ویسے پڑھائیں گے ایسی بات بالکل نہیں، اس ایوان کا وقار،اراکین کا تحفظ ہونا چاہئے،

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ،پاکستان کونوٹس پر تشویش کا اظہار

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ،پاکستان کونوٹس پر تشویش کا اظہار

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ایک بار پھر اعلیٰ سطح پر بحث کا باعث بن گیا ہے کیونکہ ایران نے مزید تاخیر پر حکومت پاکستان کے ساتھ تشویش کا اظہار کیا ہے اور حتمی نوٹس جاری کیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے منصوبے کے مسلسل التوا پر پاکستان کو شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے کوئی اضافی وقت نہیں دیا جائے گا، ایران 180 دن کی توسیع شدہ ڈیڈ لائن کے دوران اس منصوبے کے تحت پائپ لائن کی تعمیر نہ کرنے پر ستمبر میں بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کر کے معاملے کو بڑھا سکتا ہے،ممکنہ قانونی کارروائی کے جواب میں، پاکستان مبینہ طور پر مذاکرات کے ذریعے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے حوالے سے ایک قرارداد پر بات چیت کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مزید پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے منصوبے کی تاخیر اور مستقبل میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ایران کو اعتماد میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے

    ستمبر 2019 میں، پاکستان کے انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز اور نیشنل ایرانی گیس کمپنی نے ایک نظرثانی شدہ معاہدے پر دستخط کیے، اس معاہدے کے تحت ایران نے پائپ لائن کی تعمیر میں تاخیر پر کسی بین الاقوامی عدالت سے رجوع نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، اس شرط کے ساتھ کہ پاکستان 2024 تک پائپ لائن کا اپنا حصہ مکمل کرلے گا، جس کے بعد وہ ایران سے یومیہ 750 ملین مکعب فٹ گیس درآمد کرنا شروع کر دے گا،پاکستان کو پائپ لائن کا اپنا حصہ فروری سے مارچ 2024 تک مکمل کرنا تھا، اگرچہ ایران نے 180 دن کی توسیع دی تھی، لیکن یہ ڈیڈ لائن ستمبر 2024 میں ختم ہونے والی ہے پاکستانی حکام نے ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، جس کی وجہ سے ایران نے پاکستان کو خبردار کیا ہے اور حتمی نوٹس جاری کیا ہے۔

    ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر ان کیمرا اجلاس میں بریفنگ دیں گے،مصدق ملک
    وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر ان کیمرا اجلاس میں بریفنگ دیں گے،سینٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس ہوا،قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ ملک میں گیس کی دستیابی کی کمی 1.7 فیصد سالانہ ہے، ملکی گیس کی پیداوار 3 ارب مکعب فٹ ہے، اس میں سے 1400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کھاد سیکٹر کو دی جا رہی ہے، گھریلو صارفین کو 1600 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جا رہی ہے، کوشش ہے کہ ملک میں تیل و گیس کی تلاش کا کام تیز کیا جائے، ہمارے پاس ایل این جی کافی زیادہ دستیاب ہے، آج کل کیپیسٹی کی بہت باتیں ہو رہی ہیں، جب حکومت ہی خریدار ہو تو سرمایہ کار حکومت سے ضمانت مانگتا ہے

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا ہے کہ وزارتِ خارجہ پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق امریکی حکام سے بات کر کے فوری طور پر ایرانی قیادت کے تحفظات دور کرے،راجہ پرویز اشرف نے گیس پائپ لائن معاملے پر ایران کے عالمی ثالثی عدالت جانے کے بیان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے پاکستان توانائی بحران سے نکل سکتا ہے، صدر آصف علی زرداری نے اپنے سابق دور میں اس پراجیکٹ کی بنیاد رکھی تھی، صدرِ مملکت اس حوالے سے وزارتِ خارجہ اور توانائی کے حکام سے رپورٹ طلب کریں۔

    وزیر پیٹرولیم مصدق ملک کا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کا مطالبہ

    پاک ایران پائپ لائن گیس منصوبہ کی فوری تکمیل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں،محمد عدیل بھٹہ

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع کردیا. محمد علی

    ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کھٹائی میں پڑ گئی

    حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

  • ملک گیر ہڑتال کی کال،مولانا فضل الرحمان،اے این پی کا حمایت کا اعلان

    ملک گیر ہڑتال کی کال،مولانا فضل الرحمان،اے این پی کا حمایت کا اعلان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 28 اگست کو تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ تاجروں کی کل ملک بھر میں ہونے والی ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہیں ، مہنگائی اور ناجائز ٹیکسز نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، آئی ایم ایف کے حکم پر بنے بجٹ نے عوام کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے ،مولانا فضل الرحمان نے پارٹی کارکنان کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے کارکن پرامن ہڑتال کو کامیاب بنائیں ، ملک بھر میں جے یو آئی بزنس فورمز اس ہڑتال میں بھر پور حصہ لیں۔

    عوامی نیشنل پارٹی نے بھی تاجر برادری کے ملک گیر ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا، اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کی مشکلات سے عاری ہے، انکی ترجیحات کچھ اور ہیں، ملک عملی طور پر آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی مرضی سے چلایا جارہا ہے،

    واضح رہے کہ جماعت اسلامی،مرکزی تنظیم تاجران اور آل پاکستان انجمن تاجران نے تاجر دوست اسکیم اور ٹیکسز کے خلاف 28 اگست کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے، کاشف چوہدری اور اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ نام نہاد تاجر دوست اسکیم ناقابل عمل ہونے کے باعث مسترد کرتے ہیں لہٰذا تاجر دشمن اسکیم کو فی الفور واپس لیا جائے اور دالوں، آٹے سمیت تمام اشیاء پر لگایا گیا ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جائے

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی اور ناروا ٹیکسز کے خلاف کل 28 اگست کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو گی، تاجر، صنعت کار اور عوام اس ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت تک مؤثر پیغام پہنچے کہ اب عوام آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کا مزید بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔

    ا میر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ لاہور سمیت ملک بھر میں 28 اگست کو مکمل شٹر ڈاؤن کامیاب ہڑتال ہو گی۔ تاجروں پر 45 فیصد انکم ٹیکس، 5.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذاور گھریلو و کمرشل کنکشنز پر بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ حکومتی بے حسی اور سراسر ظلم ہے۔ حکومت کی ان عوام دشمن پالیسیوں سے ہر شخص معاشی بدحالی کا شکار ہوچکا ہے اور سراپا احتجاج بن چکا ہے۔ حکومتی ہڑتال کے حوالے سے پارٹیوں کے نام نہاد تاجر راہنماؤں کی دھونس دھمکیاں نہیں چلنے دی جائے گی- جماعت اسلامی عوام کے ریلیف کیلئے ہڑتال کرنے جارہی ہے جس میں ہر شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف اور تاجروں و تنخواہ دار طبقے کے مسائل کو حل کروا کردم لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی مہنگی بجلی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف 28 اگست کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاریاں کے حوالے سے شاہ عالم مارکیٹ،شاہ عالم مارکیٹ، مال روڈ، ہال روڈ، انارکلی، اچھرہ، شادمان، گلبرگ، لوہاری، بھاٹی، مسلم ٹاؤن سمیت دیگر تاجررہنماؤں اور دوکانداروں سے ملاقاتیں کرتے ہوئے کیا۔تاجررہنماؤں اور دوکانداروں نے جماعت اسلامی کی مہنگی بجلی کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال پرمکمل حمایت کا اعلان کیااورحکومت کیساتھ بجلی کے بھاری بلوں اور ہولڈنگ، انکم ٹیکسزپر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    خیبر سے کراچی تک شہر شہر ، گاؤں گاؤں، شٹر ڈاون ہوگا،کاشف چوہدری
    صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ تاجروں کی ہونے والی ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال کی تمام تیاریاں مکمل،خیبر سے کراچی تک شہر شہر ، گاوں گائوں شٹر ڈاون ہوگا، ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگی حکومت نے شٹر ڈائون ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے ایڑھی چوٹی کا رو ز لگایا لیکن منہ کی کھانی پڑی حکومت نے مسائل کے حل کے بجائے ہر ضلع میں انتظامیہ کے ذریعے دباو ڈالنے کی کوشش کی لیکن مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرنے والے تاجر خوف کی سیاست کو پروان چڑھانے والوں کے دباومیں نہیں آئے اور نہ ان کا خوف تاجروں کو ڈرا سکا،انتظامی مشینری کے استعمال میں ناکامی کے بعد برسر اقتدار جماعت کے پارلیمیٹرین بھی تاجروں پر دباو ڈالنے لگے اور ہر حلقے میں ان کے اراکین پارلیمنٹ اور وزراء تاجروں کو دباو میں لانے کیلئے کوشاں رہیں مجھے اپنے تاجروں پر فخر ہے کہ وہ دباوکو خاطر میں نہ لائے میرا تاجر کسی کے دباو میں نہیں آئیگامطالبات کی منظوری تک کوئی مذاکرات نہیں ہونگے اور کامیاب ملک گیر کامیاب شٹر ڈاون ہڑتال عوامی ریفرنڈم ہوگا۔تاجروں کی شٹر ڈائون ہڑتال کو عوام کی بھرپور تائیدحاصل ہے ہم تاجروں کے ساتھ ساتھ قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔ شام تک تاجر دوست سکیم کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا اور بجلی کے بلوں میں تیرہ قسم کے ٹیکسز ختم نہ کیے گئے تو تاجر غیر معینہ مدت تک شٹر ڈائون کریں گے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو چاروں صوبوں کے دوروں اور تاجروں کے مشاورت کے بعد تاجر رہنمائوں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجروں کے اتحاد و اتفاق سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اسی لئے دھونس ، دباو اور خوف کی سیاست سے تاجروں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم کسی دباو میں نہیں آئیں گے ، شٹر ڈاون ہڑتال تجارت اور معیشت بچانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی،شٹر ڈائون ہڑتال تاجر دوست سکیم کے خاتمے اور بجلی و گیس کے بلوں میں ٹیکسز کے خلاف ہے ،آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی نہ ہوئی تو ہڑتال جاری رہے گی شٹر ڈاون ہڑتال عام کے غیض و غضب کا اظہار ہے ، کاشف چوہدری نے کہا کہ عوام ، تاجر اور صنعت کار قربانیاں دے دے کر تھک چکے ہیں اب جن کی ٹینکوں سے اربوں روپے نکلتے انہیں قربانی دینا ہوگی ،و لانچوں کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجواتے اب قربانی کا وقت ان کا ہے دبئی لیکس میں جن جرنیلوں ، بیوروکریٹس ، ججز ، اشرافیہ کے نام آئے انہیں قربانی دینا ہوگی ، جنہوں نے لندن سے پیر س تک محلات بنائے ان کی قربانی کا وقت آگیا جن کے نام دبئی لیکس یا کسی اور لیکس میں آئے ان میں خواہ ججز ، بیوروکریٹس کو قربانی دینا ہوگی ان کی جائیدادیں ضبط کر کے قرض اتارنا ہوگا ، کاشف چوہدری نے کہا کہ عوام ان کی عیاشیوں کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے ،پاکستان میں بچے کے پیدائش کے وقت استعمال ہونے والے سامان سے لیکر موت کے وقت کفن کے کپڑے تک کا عوام ٹیکس دے رہے ہیں یہ حکمران عوام سے اور کتنا ٹیکس لیں گے ، عوام ٹیکسز کا بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتے۔کاشف چوہدری نے کہا کہ دھوکے پر مبنی تاجر دوست سکیم کسی صور ت قابل قبول نہیں ہے تاجر بچوں کی فیس نہیں دے سکتے ، کنبے کا علاج نہیں کرا سکتے زائد ٹیکس کیسے دے انہوںنے کہا کہ حکمران ملک اور معیشت نہیں چلا سکتے تو تاجر اور صنعت کار معیشت کو درست کرنے کو تیار ہیں ہم ملکی معیشت کوٹھیک کرنے کا بیڑہ اٹھانے کو تیار ہیں ۔کاشف چوہدری نے کہا کہ حکومت کے ٹاوٹ ، حکومتی مراعات حاصل کرنے والا نام نہاد مافیا تاجر نہیں ،حکومتی مراعات استعمال کرنے والے اور خود کو تاجر کہنے والے مذاکرات کا شوشہ چھوڑ رہے جس میں کوئی صداقت نہیں ۔قوم مسیحا کی منتظر ہے ، تاجر قوم کے درد کی آواز بنا 28اگست تک مطالبات نہ مانے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ، کاشف چوہدری نے بتایا کہ تاجر دوست اسکیم پر گزشتہ ڈیرہ مہینہ جاری رھنے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد 12 اگست کو ملک گیر شٹرڈاون ھڑتال کا اعلان کیا ۔کٹھ پتلیوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے ھڑتال سے ایک دن قبل ایف بی آر کے مذاکرات کیلئے بلانے پر تاجر قائدین وقت کا ضیاع نہیں کر سکتے ۔حکومت سنجیدہ ہے تو تاجر دوست اسکیم کی واپسی اور بلوں پر لگائے گئے ٹیکسز ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے یہ مطالبات پورے ہوتے ہیں تو پھر چارٹر آف ڈیمانڈ کے دیگر نکات پر مذاکرات کرنے پر غور کر سکتے ہیں تاجر دوست اسکیم میں لگائے ٹیکس کو ریویو کرنے کا اختیار چیف کمشنرز کو دینے کی تجویز کو نہیں مانتے ،ماھانہ کی بجائے سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس ٹیکس جمع کروانے کی تجویز بھی ناقابل قبول ھے ۔حکومت کی طفل تسلیاں اور جھوٹے وعدے تاجروں کو ھڑتال سے پیچھے نہیں ھٹا سکتے ۔28اگست کو ملک کے تمام چھوٹے ،بڑے شہروں اور دیہاتوں میں بھی کاروبار مکمل بند رھیں گے ۔ تاجر اپنے کاروباروں کو بچانے ،صنعتوں کو چلانے اور معیشت کے تحفظ کیلئے مکمل ھڑتال کریں گے اور عوام نے اس ہڑتال کی حمایت کی ہے ۔اس موقع پر دیگر تاجر رہنماوں نے بھی خطاب کیا ۔

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • چینی پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

    چینی پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

    چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے گراؤنڈ فورسز کے کمانڈر جنرل لی کیاومنگ نے وزیر دفاع و دفاعی پیداوار خواجہ محمد آصف سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
    وزیر دفاع نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے جس کی بنیاد علاقائی اور عالمی مسائل پر ہم آہنگی ہے۔ وفاقی وزیر نے تمام شعبوں میں پاک چین تعلقات کی طویل تاریخ کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہیں اور کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔وزیر نے موجودہ دوطرفہ میکانزم جیسے اسٹریٹجک ڈائیلاگ، قونصلر مشاورت اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مشاورت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان علاقائی اور عالمی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین کی سفارتی اور مادی حمایت کو سراہتا ہے۔

    خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاک چین سیکیورٹی تعاون علاقائی استحکام کا ستون ہے۔ سی پیک کے بڑھتے ہوئے خطرات، آمد کے درمیان سیکورٹی،انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے خطے میں استحکام اور امن کے لیے پرعزم ہے۔ پرامن افغانستان پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔معزز مہمان نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کی کوششوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔دونوں اطراف نے اپنی مسلح افواج کے درمیان مضبوط تعلقات کو تسلیم کیا اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم کیا۔

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

  • بھارتی وزیراعظم کے طیارے کا پاکستانی فضائی حدود کا استعمال

    بھارتی وزیراعظم کے طیارے کا پاکستانی فضائی حدود کا استعمال

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت واپسی پر پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی ہے
    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم مودی کا جہاز پولینڈ سے واپس بھارت جاتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود سے گزر کر گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی کے جہاز نے 45 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی ،مودی کا طیارہ چترال سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا،اور پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی فضائی حدود سے ہوتا ہوا بھارت امرتسر واپس گیا،طیارہ 21 اگست کو پاکستانی حدود سے گزرا.

    بھارتی وزیراعظم کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی، اس بارے ابھی تک کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی،

    قبل ازیں اکتوبر 2021 میں بھی بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود سے گزر ا تھا، مودی کا جہاز پاکستانی فضائی حدود سے گزر کر اٹلی گیا تھا، متعلقہ اتھارٹی نے بھارتی وزیر اعظم کے طیارے کو فضائی حدود سے گزرنے کے اجازت دی تھی، نریندر مودی کا طیارہ بوئنگ 777،تھری ہنڈرڈ ای آر،کے 7066 بہاولپور کی فضائی حدود سے پاکستانی فصائی حدود سے پاکستانی ایئر سپیس میں داخل ہوا تھا اور تربت اور پنجگور کی فضائی حدود سے گزر کر پاکستانی ایئرسپیس سے باہر نکل گیا تھا.

  • پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا ہے،
    وزارتِ صحت نے پاکستان میں منکی پاکس کے تیسرے کیس کی تصدیق کر دی ،وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پشاور سے ایم پاکس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے، یہ رواں سال کا تیسرا کیس ہے، جبکہ گزشتہ 2 سال میں اب تک منکی پاکس کے کُل 12 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، حالیہ کیس میں پشاور سے تعلق رکھنے والے شخص میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ سے وطن واپس آیا تھا،ترجمان وزارت صحت کے مطابق پشاور ایئرپورٹ پر ہیلتھ ڈیسک نے بروقت ہسپتال منتقل کیا ،جس کا ایم۔پاکس ٹیسٹ مثبت آیا ہے،وزارت صحت صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کو یقینی بنارہی ہے،

    کوارڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ کا کہنا ہے کہ تمام ایئرپورٹس پر سکریننگ اور سرویلنس کا موثر نظام موجود ھے ،بارڈر ہیلتھ کا عملہ ایئرپورٹس اور انٹریز پوائنٹس پر مستعدی سے کام کر رہا ہے ،عوام کو وباؤں سے محفوظ رکھنے کیلیے سنجیدہ اقدامات کو یقینی بنارھے ہیں،

    منکی پاکس ایک متعدی مرض ہے جو متاثر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے ،لیکن گھبرانے کی بات نہیں بس احتیاط کی ضرورت ہے ،ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھیں ،صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں ،ماسک کا استعمال کریں ،متاثرہ مریض سے سماجی فاصلہ رکھیں،صحتِ مند لوگوں سے الگ کر دیں تاکہ مرض دوسروں تک نہ پھیلے ،منکی پاکس کی صورت میں گھریلو ٹوٹکے نہ آزمائیں فوری قریبی ہسپتال سے رجوع کریں

    اوچ شریف :منکی پاکس کا اندیشہ،3بچے جاں بحق

    پاکستان میں اس سال منکی پاکس کا ایک،گزشتہ برس 10 مریض سامنے آئے تھے،ڈاکٹر مختار

    پاکستان میں منکی پاکس کے پہلے مریض کی تصدیق

    ترجمان وزارت قومی صحت کا کہنا تھا کہ ایم پاکس ایک نیا وائرس ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبرانے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگر کسی میں علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ایم پاکس کی علامات میں بخار، جسم پر دانے، سر درد، اور دیگر فلو جیسی علامات شامل ہیں۔ یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے، لہذا اس حوالے سے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت پاکستان اور وزارت قومی صحت ملک میں اس بیماری کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں

    منکی پاکس عالمی ایمرجنسی قرار،پاکستان بھی متحرک، اقدامات

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

    کانگو وائرس کے مریض کی موت

  • شہباز شریف کا بنگلہ دیش عبوری حکومت کے چیف ایڈوائرز محمد یونس کو خط

    شہباز شریف کا بنگلہ دیش عبوری حکومت کے چیف ایڈوائرز محمد یونس کو خط

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کو خط لکھا ہے

    پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ڈاکٹر محمد یونس کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ دو طرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں میں باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ "مجھے یقین ہے کہ ہمیں علاقائی تعاون کو بڑھانے کے لیے فعال طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جو جنوبی ایشیا کے لوگوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔”پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ایسے مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کو پورا کر سکیں۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں جو ہمارے دونوں لوگوں کے مفادات کو پورا کر سکیں اور ان کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لائیں”۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک برادر مسلم ملک اور جنوبی ایشیا میں شراکت دار کے طور پر بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو چکی، حسینہ واجد بھارت میں ہیں، طلبا تحریک کے مطالبے پر ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت بنائی گئی ہے.

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

    حسینہ واجد کی پسندیدہ بلی 40 ہزار میں فروخت

    امریکی دباؤ اور خونریزی کے خوف نے مستعفی ہونے پر مجبور کیا ، شیخ حسینہ واجد کا انکشاف

    پاکستان دشمن حسینہ کا بیٹا بھی عمران خان کی طرح” یوٹرن” ماسٹر نکلا

    میری ماں اب بھی بنگلہ دیش کی وزیراعظم ہے،حسینہ کے بیٹے کا دعویٰ

    حسینہ کی بھارت میں 30 ہزار کی شاپنگ،پیسے ختم ہو گئے

    در بدر کے ٹھوکرے: شیخ حسینہ واجد کی سیاسی سفر کا المناک انجام

    حسینہ کی حکومت کا بد ترین خاتمہ،مودی کی سفارتی سطح پر ایک اور بڑی ناکامی

    ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان

    بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب

    بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل

    حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری

    بنگلادیش کی سابق وزیراعظم پر سنگین الزامات: بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ درج

  • پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما،سینیٹر سحر کامران نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، دونوں ممالک تجارت، توانائی اور سفارت کاری جیسے شعبوں میں کثیر جہتی تعاون کے مواقع تلاش کر رہے ہیں

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ تجارت ہو، توانائی ہو یا سفارتی مصروفیات، پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات تمام جہتوں میں مضبوط ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک باہمی تعاون کے وسیع امکانات کے مالک ہیں۔ روس توانائی کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے، اور پاکستان اپنے تیل اور گیس کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،اسی طرح پاکستان روس کو علاقائی روابط اور تجارتی راہداری فراہم کر سکتا ہے۔

    سحر کامران، جنہوں نے حالیہ برسوں میں روس میں متعدد بین الاقوامی فورمز بشمول برکس، ایس سی او ویمن کانگریس، آئی پی یو اسمبلی اور دیگر میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے، نے نوٹ کیا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاک روس سفارتی تعلقات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے

    انہوں نے اسلام آباد میں روس کے سفیر البرٹ خوریف کی طرف سے یوم آزادی پر مبارکبادی خط کا حوالہ دیا، جو روسی سفیر نے سحر کامران کو لکھا تھا،سحر کامران کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ "روسی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ ان کی ثابت قدمی اور مسلسل ترقی بہترین مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ میں ہماری دو طرفہ مصروفیات میں آپ کے اہم اور تعمیری کردار کی تعریف کرتا ہوں۔”

    سحر کامران نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان کے یوم آزادی پر مبارکباد کے پیغام کے لیے پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر کا تہہ دل سے شکریہ؛ یہ ہماری مضبوط دوستی کو واضح کرتا ہے۔ مجھے مبارکباد کا ذاتی خط موصول ہونے اور دونوں ممالک کے لیے میری عاجزانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے بہت خوشی ہوئی۔ ماسکو میں پاکستانی پرچم کو روشن دیکھنا ہمارے گہرے تعلقات کی علامت ہے۔ایک ساتھ، ہم ایک خوشحال اور پرامن مستقبل کے لیے تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

    اپنی ایکس ٹائم لائن پر، سحر کامران نے پاکستان کے 78ویں یوم آزادی پر روسی سفیر کی جانب سے مبارکباد کے ویڈیو پیغام کا بھی جواب دیا، جس میں انہوں نے مختلف شعبوں میں گہرے تعاون کے امکانات پر زور دیتے ہوئے مضبوط دوطرفہ تعلقات کے لیے مسلسل کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔سفیر البرٹ خوریف نے اپنے پیغام میں کہا، "روس اور پاکستان پہلے ہی سالوں سے دوست رہے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے پہلے سے مضبوط اور نتیجہ خیز تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچتے ہوئے دیکھیں گے اور دونوں ممالک کو ترقی کی منازل طے کرنے میں مدد کریں گے۔ پاکستان ناقابل یقین حد تک باصلاحیت، محنتی، اور کھلے دل والے لوگوں کا گھر ہے۔

  • پاکستان نے تاجروں اور سیاحوں کے لیے ویزا میں نرمی کا اعلان کر دیا

    پاکستان نے تاجروں اور سیاحوں کے لیے ویزا میں نرمی کا اعلان کر دیا

    پاکستان نے تاجروں اور سیاحوں کے لیے ویزا میں نرمی کا اعلان کر دیا

    سیاحت اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اقدام میں، پاکستانی حکومت نے بین الاقوامی زائرین کے لیے ویزا میں نمایاں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزارت داخلہ نے تاجروں اور سیاحوں کو خصوصی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ 14 اگست تک 126 ممالک کے شہری ویزہ فیس ادا کیے بغیر پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، حکومت ویزا کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کر رہی ہے، جس سے زائرین کے لیے پاکستان کی سیر کرنا آسان ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی کلیئرنس کی مدت کو بھی 30 دن سے کم کر کے 15 دن کر دیا گیا ہے، جس سے بین الاقوامی مسافروں کے لیے عمل کو ہموار کیا گیا ہے۔ مزید برآں، وزارت داخلہ تاجروں اور سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، جس میں ویزا سیکشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے محنتی اور ایماندار افسران کا انتخاب شامل ہے۔

    توقع ہے کہ اس پیش رفت سے پاکستان کے سیاحت اور کاروباری شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جس سے ملک میں مزید بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے گا۔ حکومت کی کوششوں کا مقصد زائرین کے لیے مزید خوش آئند ماحول پیدا کرنا اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

    ویزا فری انٹری پالیسی میں شامل 126 ممالک یہ ہیں:

    1. افغانستان
    2. البانیہ
    3. الجزائر
    4. اندورا
    5. انگولا
    6. انٹیگوا اور باربوڈا
    7. ارجنٹائن
    8. آرمینیا
    9. آسٹریلیا
    10. آسٹریا
    11. آذربائیجان
    12. بہاماس
    13. بحرین
    14. بنگلہ دیش
    15. بارباڈوس
    16. بیلاروس
    17. بیلجیم
    18. بیلیز
    19. بینن
    20. بھوٹان
    21. بولیویا
    22. بوسنیا اور ہرزیگووینا
    23. بوٹسوانا
    24. برازیل
    25. برونائی
    26. بلغاریہ
    27. برکینا فاسو
    28. برونڈی
    29. کمبوڈیا
    30. کیمرون
    31. کینیڈا
    32. وسطی افریقی جمہوریہ
    33. چاڈ
    34. چلی
    35. چین
    36. کولمبیا
    37. کوموروس
    38. کانگو (Brazzaville)
    39. کانگو (کنشاسا)
    40. کوسٹا ریکا
    41. کوٹ ڈی آئیوری
    42. کروشیا
    43. کیوبا
    44. قبرص
    45. جمہوریہ چیک
    46. ​​ڈنمارک
    47. جبوتی
    48. ڈومینیکا
    49. ڈومینیکن ریپبلک
    50. ایکواڈور
    51. مصر
    52. ایل سلواڈور
    53. استوائی گنی
    54. اریٹیریا
    55. ایسٹونیا
    56. ایتھوپیا
    57. فجی
    58. فن لینڈ
    59. فرانس
    60. گبون
    61. گیمبیا
    62. جارجیا
    63. جرمنی
    64. گھانا
    65. یونان
    66. گریناڈا
    67. گوئٹے مالا
    68. گنی
    69. گنی بساؤ
    70. گیانا
    71. ہیٹی
    72. ہونڈوراس
    73. ہنگری
    74. آئس لینڈ
    75. ہندوستان
    76. انڈونیشیا
    77. ایران
    78. عراق
    79. آئرلینڈ
    80. اسرائیل
    81. اٹلی
    82. جمیکا
    83. جاپان
    84. اردن
    85. قازقستان
    86. کینیا
    87. کریباتی
    88. شمالی کوریا
    89. جنوبی کوریا
    90. کوسوو
    91. کویت
    92. کرغزستان
    93. لاؤس
    94. لٹویا
    95. لبنان
    96. لیسوتھو
    97. لائبیریا
    98. لیبیا
    99. لتھوانیا
    100. لکسمبرگ
    101. مقدونیہ (FYROM)
    102. مڈغاسکر
    103. ملاوی
    104. ملائیشیا
    105. مالدیپ
    106. مالی
    107. مالٹا
    108. مارشل جزائر
    109. موریطانیہ
    110. ماریشس
    111. میکسیکو
    112. مائیکرونیشیا
    113. مالڈووا
    114. موناکو
    115. منگولیا
    116. مونٹی نیگرو
    117. مراکش
    118. موزمبیق
    119. میانمار (برما)
    120. نمیبیا
    121. نورو
    122. نیپال
    123. نیدرلینڈز
    124. نیوزی لینڈ
    125. نکاراگوا
    126. ناروے

    مزید برآں، درج ذیل ممالک ہوائی اڈے کی آمد پر خصوصی 90 دن کے ویزا کی سہولت کے اہل ہیں:

    1. متحدہ عرب امارات
    2. بحرین
    3. سعودی عرب
    4. سلطنت عمان
    5. ریاست قطر
    6. ریاست کویت

    ویزا میں نرمی کا نظام سکھ برادری تک بھی شامل ہے، فیسوں اور شرائط میں معافی کے ساتھ۔ ای ویزا کی سہولت کے آغاز کے ساتھ، درخواست دہندگان اب آن لائن درخواست دے سکتے ہیں

    رپورٹ. زبیر قصوری،اسلام آباد