Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان ایران کشیدگی پر ترکی،روس،افغانستان کا ردعمل

    پاکستان ایران کشیدگی پر ترکی،روس،افغانستان کا ردعمل

    پاکستان ایران کشیدگی پر ترکی، روس اور افغانستان کا ردعمل سامنے آیا ہے

    افغانستان اور ترکیے نے ایران اور پاکستان دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ” پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ پُر تشدد واقعات خطرناک ہیں، طویل جنگوں کے بعد خطے میں امن واستحکام آیا ،پاکستان،ایران کو تنازعات سفارت کاری سے حل کرنے چاہئے”.

    فریقین مزید کشیدگی نہ بڑھائیں، جلد از جلد امن بحال کریں،ترکی
    ترکیے نے بھی دونوں ممالک سے تحمل اور عقلمندی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ،ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر بات کی ہے ایران اور پاکستان دونوں ہی خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے، ترکیے کی تجویز ہے کہ فریقین مزید کشیدگی نہ بڑھائیں، جلد از جلد امن بحال کریں،ترک وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام کی بنیاد پر مسائل کو حل کیا جانا چاہیے”.

    کشیدگی خطےکے امن و استحکام اور سلامتی میں دلچسپی نہ رکھنے والوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنےگی،روس
    روس نے بھی پاکستان اور ایران سے تحمل سےکام لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں مزیدکشیدگی خطےکے امن و استحکام اور سلامتی میں دلچسپی نہ رکھنے والوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنےگی،ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریا زخارروا کا کہنا تھا کہ ایس سی او کے دوست ممالک کے درمیان کشیدگی ہونا افسوسناک بات ہے، دونوں ممالک سے روس کے شراکتی تعلقات فروغ پا رہے ہیں.

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • ایرانی کاروائی سے اسرائیلی مظالم سے دنیاکی توجہ ہٹ گئی،جنرل (ر) عبدالقیوم

    ایرانی کاروائی سے اسرائیلی مظالم سے دنیاکی توجہ ہٹ گئی،جنرل (ر) عبدالقیوم

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رعبدالقیوم نے کہا ہے کہ بلوچستان کے صوبے میں پاکستانی سرحد کے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں کوہ سبز پر ایران کا میزائل اور ڈرون حملہ نہ صرف ایک جارحانہ عمل اور ہماری فضائی حدود اور بین الاقوامی قوانین کی بلااشتعال خلاف ورزی تھی بلکہ ایران کی جانب سے کی جانے والی ایک حیران کن سفارتی غلطی بھی تھی جس سے اسرائیلی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹ گئی۔

    پریس بریفنگ دیتے ہوئے جنرل ر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایک پڑوسی مسلمان اور دوست ملک کے اندر اس طرح کی سخت دشمنانہ کارروائی کرتے ہوئے، ایران نے نادانستہ طور پر پوری دنیا میں امریکی ڈرون حملوں کا جواز بھی پید ا کر دیا ہے جس میں عراق میں 2020 میں ہونے والے ڈرون حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پاکستان برسوں تک کلبھوشن یادیو کی ایران میں نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا لیکن اس کے ٹھکانے پر چھاپہ اسی وقت ہوا جب وہ پاکستانی علاقے میں تھا۔ افغانستان اور ایران دونوں میں ہماری مغربی سرحدوں سے متصل ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا تھا لیکن چونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی، اس لیے ایسا نہیں کیا گیا۔

    جنرل ر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایٹمی پاکستان کے پاس خطے میں سب سے مضبوط مسلح افواج موجود ہیں جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہیں جیسا کہ ہم نے اس وقت کیا تھا جب بھارت نے بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا۔ اس لیے ایرانی کے بدقسمت اور غیر متوقع جارحانہ اقدام پر ردعمل ظاہر کرنا ضروری ہو گیا۔ اس لیے پی اے ایف کو ایرانی صوبہ بلوچستان میں بی ایل اے کے تربیتی کیمپوں پر حملہ کرنے کے لیے درست ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا، تاہم ہم بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کرتے ہیں اور علاقائی یا بین الاقوامی امن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر تمام ممالک بھی ایسا ہی کریں گے . بین الاقوامی قانون کی بے حرمتی اور دیگر ممالک کی علاقائی حدود اور فضائی حدود کی خلاف ورزی سے انتشار پیدا ہوگا جس سے کمزور ممالک بہت زیادہ خطرے میں پڑ جائیں گے۔ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان حکومت اور مسلح افواج کے اس طرح کی دشمنانہ کارروائیوں کا فوری جواب دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔ ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ ان کے انقلاب کے بعد ایران کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا گیا لیکن پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا رہا۔ ایران کے ساتھ ہماری 900 کلومیٹر لمبی سرحد ہے جسے ہم دہشت گردی، منشیات اور اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے باہمی طور پر منظم کر رہے ہیں۔ ایران پہلا ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ ہم نے 1999 میں ایف ٹی اے پر دستخط کیے اور پاک ایران مشترکہ بزنس کونسل کا حصہ بنے۔ ہم نے بہت اطمینان کے ساتھ ایران سعودی عرب کے تعلقات کو سراہا اور ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑے رہے جس نے کشمیر کاز کی حمایت کی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کا موجودہ عمل ہمارے لیے افسوسناک ہے جسے سفارتی اور دو طرفہ طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چین کے شکر گزار ہیں جس نے تحمل کی سفارش کی اور ثالثی کی پیشکش بھی کی۔

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

  • پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو بڑا سرپرائز دیا ہے، پاکستانی افواج نے ایران کے اندر گھس کر کامیاب آپریشن کیا، متعدد دہشت گرد ہلاک ہو گئے، درجن کے قریب مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے پاکستان مخالف کاروائی کے پیچھے مقصد کیا ہو سکتا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہناتھا کہ پاکستانی افواج نے ایران پر حملہ کیا،ایران میں ایک سوگ کی صورتحال ہے، حملے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، پہلی بات یہ ہے کہ ایران نے جن قوتوں کے کہنے پر پاکستان کے خلاف کاروائی کی، ایران کو یقین یا وہم تھا کہ کہ شاید پاکستان مؤثر ردعمل نہیں دے سکتا کیونکہ نگران حکومت ہے، لیکن ایران یہ بھول گیا کہ پاکستا ن ایٹمی قوت ہے، پاکستانی افواج اور خفیہ ایجنسی نے دنیا کے بڑے تنازعات کے اندر اپنی طاقت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے،پاکستان کو امت مسلمہ کی مدد کی سزا کبھی نہیں دی جا سکتی، پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے کاروائی پر جہاں دنیا حیران تھی وہیں پاکستان میں دکھ اور غصے کی کیفیت تھی کہ کس طرح پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا، اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے، پاکستان ایران کو ہمسایہ، برادر ملک سمجھ کر ساتھ کھڑا رہا، ایران کے اس عمل سے امت مسلمہ کو نقصان پہنچا، ایرانی افواج پر حملے امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں لیکن ایران شام ،عراق اور پاکستان پرحملے کر رہا ہے، ایران نے اسرائیل میں کتنی کاروائیاں کیں، کوئی بھی نہیں ، کیوں؟ نہ ہی اسرائیل کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں کی،ایران نے اسرائیلی کاروائیوں کو جواز بنا کر مسلمان ممالک کے خلاف محاذ‌بنا لیا ،پاکستان اس پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ پاکستانی حملے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، اس آپریشن کا نام مرگ برسرمچار رکھا گیا، اس میں مارے جانے والے بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے، پاکستان کی ایران میں گھس کر کامیابی کاروائی پاکستانی سیکورٹی اداروں کا منہ بولتا ثبوت ہے، دوست ممالک چاہتے تھےکہ معاملہ آگے نہ بڑھے تاہم پاکستان میں لازم ہو چکا تھا کہ اسی زبان میں جواب دے،پاکستان نے کہا تھا کہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، پاکستان نے اپنا سفیر ملک واپس اور ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا، ایران نے یہ کاروائی کر کے مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، جو انتہائی دکھ کی بات ہے ایران کی پاکستان مخالف کاروائی دے امت مسلمہ سمیت پوری دنیا میں تشویش پائی گئی ہے.

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

  • بھارتی وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا،مولانا فضل الرحمان

    بھارتی وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ برادر پڑوسی ملک ایران اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ ،مضبوط ،گہرے ، تاریخی اور صدیوں پر محیط ہیں ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایران کو کوئی شکایت یا غلط فہمی تھی تو خود کاروائی کرنےکی بجائے پاکستان سے بات چیت کرنی چاہئے تھی ۔ ایران پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ایسی نہ تھی کہ ایران پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کی غیر معمولی کاروائی کرے۔ پاکستان کی جوابی کاروائی ہر چند کہ ایک طرح کا احتجاج نوٹ کرانا تھا تاہم دونوں ممالک مزید طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے رابطے اور گفتگو سےباہمی تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کریں اور تلخی میں مزید اضافے کو روکنے کیلئے پرامن اقدامات کریں۔صورتحال کو باہمی اعتماد سے کنٹرول نہ کیا گیا تو دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ کاروائی سے ایک دن قبل انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

  • ایران کو معافی مانگنی چاہئے، طاہر اشرفی

    ایران کو معافی مانگنی چاہئے، طاہر اشرفی

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ،چئیر مین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر اشرفی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران نے حملہ کیا،جس میں دو بچے اور دیگر افراد شہید ہوئے

    طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام اور حکومت کے لیے افسوسناک اور غم ناک لمحہ تھا ،ایران پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا ،پاکستان نے متعدد مرتبہ ایران کی حکومت کو آگاہ کیا بہت سارے مجرمین ایران میں موجود ہیں ،بی ایل اے لوگ ایران میں موجود ہیں کلبھوشن یادیو کا سب کو پتہ ہے لیکن پاکستان نے کبھی ایسے اقدام نہیں کیے ،پاکستان کی سالمیت کو کوئی چیلنج کرے گا تو پاکستان بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،گزشتہ رات پاکستان نے ایران میں بی ایل اے اور بی ایس ایف کے دہشت گردوں کا نشانہ بنایا ،غزہ فلسطین کی صورتحال سب کے سامنے ہے،اس صورتحال میں ایران کی طرف سے ایسے اقدام امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے،پاکستان ایک مضبوط دفاعی ملک ہے ،ایران کی حکومت کو اس بات پر پاکستان کی حکومت سے معافی مانگنی چاہیے۔

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

  • پاکستان اور دبئی کے درمیان   ریلوے، اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کا معاہدہ

    پاکستان اور دبئی کے درمیان ریلوے، اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کا معاہدہ

    وفاقی وزیر برائے مواصلات، ریلویز اور بحری امور جناب شاہد اشرف تارڑ اور چیئرمین پورٹس، کسٹمز اینڈ فری زون کارپوریشن سلطان احمد بن سلیم نے دو بین الاقوامی معاہدوں پر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم میں دستخط کئے۔ ان معاہدوں میں ریلوے، اقتصادی زونز اور انفراسٹرکچر میں تعاون کا معاہدے پر حکومتی فریم ورک کے معاہدے شامل ہیں ۔ معاہدے میں ایک وقف فریٹ کوریڈور، ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک اور فریٹ ٹرمینلز کی ترقی میں تعاون شامل ہے۔

    ڈی پی ورلڈ پاکستان کے معروف تجارتی گیٹ وے قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر انفراسٹرکچر کی بہتری کا کام کرے گا ۔ سمندری اور لاجسٹکس شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ٹرمینل کے قریب ایک اقتصادی زون بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس میں کراچی کے قریب ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور اکنامک زون کے ممکنہ قیام کو شامل کیا جائے گا۔ڈی پی ورلڈ دبئی حکومت کی جانب سے کام کرے گا جبکہ پاکستان ریلویز اور پورٹ قاسم اتھارٹی ان منصوبوں کی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کام کرے گی۔

    ریل پر مبنی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور بحیرہ عرب پر واقع کراچی بندرگاہ سے، پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی سے گزرتے ہوئے، تقریباً 50 کلومیٹر دور پپری مارشلنگ یارڈ تک کا منصوبہ ہے۔ اس سے کراچی میں ٹریفک کی بھیڑ میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں روڈ انفراسٹرٹکچر اور ٹرانسپورٹ کے اوقات میں بہتری آئے گی جبکہ لاجسٹک اخراجات میں ںمایاں کمی واقع ہو گی۔

    نیوی گیشن چینل کو ڈریج کرنے کے لیے پاکستان کی وزارت سمندری امور کے ساتھ دوسرے فریم ورک کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ڈی پی ورلڈ حکومت دبئی کی جانب سے کیپیٹل ڈریجنگ کرے گا۔ یہ فریم ورک معاہدہ پورٹ قاسم پر ایک اقتصادی زون کی ترقی کو بھی دیکھے گا، جس کا مقصد 3 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ ڈی پی ورلڈ، حکومت دبئی کی جانب سے، پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے مقصد کے ساتھ، اقتصادی زون کی ترقی کو انجام دے گا۔

    دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شاہد اشرف تارڑ نے کہا: "ڈی پی ورلڈ کی پاکستان میں طویل عرصے سے موجودگی کا نتیجہ دوطرفہ مفید ملاقاتوں کے بعد ان معاہدوں کی صورت حاصل ہوا ہے۔ غیر متزلزل اعتماد اور شراکت داری کی بنیاد پر دونوں برادر ممالک نے تاریخی منصوبوں کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرمایہ کاری کے فریم ورک کے معاہدوں پر دستخط ایشیا کے لیے گیٹ وے کے طور پر پاکستان کی اہمیت اور اس کے اسٹریٹجک مقام سے وابستہ تجارتی منافع کو نمایاں کرتا ہے۔دوسری طرف، سلطان احمد بن سلیم نے کہا: "پاکستان ایک بڑھتی ہوئی منڈی ہے، اور وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری ہے۔

  • ایران نے3ہمسایہ ممالک کی خودمختارسرحدوں کی خلاف ورزی کی،امریکا

    ایران نے3ہمسایہ ممالک کی خودمختارسرحدوں کی خلاف ورزی کی،امریکا

    اسلام آباد : ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو وطن واپس پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی:ایران کی جانب سے بلوچستان میں حملے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان نے ایران کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا تھا پاکستان کی جانب سے واپس بلائے جانے کے بعد ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایران میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنانے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    صدر عارف علوی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرےگا، پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کرےگا ،دہشتگردی مشترکہ چیلنج ہے جس کے خاتمے کیلئے عالمی کوششوں کی ضرورت ہے،پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے، اور دیگر ممالک سے بھی یہی توقع رکھتا ہےکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں، پاکستان اور ایران برادر ممالک ہیں، دونوں کو مسائل کو مذاکرات اور مشاورت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی آپریشن "مرگ بر سرمچار” انجام دینے پر پاک فوج کو مبارکباد

    صادق سنجرانی نے کہا کہ آپریشن مسلح افواج کی مثالی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے پاکستان امن پسند قوم ہے لیکن اس عزم کو کمزوری کی علامت نہ سمجھا جائے، آپریشن "مرگ بر سرمچار” کی کامیابی دشمن قوتوں کے لیے ایک پیغام ہے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پوری قوم پاکستانی مسلح افواج کی لگن اور بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔

    سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان آغا سید حسین مقدسی نے پاک ایران کشیدگی پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی: سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان آغا سید حسین مقدسی نے پاک ایران کشیدگی پر کہا ہے کہ ایران نے پاکستان پر جار حیت کر کے ملت واحدہ کے بخیے ادھیڑ دیئے ہیں ،پاک فوج کا ایرانی جارحیت کا جواب قومی امنگوں کا ترجمان ،دفاع وطن کے غیر متزلزل عزم کا اظہار اور قوم کے دل کی آواز ہے،قوم قومی سالمیت اور غیرتِ ملی کے لئے افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو میں آغا حسین مقدسی نے کہا کہ پاک ایران کشیدگی میں پاکستان نے ذمہ دار ایٹمی قوت کا مظاہرہ کیا ہے ایران خطِ خمینی سے انحراف نہ کرےمسلم ممالک کے اتحاد میں ہی نجات کا راز مضمر ہے، شیعیان پاکستان پاک وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ہمارا بچہ بچہ دفاع وطن میں قربانی کے ہر مرحلے پر صف اول کے سپاہیوں میں شامل ہوگا۔

    آغا حسین مقدسی نے کہا کہ ہمارا اوڑھنا بچھونا محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے سرزمین پاک کے ایک ایک انچ اور نظریہ اساسی کا تحفظ کرتے رہیں گے پاکستان کی خود مختاری کی پاسداری ایمانی فریضہ اور اٹل مؤقف ہے دراندازی کسی بھی سرحد سے ہو اس کی مذمت کرتے رہیں گے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے رہیں گے.

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمسایہ ملک سے رابطے جاری رکھیں گے-دفتر خارجہ میں بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ایران برادر ملک ہے اور ایرانی عوام کے لیے عزت و احترام کا جذبہ ہے، ہماری فوج نے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس میں دہشت گرد مارے گئے، پاکستان نے ثبوت کے ساتھ دہشت گردوں کی موجودگی کے ڈوزئیز شئیر کیے،پاکستان چند سال سے ایران کو بار بار دہشتگردوں کے بارے آگاہ کرتا رہا، پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا، کارروائیوں میں متعدد دہشتگرد مارے گئے، دہشتگرد ایران کے حکومتی عملداری سے باہرعلاقوں میں مقیم تھے۔

    ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ انتہائی پیچیدہ آپریشن کا کامیاب انعقاد بھی پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان میں اپنا تحفظ خود کرنے کی صلاحیت ہے، پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا،بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کو برقرار رکھتا ہے، ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی لعنت سمیت مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور تعاون پر زور دیا ہے، ابھی تک گزشتہ تین چار گھنٹوں میں ایرانی حکام کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    ترجمان نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایران سے رابطے جاری رکھیں گے، پاکستان کسی سے مخاصمت بڑھانے کا خواہشمند نہیں، پاکستا ن گذشتہ کئی ماہ سے ایران سے رابطے میں تھا، ایرانی حملوں کی پیشگی اطلاع پر ہمارا جواب ابسلیوٹلی ناٹ ہے، حملے ریاست ایران یا ایرانی فوج کیخلاف نہیں وہاں موجود دہشتگردوں کےخلاف تھے، پاک ایران کشیدہ صورتحال کے پیش نظر نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے دورہ ڈیووس مختصر کر کے وطن آنےکا فیصلہ کیا ہے، نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی جو کمپالہ یوگنڈا میں غیروابستہ تحریک کے اجلاس کیلئے موجود ہیں انہوں نے بھی بھی اپنا دورہ مختصر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کی ایران میں موجودگی کے حوالے سے ایران سے رابطے میں تھا ، آپریشن سرمچار ایران پر نہیں کیا گیا ایران میں موجود بی ایل اے اور بی ایل ایف پر کیا گیا ہے تاہم ایران نے یہاں حملے سے پہلے پاکستان سے کسی قسم کی کوئی تفصیل شئیر نہیں کی،پاکستان تمام دھمکیوں کے خلاف اپنا دفاع خود کرسکتا ہے، دو دن پہلے جو بھی ہوا پاکستان کے لیے بہت ہی حیران کن تھا، سرمچار آپریشن انٹیلیجینس بیسڈ آپریشن تھا۔

    فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پنجگور میں میزائل حملے کے جواب میں پاکستان کی جانب سے ایران کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانو ں پر میزائل فائر کیے جانے کے نتیجے میں ایرانی میڈیا کی جانب سے شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نےاعتراف کیا ہے کہ مارے گئے افراد ایرانی شہری نہیں تھے

    بی بی سی فارسی کے مطابق خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ایران کے سیستان و بلوچستان کے ڈپٹی سیکورٹی گورنر نے بتایا کہ سراوان میں ہونے والے دھماکوں میں 3 خواتین اور 4 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بھی 7 افراد کے مارے جانے کی خبر تھی تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مارے گئے افراد ایران کے شہری نہیں تھے،ارنا کے مطابق سیستان کے ڈپٹی گورنر جنرل علی رضا مرحمتی نے بتایا کہ حملہ ایرانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 5 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق 4 بجکر 35 منٹ) پر کیا گیا جس میں ایران کے سرحدی گاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایرانی سیکورٹی حکام کو حملے کا علم اس وقت ہوا جب کئی دھماکے سنے گئے ایک حملے میں متعدد دھماکے ہوئے اور سات افراد مارے گئے جب کہ ایک اور حملے بعد میں قریبی علاقے میں ہوا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے آج صبح اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ایران کیلئےجوابی کارروائی کا نام ’آپریشن مرگ برسرمچار‘ بتایا گیا ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے متعدد فوجی حملے کیے گئے ہیں اور کارروائی کے دوران متعدد متعدد دہشت گردمارے گئے دیگر اطلاعات کے مطابق پاکستان نے سروان کے علاقے میں میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا اور بی ایل ایف اور بی ایل اے کے دو کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور شہریوں کی فلاح سب سے مقدم ہیں سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے امن اور سیکیورٹی کے لئے موزوں ترین سفارتی اور عسکری اقدامات کئے ہیں،ہم اپنے دو ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں،ہم اپنا تحفظ کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں ،آپریشن مرگ بار سرمچار پر قوم اپنی بہادر افواج کو سلام پیش کرتی ہے-

    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایران سے تعلقات مزید خراب نہ ہوں اس لیے کشیدگی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران تنازع کے حل کیلئے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا تھا، ہمارے دور میں ایران کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات رہے، ہمیں کشیدگی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ایران سے تعلقات مزید خراب نہ ہوں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور ایران کو مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے، پاکستان اور ایران میں بلوچ علیحدگی پسند تحاریک چل رہی ہیں، پاکستان اور ایران کو ان تحاریک سے مشترکہ طورپر نمٹنے کی ضرورت ہے۔

    ایران کی جانب سے پاکستانی خودمختاری پر حملہ غیر متوقع تھا،شیری رحمان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور سابق سفیر شیری رحمان نے ایران کے بلوچستان پر حملے کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک ایران سرحد پر کئی سال سے اس قسم کے ایشوز ہوتے رہے ہیں ایران کو اگر کچھ خدشات تھے تو وہ پاکستان کو آگاہ کرتا، ایران کی جانب سے پاکستانی خودمختاری پر حملہ غیر متوقع تھا، پاکستان نے ایران کو کافی سوچ سمجھ کرجواب دیا ہے۔

    رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ دونوں ملک اس قسم کے تنازعات کو مزید بڑھنے نہ دیں کیونکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ پرانے روابط ہیں، دونوں ممالک کو آپس کے تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان اور ایران دونوں کو اب تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    پاکستان کا ردعمل اب ایسا ہونا چاہیے کہ آئندہ کوئی ایسا خیال ذہن میں نہ لائے،حنا ربانی

    پاکستان کی سابق وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے بلوچستان میں ایرانی حملے پر کہا ہے کہ ایسا حملہ ایران کی بوکھلاہٹ اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے، ایران دنیا میں پہلے ہی تنہا ہے اور پاکستان اس کی مدد کرتا ہے، یہ غیرمنطقی، غیرقانونی، غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز حملہ ایران کے اندرونی معاملات کی وجہ سے کیا گیا، جس کا پاکستان نے سخت سفارتی ردعمل دے دیا ہے، ریاستوں کے تعلقات میں فوری ردعمل نہیں دیا جاتا، پاکستان کا ردعمل اب ایسا ہونا چاہیے کہ آئندہ کوئی ایسا خیال ذہن میں نہ لائے۔

    سابق سفیر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان پر حملہ کرکے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا،سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہاہے کہ پاکستان نے ایران کو جواب دے کر ثابت کیا کہ ہم بھی ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

    آپریشن مرگ بر سرمچار سے متعلق نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان ایران سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں، پاکستان پر ایرانی حملے کے بعد سے عوام میں غم و غصہ تھا ایران نے حملہ کر کے پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا تھا۔

    سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی حکومت کا اب اعلیٰ سطح پر رابطہ ہونا چاہیے ایران کی جانب سے حملے کے بعد پاکستان نے صبر سے کام لیا ایرانی حکومت کو چاہیے تھا حملے کے 24 گھنٹے کے اندر صورت حال ڈیفیوز کرنے کے لیے کوئی بیان دیتی۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نےآج صبح ایران کے صوبے سیستان میں دہشت گردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کونشانا بنایا ہے پاکستان کی جانب سے اس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کو آپریشن مرگ بر، سرمچار کا نام دیا گیا ہے،سیستان میں انٹیلی جنس بیسڈ پاکستانی آپریشن میں متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق سنگین خدشات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے ہیں۔

    برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران یمن میں حوثیوں کی پشت پناہی بند کرے-

    برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ، برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران یمن میں حوثیوں کی پشت پناہی بند کرے، ایران کو حوثیوں کو ہتھیار اور انٹیلی جنس کی فراہمی بند کرنی چاہیےایران بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے ، حسین امیر عبداللہیان پر واضح کر دیا ہے کہ ایران علاقائی صورتِ حال کو لاپروائی کی کارروائی اور دوسروں کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کرنا بند کرے۔

    پاک ایران کشیدگی پر چین نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

    نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں کراچی میں چین کے قونصل جنرل یانگ یوڈونگ کا کہنا ہے کہ پاک ایران اختلافات بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہیں پاک ایران تعلقات پرامن طریقوں سے حل کیے جاسکتے ہیں، دونوں ملکوں سے کہتے ہیں تحمل کا مظاہرہ کریں اور تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی اقدار کے مطابق آگے بڑھائیں، چین اچھے دوست پاکستان و ایران کے درمیان اختلافات دور کرنے کیلئے تعمیری کردار ادا کرنےکیلئے تیار ہے۔

    ایران نے3ہمسایہ ممالک کی خودمختارسرحدوں کی خلاف ورزی کی،امریکا

    قبل ازیں ایران کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے3ہمسایہ ممالک کی خودمختارسرحدوں کی خلاف ورزی کی، وہ خطےمیں دہشتگردی کاسب سےبڑااسپانسرہےترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے ایران کو امریکی فوج کی عراق میں موجودگی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنےملک میں دہشت گردوں کےخلاف کارروائی کادعویدار ہے ہم دیکھ رہےہیں ایران جنوبی سرحدوں پرخلاف ورزی کررہاہے،ہم تنازع کوخطےمیں پھیلتا نہیں دیکھناچاہتے، ہم ایران کے حملے کی مذمت کرے ہیں، ایران خطے میں دہشت گردی کی فنڈنگ کی قیادت کرتا ہے، اس کی جانب سے پاکستان پر عائد الزامات حیرت انگیز ہیں۔

    برطانیہ کی جانب سے ایران کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی جب کہ چین نے پاکستان اور ایران سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے،برطانیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایرانی حملہ مکمل طورپرناقابل قبول ہے۔

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایران کی جانب سے ہونے والے حملے پر چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ایران اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین سے کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کرتے ہیں، امن و استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے دونوں ملک مل کر کام کریں۔

    پاکستان میں ایرانی حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے،برطانوی وزیرمملکت

    برطانوی وزیرمملکت برائےخارجہ لارڈ طارق احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ”ایکس“ پر ردعمل دیا، جسے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنرنے ری ٹویٹ بھی کیا کہا کہ پاکستان میں ایرانی حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، اس حوالے سے برطانیہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھےگا پاکستانی سرزمین پر حملے میں معصوم بچے مارے گئے، حملے میں پیاروں کو کھونے والوں کے لئےدعاگو ہیں۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پنجگور میں میزائل حملے کے جواب میں پاکستان نے ایران کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر میزائل فائر کیے ہیں ، اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بی ایل ایف اور بی ایل اے کے دو کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    جوابی حملے سے کچھ گھنٹے پہلے پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل لباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا تھا کہ پاکستان جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747797890280632594?s=20
    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر مارکور نامی ٹوئٹر ہینڈلر پر بتا یا گیا کہ پاکستان نے ایران میں موجود دہشت گرد BLA اور BLF کے ٹھکانوں کو بھرپور نشانہ بنایا ہے،پاکستان نے ایران کے اندر 7 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747804063163728336?s=20
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747821256341152212?s=20
    ایرانی اشتعال انگیزی پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا،سرحد سے 40-50 کلومیٹر بی ایل اے اور بی ایل ایف کے تین ٹھکانوں میں نصف درجن سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ہوائی جہاز، زمینی اثاثے، استعمال کیے جانے والے جدید ترین اہتھیار استعمال کئے گئے-
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747828527448346733?s=20
    تمام اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا،فوجی قیادت نے ہمارے آپریشن روم میں رہتے ہوئے دیکھا کوئی جانی نقصان نہیں، کوئی ایرانی شہری فوجی اہداف بشمول IRGC کو نشانہ نہیں بنایا گیا پاکستانی فوج تیار اور چوکس ہے ایران کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مزید اس طرح کی اشتعال انگیزی نہ دکھائیں-

    پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور ہم نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747819682634097042?s=20
    پاکستان نے ائیر فورس، راکٹس، ڈرونز، کلر ڈرونز، لائٹرنگ میونیشنز کا استعمال کیا-
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747806434543472706?s=20
    پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ چینی دوستوں کے مفادات مکمل طور پر محفوظ ہیں، اور انہیں کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اس لیے اہداف کا انتخاب احتیاط سے کیا گیا ہے، ایسے چینی یا ایرانی سول ملٹری اہداف سے سینکڑوں کلومیٹر دور۔
    https://x.com/MarkhorTweets/status/1747822506558517612?s=20

    واضح رہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی پر پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے اور ایرانی سفیر کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق پاکستان نے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو بھی ملک سے نکلنے کا حکم دیا ہے ایران کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ملاقاتیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں، ایران اور پاکستان کے درمیان سفارتی دوروں کو بھی روکا جارہا ہے پنجگور میں کیے گئے حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، پاکستان کی خود مختاری پر حملہ یواین چارٹر کی خلاف ورزی اور ایرانی جارحیت کا ثبوت ہے۔

  • پاکستان کا منہ توڑ جواب، ایران میں دہشتگردوں کے سات ٹھکانوں‌ پر حملہ

    پاکستان کا منہ توڑ جواب، ایران میں دہشتگردوں کے سات ٹھکانوں‌ پر حملہ

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    پاک فضائیہ حرکت میں آ گئی، ایران نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی تو پاکستان نے پہلے سفارتی تعلقات منقطع کئے ، پھر ایران پر جوابی وار کرتے ہوئے حملہ کرتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔

    ایران میں قائم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کا کہنا ہے کہ ایران میں اس کے کیمپوں کو پاکستان نے نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ایران میں پاکستانی فضائی حملوں میں بی ایل ایف کے کم از کم 20 عسکریت پسند ہلاک ہو ئے ہیں،پاکستان ائیر فورس نے ایران کے اندر سات مختلف مقامات پر دہشگردوں کی قیام گاہوں پر حملہ کیا ،بی ایل ایف اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا بہانہ بنا کر پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ہمارے دو بچے شہید کئے۔جواب میں پاکستان نے انٹرنیشنل قوانین کی روشنی میں بھرپور ردعمل کا حق استعمال کرتے ہوئے بڑے نپے تلے انداز میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر جہنم واصل کیا اور ایران پر واضح کیا کہ نشانہ چونکتا ہو تو نشانہ لگانا نہیں چاہئیے۔

    جواب میں ایرانی میڈیا اب بھی شیطانی چالیں چلتے ہوئے حملے سے متعلق مسلسل ڈس انفارمیشن پھیلا رہا ہے۔ ایرانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی حملے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ میڈیا پر تباہی کے مناظر کی کچھ ویڈیوز اور تصاویر بھی اپلوڈ کی گئی ہیں

    https://twitter.com/MarkhorTweets/status/1747806434543472706

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر مارخور نامی ٹوئٹر ہینڈلر پر بتا یا گیا کہ پاکستان نے ایران میں موجود دہشت گرد BLA اور BLF کے ٹھکانوں کو بھرپور نشانہ بنایا ہے،پاکستان نے ایران کے اندر 7 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔تمام اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا،فوجی قیادت نے ہمارے آپریشن روم میں رہتے ہوئے دیکھا ، کوئی ایرانی شہری فوجی اہداف بشمول IRGC کو نشانہ نہیں بنایا گیا پاکستانی فوج تیار اور چوکس ہے ایران کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مزید اس طرح کی اشتعال انگیزی نہ دکھائیں-

    پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    ایران نے حملہ کیا جس کی توقع نہیں تھی تا ہم پاکستان نے صبر کیا، ایران کو موقع دیا کہ وہ غلطی تسلیم کرے اور معافی مانگے، ایک دن انتظار کیا گیا تا ہم ایران نے معافی نہیں مانگی بلکہ ہٹ دھرمی جاری رکھی اور ایرانی وزرا نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے،حالانکہ ایران کو واضح طور پر معذرت کے ساتھ جواب دینا چاہیے تھا اور فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنا چاہیے تھا۔ تاہم ایرانی مغرور ہمارے زخموں پر نمک چھڑکتا رہا، برادر ملک ایران پر جوابی وار کرنا پاکستان کے لیے سیاسی اور فوجی فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن مزید کشیدگی سے بچنے کی ذمہ داری پوری طرح ایران پر عائد ہوتی ہے۔ مزید اشتعال انگیزی کی صورت میں پاکستان کے پاس اس کو مزید آگے لے جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ذمہ داری سے برتاؤ کریں، امت مسلمہ کو دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ہمیں اپنے آپ کو باہمی تصادم میں نہیں گھسیٹنا چاہیے جس میں بہت زیادہ لمبا ہونے کا امکان ہو۔

    ایران پر جوابی کاروائی، پاکستان نے آپریشن کا نام "مرگ بر،سرمچار” رکھا، ترجمان دفتر خارجہ
    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن مرگ بر، سرمچار پر پاکستان نے ایران کو جواب دے دیا ہے، پاکستان نے صبح ایران کے صوبے سیستان میں دہشت گردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانا بنایا، پاکستان کی جوابی کاروائی میں متعدد دہشت گر مارے گئے ہیں،ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق سنگین خدشات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے،دہشت گرد ایران کے حکومتی عمل داری سے محروم علاقوں میں مقیم تھے، انٹیلی جنس معلومات پر کیے جانے والے اس آپریشن کا نام مرگ بر،سرمچار رکھا گیا،کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کاغیر متزلزل عزم ہے

    پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا ،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج صبح پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف انتہائی مربوط اور خاص طور پر ہدفی فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کردیا، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے، گزشتہ کئی سالوں کے دوران، پاکستان نے ایران کے اندر غیر حکومتی جگہوں پر اپنے آپ کو سرمچار کہنے والے پاکستانی نژاد دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں اپنے سنگین تحفظات کا مسلسل اظہار کیا ہے,پاکستان نے ان دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد کے ساتھ متعدد ڈوزیئرز بھی شیئر کیے ہیں,تاہم ہمارے سنجیدہ تحفظات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے, آج صبح کی کارروائی ان نام نہاد سرمچاروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس کی روشنی میں کی گئی,یہ کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے, اس انتہائی پیچیدہ آپریشن کا کامیاب انعقاد بھی پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے, پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا ،پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے,
    آج کے عمل کا واحد مقصد پاکستان کی اپنی سلامتی اور قومی مفاد کا حصول تھا جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا,بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کو برقرار رکھتا ہے, اس میں رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری شامل ہے,ان اصولوں کی رہنمائی میں، اور بین الاقوامی قانون کے اندر اپنے جائز حقوق کو بروئے کار لاتے ہوئے، پاکستان کبھی بھی اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو کسی بھی بہانے یا حالات میں چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گا, ایران ایک برادر ملک ہے اور پاکستانی عوام ایرانی عوام کے لیے بہت عزت اور محبت رکھتے ہیں,ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی لعنت سمیت مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور تعاون پر زور دیا ہے, ہم مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے,

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ پاکستان نے ایران کی کاروائی کا بھرپور جواب دیا ہے۔ آج صبح تقریبا چھ بجے ایران کے اندر ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو تربیت یافتہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ پاک فضائیہ نے ایک ہی دن میں ایران کو انتہائی سخت اور موزوں جواب دیا ۔ ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو بیٹھ جائے، صبر کرے یا پھر جنگ کے لئے تیار رہے، انتخاب اب انہوں نے کرنا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایران جان لے کہ پاکستان نہ عراق ہے نہ شام۔ انہوں نے ہمارے امن کے اقدامات کو کمزوری کی علامت کے طور پر غلط شمار کیا۔ آج صبح پاکستان کی جانب سے جوابی کاروائی انہیں اٹھنے بیٹھنے اور سوچنے پر مجبور کر دے گا۔کل کے برعکس ارنا آج خاموش ہے،ان کی طرف سے ابھی تک کوئی خبر نہیں.

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

  • ایرانی دراندازی،ایران کے دورے پرموجود گورنر سندھ  بھی کراچی واپس پہنچ گئے

    ایرانی دراندازی،ایران کے دورے پرموجود گورنر سندھ بھی کراچی واپس پہنچ گئے

    کراچی:گورنر سندھ کامران ٹیسوری دورہ مختصر کرکے کراچی پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: ائیرپورٹ پر ذرائع و ابلاغ سے بات چیت میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ وہ چار روزہ دورے پر مشہد اور چاہ بہار گئے تھے لیکن جیسے ہی پنجگور واقعےکا پتہ چلا وہ دورہ مختصر کر کے واپس آگئے اس دورے میں 50 سے زائد بزنس مین بھی ایران گئے تھے،جب بھی پاک ایران تجارت کی بڑھانے کی بات ہوتی ہے کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے، ملکی سالمیت اور وقار کا جب معاملہ ہو تو پاکستان سب سے پہلے ہے، بہت سے بزنس مین چاہ بہار گئے تھے میں بھی ان کے ساتھ گیا، گورنر مشہد اور اسٹیٹ بینک ایران کےگورنر سے ملاقاتیں ہوئیں،میرا دورہ ختم کرکے واپس آنا احتجاج کی علامت ہےایران میں ہمارا قونصل خانہ کام کر رہا ہے، پاکستانیوں سے رابطے میں ہیں۔

    واضح رہے کہ ورنر سندھ کامران ٹیسوری چاہ بہار میں ہونے والی ایران ایکسپورٹ 2024 کے افتتاح کے لیےگئے تھے،گورنر سندھ کے ساتھ پاکستان میں ایران کے سفیر اور کراچی میں تعینات قونصل جنرل بھی گئے تھے،گورنر سندھ پیرکو 4 روزہ دورے پرگئے تھے۔

    قبل ازیں ایران کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی چابہار میں جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس ختم کردیا گیا چیف کلکٹرکسٹم آفتاب اقبال میمن کی قیادت میں پاکستانی وفد اجلاس چھوڑ کر واپس وطن پہنچ گیا اور وفد نے چا بہار فری زون فیسٹول میں شرکت سے معذرت کرلی،جبکہ 35 رکنی وفد میں ڈی سی گوادر اورنگزیب بادینی بھی شامل تھے،گوادر اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی وفد کا حصہ تھےاس حوالے سے ڈی سی گوادر اورنگ زیب بادینی کا کہنا تھاکہ اسلام آباد سے ہدایت ملنے کے بعد وفد وطن واپس آگیا۔

    قبل ازیَں پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے،وزارت خارجہ نے پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کی فون پربات کی تصدیق کی ہے،وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی یوگنڈا کے شہر کمپالا میں وابستہ تحریک کے وزارتی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں ذرائع دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایران کے وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان سےکارروائی پر اظہار تشویش کیا ہے۔

    ہمارا ہدف دہشتگرد تھے،پاکستانی شہری نہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو کہا کہ 16 جنوری کو ایران کی جانب سے پاکستانی حدود میں حملہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی روح کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دہشت گردی خطے کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے اور اس لعنت سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، یکطرفہ اقدامات سے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، خطے کے کسی بھی ملک کو اس خطرناک راستے پر نہیں چلنا چاہیئے۔

    قبل ازیں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ پاکستان دوست اور برادر ملک ہے اس کے کسی بھی شہری کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ نہیں بنایا گیا ہمارے ڈرونز کا ٹارگٹ ہمارا اسلامی ملک پاکستان ہرگز نہیں تھا، ہمارا ٹارگٹ پاکستان ایران بارڈر پر چھپے ایرانی دہشت گرد تھے، جن کا تعلق اسرائیل سے تھا پاکستان کی سلامتی کو ایران کی سلامتی سمجتھے ہیں، ایران کا ہدف صرف دہشت گرد تھے، ہم نے ”جیش العدل گروپ“ جو ایک ایرانی دہشت گرد گروپ ہے، کو نشانہ بنایا۔

    امیر عبدالہیان نے مزید کہا کہ پاکستان کی سرزمین“ پر ایران کا حملہ جیش العدل گروپ کے اسلامی جمہوریہ ایران پر حالیہ مہلک حملوں کا جواب تھا اس گروہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کچھ حصوں میں پناہ لے رکھی ہے، اس حوالے سے ہم نے اس معاملے پر پاکستانی حکام سے کئی بار بات کی ہے،ایران پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے لیکن ملک کی قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے یا اس کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    جوبائیڈن کی حمایت پر اسرائیل غزہ میں جارحیت کو طول دے رہا ہے،ممبر یورپی پارلیمنٹ

    واضح رہےکہ گزشتہ روز ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملےکیےگئے تھے ایرانی سرکاری ٹی وی کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیےگئے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی فضائی حدود میں ایرانی حملےکے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئی تھیں پاکستان نے جواب میں ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے اور ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنےکا اعلان کیا ہے،پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق پاکستان نے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو بھی ملک سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔

    دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست جاری

    ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ملاقاتیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں، ایران اور پاکستان کے درمیان سفارتی دوروں کو بھی روکا جارہا ہے پنجگور میں کیے گئے حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، پاکستان کی خود مختاری پر حملہ یواین چارٹر کی خلاف ورزی اور ایرانی جارحیت کا ثبوت ہے-

  • دسمبر میں پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ

    دسمبر میں پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ

    اسلام آباد: پاکستان کی ماہ دسمبر میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: نگران وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈاکٹر عمر سیف نے بتایاکہ دسمبر میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا، دسمبر میں آئی ٹی ایکسپورٹ 22.67 فیصد اضافے سے 303 ملین ڈالرز رہیں،50 فیصد ڈالرز رکھنے کی سہولت، ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم بنیادی عوامل ہیں، فری لانسرز کیلئے سہولیات آئی ٹی ایکسپورٹ بڑھنے کی بنیادی عوامل ہیں۔

    ڈاکٹر عمر سیف نے مزید کہاکہ آئی ٹی انڈسٹری کیلئے سہولیات پر وزیراعظم اور ایس آئی ایف سی کےشکرگزارہیں، ہماری پالیسیوں کا مقصدآئی ٹی وٹیلی کام سیکٹر کا فروغ اور معیشت کو استحکام دینا ہے، جلد بڑے نتائج آئیں گے، 10 ارب ڈالرز کا ہدف بھی پورا ہوگا، اصلاحات سے آنے والی حکومت کیلئے آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کا راستہ بنا دیا ہے۔

    نواز شریف نے پارٹی کے انتخابی بیانیے کی باقاعدہ منظوری دے دی

    جوبائیڈن کی حمایت پر اسرائیل غزہ میں جارحیت کو طول دے رہا ہے،ممبر یورپی پارلیمنٹ

    دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست جاری