Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان میں خشک سالی،26 جنوری کو نماز استسقا ادا کی جائیگی،طاہر اشرفی

    پاکستان میں خشک سالی،26 جنوری کو نماز استسقا ادا کی جائیگی،طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خشک سالی کے باعث مسائل کا سامنا ہے،26جنوری کو ملک بھر میں نماز استسقا ادا کی جائے گی.

    حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ بارش نہ ہونے کے باعث موسم کے منفی اثرات بڑھ گئے ہیں،پاکستان ایران ایشو پر قومی عسکری و سول قیادت نے اہم فیصلے کیے،قومی قیادت کے فیصلوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا، پاکستان اپنے دفاع کے اعتبار سے ایک مضبوط ملک ہے،اپنی سرحدوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،پاکستان نے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان روانہ کیا،ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے.

    حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مزدوروں، عام شہریوں اور پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے والوں کو جب ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو مسنگ پرسنز کا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، مسنگ پرسنز کے حوالے سے شور کرنے والوں سے سوال ہے کہ جو شرپسند ایران میں مارے گئے وہ وہاں کیمپوں میں کیا کر رہے تھے، پاکستان چاہتا ہے کہ ایران سمیت تمام پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں،ایران کی طرف سے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہ تھی،قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے،پاکستان ایران کشیدگی کے خاتمے کا فیصلہ خطہ کےممالک اورعوام کےمفاد میں ہے،

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

  • ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

    ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

    پاکستا ن پر ایران کے حالیہ حملہ ، جو اس نے علیحدگی پسند گروپ جیش العدل پر کیا، نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے اقدام کے پیچھے محرکات پر سوالیہ نشان چھوڑ اہے۔ ایران کا یہ حملہ عسکریت پسند تنظیم پر سٹریٹجک حملے کے بجائے علامتی دکھائی دیتا ہے،

    واقعات کا سلسلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے اور شام میں میزائل داغے۔ ایران کے جیش العدل پرحملے کے نتیجے میں کم از کم دو بچوں کی المناک موت واقع ہوئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے فوی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے.

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس پر ایران کا حملہ عالمی سطح پر بھی بات ہوئی، تجزیہ کار ان جارحانہ چالوں کی وجہ ایران کو درپیش بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں سید رازی موسوی کا حالیہ قتل، اس کے بعد ایران کے IRGC کے مرحوم سربراہ قاسم سلیمانی کی یادگار پر حاضری دینے والے سوگواروں پر تباہ کن حملہ، جس کا دعویٰ افغانستان کی ISIL نے کیا ، ہو سکتا ہے کہ ایران کو مزید حملوں کا خطرہ ہو، مزید برآں، جیش العدل کی جانب سے راسک پولیس اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، جس کے نتیجے میں 11 ایرانی سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے نے مزید تناؤ پیدا کر دیا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے ممکنہ انٹیلی جنس کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اپنی سرحدوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے بارے میں مسلسل شکایات کے باوجود، صورتحال سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حد تک نہیں بڑھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر ایران کے حملے کے روز ہی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بیک وقت مشترکہ بحری کارروائیاں کر رہے تھے۔

    جہاں ایران کے حملے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستان کا فوری ردعمل افغانستان کو ایک اشارہ دیتا ہے۔ چین کے دونوں ممالک میں مفادات کے ساتھ ہر طرح کے تصادم کا خطرہ قابل فہم نہیں لگتا۔ امید ہے عالمی برادری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے پہلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم

    پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم

    لاہور: پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔

    باغی ٹی وی: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ کے قریب بچے اسکول سے باہر ہیں پنجاب میں ایک کروڑ 11 لاکھ سے زائد جبکہ سندھ میں 70 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں،خیبر پختونخوا میں 36 لاکھ سےزائد اور بلوچستان میں 31 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جا رہے-

    اسلام آباد میں تقریباً 80 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اسکول جانے کی عمر کے 39 فیصد بچے اس وقت اسکول سے باہر ہیں 2016-17 میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 44 فیصد تھی، 22-2021 میں 39 فیصد بچے تعلیم سے محروم تھے، ہائر سیکنڈری سطح پر 22-2021ء میں 60 فیصد بچے اسکول سے باہر تھے۔

    پاکستان میں آسمانی بجلی گرنے کے مقام کی نشاندہی کیلئے آلات کی …

    پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں سردی کی شدید لہر اور دھند ،انتباہ جاری

    لاہور: حلقہ این اے 119 سے پی ٹی آئی رہنما مریم نواز کے حق …

  • پاکستان میں  آسمانی بجلی گرنے  کے مقام کی نشاندہی کیلئے  آلات کی تنصیب شروع

    پاکستان میں آسمانی بجلی گرنے کے مقام کی نشاندہی کیلئے آلات کی تنصیب شروع

    لاہور: پاکستان میں آسمانی بجلی گرنے کے مقام کی نشاندہی کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں جدیدترین آلات کی تنصیب شروع کردی گئی ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کا کہنا ہے ان آلات سے نہ صرف آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع بلکہ ہوا کی رفتار، بارش کی مقدار اور سیلاب سے متعلق بھی پیشگی اطلاع حاصل کی جا سکے گی، دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے اس سسٹم کی صلاحیت کافی محدود ہے تاہم کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے۔

    لاہورسمیت مختلف شہروں میں 25 لائٹنگ ڈیٹیکٹرز لگائے جارہے ہیں،آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع دینے والے 25 لائٹنگ ڈیٹیکٹرز چین کی طرف سے پاکستان کو تحفے کے طور پردیے گئے ہیں جن کی مالیت 10 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔

    ملک وقوم کی خدمت کی ایک نئی تاریخ رقم کرنی ہے،مریم نواز

    ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات مہر صاحب زاد خان نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ لائٹنگ ڈیٹیکٹرز پورے ملک میں نصب کر رہے ہیں ان ڈیٹیکٹرز کی تنصیب کے لیے اونچے ٹاور لگائے جارہے ہیں لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان آلات کی تنصیب کی جارہی ہے نئے آلات ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب قدرتی آفات کی بروقت نشاندہی کریں گے۔

    عدالت میں نیب کے گواہ کے بیان کے بعد ریفرنس بے بنیاد ثابت ہو گیا،پی …

    ’کے الیکٹرک‘ کو مزید لائسنس دینے پرعدالت جائیں گے،حافظ نعیم

  • سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ  آصف

    سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ آصف

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (شاہدریاض کی رپورٹ)خواجہ محمد آصف کا ن لیگ کے یوتھ ورکرزکنونشن سے مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر میں خطاب
    ،این اے 71میں دو لاکھ ووٹرز کا تعلق یوتھ سے ہے،آئندہ دنوں میں یوتھ اپنی قوت گلی محلوں میں دکھائے۔یونین کونسل کی سطح پر ووٹرز کو نوازشریف کو ووٹ دینے کا کہیں

    خواجہ محمدآصف نے کہاکہ اس شہر میں چارسالہ پی ٹی آئی دور میں ایک اینٹ نہیں لگی۔ن لیگ کے دور میں موٹروے تعلیمی ادارے میڈیکل کالج یونیورسٹی بنی .

    عمران خان نے صرف نعرے لگائے کوئی کام نہیں کیا،پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے،اس نے مجھ پر دعوی کیا جو کئی سال ایسے ہی پڑا رہا،عدالت میں جرح ہوئی اس دوران اس فراڈیے کی ٹانگ پر پلستر تھا،جرح میں یہ مان گیا کہ میرادفاع کاکیس بن گیاہے
    ۔اسکے سارے وکلاء کی موجودگی میں انہوں نے مجھ پر جرح کی تاریخ لی جو دوبارہ نہ آئی.

    عمران خان نے سوا دو ارب روپیہ شوکت خانم کا دوستوں کے کاروبار میں لگایا،گیارہ سال قبل میں نے کہا عمران خان چور ہے زکوٰاۃ کھاتا رہا
    اس شہر میں پورا ٹبر سرکاری کرسیوں پر بیٹھتا رہا ،کام کوئی بھی نہ کروایا،میرے خلاف انہوں نے درخواستیں دیں،مجھے انکی درخواستوں پر چھ ماہ قید کاٹنا پڑی میں بری ہوا

    انہوں نے مجھ پر آرٹیکل سکس کی کارروائی کی میں اس میں بھی بری ہوا ۔انہوں نے تھوڑی سی قید کاٹنے کےبعد جو کیاوہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے،انکی مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے

    اس شہر کے چھبیس فیصد لوگوں نے ووٹ کس کودینا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا۔یوتھ کے نمائندے ایسے لوگوں کے پاس جائیں۔پاکستان مسلم لیگ کا ووٹ نوازشریف کا ووٹ ہے،آپ نےووٹ نوازشریف کے نام پر مانگنا ہے کسی اور کے نام پر نہیں

    نوازشریف نے عمران خان کے جبر کامقابلہ کیا ہے۔تین بار نوازشریف وزیراعظم بنا،چوتھی بار بھی نوازشریف وزیراعظم بنے گا۔یوتھ اپنی صفوں میں اتحاد رکھے۔اللہ پاک ہمیں ہمت دے کہ آنیوالے وقت میں نوجوان نسل کو آگے لائیں

  • پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے،چینی نائب وزیر خارجہ

    پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے،چینی نائب وزیر خارجہ

    اسلام آباد:سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی اور پاکستان کے دورے پر موجود چینی نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ نے وزارت خارجہ کا دورہ کیا اور سی پیک لائبریری، منصوبوں کی تصویری نمائش کا افتتاح کیا۔

    باغی ٹی وی: وزارت خاجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر چینی نائب وزیر خاجہ نے کہا کہ چین خارجہ پالیسی میں پاکستان کو خصوصی اہمیت دیتا ہے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے، چین پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔
    https://x.com/ForeignOfficePk/status/1748757657744495054?s=20

    چینی نائب وزیر خاجہ نے کہا کہ قابل اعتماد دوست کی حیثیت سے چین اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے-

    نائب وزیر خارجہ سن کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاک چین دوستی کو پاکستان میں مکمل سیاسی، ادارہ جاتی اور عوامی حمایت حاصل ہے علاقائی امن اور استحکام کے لیے دوطرفہ دوستی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے تعاون کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کی تیاری کا اظہار کیا۔
    https://x.com/ForeignOfficePk/status/1748721413718991214?s=20
    واضح رہے کہ چین کے نائب وزیر خارجہ کل اسلام آباد میں ہونے والے بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری پر سی پیک کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے چوتھے اجلاس میں شرکت کے لی کل شام اسلام آباد پہنچے ، سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی چینی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

  • مارشل آرٹ کھلاڑیوں کی  جاپان ایونٹ میں شرکت کے لیے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے:حماد نذیر شینواری

    مارشل آرٹ کھلاڑیوں کی جاپان ایونٹ میں شرکت کے لیے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے:حماد نذیر شینواری

    لنڈی کوتل،باغی ٹی وی (نصیب شاہ شینواری )مارشل آرٹ کھلاڑیوں کی جاپان ایونٹ میں شرکت کے لیے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے:حماد نذیر شینواری

    کیوکشن کان کراٹے ضلع خیبر کے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے، اگلے مہینے جاپان میں ایونٹ ہے جس میں ہم پاکستان کی نمائندگی کریں گے، ایونٹ میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور بھرپور تعاون کی ضرورت ہے ،حماد نذیر شینواری

    لنڈی کوتل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیوکشن کان کراٹے خیبر پختونخوا ضلع خیبر کے سیکنڈ ڈان مارشل آرٹ کھلاڑی حماد نذیر شینواری، تحسین خان اور عرفان شینوای نے کہا کہ جاپان میں 23 فروری سے 25 تک بین الاقوامی کراٹے ایونٹ منعقد ہوگا جس کیلئے ہمیں باقاعدہ طور پر دعوت ملی ہے۔

    ان کا کہنا تھا اس بین الاقوامی سپورٹس ایونٹ میں ملک و قوم کا نام روشن کرینگے۔

    انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ایونٹ میں کھیلنا ضلع خیبر کیلئے اعزاز ہوگا لیکن افسوس کہ پہلے بھی فنڈ زکی عدم دستیابی سے کئی بین الاقوامی مقابلوں سے رہ گئے ہیں، ہم محکمہ سپورٹس خیبر پختونخوا و ضم اضلاع اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ایونٹ میں ہماری شرکت یقینی بنانے کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib

  • قومی سلامتی کمیٹی  اجلاس،ایرانی جارحیت کا جواب دینےپرمسلح افواج کو خراج تحسین

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،ایرانی جارحیت کا جواب دینےپرمسلح افواج کو خراج تحسین

    ایران کیساتھ کشیدہ صورتحال پر وزیراعظم انوار الحق کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت عسکری و سول قیادت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئی،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد ،سربراہ پاک فضائیہ ،پاک بحریہ،نگرن وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی،نگران وزیرخزانہ ڈاکٹرشمشاد اختر،سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری خارجہ ،انٹیلی جینس اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہیں،

    نگران وزیر خارجہ نے سفارتی محاذ اور اعلی عسکری حکام کی پاک ایران سرحدی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی،وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے قومی سلامتی کمیٹی کو آگاہ کیا۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی گفتگو میں تمام تنازعات کو سفارتی طور پرآگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی،اجلاس میں دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ، قومی سلامتی کمیٹی نے سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر اطمینان کااظہار کیا،اجلاس میں ایران کو دیئے گئے جواب پر بھی مکمل بریف کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی کو مقدم رکھا جائے گا، قومی سلامتی کمیٹی نے دفاع وطن کے لئے مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا،

    قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے کا اعادہ کیا، اجلاس میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہمارا جواب موثر اور اہداف کے حصول پر مبنی تھا، پاکستان ایک پرامن ملک ہے، تمام ہمسائیوں سے امن کیساتھ رہنا چاہتے ہیں،

    نگران وزیراعظم انوارالحق پاکستان نہیں تھے تاہم انہوں نے ایرانی حملے کے بعد دورہ مختصر کیا اور پاکستان پہنچے،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہو گا، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی،اسکے بعد پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہ,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ، ایرانی سفیر کو واپس بھیجا،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • کشیدگی کے بعد پاکستان اور ایران میں مثبت پیغامات کا تبادلہ

    ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بادل چھٹنے لگے، دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے کو مثبت پیغامات دے رہے ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے

    پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،پاکستانی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے حالیہ تناؤ ختم کرنے پر اتفاق کیا ، نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی قومی سلامی کمیٹی کو ایرانی ہم منصب سے بات چیت سے آگاہ کریں گے ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ملکی سلامتی و خودمختاری کا دفاع سب سے اہم ہے ،پاکستان کی سلامتی سےتعلق ریڈ لائینز واضح ہیں ، ایران پڑوسی اور برادر ملک ہے ، معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا

    قبل ازیں پاکستان اور ایرانی حکام کے مابین مثبت پیغامات کا یہ تبادلہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہوا ، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نےبھی پیغامات کے تبادلہ پر اپنا رد عمل دے دیا،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کچھ مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہیں،ایرانی سفارتکار اور ایڈیشنل سکریٹری امور خارجہ رسول موسوی نے پہلا پیغام بھیجا ، رسول موسوی نے کہا کہ تناؤ کا کا فائدہ دشمنوں اور دہشت گردوں کو ہوگا، دونوں ملکوں کی قیادت یہ بات جا نتی ہے،آج کا سب سے بڑا مسئلہ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم ہیں،

    ایڈیشنل سکریٹری رحیم حیات قریشی نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ "آپ کے مثبت جذبات کا جواب دیتا ہوں، بھائی رسول موسوی،پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، مثبت بات چیت کے ذریعے آگے بڑھیں گے ، دہشت گردی سمیت مشترکہ چیلنجرز کے کئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے".

    ٹویٹر پر مثبت پیغامات کے علاؤہ ایرانی حکومت اور وزیر خارجہ کی جانب سے ابھی مزید پیش رفت سامنے نہیں آئی

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔