Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات،قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات،قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئےاس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے بھی شرکت کی ملاقات میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ خطے کی بدلتی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا، شرکا نے معاشی، توانائی اور سیکیورٹی چیلنجز پر بھی مشاورت کی،اس موقع پر قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

  • اسحاق ڈار  کل دورے پر چین جائیں گے

    اسحاق ڈار کل دورے پر چین جائیں گے

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا اہم دورہ کریں گے-

    دفتر خارجہ کے مطابق محمد اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب (Wang Yi) کی دعوت پر اعلیٰ سطح ملاقاتیں کریں گے،پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تناظر میں اس دورے کے دوران علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسحاق ڈار کو حالیہ معمولی کندھے کی چوٹ کے باعث آرام کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود دورہ چین اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اپنی چین کے ساتھ شراکت داری کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

  • مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گےاجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا. تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی. ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے. عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا. پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے.

    اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں. اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتو ں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی. بریفنگ. وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویا ت کا وافر ذخیرہ موجود ہے،اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • صدر مملکت نے  خوراک کے ضیاع کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیا

    صدر مملکت نے خوراک کے ضیاع کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیا

    صدر آصف علی زرداری نے عالمی یومِ زیرو ویسٹ کے موقع پر اپنے پیغام میں خوراک کے ضیاع کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس میں کمی کو ہر سطح پر عملی ترجیح بنانے پر زور دیا ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ امسال عالمی یومِ زیرو ویسٹ کی توجہ خوراک کے ضیاع پر مرکوز ہے، جو عام شہری کی روزمرہ زندگی سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے منڈی تک پہنچنے سے پہلے خوراک کا خراب ہو جانا اور ناقص ذخیرہ کاری کے باعث فصلوں کا ضائع ہونا بڑے چیلنجز ہیں، جن پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے،تقریبات میں بچ جانے والی خوراک کو ضائع کرنا وسائل کا ضیاع ہے، کیونکہ خوراک کے ساتھ پانی، زمین اور توانائی بھی ضائع ہوتی ہے مزید برآں، لینڈفل میں جا نے والی خوراک ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی ہے اور اس کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے بھی ہے۔

    صدر زرداری نے کہا کہ ایک زرعی معیشت ہونے کے ناتے پاکستان کو بعد از برداشت نقصانات کم کرنے، بہتر کولڈ چین اور اسٹوریج سسٹم اپنانے کی ضرور ت ہے انہوں نے اضافی خوراک مستحق افراد تک پہنچانے، سرکاری اداروں کی جانب سے عملی مثال قائم کرنے اور کاروباری اداروں کو ذمہ دارانہ منصو بہ بندی اختیار کرنے پر زور دیا۔

    انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ گھریلو سطح پر محتاط خریداری اور درست ذخیرہ کاری کو یقینی بنائیں صدر مملکت کے مطابق خوراک کے ضیاع میں کمی ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس سے نہ صرف غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ ماحول پر دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

  • سعودی عرب  کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج سہ پہر 3 بجے اسلام آباد پہنچیں گے-

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا اہم دورہ کریں گے، جس کا مقصد خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کرنا ہے دفتر خارجہ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے جس میں معزز مہمان اہم ملاقاتیں کریں گے، وزیر خارجہ کے دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے علاوہ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔

  • سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی،انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں میری چاپلوسی کرنی پڑے گی، محمد بن سلمان سمجھتے تھےکہ ٹرمپ بھی دوسرے امریکی صدور کی طرح کوئی ناکام آدمی ہو گا جن کے دور میں ملک زوال کا شکار تھا ، اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا، ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے،بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ افسوسناک ہیں، ولی عہد بہادر ہیں، فیصلہ اور صبر کی صلاحیت رکھتے اور عالمی شازشوں کو سمجھتے ہیں، سعودی ولی عہد ایران پرحملہ کرنےکےحامی نہیں اور امن کےلیےکوشاں ہیں، امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکیے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں، امریکا اور صہیونی لابی اس لیے پروپگینڈا کر رہی ہےکہ وہ ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو رہے صہیونی میڈیا اور عالمی رہنما جتنا بھی چاہیں عرب دنیا اس جنگ میں نہیں آئےگی۔

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • ایران اور امریکا  کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر ایران غور کر رہا ہے-

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 15 نکات شیئر کیے ہیں، جن پر تہران غور کر رہا ہے،اس عمل میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب پیغامات کی ترسیل جاری ہے، مصر، ترکی اور دیگر مما لک بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اسحاق ڈار نے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سفارتی سطح پر پیشرفت جاری ہے، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے موجودہ صورتحال میں مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں امریکی اور ایرانی حکام سمیت دیگر عالمی شخصیات کو بھی مخاطب کیا، جن میں عباس عراقچی، مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکاف شامل ہیں۔

  • وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال  پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے،جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا-

    وزیراعظم اور صدر مملکت کی ملاقات ایوان صدر میں ہوئی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں ملکی سکیورٹی، معاشی صورتحال اور تونائی بحران پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جب کہ وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر صدرکو اعتماد میں لیا۔

    ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے خطے کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اپناکردار اداکرنے کو حاضر ہیں صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ دنیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار اداکرنے کے لیے تیار ہے۔

    علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں معیشت، توانائی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،جمعرات کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اجلاس میں شریک ہوئے،یئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ داخلہ محسن نقوی ، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی اجلاس میں شریک ہوئے،قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو ہر میدان میں مضبوط، خودمختار بنایا جائیں گا۔

  • پاکستان کی سفارتکاری:بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ، بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان کیخلاف نازیبا زبان

    پاکستان کی سفارتکاری:بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ، بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان کیخلاف نازیبا زبان

    مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار سے بھارتی حکمران تلملا اٹھے-

    آل پارٹیز اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی، جبکہ اپوزیشن نے حکومتی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں، اپوزیشن ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک ہے، جبکہ بھارت تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے-

    اجلاس میں اپوزیشن نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے،ایران اور امریکا جیسے بڑے ممالک پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، بھارت کی ’’وشو گرو‘‘ بننے کی دعویداری صرف بیانات تک محدود رہ گئی ہے،اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارت کا کردار محدود کیوں دکھائی دے رہا ہے۔

    اپوزیشن کے ان سوالات پر ڈاکٹر جے شنکر اپنا غصہ قابو میں نہ رکھ سکے پاکستان کا نام لیے بغیر جے شنکر نے کہا کہ بھارت کسی دوسرے ملک کے ایجنڈ ے کو آگے بڑھانے والا ’’ایجنٹ” یا ‘‘دلال ملک‘‘ نہیں بنے گا –