Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • موجودہ صورتحال میں حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی،عطا تارڑ

    موجودہ صورتحال میں حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں تیل کی قلت نہیں، پڑوسی ملک میں پیٹرول کیلئے قطاریں لگی ہیں،وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حکومت غریب آدمی اور کاشتکار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے-

    پریس کانفرنس میں عطا تارڑ نے کہا کہ مشرقی ہمسایہ ملک میں پیٹرول کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں اور پیٹرول دستیاب نہیں، خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت ہوگئی ہے موجودہ صورتحال میں حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی، وزیراعظم نے بروقت نوٹس لیا اس لیے پیٹرو ل کی قلت پیدا نہیں ہوئی، جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن متاثر ہونے کے باعث پیٹرول کی قیمتیں اوپر گئیں، پیٹرول کے استعمال میں ہم سب کو احتیاط کے ساتھ چلنا ہوگا۔

    عطاتارڑ کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے وزرا کی تنخواہیں کاٹیں، گاڑیاں کم کیں لیکن عوام کیلئے پیٹرول کی قلت نہ ہونے دی، چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت تمام قومی قیادت کو گزشتہ روز اکٹھا کیا گیا، قومی قیادت کو بتایا گیا کہ اب حکومت کیلئے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوگیا ہے اور مشاورت کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام واضح کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو سبسڈی ملنے سے عوام کو مزید ریلیف ملے گا، وزیراعظم نے کہا ہے کہ تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک عوام خود کو محفوظ محسوس نہ کریں، عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعظم روز وزرا سے کارکردگی کا پوچھتے ہیں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے ڈیجیٹل والٹ کا انتظام کیا جارہا ہے۔

    عطاتارڑ کا کہنا تھاکہ عوام کے تحفظ کیلئے دن رات کوشش کریں گے، ان مشکل حالات میں کہنا چاہتے ہیں کہ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، کوشش ہے کہ مشکل حالات میں عوام کیلئے سہولت پیدا کیا جائے، تیل کی قلت ہمارا مسئلہ نہیں، اس کی قیمت مستحکم رکھنا چیلنج تھا، تیل کی قیمتیں نہ بڑھانے سے لوگوں کی عید اچھی گزری۔

    وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھاکہ حکومت غریب آدمی اور کاشتکار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، بس مالکان کو اس شرط پر سبسڈی دی جا رہی ہے کہ کرا ئے نہیں بڑھائے جائیں گے اور مال بردار گاڑیوں کو اس لیے سبسڈی دی جا رہی ہے ، اشیائے ضروریہ مہنگی نہ ہوں، 129 ارب روپے ترقیاتی منصو بو ں سے کاٹ کر عوام کو دیے گئے، وزیراعظم نے مڈل کلاس کو ریلیف دینے کیلئے پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کی، عوام کو بھی پیٹرول کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔

  • متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بے بنیاد ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بے بنیاد ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق گمراہ کن تبصروں کو مسترد کر دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے یہ ذخائر دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا حصہ تھے اور یہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مضبوط حمایت کا مظہر ہیں،حکومت پاکستان طے شدہ شرائط کے مطابق مدت پوری ہونے پر ذخائر واپس کررہی ہے اور یہ ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے جسے غلط رنگ دینا گمراہ کن ہے۔

    پاکستان کامتحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس سودسمیت واپس کرنے کا فیصلہ

    دفترِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون جاری ہے،پاکستانی عوام پاک امارات دوستی کے قیام میں شیخ زاید بن سلطان النہیان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان، یو اے ای کے ساتھ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔

    مضبوط بحری قوت قومی خودمختاری کے تحفظ کا اہم ستون ہے،صدر مملکت

  • اسحاق ڈار کا  بحرین کے وزیر خارجہ سے رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کا بحرین کے وزیر خارجہ سے رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشید الزیانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا-

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشید الزیانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اسحاق ڈار نے کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیادونوں وزرائے خارجہ نے مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان-چین پانچ نکاتی امن اقدام پر بھی روشنی ڈالی۔

    بحرین کے وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور ڈائیلاگ کے فروغ میں اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا،دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیرالجہتی فورمز پر جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کی رقم میں 5000 روپے کا اضافے کا فیصلہ

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں 5000 روپے کا اضافے کا فیصلہ

    حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی رقم جنوری 2027 سے 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کر دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان پروگرام میں شامل ہوں گے، جس سے مجموعی طور پر مستفید گھرانوں کی تعداد 1 کروڑ 2 لاکھ تک پہنچ جائے گی آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر حکومت نے اپنی مالی پوزیشن کے مطابق صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بجٹ سے پسماندہ طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کریں۔

    ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوں گی، جبکہ گزشتہ ماہ تقریباً ساڑھے 3 ارب روپے اضافی لیوی اکٹھی کی گئی ملک بھر میں پٹرول کی کھپت تقریباً 24 فیصد بڑھ گئی کسانوں کو تحفظ دینے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کھاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نہیں لگائی جائے گی۔

    بی آئی ایس پی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جنوری 2027 سے پروگرام کے تحت ہر خاندان کو 19,500 روپے دیے جائیں گے، جبکہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان شامل کیے جائیں گے حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے گھرانوں کی تعداد بڑھتی رہے گی یہ اقدام پسماندہ طبقے کی مالی مدد اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

  • اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی مذمت

    اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی مذمت

    پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت سے متعلق قانون سازی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور خطرناک اقدام ہے،وزرائے خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں اور یہ پالیسی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے حالات پر شدید تشویش ہے اور قابل اعتماد رپورٹس کے مطابق ان کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین سلوک کے شواہد موجود ہیں، یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور ان سے خطے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی امتیازی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی مخالفت جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین میں صورتحال کے بگاڑ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے ایک خطرناک  رجحان کا حصہ ہیں،عاصم افتخار احمد

    اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں،عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے تحت خدمات انجام دینے والے 3 انڈونیشین اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ عالمی قانون، امن مشنز اور بین الاقوامی برادری کے اجتماعی امن کے عزم پر کاری ضرب ہے۔

    جنوبی لبنان میں 2 اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 2 روز کے دوران 3 انڈونیشین امن اہلکار جاں بحق ہوئے، خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب حزب اللہ نے مارچ کے آغاز میں اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد لبنان بھی تنازع کا حصہ بن گیا۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ امن دستوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکار غیر جانبدار ہوتے ہیں اور ان پر حملہ عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 600 سے زائد شہری ہلاک، 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر جبکہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے ایسے اقدامات لبنان کی حکومت کی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ امن اہلکاروں کی حفاظت میں ناکامی نہ صرف سلامتی کونسل بلکہ عالمی قانون اور امن مشنز کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے، لہٰذا ذمہ داران کا احتساب ناگزیر ہے،پاکستان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے کوئی الگ واقعات نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں، جسے معمول نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرنے والا ملک ہے اور اب تک 182 اہلکار فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، اس لیے پاکستان اس نقصان کے درد کو بخوبی سمجھتا ہے،پاکستان نے انڈونیشیا کی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی، آخر میں پاکستانی مندوب نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

  • پاکستان میں سونا مزید مہنگا

    پاکستان میں سونا مزید مہنگا

    پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2800 روپے کا اضافہ ہوگیا،ملک میں فی تولہ سونا 2800 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 78 ہزار 762 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 2401 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 10 ہزار 461 روپے کا ہو گیاہے،جبکہ عالمی بازار میں سونا 28 ڈالر اضافے کے بعد 44560 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا اور نئی قیمت 73 ڈالر فی اونس ہوگئی جب کہ مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی 260 روپے مہنگی ہوکر 7784 روپے اور فی 10 گرام چاندی 223 روپے بڑھ کر 6673 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال

    کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال

    کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے، جس سے ایئرلائنز کے لیے جیٹ فیول کی دستیابی یقینی ہو گئی ہے جس کے بعد ہوائی جہازوں کے کرا ئے بھی کم ہو جائیں گے-

    ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستانی آئل کارگو کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا ہے اور اب تک محدود تعداد میں کارگو گزر چکی ہیں، جبکہ مرحلہ وار تقریباً 20 ٹینکر آنے کا امکان ہے، کویت سے روزانہ کی بنیاد پر 1 سے 2 ٹینکر آئیں گے، کویت کے ساتھ موجودہ 50 سالہ سپلائی معاہدہ اب بھی فعال ہے، تاہم نیا معاہدہ نہیں ہوا پاکستان سعودی عرب سے ماہانہ 3 تا 5 اور یو اے ای سے 2 تا 4 کارگو تیل حاصل کرتا رہا ہے سپلائی کی بحالی سے بجلی، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کمی کے خدشات کم ہو جائیں گے اور عوامی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی، توانائی اور ایوی ایشن شعبے میں ضروری اصلاحات کے ساتھ قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان ہے۔

  • میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کیا پاکستان ثالثی کا کردار سنبھال سکتا ہے؟

    ایران، امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان پل پاکستان کی سفارتی آزمائش

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے، جہاں جاری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اس نازک صورتحال میں ایسے ممالک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو تنازعات کے حل میں مثبت اور متوازن کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان انہی ممالک میں سے ایک ہے، جس کے پاس نہ صرف سفارتی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے متوازن تعلقات ہیں۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سفارتی اور دفاعی روابط ہیں، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، ثقافتی رشتہ اور باہمی مفادات بھی اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو محض "میسنجر” یا پیغام رسانی تک محدود رکھنے کے بجائے ایک بااختیار ثالث کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم، ثالثی کا کردار صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عالمی اعتماد، غیر جانبداری اور داخلی استحکام بنیادی شرائط ہیں۔

    اگر پاکستان کو واقعی اس سطح پر کردار ادا کرنا ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل، داخلی سیاسی استحکام اور معاشی مضبوطی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور ایران، کا پاکستان پر اعتماد بھی ناگزیر ہے۔ یہاں اسلامی دنیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے اگر اسلامی ممالک پاکستان کو ایک ثالث کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کو سفارتی حمایت فراہم کی جائے اور اسے ایک نمائندہ کردار دیا جائے، تاکہ وہ مؤثر انداز میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کر سکے۔

    پاکستان کے اندر بھی یہ ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے وزارت خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر متعلقہ ادارے—ایک صفحے پر ہوں۔ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے بیک چینل ڈپلومیسی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جو ایسے حساس معاملات میں اکثر کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر وہ دانشمندی، توازن اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار سفارتی قوت کے طور پر اپنی پہچان بھی مضبوط کر سکتا ہے۔

  • وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم   اسحاق ڈار چین روانہ

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار چین روانہ

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے ہیں-

    وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے،پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جس میں علاقائی اور عالمی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ شامل ہے۔

    اس دورے کے دوران دونوں ممالک علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور میں باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گےوزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ کندھے کے معمولی فریکچر کے باوجود یہ دورہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، اور پاکستان اس دوران امن کے داعی کے طور پر سامنے آیا ہے، اور خطے میں قیام امن کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے، پاکستانی قیادت کی کاوشوں سے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزر ائے کی اہم بیٹھک ہوئی، جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے موضوع پر مفصل بات چیت ہوئی اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، جس کے دوران تمام فر یقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے جبکہ اگلا دور جلد شروع کیا جائے گا، جس میں دی گئی تجاویز پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائےگا۔

    دوسری جانب چین نے بھی تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں اور مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل نکالا جائے۔