Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کوئی بھی ریاست انتشار کو برداشت نہیں کر سکتی, وزیر اعظم

    کوئی بھی ریاست انتشار کو برداشت نہیں کر سکتی, وزیر اعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑنے لندن میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہ کوئی بھی ریاست انتشار کو برداشت نہیں کر سکتی اور نومئی کے واقعات منصوبہ بندی کے تحت ہوئے، ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں ہوں گی۔

    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہیں اور نگران حکومت آئین و قانون کے مطابق اپنا کام کررہی ہے ۔بھارت میں ہندوتوا کے تحت اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کی جا رہی ہے، بھارت خطے میں دہشتگردی کے فروغ کا باعث بنا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اگر بیلٹ پیپر پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نہ ہونے پر احتجاج ہوا تو بھی الیکشن جائز اور قانونی ہوگا۔
    ترک خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھاکہ یقین دلاتا ہوں انتخابی عمل مکمل صاف، شفاف اور آزادانہ ہوگا، انتخابی عمل میں انتظامی سطح پرکسی خاص گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کی جائے گی۔
    انہوں نے کہا کہ اگر بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی نہ ہونے پر احتجاج ہوا تو بھی الیکشن جائز اور قانونی ہوگا، پولنگ کے 8 گھنٹے میں احتجاج ہونے کی وجہ سے الیکشن کو غیر قانونی قرار نہیں
    دیا جاسکتا۔

    ان کا کہنا تھاکہ یہ صرف ایک قابل بحث نکتہ ہوتا ہے کہ الیکشن کس حد تک شفاف اور منصفانہ ہیں۔
    نگران وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی سربراہ امریکا پر سازش کے بیانیے سے خود ہی پیچھے ہٹ گئے، بعض اوقات سیاست دان عوامی حمایت حاصل کرنےکیلئے ایسا مؤقف اپنا لیتے ہیں۔

  • عمران خان بارے وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات

    عمران خان بارے وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا بیان’پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ممکن ہیں کو غلط سمجھا اور رپورٹ کیا گیا ہے۔
    گزشتہ ہفتے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ عمران اور ان کی پارٹی کے جیل ن بھیجے گئے رہنماؤں کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ممکن ہیں
    وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے وہ ’سیاسی عمل کو چلائیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔

    پی ٹی آئی نے وزیر اعظم عمران خان کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے بغیر انتخابات غیر آئینی اور غیر قانونی ہوں گے۔
    ایک دن پہلے جاری کردہ ایک بیان میں پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) نے بھی وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کے ریمارکس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے دعوؤں
    کو جمہوریت مخالف اور غیر معقول قرار دیا تھا۔


    کمیشن نے کہا تھا کہ وزیراعظم کو آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ان کا یا ان کی حکومت کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کہ منصفانہ انتخابات کیسے ہوں۔
    اب آج جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے صاف الفاظ میں یہ تجویز کیا کہ انتخابات میں حصہ لینا ایک حق ہے، لیکن جرائم
    پر سزا قانونی طور پر جائز ہے۔

    وزارت نے کہا کہ انٹرویو کو کچھ آؤٹ لیٹس نے توڑ مروڑ کر یہ تاثر دیا کہ کسی کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    حکومت نے وزیر اعظم کے انٹرویو کے متن کی طرف توجہ مبذول کرائی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم ذاتی انتقام کیلئے کسی کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے۔ لیکن ہاں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون مناسب ہو۔ کوئی بھی چاہے عمران خان ہو یا کوئی اور سیاستدان جو اپنے سیاسی رویے کے لحاظ سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے تو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم اسے سیاسی تفریق کے ساتھ تشبیہ نہیں دے سکتے۔

    وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی اور اس کے رہنما کسی بھی دوسری جماعت کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہیں۔ وزیراعظم کے بیان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی یا مجموعی طور پر پارٹی کے کسی بھی رہنما کے الیکشن لڑنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہے اور اس وقت قانونی الزامات کا سامنا کرنے والے کسی بھی فرد کے حوالے سے قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

  • جو ملکی حالات ایسے میں ایک نئی مؤثر جماعت بنے گی۔ خاقان عباسی

    جو ملکی حالات ایسے میں ایک نئی مؤثر جماعت بنے گی۔ خاقان عباسی


    سابق وزیراعظم شاہد خاقان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار تو کسی اور طریقے سے ملتا ہے‘ مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ نئی پارٹی کی ضرورت ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں آئندہ عام انتخابات جنوری میں کرائے جانے کا اعلان ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد سے سیاسی جماعتیں اور رہنما خاصے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ نئی پارٹی کی ضرورت ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آج جو ملک کے حالات ہیں ، اس میں ایک نئی اور مؤثر جماعت بنے گی۔ ایسی جماعت ہو جس کا مقصد واضح ہو کہ کیا اور کیسے کرنا ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ نئی پارٹی کا مقصد اگر اقتدار ہے تو پھر بات نہیں بنے گی ’اقتدار تو کسی اور طریقے سے ملتا ہے۔
    جبکہ رہنما ن لیگ نے مزید کہا کہ 35 سال سے ن لیگ کیساتھ ہوں آج میرے پاس لوگوں کے سوالات کا جواب نہیں ہے۔ ہم وہ فیصلے نہیں کر پائے جس کی ضرورت تھی۔ 16ماہ بہت ہوتے ہیں اصلاحات کا کوئی عمل شروع نہیں کیا، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ بڑی جماعتیں بیٹھ کر آگے کے راستے کا تعین کریں گی۔
    تاہم یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اشارہ دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ میں ن لیگ میں شامل ہوں، نئی جماعت بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں، تاہم ملک میں نئی سیاسی جماعت کی گنجائش موجود ہے۔
    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 2 بیانیوں کی گنجائش نہیں ہے، مختلف بیانیے سے ابہام پیدا ہوتا ہے، شہبازشریف کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے، شہبازشریف کی میڈیا سے دوری سے ابہام بڑھا ہے، شاہد خاقان نے مزید کہا کہ میں اقتدار اورعہدوں کا متلاشی نہیں، 3 سال میں ہر سیاسی جماعت اقتدار کا حصہ رہی ہے، 90 فیصد کاموں میں طاقتوں کو عمل دخل نہیں ہوتا، جو آپ کرسکتے ہیں وہ تو کریں۔ سرمایہ کاروں کو اعتماد دلایا جاسکتا ہے، یہ فیصلے خود کر لیتے تو ایس آئی ایف سی کی ضرورت نہ ہوتی لیگی رہنما نے کہا کہ ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا ہے، ملک میں جو کچھ ہوا، عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ تمام لیڈر محب وطن ہیں، ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں، تمام اسٹیک ہولڈرز آگے کے راستے کا تعین کریں، عوام کے مسائل کے حل کا ایجنڈا تیار کریں، الیکشن سے پہلے مستقبل کا ایجنڈا تیار ہونا چاہیے۔
    پی ڈی ایم حکومت کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 16ماہ طویل عرصہ ہوتا ہے، 16 ہفتے یا 16 گھنٹے میں بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن 16ماہ وہی کام ہوئے جو چیئرمین پی ٹی آئی کررہے تھے۔اگر جنرل باجوہ ریٹائرڈ رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے ۔۔ ان کے جانے کے بعد بھی آٹھ ماہ ملے، کچھ کام کر لیتے، وہ فیصلے نظر نہیں آئے جو ہونے چاہئیں تھے۔

  • سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔ پشاورہائیکورٹ کےایڈیشنل ججزکی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ بھی جاری کیا۔
    سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی ملک کو آئین کے تحت چلانے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے، آئین میں ریاست کے تینوں ستونوں کے اختیارات واضح ہیں۔
    فیصلے کے مطابق سنیارٹی کا اصول سول سروس میں محکمانہ پروموشن کمیٹی کیلئے بنیادی جزو ہے، صرف سنیارٹی کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی جا سکتی، ترقی اور اعلیٰ تقرری کیلئے سنیارٹی کیساتھ میرٹ اور اہلیت بنیادی جزو ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ سنیارٹی کا جائزہ اُسی وقت لیا جاتا ہے جب میرٹ اور اہلیت پر تمام امیدوار یکساں ہوں، میرٹ سسٹم کے تحت ہی اہل اور قابل افراد کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے۔
    فیصلے کے مطابق ججز تقرری کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں تمام ارکان یکساں اہمیت کے حامل ہیں، جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔
    سپریم کورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا کام نامزد ججز کی اہلیت اور قابلیت کا جائزہ لینا ہے، پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن دونوں اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
    عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مفروضوں اور من پسند آبزرویشنز پر مبنی نہیں ہوسکتا، پارلیمانی کمیٹی ججز کے نام منظور یا مسترد کر سکتی ہے، کمیشن کو واپس نہیں بھیج سکتی۔

    فیصلے کے مطابق عدالتوں کو ماضی کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔
    ججز تقرری کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کو سنیارٹی اصول کے مطابق سفارشات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
    پشاور ہائی کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کالعدم قرار دی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ۔

    پشاورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ جاری کیا۔
    اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے تقرریوں میں شفافیت اہم ہے، تقرری میں شفافیت، احتساب، عوام کے اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ شفاف عمل کو اپنا کر ہی عدالتی آزادی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
    سپریم کورٹ کے جج کے اختلافی نوٹ کے مطابق من مانی فیصلے کا غیر منظم استعمال عدلیہ کی آزادی کو ختم کرتا ہے۔ میرٹ پر جج کی تقرری اہل افراد کی شناخت سے تقرری تک شفافیت سے ہی ممکن ہے۔

  • چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا ادارے کے اندر شفافیت پر زور

    چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا ادارے کے اندر شفافیت پر زور

    چیئرمین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کی بی آئی ایس پی ہیڈ آفس آمد جبکہ سیکرٹری بی آئی ایس پی کا انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کا استقبال کیا ترجمان کے مطابق چیئرمین بی آئی ایس پی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو بی آئی ایس پی اور اس کے دیگر اقدامات کے بارے میں جامع طور پر بریفنگ دی گئی جس کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کی سماجی و معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ جن اقدامات پر بریفنگ دی گئی ان میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما پروگرام شامل ہیں۔
    ترجمان کے مطابق بریفنگ دوران بی آئی ایس پی میں غریب خاندانوں کی رجسٹریشن میں قومی سماجی و معاشی رجسٹری (NSER) ڈائنامک رجسٹری کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔ مزید برآں، چیئرمین بی آئی ایس پی کو ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن اقدام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ، جس کے تحت مستحقین اور غیر رسمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیوں میں تبدیلی کو یقینی بنایا جائیگا۔
    جبکہ ڈاکٹرمحمد امجد ثاقب نے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں میں مالی خواندگی اور سماجی ایجنڈے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بینکوں کے ذریعے ادائیگی کے طریقہ کار کو بہتر بنا نے اور مستحقین کی شکایات کا ازالہ سے بی آئی ایس پی کے امیج کو بہتر بنانے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اجتماعی طور پر درست سمت میں آگے بڑھنے کے لیے بی آئی ایس پی ٹیم کے تعاون پر زور دیا۔
    علاوہ ازیں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ادارے کے اندر شفافیت اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ دیگر تنظیمیں اور انفرادی مخیر حضرات اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے بی آئی ایس پی ڈیٹا کے تحفظ اور غیر مجاز کٹوتیوں کی روک تھام کے اہم مسائل کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے خود احتسابی کے عمل کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے مستحقین کو غربت باہر نکلنے کی حکمت عملی پر بھی زور دیا۔

  • نگراں وزیراعلیٰ کا ایکشن؛ ڈی جی کالجز اور گورنمنٹ النور کالج  عملہ معطل

    نگراں وزیراعلیٰ کا ایکشن؛ ڈی جی کالجز اور گورنمنٹ النور کالج عملہ معطل

    نگراں وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر نے کراچی کے گورنمنٹ کالج النور کے دورے کے بعد ڈی جی کالجز سمیت النور کالج کے عملے کو معطل کردیا ہے اور نگراں وزیراعلیٰ نے گورنمنٹ کالج النور کا دورہ کیا اور عملے کو غفلت کا مرتکب پایا جبکہ انہوں نے غفلت برتنے پر ڈی جی کالجز سمیت 4 افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا۔

    تاہم معطل ہونے والوں میں گریڈ 20 کے ڈی جی کالجز شاداب حسین، پرنسپل مسز زاہدہ اور گریڈ 19 کی وائس پرنسپل شامل ہیں، لیکچرار اسلامک اسٹیڈیزعشرت العین کو بھی معطل کردیا گیا، مقبول باقر کا کہنا ہے کہ کالج کے حالات بہت تکلیف دہ ہیں، تعلیم کے مسئلے پر کوئی غفلت برداشت نہیں کروں گا، بچوں کی تعلیم برباد کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔

  • پولیس عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے لے کر روانہ

    پولیس عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے لے کر روانہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا, گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پولیس ٹیم نے سخت سکیورٹی میں عمران خان کو لے کر اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ اڈیالہ جیل منتقل کرنے والے قافلے میں پولیس کی 15 گاڑیاں، 2 بکتربند اور ایک ایمبولینس شامل تھی۔

    ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہائی سکیورٹی بیرک میں رکھا جائے گا۔
    جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بی کلاس بیرک فراہم کی جائے گی اور انہیں اسی بیرک میں رکھا جائے گا جس میں نواز شریف کو رکھا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے مخصوص کمرے کی صفائی کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور انہیں عدالتی احکامات کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔جیل ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کوجیل میں کمرہ واٹیچ باتھ دیا جائے گا تاہم ان کے کھانے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے ایک ملازم 24 گھنٹے تعینات کیا جائے گا۔

    تاہم خیال رہے کہ اڈیالہ پاکستان کی منفرد حیثیت والی وہ جیل ہے جس میں عمران خان سے قبل تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف سمیت چار منتخب وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو رکھا گیا۔اڈیالہ جیل دراصل سینٹرل جیل راولپنڈی ہے اور اسے اڈیالہ جیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ضلع راولپنڈی کا ایک گاؤں اڈیالہ اس سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی مناسبت سے اس کا نام اڈیالہ جیل پڑ گیا ہے۔در اصل یہ پرانی ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی ہے، یہ جیل راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر ضلعی عدالتوں سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں دہگل کے قریب واقع ہے۔

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد آنے والے برسوں میں اس جیل کو ختم کر کے یہاں پارک بنایا گیا اور 1986میں جیل کو اڈیالہ منتقل کیا گیا۔اس جیل کو 1970 کی دہائی کے آخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق کی حکومت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔اس سے قبل راولپنڈی کی ضلعی جیل اس مقام پر واقع تھی جہاں آج جناح پارک واقع ہے اور یہ وہی جیل تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاالحق کے دور حکومت میں قید میں رکھا گیا اور اسی جیل سے متصل پھانسی گھاٹ میں انھیں پھانسی بھی دی گئی۔

    نواز شریف دو مرتبہ اس جیل میں رہے۔ پہلی مرتبہ 1999 میں طیارہ سازش کیس میں اور دوسری مرتبہ پانامہ کیس میں انھیں اسی جیل میں رہنا پڑا تھا۔ بعد میں نواز شریف اڈیالہ جیل کے علاوہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھی قید رہے تھے۔نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔
    سابق صدر آصف علی زرداری بھی اپنی زندگی کا کچھ وقت اڈیالہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ستمبر 2004 سے 2006 تک ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ اڈیالہ جیل میں گزارا۔
    شہباز شریف بھی مشرف دور میں اڈیالہ جیل میں قید رہ چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور جاوید ہاشمی بھی کچھ وقت یہاں گزار چکے ہیں۔

  • امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ کو واشنگٹن آنے سے روک دیا

    امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ کو واشنگٹن آنے سے روک دیا

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ کو واشنگٹن کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فوگی باٹم نے ایران کی طرف سے امریکی شہریوں کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں ایرانی قونصلر دلچسپی کے سیکشن کا دورہ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

    تاہم خیال رہے کہ ایک ڈیل کے تحت ابھی پچھلے ہفتے ہی، پانچ امریکیوں کو ایران سے رہا کیا گیا تھا جس کے بدلے میں پانچ ایرانیوں کو امریکی حراست سے رہا کیا گیا تھا اور بیرون ملک موجود ایرانی فنڈز کو 6 بلین ڈالر غیر منجمد کیا گیا تھا۔ جبکہ ملر کے مطابق امیر عبداللہیان گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک میں تھے اور واشنگٹن جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکہ نے حکام کو اقوام متحدہ کے گھر نیویارک جانے کی اجازت دے دی۔ تاہم، بعض ممالک کے اہلکاروں یا سفارت کاروں کو اکثر نیویارک کے مخصوص علاقوں میں آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی حکام کو نیویارک کے چند محلوں کا دورہ کرنے کی اجازت دی تھی۔

    علاوہ ازیں ملر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ ایرانی حکام اور غیر ملکی حکومتوں کے دیگر اہلکاروں کو اقوام متحدہ کے کام کے لیے نیویارک جانے کی اجازت دینے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم انہیں واشنگٹن ڈی سی جانے کی اجازت دیں جبکہ انہوں نے مزید کہا، ایران کی طرف سے امریکی شہریوں کی غلط حراست کو دیکھتے ہوئے، ایران کی جانب سے دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کے پیش نظر، ہم نہیں سمجھتے کہ اس صورت میں [امیر عبداللہ کی] درخواست کو منظور کرنا مناسب یا ضروری تھا۔

  • ڈالر 290 سے نیچے آگیا

    ڈالر 290 سے نیچے آگیا

    ملکی تبادلہ منڈیوں میں روپے کے مقابلے ڈالر مسلسل 15ویں کاروباری روز سستا ہوگیا ہے اور کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کی ابتداء پر ایک روپے 26 پیسے کمی کے بعد ڈالر کی خرید و فروخت 289 روپے 60 پیسے میں جاری ہوئی جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں منگل کے روز ڈالر ایک روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد امریکی کرنسی کی قیمت خرید 289 اور قیمت فروخت 292 روپے میں جاری ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 90 پیسے کمی سے 290 روپے 86 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی اور اوپن مارکیٹ میں بھی روپے کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی تھی، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت خرید اور فروخت 50 پیسے اضافے کے بعد بالترتیب 290 اور 293 پر بند ہوئی تھی۔
    جبکہ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بھی آج کاروبار میں تیزی رجحان جاری ہے، پی ایس ایکس 100 انڈیکس ٹریڈنگ کے پہلے سیشن میں 78 پوائنٹس اضافے کے بعد 46 ہزار 472 پر پہنچ گیا ہے، 100 انڈیکس گزشتہ روز 46 ہزار 393 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب انٹربینک اوراوپن مارکیٹ میں ڈالرکی مسلسل گراوٹ سےاشیاخوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی اور جن اشیا کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی ان میں مختلف برانڈ کے گھی شامل ہیں، صوفی برانڈ کے مشہور گھی کی قیمت میں 35 روپے فی کلو گرام تک کی دیکھی گئی ہے۔ جس کی فی کلو قیمت 510 روپے ہوا کرتی تھی جو اب 475 روپے تک آگئی ہے،جبکہ دوسرے کئی برانڈ کے گھی کی قیمت میں بھی 20 روپے تک کمی ہوئی ہے۔

    اسی طرح چینی جو 200 روپے فی کلوگرام فروخت ہوتی رہی ہے مگر گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے کے دوران چینی 155 روپے سے 180 روپے فی کلو گرام تک مارکیٹ میں مل رہی ہے۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 2800 روپے اور کہیں 2850 روپے تک بکتا رہا اب 2700 روپے سے 2750 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

  • نواز شریف وزیراعظم بنے تو میں خود کو وزیر نہیں دیکھتا۔ شاہد خاقان عباسی

    نواز شریف وزیراعظم بنے تو میں خود کو وزیر نہیں دیکھتا۔ شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ آپ کی حکومت میں رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے، اس کے بعد بھی آپ کو 8 سے 9 مہینے ملے، کام کرلیتے۔
    نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن کی سیاست سے مطمئن نہیں ہوں، راستے کا تعین کریں پھر الیکشن میں جائیں ورنہ الیکشن انتشار کے علاوہ کچھ نہیں دے گا، پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوں کسی مشاورت میں شامل نہیں ہوں ، نواز شریف وزیراعظم بنے تو میں خود کو وزیر نہیں دیکھتا۔

    انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست گالی گلوچ کی ہے، 2013 سے 2018 تک خرابیوں کی طویل داستان ہے، کوئی شبہ نہیں کہ 2018کا الیکشن چوری ہوا، اب ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا ہے آگے کی طرف دیکھنا ہے، لوگ آج اسے مسئلہ نہیں سمجھتے حالانکہ خرابی کی جڑ یہی چیزیں ہیں، خرابیاں درست نہیں کریں گے تو مسئلہ آگے نہیں چلے گا۔
    ان کا کہنا تھاکہ اگر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ آپ کی حکومت میں رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے، اس کے بعد بھی آپ کو 8 سے 9 مہینے ملے، کام کرلیتے، آپ اتنے وقت میں بہت فیصلے کرسکتے تھے،کارکردگی بہتر ہوسکتی تھی۔

    شاہد خاقان کا کہنا تھاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 3 سال 8 مہینے میں ایک پیسے کا کام نہیں کیا، ہم نے کیا کام کیے، ذرا اس کی فہرست بھی چیک کرلیں لیکن مجھے وہ فیصلے ہوتے نظر نہیں آئے جو ہونے چاہیے تھے۔
    سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہباز حکومت میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اسپیڈ نظر نہیں آئی جو ہونی چاہیے تھی، پچھلی حکومت نے بھی ساڑھے تین سال فیصلےنہیں کیے آپ کرلیتے آپ نےبھی نہیں کیے، قصور وار صرف شہباز شریف نہیں ہم سب ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ عمر عطا بندیال نے جاتے جاتے تحفہ دے دیا، نیب کو پرانی شکل میں بحال کردیا، آپ کو روز بیٹھ کر معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے، آج جمود اور خوف ہے حکومت کے اندر لوگ فیصلے نہیں کرتے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ آج نئی جماعت کی ضرورت بھی ہے اور جگہ بھی۔