بھارتی شہر چنئی میں ہونیوالی ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے ایونٹ میں پانچویں پوزیشن کا میچ جیت لیا ، پاکستان نے پانچویں پوزیشن کے میچ میں چین کو ایک کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دی۔ پہلے کوارٹر میں پاکستان نے چار گول کرکے پوزیشن مضبوط کرلی جبکہ دوسرے کوارٹر میں کوئی ٹیم گول نہ کرسکی اور ہاف ٹائم تک پاکستان کو 0-4 کی برتری حاصل رہی۔تیسرے کوارٹر میں چین نے میچ کا پہلا اور اپنا واحد گول کیا جبکہ چوتھے کوارٹر میں پاکستان ٹیم نے مزید دو گول کرکے 1 کےمقابلے میں 6 گول سے میچ جیت لیا، پاکستان کی جانب سے محمد عماد اور سفیان نے 2-2 جبکہ عبدالحنان اور رانا وحید نے 1-1 گول کیا۔
ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان ٹیم نے6 میچز کھیلے جس میں سے 2 میچز میں کامیابی سمیٹی، 2 میچز ڈرا اور 2 ہی میچز میں شکست کا منہ دیکھا، ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنا ایونٹ کی تاریخ میں پاکستان کی اب تک کی سب سے خراب کارکردگی تھی
Tag: پاکستان
-

ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی، پاکستان نے پانچویں پوزیشن کا میچ اپنے نام کر دیا
-

احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہوگئی ہے جبکہ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 15 اگست کو اس کیس کی سماعت کرے گا اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی اس بنچ کا حصہ ہوں گے، مولوی اقبال حیدر نے 2 مئی 2018 کو سابق وزیر داخلہ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی.
خیال رہے کہ درخواست میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کی کاروائی کی استدعا کی گئی تھی اور درخواست میں احسن اقبال کو آئین کے آرٹیکل 63،64 کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اسکے علاوہ سابق وزیر داخلہ سے تمام مراعات اور تنخواہ واپس لینے کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی تھی.
مزید یہ بھی پڑھیں؛
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزیتاہم خیال رہے کہ اس سے قبل احسن اقبال نے عدالت میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ ایسی بیان بازی سے گریز کریں گے۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ داخلہ کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس خارج کردیا تھا ، جسٹس مظہر علی نقوی نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اپنے لوگوں کے لیے رول ماڈل ہیں، آپ الیکشن میں جیتے ہیں اور آپ کو اس ملک کی ترقی کے لیے وہ کرنا چاہیے جو آپ کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اپریل 2018 میں مسلم لیگ (نواز) کے رہنماء احسن اقبال کی عدلیہ مخالف تقریر سامنے آئی تھی جس کے بعد ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیر نے عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بیان دیا تھا۔
-

پیپلزپارٹی واحد سیاسی پارٹی جو ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتی رہی،آصف زرداری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آج سرکاری سطح پر اقلیتوں کا دن منایا جا رہا ہے
اقلیتوں کے دن کے موقع پر پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات نے پیغام جاری کئے ہیں، سابق صدرپاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی واحد سیاسی پارٹی ہے جو ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتی رہی ہے۔ اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1973ءکے آئین کے ذریعے اقلیتوں کو برابر کے شہری ہونے کا حق دیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی ملک کے تمام شہریوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کو پاکستانی قوم مانتی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ ہمیں ایک قوم بن کر ملک کو مستحکم اور مضبوط بنانا ہے۔ جمہوریت، انسانی آزادی کی ضمانت ہے اس لئے ملک کے ہر شہری کو جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اقلیتوں کے لئے بھی محفوظ پاکستان بنایا تھا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید چاہتی تھیں کہ غیر مسلم پاکستانی شہریوں کا بھی ملک کے ثمرات پر برابر کا حق ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اقلیتوں نے ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں قابل تعریف کردار ادا کیا اقلیتوں کو آئین کے تحت سیاسی ، معاشی اور سماجی حقوق حاصل ہیں ،اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کی نگرانی کیلئے قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی ،
مسلم لیگ ن کی رہنما، مریم نواز نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان وہ ماں ہے جو ہر نسل، رنگ اور مذہب کے لوگوں کو اپنی چھاؤں میں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ گیارہ اگست کا دن پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اور اس عہد کی یاد دہانی کرواتا ہے جس پر یہ وطن حاصل کیا گیا کہ اس دھرتی پر بسنے والے پر پاکستانی کا اس پر حق برابر ہے۔ یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے اور یہی آئین پاکستان کا وعدہ ہے۔ ہمیں اس وعدے کو نبھانا ہے۔پاکستان زندہ باد
پیپلز پارٹی اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھتی ہے، شیری رحمان
پیپلز پارٹی کی رہنما، سابق وفاقی وزیر، شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بہن بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس سے تاریخ ساز خطاب کے پس منظر میں سابق صدر آصف علی زرداری نے 11 اگست کو پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس دن منانے کا مقصد پاکستان میں اقلیتوں کی قربانیوں، اہمیت اور ملکی ترقی میں شرکت داری کو تسلیم کرنا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کی رواداری، احترام اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے عزم اور وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کے دن پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں مساوات، ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کے اصولوں پر زور دیا۔ انہوں نے ایک ایسی قوم کا تصور کیا جہاں تمام شہریوں کو یکساں حقوق اور ذمہ داریاں حاصل ہوں، خواہ وہ کسی بھی عقیدے یا نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ قائداعظم کے الفاظ نے ایک ایسی قوم اور ریاست کی بنیاد رکھی جو اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ان کی فعال شرکت کو یقینی بنائے گی۔ پیپلز پارٹی اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھتی ہے۔ ہم قائداعظم اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کے مطابق سماجی انصاف، مساوی حقوق اور پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسلام آباد میں مندر کی تعمیربارے بڑا بیان آ گیا
مندر کی تعمیر پر اعتراض کرنے والے خواجہ آصف کی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل
مندر کی تعمیر کے فیصلے کو فوری واپس لیا جائے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع
اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی آ گیا
مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ لال مالہی
-

پولیس کا جبری شادی کی تقریب پر چھاپہ
عمرکوٹ کے گاؤں حویلی میں ویمن پولیس نے شادی کی تقریب میں کارروائی کی ہے جس کے بارے میں خاتون ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریب جبری طور پر منعقد کی گئی۔ پولیس نے دولہا، دلہن اور نکاح خواں کو گرفتار کرکے شادی رکوا دی ہے جبکہ عمرکوٹ کے علاقے نیو چھوڑ میں کم عمر لڑکے اور لڑکی کی شادی کے دوران ویمن پولیس نے چھاپہ مارا۔ پولیس نے دولہا یاسین ساند کو گرفتار کرکے دلہن کو بازیاب کروا کر تحویل میں لے لیا ہے۔
جبکہ خاتون ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکی کو سیف ہاؤس رکھا گیا ہے، عمرکوٹ پولیس نے نکاح خواں مولوی عبدالحفیظ اور سہولتکار دین محمد اور قادربخش کو بھی گرفتار کرلیا ہے تاہم اس واقعہ کا مقدمہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
ویمن پولیس نے واقعہ کی تفصیلات بتائے ہوئے کہا کہ دولہا اور دلہن کو نیوچھوڑ کے گائون حویلی سے شادی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ لڑکی کی عمر 14 سے 15 سال بتائی جاتی ہے اور اس کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہے۔ -

نواز شریف ستمبر میں آ رہے ، جاوید لطیف کا دعویٰ
مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آوازیں آرہی ہیں کہ پندرہ ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی، کیا اس سے پہلے ملک میں جمہوریت تھی،
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ 2017 میں تو یہ ایک پیج پہ تھے ، جتنا مال غنیمت سمیٹ سکتے تھے سمیٹ لیا ، لیکن 2017 میں ایک مرد قلندر نے نعرہ لگایا کہ ووٹ کو عزت دو، وہ تحریک اتنی زور پکڑ گئی کہ پیچ پھٹنے پر مجبور ہوا ، پھر جب پیج پھٹا تو پندرہ ماہ پہلے تبدیلی آئی،پھر کوشش کی کہ خارجہ امور اور ملکی حالات میں بہتری لاسکیں ،کوشش کی کہ 2017 کا پاکستان دوبارہ بنا سکیں،ہم نے کوشش کی لیکن ناکام رہے ،بگاڑ اتنا ہے کہ وہ نواز شریف کے بغیر ٹھیک نہیں ہوسکتا ،اداروں میں بیٹھے لوگوں، عوام اور سی پیک مخالف قوتوں کو بھی احساس ہوچکا ہے ، احساس ہوچکا ہے کہ 2017 کا پاکستان نواز شریف کے بغیر نہیں آسکتا،
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں اب بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو بچانے کیلئے سرگرم ہیں،نواز شریف کو مائنس رکھنے کی خواہش پوری ہوئی تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، قبول نہیں کریں گے، کچھ لوگ غیر ملکی سازشوں کے آلہ کار بنے۔نواز شریف ستمبرکے وسط میں پاکستان آئیں گے ،ذوالفقار بھٹو اور نوازشریف کو مائنس کرنے والے عالمی قوتوں کے آلہ کار تھے چند قوتیں پاکستان کو ایٹمی طور پر مسخر کرنے والے کے خلاف ہوگئیں
نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں
سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے
غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی
-

پاکستان میں عام انتخابات پر ہنگاموں پرتشویش ہے،امریکا
واشنگٹن: امریکا نے پاکستان میں عام انتخابات پر ہنگاموں کا ظاہر کردیا ہے۔
باغی ٹی وی: ترجمان وائٹ ہاؤس قومی سلامتی کونسل جان کربی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابی تشدد کے امکانات کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، جہاں انتخابات ہونے والے ہیں وہیں معروف سیاست دان عمران خان کو روک دیا گیا ہے، پاکستان اتحادی ملک ہے، خصوصاً دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا اتحادی ہے، پاکستان میں عدم استحکام کاسبب بنے والی کسی بھی کارروائی پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح طور پر کسی بھی ایسے اقدامات بالخصوص پرتشدد کارروائیوں پر تشویش ہے جو پاکستان یا کسی بھی ایسے ملک میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں جس کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔
پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیا جا چکا ہے 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔
سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ
-

پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان
لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے آج ‘یومِ تشکّر و نجات’ منا نے کا اعلان کیا ہے۔
باغی ٹی وی:صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی جس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی،وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔ ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی صدر کے دستخط کرتے ہی قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی تاہم نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے-
#یوم_نجات https://t.co/MZqoX3oxe1
— PTI (@PTIofficial) August 9, 2023
15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے
قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر پی ٹی آئی نے یوم نجات منانے کا اعلان کیا ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پی ڈی ایم کے تقریباً 16 ماہ پر محیط راج کےاختتام پرآج یومِ تشکر منائے گی پارٹی کےکور کمیٹی کےاجلاس میں پی ڈی ایم کی نااہل حکومت کی تباہی کا تفصیلی تجزیہ ، بدترین مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کور کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران کان کی سزا کے خلاف اپیل پر عدالتی سماعت پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر
-

پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو پر ترجمان امریکی محکمہ میتھیو ملر کا ردعمل آیا ہے،
ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے میں اس دستاویز کے مصدقہ ہونے پر بات نہیں کر سکتا جن باتوں کے بارے میں رپورٹ کی گئی وہ سو فیصد بھی درست نہیں جو باتیں رپورٹ کی گئیں کسی بھی طرح سے یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ امریکہ نے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ پاکستان میں قیادت کس رہنما کے پاس ہونی چاہیے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ نجی اور سرکاری سطح پر عمران خان کی جانب سے روس کی یوکرین پر چڑھائی کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کہہ چکے ہیں کہ یہ الزامات درست نہیں
ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت نے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کی اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے انتخاب پر اپنے خدشے کا اظہار کر رہی ہے اس مبینہ مراسلے سے یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ امریکی قیادت اپنی ترجیح بیان کر رہی ہے کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے (امریکی اہلکار) کے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے یہ دانستہ کوشش تھی یا نہیں اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتا میں کسی کی نیت پر بات نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے میں پہلی بات یہ کہوں گا کہ کس طرح سیاق و سباق سے ہٹ کر مطلب نکالا جا سکتا ہے دوسری بات یہ ہےکہ کچھ لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر کسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں :
کوہ سلیمان پرشدید بارشیں،کار ندی میں بہہ گئی، 4 افراد جاں بحق
غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو جانا چاہیے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ قریب قریب یہی مطلب ہے،انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی دستاویزات بھی ثابت نہیں کرتیں کہ امریکا نے کسی پاکستانی رہنما کا انتخاب کیا یا نہیں۔ہم نے سابق وزیر اعظم پاکستان کےدورہ روس پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق وزیر اعظم پاکستان نے روس کے یوکرین پر حملے والے دن دورہ کیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متعلقہ جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں، پاکستانی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔
اوچ شریف: دریائے چناب عبور کرتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا
واضح رہے کہ 16 ماہ پر محیط 13 جماعتی مخلوط حکومت ختم ہوگئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے 15 ویں قومی اسمبلی کی تحلیل وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت کی ۔ صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر لاہور میں دستخط کیے۔
قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نگران وزیر اعظم کی تقرری تک کام جاری رکھیں گے۔آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیےمشاورت کریں گے اور نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کیلئے 3 دن کاوقت ہوگا، آئین کے آرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا-
تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گےپارلیمانی کمیٹی تین دن کےاندرنگران وزیراعظم کےنام کو فائنل کرےگی،پارلیمانی کمیٹی کےنگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پرمعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا،الیکشن کمیشن دیےگئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرے گا۔
13 جماعتی اتحادی حکومت 15 ماہ 28 روزقائم رہی،مدت مکمل ہونے سے تین روزپہلے توڑی گئی۔ آئین کے مطابق اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑ دی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوتےہیں۔
-

وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی
صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.
اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔
جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
روپے کی قدر میں بحالی
واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔ -

سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی
سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.
جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.
لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.
تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
مزید یہ بھی پڑھیں؛
نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
روپے کی قدر میں بحالی
جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.