Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی عدالت کل اسلام آباد کچہری کے بجائے اٹک جیل میں لگے گی جس میں آفیشل سیکرٹ عدالت کے جج کو اٹک جیل لے جایا جائے گا اور نگران وزارت قانون و انصاف نے این او سی جاری کردیا گیا ہے. جبکہ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی تین سال قید کی سزا اور جرمانے کو معطل کر دیا تھا، لیکن رہائی کیلئے انہیں ابھی بھی انتظار کرنا ہوگا کیونکہ سابق وزیر اعظم کے خلاف متعدد دیگر مقدمات بھی موجود ہیں۔

    عدالتی فیصلہ آنے کے فوری بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ عمران خان مضبوط دلائل کی وجہ سے اس جج سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جسے ان کی اپنی جماعت نے بدنام کیا یا عدالتوں نے انہیں بچایا لیکن وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں، اصل وجہ یہ ہے کہ عمران کی سزا بہت مختصر تھی اور عمران خان کی سزا معطلی پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کا تحریری حکم نامہ نو صفحات پر مشتمل ہے اور کارروائی میں جو کچھ ہوا اس کا خلاصہ ہے۔

    جبکہ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ٹرائل کورٹ کے توشہ خانہ فیصلے میں کئی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرانے کے 120 دنوں کے اندر شکایات درج کی جا سکتی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے میں بہت تاخیر کی۔

    جبکہ اس میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ درخواست منتخب شخص کے ذریعے فائل نہیں کی گئی تھی اور لطیف کھوسہ نے استدلال کیا کہ دائرہ اختیار کے مسائل کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کے فوائد پر بات کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا اور آخر میں لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ عمران کو اپنے دفاع کا مناسب موقع نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے گواہوں پر ’غیر متعلقہ‘ لیبل لگا دیا گیا تھا۔

    انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کا فیصلہ ’غیر ضروری‘ جلد بازی میں کیا گیا تھا، جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے بھی تکنیکی نکات پر بحث کی اور انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان کو قید کیا گیا ہے، انہیں ریاست کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن ریاست کو کیس میں فریق نہیں بنایا گیا تاہم امجد پرویز نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے میں اپیل کو سیدھا اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کے بجائے سیشن کورٹ کے سامنے دائر کیا جانا چاہیے تھا۔

    علاوہ ازیں انہوں نے دفاع کے حق کے بارے میں لطیف کھوسہ کے نکتہ کے خلاف بھی دلیل دی اور کہا کہ عمران نے متعدد مواقع ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے کا انتخاب کیا جبکہ انہوں نے کہا کہ عمران نے کارروائی کو ’ناکام‘ بنانے کی کوشش کی، تاہم وکلاء کے تمام دلائل کے بعد معاملہ ایک نقطہ پر آگیا کہ کیا عمران خان کی سزا کو معطل کیا جا سکتا ہے، یا ضمانت دی جاسکتی ہے؟ کیونکہ یہ سزا ’مختصر‘ تھی۔

    جبکہ لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ سزا معطلی کی اپیل دراصل ضمانت کے لیے اپیل کرنے کے مترادف ہے اور عمران ضمانت کے حقدار ہیں کیونکہ تین سال کی سزا مختصر ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے جس کیس کا حوالہ دیا ان میں سے ایک نواز شریف بمقابلہ چیئرمین نیب (2019) تھا، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ہر سزا معطل کی جائے اس کے جواب میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے معطلی یا ضمانت کے معاملات میں طویل دلائل کو نظر انداز کیا ہے۔

    علاوہ ازیں عدالت نے لطیف کھوسہ سے بھی اتفاق کیا کہ اس معاملے کے لیے تین سال، یا یہاں تک کہ پانچ سال، ایک مختصر سزا ہے اور عام طور پر معطل کی جاتی ہے جبکہ عدالت نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر کیس کے میرٹ پر دلائل کی ضرورت نہیں ہے اور تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ دائرہ اختیار اور دیگر مسائل کے بارے میں دونوں فریقوں کی طرف سے اٹھائے گئے دلائل میں اس معاملے کی گہری تعریف شامل ہے جس کی معطلی کے مرحلے پر کوئی جواز نہیں ہے، خاص طور پر جہاں سزا مختصر ہو، بالآخر عمران خان کو دی گئی سزا کی مختصر طوالت ان کی رہائی کے احکامات کی وجہ بن گئی۔

  • 29 اگست یوم وفات؛ قاضی نذر الاسلام

    29 اگست یوم وفات؛ قاضی نذر الاسلام

    قاضی نذر الاسلام ایک بنگالی شاعر، مصنف، موسیقی کار اور تحریک پسند تھے۔ انہیں بنگلہ دیش کا قومی شاعر قرار دیا گیا ہے وہ 24 مئی 1899 میں پیدا ہوئے

    جبکہ نذر کے نام سے شہرہ یافتہ نذرالاسلام، بھارتی اسلامی نشاة ثانیہ کے لیے اپنی تحریک چلائی، اور فاشزم اور اپریشن کے خلاف کام کیا۔ سماجی مساوات کے لیے دم بھرنے والے نذر کو باغی شاعر کے خطاب عوام سے نوازا گیا۔ چونکہ نذر موسیقی کے بھی دلدادہ تھے، انہوں نے اس پر بھی کام کیا اور شہرت یہاں تک ہوئی کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں اپنا قومی شاعر کا اعلان کیا۔

    نذر مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں ایک عالم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ عالم گھرانہ قاضی گھرانہ تھا۔ نذر دینی علوم سے فارغ ہوکر، موذن کے کام سے وابستہ ہوگئے۔ شاعری سیکھی، ڈراما، ادب اور ٹھئیٹر آرٹ سیکھے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلی عالمی جنگ کے دوران میں برطانوی افواج کے لیے بھی کام کیا۔ بعد اذیں، بھارت میں مقیم ہوئے۔ شہر کلکتہ میں اخبار کے لیے صحافت کا کام کیا، باغی شاعر یا بدروہ کوی کہلائے۔ بدروہ کوی، بھانگر دان، دھوم کیتو جیسے فنی تخلیقات کیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    تحریک آزادی میں حصہ لیا، جیل بھی گئے۔ ان کی شاعری اور ادبی کارنامے جنگ آزادی بنگلہ دیش تحریک میں ماثر رہے. 29 اگست 1976 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج جبکہ یہ مقدمہ توہین پنجاب پولیس اور آئی جی کیخلاف پراپیگنڈا کرنے کے الزام میں درج کیا گیا ہے اور حماد اظہر، مسرت چیمہ، قاسم سوری، عمر سرفراز چیمہ، علی زیدی، فواد چوہدری، اعظم سواتی بھی شامل ہیں.

    جبکہ ایک وکیل کے مطابق ایف آئی اے لاھور کی طرف سے عمران ریاض خان کے خلاف پنجاب پولیس کی مدعیت میں 17-8-2023 کو ایک اور مقدمہ درج کرنے کیا گیا جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ ایف آئی اے لاھور سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ ھم پر احسان کریں اور اسی مقدمہ میں عمران ریاض خان برآمد کریں اور گرفتار کرکے ھم پر احسان کریں.


    تاہم خیال رہے کہ 16 مئی 2023 کو ولاگر عمران ریاض خان کی گمشدگی پر ان کے والد کی مدعیت میں اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس حوالے سے ڈی پی او سیالکوٹ حسن اقبال نے کا تھا کہ اینکر عمران ریاض کے اغوا کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا جبکہ انہوں نے مزید بتایا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر مقدمہ مغوی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    جبکہ ڈی پی او سیالکوٹ کے مطابق اغواء کی دفعہ کے تحت مقدے میں نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا، مغوی کی بازیابی کے لئے آئی ٹی ماہرین سمیت ماہر پولیس افسران کی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، تاہم ابھی تک عمران ریاض کا کوئی بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں پر ہیں.

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف مہم کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف مہم کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کے خلاف سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کے لیے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بدنیتی پر مبنی مہم کے پس پردہ حقائق کا تعین کرےگی اور ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کنوینر ہوں گے، آئی ایس آئی اور آئی بی کےگریڈ 19 کے افسر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان ہوں گے، اسلام آباد پولیس کے گریڈ 19 کے افسر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    علاوہ ازیں‌نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کرے گی۔ تاہم خیال رہے کہ اس سے قبل وزارت قانون نے پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے خلاف مہم کی مذمت کی تھی۔

    ایک بیان میں وزارتِ قانون و انصاف نے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ملکی اداروں پر حملے سے پرہیز کرنا چاہیے جبکہ وزارت قانون نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذموم مقاصد پر مبنی مہم چیف جسٹس عامر فاروق کی ساکھ کو داغ دار کرنے کی کوشش ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر براہ راست الزام لگایا گیا تھا جس میں جسٹس عامر فاروق پر منافقت کا الزام لگایا گیا جبکہ اس حوالے سے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا تھا کہ ججز کو ایسی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کچھ دنوں سے ججز کے خلاف زور و شور سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے، اُمید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے۔

  • الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے پنجاب انتخابات 14 مئی کو کروانے کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 31 اگست کو ہوگی اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ سماعت کرے گا۔

    علاوہ ازیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہی اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیا گیا جبکہ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    خیال رہے کہ اس سے قبل گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے، گورنر پنجاب نے مزید کہا تھا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے۔

    محمد بلیغ الرحمان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو 30 مئی 2022 سے پنجاب کے 39ویں گورنر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر مقرر کیا تھا

  • کراچی؛ شارع فیصل پر شیر نے شہری پر حملہ کردیا

    کراچی؛ شارع فیصل پر شیر نے شہری پر حملہ کردیا

    کراچی کی شارع فیصل پر ایک شیر آگیا جسے دیکھ کر شہری حیران رہ گئے ہیں جبکہ شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے قریب شیر ٹہلتا ہوا ایک عمارت کی پارکنگ میں پہنچ گیا، پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور شیر کو دیکھنے کے لیے شہریوں کا بھی رش لگ گیا ہے.


    جبکہ شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے سامنے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور پولیس کے مطابق گاڑی کے ذریعے شیرکو منتقل کیا جا رہا تھاکہ شیرگاڑی سے باہر نکل آیا، پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے علاوہ ازیں پولیس کا کہنا ہےکہ وائلڈ لائف حکام سے بھی رابطہ کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    جبکہ کراچی میں شارع فیصل صدر تھانے کے قریب سڑک پر شیر نے ایک شہری پر حملہ کردیا جس پر پولیس حکام کے مطابق شیر کو ایک سے دوسری گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا جس کے دوران وہ بھاگ نکلا اور شارع فیصل پر ایک عمارت میں گھس گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ شیر کے حملے میں شہری محفوظ رہا، شیر کے مالک سے رابطہ ہو گیا ہے، شیر کو پکڑ کر محکمہ وائلڈ لائف کےحوالے کیا جائے گا جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پولیس کی نفری موقع پرموجود ہے اور شہریوں کو دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہر جنگلی حیات کے مطابق شیر افریقن نسل کا ہے، جس کی عمر 3 سے 4 سال کے درمیان ہے، شیر کو پالنے کیلئے لائسنس درکار ہوتا ہے اور رہائشی آبادی میں رکھنےکی اجازت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے جس میں شہر کو سڑک پر ٹہلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  • تھل ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں

    تھل ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں

    میانوالی ریلوے اسٹیشن کے قریب راولپنڈی سے ملتان جانے والی تھل ایکسپریس ٹرین کی چار بوگیاں پٹری سے اترگئیں ہیں جبکہ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تھل ایکسپریس کی چار بوگیاں پٹری سے اترجانے کے بعد ٹریک کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔

    جبکہ جائے حادثہ پر ریسکیو اہلکار، ایمبولینس اور امدادی کرین کو طلب کرلیا گیا ہے، خیال رہے کہ اس سے قبل اگست میں ہی ٹرین حادثہ ہوا تھا جبکہ نوابشاہ کے قریب ٹرین الٹنے کے بعد مقامی افراد نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثالیں قائم کردیں تھی، حادثے کا شکار ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترنے کی آوازیں سنتے ہی مقامی افراد کسی امداد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں کی مدد کیلئے پہنچ گئے تھے۔

    مقامی افراد نے ٹرین حادثے میں زخمیوں اور جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو اپنی مدد آپ کے تحت الٹی ہوئی بوگیوں سے نکالنے کے بعد گدھا گاڑیوں، رکشوں، ریڑھیوں اور ٹھیلوں پر ڈال کر اسپتال پہنچایا تھا، یاد رہے کہ نوابشاہ کے قریب کراچی سے حویلیاں جانے والی ہزارہ ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں تھیں جس کے نتیجے میں کم از کم 30 جاں بحق جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    نواب شاہ کے قریب ایک بج کر 15 منٹ پر ہونے والے حادثے کا شکار ٹرین سے مجموعی طورپر 19 بوگیاں منسلک تھیں جس میں سے 10 حادثے کا شکار ہوئی تھیں تاہم ریلوے حکام نے کہا تھا کہ فی الحال حادثے کی وجوہات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے جبکہ ٹرین میں موجود مسافروں کا کہنا ہے کہ ہزارہ ایکسپریس میں بہت زیادہ مسافر سوار تھے اور ٹرین کا حادثہ اس قدر اچانک ہوا کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

  • 29 اگست یوم وفات میر محبوب علی خان آصف

    29 اگست یوم وفات میر محبوب علی خان آصف

    لاو تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
    کس کس کہ مہر ہے سر محضر لگی ہوئی

    میر محبوب علی خان آصف
    تاریخ وفات: 29 اگست 1911

    اردو کو سب سے پہلے اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والے حکمران اور نامور شاعرنظام الملک حیدرآباد ۔۔میر محبوب علی خان آصفؔ جا ششم

    میر محبوب علی آصف خان 17 اگست 1866 میں پیدا ہوئے۔۔انہیں 884 میں مکمل اختیارات کے ساتھ قلمرو آصفی کا حضور نظام تسلیم کر لیا گیا۔حیدر آباد میں سرکاری زبان انہیں کے دور 1884 ء میں فارسی سے اردو کر دی گئی۔
    میر محبوب علی خان آصفؔ تخلص کرتے تھے، وہ داغ دہلوی اور حضرت جلیل مانک پوری کے شاگرد تھے۔موصوف و جملہ اصناف سخن پر قدرت حاصل تھی۔غزلیات کے علاوہ ‘تعلیم’ اور ‘اصلاح فوج’ وغیرہ کے متعلق انہوں نے بہت سی اخلاقی نظمیں کہی ہیں۔غزلوں میں جگہ جگہ اخلاق کا درس ملتا ہے مثلاً ان کے یہ دو مقطعے۔۔

    آصف کو جان ومال سے اپنے نہیں دریغ
    گر کام آئے خلق کی راحت کے واسطے
    آصفؔ کا ہے یہ قال سنہیں صاحب غیرت
    احسان نہ لے ہمت مردانہ کسی کا
    اعلیٰ حضرت شاہالعلوم آصفؔ نے تغزل میں بھی بڑے اچھے اشعار کہے ہیں

    کبھی نہ دب کے لیں گے ہم ان سے آصف
    وہ شاہِ حسن سہی، شہر یار ہم بھی ہے

    لو اور سنوکہتے ہیں وہ دیکھ کر مجھکو
    یہ شخص بلا شبہ ہے دیوانہ کسی کا

    نہیں ہے اگر تو ہماراتو کیا ہے
    زمانہ میں کوئی کسی کا ہوا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
    کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
    یہ شعرفیض کا نہیں۔ فیض صاحب نے اس شعر کی صرف تظمین کی ہے۔ تظمین کا مطلب ہے کہ کسی اور شاعر کے مصرع یا پھر مکمل شعر کو اپنی نظم یا غزل کا حصہ بنا لینا۔یہ شعر نظام ششم نواب محبوب علی خاں والی حیدر آباد کا ہے۔ 1900ءکے لگ بھگ ریاست کے چند اعلیٰ افسران نے ان کے خلاف ایک سازش تیار کی۔ یہ اطلاع ملنے پر انہوں نے متعلقہ کاغذات طلب کئے کہ دیکھیں کن کن لوگوں نے اس سازش میں حصہ لیا ہے اور یہ مصرع کہا ”لاﺅ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں۔ بعد کو اس مصرع پر دوسرا مصرع لگا کر شعر پورا کر دیا۔

    29 اگست’ 1911 میں اردو کے اس محسن اعظم نے رحلت پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کلاسک سے ماخوذ

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اسلام آباد؛ ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ

    اسلام آباد؛ ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ

    ڈسٹرکٹ ہیڈ آفیسراسلام آباد ن اسلام آباد میں ڈینگی سےمتاثرہ مریضوں کی تعدادمیں اضافے کی رپورٹ جاری کر دی ہے جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ24 گھنٹوں میں مزید 17 افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور ترنول میں سب سے زیادہ متاثر ابھی تک 28 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    علاوہ ازیں کورال سے 10، ترلائی سے 7 ڈینگی کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دیہی علاقوں سے 24 گھنٹوں میں 15 کیسز سامنےآئے،تاہم کل تعداد 56 ہوگئی تاہم ڈی ایچ او کے مطابق شہری علاقوں سے 2 کیسزرپورٹ ہوئے ہیں اور کل تعداد 29 ہوگئی ہے۔

    جبکہ رواں سیزن وفاق سے 85 افراد ڈینگی سے متاثر ہو چکے ہیں اور پمزمیں 2، کیپنیٹل اسپتال میں ایک اورنجی اسپتالوں میں 40 مریض زیرعلاج ہیں۔ دوسری جانب پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 67 نئے مریض رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس حوالے سے صوبائی سیکریٹری صحت علی جان خان نے کہا تھا کہ لاہور میں ڈینگی کے 28، راولپنڈی میں 15 اور فیصل آباد میں 6 مریض رپورٹ ہوئے۔

    سیکریٹری صحت نے بتایا تھا کہ ملتان اور شیخوپورہ میں ڈینگی کے 3، 3 جبکہ بہاولنگر میں دو ، گوجرانولہ، ننکانہ، گجرات اور بہاولپور میں ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور انہوں نے کہا تھا کہ ٹوبہ، نارووال، مظفر گڑھ، چکوال، رحیم یار خان اور خوشاب میں ڈینگی کا ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے، پنجاب بھر میں رواں سال اب تک ڈینگی کے 1042 کنفرم مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    علی جان خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے اسپتالوں میں ڈینگی کے 61 مریض زیر علاج ہیں، رواں سال پنجاب کا کوئی شہری ڈینگی کی وجہ سے جاں بحق نہیں ہوا ادھر جانب ڈینگی ایکسپرٹ کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے نجی اسپتال میں 50 سالہ الیاس ڈینگی سے جاں بحق نہیں ہوا، کلینیکل آڈٹ سے ثابت ہوا ہے کہ الیاس کی وفات متعدد اعضا ناکارہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

  • مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک  جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    بلوچستان کے نصیرآباد ڈویژن میں مہنگائی کے باعث دو نوجوانوں نے خود کشی کی کوشش کی ہے جس میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا ہے جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے، ڈیرہ مراد جمالی نصیرآباد ڈویژن میں بھی ملک بھر کی طرح بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات بڑھنے لگے ہیں.

    جبکہ خودکشی کا پہلا واقع اس سے قبل جھل مگسی کے علاقے باریجا میں پیش آیا تھا جس میں 27 سالہ نوجوان علی دوست مگسی نے مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی تھی جبکہ گولی لگنے سے نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا.

    علاوہ ازیں ڈیرہ مراد جمالی کے گوٹھ اسد اللّٰہ کھیازئی کے رہائشی 22 سالہ نوجوان نورالدین کھیازئی نے مہنگائی کے باعث خود کو گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی ہے، گولی لگنے سے نوجوان شدید زخمی ہوا اور اسے سول اسپتال ڈیرہ مراد جمالی منتقل کیا گیا۔