Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • عمران پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے آیا. کیپٹن صفدر

    عمران پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے آیا. کیپٹن صفدر

    عمران پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آ گیا. کیپٹن صفدر

    کیپٹن صفدر نے کہا ہے کہ نوازشریف نے ہمیشہ ریاست کو اہمیت دی ہے جبکہ عمران خان پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آگیا ہے. لیگی رہنما کیپٹن صفدر نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیر عمران خان سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ چھ کلمے آتے ہیں یا نہیں آتے. مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ نواز شریف نے ہمیشہ سیاست سے زیادہ ریاست کو اہمیت دی لیکن عمران خان پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آگیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    لاہورکے علاقے شام نگر کی یوسی 73 میں ورکرز کنونشن سےخطاب کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا ہے کہ کارکنوں کو مریم نواز کی آمد سے امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیشہ سیاست سے زیادہ ریاست کو اہمیت دی ، آج کل خبریں آ رہی ہیں کہ فلاں پیر عمران خان کے ساتھ مل گیا جب کہ عمران خان پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیر عمران خان سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ چھ کلمے آتے ہیں یا نہیں ۔

  • بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے.

    جنوری بروز پیر نیشنل گرڈ میں ہونے والی ایک تباہ کن خرابی نے پورے پاکستان کو بجلی سے محروم کردیا، جس سے امور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے، کاروبار ٹھپ ہوگئے اور اربوں کا نقصان ہوا ۔ اس ملگ گیر پاور بریک ڈاؤن نے توانائی کے پرانے بنیادی ڈھانچے کی قلعی کھول دی۔ اب اس حوالے سے نیشنل ٹرانسمیشنز اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بلیک آؤٹ ہوا کیسے تھا۔ چوبیس جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ میں اس بدترین بلیک آؤٹ کی وضاحت کے بارے میں وضاحت پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کمپنی نے تسلیم کیا کہ سسٹم پروٹیکشن مکینزم (نظام کے تحفظ کے طریقہ کار) پے در پے پونے والی ٹرپنگ کو روکنے میں ناکام رہا۔ حالانکہ حکام نے اسی رات بجلی بحالی کا عمل شروع کردیا تھا، اس کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں بلیک آؤٹ 12 گھنٹے، جب کہ کچھ علاقوں میں اس سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہا۔ سارے معاملے سے نمٹنے کے بعد بلیک آؤٹ کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

    جب آپ کسی ڈیوائس جیسے استری یا لیپ ٹاپ چارجر آن کرتے ہیں تو یہ الٹرنیٹ کرنٹ کا استعمال کرتے ہیں، یعنی بجلی مثبت اور منفی وولٹیج کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ بجلی کی اس بدلتیی حرکت کو الیکٹریکل فریکوئنسی (برقی تعدد) کہا جاتا ہے۔ ہرٹز (Hz) میں ماپی جانے والی ”گرڈ فریکوئنسی“ ایک تکنیکی اصطلاح ہے جو ہر سیکنڈ میں الٹرنیشن سائیکل ہونے کی تعداد بتاتی ہے۔ فی الحال، 50 ہرٹز سب سے زیادہ مروجہ فریکوئنسی ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر پاور سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ آپ کے گھر، فیکٹری یا دفتر میں موجود آلات کو 50 ہرٹز کے اندر چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے ہماری بجلی فراہمی کی فریکوئنسی کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وولٹیج یا فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو ہم اپنے آلات بند کردیتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان آلات کے خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر بجلی کی ضرورت، پیداوار سے میل نہ کھائے تو گرڈ پر بجلی کی فریکوئنسی متاثر ہو سکتی ہے۔
    اس دن ہوا کیا تھا؟

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، “سسٹم فریکوئنسی 50 کے بجائے 50.75 ہرٹز (Hz) تک پہنچ گئی تھی جس سے شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا، اور اس کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائنوں پر لوڈ اور وولٹیج میں فرق آیا۔ نتیجے میں ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں، اور شمالی اور جنوبی نظام کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) سسٹم بلاک ہو گیا۔ وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزارت کے ابتدائی بیانات کے مطابق، سسٹم کو ”فریکوئنسی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا“۔ جو کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فریکوئنسی بڑھی تھی۔ ایک انٹرویو میں وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ ”موسم سرما میں، ملک بھر میں بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، اس لیے، معاشی اقدام کے طور پر، ہم رات کے وقت اپنے بجلی پیدا کرنے کے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں۔“ لیکن جب 23 جنوری کی صبح پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کیا گیا تو جنوبی پاکستان دادو اور جامشورو کے درمیان کہیں ”فریکوئنسی میں تغیر اور وولٹیج کا اتار چڑھاؤ“ پیدا ہوا۔ نتیجتاً، ”بجلی پیدا کرنے والے یونٹ ایک ایک کر کے بند ہو گئے۔“

    وزارت توانائی کا یہ بیان این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، بنیادی طور پر اگر بجلی کی طلب سپلائی سے زیادہ ہو تو فریکوئنسی کم ہو جائے گی۔ لیکن جب اضافی سپلائی ہوتی ہے تو فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے۔ اب اگر ہم اس سمجھ بوجھ پر چلیں تو سسٹم اس لئے ٹرپ کر گیا کیونکہ وہاں بجلی کی زیادہ سپلائی تھی، اور وزیر توانائی کے یہ دعوے کہ فریکوئنسی میں کمی کی وجہ سے سسٹم ٹرپ ہو گیا، غلط ہے۔ رپورٹ نے بلیک آؤٹ کے لیے مقرر پیمانے کو بھی نکار دیا، واقعے سے قبل کل پیداوار 11,356 میگاواٹ اور فریکوئنسی 50.31 ہرٹز تھی۔ واقعہ کے وقت 23 جنوری کو ٹھیک 7:34 بجے فریکوئنسی 50.57 ہرٹز تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ سے ایک سلسلہ وار رد عمل ہوا جس میں 500 کلو واٹ سپلائی کی بڑی لائنیں ٹرپ کر گئیں۔

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ بلیک آؤٹ کی صبح بڑھتی ہوئی بجلی بندش سے پہلے فریکوئنسی اعلیٰ سطح پر کام کر رہی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ ریگولیٹرز کے لیے ایک انتباہ ہونا چاہئیے کہ سپلائی ڈیمانڈ سے تجاوز کرگئی جس کی وجہ سے فریکوئنسی میں اضافہ ہوا۔ فریکوئنسی میں اس اضافے کی صحیح وجہ ابھی تک معلوم نہیں۔ تاہم یہ شدید موسم، انسانی غلطی، آلات کی خرابی، یا جانوروں کی مداخلت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ فریکوئنسی کے اس سپائیک نے پاور پلانٹس کے سیفٹی مکینزم کو متحرک کر دیا، جس نے گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے تمام 23 پاور پلانٹس بند کر دئے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو پورا گرڈ، سرکٹ بریکرز کے بنیادی اصول پر کام کرتا ہے۔ الیکٹریکل سرکٹ بریکر ایک سوئچنگ مکینزم ہے جو الیکٹریکل پاور سسٹم اور اس سے منسلک برقی آلات کو کنٹرول اور حفاظت کے لیے مینوئلی یا آٹو میٹکلی چلایا جا سکتا ہے۔ جب سرکٹ بریکر سے بہت زیادہ بجلی بہتی ہے یا اضافی بجلی کو لوڈ سنبھال نہیں سکتا تو یہ ٹرپ ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے سرکٹس کو زیادہ گرمی یا مزید نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کے بہاؤ میں خلل پڑجاتا ہے۔

    پاور پلانٹس ایک مخصوص فریکوئنسی رینج کے اندر چلنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسا کہ ایک سرکٹ بریکر ہے۔ اگر سسٹم میں زیادہ فریکوئنسی ہے، تو ایک خاص وقت کے بعد یا اچانک خرابی سے ان کے گرڈ سے منقطع ہونے کا خطرہ ہے۔
    بجلی کی بحالی کیسے ممکن ہوئی؟ اگر پورے نیشنل ہائی وولٹیج بجلی کے نیٹ ورک (گرڈ) سے بجلی ختم ہو جاتی ہے، تو ملک کو دوبارہ بجلی فراہم کرنے سے پہلے انفرادی پاور سٹیشنز کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ پاور پلانٹس کو دوبارہ چلانے کے لیے اکثر الیکٹریکل سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ گاڑی کو اگنیشن پاور کرنے کے لیے بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، بجلی کی مکمل بندش کی وجہ سے سسٹم کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مرکزی طور پر منسلک بجلی دستیاب نہیں ہے۔ جس سے اسے دوبارہ شروع کیا جاسکے۔ اس عمل کو ”بلیک اسٹارٹ“ کہا جاتا ہے۔

    بلیک اسٹارٹ کا آپریشن دراصل کافی سیدھا ہے۔ بجلی کے چھوٹے ذرائع بڑے ذرائع کو شروع کرتے ہیں، اور یہ عمل پورے ملک میں دوبارہ پاور اپ ہونے تک جاری رہتا ہے۔ تاہم، کچھ پاور پلانٹس اس پیچیدہ ری بوٹ کا نقطہ آغاز بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ جدید گیس پاور پلانٹس طلب کے مطابق تیزی سے دوبارہ شروع ہونے کے قابل ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں جنوبی علاقے کی بحالی بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ”UCH-I“ پاور پلانٹ سے شروع ہوئی۔ گیس سے چلنے والا یہ پلانٹ اوچ پاور لمیٹڈ کمپنی کی ملکیت ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت 586 میگاواٹ ہے۔ اس پلانٹ کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق اس میں 220 کلو واٹ تک بلیک سٹارٹ کی سہولت ہے۔ اس پاور پلانٹ کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    اس کے ساتھ ہی شمالی علاقہ جات کے لیے تربیلا، ورسک اور منگلا سے بحالی کا عمل شروع ہوا، کیونکہ ہائیڈرو پاور میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو اسے بلیک اسٹارٹ کے لیے بہترین بناتی ہیں۔بلیک سٹارٹ آپریشن کے دوران کسی خاص تیاری کے بغیر ٹربائن کو پاور کرنے کے لیے ان ذخائر میں کافی پانی موجود ہے۔ اوک رج نیشنل لیبارٹری کے ایک مطالعے کے مطابق ہائیڈرو فیسیلٹیز کو کم سے کم اسٹیشن پاور کے ساتھ تیزی سے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ، ”تربیلا اور منگلا میں پیداواری یونٹس استحکام برقرار نہ رکھ سکے اور بحالی کے عمل کے دوران کئی بار ٹرپ ہوئے“۔ اس کے نتیجے میں، ورسک سے پیدا ہونے والی پیداوار کو دوسرے ڈیموں تک بڑھا دیا گیا جو ری بوٹ شروع کر رہے تھے۔ اس سے بنیادی طور پر بحالی کا آغاز ہوا، کیونکہ ان پاور پلانٹس سے بجلی دوسرے پلانٹس کو بھیجی گئی تھی تاکہ وہ ری بوٹ کرکے دوبارہ کام شروع کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق بحالی کا عمل پیر کی صبح 9 بج کر 39 منٹ پر بلوچستان میں اُچ پاور پلانٹ سے شروع ہوا، گرڈ کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تھا اور آخری پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر دوبارہ شروع کیا گیا۔
    دلچسپ مشاہدات اگرچہ این ٹی ڈی سی یا حکومت نے ابھی تک بجلی بند ہونے کی صحیح وجہ کا تعین نہیں کیا ہے اور اس وقت اس کا تعین کرنا ناممکن ہے۔

    تاہم، کچھ مبصرین کے مطابق، پہلا ڈومینو جس نے بلیک آؤٹ شروع کیا وہ 747 میگاواٹ کا گیس پاور پلانٹ تھا جو گدو، سندھ میں واقع تھا۔ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں ابتدائی مسائل زیر بحث پاور پلانٹ سے منسلک تین 500کلو واٹ ہیوی پاور لائنوں میں دیکھے گئے۔ یہی پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر بحال ہونے والا آخری تھا۔

  • آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی، 600 ارب کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ٹریلین (دو ہزار ارب) روپے کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی اور فنڈ کا سخت اضافی ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنیادی خسارے پر کوئی مالیاتی تاخیر نہیں، آئی ایم ایف کا منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ، پاکستانی حکام کا عدم اتفاق، پاکستان نے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کردی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈ کا GDP کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے کے مارجن سے شگاف ڈالنے کا تخمینہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اپنی ابتدائی تشخیص میں 2022-23 کے بجٹ کے تخمینے میں 2000 ارب روپے سے زیادہ کی خلاف ورزی کا پتا چلا ہے جس کے نتیجے میں بجٹ خسارے اور بنیادی خسارے کے اہداف بڑے مارجن کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات کے تنازہ کا بڑا حصہ مالیاتی گراوٹ اور اعداد و شمار کی مفاہمت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت آئی ایم ایف پاکستانی حکام سے منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کے اقدامات کرنے کا کہہ رہا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے اس سے بالکل اتفاق نہیں کیا اور دلیل دی کہ بنیادی خسارہ اس حد تک بالکل نہیں بڑھے گا۔ اب ایسے شعبے درج ہیں جہاں دونوں فریقوں کے مختلف خیالات ہیں اور دونوں فریقین کو 9 فروری 2023 تک عملے کی سطح کے معاہدے کی جانب بڑھنے کے لیے اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ موجودہ مالی سال 2022-23 کے بنیادی خسارے کے حصے کے طور پر فنڈ کے ساتھ طے شدہ حد سے زیادہ پاکستان کے نقصان میں جانے والے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں اضافہ کو شامل کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    دریں اثناء پاکستان نے رواں مالی سال 2022-23 کے بجٹ خسارے خاص طور پر بنیادی خسارے کا حساب لگانے کے لیے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے اب تک اس کا حساب لگایا ہے کہ جی ڈی پی کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے سے زیادہ کے بڑے مارجن کے ساتھ شگاف ڈالا جائے گا۔

  • بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار

    بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار

    بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار

    بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار۔ سپر لیگ کے آغاز سے قبل کوئٹہ میں سپر مقابلے کیلئے تیاریاں مکمل. سپر لیگ کے آغاز سے قبل کوئٹہ میں سپر مقابلے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں. بگٹی اسٹیڈیم میں 5 فروری کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کا جوڑ پڑیگا بابر اعظم پشاور زلمی، سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت کرینگے سابق کپتان جاوید میانداد، شاہد آفریدی، محمد یوسف، انضمام الحق بھی ایکشن میں دکھائی دینگے معین خان، وہاب ریاض، کامران اکمل، عمر اکمل، واحد بنگلزئی، بسم اللہ خان، حسیب اللہ ایکشن میں ہونگے.

    بلوچستان کے فینز کیلئے ٹکٹوں کی فروخت 30 جنوری سے شروع ہوگی میچ کے ٹکٹ المحمود مارٹ ائرپورٹ، گلزاری ٹریولز مری آباد، جان مال، ڈسکہ سپورٹس سٹور بگٹی سٹیڈیم اور بولان کرکٹ سٹیڈیم میں دستیاب ہونگے زلمی بمقابلہ کوئٹہ معرکہ پی ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائیگا چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سمیت اعلیٰ شخصیات بھی میچ دیکھیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    معروف کھیلاڑی جاوید میانداد نے اس بارے ایک بیان میں کہا کہ میں بھی یہ میچ دیکھنے آرہا ہوں جبکہ انہوں نے اس پر بلوچستان حکومت کو سراہاتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے کہ یہاں کی کرکٹ اوپر جائے اور بچے اس سے انسپائیر ہوں اور وہ بھی اسی طرح کرکٹ میں آئیں اور ملک کی نمائندگی کریں. ان کا کہنا تھا کہ آپ سب کو آنا چاہئے.

  • ملک میں مزید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کر دی گئی

    ملک میں مزید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کر دی گئی

    ملک میں مزید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کر دی گئی ہے.

    ملک میں مزید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کر دی گئی جبکہ کراچی میں آج بھی بلوچستان کی معمول سے تیز یخ بستہ ہوائیں برقرار رہ سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہوائیں کل سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوں گی جوکہ 28 سے 30 جنوری تک ملک کے بالائی علاقوں میں رہیں گی۔ اس دوران مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان، کوہستان اور ایبٹ آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے جبکہ 29 اور 30 جنوری کو اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، گجرات، گوجرانولہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، پشاور، کوہاٹ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    شدید برفباری سے سڑکیں بند اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے تمام اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ دوسری جاب، کراچی میں آج صبح کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا اور ہوا میں نمی کا تناسب 38 فیصد رہا۔ شہر میں آج بھی بلوچستان کی معمول سے تیز یخ بستہ ہوائیں برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس وقت ہواؤں کی رفتار 22 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ رات میں ہواؤں کی رفتار میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اگلے چند روز تک سمندری ہوائیں مکمل طور پر غیر فعال رہ سکتی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    مغربی ہواؤں کے نئے سسٹم کے سبب سندھ کے مختلف اضلاع سردی کی لپیٹ میں رہیں گے، دیہی سندھ کے اضلاع میں ہلکی بارش اور بونداباندی متوقع ہے البتہ کراچی میں تیز بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نئے سسٹم کے زیر اثر کراچی میں موسم جزوی اور مکمل ابر آلود ہوسکتا ہے، شہر کے مضافات سمیت کچھ علاقوں میں بوندباندی ہوسکتی ہے۔ دیہی سندھ کے شہر موہنجودڑو میں آج کم سے کم پارہ 2 ڈگری ریکارڈ ہوا۔

  • بلوچستان کو پولیو فری صوبہ ہونے کے آج دو سال مکمل

    بلوچستان کو پولیو فری صوبہ ہونے کے آج دو سال مکمل

    بلوچستان کو پولیو فری صوبہ ہونے کے آج دو سال مکمل ہو گئے. 27 جنوری 2021 سےپولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا

    بلوچستان کو پولیو فری صوبہ ہونے کے آج دو سال مکمل ہوگئے جہاں پولیو کا آخری کیس 2سال قبل آج ہی کے دن رپورٹ ہواتھا۔ ترجمان ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائَے انسداد پولیو بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں پولیوکا آخری کیس ضلع قلعہ عبداللہ سے27 جنوری 2021 کورپورٹ ہواتھا جس کےبعد سے اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوااس طرح صوبے کومسلسل2 سال سے پولیو فری صوبہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیاہے۔

    ترجمان ایمرجنسی آپریشن سینٹر کےمطابق بلوچستان کےماحولیاتی سیمپل میں بھی اپریل 2021 سے پولیووائرس نہیں پایاگیا جو کہ انسداد پولیو کے حوالے سے خوش آئند ہے۔ راشد سعید کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2 سال سے پولیو کے کیسز رپورٹ نہ ہونے میں محکمہ صحت کےعلاوہ ضلعی انتظامیہ اور سب سے بڑھ کر انسداد پولیو ورکرز کی انتھک محنت، جدوجہداور عزم شامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    جس کا اندازہ حال ہی میں ختم ہونےوالی انسداد پولیو مہم سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ جس کےدوران سخت موسمی حالات اور برفباری کےباوجود انسداد پولیو ورکرز نے جاں فشانی سے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف حاصل کیا۔ بلوچستان میں انسداد پولیو کے حوالے سے یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کی کاوشیں بھی قابل تعریف رہی ہیں۔ اس سے قبل سال 2020 میں بلوچستان میں پولیو کے 26 اور 2019 میں پولیو کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے تھے–

  • جہانگیر ترین اور علی ترین کیخلاف شوگر کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ مقدمہ خارج

    جہانگیر ترین اور علی ترین کیخلاف شوگر کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ مقدمہ خارج

    جہانگیر ترین اور علی ترین کیخلاف شوگر کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ مقدمہ خارج

    پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو ایف آئی اے سے بڑا ریلیف مل گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) لاہور نے جہانگیر ترین اور علی ترین کے خلاف مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے کا عدالتی احکامات کے بعد باقاعدہ طور پر جہانگرترین کا مقدمہ داخل دفتر کردیا جائے۔

    عدالت آئی او کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر کینسل کرنے کا حکم دیتی ہے۔ دوران انکوئری منی لانڈرنگ اور ڈالر کی صورت میں رقم کی منتقلی کا کو ئی غیر قانونی طریقہ نہیں سامنے آیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق عدالتی حکم کے مطابق تمام ٹرانزیکشنز ایس ای سی پی کے قانون کے مطابق ہوئی ہیں۔ جہانگیر ترین اور علی ترین پر لگائےگئے الزمات اور دفعات درست نہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کی کمپنیوں سےدوران تفتیش میں کوئی بھی غیر قانونی ٹرانزیکشن سامنے نہیں آئی جب کہ رقم کی ٹرانزیکشن جے ڈی ڈبلیو اور جے کے ایف ایس ایل کے درمیان ہوئی جو 2013 کے سالانہ ریٹرنز میں بھی واضح ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جہانگیر خان فیملی پر اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کا الزام تھا، جس کی دستاویزات ان کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔ اوپن مارکیٹ سے خریدے گئے ڈالر بینک کے ذریعے اور قانونی طریقے سے لیے گئے، جس کا ریکارڈ سالانہ ریٹرنز میں موجود ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین اور علی ترین پر ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات میں دھوکا دہی یا جعلی سازی ثابت نہیں ہوتی ہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق جہانگیر خان ترین اور علی ترین کی کمپنی کے درمیان ہونے والی 2013 کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ فنانشل رپورٹ میں موجود ہے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے اس ٹرانزیکشن پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہیں لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کمپنی رول سیکشن 213,216 کے آرڈیننس کے تحت کسی اسٹیک ہولڈر،شیئر ہولڈر اور نہ ہی کسی ڈائریکٹر نے جہانگیر ترین اور علی ترین کے خلاف کوئی شکایت ایس ای سی پی میں درج کروائی۔ اگر ایسا ہوتا تو ایس ای سی پی اثاثہ جات کی انکوئری کرنے کا مجاز تھا، تاہم ابھی تک جہانگیر ترین اور علی ترین کی کمپنیوں کے خلاف کسی بھی شحص نے کس قسم کی کوئی شکایت درج نہیں کروائی۔

  • بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،حنا ربانی

    بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،حنا ربانی

    اسلام آباد: وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نےکہا ہےکہ کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نےکہا کہ سابقہ دور حکومت میں بیک ڈور ڈپلومیسی ہو رہی تھی، بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،بیک ڈور ڈپلومسی نتیجہ خیز ہو تو ضرور ہونی چاہیے-

    سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کے راستے پر کیوں نہیں چلتے، اگرسرحد پار وزیراعظم کہےکہ ایٹمی اثاثے دیوالی کے لیے نہیں رکھے، تو آپ کیا کریں گے؟ –

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ابھی سرحد پار سے دشمنی ایک منفرد طرز کی ہے، جو سرحد پار حکومت کے باعث ہے،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،خطے کے مفاد میں نہیں کہ لاشیں گریں، خون بہتا رہے، ہمیں سیاست کی بجائے ریاستی پالیسی کو اپنانا ہو گی ہم ایسا ریلیف ہر روز دیں گے جس سے ملک کے لوگ شہید ہونا بند ہوں-

    ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں، چیف جسٹس

    حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ ہم امن کے راستے پر ہیں، پاکستان نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھا لیکن خطے کے بعض ممالک نے نہیں سیکھا، پاکستان میں اقلیتیوں کو مکمل مذہبی تحفظ حاصل ہے بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوریا ہے اب بی بی سی کی دستاویزی فلم سے دنیا کو وہ سب آشکار ہوا ہے جو ہمارا موقف تھا۔

  • پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    باغی ٹی وی: ’فنانشل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت تباہی کے خطرے سے دوچار ہے، بلیک آؤٹ اور غیر ملکی کرنسی کی شدید قلت کے باعث کاروباری اداروں کو کام کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ حکام گہرے ہوتے بحران کو دور کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    صرف 24 گھنٹوں میں پاکستان کے قرضوں میں 2500 ارب روپے کا اضافہ

    پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوگئے ہیں۔ جنوری کی 23 تاریخ کو ہونے والے بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن نے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث پاکستانی معیشت کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان کو زر مبادلہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اورکاروبار کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 5 بلین ڈالرز سے بھی کم رہ گئے ہیں جو ایک مہینے کی امپورٹ سے بھی کم ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 بلین ڈالر کے امدادی پیکج پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس پیکج کو گزشتہ سال روک لیا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال سنگین ہوگئی ہے اور پاکستان کا حال بھی سری لنکا جیسا ہونے کا خدشہ ہے ، جہاں غیر ملکی ذخائر کی کمی نے ضروری سامان کی شدید قلت کو جنم دیا اور بالآخر مئی میں ڈیفالٹ کا باعث بنی۔

    انٹربینک میں ڈالر ایک بار پھر مزید مہنگا ہوگیا

    ملک کے مرکزی بینک کے مطابق، پاکستانی بندرگاہوں پر درآمدات سےبھرے شپنگ کنٹینرز کے ڈھیرلگے ہوئےہیں، خریدار ان کی ادائیگی کے لیے ڈالر محفوظ کرنے سے قاصر ہیں۔ ایئر لائنز اور غیر ملکی کمپنیوں کی ایسوسی ایشنز نےخبردار کیا ہے کہ گھٹتے ہوئے غیر ملکی ذخائرکوبچانےکےلیےلگائےگئے کیپٹل کنٹرولز کےذریعےانہیں ڈالرواپس بھیجنےسےروک دیا گیا ہےحکام نے کہا کہ ٹیکسٹائل مینوفیکچررز جیسی فیکٹریاں توانائی اور وسائل کو بچانے کے لیے بند کر رہی ہیں یا گھنٹوں میں کمی کر رہی ہیں۔

    پیر کے روز ملک گیر بلیک آؤٹ کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا جو 12 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز "تکلیف پر دلی افسوس” کا اظہار کیا اور کہا کہ انکوائری وجہ کا تعین کرے گی۔

    پاکستانی خواتین کو آن لائن ہراسانی کاا سامنا؛ بڑھتی رپورٹس مزید خطرناک

    اسلام آباد میں میکرو اکنامک انسائٹس کے بانی، ثاقب شیرانی نے کہا کہ پہلے ہی بہت ساری صنعتیں بند ہو چکی ہیں، اور اگر وہ صنعتیں جلد دوبارہ شروع نہیں ہوتی ہیں، تو کچھ نقصانات مستقل ہو جائیں گے۔

    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان نے غیر ملکی کرنسی کو بچانے کی کوشش میں درآمدات میں "بڑی حد تک” کمی کی ہے۔

    تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس میں بینکوں کو درآمد کنندگان کے لیے قرض کے خطوط کھولنے سے روکنا شامل ہے، جس سے اس ہفتے اسٹیل انڈسٹری کی ایک باڈی پیداوار کو روکنے کی دھمکی دے گی۔

    مرکزی بینک نے پیر کے روز کہا کہ وہ خوراک اور ایندھن جیسی ضروری اشیاء کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے درآمدی پابندیوں میں نرمی کر رہا ہے۔ پاکستان اب بھی گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب سے دوچار ہے، جس نے دسیوں ملین افراد کو متاثر کیا اور اندازے کے مطابق 30 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان : 15 گھنٹوں کے بعد بھی انڈس ہائی وے نہ کھل سکا

  • دانیہ کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی. والدہ دانیہ شاہ

    دانیہ کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی. والدہ دانیہ شاہ

    عامر لیاقت کا قتل ہوا ہے جس کی وجہ رقم تھی. والدہ دانیہ شاہ

    مرحوم رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ دانیہ شاہ کی والدہ سلمیٰ بی بی کا کہنا ہے ان کی بیٹی بے گناہ ہے۔ لودھراں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمیٰ بی بی نے کہا کہ کی گئی دانیہ کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اس کے موبائل سے کوئی ویڈیو وائرل نہیں ہوئی۔ دانیہ کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ اقبال جھوٹ بول رہی ہے کہ عامر نے دانیہ کو طلاق دے دی تھی، عامرلیاقت نے وفات سے 4 روز قبل صلح کے لیے رابطہ کیا تھا۔

    دوران پریس کانفرنس سلمیٰ بی بی نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا قتل ہوا ہے جس کی وجہ رقم تھی۔ واضح رہے کہ دانیہ شاہ عامرلیاقت کی نازیباویڈیوز وائرل کرنے کے کیس میں گرفتار ہوئیں اور وہ عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں، ملزمہ دانیہ شاہ پر کراچی کی عدالت میں فردجرم آج عائد کیے جانےکاامکان ہے۔

    واضح‌ رہے کہ اس سے قبل بھی مرحوم رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ بشریٰ اقبال کا مقصد جائیداد ہے اسے لیے ان کی بیٹی کو بھی پھنسایا جارہا ہے۔ نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دانیہ کی والدہ نے کہا تھا کہ بشریٰ نے عامر کے ساتھ بھی زیادتی کی اور اب میری بیٹی کے ساتھ بھی زیادتی کررہی ہے، عامر کا قتل ہوا ہے اس کی روح کو بھی انصاف ملے گا اور میری بیٹی کو بھی انصاف ملے گا۔ سلمیٰ بی بی نے بشریٰ اقبال پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بشریٰ کا مقصد جائیداد ہے جو سب میڈیا والے بھی جانتے ہیں اسی لیے عامر بھی مرگئے اور میری بیٹی کو بھی اسی لیے پھنسایا جارہا ہے۔

    عامر لیاقت کی وفات سے قبل ان کی نازیبا ویڈیو لیک کے معاملے پر بات کرتے ہوئے دانیہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ عامر کی ویڈیو جس نے وائرل کی وہ سامنے آجائے گا میری بیٹی نے ویڈیو وائرل نہیں کی، کچھ بھی ہوجائے میری بیٹی 100 فیصد بے گنا ہ ہے، یہ جھوٹا الزام ہے، میری بیٹی کے خلاف جھوٹی چالیں اور پراپیگنڈہ رچایا جارہا ہے، اللہ ایک دن سچ سب کے سامنے لے کر آئے گا ہم ہمت نہیں ہارتے جو بیٹی پر الزام لگارہے کہ وہ اس کا ثبوت بھی دیں.